(+92) 319 4080233
کالم نگار

مفتی محمد عمران قاسمی کورٹلوی

مفتی محمد عمران قاسمی کورٹلوی

پروفائل | تمام کالمز
2026/06/01
موضوعات
قافلۂ حجاج کی غائبانہ معیت
مرحوم زکی کیفی کی کیفیات کی روشنی میں:
آج عرفات کے میدان میں حجاجِ کرام کا قافلہ خیمہ زن ہے۔ عشاق کا یہ مجمع مسلسل محو عبادت ہے۔ کوئی مصروفِ مناجات تو کہیں سر بسجود، کہیں لبیک کے زمزمے تو کہیں آہیں اور دعائیں۔ غرض بندگانِ الہی آج غلامی کی ادائیں دکھا رہے ہیں۔ ایسے میں بہت سے دُوراُفتادگان کے دل بے چین و بے قرار ہیں اور ان کی کیفیت ناقابلِ بیان۔ اُن پریشان حالوں کے لئے تسلی کا سامان سوائے اس کے اور کیا ہوسکتا ہے کہ سوئے حرم جانے والے اُن عشاقِ الٰہی کے تذکرے پڑھ پڑھ کر اور ان کی اداؤں کو یاد کرکرکےکسی طرح سکونِ دل کی کوشش کریں۔ چناں چہ یہ راقم بھی آج امدادُ الحجاج (افادات از: حضرت اقدس تھانویؒ) لیکر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر مطالعے کے بعد زکی کیفیؔ مرحوم کے شعری مجموعہ ”کیفیات“ پر نظر پڑی تو یکایک ہاتھ اس کی طرف بڑھ گئے۔” کیفیات“ کی ورق گردانی کی تو کہنا چاہیے کہ ”کیفیت“ ہی بدل گئی۔ یوں لگا جیسے راقم بھی حجاج کرام کے قافلے کا ہی ایک فرد ہے۔ بس عالمِ تصورات میں آج سرزمینِ حجاز پر حاضر ہوگیا اور یوں قافلۂ حجاج کی غائبانہ معیت نصیب ہوگئی۔

پھر سوئے حرم یہ دلِ شوریدہ رواں ہے
پھر ہر غمِ ہستی سے حفاظت ہے، اماں ہے
انوار ہی انوار! تجلی ہی تجلی!
گلیوں میں مدینے کی بہشتوں کا سماں ہے
اک عالمِ حیرت میں نظر کھوئی ہوئی ہے
جلوے ہیں مگر طاقتِ دیدار کہاں ہے
کانٹے بھی عرب کے گُل و لالہ سے حسیں ہیں
ذروں پہ چمکتے ہوئے سورج کا گماں ہے
کیفی! میں درِ شافعِ محشر کا گدا ہوں
کیا غم ہے گناہوں کا اگر بارِگراں ہے
زکی کیفیؔ مرحوم صاحبِ تفسیر معارف القرآن، مفتی اعظم حضرت مفتی محمد شفیع عثمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے سب سے بڑے فرزند تھے۔ ان کے کلام میں بہت پختگی ہے۔ وقت کے نامور شعراء نے اس کی کُھل کر ستائش کی ہے۔ ماہر القادری، احمد ندیم قاسمی اور احسان دانش جیسے معروف، ممتاز، کہنہ مشق اور استاد درجہ کے سخنور و سخن فہم شعراء نے ان کے مجموعۂ کلام پر اپنے قیمتی تاثرات لکھے اور غیر معمولی دادِ تحسین دی۔ لیکن بقول شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمدتقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم: ” بھائی صاحب (زکی کیفیؔ) مرحوم کا مجموعۂ کلام مجموعۂ پیام بھی ہے“۔ اور واقعہ یہ ہے کہ جب اس نقطۂ نظر سے ان کے کلام کا مطالعہ کیا جائے تو ہمیں ان کی شاعری میں حبِّ الٰہی کے بیش قیمت اسباق، عشق رسولﷺ کے حسین و خوب صورت انداز، معرفتِ خداوندی کی رازدارانہ باتیں، راہ طریقت کے اسرار و رموز اور نکتے اور اہل محبت کی قلبی واردات کی ترجمانی جا بہ جا نظر آتی ہے۔ سرِ دست حجاج کرام کے قافلے کو ذہن میں رکھ کر اور ان کی مختلف عاشقانہ اداؤں کا تصور کرکے اگر ہم ”کیفیات“ کا مطالعہ کریں تو کہنا چاہیے کہ لمحات زندگی بڑے ”پُرکیف“ ہوجائیں گے۔اسی غرض سے کچھ منتخبات پیشِ خدمت ہیں۔ مرتب کتاب لکھتے ہیں کہ ایک سال حضرت زکی کیفیؔ کا کچھ رفقاء کے ساتھ عمرے کا پروگرام بنا، دوسرے رفقاء چلے گئے مگر اُن کو کچھ عذر پیش آ گیا۔ زکی کیفیؔ نے اس واقعے پر فی البدیہہ ایک تاثراتی نظم کہی۔ واقعہ یہ ہے کہ اس نظم کے ایک ایک شعر میں قافلۂ حجاج سے پیچھے رہ جانے والے تڑپتے دلوں کی آواز آج بھی محسوس ہوتی ہے۔

نظم کا عنوان ہے ”راہروانِ حجاز سے“ فرماتے ہیں:

مجھ کو بھی ساتھ جانبِ گلزار لے چلو
اے رہروانِ کوچۂ دلدار لے چلو
ہیں جس دیارِ پاک پہ ہر آن رحمتیں
پیہم جہاں ہے بارشِ انوار لے چلو
ذرے جہاں کے ہمسرِ ماہ و نجوم ہیں
پھولوں سے بھی حسیں ہیں جہاں خار لے چلو
آئے گا جوش، شانِ کریمی کو دیکھ کر
نیکو! تم اپنے ساتھ گنہگار لے چلو
تم ہو بلند بخت، نہ صرفِ نظر کرو
ہوجائے میرا بخت بھی بیدار لے چلو
بے شک متاعِ عشق و جنوں ہے تمہارے پاس
رکھتا ہوں میں بھی دیدۂ خونبار لے چلو
روشن ضمیر قافلے والو! کرم کرو
ساتھ ایک تیرہ قلب و سیہ کار لے چلو
میں ہوں غریقِ بحرِ معاصی بجا، مگر
مجھ سے نہ اس طرح سے ہو بیزار، لے چلو
مجھ ناتوان و خستہ و بیمار پر کرم
اللہ ہو تمہارا مددگار، لے چلو
کانٹے جو راہ کے ہیں، ہٹاتا چلوں گا میں
آئی جو کوئی وادیٔ پُر خار لے چلو
میں تشنہ کامِ عشق ہوں یارو مدد کرو
تم ہو شرابِ عشق سے سرشار لے چلو
بھاری تھی شب مریض پہ لیکن وہ کٹ گئی
اب ہو رہے ہیں صبح کے آثار لے چلو
دیدار بیت اللہ اور حرمین شریفین کی مبارک حاضری واقعی بہت بڑی سعادت ہے۔ اسی لیے بندگانِ الٰہی اس نعمت عظمیٰ کو بار بار پانے کے لئے اپنے دلوں میں آرزوئیں رکھتے ہیں۔ اس کے لئے تڑپتے، بے قرار ہوتے، آنسو بہاتے اور دعائیں مانگتے رہتے ہیں۔ پھر جب حج کے ایام آجائیں، اور عشاق کے قافلے سوئے حرم روانہ ہوں، لیکن وہ اگر پیچھے رہ جائیں تو ان کی دلی کیفیت بس اللہ ہی جانتے ہیں۔ ایسے موقعے پر ان کے دلِ دردمند کا حال ناقابلِ بیان ہوتا ہے۔ان کے محبت بھرے جذبات کی ”کچھ کچھ عکاسی“ اور ان کے خوبصورت و حسین تصورات کی ایک ”ہلکی سی تصویر“ ذرا زکی کیفیؔ کے درج ذیل اشعار میں دیکھیے۔ فرماتے ہیں:

شب و روز اب تو یہی ہیں دعائیں
خدا دن وہ لائے مدینہ کو جائیں
نظر آئیں جس دم حرم کی فضائیں
بہ ہر گام اپنی نگاہیں بچھائیں
عرب کے بیاباں کا ہر ذرّہ چومیں
غُبارِ حرم کو گلے سے لگائیں
وہ دنیا کی جنت، وہ جنت کی دُنیا
معنبر ہوائیں، معطّر فضائیں
جہاں پر ہیں انسان جیسے فرشتے
مہکتی ہیں ہر سُو عبائیں قبائیں
کبھی مسجدِ فتح و نصرت کو دیکھیں
کبھی جا کے لے لیں اُحد کی بلائیں
کبھی دُور سے سبز گنبد کو دیکھیں
کبھی پاس آ کر نگاہیں جھکائیں
کریں جالیوں پر ان آنکھوں کو صدقے
مواجہ میں اشکوں کے موتی لُٹائیں
ادھر سے اُمڈتے ہوں اشکِ ندامت
اُدھر رحمتوں کی برستی گھٹائیں
تصور جب اپنی خطاؤں کا آئے
بھلادیں سب ان کی مسلسل عطائیں
فضاؤں میں نغمہ ہو صلِّ علیٰ کا
سلامٌ علیکمْ کی لب پر صدائیں
دُعا ہے یہ کیفیؔ کہ ہر سال ہم بھی
مدینہ کے دیوار و در دیکھ آئیں
معذرت بہ روح شاعر کہ درج بالا نظم کے آخری شعر میں راقم نے ہلکی سی لفظی ترمیم کی ہے، جس سے یہ شعر آج کے حسب حال ہوگیا ہے۔ اصل شعر کچھ اس طرح ہے:

دُعا ہے یہ کیفیؔ کہ اِس سال ہم بھی
مدینہ کے دیوار و در دیکھ آئیں
اس نظم پر حاشیہ لگاتے ہوئے ہیں شاعر کے برادر صغیر، شیخ الاسلام حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم لکھتے ہیں کہ ”یہ نعت کہنے کے بعد فوراً حضرت زکی کیفیؔ کو حج بیت اللہ کی سعادت نصیب ہوئی اور وہاں سے واپسی پر دارِ آخرت کا بلاوا آگیا۔ دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں بھی ایسا سچا عشق عطا فرمائے (آمین)

مدتوں تڑپنے، سسکنے، آنسو بہانے اور دعائیں مانگنے کے بعد جب کسی عاشق کو دربار الٰہی میں حاضری نصیب ہوتی ہے تو دل، تشکر کے جذبات سے لبریز ہوجاتا ہے۔ اس کی دلی کیفیات اور قلبی واردات کیا ہوتی ہیں؟ ہم اسے زکی کیفیؔ کے درج ذیل اشعار میں دیکھ سکتے ہیں۔ کہتے ہیں:

پورا ہوا ہے عزمِ سفر مدتوں کے بعد
جھلکا دُعا میں رنگِ اثر مدتوں کے بعد
دیکھی ہے ان کی راہ گذر مدتوں کے بعد
مجھ کو ملی ہے اپنی خبر مدتوں کے بعد
اب جلوہ گاہِ یار ہے آنکھوں کے سامنے
روشن ہوا چراغِ نظر مدتوں کے بعد
کرنے دو شوخیاں اسے اب سنگِ در کے ساتھ
مچلا ہے آستاں پہ یہ سر مدتوں کے بعد
اے دل ترانہ سنج ہو شکرِ وصال میں
اب شکوۂ فراق نہ کر مدتوں کے بعد
ڈستی رہی ہیں دل کو شبِ غم کی ظلمتیں
آیا نظر جمالِ سحر مدتوں کے بعد
ان کی تجلیاں تو ہیں ہر آن نو بہ نو
ملتا ہے اذنِ دید مگر مدتوں کے بعد
مدتوں کے بعد جب ”اذنِ دید“ ہو، ”آنکھوں کے سامنے جب جلوہ گاہِ یار ہو“ پھر ”ہر آن نو بہ نو تجلیاں نظر آنے لگیں“ اور اس نعمت پر ”دل شکرِ وصال میں ترانہ سنج ہو“ تو پھر عاشق کے ”ذوق طلب“ میں اضافہ کیوں کر نہیں ہوگا؟ اس نے تو اب ”جستجو کا ایک نیا جہان“ دریافت کرلیا ہے۔ مدتوں تک حرمین کی حاضری سے محرومی کی وجہ سے اُسے غم تھا۔ لیکن ”لذتِ احساسِ غم“ تو اس کو اب حاصل ہوگی اور اس ”لذت نایاب“ کی قیمت کا ٹھیک ٹھیک اندازہ تو وہ اب کرپائے گا۔ چناں چہ اب اس کی آرزو یہ ہوتی ہے کہ ”ان کی محفل کے نظارے کے بعد پھر کوئی محفل نہ دیکھے“، اس کے لئے ”وہ دعا مانگتا ہے کہ اب کی نظر چھین لی جائے“۔ زکی کیفیؔ مرحوم کے درجِ ذیل اشعار میں ذرا اس کا آئینہ دیکھیے۔ فرماتے ہیں:

مل گیا ذوقِ طلب کو اک جہانِ جستجو

اور ہمت بڑھ گئی ہے سعئ لاحاصل کے بعد

اب ہوا معلوم کیا ہے لذّتِ احساسِ غم

دل کی قیمت بڑھ گئی کیفیؔ شکستِ دل کے بعد

چھین لے مجھ سے نظر اے جلوۂ خوش روئے دوست

میں کوئی محفل نہ دیکھوں اب تری محفل کے بعد

ہائے! زکی کیفیؔ نے کہاں سے کہاں پہونچادیا۔ آج تصورات کا عالم ہی کچھ اور ہے۔ ان کے ”دید کی طلب“ میں سرزمینِ حرم گئے تھے۔ وہاں پہونچے تو کیفیؔ صاحب کی آواز آئی:

ہر شئی سے وہ ظاہر بھی ہے ہر شئی سے بری بھی
وہ سب سے الگ،سب سے جدا اور ہی کچھ ہے
پھر زکی صاحب ہی کے الفاظ میں اپنا حالِ دل بھی کچھ یوں محسوس ہوا:

بے لفظ و بیاں ہے کوئی مصروف تکلم
اب دل کے دھڑکنے کی صدا اور ہی کچھ ہے
دیکھے ہیں بہت ہم نے بھی پُرکیف مناظر
لیکن ترے کوچے کی فضا اور ہی کچھ ہے
اِن دنوں سرزمین حرم پر ہر سُو لبیک کی صدائیں ہیں۔ حجاج کرام کی زبانوں پر چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے، کھاتے پیتے، غرض ہر وقت اور ہر قدم پر تلبیہ ہی تلبیہ ہے۔ تلبیہ کیا ہے؟ ان کے دربار میں غلامانہ حاضری کا اعلان! ان کی وحدت و یکتائی کا خوبصورت اقرار! تمام تعریفیں، ہر طرح کی نعمتیں اور ہر جُز و کُل پر ان کی بے مثال بادشاہی کا اُن کے لئے اثبات!

چناں چہ کلماتِ تلبیہ کے اِن معانی کے استحضار اور حجاج کرام کی زبانوں پر ہر دم رہنے والے نغمۂ ہائے لبیک کے پس منظر میں ذرا ہم زکی کیفیؔ کے یہ اشعار پڑھیں:

جہانِ فکر و نظر،لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰہ
متاع اہل خبر، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰہ
یہ ذکرِحق کی متاعِ عزیز کیا شئی ہے
نہیں کسی کو خبر، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰہ
زہے نصیب یہ دولت اگر مجھے مل جائے
ہو لب پہ شام و سحر، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰہ
ہر ایک ذرّہ ہے مصروف یادِ حق کیفیؔ
وہ برگ ہوکہ شجر، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰہ
اب تصور میں ”ہجوم عاشقاں“ ہے۔ جی ہاں! عرفات کا میدان اور حجاج کِرام کا کارواں! آج یہ سب روئے جارہے ہیں اور ساتھ ساتھ دھوئے بھی جارہے ہیں۔ ہائے! خاصان خدا کے اس مقدس قافلے میں آج کیا کچھ نہیں ہے؟ ندامت اور توبہ کے آنسو، جُرموں کا اقرار اور قصوروں کا اعتراف، سچے دل سے ہونے والی رجوع و انابت اور طلبِ مغفرت، عفو و کرم کی درخواستیں اور بخشے جانے کی امیدیں، آہیں اور دعائیں، فریاد و فُغاں اور خاموش زباں، طلب اور تڑپ اور ذوقِ جستجو۔ غرض عاجزی، نیازمندی اور اظہار بندگی کے مختلف نمونے ہیں۔ چناں چہ میدانِ عرفات کے اِن مختلف النوع احوال کے پس منظر میں ذرا زکی کیفیؔ کے درج ذیل مختلف اشعار پڑھیے۔

ہم لوگ خطاکار گناہگار بہت ہیں
یعنی تری رحمت کے سزاوار بہت ہیں
ویرانئ دل، حالِ زبوں، دیدۂ پُرنم
خاموش ہیں لیکن لبِ اظہار بہت ہیں
دن بھر دعاؤں میں رونے اور تڑپنے کے بعد کچھ دیر کے لیے خاموش نواؤں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ اسی کی ترجمانی کرتے ہوئے کہتے ہیں

اب خموشی ہے بیاں، لفظ و بیاں سے آگے
ہم نکل آئے ہیں فریاد و فغاں سے آگے
دربار الٰہی میں یہ بندگان ایک نظرِ رحمت کے طلبگار ہیں اور بس۔ کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ اگر ان کی نگاہ رحمت ہوجائے تو نافرمان زندگی، اطاعت والی زندگی میں بدل جائے؛ بل کہ ان کی نگاہ رحمت سے تو کُل جہاں ہی تبدیل ہوجائے۔ اسی کی عکاسی میں یہ شعر:

آپ اک بار اگر آنکھ اٹھا کر دیکھیں
اک نئے دور کا آغاز ہوا رکھا ہے
پھر عشاق کے اس مجمع کو اپنے بخشے جانے کی امید بھی ہوجاتی ہے۔ دلوں کو کچھ قرار ملتا ہے تو ایک احساس یہ بھی اجاگر ہوتا ہے

؂ کیا ٹھکانا ہے بھلا اس کے کرم کا کیفیؔ
اپنے اندازِ کرم کو بھی چھپا رکھا ہے
عرفات میں عبادتوں اور دعاؤں کے ساتھ اِن عُشّاق کے دلوں میں ”محبوب کی طلبِ دید“ بھی پیدا ہوجاتی ہے۔ اس حوالے سے کیفیؔ صاحب کے یہ اشعار پڑھیں:

ایک طوفانِ طلب روح میں پیدا کرکے
چھپ گئے آپ کہاں؟ حشر یہ برپا کرکے
سامنے آؤ اٹھاکر یہ حجابِ جلوہ
مجھ کو غافل نہ کرو محوِ تماشا کرکے
اجنبی میں ہوں زمانے سے، زمانہ مجھ سے
عشق نے چھوڑدیا ہے مجھے تنہا کرکے
لیکن وہ نظر کیسے آسکتے ہیں، عاشق کی خواہشِ دید بالکل بجا؛ طاقتِ دید مگر اس میں کہاں؟ چناں چہ اس کو بہت جلد اس کا احساس ہوجاتا ہے اور خود ہی کہنے لگتا ہے:

یہ بھی سچ ہے کہ ہمیں دید کا یارا بھی نہیں
یہ بھی سچ ہے ان کو نہ دیکھیں یہ گوارا بھی نہیں
پھر کہتا ہے:

معمور تو ہے جلوۂ محبوب سے عالم
نظروں کو مگر طاقت دیدار کہاں ہے
پھر یہ احساس بھی دل میں ابھر آتا ہے:

بے پردہ انہیں دیکھ سکے کس میں یہ دم ہے
اے اہل نظر ان کا یہ چھپنا بھی کرم ہے
پھر خود کو یہ کہہ کر سمجھانے لگتا ہے:

تم نے اے اہل نظر اس کو جہاں تک دیکھا
اس کے دیدار کی سرحد ہے وہاں سے آگے
اس لیے کہ ان کی ہستی ہی کچھ ایسی ہے کہ :

سوچیے تو وہ ہر جگہ ظاہر
ڈھونڈیئے تو کہیں نشاں بھی نہیں
ہائے حجاج کرام کی داستان بڑی طویل ہوگئی۔ لیکن کیا کیجئے کہ داستان عشق و محبت اور حکایتِ مہر و وفا ہمیشہ سے دراز نفس ہی واقع ہوئی ہے۔ کہتے ہیں کہ عاشق کو کبھی سیری نہیں ہوتی اور ہوگی بھی کیسے؟ جب کہ عشق خود لامحدود ہے۔ اسی لیے زکی کیفیؔ ہی کے درج ذیل اشعار پڑھ کر ان کی حکایتِ محبت کو روک دیتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ

عشق ہی رازِ حقیقت کو سمجھ سکتا ہے
عقل کا کام نہیں وہم و گماں سے آگے
چناں چہ اپنا حال عرض کرتے ہیں:

بن کے اشعار نکل جاتے ہیں نالے کیفیؔ
چھیڑ دیتا ہے اگر سازِ رگِ جاں کوئی
‌ اور

کتنے نغمے ہیں کہ پردوں میں چھپا رکھے ہیں
آپ چھیڑیں تو یہ سازِ دلِ ناساز کبھی
آخر میں خود کو نصیحت کرتے ہوئے کہتے ہیں

عشقِ محبوب میں ہوجاؤ فنا یوں کیفیؔ
عشق ہی سلسلۂ نام و نسب ہوجائے
مأخَذ

سوشل میڈیا سے انتخاب

کالم نگار : مفتی محمد عمران قاسمی کورٹلوی
| | |
58     0