(+92) 319 4080233
کالم نگار

سیدقاسم علی شاہ

سیدقاسم علی شاہ

پروفائل | تمام کالمز
2026/05/31
موضوعات
خواب دیکھنے والوں کی کہانی
حکومت برطانیہ کا دور :
حکومت برطانیہ کا دور تھا اور سال تھا 1890۔ پنجاب کے بنجر علاقوں کو قابل کاشت بنانے کے لیے ایک منصوبہ متعارف کرایا گیا اور اس مقصد کے لیے ایک نئے شہر کی بنیاد رکھ دی گئی۔ پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر سر جیمز لائل نے اس شہر کا نام” لائل پور“ رکھا۔ تب شاید ہی کسی کو خبر ہوگی کہ یہ نیا شہر اگلے سو برس میں اربوں ڈالرز کی معاشی حقیقت بن کر ابھرے گا۔ شہر کے مرکز میں گھنٹہ گھر، آٹھ بازاروں کی طرف نکلتے رستے، برطانوی پرچم کی جھلک محسوس کرواتے۔ یہی گھنٹہ گھر آج اس شہر کی پہچان ہے۔1977 میں پاکستان اور سعودی عرب کے برادرانہ تعلق کی بدولت اس شہر کو شاہ فیصل سے منسوب کرکے اسے ”فیصل آباد“ کا نام دیا گیا۔ فیصل آباد کارخانوں، بازاروں اور زندہ دل باصلاحیت نوجوانوں کی سرزمین ہے۔ پھر اسی فیصل آباد میں وسیم افضل صاحب جیسے قابل شخص نے ” نیچرلز کلب اینڈ ریزارٹ“ کا خواب دیکھا۔ بہت جلد یہ خواب پایہ تکمیل تک پہنچا اور اب ” نیچرلز کلب اینڈ ریزارٹ“فیصل آباد کی پہچان بن گیا ہے۔ میں نے سوشل میڈیا پر اس کی بے شمار تصویریں دیکھیں لیکن جانے کا اتفاق نہیں ہوا۔

آذربائیجان میں میری ایک ورکشاپ:
جنوری 2026 میں آذربائیجان میں میری ایک ورکشاپ تھی، شرکا میں میرا پرانا شاگرد اور دوست بلال بھی بیٹھا تھا۔ شام کو کلاس ختم ہوئی تو بلال نے مجھے بتایا کہ سر میں ” نیچرلز کلب اینڈ ریزارٹ“ سے منسلک ہوں۔ میں نے کچھ دن بعد فیصل آباد جانے اور اس باکمال جگہ کو دیکھنے کا فیصلہ کیا۔ اس وزٹ میں میری ملاقات وسیم افضل صاحب اور ان کے داماد اسد ساہی صاحب سے ہوئی۔ میں ان کے اس پراجیکٹ کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکا اور یوں ہماری ملاقات دوستی میں بدل گئی۔ میری فیملی میرے ساتھ تھی۔ چند دن بعد ہم نے دوبارہ فیصل آباد جانے کا پروگرام بنایا اور اب تک درجن سے زائد بار میں اس ریزارٹ کو دیکھ چکا ہوں ۔میرا اپنا ایک دیرینہ خواب تھا کہ فیصل آباد میں ایک انٹیلیکچویل/معاشرے کی فکری تعمیر کا ادارہ قائم ہونا چاہیے۔ یہ خواب درست وقت کا انتظار کررہا تھا اور اب وہ وقت آچکا تھا۔ میں نے وسیم افضل صاحب سے اپنا یہ خواب شیئر کیا تو انھوں نے میرے آئیڈیا کو سراہا اور مجھے دعوت دی کہ آپ ہمارے ساتھ مل کر یہ کام کریں۔ میں آپ کو بتاتا چلوں کہ وسیم صاحب پیشے کے لحاظ سے تو انجینئر ہیں لیکن سوسائٹی کے ریفارم، سوشل انجینئرنگ اور ویلتھ کری ایشن پہ ان کے نظریات بہت واضح ہیں۔ لہٰذا ان کے ساتھ جتنی ملاقاتیں ہوئیں ہر بار کوئی نئی بات سیکھنے کا موقع ملا۔ ان کی چند باتیں آپ کے ساتھ بھی شیئر کرتا ہوں۔

چند اہم نکات:
وسیم صاحب کا کہنا ہے کہ” انفرادی ترقی سے زیادہ ملک اور معاشرے کا آگے جانا زیادہ ضروری ہے۔ Move forward اور Finding the path پوری قوم کی ترجیح ہونی چاہیے۔“وسیم صاحب کا یہ بھی ماننا ہے کہ ”اس ملک میں ذاتی کامیابیاں بے شمار ہیں لیکن بحیثیت قوم اور ملک ہم کامیاب نہ ہوسکے۔“ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ” قوم کو ہم نے صبر پہ تو لگا دیا لیکن شکر کی اتنی تبلیغ نہیں ہوئی جتنی ہونی چاہیے تھی۔“ پاکستان میں پہلا ”نالج سٹی“ بنانے کا خواب بھی وسیم صاحب نے دیکھا ، ہم ان کی فوج کے ایک چھوٹے سے سپاہی بھی بن گئے ، میں نے ”نیچرلز گروپ“ کو ”ایڈوائزر فار لرننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ“ کے طورپر جوائن کرلیا۔ ہفتے میں ایک دو دن میں فیصل آباد ہوں گا، ہم فیصل آباد میں بہت سی ایکٹیویٹیز کریں گے جس میں پیرنٹنگ ، نوجوانوں کی خودشناسی، کرئیر پلاننگ اور فیملی کے لیے سیمینارز کا انعقاد کیا جائے گا اور اس کے ساتھ ساتھ بہت سی علمی و ادبی سرگرمیاں بھی ہوں گی۔

روحانی علوم کی اہمیت:
میرے پیر ومرشد سرفراز شاہ صاحب نے ایک مرتبہ فرمایا کہ” روحانی علوم سکھانے اور روحانیت کے رستے پر چلانے کا بھی ایک ادارہ ہونا چاہیے۔“ میں نے جب وسیم صاحب کو یہ بات بتائی تو انھوں نے کہا کہ ”نالج سٹی“ کے ساتھ ساتھ ہم ”نیچرلز انسٹیٹیوٹ آف سپریچول اسٹڈیز“ کے نام سے بھی ایک ادارہ بناتے ہیں اور”نالج سٹی“ کی افتتاحی تقریب میں نالج سٹی کے ساتھ ساتھ”نیچرلز انسٹیٹیوٹ آف سپریچول اسٹڈیز“ کا سنگ بنیاد سید سرفراز شاہ صاحب کے ہاتھوں رکھواتے ہیں۔ چند دن پہلے قبلہ سرفرازشاہ صاحب خصوصی طور پر فیصل آباد گئے، انھوں نے ان تمام پراجیکٹس کا افتتاح کیا، آپ نے دعا فرمائی اور اس کے بعد ایک شان دار لیکچر دیا جس میں فیصل آباد کے پڑھنے، لکھنے اور کاروباری حلقے سے تعلق رکھنے والے بے شمار لوگوں نے شرکت کی۔ میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان سب خوابوں کو پایہ تکمیل تک پہنچائےاور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہوں گا کہ فیصل آباد والو ! تیار ہوجاؤ، آپ سے ملاقاتیں بڑھنے لگی ہیں۔

کالم نگار : سیدقاسم علی شاہ
| | |
49