(+92) 319 4080233
کالم نگار

مفتی مصطفیٰ عزیز،فیصل آباد

مفتی مصطفیٰ عزیز،فیصل آباد

پروفائل | تمام کالمز
2026/05/30
موضوعات
شھرہ آفاق
کائنات کی بہترین خالہ اور بھانجا
خالہ کے دل میں بھانجے کے لیے ایک الگ ہی نرمی ہوتی ہے… کبھی ماں جیسی، کبھی اس سے بھی بڑھ کر۔وہ اس پر شفقت کرتی ہے، اس کی باتیں سنتی ہے، اسے سنوارتی ہے، اور اس کی خوشیوں میں اپنا سکون تلاش کرتی ہے۔ خالہ اور بھانجے کا رشتہ دنیا کے خوبصورت ترین رشتوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔لیکن مدینہ منورہ میں ایک خالہ ایسی بھی تھی جس نے اپنے بھانجے کو صرف محبت نہیں دی…بلکہ اپنی پوری زندگی کا علم، اپنے مشاہدات، اپنی کیفیات، اور رسول اللہ ﷺ کی زندگی کے وہ انمول لمحات بھی دے دیے جو اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھے تھے۔

وہ خالہ اپنے بھانجے کو صرف پال نہیں رہی تھی…وہ اسے آہستہ آہستہ “سیرت کا امین” بنا رہی تھی۔

کبھی وہ رسول اللہ ﷺ کی عبادت کا ذکر کرتیں…کبھی آپ ﷺ کی گھریلو زندگی کی باتیں سناتیں…کبھی آپ ﷺ کے اخلاق، شفقت، مسکراہٹ اور راتوں کی مناجات بیان کرتیں…اور وہ بھانجا خاموشی سے سنتا رہتا۔

لیکن وہ صرف سنتا نہیں تھا…وہ ہر بات کو اپنے دل میں اتارتا تھا۔

صرف یاد نہیں کرتا تھا…سمجھتا تھا۔

صرف رشتہ نہیں نبھا رہا تھا…بلکہ علمِ نبوت کی امانت اٹھا رہا تھا۔

وہ اپنی خالہ کے پاس بیٹھتا تو گویا مدینہ کی ایک چھوٹی سی مجلس میں نبوت کے گھر کی خوش بو بکھر جاتی۔

وہ واقعات سنتا… سوال کرتا… پھر دوبارہ سنتا… اور ان سب کو اپنے حافظے میں اس طرح جمع کرتا چلا جاتا جیسے کوئی شخص بکھرے ہوئے موتیوں کو ایک ایک کر کے سمیٹ رہا ہو۔

پھر ایک دن وہ خالہ دنیا سے رخصت ہو گئیں…مدینہ غمگین تھا… لیکن علم ختم نہیں ہوا تھا۔

کیونکہ وہ خالہ جاتے جاتے اپنے علم کا ایک عظیم خزانہ اس بھانجے کے سینے میں منتقل کر چکی تھیں۔

اور پھر وہی بھانجا آگے بڑھا…اس نے نبی کریم ﷺ کی زندگی کے واقعات کو جمع کیا…غزوات کو ترتیب دیا…ہجرت کے مناظر محفوظ کیے…اور سیرتِ نبوی ﷺ کو پہلی مرتبہ ایک علمی بنیاد فراہم کی۔

اسی لیے علماء عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کو ابتدائی سیرت نگاروں اور سیرت کی منظم تدوین کرنے والوں میں شمار کرتے ہیں۔

وہ صرف ایک بڑے عالم ہی نہیں تھے، بلکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے نواسے،حضرت اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا کے بیٹےاور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ جیسے عظیم صحابی کے فرزند تھے۔

اور وہ عظیم خالہ تھیں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا،جو رسول اللہ ﷺ کی زوجہ مطہرہ، امت کی ماں، اور علم و فقہ و سیرت کا ایک عظیم سمندر تھیں۔

یوں اگر دنیا بہترین خالہ اور بہترین بھانجے کی مثال تلاش کرے تو مدینہ کی اس جوڑی سے بڑی مثال شاید نہ مل سکے۔

ایک طرف وہ خالہ…جنہوں نے نبوت کے گھر کے علوم کو محفوظ کیا۔

اور دوسری طرف وہ بھانجا…جس نے ان علوم کو امت تک پہنچایا، انہیں ترتیب دی، اور سیرت نگاری کی بنیاد رکھ دی۔

آج صدیوں بعد بھی جب سیرتِ رسول ﷺ پڑھی جاتی ہے، سنائی جاتی ہے، لکھی جاتی ہے، تو دل بے اختیار یہی کہتا ہے:کیا عظیم خالہ تھی…اور کیا عظیم بھانجا تھا…واقعی، یہ کائنات کی بہترین خالہ اور بہترین بھانجا تھے۔

کالم نگار : مفتی مصطفیٰ عزیز،فیصل آباد
| | |
27