(+92) 319 4080233
منٹو کو غالب سے عشق کیوں تھا؟

اگر اوور سمپلیفائی کیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ غالب کا موضوع خیال ہے، منٹو کا زندگی۔ شاید مزاج اور لہجوں میں یہی مغائرت اور تضاد تھا کہ منٹو مقناطیس کے مخالف قطبوں کی طرح ان کی طرف کھنچتے چلے گئے۔

-ایک قاری کاانتخاب

113
خوشگوار موسم ، حسین نظارے اور اپنوں کی رفاقت

عبدالغفارخان

124
دنیا کے مصروف ترین لوگ

پیدائش کے بعد اس دنیا میں آکسیجن کو کاربن ڈائی آکسائیڈ میں تبدیل کرنے کے علاوہ اگر میں نے کوئی قابلِ ذکر کام کیا ہے تو وہ تحقیق ہے۔ میری زیادہ تر تحقیقات دوسری مخلوقات، بالخصوص حشرات، کے گرد گھومتی رہی ہیں، البتہ وقتاً ف

مولوی عزیزاحمد

120
اس کاجینامرنا کتابوں کے ساتھ تھا

کتابوں کے نیچے دب کر مرنے والا یہ آدمی دراصل ساری عمر کتابوں کے نیچے ہی جیتا رہا تھا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ زندگی میں کتابیں اس پر سایہ کرتی تھیں اور موت کے وقت وہ سایہ مٹی کا پردہ بن گیا۔

حنظلہ خلیق

170
سندھ کے قدیم کتب خانے

پیشکش: طارق علی عباسی

73
اشتیاق احمد کے جانشین یا نقال؟

میرے نزدیک اشتیاق احمد کے بعد جاسوسی ادب میں کوئی ایسا نام سامنے نہیں آیا جس کے بارے میں ہم یہ بھی اطمینان سے کہہ سکیں کہ وہ اشتیاق احمد کے کچھ قریب پہنچا ہے۔ جانشینی تو بہت دور کی بات ہے۔

ریحان

92
عورت بیزاری یازن ستیزی

آپ اگر بِہتَر سمجھیں تو آپ زن کی جگہ پر عَورت، اور سِتیز/سِتیزی کی جگہ پر بیزار/بیزاری اِستِعمال کر سکتے ہیں، یعنی: عَورَت‌بیزار اور عَورَت‌بیزاری۔ علاوہ بریں، اِس اِصطِلاح میں بیزاری کی جگہ پر دُشمَنی بھی اِستِعمال کِی

حسّان خان اباسِینی

155
شہرِ کتاب بند ہو گیا

کتابوں کے منظرنامے سے ہٹنے کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو پھر ہم دماغ سے نہیں، بڑی بڑی توندوں سے سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے؛ کیونکہ پیٹ پوجا کی دکانوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور دماغ کو قوت پہنچانے والی دکانیں مسلسل

مولاناڈاکٹرعبدالخالق ہمدرد

108
روشنی کا متوازی سفر

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنی توانائیاں اکثر دوسروں کی خامیوں کو اجاگر کرنے اور ان کا قد چھوٹا دکھانے میں صرف کر دیتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ کسی کی لکیر مٹانے سے ہماری اپنی لکیر بڑی نہیں ہو جاتی، بلکہ اس محنت میں ہم خود

مولانا ابنِ انیس شجاع الرحمٰن بہاولپوریؔ

157
عربیت،تلاش بہت، تسلسل کہاں ؟

عربی سیکھنے کے سفر میں یکسوئی، استاد کا احترام اور علمی تعاون کاحصول کیسے،ایک راہ نما تحریر اور مکمل روڈ میپ

مولاناسمیع اللہ عزیز

120
دریاکی بیٹی

مجھے پاروشنی یاد آتی ہے، وہ پاروشنی جو دریا کی بیٹی تھی جس نے آخری دم تک دریا کو نہ چھوڑا اگرچہ دریا کی ریت بھی اڑ کر آنکھوں میں گھسنے لگی اور جلد کی رنگت جلن سے بدلنے لگی۔ناول’’بہاؤ‘‘کے طرز پرایک ادبی تحریر

سدرہ ملک

136
کتب بینی دم توڑ رہی ہے

المیہ یہ ہے کہ چراغوں کے زمانے میں جتنا لکھا گیا، بجلی کے زمانے میں اتنا پڑھا بھی نہیں جا رہا۔ایک فکرانگیز تحریر

ابوظبیان محمدمبشراکرم

155
بل أحياء

سرزمین انبیا کے باون ایسے شہداء کے حالاتِ زندگی پر مشتمل ایک منفرد تصنیف ، جنہوں نے اپنے ایمان، وطن اور آزادی کی خاطر جانوں کا نذرانه پیش کیا۔

محترمہ وریشہ فیضی،بھارت

129
قلم کا تقدس اور صحافی کی ذمہ داری

آج کے ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا نے ہر فرد کے ہاتھ میں خبر دینے کی طاقت تو تھما دی ہے، لیکن ذمہ داری کا احساس نچلی ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ سنسنی خیزی، لائکس اور ویوز کی دوڑ میں بغیر حقیقت جانے خبری

محمدعلی انصاری،شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ بنوریہ عالمیہ

191
اردو اور اس کا مستقبل

گزشتہ دنوں راقم الحروف کی ایک گفتگو کا ایک جملہ بلا سیاق و سباق سوشل میڈیا پر گردش میں رہا تو گویا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ کسی نے بھی وہ سوال سننے کی زحمت نہ کی جس کے جواب میں یہ گفتگو کی گئی تھی۔

محترمہ نجیبہ عارف

130
فیض احمد فیض اور میں

ایک طرف تو انہوں نے کسی پر یہ راز افشا نہیں کیا کہ یہ مجموعے ان کا نتیجۂ فکر نہیں۔ دوسری طرف جب لینن انعام لے کر آۓ تو تمغہ اور آدھے روبل میرے سامنے ڈھیر کر دیۓ کہ اس کے اصل حق دار آپ ہیں۔

ابن انشاء

208
ماحول بنانا مشکل نہیں راستہ ملنا مشکل ہے

راستہ واضح ہو، رہنمائی مسلسل ہو، اور ہر مرحلے پر ساتھ دینے والے لوگ موجود ہوں تو وہ ادارہ بھی، جہاں کبھی عربی سنائی نہیں دیتی تھی، چند ہی مہینوں میں ایک نئی فضا اختیار کرنا شروع کر دیتا ہے.

ڈاکٹرشیخ ولی خان المظفر

121
اشعار جو غلط منسوب کیے گئے

کچھہ غلطیاں اتنی پختہ ہو جاتی ہیں کہ ان کی اصلاح کرنے والا خود آزمائش میں پڑ جاتا ہے ۔کچھ زبان زد اشعار جن کو ان کے اصل شاعر کے بجائے کسی اور کی طرف منسوب کیا جاتاہے۔

محمدآصف بھلی،اسلم ملک

228
میرا مطالعہ

مجھے مثبت طور پر نفرت ہے ان جرائد سے جو اسلام کو جدید زمانہ کے رنگ میں رنگنا چاہتے ہیں۔

مریم جمیلہ ؒ

237
کتاب اور انسان

انسان نے وقت، حالات اور حادثات سے سیکھا، اسے قلمبند کیا اور یوں آنے والی نسلوں کو وہ علم منتقل ہوا جس نے دنیا کو بہتر بنانے میں مدد دی۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی یومِ کتاب صرف ایک دن منانے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک پیغام ہے، علم

مولانا عمران مینگل

630
غذائی اشیاء اور نعمتوں کی قدر کریں!

، رفاہی اداروں، ویئرن ٹرسٹوں اور دیی تعلیاء اداروں مںح تاور کئے جانے والے کھانوں کے معانر، ضرورت مندوں اور طلبہ کی طرف سے زہر مار کر چکنے کے بعد بچے ہوئے کھانوں کو ناقابل استعمال قرار دیتے ہوئے کہاں ٹھکانے لگایا جاتا

مولانا نعمان نعیم

787
کرائے کی زبان

اگر کوئی اس بھول میں ہے کہ انگریزی تراجم سے یا ابو گوگل سے کام چلا لے گا تو یہ احمقوں کی جنت کا باسی معلوم ہوتا ہے۔

ملک اسد حیات، کویت

594
پچھتاوا

بعض اوقات جب خدا کسی مصلحت کے تحت دعا قبول نہیں کرتا تو لوگ دہریے بن جاتے ہیں ، اس کے وجود سے ہی منکر ہو جاتے ہیں۔

مولاناڈاکٹرشاہ محمودوزیری

629
دنیاوی زندگی کی حقیقت

حیٰوۃ الدناے نامی طرز ِ زندگی اختاقر کرنے سے پہلے انسانی حوالے سے ایک تسلمی شدہ حققتی پر غور کرلنا اور اختا ر کرنے کے بعد بھی اس پرغور کرتے رہنا کتنا ضروری ہے؟ انسان کا روزانہ کا مشاہد ہ ہے کہ اس کی طرح کے سنکڑتوں انسان

مولانا نعمان نعیم

628