(+92) 319 4080233
کالم نگار

حسّان خان اباسِینی

حسّان خان اباسِینی

پروفائل | تمام کالمز
2026/09/20
موضوعات
عورت بیزاری یازن ستیزی
ابھی ایک مُحتَرَم دوست حَسنَین چوہدری أَطَالَ اللَّهُ عُمرَهُ اپنی ایک اُردو تحریر میں ایک انگریزی اِصِطلاح «مِسوجِنِسٹِک» اِستِعمال کرتے نظر آئے ہیں، اور وہ بھی لاطِینی رسم‌الخط میں، جو مُجھے اچّھا نہیں لگا ہے۔ اچّھا نہ لگنے کا ایک سبب یہ ہے کہ یہ اُن انگریزی اِصطِلاحوں میں سے نہیں ہے جِن کو کَرهاً اُدھار لینا اُردو کے لیے ناگُزِیر ہو، اور اُردو اُن کے اِستِعمال کے بغَیر اُس معنی کو ادا نہ کر سکتی ہو، بلکہ یہ اُن اِصطِلاحوں میں سے ہے جِن کا مُعادِل ہم بہ آسانی اُردو میں وضع کر سکتے ہیں، یا پِھر ہم اپنی کلاسِیکی تمَدُّنی زبان فارسی سے اُدھار لے کر اُردو میں رائج کر سَکتے ہیں۔ ثانِیاً یہ کہ مُجھے ایک تو ویسے ہی نوِشتاری اُردو میں انگریزی الفاظ و اِصطِلاحات بُری لگتی ہیں، اور اگر وہ تحریر کے اندر لاطِینی رسم‌الخط میں لِکھی ہوئی ہوں تو مزِید بُری لگتی ہیں۔

لِہٰذا اپنے اِس مُراسلے کے ذریعے سے سب اُردونویس دوستوں کو بَتانا چاہتا ہوں زبانِ فارسی عَظَّمَ اللهُ شَأنَهَا میں انگریزی اِصطِلاح «مِسوجِنی» اور اُس کے مُشتَقّات کے مُعادِل کے طَور پر یہ اِصطِلاحیں عام رائِج ہیں:

مِسوجِنی = زن‌سِتیزی

مِسوجِنِسٹ = زن‌سِتیز

مِسوجِنِسٹِک = زن‌سِتیزانه

آپ دوستان اگر چاہیں تو آپ اُردو لِکھتے وَقت اِن انگریزی اِصطِلاحوں کی جگہ پر اِن فارسی اِصطِلاحوں کو اِستِعمال کر سکتے ہیں۔

ویسے تو مَیں اِصطِلاحوں کے "آسان" ہونے پر اِصرار کو بےخِرَدی سَمَجھتا ہُوں کیونکہ بیشتر اِصطِلاحیں کِسی بھی زبان میں بِالذؔات آسان نہیں ہوتی ہیں، اور اہلِ عِلم مُتَخَصِّصوں کے لیے ہونے کی وجہ سے عُمُوماً "دُشوار" ہی ہوتی ہیں، لیکِن اگر کوئی مُعتَرِض شَخص "آسانی" کو نُکتۂ اِستِدلال بناتے ہوئے اعتراض کرنا چاہے تو کہتا چَلُوں کہ یہ فارسی اِصطِلاح اُردو میں، اور فارسی میں بھی، اُس سے کہیں زیادہ آسان ہے جِتنی آسان وہ انگریزی اِصطِلاح کِسی انگریزی بولنے والے کے لیے ہے۔ اُس کی وجہ یہ ہے کہ زن اور سِتیز دونوں ہی فارسی اور اُردو میں رائج الفاظ ہیں جِن سے اِصِطلاح کا معنی زبان کا زیادہ عِلم نہ رکھنے والے کے لیے بھی شفّاف ہے، جبکہ، اُس کے برخِلاف، مِسوجِنی اور اُس کے دو یونانی اجزائے ترکیبی کِسی دِیگر عام انگریزی لفظ کے ساتھ رَبط نہیں رکھتے ہیں، لِہٰذا وہ اصِطِلاح انگریزی کا کم عِلم رکھنے والے شَخص کے لیے کِسی طَور آسان‌فہم نہیں ہے۔ سو مُعتَرِضوں کو خاطِرجَمع رہنا چاہیے کہ جب وہ انگریزی اِصِطلاح خود انگریزی والوں کے لیے بھی آسان نہیں ہے تو اُردو والوں کے لیے تو کہیں سے بھی آسان نہیں ہو سَکتی ہے اور اُس کے مُقابلے میں فارسی اِصطِلاح اُردو والوں کے لیے بہت زِیادہ آسان ہے۔

نیز، اگر کِسی کو یہ اِعِتراض ہو کہ ہم اُردو میں ایک فارسی‌الاصل اِصطِلاح کیوں اِستِعمال کریں تو جواباً مُختصَراً عَرض ہے کہ خود انگریزی «مِسوجِنی» بھی انگریزی‌الاصل نہیں، یُونانی‌الاصل اِصطِلاح ہی ہے۔

مَیں یہ اِصرار قطعاً نہیں کرتا ہُوں کہ اُردو اِصطِلاحوں کو خالِص فارسی یا عرَبی الفاظ ہی پر مُشتَمِل ہونا چاہیے، یا ہمیں لازِماً وہی اُردو اِصطِلاحیں اِستِعمال کرنی چاہییں جو فارسی یا عرَبی میں رائِج ہیں۔ مَیں صِرف انگریزی اِصطِلاحوں کی جگہ پر اُردو اِصطِلاحوں کے اِستِمعال کا حامی اور وکِیلِ مُدافِع ہُوں، اب خواہ وہ اِصطِلاحیں اُردو نے اپنے اندر رائِج الفاظ سے خود بَنائی ہوں، یا خواہ عرَبی و فارسی سے مُستَعار لی ہوں۔

اِس لیے آپ اگر بِہتَر سمجھیں تو آپ زن کی جگہ پر عَورت، اور سِتیز/سِتیزی کی جگہ پر بیزار/بیزاری اِستِعمال کر سکتے ہیں، یعنی: عَورَت‌بیزار اور عَورَت‌بیزاری۔ علاوہ بریں، اِس اِصطِلاح میں بیزاری کی جگہ پر دُشمَنی بھی اِستِعمال کِیا جا سکتا ہے۔

کالم نگار : حسّان خان اباسِینی
| | |
98