(+92) 319 4080233
کالم نگار

-ایک قاری کاانتخاب

-ایک قاری کاانتخاب

پروفائل | تمام کالمز
2026/09/20
موضوعات
ارب پتی باپ نے بیٹے کی تربیت کیسے کی؟
20 سال تک غریبی کا ڈرامہ ارب پتی باپ نے بیٹے کو سچائی سے محروم رکھ کر محنت سکھائی۔

چین کے صوبے ہونان کے ضلع پنگ جیانگ سے تعلق رکھنے والے ژانگ زی لونگ (Zhang Zilong) 20 سال تک یہی سمجھتے رہے کہ ان کا خاندان انتہائی غریب ہے اور قرضوں تلے دبے ہوا ہے۔ باپ نے انہیں بتایا کہ ان کا کاروبار مسلسل خسارے میں ہے۔ زی لونگ عام سے فلیٹ میں رہے، سستے کپڑے پہنے اور خلوصِ نیت سے پڑھائی کرتے رہے تاکہ ایک دن اپنے خاندان کو اس مشکل سے نکال سکیں۔ یونیورسٹی سے فراغت کے بعد زی لونگ کا خواب صرف اتنا تھا کہ انہیں 6,000 یوآن (تقریباً 800 ڈالر) ماہانہ کی ایک معقول نوکری مل جائے تاکہ وہ والد کا قرضہ اتارنے میں ان کی مدد کر سکیں۔ لیکن پھر ان کے والد نے ایک دن بیٹھ کر انہیں اصل سچائی بتائی۔

حقیقت یہ تھی کہ زی لونگ جس سال پیدا ہوئے تھے، اسی سال ان کے والد نے "مالا پرنس" (Mala Prince) نامی مشہور سپائسی سنیک (Latiao) کا برانڈ قائم کیا تھا، جس کا سالانہ کاروبار 600 ملین یوآن (تقریباً 83 ملین ڈالر) ہے۔ خاندان پر کوئی قرضہ نہیں تھا، بلکہ ان کے پاس 1.4 ملین ڈالر کا ایک پرتعیش ولا اور 8 لگژری گاڑیاں موجود تھیں۔ والد کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا زمینی حقیقت سے جڑا رہے، محنت کی قدر سمجھے اور بغیر کسی غرور کے اپنے قدموں پر کھڑا ہو۔

سچائی جاننے کے بعد بھی زی لونگ کی عادات تبدیل نہیں ہوئیں۔ وہ الیکٹرک موٹر سائیکل پر دفتر جاتے ہیں، ای کامرس شعبے میں عام ملازم کی طرح کام کرتے ہیں اور اب ان کا مقصد اس برانڈ کو عالمی سطح پر پھیلانا ہے۔

مأخَذ

سوشل میڈیا سے انتخاب

کالم نگار : -ایک قاری کاانتخاب
| | |
79