(+92) 319 4080233
کالم نگار

-ایک قاری کاانتخاب

-ایک قاری کاانتخاب

پروفائل | تمام کالمز
2026/09/20
موضوعات
یونیورسٹی کے کُچھ قصے
یہ قصہ پہلے سمسٹر کا ہے ہم تینوں رومیٹس حجاب کرتی ہیں ۔ایک سیدہ چندا ہیں وہ شرعی پردہ کرتی ہیں احتیاط والا ادب والا پردہ ۔میں کلاس 8 سے عبا ياپہن رہی ہوں ۔حجاب کرتی ہوں اور یونیورسٹی میں نقاب بھی۔پر میرا پردہ شرعی نہیں ہے۔میں حجابی ہوں بس ۔ہر حال میں حجابی۔تیسری بھی پرده کرتی ہیں مگر وہ نا حجابی ہیں نا نقاب کرنے والی یونیورسٹی میں پردہ کرتی ہیں۔وہ دوپٹہ پرسن ہے ۔

قصہ کچھ یوں ہے ۔کے ہمیں پتہ چلا ہماری کلاس میں ایک فیمیل خواجہ سرا ہیں۔لڑکے اُسے پسند نہیں کرتے اس کے ساتھ بات نہیں کرتےپاس نہیں آنے دیتے۔تو وہ کسی نا کسی طرح ہمارے گروپ کا حصہ بن گئی(کیوں کے کلاس میں سے اُسے ہمارا گروپ پسندتھا)۔ہماری ہمدردی اور نیک دل کے سبب۔اُسکا نام محبوب ہے ۔ہم اُسے انسان ہونے کی حیثیت سے عزت دیتے محبت دیتے ۔ہم کوشش کرتے اُسے اپنے پاس پاس رکھنے کی تا کے وہ اکیلا فیل نا کرے۔ہمارا محبوب سمیت 5 لوگوں گروپ بنا(تین ہم روم میٹس محبوب اور ایک کلاس فیلو)ساری لڑکیاں پردہ کرنے والی تھیں۔ہم محبوب کے ساتھ کھاتے پیتے باتیں کرتے سفر کرتے حتیٰ کے بس میں اسے کوئی پاس نا بیٹھنے دیتا ہم اسے اپنے پاس بٹھا لیتے ۔بہت بار اس نے میرے ساتھ سیٹ شیئر کی۔وہ خود کو لڑکی کہتا ۔ایک دِن مجھے اب اچھے سے یاد ہے.

مئی کا مہینہ شدید گرمی کلاس ختم ہوئی تو ہم وہیں بیٹھے رہے۔محبوب کے پاس ہماری نسبت پیسے بہت زیادہ ہوتے ہیں( اب بھی وہ اتنا کھلا خرچ کرتا ہے کے ہم حیران ہوتے ہیں)۔ہم نمکو کھا رہے تھےاس وقت ہماری کلاس فیلو لے کے آئی تھی۔ سب کے نقاب اترے ہوئے تھے جب محبوب نے بتایا کے اُسے خان پسند ہے نیلی آنکھوں والا ایک کلاس فیلو مگر وہ اُسکے ساتھ بُرا سلوک کرتا ہے اس سے بات نہیں کرتا۔ (ایک دِن میرے سامنے بھی محبوب کے ہاتھ کو خان نے بہت برے طریقے سے جھٹکاتھا۔)بتا کر وہ رونے لگی(پتہ نہیں کیا لکھوں لگا کے لگی)

اس وقت ہم کل آٹھ کلاس فیلوز بیٹھیں تھیں سب خان کو برا بھلا کہنے لگیں ۔کے انسانیت ہے ہی نہیں ہے ۔خواجہ سرا انسان ہوتے ہیں ۔میں نے اور سیدہ نے تو با قاعدہ اسے تسلی دینے کے لیے اُسکا ہاتھ پکڑ کے کہا تمھیں صبر کرنا چاہیے وہ تو مرد ہے اگر تم میں کمی ہے تو کوئی بات نہیں ہو تو" تم عورت خواجہ سرا "تم احتیاط کیا کرو اُسکے پاس جانے سے ۔گناہ ملتا ہے نا محرم تو ہے نا وہ تمھارے لیے۔میں نے نوٹس کیا ہے محبوب تم مردوں کے قریب جانے کی کوشش کرتی ہو ۔خاص کر خان کے۔"کیا کرو گی کرش بنا کر تمہا رے لیے پردے کا وہی حکم ہے جو عورتوں کے لیے ہے"۔چندا نے پیار سے سمجھایا۔

اس نے جو جواب دیا اس جواب نے ہماری چھوٹی سوچ کی دنیا ہلا دی۔

نہیں میں خواجہ سرا نہیں ہوں ۔"میں پورا مرد ہوں مجھ میں جسمانی طور پر کوئی کمی نہیں ہے میری روح عورتوں والی ہے بس۔۔"

سہولت سے اس نے اپنا ہاتھ چندا کے ہاتھ سے نکال لایا ۔سب سے پہلا جھٹکا شرعی پردہ والیوں کو لگا تھا۔میں نے سب کے رنگ بدلتے دیکھے لرزتے ہاتھوں سے نقاب ٹھیک کرتیں لڑکیاں۔سیدہ چندا جھٹ سے اٹھی نقاب کیا کلاس سے باہر نکل گی چندا کوبخار ہو گیا ٹینشن سے گل ہماری روم میٹ تو اتنا ڈیپریشن میں گی کے گھر چلی گئی۔ہمیں یاد آتا کے کب کب اس نے ہمارے ہاتھوں پر ہاتھ مارا رکشے میں ساتھ بیٹھا یاں ہم نے اسکے آنسو صاف کیے کبھی الٹی آتی کبھی گناہ کا احساس اور کبھی اللّٰہ سے شرمندگی ۔ہم تینوں رومیٹس نے رونے کا سیشن بھی لگایا۔باقی لڑکیاں بھی حیران پریشان ۔کلاس کے لڑکوں سے اب ہمیں با قاعدہ شرم آتی ہے ۔محبوب جب ہمارے ساتھ ہوتا تھا ۔وہ ہمیں ذو معنی نظروں سے دیکھتےتھے۔۔ہم نے ہر طرح سے اسے سمجھانے کی کوشش کی کے یہ غلط ہے۔وہ روتا ہے مظلوم بنتا ہے ۔ہمیں ترس بھی آتا ہے مگر۔پھر ہمیں پتہ چلا اُسکے گھر سے اُسے پاکٹ منی نہیں ملتی اُسے گھر والے قبول نہیں کرتے ۔اُسے ایک تنظیم اس کے جیسے لوگوں کی تنظیم سپورٹ کرتی ہے کھلا پیسہ ملتا ہے ۔وہ گھر نہیں جاتا تنظیم والوں کے پاس جاتا ہے ۔محبوب کا اب بھی ایک کلاس گروپ ہے ۔لڑکیاں ہیں اُسکے ساتھ ہوٹلنگ کرتی ہیں آؤٹنگ کرتی ہیں۔۔کیوں کے اُسے لڑکیاں بھی اچھی لگتی ہیں ۔اُسے لڑکیوں کے ساتھ رہنا باتیں کرنا اچھا لگتا ہے۔کلاس میں ہم بس اس سے دور ہٹ گے ہیں ۔

مجھے بس اتنا کہنا ہے یہ ایل جی بی ٹی کیو والوں سے ۔آپ فنڈنگ کر کے یہ سب کروا رہے ہیں آخر پر کیا حاصل ہو گا؟۔غلیظ قسم کا کنٹینت جو عورتیں لکھتی ہیں۔محبوب جیسے مردوں کی فنڈنگ ۔آخر پر کیا ملے گا؟۔کیا روح مطمئن ہے؟

۔ہاں وہ نیلی آنکھوں والا پشاور کا خان۔اونچا لمبا جوان جو پہلے مجھے بس اس لیے زہر لگتا تھا کے وہ خواجہ سرا کی عزت نہیں کرتا۔اب مجھے برا نہیں لگتا ۔

مجھے یاد ہے ایک بار کیفے میں کلاس پارٹی gathering میں اس نے اپنی کرسی محبوب کی کرسی کے پاس سے گھسیٹ کر میرے پاس کی تو میں نے تلخ ہو کر کہا:آخر پر وہ انسان ہے خان آپ اُس کے ساتھ اتنا harsh۔ ۔نہیں ہو سکتے ۔تو اس نے کہا تھا"قلب اللّٰہ کی دلیل سب سے اونچی ہے۔ ہمارے قلب کی چا ہت سے بھی۔"

اور اب اُس کی یہ بات میرے wallpaper پر لگی ہے ۔

یہی بات میں سارے لکھاریوں سے کہنا چاہتی ہوں اور ان کی ریڈرز سے اور سستے انٹیلیکچوئلزسے، جن کے پاس بھاری لفظوں کے علاوہ کچھ نہیں۔اللّٰہ کی دلیل سب سے اونچی ہے ۔آپ کی لکھاريوں نے جو لکھ دیا اللّٰہ کی دلیل اس سےبھی اونچی ہے۔جو یہ لوگ اپنے دل کے لیے کرتے ہیں ،اللہ کی دلیل اس سے بھی اونچی ہے۔تمہارے ہر ہر پلان سے اونچی اللّٰہ کی دلیل ہے ۔اور ہمارے علماء ہماری گورنمنٹ کیا کر رہے ہیں۔؟

کلاس کے لڑکے اُسے اب بھی پسند نہیں کرتے ۔میں نے دیکھا ۔آئے دن اُسے crush ہو جاتا کسی نا کسی پر . اُسے جینے کا پورا حق ہے ہم مانتے ہیں مگر ایسے حالات میں دھوکوں میں پردہ کرنے والیوں کو کیا سزا؟ یہ تنظیموں والے اتنا پیسہ کیوں لگا رہے ہیں ہمارے لوگوں پر؟ ہمارا مستقبل کیا ہو گا؟ہم کس کس شر سے بچیں آخر؟

کالم نگار : -ایک قاری کاانتخاب
| | |
82