(+92) 321 2533925
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/01/27
موضوعات
وراثت ایک اہم شرعی حکم

انتقال کے بعد پانچ کام

جس وقت کسی انسان (مرد یا عورت) کا انتقال ہوجاتا ہے اس کے بعد درج ذیل کام اسی ترتیب سے کیے جانے چاہئیں: پہلا کام :اُس کے متعلقین کو اطلاع دینا۔ دوسرا کام: میت کو غسل دینا۔ تیسراکام: اُس کو کفن پہنانا۔ چوتھاکام: اُس کی تدفین۔میت کی تدفین میں بلاوجہ تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ پانچواںکام:اِن ابتدائی کاموں سے فارغ ہونے کے بعد سب سے پہلا کام میت کے ترکے کی تقسیم ہے۔جس کے لیے ورثاء کو بلاتاخیر فکرمند ہونا اور کوشش کرنی چاہیے۔

میت کے مال سے چار کام

اول:سب سے پہلے میت کے دفن تک ہونے والے ضروری اخراجات اُس کے ترکہ سے نکالے جائیں، مثلاً: کفن، قبر کی کھدائی کی اجرت، اگر ضرورت پڑے تو قبر کے لیے جگہ خریدنا۔ یہ اخراجات ترکے سے نکالے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ غیر شرعی امور مثلاً: امام کے لئے مصلیٰ خریدنا وغیرہ کے اخراجات ترکے سے نہیں نکالے جائیں گے۔ تجہیزوتکفین کے اخراجات میں نہ تو فضول خرچی کی جائے اور نہ بخل سے کام لیاجائے گا۔ دوم:اس کے بعد باقی مال سے میت کے ذمے واجب الادا قرضہ جات ادا کیے جائیں گے۔ سوم: بیوی کا مہرشوہرکے ذمے قرض ہے، اگر ابھی تک ادا نہیں کیا گیا تھا تو ترکے کی تقسیم سے پہلے اسے ادا کیا جائے گا۔ چہارم:اس کے بعد باقی مال سے جائز وصیت ایک تہائی (1/3)تک ادا کی جائے گی۔ یہ چار کام کر نے کے بعد جو باقی بچ جائے وہ قابلِ تقسیم ترکہ ہے۔ اب شرعی ضابطہ کے مطابق جس وارث کا،چاہے وہ مرد ہو یا عورت،جتنا حصہ بنتا ہو، اُسے دے دیا جائے اور جو وارث شرعی ضابطہ کے مطابق محروم ہوتا ہے اس کو محروم کر دیا جائے۔

تقسیمِ ترکہ سے پہلے کے کام:

ورثاء کو چاہیے کہ وہ ترکے کی تقسیم سے پہلے درج ذیل کام کرلیں: ۱…سب سے پہلے میت کی چھوڑی ہوئی ہر چھوٹی بڑی ،با قیمت یا بے قیمت چیز کی فہرست مرتب کرلیں۔اِس سلسلے میں دوسرے لوگ ورثاء کے ساتھ تعاون کریں اور جس کسی کے پاس میت کی کوئی بھی چیز موجود ہو ،وہ شرعی ورثاء کے نہ صرف علم میں لائے بلکہ وہ چیز ورثاء کو واپس بھی لوٹا دے اور اس کا ذکر فہرست میں آجائے۔ خود کسی شرعی وارث کے قبضے میں کوئی ایسی چیز ہو ،جس کی اصل مالک میت ہو، اُس کو بھی تمام ورثاء کے سامنے لاکر لکھوا لیا جائے، تاکہ میت کی زندگی میں اُس کی ملکیت میں پائی جانے والی کوئی بھی چیز اس فہرست سے باہر نہ رہ سکے۔ ۲…اِس کے بعد اِس فہرست میں ذکر کردہ تمام چیزوں کی اُس وقت کے حساب سے مارکیٹ ویلیو کے مطابق قیمت لگوائی جائے اور شرعی ورثاء کے شریعت کے مقررکردہ حصوں کے مطابق ورثاء کے درمیان انہیں تقسیم کرلیا جائے۔ نوٹ:اس تقسیم کے فوری حکم کے باوجود بعض جگہ تقسیم کرنے سے قبل خود شریعت بھی انتظار کرنے کا حکم دیتی ہے، مثلاً :میت کی بیوہ اگر حاملہ ہو تو اس کی زچگی کے وقت کا انتظار کیا جائے گا، اِس لیے کہ بیوہ کے پیٹ کا بچہ یا بچی شرعی ورثاء میں شامل ہیں اور بچہ اور بچی کے شرعی حصے مختلف ہیں، لہٰذا اس حمل سے پیدا ہونے والے بچہ یا بچی کا انتظار ضروری ہے، تاکہ صحیح صحیح حساب ہوسکے۔ اگر اُس وقت ترکہ میں پائی جانے والی مالیت نہیں لگوائی گئی تو جس وقت بھی حساب ہوگا، اُس وقت کی مارکیٹ ویلیو کے مطابق مالیت لگوائی جائے گی۔ شرعی تقسیم سے پہلے ترکے کی کسی چیز سے کسی ایک شرعی وارث کا نفع اٹھانا جائز نہیں ہے۔اگر ترکے کی تقسیم میں تاخیر ہورہی ہو،جیساکہ اوپر مذکورہ صورت میں یہ عین ممکن ہے،تو ایسی صورت میں جس وارث کے پاس ترکے کی جو چیز ہے،وہ اُس سے نفع اٹھانے سے کیسے بچ سکتاہے؟شریعت نے اِس کا بھی حل بتلایا ہے اوروہ یہ ہے کہ مثلاً:اگر وہ کوئی جائیداد ہے اور کسی شرعی وارث کے قبضے میں ہے تو وہ مارکیٹ کے حساب سے اُس کا کرایہ مقرر کردے اور وہ کرایہ ترکے میں شامل ہوکر شرعی ورثاء کے شرعی حصوں کے مطابق سے تقسیم ہو۔اسی طرح اگر میت کے ترکے کی چیزیں، کوئی ایک شریک وارث اپنے پاس رکھنا چاہے تو وہ دوسروں کے شرعی حصے خود خرید لے اور اپنے پاس سے اُن شریکوں کے کے حصوں کے مطابق رقم دے کر انہیں فارغ کردے۔

دورحاضرکاالمیہ:

میراث کی شرعی تقسیم میں کتنی کوتاہی ہوتی ہے ؟ اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایاجاسکتا ہے کہ میراث کے مسائل ہر عالم اور مفتی کو یاد بھی نہیں ہوتے اس کی وجہ یہ نہیں کہ انہوں نے یہ مسائل پڑھے نہیں ہوتے ، بلکہ وجہ یہ ہے کہ اُن سے کوئی میراث کے مسائل پوچھنے والا ہی نہیں آتا ،حالانکہ ہر روز ہزاروں مسلمان فوت ہو رہے ہیں، ہونا تو یہ چاہیے کہ علماومفتیانِ کرام کے پاس میراث کے مسائل پوچھنے والوں کی لائنیں لگی ہوں، لیکن ایسا نہیں ہے۔ ہر روز اتنی طلاقیں نہیں ہوتیں جتنے انسان فوت ہو رہے ہیں، لیکن طلاق کے مسائل پوچھنے والے سب سے زیادہ ہیں۔ یوں توحرام مال کھانے کے بے شمار ذرائع ہیں اور اللہ تعالی کے بے شمار ایسے بندے ہیں، جو اِ ن ذرائع سے بچتے ہیں؛ مگر شرعی تقسیمِ میراث ایک ایسا فریضہ ہے جس میں کوتاہی کے مرتکب بڑے بڑے دین دار لوگ بھی ہیں۔ کئی لوگ سود، چوری، جھوٹ اور فریب سے تو بچتے ہیں، لیکن میراث کے باب میں دوسروں کے حقوق کھا کر آگ کے انگارے اپنے پیٹ میں بھرتے ہیں،اور اس قدر سنگین گناہِ کبیرہ کرکے بھی اُن کا ضمیر اُنہیں ذرا بھی ملامت نہیں کرتا،گویا اسے کوئی جرم سمجھتے ہی نہیں،خاص طور پر گھر کی خواتین کی میراث کو تو شیرِمادر(ماں کا دودھ)سمجھ کر ہضم کرلیا جاتا ہے۔

اسلاف کی احتیاط:

میراث کے مسئلے میں اسلاف بہت احتیاط کرتے تھے۔ایک بزرگ اپنے ایک دوست کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے، وہاں گئے تو اُن کو نزع کی حالت میں پایا، چنانچہ تھوڑی دیر میں ان کا انتقال ہوگیا۔ وہاں چراغ جل رہا تھا ،آپ نے فوراً اُسے گل کردیا اور اپنے پاس سے پیسے دے کر تیل منگوایا اور اس سے چراغ روشن کیا، اور فرمایا کہ وہ تیل مرحوم کی ملک اُسی وقت تک تھا جب تک کہ وہ زندہ تھے، اور انتقال ہوتے ہی اب تمام وارث اُس کے مالک ہوگئے، جس میں بعض ورثاء یتیم ہیں ، بعض غائب ہیں، اس لیے اِس کا استعمال جائز نہیں۔ میراث کی اسی اہمیت کے پیشِ نظر ذیل میں میراث سے متعلق ضروری باتیں اور بنیادی تفصیلات ذکرکی جاتی ہیں،جن کا جاننا اوراِن کے مطابق عمل کرناہر مسلمان مرد وعورت کے لیے ضروری ہے۔جہاں تک میراث کی ورثا ء کے درمیان شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کا تعلق ہے تو اِس کے لیے یہ رسالہ کافی نہیں۔جس کسی کو میراث تقسیم کرانی ہو،اسے چاہیے کہ وہ اپنے شہر کے کسی بڑے دارالافتاء جاکر مفتیانِ کرام سے میراث کی تقسیم کرائے۔

وراثت یاترکہ کیاہے؟

۱… وَرَاثت:یہ عربی اور اردو زبان کا لفظ ہے، جو واؤ کے زبر اور زیر دونوں کے ساتھ بولا جاتا ہے۔ وراثت کے لغوی معنیٰ وَرَثَہ، مِیْرَاثْ اور تَرْکَہْ کے ہیں۔ اصطلاح میں وراثت اُس مال، جائیداد ، سونا، چاندی، زیورات و دیگر اشیا ء بشمولِ قابلِ وصولی قرضہ جات (Receivable loans)وغیرہ کو کہا جاتا ہے جو مَر جانے والا/والی اپنی مکمل ملکیت میں چھوڑ کر مرے ، چاہے وہ مال ذاتی کمائی سے حاصل ہُوا ہو یا کہیں سے جائز طور پر ہدیۃً (تحفتاً) یا وراثتاً مِلا ہو۔ وراثت، ورثہ، میراث، ترکہ یہ سب ہم معنی الفاظ ہیں،لہٰذا کبھی ایک کی جگہ دوسرا لفظ بھی استعمال کرلیا جاتا ہے۔عربی میں اس کے لیے ایک اور لفظ’’ اَلْارِثْ‘‘ بھی بولاہے۔جبکہ اسے انگریزی میںInheritance اورHeritageکہتے ہیں۔

میراث کی اہمیت:

میراث کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ اللہ رب العزت نے قرآنِ مقدس میں اِس کی تفصیلات کو کئی آیات میں بیان کیا ہے۔ دیگر کئی احکام بھی قرآن مجید میں بیان ہوئے ہیں،مگر اللہ رب العزت نے ان کی جزئیات کو بیان نہیں کیا،مثلاً:نماز،جو کلمے کے بعد سب سے بڑا رکن ہے،اُس کی فرضیت کوتو اللہ تعالیٰ نے سیکڑوں جگہ بیان فرمایا ہے،مگر اس کی رکعتوں اور طریقۂ کا ر کو بیان نہیں فرمایا؛ لیکن میراث کی اہمیت کے پیش نظر اس کو تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا اور ورثا ء کے حصوں کو بھی بیان فرمایا۔

وراثت کے ذریعے جو ملکیت ورثا ء کی طرف منتقل ہوتی ہے، وہ جبری ملکیت ہے، نہ تو اِس میں وراثت کا قبول کرنا شرط ہے اور نہ وارث کا اِس پر راضی ہونا شرط ہے، بلکہ اگر وہ اپنی زبان سے صراحتاً یوں بھی کہہ دے کہ میں اپنا حصہ نہیں لیتا/لیتی تب بھی شرعاً وہ اپنے حصے کا مالک بن جاتا/جاتی ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ وہ اپنے حصے کو قبضے میں لینے کے بعد شرعی قاعدے کے مطابق کسی دوسرے کو ہدیہ کر دے یا بیچ ڈالے یا تقسیم کر دے۔(عزیزالفتاویٰ صفحہ 78،معارف القرآن،مفتی محمد شفیعؒ، جلد2ص312)

میراث اور احادیثِ طیبہ:

میراث کی اسی اہمیت کے پیش نظر حضور اقدس ﷺ نے علمِ میراث سیکھنے اور سکھانے والوں کے فضائل بتائے اور میراث میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے وعیدیں سنائی ہیں۔ذیل میں میراث کی اہمیت و فضیلت اور اِس میں کوتاہی کرنے والوں کے بارے میں چند احادیث پیش کی جاتی ہیں۔

۱…۔حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا تم علم فرائض(علم میراث)سیکھو اور لوگوں کو بھی سکھاؤ، کیونکہ میں وفات پانے والا ہوں اور بلاشبہ عنقریب علم اٹھایا جائے گا اور بہت سے فتنے ظاہر ہوں گے، یہاں تک کہ دو آدمی حصۂ میراث کے بارے میں باہم جھگڑا کریں گے اور انہیں ایسا کوئی شخص نہیں ملے گا، جو اُن کے درمیان اس کا فیصلہ کرے۔(مستدرک حاکم، جز4صفحہ369) ۲…ایک اور حدیث میں ارشاد ہے:تم فرائض(میراث)سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ،کہ وہ نصفِ علم ہے ،بلاشبہ وہ بھلا دیا جائے گا اور میری امت سے یہی علم سب سے پہلے اُٹھالیا جائے گا۔(ابن ماجہ صفحہ 195) ۳…جمع الفوائد میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:وہ عالم جو فرائض (میراث )نہ جانتا ہو، ایسا ہے جیسا کہ بے سر کے ٹوپی (یعنی اس کا علم بے زینت و بے کار ہے۔) ۴…حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضوراقدس ﷺ نے فرمایا :جس نے کسی وارث کے حصۂ میراث کو روکا تو اللہ تعالی قیامت کے دن جنت سے اس کے حصے کو روکیں گے۔(مشکاۃ المصابیح صفحہ 266) ۵…ایک صحیح حدیث کا مضمون ہے کہ بعض لوگ تمام عمر اطاعتِ خداوندی میں مشغول رہتے ہیں، لیکن موت کے وقت میراث میں وارثوں کو ضرر پہنچاتے ہیں(یعنی بلاوجۂ شرعی کسی حیلے سے محروم کر دیتے ہیں یا حصہ کم کر دیتے ہیں)توایسے شخصوں کو اللہ تعالیٰ سیدھا دوزخ میں پہنچا دیتا ہے۔(مشکاۃ المصابیح صفحہ 265)

تقسیم میراث کے اہم اصول:

ترکہ میت کے اُس چھوڑے ہوئے مال کو کہتے ہیں جو مرتے وقت مکمل طور پر میت کے قبضے اور ملکیت میں ہو، کسی دوسرے کی ملکیت یا دوسرے کی ملکیت کا کوئی حصہ اس میں شامل نہ ہو۔ چنانچہ: ۱… ایسی تمام چیزیں جو قبضے میں تو ہوں مگر ملکیت میں نہ ہوں (چاہے وہ مالک کی طرح اُن کو کیوں نہ استعمال کررہا ہو) ۲…یا کاعذی طور پر یا زبانی طور پر ملکیت میں ہوں، لیکن قبضے میں نہ ہوں وہ میت کے ترکے میں داخل و شامل نہ ہوں گی۔ ۳… اگر میت نے اپنی زندگی میں اپنی ملکیت کی کوئی چیز کسی کو تحفتاً (ہدیۃً) دینے کا زبانی یا تحریری طور پر اقرار کررکھا ہو ،لیکن اپنی زندگی میں اُس شخص کو اس چیز کا قبضہ نہ دیا ہو تو وہ چیز مرنے کے بعداُس شخص کی ملکیت شمار نہیں ہوگی،بلکہ میت ہی کی ملکیت میں شمار اور شامل رہے گی اور میت کے شرعی ورثا میں شریعت کے مقررکردہ حصوں کے مطابق تقسیم ہوگی۔ ۴… اگر کسی نے کوئی جائیداد وغیرہ اپنی ملکیت میں رکھتے ہوئے سرکاری ٹیکس سے بچنے کی غرض سے صرف کاغذات میں کسی کے نام کرا رکھی ہو تو وہ جائیداد مرنے کے بعداُس شخص کی ملکیت میں شمار نہیں ہوگی جس کا نام کاغذات میں لکھوارکھاہے،بلکہ میت ہی کے ترکے میں شامل ہوگی اور تمام شرعی ورثا میں شریعت کے مقررکردہ حصوں کے مطابق تقسیم ہوگی۔ ۵…عورت کو والدین کی طرف سے یا میکے والوں کی طرف سے ملنے والے زیورات و سامان تو اُسی کی ملکیت ہوتے ہیں، البتہ شوہر اور سسرال والوں کی طرف سے ملنے والے زیورات و دیگر سامان کے متعلق ہر گھر میں پہلے دن سے یہ وضاحت ہوجانی چاہیے کہ یہ تمام چیزیں عورت کی ملکیت میں دی جاچکی ہیں یا عورت کو صرف برتنے (استعمال کرنے) کے لیے دی گئی ہیں۔ اگر زندگی میں اس کی اصل مالک عورت تھی تو وہ تمام چیزیں جو اس وقت موجود ہوں ،اُس کے مرنے کے بعد اُس کے ترکے میں شامل ہوں گی۔ ۶… اگر کسی چیز کا میت نے مرنے سے پہلے کسی سے سودا تو کرلیا تھا ،لیکن نہ اُس کی قیمت ادا کی تھی اورنہ ہی اس خریدی ہوئی چیز کا قبضہ حاصل کیا تھا، بلکہ سودے کے باوجود وہ چیز بیچنے والے کے پاس ہی موجود تھی توقیمت نہ ادا کرنے اور قبضہ نہ کرنے کی وجہ سے وہ چیزاصل مالک(جس سے میت نے زبانی سودا طے کیاتھا)ہی کی ملکیت شمار ہوگی اور میت کے ترکہ میں داخل نہ ہوگی۔ ۷…اگر خریدی ہوئی چیز کا میت نے قبضہ تو کرلیا تھامگر قیمت ادا نہیں کی تھی تو ایسی چیز میت کے ترکے میں داخل اور ورثا کے درمیان اُن کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگی۔ نوٹ:اور فروخت کرنے والا اِس بنیاد پر کہ میت نے اُس چیز کی قیمت ادا نہیں کی تھی اُس چیز کواپنی ملکیت میں واپس نہیں لے سکتا، البتہ وہ میت کے قرض خواہوں کی فہرست میں آئے گا اور ورثے کی تقسیم سے پہلے میت کے ترکے میں سے دوسرے قرض خواہوں کے قرضوں کی طرح اُس کو بھی اُس چیز کی قیمت اداکردی جائے گی۔ ۸… میت نے اپنی زندگی میں کوئی چیز کسی کے پاس گروی(Mortgage) رکھوا ئی ،مثلاً:مرنے والے نے کوئی قرض لیا تھا اوراُس کے بدلے اپنی کوئی چیز گروی رکھوادی تھی کہ اگر میں وقتِ مقررہ پر تمہار اقرض ادا نہ کرسکوں تو میری یہ چیز بیچ کر اپنی رقم وصول کرلینا،مگر قرض ادا کرنے سے پہلے اُس کا انتقال ہوگیا او روہ چیز قرض خواہ کے قبضے میں ہے اور اُس قرض کی ادائیگی کے لیے میت نے کوئی مال بھی نہیں چھوڑا تو ایسی گروی رکھوائی ہوئی چیز میت کی ملکیت میں ہونے کے باوجود ترکہ میں شامل نہیں ہوگی۔بلکہ قرض خواہ اُس گروی رکھی ہوئی چیز کوبیچ کر سب سے پہلے اپنا قرض وصول کرلے، اگر اُس کے بعد بھی کچھ رقم بچ جائے تو میت کے ورثا کے حوالے کردے تاکہ میت کے وہ ترکے کے طور پر شرعی قوانین کے مطابق شرکا میں تقسیم کردی جائے۔ ۹…میت کی زندگی میں کسی کی ملکیت کی چیز اُس کے اپنے قبضے میں تھی اور وہ مالک کی اجازت سے آزادانہ طور پر اُس کا استعمال بھی کرتا رہتا تھا تواُس کے مرنے کے بعد وہ چیزاصل مالک کو واپس کرنی پڑے گی۔ اِس آزادانہ استعمال کے باوجودوہ چیز مرنے والے کی ملکیت نہیں ،لہٰذا ورثے میں تقسیم نہیں کی جائے گی۔ ۱۰… میت نے اپنی زندگی میں عام برتنے کے لیے کوئی چیز مثلاً برتن، بستر، کتابیں وغیرہ عاریتاً(Borrowing) حاصل کررکھی ہوںتو یہ تمام چیزیں اُس کے قبضے میں ہونے کے باوجود اس کی ملکیت میں شمار نہیں ہوںگی اور اِن تمام چیزوں کواِن کے اصلی مالکان کو واپس کرنا پڑے گا۔ ۱۱… اگر مرنے والے نے اپنی زندگی میں کسی خاص مقصد کے لیے کچھ چیزوں یا رقم کو جمع کررکھا ہو تو ایسی تمام چیزیں ترکہ میں شامل ہوں گی اور شرعی اصولوں کے مطابق ورثاء میں تقسیم ہوں گی۔ ۱۲… اگر کسی شخص نے اپنے بیٹی یا بیٹے کے لیے شادی یا علاج کی غرض سے کچھ چیزیں جمع کررکھی ہوں اور بیٹے یا بیٹی کو قبضہ نہ کرا دیا ہو تو وہ مخصوص چیزیں اُس خاص بیٹے یا بیٹی کی ملکیت شمار نہیں ہوںگی ،بلکہ اُن تمام چیزوں کو ترکہ کے اندر شامل کرکے تمام ورثاء کے درمیان اُن کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔ ۱۳…جب کوئی مؤمن بندہ یا بندی انتقال کر جائے تو اُسی لمحے اس کی چھوڑی ہوئی نقد رقوم کے ساتھ ساتھ تمام کی تمام چھوٹی بڑی اشیاء شرعی نقطۂ نگاہ سے فوراً اس کے شرعی ورثاء کی طرف منتقل ہوجاتی ہیں۔ لہٰذا اُن میں سے کسی بھی چیزکو، چاہے وہ مادی اعتبار سے کوئی حیثیت رکھتی ہو یا نہ رکھتی ہو، کوئی بھی وارث تقسیم سے پہلے نہ اپنے ذاتی استعمال میں لاسکتا ہے، نہ اُسے صدقہ و خیرات میں دے سکتا ہے، مثلاً مرتے وقت میت کی جیب میں اگر الائچی کا ایک دانہ بھی پڑا ہوا ہو تو کوئی بھی وارث تنہا ذاتی طور پر نہ اُسے اپنے استعمال میں لاسکتا ہے اور نہ ہی کسی کو دے سکتا ہے۔ اسی طرح کوئی بھی وارث میت کا پہنا ہوا لباس، کلائی کی گھڑی، انگلی کی انگوٹھی، آنکھوں کا چشمہ یا کوئی بھی استعمال کی چیز اپنی مرضی سے دوسرے ورثاء کی اجازت کے بغیر نہ اپنے استعمال میں لاسکتا ہے اور نہ ہی کسی دوسرے کو دے سکتا ہے، جب تک کہ تمام ورثاء بغیر جبر و اکراہ کے اپنے اپنے حصّوں کے مطابق خرچ کرنے یا استعمال کرلینے کی اجازت نہ دے دیں۔ ۱۴… عموماً میت کو غسل دینے کے لیے غسّال (The one who bathes the dead) بلائے جاتے ہیں ، عمومی طور پر اُن کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ میت کی قمیص یا بنیان وغیرہ کوقینچی منگوا کر کاٹ کر جسم سے علیحدہ کرتے ہیں اور اس کی اجازت بھی نہیں لیتے، جبکہ اس کی اجازت دینا کسی ایک وارث کا اختیار نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ کاٹے جانے والا یہ لباس ترکہ میں شامل ہوچکا اور یہ غسل دینے والا ایک سے زائد ورثاء کا حق اس مال کو تلف کرکے ضائع کررہا ہے، یہ ورثاء کا حق مارنے کے برابر ہے۔ لہٰذا اس کی اہمیت کے پیش نظر غسل دینے والوں کو اس طرف متوجہ کرنا چاہیے اور انہیں تاکید کرنی چاہیے کہ وہ کاٹے بغیر آسانی سے جسم کے اس اوپر کے لباس کو اتار کر جیسے کہ نیچے کے دھڑ کے لباس کو اتارتے ہیں، اس لباس کو ذمے داروں کے حوالے کردیں۔ ۱۵…مرنے والا اپنی زندگی میں اگر کاروبار کررہا تھا اور اس کاروبار میں اپنے بڑے ایک یا ایک سے زائد بچوں کو بھی شامل کررکھا تھا تو ہمارے معاشرے میں عموماً اس جاری کاروبار کے وہ بچے مالک بن بیٹھے ہیں اور اس پر قبضہ جما لیتے ہیں اور دیگر شرکاء کو اُن کے حق کے موافق حصے نہیں دیتے، چاہے وہ شرکاء دوسرے بھائی ہوں یا بہنیں ہوں۔یاد رکھیے کہ یہ ایک زبردست کوتاہی اورشدید قسم کا گناہِ کبیرہ ہے۔اِس کا بُرا انجام دنیا ہی میں پیش آجاتا ہے، جبکہ آخرت کا انجام بھی اپنی جگہ باقی رہتا ہے۔ وہ کاروبار جو والد صاحب کے ذاتی سرمائے سے شروع ہوا اور جاری ہے، اُس میں تمام شرعی ورثاء اپنے اپنے شرعی حصوں کے مطابق والد صاحب کے انتقال کے بعد حصے دار رہیں گے، چاہے اُنہوں نے اس جاری کاروبار میں اپنی محنت کا حصہ ڈالا ہو یا نہ ڈالا ہو۔ چاہے وہ مذکر ہوں یا مؤنث۔ نوٹ:قبضہ کرلینے والوں کی اپنی سوچ یہ ہوتی ہے کہ ہم نے بھی اس کاروبار میں اپنی جان، اپنا وقت لگایا ہے۔ اُن کی خدمت میں مؤدبانہ عرض یہ ہے کہ جس وقت والد مرحوم نے آپ کو کاروبار میں شریک کیا تھا، اُسی دن یہ وضاحت کرالینی چاہیے تھی کہ آپ کس حیثیت سے اس کاروبار میں شریک ہورہے ہیں؟ آیا آپ کاروبار میں مالی اعتبار سے شریک ہیں یا وارث ہونے کی حیثیت سے اُن کے مددگار ہیں ،جس کے عوض آپ کو ذاتی اخراجات کے لیے علیحدہ سے ماہانہ خرچ دیا جاتا ہے؟ یا آپ بحیثیت ملازم اس کاروبار میں شریک ہیں اور اس کی تنخواہ پارہے ہیں؟شریعت کا یہ ضابطہ ہے کہ کسی بھی کاروبار میں کوئی شخص،چاہے وہ سگا بیٹا ہی کیوں نہ ہو، اس وقت تک شریک نہیں کہلائے گا جب تک کہ وہ اپنا ذاتی سرمایہ بھی اس کاروبار میں نہ شامل کرلے۔ ۱۶… والد صاحب نے اگر کسی بچے کو علیحدہ سے کوئی کاروبار کرا دیا ہو اور اُس میں والد صاحب کا ذاتی سرمایہ کچھ بھی نہ لگا ہو اور وہ بچہ اپنی ذاتی محنت سے ذاتی سرمائے سے اُس کاروبار کو فروغ دے رہا ہوتو والد صاحب کے انتقال کے بعد دوسرے ورثاء اُس کاروبارمیں شریک نہیں ہوں گے۔ ۱۷… اِسی طرح اُس کاروبار سے اگر ذاتی طور پر اِس بچے نے کوئی جائیداد بنائی ہو تو وہ جائیداد بھی والد صاحب کے ترکے میں شامل نہیں ہوگی۔ ۱۸… اگر والد صاحب نے اپنے ذاتی سرمائے میں سے اپنی زندگی میں کسی بچے کو مستقل مالک بناتے ہوئے کچھ سرمایہ یا کوئی چیز کسی بچے کے قبضے میں دے دی ہو تو وہ سرمایہ یا وہ چیز اُسی بچے کی ملکیت شمار ہو گی، جس میں دوسرے ورثا،چاہے والدہ اور بہن بھائی ہی کیوں نہ ہوں شریک نہیں ہوں گے۔ ۱۹…میراث سے متعلق احکام وفات کے بعد کے ہیں۔ زندگی میں اگر کوئی شخص بحالتِ صحت اولاد میں مال و جائیداد تقسیم کرنا چاہے تو اِس کی بہتر صورت یہ ہے کہ بیٹے اور بیٹی کو مساوی طور پر حصہ دیا جائے؛ اور اگر اولاد میں سے کسی کو اس کے تقویٰ یا دین داری یا حاجت مندی یا والدین کی خدمت گزاری کی وجہ سے نسبتاً زیادہ حصہ دیا جائے توبھی اِس میں کوئی حرج نہیں۔اسی طرح اگر اولاد بے دین، فاسق و فاجر ہو اور مال دینے کی صورت میں اُس کی اصلاح کی امید نہ ہو تو انہیں صرف اتنا مال،جس سے وہ زندہ رہ سکیں، دینے کے بعد بقیہ مال امورِ خیر میں خرچ کرنا افضل ہے۔(الدرالمختار) الغرض زندگی میں بحالت صحت تو اختیار ہے، لیکن مرنے کے بعد کسی وارث کو محروم نہیں کیا جاسکتااورنہ ہی کسی کو زیادہ دیا جاسکتا ہے۔ ۲۰… مرنے کے بعد وارث کا استحقاق خود ثابت ہو جاتا ہے، اس لیے اگر کسی مرنے والے نے عاق نامہ (Deed letter) بھی تحریر کر دیا کہ میں اپنے فلاں وارث سے(بیٹا ہو یا بیٹی یا کوئی اور وارث)فلاں وجہ سے ناراض ہوں،لہٰذا وہ میرے مال اور ترکہ سے محروم رہے گا،میں اُس کو عاق کرتا ہوں… تب بھی وہ شرعا ًمحروم نہیں ہو گا اور اس کا مقرر ہ حصہ اُس کو ملے گا ،کیونکہ میراث کی تقسیم نفع پہنچانے یا خدمت گزاری کی بنیاد پر نہیں۔لہٰذاکسی بھی وارث کو محروم کرنا حرام ہے۔ ایسی تحریر کا شرعا ًکوئی اعتبار نہیں۔ البتہ نافرمان بیٹے یا کسی دوسرے فاسق و فاجر وارث کو محروم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ یہ شخص اپنی صحت وتندرستی کے زمانے میں کل مال و متاع دوسرے ورثا ء میں شرعی طور پر تقسیم کر کے اپنی ملکیت سے خارج کر دے تو اِس کی موت کے بعدجب کچھ ترکہ ہی باقی نہیں رہے گا تو نہ میراث جاری ہو گی اورنہ کسی کو حصہ ملے گا۔(امداد الفتاوی ٰجلد 4صفحہ 364،تنویر الحواشی فی توضیح السراجی صفحہ180)

خواتین کا میراث میں حصہ اور معاشرتی المیہ:

ہمارے معاشرے میں اکثر گھروں میں،جن میں اچھے خاصے پڑھے لکھے گھرانے بھی شامل ہیں،یہ سمجھا جاتا ہے کہ بیٹیاں پرائی امانت ہیں، اُن پر جو کچھ خرچ کیا جارہا ہے اُس کا حق صرف اُتنی دیر تک ہے، جب تک وہ ہمارے گھر میں رہیں۔چنانچہ اُن کو اپنی حیثیت کے مطابق اچھا کھلایا جاتا ہے، پہنایا جاتا ہے،اُن کی اچھی تعلیم وتربیت کا انتظام کیا جاتا ہے، ذاتی اخراجات کے لیے کچھ خرچ بھی دے دیا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ شادی کے قابل ہوجائیں تو پوری دھوم دھام کے ساتھ اپنی شان کے مطابق اُن کی شادی کے تمام اخراجات برداشت کیے جاتے ہیں اور جہیز بھی اچھے سے اچھا دیا جاتا ہے۔ والدین سمیت گھر کے ہر فرد کی یہ سوچ ہوتی ہے کہ ہم نے اپنی بہن بیٹی پر اپنی بساط سے بڑھ کر خرچ کرلیا، اﷲتعالیٰ اُسے اپنے گھر میں سُکھی رکھے۔ اگر کوئی وقتی صورت بطور ایمرجنسی پیش آئی تو ہم معاونت میں بخل سے کام نہیں لیں گے۔ بس اس سے زیادہ بچی کا حق نہیںسمجھاجاتا، لہٰذا باپ کی وراثت میں ان کاکوئی حق نہیں ہے۔ یہ ایک غیرشرعی سوچ ہے۔ شریعت اس کے برخلاف ہے۔قرآن مجید میں اِس حوالے سے بڑے سخت اور تاکیدی احکام ہیں۔چند آیات ملاحظہ کیجیے!

{یُوْصِیْکُمُ اﷲُ فِیْٓ اَوْلااَا دِکُمْ……کَانَ عَلِیْمًا حَکِیْمًا}(سورۂ نساء، آیت۱۱)

ترجمہ: ’’ اﷲ تعالیٰ تمہیں تمہاری اولاد (کی میراث) کے بارے میں حکم دیتا ہے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں کے حصے کے برابر ہے۔ سو اگر بیٹیاں (ہی) دو سے زائد ہوں تو ان کے لیے مرنے والے کے چھوڑے ہوئے مال میں سے دو تہائی حصے ہیں اور اگر ایک ہی بیٹی ہو تو اس کے لیے آ دھا حصہ ہے۔ اور اگر(میت) کے والدین ہی ہوں تو ان تین سے ہر ایک کے لئے چھوڑے ہوئے مال کا چھٹا حصہ ہے بشرطیکہ اس کی کوئی اولاد ہو۔ اگر اس کی کوئی اولاد نہ ہو اور والدین ہی اس کے وارث ہوں تو اُس کی ماں کا حصہ ایک تہائی ہے۔ اگر مرنے والے کے بھائی بہن (بھی) ہوں تو اس کی وصیت پورا کرنے یا قرض کی ادائیگی کے بعد اُس کی ماں کے لیے چھٹا حصہ ہے۔ تمہارے باپ ہوں یا تمہارے بیٹے، ان میںسے نفع پہنچانے میں تم سے قریب تر کون ہے تم نہیں جانتے۔ یہ سب (حصے) اﷲ تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہیں بے شک اﷲ تعالیٰ ہی علم والے، حکمت والے ہیں۔‘‘

یہ آیت صاف بتارہی ہے کہ مردوں کی طرح عورتیں بھی،چاہے وہ بہنیں ہوں یابیٹیاں یامائیں،وراثت کی اپنے شرعی حصوں کے مطابق حق دار ہیں اور یہ حصے اپنی مرضی اور صوابدید پر منحصر نہیں،بلکہ اللہ تعالیٰ کے مقررکردہ حصے ہیں،جن پر عمل کرنا واجب ہے اور عمل نہ کرنا سخت گناہ کبیرہ ہے۔ ایک اور مقام پر ارشادِباری تعالیٰ ہے:

{وَ اِنْ کَانَ رَجُلٌ……اَوْ دَیْنٍ غَیْرَ مُضَارٍ}(سورۂ نساء، آیت۱۲)

ترجمہ:’’اور اگر ایسا مرد یا عورت جس کے اصول وفروع نہ ہوں اور اس کا ایک بھائی یا بہن ہو تو اس کے چھوڑے ہوئے مال میں سے اور اگر یہ (بہن بھائی) ایک سے زائد ہوں تو وصیت پوری کرنے یا قرض کی ادائیگی کے بعد کسی کو نقصان پہنچائے بغیر ایک تہائی حصہ میں شریک ہوں گے۔ ‘‘ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

{یَسْتَفْتُوْنَکَ قُلِ اﷲُ……مِثْلُ حَظِّ الْاُنثَیَیْنِ}(سورۂ نساء، آیت۱۷۶)

ترجمہ:’’لوگ آپ( ﷺ) سے فتویٰ مانگتے ہیں آپ ﷺ فرما دیجیے کہ اﷲتعالیٰ تمہیں کلالہ ( جس کے نہ اولاد ہو اورنہ والدین زندہ ہوں) کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے۔ اگر ایسے آدمی کا انتقال ہو جائے کہ اس کی اولاد نہ ہو اور اس کی ایک بہن(زندہ) ہو تو اس بہن کے لیے اُس کے چھوڑے ہوئے مال کا آدھا حصہ ہوگا۔اور اگر (ایسی) بہن کا انتقال ہو جائے جس کی اولاد نہ ہو تو ( یہ شخص) اس(چھوڑے ہوئے تمام مال) کا وارث ہوگا۔ پس اگر (ایسے شخص) کی دو بہنیں ہوں تو ان دونوں کو چھوڑے ہوئے مال کا دو تہائی ملے گا اور اگر ( ایسے شخص) کے ورثا ء بہت سے بھائی اور بہنیں ہوں تو ایک مرد کو دو عورتوں کے حصوں کے برابر ملے گا۔‘‘

ملاحظہ فرمایاآپ نے۔اللہ تعالیٰ کے خواتین کی میراث کے حوالے سے کس قدر تاکیدی احکام ہیں؟اور ہم،جی جی ہم،بظاہر پڑھے لکھے اور دین دار سمجھے جانے والے،اِس باب میں کس قدر غافل ہیں۔یہ بات گرہ سے باندھ لیجیے کہ سب کچھ برداشت کرنے کے باوجود، تمام بیٹیوں کا والد کے انتقال کے وقت اُس کے چھوڑے ہوئے ترکہ میںحصہ ہوگا۔ شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمہ اللہ فرماتے تھے کہآج حالت یہ ہو چکی ہے کہ لوگ رواج پر تو عمل کرتے ہیں مگر قرآن مجید کے ڈیڑھ صفحے پر عمل متروک ہو چکا ہے۔ رواج یہ ہے کہ عورتوں کو جہیز میں کچھ سامان دے دیتے ہیں اور میراث میں جو اُن کا حق بنتا ہے خود ہضم کر لیتے ہیں۔ اگر کوئی شخص اپنی بہن بیٹی کو جہیز میں پوری دنیا کی دولت بھی دے دے، اس کے بعد اُس بیٹی کا میراث میں ایک روپیہ بھی حق بنتا ہو تو وہ ایک روپیہ اُس بہن بیٹی کا حق ہے یہ اس کو دینا پڑے گا۔ اگر اِس دنیا میں نہ دیا تو کل آخرت میں اپنی نیکیوں کو صورت میں دینا پڑے گا۔ نوٹ:بعض جگہوں پر چونکہ بچے اپنی والدہ کو اور بھائی اپنی بہنوں کو حصہ دینے پر آمادہ نہیں ہوتے ہیں تو وہ بوجۂ مجبوری خاموشی اختیار کرلیتی ہیں یا زبانی طور پر ِاس کا اظہار کرتی ہیں کہ ہم نے اپنا حصہ چھوڑ دیا؛ یا معاف کردیا۔ شریعت کی نگاہ میں اِس کا کوئی اعتبار نہیں۔ معاف کرانے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ ماں اور بہنوں کو اُن کا حصہ دے دیا جائے، پھر وہ اپنی مرضی سے بغیرکسی جبرواکراہ کے اپنے حصے کو بقیہ ورثاء میں تقسیم کردیں یا ایک وارث کو دے دیں یا صدقہ و خیرات کردیں یاوہ اپنے حصے پر قبضے کے بعد کسی بھائی بہن یا والدہ کو ہدیہ کردیں۔یہ سب اُن کی صوابدیدپر ہے اور اِس سلسلے میں اُن کے ساتھ پہلے سے کسی قسم کی کمٹمنٹ کرنانا جائز اورایسی معافی شریعت کی نگاہ میں معتبر نہیں۔شریعت اس مال کو حلال نہیں کہتی جو کسی دوسرے سے اس کے نفس کی خوشی کے بغیر حاصل کیا گیا ہو۔جیسا کہ حدیث میں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

لا یحل مال امرء مسلم الا بطیب نفس منہ۔(مشکاۃ المصابیح صفحہ 255، حدیث:2946)

ترجمہ:’’کسی مسلمان کا مال اس کے نفس کی اجازت کے بغیر جائز نہیں۔‘‘

کسی دوسرے کا حق کھانا گناہ کبیرہ ہے اور یہ ایسا گناہ ہے کہ جب تک معاف نہ کرایا جائے معاف نہیں ہوگا۔ممکن ہے اللہ رب العزت مہربانی فرما کر حقوق اللہ کو معاف فرما دیں مگر حقوق العباد یعنی بندوں کے حقوق اُس وقت تک معاف نہیں ہوں گے جب تک اس شخص سے معاف نہ کرا دیے جائیں جس کے حقوق تلف کیے ہیں۔

فقہی مسائل

مسئلہ:کسی مرد یا عورت نے کسی لڑکے یا لڑکی کو منہ بولا بیٹا یا بیٹی بنا لیا تو وہ لڑکا یا لڑکی اس مرد یا عورت کاوارث نہیں ہوگا۔ مسئلہ:اگر میت کے وارثوں میں بعض نابالغ بچے ہوں اور وہ اپنے حصے میں سے کچھ صدقہ، خیرات یا ہدیہ کرنے کی اجازت دیں تو اُن کی اجازت کا کوئی اعتبار نہیں۔ صرف بالغ وارثین اپنے اپنے حصے سے، تقسیم جائیداد کے بعد، خیرات وغیرہ کر سکتے ہیں، اس سے پہلے وہ بھی نہیں کرسکتے۔ مسئلہ:اگر کوئی وارث دوسرے وارثوں کی رضامندی سے اِس شرط پر اپنا حقِ وراثت چھوڑ دے کہ اُس کو کوئی خاص چیز وراثت میں سے دے دی جائے تو یہ شرعا ًجائز ہے۔ مثلاً: ایک مکان یا ایک کار لے لی اور باقی ترکے میں سے اپنا حصہ چھوڑ دیا۔ یاشوہر نے اپنی مرنے والی بیوی کا حق مہر نہ دیا تھا تو اُس نے اِس کے بدلے اپنا حصۂ وراثت جو بیوی کے ترکہ سے اس کو ملتا تھا چھوڑ دیا۔ مسئلہ:میت کے وظیفے یا پنشن کے بقایا جات جو اس کی موت کے بعد وصول ہوں، اُن کی بھی دوسرے ترکے کی طرح تقسیم ہوگی، لیکن اگر موت کے بعد پنشن جاری رہی جس کو فیملی پنشن کہتے ہیں تو سرکاری کاغذات میں جس کے نام پنشن درج ہو گی، صرف وہی اُس کو وصول کرنے کا حق دار ہوگا۔ مسئلہ:کمپنی کی طرف سے ملنے والے فنڈز اور رقوم کا حکم بھی یہی ہے کہ اِن فنڈز اور رقوم میں سے، جن کاکمپنی کے قوانین وضوابط کے مطابق مرحوم اپنی زندگی میں مالک یا ایسا مستحق ہوگیا تھا کہ قانوناً وہ اپنی زندگی میں ان کا مطالبہ کرسکتا تھا تو وہ مرحوم کے ترکے میں شامل ہوکر تمام ورثا ء کے درمیان اپنے اپنے حصۂ میراث کے مطابق تقسیم ہوں گی۔ البتہ وہ فنڈز وغیرہ کی رقم جن کا مرحوم اپنی زندگی میں اِس طرح حق دار نہیں بنا تھا، بلکہ وہ ادارے نے ورثا ء میں سے کسی کو نامزد کرکے بطورِ عطیہ دی ہو تو وہ رقم صرف اسی شخص کو ملے گی، اور اگر ادارے نے کسی کو نامزد کیے بغیر دی ہو تو پھر وہ مرحوم کے تمام ورثاء کے درمیان برابر برابر تقسیم ہوگی۔ مسئلہ:اگر کسی لڑکی اور لڑکے کاآپس میںنکاح ہو گیا لیکن ابھی تک رخصتی نہیں ہوئی تھی کہ لڑکا (یعنی شوہر)فوت ہو گیا تو وہ لڑکی اس لڑکے کے مال سے بطورِ بیوی وراثت کی حق دار ہو گی۔ مسئلہ:جس شخص کے ذمے نماز یا روزے یا زکو ٰۃیا حج واجب ہو اور اُ س پر موت کی علامتیں ظاہر ہونے لگیں تو واجب ہے کہ وہ اپنے وارثوں کو وصیت کر جائے کہ میری طرف سے نماز، روزہ وغیرہ کا فدیہ ادا کر دیں اور زکوٰۃ و حج ادا کر دیں ؛لیکن یہ وصیت جائیداد کے ایک تہائی سے زیادہ مال میں، وارثوں کی رضا مندی کے بغیر عمل میں نہیں لائی جاسکتی۔ ایک نماز یا ایک روزہ کا فدیہ احتیاطا ًدو کلو گرام گندم یا اس کی قیمت ہے۔ جو روزے مرض الموت میں قضا ہوئے ہوں، اُن کی قضا اور فدیہ واجب نہیں۔جو شخص نماز روزے حج وغیرہ کے ادا کرنے کی وصیت کر گیا ہو، اگر اس نے مال بھی چھوڑا ہے تو اس کی وصیت (ترکے کے ایک تہائی تک)پورا کرنا اس کے وارثوں پر واجب ہے اور اگر مال نہیں چھوڑا تو وارثوں کی مرضی پر موقوف ہے،چاہیں تو فدیہ دیں ،یہ اُن کی طرف سے میت پر احسان ہوگا اور چاہیں تو نہ دیں۔ مسئلہ:والدین کے ترکے میں جس طرح ان کی نرینہ اولاد کا حق وحصہ ہوتا ہے۔ اسی طرح بیٹیوں کا بھی اس میں شرعی حق ہوتا ہے، والدین کے انتقال کے بعد ان کے ترکہ پر بیٹوں کا خود تنِ تنہا قبضہ کرلینا اور بہنوں کو ان کے شرعی حصے سے محروم کرنا ناجائز اور سخت گناہ ہے۔بھائیوں پر لازم ہے کہ بہنوں کو ان کا حق اس دنیا میں دے دیں ورنہ آخرت میں دینا پڑے گا اور آخرت میں دینا آسان نہیں ہوگا ، حدیثِ مبارک میں اس پر بڑی وعیدیں آئی ہیں:حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے وارث کی میراث کاٹے گا(یعنی اس کا حصہ نہیں دے گا)تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی جنت کی میراث کاٹ لے گا۔ مسئلہ:تقسیمِ جائیداد سے پہلے کسی وارث کا اپنے شرعی حصہ سے بلا عوض دست بردار ہوجانا شرعا ًمعتبر نہیں ہے،البتہ ترکہ تقسیم ہوجائے ، ہر ایک وارث اپنے حصے پر قبضہ کرنے کے بعد اپنا حصہ خوشی سے جس کو دینا چاہے دے سکے گا۔ لیکن اگر بھائیوں کے یا خاندانی یا معاشرتی دباؤ کی وجہ سے بہنوں سے اُن کا حصہ معاف کرالیا جائے تو بھائیوں کے لیے وہ حلال نہیں ہوگا(جیساکہ پیچھے تفصیل سے گزرچکا ہے۔) مسئلہ:وہ زیور جو بیوی کی ملکیت تھا، اور بیوی نے شوہر کو ہدیہ کر دیاتو شوہر ہی اُس کا مالک ہو گا۔ مسئلہ:جو زمین بیوی کواُس کے والد صاحب کی طرف سے ملی ہو وہ اُس کی ذاتی ملکیت ہے ، جواُس کے انتقال کے بعداس کے ورثاء میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگی، وہ شوہر کی ملکیت نہیں ، اس لیے شوہر کی میراث اُس زمین میں جاری نہیں ہوگی۔ مسئلہ:تقسیمِ میراث کے لیے کورٹ یا سفر وغیرہ کا جو خرچ کیا گیا ہوتواِن اخراجات میں ہونے والے خرچ کو تمام ورثاء کے درمیان مساوی طور پر تقسیم کیاجائے گا۔ مسئلہ:مرنے والے کے قریب ترین رشتہ دار ہی میراث کے حق دار ہوں گے، قریبی رشتہ دار کی موجودگی میں نسبتاً دور کے رشتہ دار میراث سے محروم ہو جائیں گے۔ مسئلہ:مسئلہ:اگر مطلقہ عورت کی عدت پوری ہو جائے ، پھراِس کے بعد طلاق دینے والے شوہر کا انتقال ہو جائے تو مطلقہ عورت وارث نہیں ہوگی۔ مسئلہ:اگر شوہر نے طلاق رجعی دی ہے اور عدت نہیں گزری ہے تو اسی حالت میں شوہر کا انتقال ہونے پر مطلقہ عورت وارث ہوگی۔ مسئلہ:وارث کی تین قسمیں ہیں :(۱)ذوی الفروض (۲)عصبات (۳)ذوی الارحام۔ 1…ذوی الفروض وہ لوگ ہیں جن کا حصہ شریعت میں مقرر ہے۔اور وہ کل بارہ افراد ہیں : جن میں سے مردوں کی تعداد چار ہے اور عورتوں کی آٹھ۔چار مرد یہ ہیں : ۔ شوہر۔ باپ۔ دادا۔ اخیافی بھائی (ماںشریک بھائی)۔جبکہ آٹھ عورتیں یہ ہیں : بیٹی۔ پوتی۔ سگی بہن۔ علاتی بہن (باپ شریک بہن)۔ ماں۔ دادی / نانی۔ بیوی ایک ہو یا زیادہ۔ اخیافی بہن (ماں شریک بہن)۔ 2…عصبات:یہ میت کے وہ رشتے دارہیں، جن کا حصہ قرآن میں مقرر نہ ہو۔ اور وہ اکیلے ہونے کی صورت میں کل مال اور دوسرے وارث کے موجود ہونے کی صورت میں بچا ہوا مال لے لیں۔مثلاً:بیٹا ، پوتا ، دادا ، بھائی ، بھتیجا ، چچا ، چچازاد بھائی وغیرہ۔ 3…ذوی الارحام :یہ میت کے وہ رشتے دار ہیں جن کا شریعت میں حصہ مقرر نہ ہو ، اور وہ عصبات میں سے بھی نہ ہوں۔ذوی الارحام زیادہ تر ننھیالی رشتے سے تعلق رکھتے ہیں۔ جیسے : خالہ ، پھوپھی ، بھانجا ، ماموں وغیرہ۔جب پہلے والے دونوں وارث یعنی اصحاب الفروض اور عصبات نہ ہوں تب ذوی الارحام میراث پاتے ہیں۔ مسئلہ:شرعی وارثوں کو اُن کے مقررہ حصوں سے بالکل محروم کردینا یا ان کے حصے پہلے سے کچھ کم کرنا ’’حجب‘‘کہلاتا ہے۔اگر وارث کا حصہ پہلے سے کم کردے تو اس کو’’ حجبِ نقصان‘‘ کہتے ہیں۔مثلاً: شوہر:اولاد کی وجہ سے اِس کاحصہ کم ہوجاتاہے۔ بیوی:اولاد کی وجہ سے اِس کاحصہ کم ہوجاتاہے۔ ماں :اولاد ، بھائی ، بہن کی وجہ سے اِس کاحصہ کم ہوجاتاہے۔ پوتی:بیٹی کی وجہ سے اِس کاحصہ کم ہوجاتاہے۔ علاتی بہن:سگی بہن کی وجہ سے اِس کاحصہ کم ہوجاتاہے۔ مسئلہ:کسی وارث کو دوسرا وارث بالکل محروم کردے تو اس کو ’’حجبِ حرمان ‘‘کہتے ہیں۔مثلاً:ماں : ماں کی وجہ سے تمام جدات یعنی دادیاں اور نانیاں محروم ہو جاتی ہیں۔ باپ : باپ کی وجہ سے میت کے دادا ، دادیاں ، اور عینی (حقیقی)، علاتی (باپ شریک) اور اخیافی (ماں شریک) تینوں طرح کے بھائی بہن میراث سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اصلِ مذکر فرعِ مطلق : میت کی اصل مذکر یعنی باپ دادا کی وجہ سے ، اسی طرح میت کی فرعِ مطلق یعنی بیٹا ، پوتا ، بیٹی ، پوتی وغیرہ کی وجہ سے اخیافی بھائی بہن وراثت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ بنات : میت کی لڑکیاں جب دو یا اس سے زیادہ ہوں تو پوتیوں کو میراث سے محروم کردیتی ہیں۔ سگی بہن : میت کی سگی بہنیں دو یا دو سے زیادہ ہو ںتو علاتی بہن محروم ہوگی۔ بٹیا : میٹ کا بیٹا پوتے کو بالکل میراث سے محروم کردے گا۔ مسئلہ:چھ وارث میراث سے کبھی محروم نہیں ہوتے ، اور وہ مندرجہ ذل ہیں : بیٹا،باپ،شوہر،بیٹی،ماںاوربیوی۔(ان کو مختصر الفاظ میں’’ابوین‘‘(ماں باپ)’’زوجین‘‘ (میاں بیوی) اور ’’ولدین ‘‘(بیٹا بیٹی)کہا جاسکتا ہے۔ مسئلہ: اگر موت کے وقت بیوی حاملہ ہو تو وضع حمل کے بعد وراثت کا حساب اور تقسیم ہوگی اس لیے کہ پیدا ہونے والا بچہ / بچی بھی وارث ہیں۔ مسئلہ: شوہر بھی بیوی کے ورثے کا حقدار ہے اور اسے شرعی ضابطے کے مطابق حصہ ملے گا۔ مسئلہ: شوہر کے ورثے کی بیوی بھی حقدار ہے اور اسے شرعی ضابطے کے مطابق حصہ ملے گا۔ مسئلہ:جو عورت طلاق رجعی کی عدت میں ہو وہ شوہر کے مال میراث میں حقدار ہوتی ہے۔ مسئلہ: جو عورت طلاق بائن کی عدت میں ہو وہ شوہر کی میراث میں حقدار نہیں ہوتی۔ مسئلہ: کسی شرعی وارث کو وراثت سے محروم کر نا ناجائز اورباطل ہے۔ محروم کردیئے جانے کے باوجود وہ شرعی وارث رہتا ہے۔ مسئلہ: اگر کوئی زندگی میں مال کی تقسیم کرنا چاہے تو بیٹے اور بیٹی دونوں میں برابر برابر تقسیم کرنا ضروری ہے، البتہ معذور اولاد کو دوسروں سے زیادہ دیا جا سکتاہے۔ مسئلہ: اپنی زندگی میں اگر کسی کو کوئی مال یا جائیداد دی ہو تو اس کے حوالے کرنا ضروری ہے۔ صرف زبانی یا تحریری طور پر لکھ کر رکھنے سے وہ مال یا جائیداد مالک کی ملکیت میں ہی رہے گی اور مرنے کے بعد تمام شرعی ورثا میں ان کے حصوں کے مطابق تقسیم ہوگی۔ مسئلہ: بیٹیوں کی شادی میں اخراجات کے بعد بھی بیٹیاں اپنے حصوںکے مطابق وراثت میں حصے دار رہیں گی۔ مسئلہ: اگر موت کے فوری بعد وارثت کا حساب نہ کیا گیا تو حساب کے وقت کی قیمت کے حساب سے تقسیم ہوگی چاہے ان چیزوں کی قیمت میں کتنا ہی اضافہ یا کمی کیوںنہ ہو گئی ہو۔ مسئلہ: شرعی ورثا کے حق میں وصیت جائز نہیں۔ مسئلہ: اگر میت کی بیوی کا مہر ادا نہیں کیا گیا تو دوسرے قرضوں کی طرح کل مال سے مہر ادا کیا جائے گا۔ اس کے بعد میراث کی تقسیم ہوگی۔ مہر لینے کی وجہ سے عورت کا میراث کا حصہ ساقط یاکم نہیں ہوگا۔

وما توفیقی إلاباللّٰہ

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
11817     10