(+92) 321 2533925
کالم نگار

مفتی محمد نعیم خان

مدرس ، مفتی اور آئی ٹی پروفیشنل

مفتی محمد نعیم خان ولد محمد اسلم صابر 1978 کو پاکستان کے شہر کراچی میں پیدا ہوئے، ان کے اجداد قیام پاکستان کے وقت ریاست میوات ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان آباد ہوئے ۔

2023 ء میں پیس اینڈ ایجوکیشن اور ریلو کی جانب سے اسلام آباد میں منعقد ہونے والی ٹیچر ٹریننگ ورک شاپ میں شرکت کی۔ جامعہ بنوریہ عالمیہ کی طرف سے بہتر کارکردگی پر بیسٹ پرفارمنس ایوارڈ سے نوازا گیا۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/04/21
موضوعات
تعمیر معاشرہ میں مسجد کا کردار

اہمیت

مساجد کی اسلامی معاشرے میں بہت اہمیت ہے اور مساجد کو تعمیر معاشرے میں کلیدی کردار حاصل ہے، مسجدیں اسلامی وقار اور عظمت کی نشانیاں ہیں۔ مسجد میں دو کردار بہت اہم ہیں امام اور مؤذن اور ان دونوں پر مسجد کے اثرات کی بنیاد ہے ۔ مؤذن ، امام، خطیب کے چناؤ میں ایک تعلیم یافتہ، باکردار، مربی، مشفق، اسلامی اسپرٹ سے بھرپور فرد کا انتخاب ہونا ضروری ہے۔ بااخلاق، حسن سیرت اور حسن الصوت ، خوش الحان افراد مؤذن و امام کی صورت میں ایک معاشرے کے کردار سازی میں بنیادی کردار اداء کرتے ہیں ۔ محلے کی مسجد قوم کے معماروں کی ماں کی گود کے بعد پہلی درسگاہ ہوتی ہے۔

نبی اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے :

عن ابن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ليؤذن لكم خياركم وليؤمكم قراؤكم» - كتاب الصلاة باب من أحق بالإمامة (حديث رقم: 590 )

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے اچھے لوگ اذان دیں، اور جو لوگ قاری عالم ہوں وہ امامت کریں“۔

فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:

"وفي الخلاصة: وینبغي أن یکون المؤذن رجلًا عاقلًا صالحاً تقیًّا عالمًا بالسنة مواظبًا علیه، وفي الکافي: والأولیٰ أن یتولی العلماء أمر الأذان، وفي الجامع الصغیر الحسامي: قال یعقوب: رأیت أبا حنیفة یؤذن في المغرب ویقیم ولایجلس، فهذا یدل علی أن الحق أن المفتي هو المؤذن". (كتاب الصلاة، نوع آخر في اذان المحدث و الجنب، و بيان من يكره اذانه من لا يكره، ١ / ٣٢٣، ط: دار الكتب العلمية)

خلاصہ میں ہے مؤذن مرد ، صاحب عقل ، صالح ، متقی، سنت کا عالم اور ان پر عمل پیرا بھی ہو اور کافی میں ہے ہونا یہ چاہئے کہ اذان کی ذمہ داری علماء لوگ لیں ، اور جامع الصغیر میں امام یعقوب (ابو یوسف)نے اپنے استاد کے بارے میں فرمایا میں نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو دیکھا وہ مغرب کی اذان دیتے اور اقامت کہتے اور بیٹھتے نہیں، اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حق تو یہ ہے کہ مؤذن مفتی کو ہونا چاہئے۔

فضیلت

اور اسی طرح اذان و امامت کی فضیلت پر بھی کئی آحادیث سے بھی ان کی اہمت و وقعت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ، ایک اسلامی ریاست میں امام و مؤذ ن کے تقرر اور نان ونفقہ کی ذمہ داری امام المسلمین کی ہے ، اور آج انحطاط کا یہ عالم ہے جس کے پاس کوئی اسکلز نہ ہوں معاشرے میں ایک ان پڑھ شخص ناظرہ بھی ٹھیک سے نہ پڑھ سکے اسے کچھ پیسوں پر مؤذن رکھ لیا جاتا ہے ۔پھر اسے آپ اپنے بچوں کی بنیادی دینی و اخلاقی تعلیم کی ذمہ داری تفویض کردیتے ہیں۔

ہمارا المیہ

آج مؤذن و امام کے انتخاب کی ذمہ داری مسجد کمیٹی کے ذمہ ہے ان کے پاس نہ تو معیار ناپنے کی اہلیت ہوتی ہے اور نہ ہی مؤذن و امام کی اہلیت ان کا مطمح نظر ہوتی ہے ۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ عموما نہ مؤذن خوش الحان ہوتے ہیں اور نہ ہی امام قرائت اور شریعت سے واقف ہوتے ہیں ، کوئی مربوط نظام نہیں کہ کسی بڑے مدرسے سے ان حضرات کی اہلیت و قابلیت کو پرکھا جائے یا کوئی سرٹیفکیٹ اور سند کا طریقہ کار جیسے ہر ادارے میں ہوتا ہے ۔

ہماری ذمہ داریاں

اہل مدارس اور اکابر علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدہ لیں ، مل بیٹھ کر کوئی لائحہ عمل طے کریں، ائمہ و مؤذنین کی تربیتی نشستوں کا انعقاد کریں ، ان عہدوں کے لئے باقاعدہ کورس ڈیزائن کریں ، اہلیت کے لئے معیارات بنائیں ۔

کالم نگار : مفتی محمد نعیم خان
| | |
2088     12