(+92) 321 2533925
قرآن کریم ، احادیث طیبہ اور اقوالِ صحابہؓ کو لغت پر پرکھنا گمراہی ہے:
جولوگ لغات پر مہارت حاصل کرکے اس کے مطالب ومعانی کو حرفِ آخر سمجھتے ہیں،وہ عقائد میں کمزور پڑجاتے ہیں، قرآن کریم، احادیث طیبہ اور اقوالِ صحابہؓ کو بھی لغت پر پرکھتے ہیں اور پھر ان میں غلطیوں تک کا ہولناک دعویٰ کردیتے ہیں۔حالانکہ قرآن کریم کو الله نے نبی اکرم ﷺ پر نازل فرمایا،آپ ﷺ کی موجودگی میں اسے صحابہ کرامؓ نے محفوظ فرمایا اور جس رسم الخط میں حضرات کاتبینِ وحی ؓ نے لکھا وہ رسم الخط بھی قرآن کریم کے اعجاز میں سے ہے،یہ رسم الخط قرآن کریم سے پہلے موجود نہیں تھا ۔قرآن کریم کی تمام تر ترتیبات صحابہ کرام ؓ پر نبی اکرم ﷺ کی موجودگی میں کھلیں اور نبی اکرم ﷺ نے ان سے لکھوائیں،اس سے ان حضرات کے علوم جھلکتے ہیں کہ اللہ نے ان حضرات کو کتنے عالی اور بلند علوم سے نوازا تھا اور وہ نبیﷺ کی صحبت سے یقین کے تمام مراتب یعنی علم الیقین،عین الیقین،اورحق الیقین حاصل کرچکے تھے۔الله نے یہ رسم الخط ان پر منکشف فرمایا تھا،اسی کے مطابق انہوں نے لکھا اور نبی اکرم ﷺ نے لکھوانے کے بعد بارہا سنا اور درست کرایا۔اس رسم الخط کے سامنے دنیاکے تمام علوم،لغات اور گرائمر عاجز وبے بس ہیں۔یہ قرآن کریم کااعجاز ہے۔افسوس کہ لوگ لغات یعنی لوگوں کے ایجاد کردہ علوم کا سہارا لے کر قرآن کریم کے رسم الخط میں غلطیاں تلاش کرتے ہیں،اس معیار پر کلام الله کو پرکھتے ہیں ،حالانکہ انسانی لغات اور گرائمر وغیرہ قرآن کریم کے سامنے بے بس وعاجز ہیں،کیونکہ یہ تمام ظنی ہیں اور کلام الله قطعی ہے،ظنیات سے قطعیات کو نہیں پرکھا جاسکتا۔جیساکہ ظنی علوم کا سہارا لیتے ہوئے لغات نے اُمی کا ترجمہ’’اَن پڑھ‘‘کیاہے جو کمزور اورغلط ترجمہ ہے۔اُمّی کایہ معنی ہر جگہ نہیں آتاہے،یہ اصطلاحی معنی بھی نہیں ہے،اغیار کا کیا ہوا معنی ہے۔امی کا اسلامی معنی یہ ہے:وہ ہستی جو بلاتعلیم و تعلم اور ظاہری اسباب کے اسے الله تعالی علوم عطا کرے اور اس کے علوم کے سامنے دنیا کے تمام علوم عاجز و بےبس ہوجائیں۔ان کو اللہ براہ راست علوم عطا کرتاہے ۔میاں!یہ ان پڑھ والا معنی اس لیے کیا گیا تاکہ امت کو اصل حقائق سے ہٹایا جائے۔اگر کوئی شخص صرف ونحو کی نسبت حضرت علیؓ کی طرف کرتاہے تو اس سے پوچھاجائے کہ کیا کبھی انہوں نے قرآن کریم میں گرائمر کی کوئی غلطی نکالی تھی؟قرآن کریم ہر اعتبار سے محفوظ ہے۔یادرہے صرف ونحو کے بانی معتزلی تھے جواہل سنت سے ہٹے ہوئے تھے،جیسے سیبویہ،زمخشری،اسی طرح لغت پر اکثر کام کرنے والے معتزلی اور مستشرقین رہے ہیں۔قرآن کریم ک وسمجھنے کے لیے صرف ونحو کو معیار بنانا غلط ہے،یہ ظنی علوم ہیں اور قرآن کریم قطعی ہے۔جولوگ اس فن کے ماہر رہے ہیں وہ اکثر وبیشتر روافض ہیں جو گمراہ ہیں اور جن علمائے کرام نے اس میں مہارت حاصل کی اور اس کے معانی وتراکیب کو حرفِ آخر سمجھا،وہ جب کلام اللہ کے معانی بیان کرتے ہیں تو اصل حقائق سے نکل کر تحریف تک کاارتکاب کربیٹھتے ہیں۔مثلاً:ایک روایت کے متعلق کہاجاتاہے کہ نبی اکرم ﷺ اُمّی یعنی ان پڑھ ہیں۔جیساکہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: فَكَتَبَ: هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالُوا: لَا نُقِرُّ لَكَ بِهَذَا، لَوْ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ لَمْ نَمْنَعْكَ وَلَكِنْ أَنْتَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ. قَالَ: أَنَا رَسُولُ اللَّهِ وَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّه(بخاری ،حدیث نمبر 3182 ) ترجمہ:پھر (حضرت علی رضی اللہ عنہ) نے لکھا: یہ وہ معاہدہ ہے جس پر محمد رسول اللہ (ﷺ) نے صلح کی۔ قریش نے کہا: ہم آپ کو رسول اللہ تسلیم نہیں کرتے، اگر ہم جانتے کہ آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں تو ہم آپ کو مکہ میں داخل ہونے سے نہ روکتے۔ بلکہ آپ محمد بن عبداللہ ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: میں رسول اللہ ہوں اور میں محمد بن عبداللہ بھی ہوں۔ اس کے بعد نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو فرمایا کہ ’’رسول اللہ‘‘ کا لفظ مٹا کر صرف ’’محمد بن عبداللہ‘‘لکھ دیں، لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایسا کرنے سے ہچکچاہٹ ظاہر کی، کیونکہ وہ نبی ﷺ کے نام کو مٹانا مناسب نہیں سمجھتے تھے۔ پھر نبی ﷺ نے خود ’’رسول اللہ‘‘ کا لفظ مٹا کر صرف ’’محمد بن عبداللہ‘‘لکھا۔(صحیح مسلم،حدیث نمبر 1783) جن روایات میں یہ ذکر ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؓ سے پوچھاکہ کہاں لکھاہوا ہےمجھے دِکھاؤ۔یہ ایساہی ہے جیسے استاد املا کرواتے ہوئے طالب علم سے پوچھتاہے کہ کہاں تک لکھا،ذرا مجھے دِکھاؤ۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ﷺ پڑھنانہ جانتے تھے۔یہ حضور ﷺ کا اعجاز ہے کہ آپ ﷺ نے کسی مکتب میں نہیں پڑھا،اس کے باوجود اللہ نے آپ ﷺ کو تمام علوم عطا فرمائے۔اسی اعجاز کو قرآن کریم میں یوں بیان فرمایا گیاہے:هُوَ ٱلَّذِى بَعَثَ فِى ٱلۡأُمِّيِّـۧنَ رَسُولٗا مِّنۡهُمۡ يَتۡلُواْ عَلَيۡهِمۡ ءَايَـٰتِهِۦ وَيُزَكِّيهِمۡ وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلۡكِتَـٰبَ وَٱلۡحِكۡمَةَۚ وَإِن كَانُواْ مِن قَبۡلُ لَفِي ضَلَـٰلٖ مُّبِينٖ(سورۃ الجمعہ،آیت 2) ترجمہ:وہی ہے جس نے امیوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا، جو ان پر اس کی آیات تلاوت کرتا ہے، انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے، اگرچہ وہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔ نبی اکرم ﷺ لکھناپڑھناجانتے تھے۔صحابہؓ بھی لکھنا پڑھنا اور رسم الخط وغیرہ سے اچھی طرح واقف تھے۔انسانی گرائمر انتہائی کمزور ہے،بہت سے معانی اور عرف عام کو بیان نہیں کرتا،عربی زبان سمجھنے سے اس کا تعلق ہے،اس کے ذریعے قرآن کریم میں زنجیری تراکیب کرکے اپنے طور پر معاذاللہ الفاظ کو حذف کرنا یااضافہ کرنا جائز نہیں ہے۔یہ جرأت تو کفار بھی نہ کرسکے اور آپ غیرارادی طور پر قرآن کریم کی عبارت کو بدلتے جارہے ہیں کہ اگر یہ لفظ یوں نہ ہوتا یوں ہوتا تو اس کے یہ معنی ہوتے۔جن لوگوں نے ایسی حرکات کی ہیں وہ اپنے ایمان کی فکرکریں۔قرآن کریم میں شک پیدا کرنے والوں کو رب العالمین نے چیلنج کیاہے :الم۝ ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ ۛ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ(سورۃ البقرۃ: 1-2) ترجمہ:الف لام میم۔ یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں، یہ متقی لوگوں کے لیے ہدایت ہے۔ قرآن کریم میں جوشخص شک پیدا کرتاہے اُس کو قرآن کریم نے اس کی مثل لانے کے مختلف مواقع پر چیلنجز دیے ہیں،جن کی تفصیل درج ذیل ہے: 1۔اللہ تعالیٰ نے شک کرنے والوں کو چیلنج دیا کہ اگر وہ قرآن کو اللہ کا کلام نہیں مانتے تو وہ اس جیسی ایک سورۃ بنا کر پیش کریں،چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:وَإِن كُنتُمۡ فِي رَيۡبٖ مِّمَّا نَزَّلۡنَا عَلَىٰ عَبۡدِنَا فَأۡتُواْ بِسُورَةٖ مِّن مِّثۡلِهِۦ وَٱدۡعُواْ شُهَدَآءَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ(سورۃ البقرۃ،آیت: 23) ترجمہ:اور اگر تمہیں اس (کلام) میں شک ہے جو ہم نے اپنے بندے پر نازل کیا ہے تو اس جیسی ایک سورۃ لے آؤ، اور اللہ کے سوا اپنے سب حمایتیوں کو بلا لو، اگر تم سچے ہو۔ 2۔اللہ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں کفار اور منکرین کو چیلنج دیا کہ اگر وہ شک میں ہیں تو پورا قرآن ہی لا کر دکھائیں:قُل لَّئِنِ ٱجۡتَمَعَتِ ٱلۡإِنسُ وَٱلۡجِنُّ عَلَىٰٓ أَن يَأۡتُواْ بِمِثۡلِ هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانِ لَا يَأۡتُونَ بِمِثۡلِهِۦ وَلَوۡ كَانَ بَعۡضُهُمۡ لِبَعۡضٖ ظَهِيرٗا(سورۃ الاسراء،آیت 88) ترجمہ: کہہ دو: اگر انسان اور جن سب اس بات پر جمع ہو جائیں کہ اس قرآن جیسا بنا لائیں تو وہ اس جیسا نہ لا سکیں گے، چاہے وہ سب ایک دوسرے کے مددگار بن جائیں۔ 3: الله نے قرآن کے منکرین کو یہ چیلنج دیا کہ اگر وہ اسے جھوٹا سمجھتے ہیں تو وہ اس جیسی دس سورتیں ہی بنا لائیں:أَمۡ يَقُولُونَ ٱفۡتَرَىٰهُۖ قُلۡ فَأۡتُواْ بِعَشۡرِ سُوَرٖ مِّثۡلِهِۦ مُفۡتَرَيَٰتٖ وَٱدۡعُواْ مَنِ ٱسۡتَطَعۡتُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ(سورۃ ہود:،آیت 13) ترجمہ: کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے؟ کہہ دو: تو تم اس جیسی دس گھڑی ہوئی سورتیں لے آؤ، اور اللہ کے سوا جسے تم بلا سکو بلا لو، اگر تم سچے ہو۔جب قرآن کریم نازل ہورہاتھا تو اس دور کے کفار فصاحت وبلاغت اور فنون میں ماہر تھے،وہ اس کے اعجاز کے سامنے عاجز آگئے اور بالآخر انہوں نے اعتراف کرلیا:مَا هَٰذَا كَلَامَ ٱلۡبَشَرِ(سورۃ المدثر: 25) ترجمہ:یہ کسی انسان کا کلام نہیں ہے۔ اگر کوئی ایسی بات ہوتی تو سب سے پہلے کفار اعتراض کرتے۔ خلاصہ یہ کہ جس طرح قرآن کریم لوح محفوظ میں محفوظ تھا،اسی طرح صحابہ کرام ؓ نے اسے لکھا اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ رب العالمین نے لے رکھی ہے،ارشادِ باری تعالیٰ ہے:إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ(سورۃ الحجر: 9)’’"بے شک ہم ہی نے یہ ذکر (قرآن) نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔‘‘قرآن کریم میں املاکی غلطی کا دعویٰ کرنا یا یہ کہناکہ اس سے جادو بھی ہوتاہے یایہ کہنا کہ اس کے فلاں مقام سے فلاں حرف یا شوشہ شارٹ ہے یا یہ کہناکہ کہ صحابہ کرامؓ نے غلط لکھا اور وہی غلطی اب تک چلی آرہی ہے تو ایسا شخص دائرہ اسلام سے خارج ہے،عوام سے معافی کا اعتبار نہیں، کیونکہ اس کا تعلق ایمانیات اور حقوق اللہ کے ساتھ ہے،لہٰذا توبہ کرکے کلمۂ شہادت پڑھے اور ایمان ونکاح کی تجدید کرے۔ایمان کا تعلق زبان سے اقرار اور دل سے تصدیق کانام ہے،ظاہری الفاظ بھی کہے گا ،ورنہ شریعت میں معتبر نہیں ۔ایمان اور عقیدے کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے،اس لیے دل سے توبہ کرنا بھی ضروری ہے۔اگر کوئی شخص قرآن کریم کے متعلق تحریف یااملا کی غلطی کا قول کرتاہے تو ایسے شخص نے قرآن کریم،نبی اکرم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کی توہین کی اور ان اصولوں کی بھی توہین کی جواصول امت میں تواتر چلے آرہے ہیں،لہٰذا اسے اپنے اقوال سے رجوع بھی کرنا ہوگا ۔ہمارے اکابرین انتہا درجہ محتاط رہتے تھے۔اگر مجلس میں کسی پر سوئے ظن ہوجاتا تو وہ حسنِ ظن کو غالب کرنے کے لیے اپنے ایمان کا برملااعلان کردیتے تھے۔جیساکہ ایک موقع پر حکیم الامت مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ ایک مجلس میں تشریف لے گئے اور بیان کرنے لگے تو ایک صاحب کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم آپ کابیان نہیں سنیں گے، اس لیے کہ ہم آپ کو کافر سمجھتے ہیں۔حضرت نے حاضرین وسامعین کو گواہ بناکر کلمہ ٔ شہادت پڑھ کر اپنے ایمان کی تجدید کی اور کلمہ شہادت پڑھا:اَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہ وَرَسُوْلُہ۔ یہ تھے ہمارے اکابرین جو انتہا درجے کی احتیاط کیا کرتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے گرائمر اور صرف ونحو کو حرفِ آخر نہ سمجھا،جہاں کلام الله کے معنی سمجھ میں نہ آیا اسے تفیض ربی کی

کالم نگار : مولانامفتی امان اللہ نقشبندی شاذلی
| | |
763