(+92) 321 2533925
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/01/27
موضوعات
سیدازم کی حقیقت
[1:44 PM, 10/14/2024] Waseem Mewaty: سیدازم کی حقیقت علامہ اقبال کا ایک شعر ہے: یوں تو سیّد بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو تم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہو ایک پرانی کہاوت ہے کل میں جولاہا تھا، آج کل میں شیخ ہوں، اگر میری زمین نے غلہ زیادہ اگلا تو کل میں سید بھی بن جاؤں گا. غور طلب امر یہ ہے کہ اس کہاوت میں سیدوں کی پیداوار اور برصغیر میں ذاتوں کی درجہ بندی کی ساری سائنس چھپی ہے. اسلام جب ہندوستان میں آیا تو یہاں کے کلچر کو فتح نہ کر سکا بلکہ ہندوستانی تہذیب نے ہی اسلام کو مغلوب کر لیا ہندوستانی تہذیب اور اسلام کے ملاپ سے جس تہذیب نے جنم لیا اس کی ایک شاخ سید پرستی بھی ہے ہندؤں میں جہاں پہلے برہمن مقدس تھے اور خود کو اونچی ذات کا باور کرواتے تھے اسلام نے اسی ”برہمن ازم“ کو مسلمان کر لیا۔ نچلی ذات کے جو ہندو اسلامی مساوات سے متاثر ہو کر مسلمان ہوئے تھے، اُنھیں یہاں بھی سیدوں کی شکل میں ”برہمن ازم“ کا سامنا کرنا پڑا. بس فرق اتنا تھا کہ وہ ذات سے جولاہے، قصائی، نائی اور موچی بن گئے۔ سید خود کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی نسل سے جوڑ کر مقدس بنا لیتے ہیں۔ اس سے ان کا سماجی رتبہ بلند ہوتا ہے اور پھر کئی معاشی اور سیاسی فوائد بھی ملتے. اس لئے سید پیدواری کا دھندہ خاصا زرخیز ہوتا گیا۔ "جن جولاہوں کی فصل اچھی ہوتی گئی وہ سید بنتے گئے۔“ سید پیدواری کے عمل نے مسلمانوں میں بھی ذات پات کا فرق پیدا کرنا شروع کر دیا اور یوں مسلمان عملاً دو حصوں میں تقسیم ہو گئے ایک طرف خود کو عربی النسل کہلانے والے اشراف بن گئے اور دوسری طرف ہندوستانی نسل والوں پر اجلاف کا کلنک لگا دیا گیا۔ کسی انسان کو اس کے نسب کی بنیاد پر مقدس اور کمتر قرار دینا انسانیت کی سب سے بڑی توہین ہے۔ سید خود کو بہت ہی بلند تر سمجھتے۔ غیر سید سے رشتہ کرنے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں ۔آخر یہ کیا ہے؟ یہاں کی جاہل عوام کو دیکھیں خود کو شودر سمجھ کر اُنھیں مقدس دیوتا بنا دیا میں نے خود لوگوں کے منہ سے سنا ہے جو خود کو سیدوں کا کتا کہلواتے ہیں، سگ فلاں اور سگ فلاں۔ اس سے بڑھ کر انسان کی توہین اور کیا ہوگی؟؟ برلن کی یونیورسٹی نے ایک آرٹیکل پبلش کیا تھا جس باریکی سے ہندوستانی مسلمانوں کے بیچ ذاتوں کی درجہ بندی کو بیان کیا ہے اس کی مثال کم ملتی ہے۔ انھوں نے یو پی جھاڑ کھنڈ کے قصبے امروہہ کی ذاتوں کے ڈھانچے پر مفصل روشنی ڈالی ہے۔ امروہہ وہی قصبہ ہے جہاں سے رئیس امروہوی اور سید جون ایلیاء تعلق رکھتے تھے یہاں خود کو سید اور عباسی کہلوانے والے کثیر تعداد میں آباد ہیں۔ اسی وجہ سے امروہہ کو قصبہ سادات بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں کی آبادی عربی، عجمی اور ہندی نسل میں منقسم ہے۔ عربوں میں ہاشمی انصاری اور قریشی تھے. عجمیوں میں مغل اور پٹھان جبکہ ہندی مسلم آبادی پیشہ وروں یعنی جولاہوں، میراثیوں وغیرہ پر مشتمل تھی۔ مسلم سماج میں ذاتوں کی یہ کشمکش صرف امروہہ میں ہی نہیں بلکہ ہر قصبے میں نظر آتی ہے۔اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا اتنی کثیر تعداد میں سادات کی ہندوستان کی جانب ہجرت کی کوئی تاریخی وجہ نظر آتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ ہندوستان میں جو زیادہ تر سید آئے وہ ایران و افغانستان کے راستے سے آئے۔ اور ان کی آمد کا مقصد تبلیغی نوعیت کا تھا نہ کہ آبادکاری کا، یہاں پر ایک اور لطیف نکتہ بیان کروں کہ جدید سید پرستی کی ایک لاشعوری وجہ یہ بھی ہے کہ برصغیر میں جتنی بھی اصلاحی اور قوم پرستى کی تحريکیں اُبھریں ان میں سے اکثر کی قیادت سید برادری کے پاس رہی۔ چاہے شاہ ولی الله ہوں، شاہ اسماعیل شھید، پير صبغت الله راشدى، جی ایم سید یا سید احمد شہید، جماعت اسلامی کے سید ابوالاعلیٰ مودودی یا صوفی سلاسل کے امیر!! مگر یہاں سوال پھر بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ اتنی کثیر تعداد میں سادات برصغیر میں کیا کر رہے ہیں؟ ہر گاؤں، محلے میں کوئی نہ کوئی سید فیکٹری لگی ہوئی ہے۔ سن دو ہزار میں اس موضوع پر ایک جینیاتی تحقیق ہوئی تھی۔ اس میں انڈیا اور پاکستان کے سیدوں کا ڈی این اے ٹیسٹ کیا گیا۔اس کے رزلٹ حیران کن تھے۔ جو سید خود کو ایک ہی عربی نسب سے جوڑتے ہیں ان میں زیادہ تر کا ڈی این اے عرب ڈی این اے سے میچ ہی نہیں کرتا تھا اور اس سے بڑی حیرت انگیز بات یہ تھی کہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ انڈیا پاکستان کے سیدوں کے وائی کروموسوم کا گروپ ایک جیسا ہوتا کیونکہ دونوں کا سلسلہ نسب ایک تھا مگر تشویشناک بات یہ تھی کہ لکھنو کے سید اور پنجاب کے سید کے ڈی این اے میں وہی فرق نظر آ رہا تھا جو ایک مغل اور آرائیں کے ڈی این اے میں آنا چاہیے تھا۔ بعدا ازاں اسی جینیاتی تحقیق پر ایلسے ایم ایس بیلی نے ایک مشہور زمانہ مقالہ لکھا اور یہ مقالہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہےجو گوگل پر بھی موجود ہے۔ اس کے مطابق بیشتر سیدوں کا ڈی این اے اس گروپ سے تعلق رکھتا ہے جو سینٹرل ایشیائی لوگوں کا ہوتا ہے نہ کہ عربی لوگوں کا. اس کی تاریخی وجہ بھی نظر آتی ہے۔ ہندوستان میں بیشتر مسلم اشرافیہ سینٹرل ایشیا سے وارد ہوئی جو بعدازاں برہمن ازم کے اثر تلے سید بن گئے۔ یہی ہندوستانی مسلمان کا تہذیبی مسئلہ رہا ہے کہ وہ اپنی ہندوستانی نسبت سے ہمیشہ بھاگتا رہا ہے، کبھی وہ خود کو نیل کے ساحل سے جوڑتا رہا، کبھی غرناطہ سے، تو کبھی سمرقند اور بخارا سے اور جس فخر سے پاکستان کے مسلمان اپنے شجرے سینٹرل ایشیاء اور عرب سے جوڑتے ہیں اس سے یہی گمان ہوتا ہے کہ عربی اور ترکستانی حملہ آوروں نے برصغیر کو گائنی وارڈ بنا رکھا تھا جہاں وہ بچے پیدا کرنے آتے تھے۔

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
1935     4