علوم دینیہ کی تحصیل وتعلُّم
درس و تدریس، مِلّی اور تحریکی خدمات کی انجام دہی کوئی آسان کام نہیں ہے یہ راستہ بہت کٹھن، دشوارگزار اورخطرات وآزمائشوں سے پُرہے,اس راہ کامسافر دنیاوی منفعت، مال ودولت، راحت و سہولت سے عموماً محروم ہی رہتا ہے .
جولوگ اِن گھاٹیوں کے راہی بنناچاہتے ہیں وہ خوب سوچ سمجھ کر اِس طرف آئیں یہ زُھدوقناعت ،صبرواستقامت اورقلیل پرکفایت کی راہ ہے، دنیاوی لذتوں سے حظِّ وافر پانے کے متمنی اِدھر کاقصدنہ کریں، حُبّ مال کے اسیر والدین اپنے بچوں کو ہرگز یہاں بھیجنے کی غلطی نہ کریں کہ بعدمیں ندامت نہ ہو, ہم جن ھادیانِ حق کے وارث ہیں انہوں تو واضح بتلادیا ہے کہ ہماری سیرت وکردارکے پیروکار دنیاوی مشقتیں جھیلنے کیلئے تیار رہیں کہ اس مشن کی تکمیل میں زندگیاں لُٹانی پڑتی ہیں، کانٹوں پر چلنا پڑتا ہے، ناموافق حالات سے ٹکراناپڑتاہے, لھذا ضروری ہے کہ اِس راہ کامسافر اِن تمام آلامِ بے مُرام کے مقابلہ کرنے کاعہدکریں، اپنے لئے ایسی رفیقۂ حیات کاانتخاب کرے(اور اپنے والدین سے درخواست کرےکہ وہ آپ کیلئے ایسی لائف پارٹنر ڈھونڈے) جو آپ کی استعدادِ معیشت کے دائرہ میں ساتھ چل سکتی ہو، آپ کے مشن اور کازکے تقاضوں اور ذمہ داریوں کو سمجھ سکتی ہو،
بچوں کی تربیت
آپ اپنے بچوں کی تربیت اس انداز سے کریں کہ وہ آپ کی وسعت اورمعیشت کے مطابق آپ کے ساتھ چلنے میں تنگی محسوس نہ کریں، بچپن سے بےجا لاڈپیار میں انکی عادتیں خراب نہ کریں کہ بعد میں سنبھالنامشکل ہوجائے
خواہشات اورضروریات میں تمییزکریں،
بدقسمتی سے ہم اپنی اور اھل وعیال کی خواہشات کو ضروریات سمجھ کر تنگئ معاش کارونا شروع کردیتے ہیں اورظاہرہے کہ خواہشات اورتمنائیں تو بے لگام ہوتی ہیں جنہیں قابو کرنا اچھے خاصے دنیاداروں کیلئے بھی مشکل ہوتا ہے ہم اور آپ کون ہوتے ہیں انکی تکمیل کرنے والے دوسروں کےساتھ برابری اور ان پرسبقت کا شوق بھی ہماری زندگی تنگ کردیتا ہے ان کی لائف اسٹائل اورطرزمعاش ہمیں ناشکری پر مجبور کرتاہے کہ میں اُس جیساخوشحال کیوں نہیں ہوں؟
حلانکہ ہمیں معلّمِ اعظم نے یہ ذریں اصول بتلادیا ہے بلکہ حکم دیاہے کہ دنیاوی آسائشوں کے اعتبارسے اپنے سے فروتر اوربدحال لوگوں پرنظررکھو تاکہ اپنی حالت پرشکر وصبرکرو، اور سیرت وکردارکے اعتبارسے اپنے سے بلندتر انسانوں کوتلاش کرو تاکہ اپنی عملی کمزوری اورکم مائیگی کااحساس اور ان تک پہنچنے کاجذبۂ عمل پیدا ہو ہم نے ازخود مشقتوں کاراستہ اختیار کیاہے پھر پچھتاوا اورپریشانی کیوں؟
جب ہمارامقصدہی رضاۓ خالق اور حیاتِ جاوداں کی کامرانی ہے توپھر فکرِمعادسے زیادہ فکرِمعاش کیوں؟ ہاں بقدرِکفایت روزی کیلئے حرکت ومحنت میں کلام نہیں لیکن اس کیلئے بہت زیادہ پریشان نہ ہو، اسے
اَکْبرھَم یعنی سب سے بڑامقصد نہ بنائیں کہ ہمیں اسی دعاء کی تلقین ہے
وَلاَتَجْعَلِ الدُّنْیَااَکْبَرَھَمِّنَا بقدرکفاف کاتو وعدہ الٰهى ہے
لانسئلک رزقاً نَحنُ نَرزُقُکَ لھذا جواحباب خدمت دین کے ساتھ ساتھ اپنی ضروریات اورجائزخواہشات کیلئے بھاگ دوڑ کرر ہے ہیں وہ بھی مستحسن ہیں طَلَبُ کسبِ الحلالِ فَریْضَةٌ بعد الفریضة پرعمل پیرا ہیں وہ حلال طریقوں سے اگر محنت کی کمائی سے اپنے والدین اوربچوں کی ضروریات اورجائزخواہشات کی تکمیل کررہے ہیں، حاجت مند ساتھیوں کے کام آرہے ہیں، کسی کی مدد کے انتظار میں نہیں رہتے اورکسی حدتک اشاعتِ دین سے وابستگی بھی برقرار ہے ، توبہت اچھی بات ہےکہ کامل نہ سہی کسی نہ کسی درجہ میں اپنی مسئولیت کاحق اداکرنے میں تومشغول ہیں ۔
رجال سازی
لیکن حقیقت یہ ہے کہ صحیح معنوں میں رجال سازی، باصلاحیت اور کار آمد مدرسین، معلمین، اور متحرک افراد کی تیاری میں زیادہ کردار ان اساتذہ کا ہوتا ہے جن کی زندگی اس کام کیلئے وقف ہو، جوفقروفاقہ کے ساتھ اِس خدمت کوعزیز ازجان سمجھتے ہوں، جنکی سوچ اورفکر کامیدان معمارانِ مستقبل کی بھلائی اور انہیں رجالٍ کاربنانےکاجنون ہو،
جبکہ دنیاوی جھمیلوں کے ساتھ یہ سب کچھ ممکن نہیں مُعَلّمِ کائنات صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے واضح طور پر فرمادیاکہ دنیااور آخرت دوسوکنیں ہیں دونوں راضی نہیں ہوسکتی ایک راضی تودوسری ناراض بہت سے باصلاحیت اساتذہ غمِ روزگار کی نذرہوگئے، انکی صلاحیتیں ضائع ہوگئیں، گھربارکےمعاشی کوہِ گراں نےان کی ذہانت وفطانت، تعلیمی سلاست و بلاغت کی کمرتوڑکر رکھدی ورنہ وہ بہت کام کے لوگ تھے شاید ہی کوئی ایسا ہو جوکاروبارکے ساتھ ایک مثالی استاد بھی ہو، یقیناً ایسی مثالیں بھی ملتی ہیں لیکن بہت کم ۔
بے رخی اور کوتاہیاں
دوسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ اپنی جوانیاں اورزندگیاں وقف کرنے والے ایسےاربابِ کار اکثر زمانہ کی بے رُخی کے شکارہوجاتے ہیں. مھتممین کی کوتاہیاں یا مجبوریاں انہیں کھاجاتی ہیں، اپنے گھر کے افراد بھی اس دل شکنی اورعدم تعاون میں دوسروں سے کم پیچھے نہیں رہتے ان کی خواہشیں اورفرمائشیں ان سے وہی ہوتی ہیں جو عام دنیاکمانے والوں سے ہوتی ہیں انکی نگاہ اِس منصب کے تقدس، ذمہ داری اورسرمدی فوائد کی طرف نہیں جاتی، اپنے ہم مکتب رفقاء بھی انہیں کسل پسندی اورحالاتِ حاضرہ کے تقاضوں سے ناواقفیت کے طعنےدیتے نہیں تھکتے لیکن عزم کے پکے، مقصد کے دھنی اور منزل عشق پرپہنچ کر دم لینے کاعَلَم بلند کرنے والے اصحابِ فکر ونظر کسی رکاوٹ کو خاطر میں کہاں لاتے ہیں؟
یہ چمنستانِ علم ومعرفت ایسے ہی درویشوں کے دم قدم سے آباد ہیں