کچھ سال پہلے میں نے ایک نہایت اہم تحقیق شروع کی کہ آخر دنیا کے سب سے مصروف ترین لوگ کس ملک میں پائے جاتے ہیں؟ برسوں کے مشاہدے، گہری چھان بین اور سڑکوں، بازاروں، تندوروں اور ٹریفک اشاروں پر کیے گئے فیلڈ سروے کے بعد نتیجہ یہ نکلا کہ دنیا کے مصروف ترین لوگ پاکستان میں پائے جاتے ہیں۔ اور مصروف بھی ایسے کہ جن کے پاس کرنے کو کوئی کام نہیں ہوتا۔
آپ کسی باغ یا پارک میں چلے جائیں۔ باقاعدہ راستہ چند قدم کے فاصلے پر موجود ہوگا، مگر گھاس کے بیچ ایک نئی پگڈنڈی ضرور بنی ہوگی، کیونکہ قوم ڈیڑھ سیکنڈ بچانے کے لیے قدرتی نباتات کی قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کرتی۔
ٹریفک کے اشارے پر آخری دس سیکنڈ رکنا پڑ جائیں تو جسم کے اندر موجود نامعلوم کیڑے اچانک بیدار ہو جاتے ہیں۔ اشارہ ابھی سرخ ہی ہوتا ہے مگر پیچھے سے ہارن ایسے بجنے لگتے ہیں جیسے سامنے والے کو اقوامِ متحدہ کی ہنگامی میٹنگ میں پہنچنا ہو۔
تندور پر روٹی لینے جائیں تو وہاں بھی وقت کے خلاف جنگ جاری ہوتی ہے۔
"بھائی پہلے مجھے دے دو، مہمان بیٹھے ہیں۔"
پاکستان میں اگر واقعی اتنے مہمان آتے جتنے تندوروں پر بتائے جاتے ہیں تو سیاحت ہماری سب سے بڑی صنعت ہوتی۔
سڑک پر کسی کو راستہ دینے کے لیے ہارن دیں تو وہ راستہ دینے کے بجائے رفتار بڑھا دیتا ہے۔ شاید اسے لگتا ہے کہ آپ نے ہارن نہیں دیا بلکہ ریس شروع ہونے کا اعلان کیا ہے۔
لیکن مصروفیت کی اصل معراج پیغامات میں نظر آتی ہے۔ کچھ لوگ اتنے مصروف ہیں کہ پورا السلام علیکم لکھنے کا وقت نہیں، صرف "سلام" بھیجتے ہیں۔ ان سے اوپر ایک طبقہ ہے جو صرف AOA لکھتا ہے، اور پھر وہ عظیم ہستیاں آتی ہیں جو محض AA بھیج کر سمجھتی ہیں کہ مذہبی، سماجی اور اخلاقی ذمہ داری پوری ہوگئی۔
تاریخ گواہ ہے کہ ایسے لوگوں کو میں نے ہمیشہ جواب میں پورا السلامُ علیکم لکھ کر بھیجا، تاکہ شاید انہیں اپنی کوتاہی کا احساس ہو۔
مگر سامنے سے جواب آتا ہے، WS.
تب مجھے اندازہ ہوا کہ کچھ تحقیقات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔
صفیں سیدھی کریں، پائنچے اوپر کریں، موبائل بند یا سائلنٹ کریں.
ان دوستوں کو لازمی مینشن کریں جو بہت زیادہ مصروف رہتے ہیں یا AOA یا AA جیسے میسج کرتے ہیں.
پیدائش کے بعد اس دنیا میں آکسیجن کو کاربن ڈائی آکسائیڈ میں تبدیل کرنے کے علاوہ اگر میں نے کوئی قابلِ ذکر کام کیا ہے تو وہ تحقیق ہے۔ میری زیادہ تر تحقیقات دوسری مخلوقات، بالخصوص حشرات، کے گرد گھومتی رہی ہیں، البتہ وقتاً فوقتاً اشرف المخلوقات بھی میری تحقیق کی زد میں آتی رہی ہے۔
کچھ سال پہلے میں نے ایک نہایت اہم تحقیق شروع کی کہ آخر دنیا کے سب سے مصروف ترین لوگ کس ملک میں پائے جاتے ہیں؟ برسوں کے مشاہدے، گہری چھان بین اور سڑکوں، بازاروں، تندوروں اور ٹریفک اشاروں پر کیے گئے فیلڈ سروے کے بعد نتیجہ یہ نکلا کہ دنیا کے مصروف ترین لوگ پاکستان میں پائے جاتے ہیں۔ اور مصروف بھی ایسے کہ جن کے پاس کرنے کو کوئی کام نہیں ہوتا۔
آپ کسی باغ یا پارک میں چلے جائیں۔ باقاعدہ راستہ چند قدم کے فاصلے پر موجود ہوگا، مگر گھاس کے بیچ ایک نئی پگڈنڈی ضرور بنی ہوگی، کیونکہ قوم ڈیڑھ سیکنڈ بچانے کے لیے قدرتی نباتات کی قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کرتی۔
ٹریفک کے اشارے پر آخری دس سیکنڈ رکنا پڑ جائیں تو جسم کے اندر موجود نامعلوم کیڑے اچانک بیدار ہو جاتے ہیں۔ اشارہ ابھی سرخ ہی ہوتا ہے مگر پیچھے سے ہارن ایسے بجنے لگتے ہیں جیسے سامنے والے کو اقوامِ متحدہ کی ہنگامی میٹنگ میں پہنچنا ہو۔
تندور پر روٹی لینے جائیں تو وہاں بھی وقت کے خلاف جنگ جاری ہوتی ہے۔
"بھائی پہلے مجھے دے دو، مہمان بیٹھے ہیں۔"
پاکستان میں اگر واقعی اتنے مہمان آتے جتنے تندوروں پر بتائے جاتے ہیں تو سیاحت ہماری سب سے بڑی صنعت ہوتی۔
سڑک پر کسی کو راستہ دینے کے لیے ہارن دیں تو وہ راستہ دینے کے بجائے رفتار بڑھا دیتا ہے۔ شاید اسے لگتا ہے کہ آپ نے ہارن نہیں دیا بلکہ ریس شروع ہونے کا اعلان کیا ہے۔
لیکن مصروفیت کی اصل معراج پیغامات میں نظر آتی ہے۔ کچھ لوگ اتنے مصروف ہیں کہ پورا السلام علیکم لکھنے کا وقت نہیں، صرف "سلام" بھیجتے ہیں۔ ان سے اوپر ایک طبقہ ہے جو صرف AOA لکھتا ہے، اور پھر وہ عظیم ہستیاں آتی ہیں جو محض AA بھیج کر سمجھتی ہیں کہ مذہبی، سماجی اور اخلاقی ذمہ داری پوری ہوگئی۔
تاریخ گواہ ہے کہ ایسے لوگوں کو میں نے ہمیشہ جواب میں پورا السلامُ علیکم لکھ کر بھیجا، تاکہ شاید انہیں اپنی کوتاہی کا احساس ہو۔
مگر سامنے سے جواب آتا ہے، WS.
تب مجھے اندازہ ہوا کہ کچھ تحقیقات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔
صفیں سیدھی کریں، پائنچے اوپر کریں، موبائل بند یا سائلنٹ کریں.
ان دوستوں کو لازمی مینشن کریں جو بہت زیادہ مصروف رہتے ہیں یا AOA یا AA جیسے میسج کرتے ہیں.