خط کا ایک ٹکڑا:
آج ہم ان تمام قصوں، کہانیوں، شکایتوں اور حکایتوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے، صرف سرسبز سندھ کے قدیم کتب خانوں سے متعلق گزارش پیش کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارے سندھ کے پڑھے لکھے، علمی اور ادبی چشمے، جو آج کل جہالت کی دھول کی وجہ سے آہستہ آہستہ دھندلا رہے ہیں، ان کے سیکڑوں اسباب ہیں، یہاں کس کس کا نام لکھا جائے؟ کس کس کو دوش دیا جائے؟ ملک میں ہر طرف "مومل کی ماڑی" والا معاملہ نظر آتا ہے۔ ہر کوئی اپنی ہی دھن میں مگن ہے۔ یوں تو ہمارے ملک کا علمی اور ادبی دنیا سے تعلق ویسے ہی بہت کم رہ گیا ہے، لیکن اس پر مستزاد یہ کہ عوام کی جہالت، اہل ذوق کی کمی، قدر دانوں کی عدم موجودگی اور سرمایہ داروں کی بے توجہی کی وجہ سے علمی دنیا کو ایک کاری ضرب لگی ہے۔
*سندھ، باب الاسلام اور بے مثل علمی ماضی*:
سندھ کی سرزمین کو اسلامی تاریخ میں "باب الاسلام" کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ سندھ علم و فضل، تعلیم و تبلیغ اور رشد و ہدایت کے معاملہ میں ہمیشہ پیش پیش رہا ہے۔ اس ملک نے ماضی بعید اور ماضی قریب میں ایسی بے مثل اور عظیم شخصیات پیدا کی ہیں، جن کی مثال مشکل سے دنیا کا کوئی ملک سامنے نہیں لاسکتا ہے۔ مگر جب آج سندھ کے تابناک ماضی، حیرت انگیز علمی و تبلیغی سرگرمیوں پر نظر ڈالتے ہوئے موجودہ حالت کی طرف توجہ کرتے ہیں تو دل اداس اور افسردہ ہوجاتا ہے اور علم کا ماحول بالکل اجنبی دکھائی دیتا ہے، تب دل سے بے اختیار آہ نکلتی ہے۔
*کتب خانوں کی خستہ حالی اور زوال کے اسباب*:
آج سندھ کے دینی مدارس، دینی کتب خانے اور دینی آستانیں انتہائی سقیم حالت میں ہیں۔ یہ سندھ، جو کتب خانوں کے اعتبار سے دنیا بھر میں مشہور اور معروف تھا، آج یہاں کی کتابیں زمانہ کی دَست بُرد، ورثاء کی غفلت اور بے توجہی کی وجہ سے تباہ ہو رہی ہیں۔ کتب خانوں کے اعتبار سے ٹھٹہ، سجاول، بوبک، سکھر، گھوٹکی، شکارپور، ولھاری، دادو، سیھون، پیر جھنڈو اور لاڑکانہ شہرہ آفاق تھے۔ آج معلوم ہی نہیں کہ ان کتب خانوں کے وارثوں کا ان کے ساتھ کیا سلوک ہے۔ پیر جھنڈو کے کتب خانہ کی تو وہ شہرت تھی کہ دور دراز سے لوگ اس کے معائنہ کے لیے آتے تھے، کتابوں کے روح پرور ذخیرہ سے دل و دماغ کو تازگی اور طراوت پہنچایا کرتے تھے۔ اس کتب خانہ سے مولانا عبیداللہ سندھی، مولانا محمد صادق اور والد صاحب مرحوم جیسے سندھ کے کئی جلیل القدر علماء مستفیض ہوتے رہے۔ امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد جیسی عظیم شخصیت نے بھی اس کتب خانہ کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا تھا، مگر افسوس کہ وہ کتب خانہ بھی اب اپنی رواجی آب و تاب کے ساتھ نہیں رہا۔ ظاہر ہے کہ جب ایسا عظیم الشان کتب خانہ ہی اپنی اصل صورت میں قائم نہ رہ سکا تو پھر باقی دوسرے شہروں کے کتب خانوں کا کیا حشر ہوگا، جہاں کوئی اہل علم یا اہلِ قلم تک نظر نہیں آتا؟