(+92) 319 4080233
کالم نگار

حنظلہ خلیق الرحمن

حنظلہ خلیق الرحمن

پروفائل | تمام کالمز
2026/05/30
موضوعات
شھرہ آفاق
سکینہ شہابی کون تھیں؟
سَكِینة الشہابی (1352ھ–1427ھ / 1933ء–2006ء) ایک ممتاز شامی مؤرخہ، محققہ، ادیبہ اور نقاد تھیں۔ تاریخ اور عربی تراث کے میدان میں اُن کا نام نہایت احترام سے لیا جاتا ہے۔ عرب دنیا میں وہ پہلی خاتون محققہ تھیں جن کے فکری منصوبے کی بنیاد کلاسیکی علمی ورثے کی بازیافت، اس کی تدوین اور اس کے مسائل کے عمیق مطالعے پر قائم تھی۔ وہ اپنے عہد کی جلیل القدر عرب محققین میں شمار ہوتی تھیں، بلکہ کثرتِ تحقیق اور وسعتِ علمی کے اعتبار سے اُن کا مقام نہایت نمایاں تھا۔

خصوصی شہرت انہیں تاریخ دمشق کی اپنی نہایت مستند اور گہری علمی تحقیق کے باعث حاصل ہوئی۔ انہوں نے اس عظیم کتاب کی چالیس سے زائد جلدوں کو تحقیق و تدوین کے ساتھ مرتب و شائع کیا، اور اسی نسبت سے علمی حلقوں میں ’’اُمّ المحققین‘‘ کہلائیں۔ سَكِینة الشہابی نے اپنی پوری زندگی علم، تحقیق اور تصنیف کے لیے وقف کیے رکھی۔ وہ عمر بھر غیر شادی شدہ رہیں، اور 2006ء میں پچھتر برس کی عمر میں وفات پائی۔

ایک گہرے مفہوم کی حامل دلچسپ حکایت ان کے حوالے سے بیان کی جاتی ہے کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی امام حافظ ابن عساکر (وفات: 571ھ) کی مایہ ناز کتاب "تاریخ دمشق" کی خدمت میں صرف کر دی۔ یہ خاتون دورِ حاضر میں اس کتاب کی تحقیق پر کام کرنے والی نمایاں ترین شخصیات میں سے تھیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کے طویل سال اس کتاب کے مخطوطات، اسانید، حواشی اور تقابلی جائزوں کے درمیان گزار دیے۔ ان کے ساتھی، جاننے والے اور دمشق کی علمی مجالس و سیمینارز میں ان سے ملنے والے لوگ اکثر ان سے لطف و مزاح کے پیرائے میں پوچھتے کہ: "آپ نے خود کو اس قدر بڑے علمی منصوبے کے لیے کیسے وقف کر دیا اور شادی کیوں نہیں کی؟" تو وہ ایک گہرے اور دلچسپ جواب سے نوازتیں: "شاید، ان شاء اللہ، میں جنت میں حافظ ابن عساکر کی بیویوں میں سے ایک بن جاؤں" یا کہتیں: "میں اللہ سے دعا کرتی ہوں کہ وہ مجھے جنت میں ان کی بیوی بنا دے"۔ بظاہر سکینہ شہابی کی اس بات کا مقصد وہ جذباتی مفہوم ہرگز نہیں تھا جو بعض لوگ گمان کر سکتے ہیں، بلکہ وہ اس جملے کے ذریعے حافظ ابن عساکر کے ساتھ اپنی اس شدید علمی اور روحانی وابستگی کا اظہار کر رہی تھیں جو ان کے علمی ورثے کی تحقیق، خدمت اور نظرِ ثانی میں ایک طویل عمر گزارنے کے بعد پیدا ہوئی تھی۔ اس واقعے کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ یہ آرزو دو ہم عصر شخصیات کے درمیان نہیں تھی، بلکہ بیسویں صدی کی ایک خاتون اور ان سے تقریباً نو سو سال قبل وفات پانے والے ایک عظیم عالمِ دین کے درمیان تھی۔ اس واقعے میں اس بات کی واضح دلیل ہے کہ عظیم کتابیں نہ صرف اپنے مصنفین کے ناموں کو محفوظ رکھتی ہیں، بلکہ صدیوں گزرنے کے باوجود ان کے اثر کو لوگوں کے دلوں میں زندہ رکھتی ہیں، یہاں تک کہ یوں محسوس ہونے لگتا ہے جیسے مصنف اور اس کے بعد آنے والوں کے درمیان سے وقت کا فاصلہ ہی مٹ گیا ہو۔

مأخَذ

سوشل میڈیا سے انتخاب

کالم نگار : حنظلہ خلیق الرحمن
| | |
30