(+92) 319 4080233
کالم نگار

بلال شوکت آزاد

بلال شوکت آزاد

پروفائل | تمام کالمز
2026/05/26
موضوعات
فکری مغالطے اور ذبحِ اسماعیلؑ کی الہامی فزکس
انسانی تہذیبوں کے ارتقاء، نظریات کی تشکیل اور عقائد کی تاریخ کا اگر ہم ایک خالص علمی، علمیاتی (Epistemological) اور بے لاگ عمرانی زاویے سے مطالعہ کریں، تو یہ واضح حقیقت پوری صراحت کے ساتھ ہمارے سامنے ابھر کر آتی ہے کہ تاریخ کی سب سے بڑی ستم ظریفی مادی حقائق کی گمشدگی نہیں ہوتی، بلکہ الہامی اور کائناتی سچائیوں کے شفاف چہرے پر اپنی مرضی کی تاویلات، مذہبی تعصبات اور تحریفات کی دھول جمانا ہوتا ہے۔

انسان کا کگنیٹو سسٹم (Cognitive System) جب تعصب کا شکار ہو جاتا ہے، تو وہ کائنات کے سب سے روشن سچ کو بھی دھندلا کر کے پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔گزشتہ دن جب میں نے سنتِ ابراہیمی، حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کی کائناتی قربانی، اور اس واقعے کے پسِ پردہ کارفرما الہیاتی فزکس پر ایک تفصیلی اور مربوط فکری دستاویز پیش کی، تو اس پر میری وال پر اور بالخصوص باشعور علمی حلقوں میں فکری بیداری کی ایک شاندار لہر دوڑ گئی۔

جہاں سچائی کے متلاشی افراد نے اس تحریر سے توحید کے اصل اور کھرے فریم ورک کو سمجھا، وہاں میرے پاس بے شمار ایسے سوالات، اعتراضات اور تشکیک پر مبنی تبصرے اور درونِ خانہ پیغامات بھی موصول ہوئے جن کا تعلق براہِ راست ان اسرائیلی روایات (Isra'iliyat) اور بائبل کے ان تحریف شدہ بیانیوں سے ہے جنہیں صدیوں سے ہمارے روایتی معاشرے اور اب بالخصوص سوشل میڈیا پر موجود جدید الحاد (Atheism) اور شکوک و شبہات کی طرف مائل ذہنوں کی طرف سے ایک انٹلیکچوئل (Intellectual) ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

یہ معترضین، مستشرقین (Orientalists) اور تخریبی مائنڈ سیٹ کے حامل لوگ دورِ جدید کے ڈیجیٹل ٹولز کا سہارا لے کر اس عظیم کائناتی واقعے کو توڑ مروڑ کر، سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کرتے ہیں تاکہ اسلام کے پاکیزہ عقائد، انبیاء کے بے داغ کردار اور اس کی الہامی تاریخ کو متنازعہ بنا سکیں۔

میرا مروجہ اصول اور فکری مزاج ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ میں سوشل میڈیا کے کمنٹس کے ہجوم میں ہونے والی جذباتی، لاحاصل اور سطحی بحثوں کا حصہ نہیں بنتا، بلکہ میں ایک سنجیدہ، دیانت دارانہ اور مدلل مکالمے کا قائل ہوں جس کا الٹیمیٹ تقاضا یہ ہے کہ ان تمام علمی مغالطوں، تاریخی الجھنوں اور تحریفات کا ایک ایسا بے رحم، منطقی اور مستند پوسٹ مارٹم کیا جائے کہ حق اور باطل کے درمیان موجود لکیر بالکل آئینے کی طرح صاف ہو جائے۔ چنانچہ آج کی یہ طویل اور ضخیم دستاویزی تحریر اسی فکری سلسلے کی ایک حتمی کڑی ہے، جس میں ہم ان تمام متنازعہ نکات کو باقاعدہ قرآنی متون، مستند احادیث، تاریخی شواہد اور خود بائبل کے اندر موجود شدید تضادات کے ذریعے ڈیکوڈ (Decode) کریں گے تاکہ اس موضوع پر کسی بھی قسم کا کوئی گمان اور تشنگی باقی نہ رہے۔

اس پوری بحث کا سب سے بڑا، سب سے سنگین اور بار بار اٹھایا جانے والا اعتراض جو صدیوں سے یہودی اور عیسائی مستشرقین کی طرف سے ہمارے فکری حلقوں میں پلانٹ (Plant) کیا گیا، اور جسے ہمارے کچے ذہن کے دیسی ملحدین بلا سوچے سمجھے، بغیر کسی تحقیق کے کاپی پیسٹ کر رہے ہیں، وہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنے بڑے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نہیں، بلکہ ان کے چھوٹے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام کی قربانی کا حکم دیا گیا تھا۔

ان کا یہ سارا کھوکھلا استدلال بائبل کی کتابِ پیدائش (Book of Genesis) کے باب 22 کی اس تحریف شدہ عبارت پر کھڑا ہے جہاں لکھا ہے کہ"خدا نے ابراہم سے کہا: تو اپنے بیٹے کو، یعنی اپنے اکلوتے بیٹے کو جس سے تو محبت رکھتا ہے، یعنی اضحاق کو لے اور موریاہ کے ملک میں جا اور وہاں اسے سوختنی قربانی کے طور پر چڑھا"۔

ذرا اس بائبلی متن کی اندرونی منطق، اس کی ریاضی اور اس کے کرونولوجیکل (Chronological) تضاد پر کھلے ذہن سے غور کیجیے، بائبل کی اپنی ہی فزکس اور اس کے اپنے دیے گئے اعداد و شمار اس دعویٰ کو جھوٹا اور متضاد ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں۔

بائبل کی اسی کتابِ پیدائش کے باب 16 (آیت 16) اور باب 21 (آیت 5) کا اگر ہم غیر جانبدارانہ مطالعہ کریں، تو وہاں واضح اور دو ٹوک الفاظ میں لکھا ہے کہ جب حضرت اسماعیل علیہ السلام پیدا ہوئے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر مبارک چھیاسی (86) سال تھی، اور جب حضرت اسحاق علیہ السلام پیدا ہوئے تو حضرت ابراہیم کی عمر سو (100) سال ہو چکی تھی۔

اس کا صریح، حسابی اور بائیولوجیکل مطلب یہ ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام اپنے چھوٹے بھائی حضرت اسحاق علیہ السلام سے پورے چودہ (14) سال بڑے تھے۔اب بائبل کے اسی جملے کو، جسے بنیاد بنا کر اعتراض کیا جاتا ہے، دوبارہ پڑھیں جہاں خدا فرما رہا ہے کہ"اپنے اکلوتے بیٹے کو لے کر جا"۔

کائنات کا کوئی بھی عاقل انسان، کوئی بھی باشعور دماغ اس منطق کو کیسے تسلیم کر سکتا ہے کہ جب ایک باپ کے پاس دو بیٹے موجود ہوں، جن میں سے ایک چودہ سال بڑا ہو، تو چھوٹے بیٹے کو 'اکلوتا' (Only Son) کہا جائے؟حضرت اسحاق علیہ السلام اپنی پیدائش کے پہلے دن سے لے کر حضرت ابراہیم کی وفات تک ایک سیکنڈ کے لیے بھی کبھی ان کے اکلوتے بیٹے نہیں رہے، کیونکہ اسماعیل علیہ السلام ان سے چودہ سال پہلے پیدا ہو کر دنیا میں اپنا وجود رکھتے تھے۔اس کے برعکس، حضرت اسماعیل علیہ السلام اپنی پیدائش سے لے کر چودہ سال کی عمر تک، یعنی حضرت اسحاق کی پیدائش سے پہلے تک، حقیقی معنوں میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اکلوتے بیٹے، ان کی دہائیوں پر محیط دعاؤں کا واحد ثمر اور ان کی بڑھاپے کی واحد لاٹھی تھے۔

لہذا بائبل کے متن میں موجود لفظ "اکلوتا" خود چیخ چیخ کر اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ بعد میں آنے والے کاتبوں نے نسل پرستی اور مذہبی تعصب کی اندھی بنیاد پر اسماعیل کا نام مٹا کر وہاں زبردستی اسحاق کا نام فٹ کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ اس کائناتی تضاد کو دور کرنا بھول گئے کہ اسحاق کبھی اکلوتے ہو ہی نہیں سکتے تھے۔یہ تاریخ کی وہ بدترین چوری ہے جو اپنے پیچھے خود اپنے فنگر پرنٹس چھوڑ گئی ہے۔اس تاریخی اور متنی تحریف کے برعکس، جب ہم قرآنِ مجید کے پرفیکٹ، محفوظ اور الٹیمیٹ الہامی فریم ورک کی طرف دیکھتے ہیں، تو وہاں یہ پورا واقعہ ایک ایسی مربوط، حسابی اور منطقی ترتیب کے ساتھ بیان ہوا ہے کہ جدید سائنس اور عقلِ سلیم اس کے کمال پر سجدے میں گر جاتی ہے۔

سورہ الصافات کی آیات 100 سے لے کر 113 تک کا اگر ہم بغور مطالعہ کریں، تو وہاں کائنات کے ماسٹر مائنڈ نے ترتیبِ زمانی (Chronological Order) کو اس طرح واضح فرمایا ہے کہ کوئی ابہام، کوئی کنفیوژن باقی نہیں رہتا۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پہلے دعا مانگی کہ

"رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ"

(اے میرے رب! مجھے ایک نیک بیٹا عطا فرما)۔

اللہ جواب میں فرماتا ہے:"فَبَشَّرْنَاهُ بِغُلَامٍ حَلِيمٍ"

(پس ہم نے اسے ایک بردبار لڑکے کی خوشخبری دی)۔

یہ پہلا لڑکا حضرت اسماعیل علیہ السلام تھے۔ پھر آگے چل کر اسی سورت میں پوری تفصیل کے ساتھ قربانی کا وہ رقت آمیز واقعہ بیان ہوتا ہے کہ جب وہ لڑکا دوڑنے کی عمر کو پہنچا، باپ نے مسلسل خواب دیکھا، بیٹے نے الٹیمیٹ سرنڈر کیا، اسے ماتھے کے بل لٹایا گیا، گردن پر چھری چلی، اور اللہ نے اس کائناتی قربانی کو قبول فرما کر جنت سے ایک فدیہ اتارا۔ اس پورے واقعے کے الہامی اختتام پر، جب ابراہیم علیہ السلام اس الٹیمیٹ امتحان میں سو فیصد کامیاب ہو جاتے ہیں، اور ان کا کگنیٹو اور ایموشنل سرنڈر اللہ کی بارگاہ میں قبول ہو جاتا ہے، تو اللہ تعالیٰ انہیں اس عظیم الشان کامیابی کے صلے اور ایک کائناتی انعام کے طور پر ایک دوسری، بالکل نئی خوشخبری عطا فرماتا ہے، جس کا ذکر اسی سورہ الصافات کی آیت 112 میں ان واضح الفاظ میں ہے:"وَبَشَّرْنَاهُ بِإِسْحَاقَ نَبِيًّا مِّنَ الصَّالِحِينَ"

(اور ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی جو نبیوں میں سے اور صالحین میں سے ہوگا)۔

ذرا قرآن کے اس الہیاتی جلال، اس کی فزکس اور اس کی ترتیب پر غور کیجیے!

جس بیٹے کی قربانی کا واقعہ پچھلی آیات میں مکمل تفصیل سے گزر چکا، اس کے بالکل بعد اگلی آیت میں اللہ فرما رہا ہے کہ "اور اب ہم اسے اسحاق کی خوشخبری دیتے ہیں"۔

اگر قربانی حضرت اسحاق کی ہونی ہوتی، تو ان کی پیدائش کی خوشخبری قربانی کے واقعے کے مکمل ہو جانے کے بعد کیسے دی جا سکتی تھی؟کیا کوئی بھی ذی شعور انسان اس بچے کو اپنے ہاتھوں سے ذبح کرنے کا خواب دیکھ سکتا ہے جو ابھی پیدا ہی نہیں ہوا اور جس کی پیدائش کی خوشخبری ہی اس واقعے کے ختم ہونے کے بعد مل رہی ہے؟یہ وہ محکم، منطقی اور ناقابلِ تردید قرآنی دلیل ہے جو بائبل کے اس پورے من گھڑت بیانیے کا سفاکانہ پوسٹ مارٹم کر دیتی ہے اور یہ حتمی طور پر ثابت کرتی ہے کہ ذبیح اللہ صرف اور صرف حضرت اسماعیل علیہ السلام ہی تھے۔

اس کے بعد اس سے بھی زیادہ بھیانک، توہین آمیز اور معاندانہ اعتراض سامنے آتا ہے جس کا مقصد براہِ راست حضرت اسماعیل علیہ السلام کے نسب، ان کے خون اور ان کی عظیم والدہ، سیدہ ہاجرہ علیہا السلام کی ذاتِ اقدس کو نشانہ بنانا ہے۔یہودی اور عیسائی روایات میں، اور ان کی اندھی تقلید کرتے ہوئے آج کے ماڈرن الحاد کے علمبرداروں کی طرف سے یہ مینیپولیٹڈ (Manipulated) بیانیہ پیش کیا جاتا ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام ایک آزاد اور معزز عورت کے بیٹے نہیں تھے، بلکہ وہ ایک معمولی "کنیز" یا لونڈی (Slave-girl) کے بطن سے پیدا ہوئے تھے، اس لیے (نعوذ باللہ) ان کا مقام، ان کا مرتبہ اور ان کا سماجی درجہ حضرت اسحاق کے مقابلے میں کم تر تھا، اور اسی خاندانی رنجش اور حسد کی وجہ سے حضرت ابراہیم نے انہیں اور ان کی ماں کو گھر سے نکال کر مکہ کے بے رحم صحرا میں پھینک دیا تھا۔

یہ وہ بدترین تاریخی جھوٹ، کگنیٹو مغالطہ اور متھ (Myth) ہے جسے یہودیوں نے اپنی خاندانی برتری اور نسل پرستی (Racism) کو ڈیفینڈ کرنے کے لیے گھڑا، کیونکہ ان کا متکبرانہ مزاج اس کائناتی سچائی کو ہضم کرنے سے قاصر تھا کہ نبوت کا الٹیمیٹ اور آخری تاج، بنی اسرائیل کے بجائے بنی اسماعیل کے یتیم، محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر کیوں رکھ دیا گیا۔

آئیے اس تاریخی اور نفسیاتی مغالطے کی جڑیں اکھاڑتے ہیں۔
تاریخ کے مستند ترین شواہد، جن میں امام ابن کثیر کی "البدایہ والنہایہ" اور علامہ طبری کی مستند تاریخ شامل ہے، ہمیں پوری تفصیل سے بتاتے ہیں کہ سیدہ ہاجرہ علیہا السلام کوئی معمولی لونڈی، کوئی خریدی ہوئی باندی یا عام داسی قطعی طور پر نہیں تھیں، بلکہ وہ مصر کے اس وقت کے شاہی خاندان کی ایک انتہائی معزز، پڑھی لکھی اور نجیب الطرفین شہزادی تھیں۔

جب مصر کے ظالم بادشاہ نے حضرت سارہ علیہا السلام کے ایمان، ان کی پاکدامنی اور ان کی الہامی طاقت کا معجزہ اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ جب بھی وہ سارہ کی طرف برے ارادے سے ہاتھ بڑھاتا تو اس کا ہاتھ شل (Paralyze) ہو جاتا، تو وہ خوف اور الہامی ہیبت کے مارے سجدے میں گر گیا اور اس نے اپنی عزیز بیٹی، سیدہ ہاجرہ کو حضرت سارہ کی خدمت اور ان کی پاکیزہ صحبت میں رہنے کے لیے بطورِ تحفہ پیش کیا۔ قدیم دور کی تاریخ اور ڈپلومیسی کا مطالعہ کرنے والے جانتے ہیں کہ بادشاہوں کی طرف سے شہزادیوں کو دوسرے انبیاء، بادشاہوں یا عظیم ہستیوں کے پاس بھیجنے کا مطلب ہرگز غلامی یا لونڈی بنانا نہیں ہوتا تھا، بلکہ یہ ایک معزز، سفارتی اور الہامی تعلق قائم کرنے کی اعلیٰ ترین شکل ہوتی تھی۔

یہاں تاریخ کا سب سے اہم اور الٹیمیٹ موڑ وہ ہے جب حضرت سارہ علیہا السلام نے، جو ایک طویل عرصے سے بانجھ تھیں اور جنہیں بظاہر اولاد کی کوئی امید نہیں تھی، یہ دیکھا کہ ان کے شوہر حضرت ابراہیم علیہ السلام بڑھاپے کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور ان کے عظیم الشان الہامی مشن کو آگے بڑھانے کے لیے ایک وارث کی شدید ضرورت ہے، تو انہوں نے خود، اپنی مرضی، اپنی خوشی اور پوری شعوری رضامندی کے ساتھ سیدہ ہاجرہ کا ہاتھ حضرت ابراہیم کے ہاتھ میں دیا اور ان کا باقاعدہ، شرعی اور قانونی نکاح (Marriage) کروایا۔

یہ کوئی لونڈی اور آقا کا باطنی، خفیہ یا غیر اخلاقی تعلق نہیں تھا جیسا کہ مستشرقین پیش کرتے ہیں، بلکہ یہ دو عظیم، باوقار اور پاکیزہ ہستیوں کا ایک معزز اور علانیہ شرعی عقد تھا۔ امام ابن کثیر نے "البدایہ والنہایہ" (جلد 1، صفحہ 154) میں پوری صراحت اور تاریخی سند کے ساتھ لکھا ہے کہ حضرت سارہ نے خود ابراہیم علیہ السلام سے کہا کہ آپ ہاجرہ سے نکاح کر لیں، شاید اللہ ان کے بطن سے ہمیں وہ اولاد عطا فرما دے جس کے ہم منتظر ہیں۔ لہذا سیدہ ہاجرہ علیہا السلام حضرت ابراہیم کی اسی طرح معزز، قانونی، برابر کی اور شرعی بیوی تھیں جس طرح حضرت سارہ تھیں۔

انہیں بار بار کنیز یا لونڈی کہہ کر پکارنا اور ان کے الٹیمیٹ مرتبے کو کم تر دکھانا دراصل اس بائبل کی تحریف اور یہودی تعصب کا حصہ ہے جس نے اپنے غصے میں خود انبیاء کی پاکیزہ ذات پر زنا، شراب نوشی اور دھوکہ دہی جیسے بدترین اخلاقی الزامات لگائے ہیں۔

اسلام نے آ کر عورت کو جو کائناتی وقار، جو آزادی اور جو حقوق دیے، اس نے سیدہ ہاجرہ کو انسانی تاریخ کی عظیم ترین ماؤں کے اس بلند ترین مقام پر لا کھڑا کیا جہاں ان کے پیروں کے نشانات، ان کے توکل اور پانی کی تلاش میں ان کی ممتا کی اس دوڑ کو اللہ نے اپنے دین کا لازمی رکن، یعنی حج کی 'سعی' بنا دیا۔ جس عورت کی دوڑ کو کائنات کا رب عبادت کا درجہ دے دے، اسے کنیز کہہ کر پکارنے والے دراصل اپنی ذہنی اور فکری پستی کا ثبوت دیتے ہیں۔

اسی تاریخی تسلسل میں، سوشل میڈیا کے ملحدین اور عقلیت پسند (Rationalists) ایک اور خطرناک کج فہمی کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی بیوی ہاجرہ اور دودھ پیتے معصوم بچے اسماعیل کو مکہ کی تپتی ہوئی وادی میں لا کر چھوڑ دیا، تو بظاہر یہ ایک انتہائی بے رحمانہ، غیر انسانی اور سنگدلانہ عمل تھا۔

وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ دراصل ایک خاندانی جھگڑے اور حضرت سارہ کے بائیولوجیکل حسد (Biological Jealousy) کا نتیجہ تھا کہ ابراہیم نے ان سے جان چھڑانے کے لیے اور گھر کا سکون بچانے کے لیے انہیں ایک ویران صحرا میں مرنے کے لیے پھینک دیا۔ ذرا ان معترضین کی سطحی عقل اور ان کے کگنیٹو بائس (Cognitive Bias) کا ماتم کرنے کو دل چاہتا ہے۔وہ ایک اتنے بڑے کائناتی، الہامی اور تہذیب ساز منصوبے کو اپنے محلے کے ساس بہو کے جھگڑوں کے گھٹیا پیمانے سے تولنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کوئی عام انسان یا دنیا کے ڈرے ہوئے باپ نہیں تھے جو کسی کے دباؤ میں آ کر اپنی ہی بیوی اور معصوم بچے کو مرنے کے لیے چھوڑ دیتے۔جب وہ سیدہ ہاجرہ اور اسماعیل کو مکہ کی اس بنجر، سیاہ پہاڑوں والی اور بے آب و گیاہ وادی میں لے کر آئے، تو وہ کسی گھریلو رنجش یا فرار کی وجہ سے نہیں آئے تھے، بلکہ وہ کائنات کے ماسٹر مائنڈ کے ایک انتہائی منظم، پیشگی اور الہامی آرڈر (Divine Order) کے تحت آئے تھے۔یہ ان کے ایمان، ان کی فرمانبرداری اور ان کے توکل کا وہ الٹیمیٹ امتحان تھا جس کا ذکر خود قرآنِ مجید نے سورہ ابراہیم کی آیت 37 میں حضرت ابراہیم کی اپنی زبان سے ان لافانی الفاظ میں نقل فرمایا ہے:"رَّبَّنَا إِنِّي أَسْكَنتُ مِن ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِندَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلَاةَ"

(اے ہمارے رب! بیشک میں نے اپنی اولاد میں سے بعض کو اس بے آب و گیاہ وادی میں تیرے محترم گھر کے پاس لا کر بسا دیا ہے، اے ہمارے رب! تاکہ یہ نماز قائم کریں)۔

ذرا اس الہامی آیت کی فزکس، اس کے کائناتی وژن اور اس کے الفاظ پر غور کیجیے!

ابراہیم علیہ السلام کہہ رہے ہیں کہ"میں نے انہیں تیرے محترم گھر کے پاس بسا دیا ہے"۔

جب وہ مکہ آئے تھے، تو تاریخ بتاتی ہے کہ وہاں کعبہ کی کوئی ظاہری عمارت، کوئی دیوار یا کوئی نشان موجود نہیں تھا، صرف ایک مٹی کا ٹیلہ تھا جسے سیلابوں نے چھپا دیا تھا، لیکن ابراہیم علیہ السلام کے الہامی ریڈار اور ان کے کائناتی شعور کو بخوبی معلوم تھا کہ یہ وہ مرکز (Geographical Center of Monotheism) ہے جہاں سے پوری دنیا میں توحید کا نور، تہذیب کا آغاز اور انسانیت کی بقا کا نظام پھیلنا ہے۔

اربن پلاننگ اور شہر سازی کے اصولوں کے تحت یہ کوئی جان چھڑانے یا گھر سے نکالنے کا غیر منظم عمل نہیں تھا، بلکہ یہ ایک عظیم الشان، ڈیوائن "پلیس میکنگ" (Divine Placemaking) اور الہامی بست و کشاد کا پراجیکٹ تھا جس کا الٹیمیٹ مقصد اس بنجر، کٹی ہوئی وادی کو کائنات کا دھڑکتا ہوا دل بنانا تھا۔

صحیح بخاری (کتاب الانبیاء، حدیث نمبر 3364) میں اس واقعے کی جو تفصیلی اور رقت آمیز سند موجود ہے، وہ اس پورے ملحدانہ جھوٹ اور خاندانی جھگڑے کی تھیوری کا جنازہ نکال دیتی ہے۔جب ابراہیم علیہ السلام انہیں اس ویرانے میں چھوڑ کر، جہاں زندگی کے کوئی آثار نہیں تھے، واپس مڑنے لگے، تو سیدہ ہاجرہ نے ان کے پیچھے بھاگ کر، ان کا لباس پکڑ کر نہایت بے بسی سے پوچھا تھا کہاے ابراہیم! آپ ہمیں اس موت کی وادی میں کس کے سہارے چھوڑ کر جا رہے ہیں؟جب ابراہیم خاموش رہے تو سیدہ ہاجرہ کا الہامی شعور بیدار ہوا اور انہوں نے وہ سوال پوچھا جس نے توکل کی فزکس بدل دی:

"آللهُ أَمَرَكَ بِهَذَا؟"(کیا اللہ نے آپ کو اس بات کا حکم دیا ہے؟)۔

ابراہیم علیہ السلام نے رخ پھیرے بغیر، بھاری آواز میں فرمایا تھا:

"ہاں"۔اس پر سیدہ ہاجرہ کا یہ جواب کہ"إِذًا لَا يُضَيِّعُنَا"(پھر اللہ ہمیں کبھی ضائع نہیں کرے گا)،

یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ دونوں ہستیاں، میاں اور بیوی، اس بات سے پوری طرح، سو فیصد واقف تھیں کہ یہ کسی مادی حسد کا نتیجہ نہیں، بلکہ کائنات کے خالق کی ایک عظیم الشان آزمائش ہے جس کا صلہ بھی اسی قدر کائناتی ہونا تھا۔

اگر یہ ایک بے رحمانہ اخراج ہوتا، اگر اس کے پیچھے اللہ کا ہاتھ نہ ہوتا، تو اللہ اسماعیل کے معصوم پیروں کی رگڑ سے زمزم کا وہ چشمہ کبھی جاری نہ کرتا جو آج چودہ سو سال سے عرب کے صحرا میں کروڑوں انسانوں کی پیاس بجھا رہا ہے۔اللہ نے ان کی اس خوفناک آزمائش کو دنیا کی سب سے بڑی برکت اور ہائیڈرو لوجیکل (Hydrological) معجزے میں بدل دیا، اور مکہ کو امن، تہذیب اور رزق کا وہ الٹیمیٹ مرکز بنا دیا جہاں پوری دنیا کے انسان کھچے چلے آتے ہیں۔

اس فکری بحث میں ایک اور انتہائی اہم، متنازعہ اور باریک نکتہ وہ ہے جسے مستشرقین اور سیکولر ذہنیت رکھنے والے لوگ اکثر اٹھاتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ اسلام نے حج کے جو مناسک مقرر کیے ہیں، جیسے جانور کی قربانی، صفا اور مروہ کے درمیان دوڑنا، یا کعبہ کا طواف کرنا، یہ دراصل قبل از اسلام دورِ جاہلیت کے مشرکانہ اور دیومالائی (Pagan) رواج تھے، جنہیں اسلام نے بعینہ کاپی کر کے اپنے مذہب کا حصہ بنا لیا۔وہ اعتراض کرتے ہیں کہ مکہ کے مشرکین بھی تو قربانیاں کرتے تھے، اور وہ بھی صفا اور مروہ پر رکھے ہوئے اپنے بتوں (اساف اور نائلہ) کا چکر لگاتے تھے، تو پھر اسلام نیا کیا لے کر آیا؟

یہ اعتراض سن کر بظاہر ایک کم علم مسلمان کنفیوژن کا شکار ہو جاتا ہے، لیکن جب ہم اس کا الہیاتی، تاریخی اور کائناتی پوسٹ مارٹم کرتے ہیں، تو جہالت کے پردے چاک ہو جاتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے کسی مشرکانہ رسم کو کاپی نہیں کیا، بلکہ درحقیقت یہ مکہ کے مشرکین تھے جنہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ان الہامی اور خالص توحیدی مناسک کو کرپٹ (Corrupt) کر کے ان میں شرک کی آمیزش کر دی تھی۔صفا اور مروہ کی دوڑ دراصل سیدہ ہاجرہ کی پانی کی تلاش اور ان کی ممتا کے الٹیمیٹ توکل کی یادگار تھی جسے اللہ نے عبادت کا درجہ دیا تھا۔مکہ کے مشرکین نے سینکڑوں سال بعد وہاں اپنے دو بت لا کر رکھ دیے اور اس خالص عبادت کو شرک سے آلودہ کر دیا۔

اسی طرح قربانی کا عمل سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اس کائناتی بچت کی یاد تھا، لیکن مشرکین نے جانور ذبح کر کے اس کا خون کعبہ کی دیواروں پر ملنا شروع کر دیا تاکہ ان کے بت خوش ہوں۔اسلام کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے آ کر کوئی نیا یا مشرکانہ رواج شروع نہیں کیا، بلکہ انہوں نے 'تجدید' کی۔انہوں نے صفا اور مروہ سے بتوں کو توڑ کر باہر پھینکا اور فرمایا کہ یہ اللہ کی نشانیاں ہیں(إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ)۔

انہوں نے قربانی کے خون کو کعبہ پر ملنے سے روکا اور یہ کائناتی فزکس بیان کی کہ"اللہ تک ان جانوروں کا خون اور گوشت نہیں پہنچتا، بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے"۔

اسلام نے دراصل ان عبادات کو اس بت پرستی کی غلاظت سے پاک کر کے انہیں واپس اس خالص ابراہیمی توحید کے فریم ورک میں فٹ کیا جس کے لیے وہ اصل میں وضع کی گئی تھیں۔ اسے کاپی کرنا نہیں کہتے، اسے 'بحالی' (Restoration) اور کائناتی تجدید کہتے ہیں۔

مزید برآں، دورِ جدید کے لبرل اور ملحدین ایک اور نہایت جذباتی اور ماڈرن نفسیاتی اعتراض اٹھاتے ہیں کہ ایک باپ کو اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دینا دراصل قدیم انسانی قربانیوں (Human Sacrifices) کی یادگار ہے، جو کہ ایک انتہائی ظالمانہ اور وحشیانہ عمل ہے، اور اسے کسی بھی مہذب معاشرے میں کیسے ایک مقدس عمل سمجھا جا سکتا ہے؟

وہ اس واقعے کو کنعان کے قدیم مشرکوں کے اپنے بچوں کو 'بعل' اور 'مولوخ' نامی دیوتاؤں کی آگ میں جلانے کے وحشیانہ رواج سے ملانے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ اس پوری بحث کا سب سے خوفناک کگنیٹو مغالطہ ہے۔

ذرا انسانی تاریخ کی سائیکالوجی کو سمجھیے! قدیم دیومالائی مذاہب میں انسانی قربانی اس لیے دی جاتی تھی کیونکہ ان کا عقیدہ تھا کہ ان کے خدا خون کے پیاسے ہیں، وہ ناراض ہو گئے ہیں اور انہیں خوش کرنے کے لیے یا بارش برسانے کے لیے کسی انسان کا خون بہانا ضروری ہے۔

ان کے خداؤں کو انسان کا گوشت اور خون چاہیے تھا۔ لیکن اسلام اور ابراہیمی توحید کا پیراڈائم شفٹ (Paradigm Shift) یہ ہے کہ یہاں اللہ کو اسماعیل علیہ السلام کا ایک قطرہ خون بھی نہیں چاہیے تھا! اللہ کائنات کا بے نیاز ماسٹر مائنڈ ہے، اسے کسی مادی خون کی طلب نہیں ہے۔

اگر اسے خون چاہیے ہوتا تو چھری چلنے کے بعد خون بہہ نکلتا۔ لیکن اللہ نے تو چھری کی فزکس کو ہی فریز کر دیا تھا تاکہ خون کا ایک قطرہ بھی نہ بہے۔اس الہامی حکم کا مقصد بچے کی جان لینا نہیں تھا، بلکہ باپ کے دل میں موجود اس بائیولوجیکل 'محبت' کا امتحان لینا تھا جو خالق کی محبت کے مدمقابل آ رہی تھی۔جیسے ہی وہ الٹیمیٹ سرنڈر ثابت ہو گیا، اللہ نے فوراً اس قربانی کو روک دیا اور اس کی جگہ ایک جانور کا فدیہ دے دیا۔اس واقعے نے دراصل انسانی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے 'انسانی قربانی' کے اس وحشیانہ مشرکانہ رواج کو دفن کر دیا اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ کائنات کا سچا رب انسانوں کا خون نہیں مانگتا، وہ صرف ان کے دلوں کا خلوص اور ان کی انا کا سرنڈر مانگتا ہے۔

یہ واقعہ انسانیت کے خلاف نہیں تھا، بلکہ یہ انسانیت کو ان وحشی دیوتاؤں کی غلامی سے نکال کر ایک رحیم و کریم خدا کی بندگی میں لانے کا سب سے بڑا کائناتی انقلاب تھا۔آج کل ڈیجیٹل دور میں، یوٹیوب کے چینلز پر اور واٹس ایپ کے فارورڈڈ میسجز میں الحاد کی طرف جھکاؤ رکھنے والے اور مغربی فکر سے مرعوب نوجوان اس پورے واقعے کو "چائلڈ ابیوز" (Child Abuse)، ہذیان، یا ایک باپ کی نفسیاتی بیماری کا نام دے کر مینیپولیٹ (Manipulate) کرتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس کلامِ الٰہی کی فزکس کو سمجھنے کا وہ انٹلیکچوئل، روحانی اور اعصابی سٹیمنا موجود ہی نہیں ہے۔وہ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید اسلام کی یہ خالص تعلیمات عیسائیت اور یہودیت کی طرح کسی مادی یا خاندانی کہانی پر مبنی ہیں۔

وہ یہ جاننے سے قاصر ہیں کہ اسلام نے ان تمام اسرائیلی خرافات کا وہ بے رحم پوسٹ مارٹم کیا ہے جس نے انبیاء کے کردار کو ہر قسم کے داغ، عیب اور خاندانی رنجش سے پاک کر کے کائنات کے سامنے پیش کیا۔ یہودی روایات نے حضرت ابراہیم کو ایک ایسا کمزور باپ بنا کر پیش کیا جو محض اپنی بیوی کے حسد اور دباؤ میں آ کر اپنے بڑے بیٹے کو صحرا میں مرنے کے لیے چھوڑ دیتا ہے، اور عیسائی روایات نے قربانی کے واقعے میں تحریف کر کے اپنے خاندانی تعصب کا ثبوت دیا۔

اسلام نے آ کر بتایا کہ ابراہیم ایک پرفیکٹ باپ تھے، ہاجرہ ایک عظیم، صابر اور معزز ملکہ تھیں، اور اسماعیل ایک ایسا جرات مند، فرمانبردار اور باشعور نوجوان تھا جس نے بندگی کی پوری فلاسفی بدل کر رکھ دی۔ یہ تحریف شدہ روایات دراصل مسلمانوں کے عقیدے کو متزلزل کرنے کے لیے پھیلائی جاتی ہیں، لیکن جب ہم ان کا مقابلہ خالص قرآنی متون اور مستند تاریخی حوالوں سے کرتے ہیں، تو باطل کا یہ پورا بیانیہ ریت کی دیوار کی طرح ڈھیر ہو جاتا ہے۔

میری اس طویل، ضخیم، سنجیدہ اور مربوط تحریر کا الٹیمیٹ اور حتمی مقصد صرف اور صرف یہی ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کے شعور کو، ان کے کگنیٹو سسٹم کو اس زہریلے پروپیگنڈے سے پاک کریں جو دورِ جدید میں "عقلیت پسندی" اور جدیدیت کے جھوٹے لیبل کے ساتھ بیچا جا رہا ہے۔اسلام کوئی اندھا عقیدہ، قصے کہانیوں یا دیومالائی رسوم کا مجموعہ نہیں ہے، یہ ایک پرفیکٹ، منطقی اور الہامی سائنس ہے جس کا ہر واقعہ، ہر حکم اور ہر قانون کائنات کے طبعی اور اخلاقی اصولوں کے ساتھ سو فیصد الائن (Align) ہے۔

جب ہم حضرت ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کے اس واقعے کو بائبل کی تحریفات کی عینک اتار کر، خالص توحید کے ترازو میں تولتے ہیں، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ دنیا کا سب سے بڑا اعزاز تھا جو اس خاندان کو ملا۔ ہمیں یہ جرات کرنی ہوگی کہ ہم سوشل میڈیا پر پھیلے ہوئے ان سطحی اعتراضات کا جواب گالی یا فتوے سے نہیں، بلکہ اسی طرح کے ٹھوس علمی، متنی اور تاریخی دلائل کے ساتھ دیں تاکہ سچائی کا یہ نور دنیا کے سامنے بے غبار ہو کر واضح ہو سکے۔ کل روزِ محشر، کائنات کا وہ حاکمِ مطلق، وہ ماسٹر مائنڈ ہماری اندھی عقیدتوں، ہمارے جذباتی نعروں یا ادھورے مطالعے کو نہیں دیکھے گا، وہاں صرف وہی شعور سرخرو ہوگا جو حقائق پر مبنی ہوگا اور جس نے توحیدِ الٰہی کا دفاع پورے علم، منطق اور دیانت کے ساتھ کیا ہوگا!

کالم نگار : بلال شوکت آزاد
| | |
54