باطل کی سرمایہ کاری "برفیلی ہوا" میں کیسے اڑ جاتی ہے؟
1. تعارف: کیا ہم قرآن کے "جوڑوں" کی حکمت سے واقف ہیں؟
قرآنِ کریم کی ترتیب کوئی اتفاقی امر نہیں، بلکہ یہ ایک نہایت گہرے منطقی اور فکری ربط پر مبنی ہے۔ ماہرینِ قرآن کے نزدیک سورہ البقرہ اور سورہ آلِ عمران ایک "جوڑے" (Pair) کی مانند ہیں، جو ایک ہی حقیقت کے دو مختلف رخ پیش کرتی ہیں۔ جہاں سورہ البقرہ ایک عظیم الشان "فتح" (غزوہ بدر) سے پہلے کی تیاری اور ہدایات کا مجموعہ ہے، وہیں سورہ آلِ عمران ایک تکلیف دہ "شکست" (غزوہ احد) کے بعد کا وہ عمیق تجزیہ ہے جو مسلمانوں کی نفسیاتی اور اخلاقی بحالی کے لیے نازل ہوا۔ ان دونوں کا مطالعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ کیسے ایک سورت "قبل از جنگ" (Pre-battle) رہنمائی ہے اور دوسری "بعد از جنگ" (Post-battle) تبصرہ۔
2. علم بمقابلہ الجھن: بنی اسرائیل اور نصاریٰ کے مابین "امتیاز"
ان دونوں سورتوں کے پہلے حصوں میں دو مختلف گروہوں سے مکالمہ کیا گیا ہے، جس میں ایک لطیف فکری فرق موجود ہے:
سورہ البقرہ (بنی اسرائیل): یہاں ان لوگوں کا ذکر ہے جن کے پاس علم تھا، جو حق کو پہچانتے تھے، مگر انہوں نے دانستہ طور پر اسے چھپایا۔ ان کا جرم "علم کے باوجود انحراف" تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں تمثیل میں اس آگ کا ذکر ہے جو جلائی تو گئی مگر پھر بصارت چھین لی گئی۔
سورہ آلِ عمران (نصاریٰ): اس سورت کا رُخ نصاریٰ کی جانب ہے، جہاں مسئلہ علم کا نہیں بلکہ "نظریاتی الجھنوں" کا تھا۔ اسی لیے یہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حوالے سے پیدا ہونے والے ابہام کو دور کرنے کے لیے حضرت آدم علیہ السلام کی تمثیل (Parable) دی گئی تاکہ الجھے ہوئے تصورات کی تصحیح کی جا سکے۔
مختصر یہ کہ البقرہ علم رکھنے والے ضدی گروہ کی اصلاح کرتی ہے، جبکہ آلِ عمران الجھنوں میں گھرے گروہ کی فکری تطہیر کرتی ہے۔
3. بدر اور احد: زخموں کی مرہم پٹی اور تاریخ کا بدلتا رخ:
سورہ البقرہ مسلمانوں کو میدانِ کارزار (بدر) کے لیے تیار کرتی ہے، جبکہ سورہ آلِ عمران احد کے زخموں پر مرہم رکھتی ہے۔ احد میں مسلمانوں کو نہ صرف جانی نقصان ہوا بلکہ وہ نفسیاتی طور پر بھی ٹوٹ چکے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر قرآن میں (جس کی وضاحت استاد نعمان علی خان نے نہایت بصیرت کے ساتھ کی ہے) مسلمانوں کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا:"اگر تمہیں (احد میں) زخم لگا ہے، تو ان لوگوں کو بھی (بدر میں) ایسا ہی زخم لگا تھا... یہ وہ دن ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں۔"
یہاں اللہ تعالیٰ نے واضح کیا کہ فتح اور شکست مستقل نہیں ہیں، بلکہ یہ "ایام" ہیں جو بدلتے رہتے ہیں تاکہ کھرے اور کھوٹے کی تمیز ہو سکے۔
4. انفاق کی تکملہ: جب سرمایہ کاری "مردہ زون" بن جائے.
سورہ آلِ عمران کی آیت 117 میں اللہ تعالیٰ انفاق (خرچ کرنے) کے اس سلسلے کو مکمل فرماتا ہے جو سورہ البقرہ میں شروع ہوا تھا۔ البقرہ میں دو طرح کے خرچ کرنے والوں کا ذکر تھا: مومن (جس کا بیج 700 گنا بڑھتا ہے) اور منافق (جو دکھاوے کے لیے خرچ کرتا ہے)۔ لیکن ایک تیسرا گروہ باقی تھا: کافر۔
سورہ آلِ عمران اس تیسرے گروہ کی سرمایہ کاری کی حقیقت کھولتی ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ کفار جو مال اسلام کو مٹانے کے لیے خرچ کرتے ہیں، اس کی مثال ایک ایسی ہوا کی ہے جس میں "سرسر" (انتہائی برفیلی اور کاٹ دینے والی ہوا) ہو۔
لغوی اور منطقی لحاظ سے "سرسر" صرف ٹھنڈی ہوا نہیں، بلکہ وہ شدید برفانی ہوا ہے جو نہ صرف فصل کو تباہ کرتی ہے بلکہ زمین اور مٹی کو بھی بانجھ کر دیتی ہے، جس کے بعد وہاں دوبارہ کچھ اگنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ کفار نے بدر کا بدلہ لینے کے لیے احد اور پھر خندق میں اپنی ساکھ اور مال کی جو بھاری سرمایہ کاری کی، وہ اسی برفیلی ہوا کی نذر ہو گئی۔ جنگِ احزاب (خندق) میں بھیجی گئی وہ ہوا درحقیقت ان کے خیموں، ان کے حوصلوں اور ان کی علاقائی "کریڈبلٹی" (Credibility) کو ہمیشہ کے لیے اڑا لے گئی۔
فرعون کی مثال (تاریخی استعارہ): فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو شکست دینے کے لیے جادوگروں کا ایک عظیم الشان کنونشن (Convention) منعقد کیا، جس پر اس نے بے پناہ دولت خرچ کی۔ مگر ہوا کیا؟ اس کی اپنی عظیم الشان سرمایہ کاری ہی مصر کی تاریخ کی سب سے بڑی "دعوت" بن گئی، جب اس کے تنخواہ دار جادوگروں نے عین مجمع عام میں سجدہ ریز ہو کر ایمان کا اعلان کر دیا۔ باطل جب بھی حق کو مٹانے کے لیے خرچ کرتا ہے، وہ نادانستہ طور پر اپنی بربادی کا سامان خرید رہا ہوتا ہے۔
5. جدید میدانِ جنگ:
"Hearts and Minds" اور تعلیمی یلغار
آج کے دور میں اسلام کے خلاف اصل جنگ سرحدوں پر نہیں بلکہ "نفسیاتی سوشل انجینئرنگ" (Psychological Social Engineering) کے ذریعے لڑی جا رہی ہے۔ باطل اب اربوں ڈالر تعلیمی اداروں اور نظریاتی یلغار پر خرچ کر رہا ہے۔
کالج کیمپس کا محاذ:
اصل معرکہ اب یونیورسٹیوں کے کیمپس میں ہے، جہاں مسلم نوجوانوں کے عقائد پر حملہ کیا جاتا ہے۔
کراچی کے اسکولوں کی مثال: پاکستان جیسے ممالک کے مہنگے پرائیویٹ اسکولوں میں، جہاں والدین بھاری فیسیں دیتے ہیں، وہاں مغربی ممالک کے سابق فوجی (Ex-military) اساتذہ مقرر کیے جاتے ہیں جو طلبہ کے ذہنوں میں رسول اللہ ﷺ اور اسلام کے بارے میں شکوک و شبہات کے بیج بوتے ہیں۔
احساسِ کمتری کا فروغ: مسلم ممالک میں ایسی نسل تیار کی جا رہی ہے جہاں بچیاں حجاب لینے یا اسکول میں نماز پڑھنے سے شرم محسوس کرتی ہیں۔ یہ سب "Hearts and Minds" مہم کا حصہ ہے تاکہ ایسی قیادت تیار کی جائے جو جسمانی طور پر مسلمان مگر ذہنی طور پر استعمار کی غلام ہو۔
6. ایمان کا معیار:
ہم "ناگزیر" نہیں ہیں.اللہ تعالیٰ کا قانون اٹل ہے: "اگر تم مومن ہو تو تم ہی غالب رہو گے"۔ لیکن یہ وعدہ صرف نام کے مسلمانوں کے لیے نہیں ہے۔ ہمیں یہ حقیقت سمجھنی ہوگی کہ ہم اللہ کے لیے ناگزیر (Indispensable) نہیں ہیں۔
قرآن ہمیں ایک سخت انتباہ دیتا ہے کہ اگر ہم نے اپنی ذمہ داری پوری نہ کی، تو اللہ ہمیں کسی دوسری قوم سے بدل دے گا (Substitution)۔ اللہ کو ہماری ضرورت نہیں، بلکہ ہمیں اللہ کے فضل کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نے اپنے ایمان اور عمل کی اصلاح نہ کی، تو ہم "ناکام" (Losers) قرار دے کر تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیے جائیں گے اور اللہ اپنا کام کسی اور سے لے لے گا۔
7. اختتام: ایک روح فرسا سوال
باطل اپنی تمام تر مادی قوت اور سرمائے کے ساتھ حق کی فصل کو تباہ کرنے نکلا ہے، مگر یاد رکھیے کہ اللہ کی "سرسر" (برفیلی ہوا) کسی بھی وقت اس تمام تر فرعونی سرمایہ کاری کو مٹی کا ڈھیر بنا سکتی ہے۔
آج ہمیں اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا ہوگا: کیا ہم اپنے بچوں کی تربیت، اپنے مال کے استعمال اور اپنی زندگی کے مقاصد کے ذریعے اللہ کی اس نصرت کے مستحق بن رہے ہیں جو باطل کو اڑا لے جاتی ہے، یا ہم خود اس یلغار کا خاموش ایندھن بن چکے ہیں؟