(+92) 319 4080233
کالم نگار

-ایک قاری کاانتخاب

-ایک قاری کاانتخاب

پروفائل | تمام کالمز
2026/06/12
موضوعات
مولانا فاضل حبیب اللہ رشیدیؒ
مولانا فاضل حبیب اللہ رشیدی رحمتہ اللہ علیہ 1915ء کو رائے پور ضلع جالندھر ہندوستان میں پیدا ہوئے، معروف عالمِ دین مفتی فقیراللہ رائے پوری رحمتہ اللہ علیہ آپ کے والد محترم تھے۔ شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ رائے پوری آپ کے بڑے بھائی تھے۔ مولانا فاضل فاضل حبیب اللہ رشیدی نے ابتدائی تعلیم آبائی علاقے سے حاصل کی۔ تب مدرسہ رشیدیہ رائپور کی ایک معروف دینی درس گاہ کے طور پر اپنا نام بنا چکا تھا۔ قیامِ پاکستان کے بعد مولانا فاضل حبیب اللہ رشیدیؒ اپنے پورے خاندان کے ہمراہ ساہیوال میں آکر قیام پذیر ہوئے۔ انھوں نے اس علمی ورثے کو آگے بڑھاتے ہوئے منٹگمری (ساہیوال) میں مدرسہ جامعہ رشیدیہ کی بنیاد رکھی۔ آپ نے اپنی زندگی تدریس، اصلاحِ معاشرہ اور دینی خدمات کے لیے وقف کردی تھی۔ طویل عرصہ تک آپ دارالعلوم جامعہ رشیدیہ ساہیوال کے مہتمم و سرپرست بھی رہے۔

ان کی سرپرستی میں جامعہ رشیدیہ نے علومِ دینیہ کی اشاعت اور ختم نبوت کے حوالے سے بہترین خدمات سر انجام دیں۔ ہزاروں طلبہ نے اس ادارے سے علمی فیض حاصل کیا اور عملی زندگی میں قدم رکھ کر دین و دنیا میں خوب نام کمایا۔ مولاناحبیب اللہ رشیدیؒ کی خدمات صرف درس و تدریس تک محدود نہ تھیں بلکہ لوگوں کی فکری و نظریاتی رہنمائی میں بھی آپ کا کردار قابلِ ذکر رہا۔ مولانا فاضل حبیب اللہ نے جامعہ رشیدیہ ساہیوال کے زیرِ اہتمام ماہنامہ’’الرشید‘‘ کا اجرا بھی کیا۔ لاہور سے نکلنے والے اس جریدے کے ضخیم خاص نمبرز (دارالعلوم دیوبند نمبر، مدنی و اقبال نمبر) بہت مقبول ہوئے تھے۔۔علمی حلقوں میں یہ جریدہ دستاویزی حیثیت اختیار کرگیا تھا۔

مولانا حبیب اللہ رشیدیؒ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ ان کی شخصیت آج بھی ساہیوال کی علمی تاریخ کا روشن باب سمجھی جاتی ہے۔ آپ نے جامعہ رشیدیہ کے علاوہ جامع مسجد غلہ منڈی کی بھی بنیاد رکھی۔ علاوہ ازیں عصری علوم کے لیے رشیدیہ پرائمری اسکول اور محمودیہ ہائی اسکول کی بنیاد بھی رکھی۔ یہ دونوں اسکول آج حکومتی تحویل میں ہیں۔ مولانا فاضل حبیب اللہ رشیدی شعلہ بیاں مقرر، باعمل عالم دین اور سینکڑوں ہزاروں علماء کے استاذ تھے۔ آج بھی جامعہ رشیدیہ کے درو دیوار مولانا فاضل رحمتہ اللہ علیہ کے علمی و دینی کارناموں کے گواہ ہیں۔ آپ بجا طور پر نہ صرف شانِ ساہیوال بلکہ شانِ پاکستان اور شانِ اسلام بھی تھے۔

مأخَذ

سوشل میڈیا سے انتخاب

کالم نگار : -ایک قاری کاانتخاب
| | |
3