(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانامحمد

مولانامحمد

پروفائل | تمام کالمز
2026/06/25
موضوعات
حاجی محمدکلیم ؒ کی یادیں اور باتیں
ہم سب کے نہایت محترم، مخلص، شفیق اور محسن حضرت حاجی محمد کلیم صاحب رحمۃ اللہ علیہ، خلیفۂ مجاز حضرت اقدس ڈاکٹر عبد الحی رحمۃ اللہ علیہ، والدِ گرامی حضرت مولانا محمد حسان کلیم صاحب دامت برکاتہم العالیہ آج اس دارِ فانی سے رخصت فرما گئے۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کو بے شمار خوبیوں اور اوصافِ حمیدہ سے نوازا تھا۔ آپ نے اپنی پوری زندگی اکابرینِ امت، اولیائے کرام اور اہلِ اللہ کی صحبتوں میں گزاری۔ بزرگوں کے مزاج، ان کے طریقِ تربیت، اور ان کے احوال و واقعات سے آپ کو غیر معمولی واقفیت حاصل تھی۔

حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے اجلّ خلفاء کی صحبت آپ کو میسر رہی، جبکہ حضرت شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے بھی بچپن کے ساتھی اور دوست تھے۔ اکابرین کے واقعات آپ اس انداز سے بیان فرمایا کرتے تھے کہ سننے والا خود کو گویا اسی مجلس کا شریک محسوس کرتا تھا۔

ایک مرتبہ فرمایا کہ بچپن میں حضرت مولانا شاہ عبد الغنی پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر رحمۃ اللہ علیہ، حضرت کو وضو کرا رہے تھے۔ سلام کے بعد عرض کیا: ’’حضرت! میرے لیے دعا فرمائیں کہ میں موٹا ہو جاؤں۔‘‘ حضرت مسکرا دیے اور حضرت حکیم محمد اختر رحمۃ اللہ علیہ سے فرمایا: ’’دیکھو! یہ بچہ کیا کہہ رہا ہے۔‘‘

اس کے بعد حضرت شاہ عبد الغنی پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ کی ایسی شفقت، محبت اور قربت نصیب ہوئی کہ سفر و حضر میں اکثر آپ کے ساتھ رہنے کا موقع ملا۔ بعض لوگوں نے اس خصوصی تعلق پر چہ میگوئیاں بھی شروع کر دیں کہ حضرت اس کلیم کو ہمیشہ اپنے ساتھ کیوں رکھتے ہیں؟ جب حضرت شاہ عبد الغنی پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ کو اس بات کا علم ہوا تو فرمایا:

’’لا کلام فی کلیم‘‘

یعنی ’’کلیم کے بارے میں کوئی بات قابلِ قبول نہیں۔‘‘

حضرت حاجی محمد کلیم صاحب رحمۃ اللہ علیہ اس واقعے کو بڑے فخر، محبت اور عقیدت کے ساتھ بیان فرمایا کرتے تھے۔ اکابرینِ امت کے ساتھ آپ کے بے شمار واقعات تھے جو آپ کے اخلاص، تعلق اور قربِ خاص کی روشن دلیل ہیں۔

حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ صرف بزرگوں کی صحبت میں ہی نہیں رہے، بلکہ ان کے مزاج، طریقِ تربیت، اخلاق اور فکر کو بھی گہرائی کے ساتھ سمجھا اور اپنی زندگی میں اپنایا۔ سادگی، اخلاص، محبت، تواضع، بزرگوں سے والہانہ تعلق اور اہلِ حق سے وفاداری آپ کی نمایاں صفات تھیں۔ آپ کی وفات اہلِ تعلق کے لیے ایک بڑا سانحہ اور علمی و روحانی حلقوں کے لیے ایک عظیم خسارہ ہے۔

اللہ تعالیٰ حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کی کامل و مکمل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کے حسنات کو شرفِ قبولیت بخشے، اور ان کے علمی و روحانی فیوض کو تا دیر جاری و ساری رکھے۔ نیز تمام پسماندگان، متعلقین، مریدین اور عقیدت مندوں کو صبرِ جمیل اور اجرِ عظیم عطا فرمائے۔

فرمایا کرتے تھے کہ ایک واقعہ نے میری زندگی پر بہت گہرا اثر ڈالا۔ واقعہ یوں ہے کہ حضرت ڈاکٹر عبدالحی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک مرتبہ فرمایا:

’’ہمیں کہیں جانا ہے، میں اور میری اہلیہ، کیا آپ ہمیں اپنی گاڑی میں لے جا سکتے ہیں؟‘‘

میں نے عرض کیا:

’’جی حضرت! بالکل۔‘‘

چنانچہ حضرت اور ان کی اہلیہ میری گاڑی میں سوار ہو گئے۔ راستے میں حضرت کی اہلیہ نے فرمایا: ’’باجی، یعنی میری بہن کو بھی ساتھ جانا ہے۔‘‘

حضرت نے فرمایا:

’’ٹھیک ہے۔‘‘

پھر حضرت کی اہلیہ اپنی بہن کے گھر گئیں اور وہاں کچھ زیادہ وقت لگ گیا۔ ہمیں آگے جانا تھا۔ اتنے میں نماز کا وقت ہوگیا۔ قریب ہی مسجد تھی، لیکن خواتین کو آنے میں کچھ دیر لگنے کی وجہ سے مسجد پہنچتے پہنچتے نماز کی آخری رکعت شروع ہو چکی تھی۔ حضرت ڈاکٹر عبدالحی عارفی رحمۃ اللہ علیہ میرا ہاتھ پکڑ کر تیز تیز قدموں سے مسجد کی طرف چلنے لگے۔ جب ہم مسجد میں داخل ہوئے تو آخری قعدہ کا بھی آخری حصہ باقی تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب حضرت ڈاکٹر عبدالحی رحمۃ اللہ علیہ تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ نماز ادا کرنے کا غیر معمولی اہتمام فرمایا کرتے تھے۔

فرمایا کرتے تھے کہ جب میں نماز میں شامل ہوا تو میرے دل میں بار بار یہ خیال آ رہا تھا کہ آج حضرت ضرور کچھ ارشاد فرمائیں گے، سلام پھیرنے کے بعد افسوس کا اظہار کریں گے، اور شاید خواتین سے بھی کچھ کہیں گے کہ ان کی وجہ سے تکبیرِ اولیٰ فوت ہوگئی۔

لیکن جب حضرت نے سلام پھیرا تو فرمایا:

’’الحمد للہ! یا اللہ! تیرا شکر ہے کہ تو نے آخری قعدہ کا آخری حصہ نصیب فرما دیا۔ یا اللہ! یہ تیری عطا ہے، ہم تو اس کے بھی اہل نہ تھے۔‘‘

فرمایا کہ اس واقعہ نے میری زندگی پر بہت بڑا اثر ڈالا۔ اس واقعہ کو گزرے چالیس سال سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے، لیکن جب بھی میں اس پر غور کرتا ہوں تو اس ملفوظ کے نئے نئے رموز و اسرار منکشف ہوتے ہیں۔ مجھے معلوم ہوا کہ عبدیت کا مقام یہ ہے کہ آدمی ذرہ برابر بھی اپنی طرف نظر نہ کرے کہ میں اتنا بڑا بزرگ ہوں، میں تو ہمیشہ تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ نماز پڑھتا ہوں اور آج یہ سعادت فوت ہوگئی؛ بلکہ اس کی نگاہ صرف اللہ تعالیٰ کے فضل، احسان اور عطا پر ہو۔

پھر حضرت کی پوری زندگی اسی عبدیت کا نمونہ تھی۔ آپ فرمایا کرتے تھے:

’’جو کچھ ہے، محض اللہ تعالیٰ کی عطا اور اس کا فضل ہے۔‘‘

مأخَذ

سوشل میڈیا سے انتخاب

کالم نگار : مولانامحمد
| | |
64