اساتذہ کی باتیں*
(١١)امیر المؤمنین فی الحدیث حضرت شیخ محمد یونس جونپوریؒ نے فرمایا کہ:”اساتذہ درس میں وہ باتیں بیان کرجاتے ہیں جو کتابوں میں نہیں ملتیں“۔(ملفوظات مع مختصر سوانح شیخ محمد یونس صاحبؒ.طلبِ علم.١٥٩)
*ہمارے اساتذہ*
(١٢) فرمایا کہ:”ہم نے جس اساتذہ سے پڑھا،وہ ہمارا دل دھوتے رہے،انہوں نے مال وال کی لالچ نہیں رکھی“۔(ملفوظات مع مختصر سوانح شیخ یونس صاحبؒ.تصوّف و سلوک.١٩٠)
*اساتذہ کیلئے ایصالِ ثواب*
(١٣) فرمایا کہ:”میں ہر سال پانچ بار اپنے اساتذہ کیلئے ایصالِ ثواب کرتا ہوں،اپنے اساتذہ سے محبت،اپنی مادرِ علمی سے محبت،یہ اپنی ماں ہے،اس سے تعلق ہمیشہ کا ہو“۔(ملفوظات مع مختصر سوانح شیخ محمد یونس صاحبؒ.٢٧٢)
*اساتذہ کی آبرو سے کھیلنا*
(١٤) فرمایا کہ:”جو لوگ اپنے مدرسے کی آبرو سے اور اپنے اساتذہ کی عزت سے کھیلتے ہیں،وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتے،بہت جلد سزا پاتے ہیں“۔(ملفوظات مع مختصر سوانح شیخ یونس صاحبؒ.٢٩٧)
*استاذ کی بات لکھنے کا فائدہ*
(١٥) فرمایا کہ:”جو شخص استاذ کی بات کو اہتمام سے سنتا ہے،اور لکھتا ہے اسے ضرور کچھ نہ کچھ یاد ہوجاتا ہے“۔(ملفوظات مع مختصر سوانح شیخ محمد یونس صاحبؒ.٣١٤)
*اساتذہ سے بغاوت*
(١٦) فرمایا کہ:”جو استاذ کے خلاف بولتا ہے،بغاوت کرتا ہے،تبصرے کرتا ہے وہ تباہ ہوجاتا ہے،کہیں نہ کہیں اس کا مسئلہ اٹک ہی جاتا ہے،بڑے گھرانے کے لڑکوں کو دیکھا،بچپن سے دیکھتا آرہا ہوں،اساتذہ کے خلاف مت بولو!بعض اساتذہ سے آدمی کی طبیعت مانوس نہیں ہوتی تو خاموش رہنا چاہئے،اکثر علماء و صلحاء کی اولاد ضائع ہوجاتی ہے؛اسلئے کہ وہ اساتذہ اور بزرگوں کا احترام نہیں کرتے“۔(ملفوظات مع مختصر سوانح شیخ یونس صاحبؒ.٤٤٧)
*جو اساتذہ کی بے ادبی کریگا غارت ہوجائیگا*
(١٧) فرمایا کہ:”آپ لوگ اساتذہ کی بات غور سے سنتے نہیں،کیا بندگانِ خدا! اساتذہ کی بات ادب سے سنوگے اور اثر نہیں ہوگا؟(ضرور اثر ہوگا)بات یہ ہیکہ آپ لوگ دنیا کیلئے پڑھتے ہیں اسلئے پڑھتے ہیں؛تاکہ سند مل جائے،نوکری مل جائے،ترقی کا راستہ مل جائے،جو استاذ کی بے ادبی کریگا غارت ہوجائیگا“۔(ملفوظات مع مختصر سوانح شیخ یونس صاحبؒ.٤٤٧)
*استاذ کی غیبت*
(١٨)فرمایا کہ:”ایک مسلمان جو علومِ نبوت کا وارث ہے،وہ اپنے استاذ کی غیبت کرتا رہتا ہے،کس قدر عجیب اور بری بات ہے،بچو!تم ہمارے بچے ہو؛اسلئے کہتا رہتا ہوں“۔(محدث عصر مولانا محمد یونس جونپوریؒ کی ہمہ جہت شخصیت علوم و خدمات کے آئینہ میں.حضرت الأستاذ حضرت شیخ یونس صاحبؒ ملفوظات کے آئینہ میں.مضمون نگار: مفتی محمد انور ہتھوڑوی،استاذ عربی و شعبہ تجوید دارالعلوم ہدایت الاسلام عالی پور.٨٦١)
*اپنے اساتذہ کے نام کا طواف*
(١٩) فرمایا کہ:”میرے بدن میں جب جان تھی تو میں اپنے اساتذہ کی طرف سے ایک ایک طواف کرلیا کرتا تھا،اب مجھ میں طاقت نہیں،اسلئے ان کی طرف سے دو دو رکعات نفل پڑھ لیتا ہوں“۔(ملفوظات مع مختصر سوانح شیخ محمد یونس صاحبؒ.٤٦٥)
*استاذ کی مار کا فائدہ*
(٢٠)فرمایا کہ:”استاذ کی مار سے فہم پیدا ہوتی ہے،استاذ بطورِ تنبیہ مارتا ہے“۔(ملفوظات مع مختصر سوانح شیخ یونس صاحبؒ.١٢١)