(+92) 319 4080233
کالم نگار

بلال شوکت آزاد

بلال شوکت آزاد

پروفائل | تمام کالمز
2026/05/30
موضوعات
سورۃ الشمس کا الہیاتی و سائنسی تجزیہ
جب جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ (James Webb Space Telescope) اربوں نوری سال کے فاصلے سے کسی دور دراز نیبولا (Nebula) یا بلیک ہول کی ہائی ریزولیوشن (High-resolution) تصاویر زمین پر بھیجتی ہے، تو جدید انسان کی عقل اس کاسمولوجیکل فریم ورک (Cosmological Framework) کی وسعت، اس کی حیرت انگیز جیومیٹری اور اس کی پرفیکشن کو دیکھ کر دنگ رہ جاتی ہے۔

ہم ستاروں کی پیدائش، ان کے لائف سائیکل اور کہکشاؤں کے پھیلاؤ کو سمجھنے کے لیے اربوں ڈالرز کی ریسرچ اور صدیوں کا وقت صرف کر رہے ہیں، لیکن اس آؤٹر اسپیس (Outer Space) کی کھوج میں ہم اکثر اس سب سے بڑی، پیچیدہ اور پراسرار لیبارٹری کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو ہمارے اپنے کھوپڑی کے اندر موجود ہے، یعنی ہمارا انسانی شعور اور اس کی اخلاقی جینیات (Moral Genetics)۔

قرآنی الہیات کا یہ سب سے بڑا اعجاز اور اس کی سائنٹفک اپروچ (Scientific Approach) ہے کہ یہ کبھی بھی انسان کو محض تجریدی فلسفے (Abstract Philosophy) میں نہیں الجھاتا، بلکہ یہ ہمیشہ اس کی توجہ آفاق (Macrocosm) سے موڑ کر اس کے اپنے وجود (Microcosm) کے اندر موجود سمیٹری (Symmetry) کی طرف لے کر آتا ہے۔

اگر ہم الہامی علوم، فزکس اور نیوروبیالوجی کو ایک ہی انٹلیکچوئل کینوس (Intellectual Canvas) پر رکھ کر مطالعہ کریں، تو قرآنِ مجید کی سورۃ الشمس ہمارے سامنے ایک ایسے ماسٹر پیس کے طور پر ابھرتی ہے جو بظاہر تو کائنات کے طبعی مظاہر پر بات کرتی محسوس ہوتی ہے، لیکن درحقیقت وہ انسانی روح کے بائیولوجیکل آرکیٹیکچر (Biological Architecture) کا ایک انتہائی بے رحم اور شفاف پوسٹ مارٹم کر رہی ہوتی ہے۔

آج کی اس مفصل نشست میں ہم روایتی تفاسیر سے ذرا آگے بڑھ کر، فلکیات (Astrophysics)، کوانٹم فزکس اور ایوولیوشنری سائیکالوجی (Evolutionary Psychology) کی روشنی میں اس عظیم الشان سورت کی آیات کا آیت در آیت الہیاتی اور سائنسی تجزیہ کریں گے تاکہ یہ بات ہماری روح کی گہرائیوں میں اتر جائے کہ فطرت کا بیرونی توازن اور ہمارے اندر کا اخلاقی کمپاس (Moral Compass) دراصل ایک ہی ماسٹر مائنڈ کے لکھے ہوئے دو مختلف سافٹ ویئرز ہیں۔

کلامِ الٰہی کا آغاز ایک ایسے زبردست اور الٹیمیٹ ایٹموسفیرک ڈسپلے (Ultimate Atmospheric Display) سے ہوتا ہے جو ہماری زمین پر موجود کاربن بیسڈ لائف فارمز (Carbon-based Lifeforms) کی بقا کا واحد اور حتمی ضامن ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہوتا ہے:

"وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا"

(قسم ہے سورج کی اور اس کی پھیلی ہوئی دھوپ کی)۔

اور فوراً ہی اس کے بعد ایک کائناتی تسلسل کو بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا:

"وَالْقَمَرِ إِذَا تَلَاهَا"

(اور چاند کی جب وہ اس کے پیچھے آئے)۔

اللہ تعالیٰ جب کسی بات کی اہمیت، اس کی سینسٹیویٹی (Sensitivity) اور اس کے حتمی اثرات کو انسان کے انٹلیکچوئل ریڈار (Intellectual Radar) پر نقش کرنا چاہتا ہے، تو وہ اپنی عظیم الشان مخلوقات کی حلفیہ گواہی پیش کرتا ہے۔

یہ قسمیں کوئی بے ترتیب اشیاء نہیں ہیں، بلکہ یہ فطرت کے متضاد مگر انتہائی متوازن جوڑوں (Binary Systems) کا ایک شاندار کاسمولوجیکل مظاہرہ ہیں۔

جدید فزکس ہمیں بتاتی ہے کہ سورج کوئی عام آگ کا گولہ نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا جائنٹ نیوکلیئر ری ایکٹر (Giant Nuclear Reactor) ہے جس کے اندر ہر سیکنڈ میں لاکھوں ٹن ہائیڈروجن ایک زبردست تھرمونیوکلیئر فیوژن (Thermonuclear Fusion) کے پراسس کے ذریعے ہیلیم میں تبدیل ہو رہی ہے۔

اس فزیکل ری ایکشن کے نتیجے میں وہ الیکٹرو میگنیٹک ریڈی ایشن (Electromagnetic Radiation) اور روشنی پیدا ہوتی ہے جسے قرآن 'ضحیٰ' کہہ رہا ہے۔ یہ سورج کی وہ پھیلی ہوئی انرجی فیلڈ (Energy Field) ہے جو زمین کے بائیو اسفیئر (Biosphere) کو گرماتی ہے، پودوں میں فوٹو سنتھیسز (Photosynthesis) کا عمل شروع کرواتی ہے اور سمندروں کے پانی کو بخارات میں بدل کر گلوبل واٹر سائیکل (Global Water Cycle) کو متحرک کرتی ہے۔

سورج کی اس اوریجنل انرجی کے فوراً بعد چاند کا ذکر کیا گیا جو سورج کے غروب ہونے کے بعد اس کا جانشین بنتا ہے۔ سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ چاند کی اپنی کوئی ذاتی چمک یا ریڈی ایشن نہیں ہے، بلکہ یہ سورج کی روشنی کو ایک خاص زاویے سے منعکس کرتا ہے جسے ہم فزکس کی زبان میں البیڈو ایفیکٹ (Albedo Effect) کہتے ہیں۔

امام فخر الدین رازیؒ اپنی مایہ ناز تفسیر میں اس مقام پر بڑی خوبصورت بحث کرتے ہیں کہ سورج اور چاند کا یہ تسلسل دراصل اس ربوبیت کی نشانی ہے جو زمین کو کسی بھی لمحے روشنی اور رہنمائی سے محروم نہیں رکھتی۔

چاند کا سورج کے پیچھے آنا (تلاہا) صرف روشنی کا تسلسل نہیں، بلکہ یہ ایک انتہائی کیلکولیٹڈ گریویٹیشنل ریزوننس (Calculated Gravitational Resonance) ہے جس کے تحت چاند زمین کے سمندروں میں مدوجزر (Tidal Waves) پیدا کرتا ہے، اور زمین کے محور (Axis) کو استحکام بخشتا ہے تاکہ زمین اپنے مدار پر ڈگمگا نہ جائے۔

اس سولر اور لونر ڈائنامکس (Solar and Lunar Dynamics) کو بیان کرنے کے بعد، الہامی فوکس ان مظاہر کے نتیجے میں زمین پر پیدا ہونے والے بائیولوجیکل اور سائیکولوجیکل اثرات کی طرف مڑتا ہے۔ اگلی دو آیات میں ارشاد ہوتا ہے:

"وَالنَّهَارِ إِذَا جَلَّاهَا"

(اور دن کی جب وہ اسے، یعنی سورج کو، خوب روشن کر دے)،

اور پھر فرمایا:

"وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا"

(اور رات کی جب وہ اسے چھپا لے)۔

یہاں زمین کی محوری گردش (Axial Rotation) اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ڈے اینڈ نائٹ سائیکل (Day and Night Cycle) کا ایک انتہائی سائنسی اور شاعرانہ ذکر ہے۔

دن کی روشنی محض اندھیرے کا خاتمہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا ایکٹیویشن پراسس (Activation Process) ہے جو انسان کے دماغ میں موجود پائنل گلینڈ (Pineal Gland) کو سگنل بھیجتا ہے کہ اب بیداری کا وقت ہو گیا ہے۔

دن کی روشنی ہمارے سرکیڈین ردم (Circadian Rhythm) کو ریگولیٹ کرتی ہے، ہمارے نروس سسٹم کو متحرک کر کے ہمیں معاشی دوڑ دھوپ اور پروڈکٹیویٹی (Productivity) کی طرف دھکیلتی ہے۔

آیت میں 'جلّیٰھا' کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا مطلب ہے کسی چیز کو مکمل طور پر ایکسپوز (Expose) کر دینا، اس کے ہر پہلو کو نمایاں کر دینا۔ دن کی یہ فوٹون ڈائنامکس (Photon Dynamics) زمین کے ہر حصے کو زندگی کی حرارت سے بھر دیتی ہے۔ لیکن چونکہ کوئی بھی بائیولوجیکل مشینری مسلسل کام نہیں کر سکتی، اسے ریچارجنگ اور سیلولر ریپیئر (Cellular Repair) کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے قدرت نے رات کا اندھیرا ڈیزائن کیا۔

'یغشاھا' کا مطلب ہے ڈھانپ لینا یا غلاف چڑھا دینا۔ رات کا اندھیرا ایک ایسا کولنگ میکانزم (Cooling Mechanism) ہے جو انسان کے دماغ میں میلاٹونن (Melatonin) ہارمون کی مقدار بڑھا دیتا ہے، جس سے اس کا نروس سسٹم ایک پرسکون ریچارجنگ فیز میں چلا جاتا ہے۔ یہ دن اور رات کا ایک پرفیکٹ آسکیلیشن (Perfect Oscillation) ہے، یہ وہ الہامی تھرموسٹیٹ (Thermostat) ہے جس کے بغیر زمین پر انسان کا میٹابولک توازن برقرار نہیں رہ سکتا اور وہ شدید بائیولوجیکل اور نفسیاتی بریک ڈاؤن (Breakdown) کا شکار ہو سکتا ہے۔

ان چار بنیادی اور زمینی مظاہر کی قسمیں کھانے کے بعد، قرآن کا کینوس اچانک مزید وسیع ہوتا ہے اور وہ پوری کائنات کے اسٹرکچرل ڈیزائن اور ارتھ سائنسز (Earth Sciences) کی بات کرتا ہے۔

اگلی آیات میں ربِ کائنات فرماتا ہے:

"وَالسَّمَاءِ وَمَا بَنَاهَا"

(اور آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اسے بنایا)،

اور پھر زمین کے فرش کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

"وَالْأَرْضِ وَمَا طَحَاهَا"

(اور زمین کی اور اس ذات کی جس نے اسے بچھایا)۔

آسمان کی 'بناوٹ' کوئی سادہ عمل نہیں ہے۔ جب ہم ایسٹرو فزکس کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، تو یہ اربوں کہکشاؤں، ڈارک میٹر (Dark Matter) اور ڈارک انرجی پر مشتمل ایک ایکسپینڈنگ یونیورس (Expanding Universe) ہے جس کا پورا سٹرکچر انتہائی نپے تلے فزیکل کانسٹینٹس (Physical Constants) پر کھڑا ہے۔

زمین کے اوپر موجود ایٹموسفیئر کی مختلف تہیں، بالخصوص اوزون لیئر (Ozone Layer) اور زمین کا اپنا میگنیٹک فیلڈ (Magnetic Field)، ایک ایسی حفاظتی شیلڈ بناتے ہیں جو خلا سے آنے والی مہلک الٹرا وائلٹ شعاعوں اور سولر ونڈز (Solar Winds) سے ہماری حفاظت کرتے ہیں۔

یہ وہ 'بناء' ہے، وہ الہامی چھت ہے جس کا ذکر قرآن کر رہا ہے۔ اور پھر یہ زمین، جس کے متعلق فرمایا گیا کہ ہم نے اسے 'طحاھا' یعنی پھیلایا اور بچھایا۔

ارضیات (Geology) کے ماہرین جانتے ہیں کہ زمین ایک گول اور تیز رفتار گھومتی ہوئی گیند ہے جس کے اندر کھولتا ہوا لاوا موجود ہے، لیکن اس کے باوجود اس کی ٹیکٹونک پلیٹس (Tectonic Plates) کو اس طرح متوازن کر کے بچھایا گیا ہے کہ یہ ہمارے لیے ایک پرسکون اور مستحکم ہیبی ٹیٹ (Stable Habitat) بنی ہوئی ہے۔

زمین کو اس گولڈی لاکس زون (Goldilocks Zone) میں رکھنا، جہاں نہ تو پانی جمے اور نہ ہی بخارات بن کر اڑ جائے، اور اس کی کرسٹ (Crust) کو انسان کے چلنے پھرنے، زراعت کرنے اور جدید انفراسٹرکچر قائم کرنے کے قابل بنانا، اس الہامی انجینئرنگ کا کمال ہے جس کی قسمیں کائنات کا خالق کھا رہا ہے۔

ان چھ کائناتی، ماحولیاتی اور انتہائی عظیم الشان مظاہر کی حلفیہ گواہیاں پیش کرنے کے بعد، اب یہ سورت اپنے سب سے بڑے، سب سے حساس اور کلائمیکس (Climax) کی طرف بڑھتی ہے۔

یہ وہ مقام ہے جہاں الہامی فوکس اس پوری کائنات کے سب سے پیچیدہ، سب سے پراسرار اور سب سے ایڈوانسڈ شاہکار کی طرف مڑتا ہے، اور وہ ہے انسان کی نفسیات، اس کی روح اور اس کا بائیولوجیکل ہارڈویئر! ساتویں آیت میں ایک زبردست اور الٹیمیٹ شفٹ (Ultimate Shift) آتا ہے:

"وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا"

(اور انسانی جان کی، اور اس ذات کی جس نے اسے کامل توازن دیا)۔

لفظ 'سوّاھا' عربی زبان کا ایک انتہائی گہرا اور وسیع لفظ ہے جس کا مطلب ہے کسی چیز کو اس کی تمام تر باریکیوں، تناسب اور ہم آہنگی کے ساتھ پرفیکٹ ڈیزائن (Perfect Design) کرنا، اس میں کیلیبریشن (Calibration) کرنا۔

انسان کا دماغ اس پوری کائنات میں دریافت ہونے والا سب سے کمپلیکس آرکیٹیکچر (Complex Architecture) ہے۔ اس کے اندر موجود چھیاسی ارب نیورانز (Neurons) کا نیٹ ورک، ان کے درمیان ہونے والی ٹریلینز کے حساب سے سنیپٹک فائرنگز (Synaptic Firings)، اس کا پری فرنٹل کورٹیکس (Prefrontal Cortex) جو اسے ریشنل، منطقی اور دور اندیش فیصلے کرنے کی غیر معمولی صلاحیت دیتا ہے، اور اس کا امیگڈالا (Amygdala) جو اس کے بنیادی جذباتی رسپانس اور بقا کی جبلتوں (Survival Instincts) کو ریگولیٹ کرتا ہے، ان سب کا ایک متوازن امتزاج ہی وہ 'تسویہ' (توازن) ہے جس کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو محض گوشت پوست کا پتلا نہیں بنایا، بلکہ اسے ایک ایسا بائیولوجیکل اور کاگنیٹو ہارڈویئر دیا ہے جو شعورِ اعلیٰ (Higher Consciousness) کو پروسیس کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ کائنات کی وہ تمام سمیٹری، وہ تمام ڈسپلن جو ہم نے سورج، چاند، دن، رات اور زمین و آسمان میں دیکھا، اللہ تعالیٰ نے اس تمام کی تمام ہارمنی (Harmony) کو سکیڑ کر انسان کے اس مائیکروکاسم (Microcosm) کے اندر فٹ کر دیا ہے۔

اور پھر آٹھویں اور سب سے انقلابی آیت آتی ہے جو ایوولیوشنری سائیکالوجی، مورالٹی (Morality) اور اخلاقی فلسفے کی پوری عمارت کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:

"فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا"

(پھر اس کی نافرمانی اور اس کی پرہیزگاری کا شعور اس پر الہام کر دیا، یا اس کی جبلت میں رکھ دیا)۔

یہ آیت انسانی نفسیات اور اس کے کاگنیٹو فریم ورک کا سب سے بڑا اعلان ہے۔

صدیوں تک سیکولر فلسفی اور مفکرین یہ بحث کرتے رہے کہ کیا انسان ایک کوری سلیٹ (Blank Slate / Tabula Rasa) پیدا ہوتا ہے اور یہ معاشرہ ہے جو اسے اچھائی یا برائی سکھاتا ہے، یا اس کے اندر کوئی پیدائشی تمیز موجود ہے؟

قرآنی فزکس کوری سلیٹ کے اس نظریے کو یکسر مسترد کرتی ہے۔

اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ ہم نے انسان کے اندر پیدائشی طور پر، اس کے ڈی این اے، اس کی اخلاقی جینیات (Moral Epigenetics) اور اس کے نیورولوجیکل سرکٹس (Neurological Circuits) میں برائی (فجور) اور اچھائی (تقویٰ) کی پہچان کو 'الہام' یعنی ہارڈوائر (Hardwire) کر دیا ہے۔

جدید سائنس آج اس بات کو تسلیم کرنے پر مجبور ہے کہ انسان کے اندر ایک انیٹ مورل انٹیوشن (Innate Moral Intuition) یا پیدائشی اخلاقی کمپاس موجود ہوتا ہے۔ دنیا کے کسی بھی معاشرے میں، خواہ وہ کتنا ہی پسماندہ کیوں نہ ہو، جھوٹ بولنے، دھوکہ دینے، قتل کرنے یا کسی کا حق مارنے کو اچھا نہیں سمجھا جاتا، اور ایمانداری، ایثار، اور ہمدردی کو ہمیشہ ایک اعلیٰ قدر (High Value) مانا جاتا ہے۔یہ اس لیے ہے کہ انسان کا اندرونی سسٹم برائی کے خلاف ریزسٹنس (Resistance) دکھاتا ہے۔ جب ایک انسان پہلی بار کوئی گناہ کرتا ہے، تو اس کے دل میں ایک خلش، ایک گھبراہٹ اور ایک گلٹ (Guilt) پیدا ہوتا ہے؛ یہ گلٹ دراصل اس کے بائیولوجیکل اور اخلاقی الارم کے بجنے کی نشانی ہے، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کا ہارڈویئر اس 'فجور' کو ریجیکٹ کر رہا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کی تمام قسمیں کھا کر دراصل انسان کو اس بات کا احساس دلایا ہے کہ جس طرح سورج اور چاند اپنے مدار کی پابندی کر کے اس کائنات کے فزیکل ایکوی لبریم (Physical Equilibrium) کو قائم رکھے ہوئے ہیں، بالکل اسی طرح اے انسان! تجھے جو یہ اندرونی اخلاقی سافٹ ویئر دیا گیا ہے، تیری بقا اور تیری ارتقائی کامیابی اسی میں ہے کہ تو اپنے اندر کے اس تقویٰ اور فجور کے فرق کو سمجھے اور اپنے شعور کو کائنات کی اس یونیورسل ہارمنی (Universal Harmony) کے ساتھ الائن (Align) کر لے۔

یہ وہ نقطہِ آغاز ہے جہاں سے انسانی روح کے تزکیے اور اس کے سائیکولوجیکل زوال کی حتمی مساوات شروع ہوتی ہے، جس کا انتہائی سنسنی خیز اور تاریخی پوسٹ مارٹم ہم اس تطبیق کے اگلے حصے میں کریں گے۔ اس حتمی مساوات (Ultimate Equation) کا پہلا حصہ جو انسانی شعور کی ارتقائی کامیابی کی ضمانت دیتا ہے، وہ سورۃ الشمس کی نویں آیت میں ایک انتہائی دو ٹوک، سائنسی اور الہامی قانون کے طور پر نازل ہوتا ہے۔

ارشادِ ربانی ہے: "قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا"

(یقیناً وہ شخص کامیاب ہو گیا جس نے اس نفس کو پاک کر لیا)۔

'تزکیہ' کا لفظ محض کسی ظاہری صفائی، چند روایتی عبادات کی ادائیگی یا کسی مخصوص حلیے کو اپنا لینے کا نام نہیں ہے، بلکہ اگر ہم اسے ماڈرن سائیکالوجی اور نیورو بیالوجی (Neurobiology) کی عینک سے دیکھیں، تو یہ ایک انتہائی ڈائنامک اور شعوری پراسس (Dynamic and Conscious Process) ہے۔

یہ دراصل اپنے خیالات، اپنے جذبات، اپنی حرص، اپنے تکبر اور اپنی حیوانی جبلتوں کو ایک منظم ڈسپلن کے ذریعے پاک کرنے کا نام ہے۔

میڈیکل سائنس میں نیوروپلاسٹی سٹی (Neuroplasticity) کا ایک مسلمہ قانون موجود ہے جسے ماہرِ نفسیات ڈونلڈ ہیب (Donald Hebb) نے پیش کیا تھا، جس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ "نیورانز دیٹ فائر ٹوگیدر، وائر ٹوگیدر" (Neurons that fire together, wire together)۔

یعنی انسان جن خیالات اور اعمال کی بار بار مشق کرتا ہے، اس کے دماغ کے اندر نیورانز کے وہی راستے اور سرکٹس (Neural Circuits) مضبوط ہوتے چلے جاتے ہیں۔ جب ایک انسان اپنے اندر موجود پیدائشی اچھائی (تقویٰ) کی آواز کو سنتا ہے، اور مسلسل سچائی، دیانت داری اور بندگی کا راستہ چنتا ہے، تو وہ دراصل اپنے دماغ کو دوبارہ ری وائر (Rewire) کر رہا ہوتا ہے۔

وہ اپنے پری فرنٹل کورٹیکس (Prefrontal Cortex) کو، جو منطق اور اعلیٰ اخلاقی فیصلوں کا مرکز ہے، اتنا طاقتور بنا لیتا ہے کہ وہ اس کے امیگڈالا (Amygdala) سے اٹھنے والے غصے، خوف اور لالچ کے طوفانوں کو آسانی سے کنٹرول کر لیتا ہے۔

جب انسان اس بائیولوجیکل اور نفسیاتی جدوجہد میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو وہ اپنے شعور کو ایک ہائیر فریکوئنسی (Higher Frequency) پر لے جاتا ہے۔ یہی وہ الٹیمیٹ ایوولیوشنری سکسیس (Ultimate Evolutionary Success) ہے جسے قرآن 'فلاح' کہتا ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں انسان فرشتوں سے بھی آگے نکل جاتا ہے کیونکہ فرشتے کے پاس انتخاب کا اختیار نہیں، جبکہ انسان اپنی فری ول (Free Will) کو استعمال کر کے اس نیورولوجیکل ہم آہنگی تک پہنچتا ہے۔

اس کے بالکل برعکس، اس مساوات کا دوسرا اور تاریک رخ دسویں آیت میں ان الفاظ کے ساتھ بیان ہوتا ہے:

"وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا"

(اور یقیناً وہ نامراد ہوا جس نے اسے گناہوں میں دبا دیا)۔

عربی لغت میں لفظ 'دسّاھا' کا مطلب ہے کسی چیز کو مٹی میں دبا دینا، اسے گدلا کر دینا، یا کسی چمکتی ہوئی چیز کو گرد آلود کر کے اس کی اصل چمک کو ختم کر دینا۔

جب انسان اپنی انیٹ مورلٹی (Innate Morality) یعنی اندر کی اس پیدائشی اخلاقی آواز کو دبا کر اپنی جانوروں جیسی جبلتوں، اپنی ہوس، لالچ اور اپنی انا کی اندھی پیروی کرتا ہے، تو وہ دراصل اپنی روح کو کرپٹ (Corrupt) کر رہا ہوتا ہے۔

فزکس کا دوسرا قانونِ تھرمو ڈائنامکس (Second Law of Thermodynamics) ہمیں بتاتا ہے کہ نظامِ ہستی میں ہر چیز انٹروپی (Entropy) یعنی زوال اور بے ترتیبی کی طرف مائل ہے۔ بالکل اسی طرح، انسانی نفسیات کے اندر بھی ایک سائیکولوجیکل انٹروپی (Psychological Entropy) کام کرتی ہے۔ اگر شعور کو ڈسپلن نہ کیا جائے، تو یہ خود بخود اخلاقی زوال کا شکار ہو جاتا ہے۔ جب انسان مسلسل گناہ کرتا ہے، تو اس کے دماغ کا ڈوپامین ریوارڈ سسٹم (Dopamine Reward System) ہیک ہو جاتا ہے، اور وہ رفتہ رفتہ اس اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو جاتا ہے کہ اسے اچھے اور برے کی تمیز ہی بھول جاتی ہے۔

اس کا پری فرنٹل کورٹیکس اس کی حیوانی جبلتوں کا غلام بن کر رہ جاتا ہے، اور اس کا وہ پیدائشی اخلاقی کمپاس ہمیشہ کے لیے دفن ہو جاتا ہے۔ یہی وہ الٹیمیٹ فیلئر (Ultimate Failure) اور وہ بدترین بائیولوجیکل ناکامی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے نامرادی اور خسارے سے تعبیر کیا ہے۔

یہ دو آیات دراصل انسان کی انفرادی نفسیات اور اس کی اخلاقی جینیات کا وہ حتمی فیصلہ ہیں جن پر اس کی موجودہ اور اگلی ڈائمینشن (Dimension) کی بقا کا مکمل انحصار ہے۔انسان کی اس انفرادی نفسیات اور اس کی ذاتی ذمہ داری کو پوری صراحت سے بیان کرنے کے بعد، قرآن کا کینوس اچانک ایک مائیکرو لیول سے اٹھ کر ایک میکرو لیول (Macro Level) پر چلا جاتا ہے، اور وہ ہمیں ایک ہسٹاریکل اور انتھروپولوجیکل کیس سٹڈی (Anthropological Case Study) پیش کرتا ہے کہ جب ایک پوری تہذیب تزکیہ کے بجائے 'فجور' اور سرکشی کا اجتماعی راستہ چنتی ہے، تو اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔

گیارہویں آیت میں ارشاد ہوتا ہے:

"كَذَّبَتْ ثَمُودُ بِطَغْوَاهَا"

(قومِ ثمود نے اپنی سرکشی کے باعث جھٹلایا)۔

قومِ ثمود، جس کے آثار آج بھی مدائنِ صالح کے علاقے میں موجود ہیں، تاریخ کی ایک انتہائی ایڈوانسڈ (Advanced) اور خوشحال تہذیب تھی۔ وہ پہاڑوں کو تراش کر قلعے بنانے اور چٹانوں میں محلات تعمیر کرنے کی مٹیریل انجینئرنگ (Material Engineering) اور آرکیٹیکچر میں تو کمالِ عروج تک پہنچ چکے تھے، لیکن ان کی مورل انجینئرنگ (Moral Engineering) اور ان کا اخلاقی اسٹرکچر مکمل طور پر زمین بوس ہو چکا تھا۔ ان کے اندر ایک شدید سوک ہبرس (Civic Hubris)، یعنی تہذیبی تکبر اور اپنی طاقت کا زعم پیدا ہو چکا تھا۔ جب انسان ٹیکنالوجی اور مادی ترقی میں بہت آگے نکل جاتا ہے، تو وہ اکثر خود کو خدا کے برابر سمجھنے کی نفسیاتی بیماری میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

قومِ ثمود نے بھی اپنے پیغمبر، حضرت صالح علیہ السلام کو، اور ان کے لائے ہوئے الہامی ضابطہِ حیات کو محض اس لیے جھٹلا دیا کیونکہ ان کا 'طغویٰ' (سرکشی) اس بات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تھا کہ ان جیسی سپر پاور کو بھی کسی کے سامنے جوابدہ ہونا پڑ سکتا ہے۔

یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ تہذیبوں کا زوال وسائل کی کمی سے نہیں، بلکہ ہمیشہ اخلاقی سرکشی اور نظریاتی تکبر سے شروع ہوتا ہے۔اس اجتماعی سرکشی اور اخلاقی زوال کا نقطہِ عروج بارہویں آیت میں ایک انتہائی ڈرامائی انداز میں بیان ہوتا ہے:

"إِذِ انبَعَثَ أَشْقَاهَا"

(جب ان کا سب سے بڑا بدبخت اونٹنی کو مارنے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا)۔

یہاں ایک فرد کا ذکر ہے جو اس پوری قوم میں سب سے زیادہ شقی اور بدبخت تھا، جس نے اس الہامی نشانی (اونٹنی) کو قتل کرنے کا بیڑا اٹھایا۔

لیکن جدید سوشیالوجی (Sociology) اور کلیکٹو سائیکالوجی (Collective Psychology) کا ایک اصول جسے ہم بائی سٹینڈرڈ ایفیکٹ (Bystander Effect) یا اجتماعی مجرمانہ خاموشی کہتے ہیں، وہ یہاں پوری طرح لاگو ہوتا ہے۔ اگرچہ وہ ایک شخص تھا جو تلوار لے کر اٹھا تھا، لیکن اس کے اس عمل کے پیچھے پوری قوم کی خاموش تائید، ان کا مورل سپورٹ (Moral Support) اور ان کی اجتماعی رضامندی شامل تھی۔ جب ایک سوسائٹی کے اندر فجور اس حد تک بڑھ جائے کہ برائی کرنے والے کو ہیرو سمجھا جانے لگے، اور معاشرے کے پڑھے لکھے، باشعور اور اشرافیہ کے لوگ اس برائی پر خاموش رہیں، تو پھر اس ایک شخص کا جرم اس پوری قوم کا اجتماعی جرم (Collective Guilt) بن جاتا ہے۔

یہ آیت ہمیں متنبہ کرتی ہے کہ جب کوئی معاشرہ اپنے اندر کے 'اشقیٰ' (سب سے برے انسان) کو لیڈر مان لے یا اس کے جرائم پر تالیاں پیٹنے لگے، تو وہ تہذیب اپنے خاتمے کے پروانے پر خود دستخط کر رہی ہوتی ہے۔ اس بغاوت سے قبل انہیں دی گئی وارننگ کا ذکر تیرہویں آیت میں کچھ یوں آتا ہے:

"فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ نَاقَةَ اللَّهِ وَسُقْيَاهَا"

(تو اللہ کے رسول صالح علیہ السلام نے ان سے کہا: اللہ کی اونٹنی اور اس کے پانی پینے کی باری سے خبردار رہنا)۔

اللہ تعالیٰ نے قومِ ثمود کی آزمائش کے لیے ایک معجزاتی اونٹنی بھیجی تھی، جسے پانی کے چشمے کے وسائل شیئر کرنے کا ایک ایکولوجیکل ٹیسٹ (Ecological Test) بنایا گیا تھا۔ ان سے کہا گیا تھا کہ ایک دن چشمے کا سارا پانی یہ اونٹنی پیے گی اور دوسرے دن تم سب پیو گے۔ یہ دراصل اس بات کا امتحان تھا کہ کیا ایک طاقتور تہذیب، جو وسائل پر اپنی اجارہ داری (Monopoly) قائم کر چکی ہے، وہ فطرت اور الہامی قوانین کا احترام کرتے ہوئے وسائل کی منصفانہ تقسیم (Resource Sharing) پر راضی ہے یا نہیں؟

آج کے جدید کیپیٹلزم (Modern Capitalism) میں بھی ہم یہی دیکھتے ہیں کہ چند طاقتور کارپوریشنز پوری دنیا کے پانی، زمین اور وسائل پر قابض ہو جانا چاہتی ہیں اور کمزوروں کے لیے کچھ نہیں چھوڑتیں۔ قومِ ثمود کا بھی یہی مسئلہ تھا۔ ان کی انا اور ان کے معاشی تکبر کے لیے یہ بات ناقابلِ برداشت تھی کہ ایک جانور ان کے پانی کے وسائل میں برابر کا شریک ہو۔ یہ محض ایک جانور کا مسئلہ نہیں تھا، بلکہ یہ اس باؤنڈری (Boundary) کا ٹیسٹ تھا جو خالق نے ان کے اور ان کی ہوس کے درمیان کھینچی تھی۔

لیکن ان کی سرکشی نے انہیں ایک بدترین اور الٹیمیٹ بغاوت پر اکسا دیا، جس کا انجام چودہویں آیت میں ایک انتہائی ہیبت ناک اور بے لاگ انداز میں بیان ہوتا ہے:

"فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُم بِذَنبِهِمْ فَسَوَّاهَا"

(لیکن انہوں نے اسے جھٹلا دیا اور اس اونٹنی کی کونچیں کاٹ کر اسے مار ڈالا، تو ان کے رب نے ان کے گناہ کے باعث ان پر ہلاکت ڈال کر انہیں پیوندِ خاک کر دیا اور وہ بستی برابر کر دی)۔

جب انہوں نے اس الہامی نشانی کو قتل کر دیا اور اپنے فجور کی آخری حدوں کو چھو لیا، تو کائنات کے ماسٹر مائنڈ کا ری ایکشن (Reaction) آیا۔

یہاں لفظ 'فدمدم' استعمال ہوا ہے جو عربی لغت میں کسی ایسی آواز، چیخ یا لرزے کو کہتے ہیں جو مسلسل، شدید اور نہ رکنے والا ہو۔

ارضیاتی اور سائنسی شواہد سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک ہولناک زلزلہ تھا، یا کوئی ایسا طاقتور اکوسٹک ویپن (Acoustic Weapon) یعنی ایک ایسی صوتی لہر اور صیحہ تھا جس کی فریکوئنسی (Frequency) اتنی زیادہ تھی کہ اس نے ان کے نروس سسٹم کے پرخچے اڑا دیے اور ان کے تراشے ہوئے مضبوط محلات کو ریت کے گھروندوں کی طرح زمین بوس کر دیا۔ یہ کوئی عام طبعی تباہی یا روایتی زلزلہ نہیں تھا، بلکہ یہ نظامِ قدرت کا ایک انٹروپک ری سیٹ (Entropic Reset) تھا، ایک ایسا کائناتی سیلف کریکشن پراسس (Self-correction Process) تھا جس نے اس پوری سرکش تہذیب کو تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک کر زمین کو ان کی غلاظت سے پاک کر دیا۔

لفظ 'سوّاھا' کا مطلب ہے کہ اللہ نے اس ہلاکت کو چھوٹے، بڑے، امیر، غریب، لیڈر اور عوام سب پر یکساں اور برابر کر دیا، کسی کا محل یا کسی کی طاقت اسے اس الہامی عذاب کے ریڈار سے نہیں بچا سکی۔ یہ سورت اپنے اختتام پر پندرہویں آیت میں ایک ایسے الٹیمیٹ، جلال سے بھرپور اور فائنل سٹیٹمنٹ (Final Statement) پر ختم ہوتی ہے جو اللہ کی ایبسولیوٹ آٹانومی (Absolute Autonomy) اور اس کی بے نیازی کا حتمی اعلان ہے:

"وَلَا يَخَافُ عُقْبَاهَا"

(اور اسے، یعنی اللہ کو، اس کے انجام کا کوئی ڈر نہیں)۔

دنیا کے طاقت ور ترین حکمران، عالمی مقتدرہ یا سپر پاورز بھی جب کسی کمزور ملک پر حملہ کرتے ہیں یا کوئی بڑا فیصلہ کرتے ہیں، تو انہیں اس کے بعد پیدا ہونے والے جیو پولیٹیکل بیک لیش (Geopolitical Backlash)، معاشی پابندیوں، عوامی ردعمل یا کولٹرل ڈیمیج (Collateral Damage) کا خوف ضرور ہوتا ہے۔ ہر انسانی طاقت اپنے فیصلوں کے نتائج (Consequences) سے ڈرتی ہے اور ایک حد تک محدود ہوتی ہے۔ لیکن وہ رب، جس نے اس کائنات کے اربوں بلیک ہولز، سپر نووا اور کہکشاؤں کو ڈیزائن کیا ہے، جس کے کنٹرول میں فزکس اور بیالوجی کے تمام قوانین ہیں، جب وہ کسی سرکش تہذیب کو صفحہِ ہستی سے مٹانے کا فیصلہ کرتا ہے، تو اس سے باز پرس کرنے والا، اس کے احتساب کا تقاضا کرنے والا یا اسے کسی انجام سے ڈرانے والا اس پورے عالمِ ہستی کے فریم ورک میں کوئی موجود نہیں۔ وہ ہر جوابدہی سے بالا، ہر ڈر سے پاک اور مکمل طور پر خود مختار ہے۔

یہ ہے سورۃ الشمس کا وہ مکمل الہامی پیغام، وہ بائیولوجیکل حقیقت اور وہ کائناتی فریم ورک جو آج کے اس جدید، سائنس کی چکاچوند میں گم اور مادیت پرست انسان کے سامنے ایک شفاف آئینہ رکھ دیتا ہے۔ یہ سورت ہمیں اپنے جلال اور جمال سے جھنجھوڑ کر یہ یاد دلاتی ہے کہ آسمان کی لامحدود وسعتیں ہوں، سورج کی الیکٹرو میگنیٹک چمک ہو، چاند کا کششِ ثقل پر مبنی رقص ہو، یا زمین کا پھیلاؤ، یہ سب ایک پرفیکٹ، نپے تلے اور ڈسپلنڈ نظام کے تحت چل رہے ہیں۔

اس پوری کائنات میں صرف انسان کا شعور واحد ایسی چیز ہے جسے ایک فری ول دے کر ایک خطرناک آزمائش میں ڈالا گیا ہے۔ اگر ہم اپنی اخلاقی جینیات کو نیوروپلاسٹی سٹی اور الہامی ہدایات کے ذریعے تزکیہ کی طرف لے جائیں گے، تو ہم اس کائناتی سمیٹری کا حصہ بن کر ابدی ارتقائی فلاح پا لیں گے۔ اور اگر ہم نے تکبر، ہوس اور سرکشی کا وہ راستہ چنا جو آج کا عالمی استعماری نظام ہمیں دکھا رہا ہے، تو پھر یاد رکھیں کہ قومِ ثمود کی طرح قدرت کا انٹروپک ری سیٹ (Entropic Reset) کسی بھی وقت حرکت میں آ سکتا ہے، جو ہماری ٹیکنالوجی، ہمارے فنانشل سسٹمز اور ہمارے تکبر کو تاریخ کی عبرتناک گرد میں دفن کر دے گا۔ فیصلہ، بہرحال، انسان کے اپنے ہاتھ اور اس کے اپنے شعور میں محفوظ کر دیا گیا ہے۔

کالم نگار : بلال شوکت آزاد
| | |
42