ہم نے شورش کاشمیری کی خطابت کی جولانیاں صرف کتابوں میں پڑھیں، ابوالکلام آزاد کے ادب افروز خطبات کا تذکرہ سنا،اور پڑھا، عطاء اللہ شاہ بخاری کی شعلہ بیانی کے افسانے پڑھے، حضرت حکیم الامت اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کی حکمت و دانائی سے مزین مجالس کے تذکرہ صرف پڑھا، انور شاہ کشمیری کے علمی دقائق اور مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ کی سیاسی بصیرت کے قصے سنے،مگر قدرت نے ہمیں یہ سعادت بخشی کہ تقریباً ان تمام اوصاف کا حسین امتزاج مولانا طیب کشمیری صاحب کی ذاتِ گرامی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
وہ محض ایک خطیب نہ تھے، ایک انجمن تھے؛محض ایک عالم نہ تھے، ایک دبستان تھے۔ان کی مجلس میں علم بھی تھا اور ادب بھی،تحقیق بھی تھی اور دردِ ملت بھی،فکر کی گہرائی بھی تھی اور طبیعت کی شگفتگی بھی۔کبھی گفتگو میں ابن تیمیہ اور ابن القیم الجوزیہ جیسی جرأتِ نقد جلوہ گر ہوتی،تو کبھی یارانِ مجلس کے ساتھ ایسی بے تکلف مسکراہٹیں بکھرتیں کہ محفل گلزار ہوجاتی۔اکابرین کا ذکر چھیڑتے تو آواز بھرّا جاتی،آنکھیں اشک بار ہوجاتیں اور محسوس ہوتا کہ محبت، وفا اور نسبت ابھی اس دنیا سے رخصت نہیں ہوئیں۔
ان کے دسترخوان پر امیر و غریب، عالم و عامی کی کوئی تفریق نہ تھی۔چائے کے دور چلتے رہتےاور مجلس یوں آباد رہتی جیسے علم، محبت اور خلوص نے ایک ہی جگہ بسیرا کرلیا ہو۔
آہ۔ ! کیا ہستی رخصت ہوئی ایسا لگتا ہے جیسے ایک شخص نہیں، کئی زمانے اٹھ گئے ہوں۔وہ اپنی ذات میں ایک انجمن، ایک مدرسہ، ایک لائبریری، ایک تحریک اور ایک محبت بھرا جہان تھے۔ایسے لوگ جب دنیا سے رخصت ہوتے ہیں تو صرف ایک گھر یا ایک محفل نہیں،رفتہ رفتہ سب اجڑ جاتا ہے۔رب العزت مولانا کی کامل مغفرت فرمائے پسماندگان کو صبر کی دولت نصیب فرمائے ان کی زندگی کو مشعل راہ بنا کر چلنے کی توفیق نصیب فرمائے آمین یارب العالمین