(+92) 319 4080233
کالم نگار

یوسف سراج

یوسف سراج

پروفائل | تمام کالمز
2026/05/31
موضوعات
جواد احمدکی جنیدجمشید شہیدؒ پر تنقید
جواد احمد،وہی کسی دور کے چلے ہوئے کارتوس گلو کار صاحب،جنھیں یہ نہیں پتہ کہ وہ گلوکار ہیں؟ سیاستدان ہیں؟ یا کسی کے خلاف بغیر صلاحیت کے اتارے گئے کارندے ہیں؟ جنھیں خود اپنے اصلی کردار کے بارے نہیں پتہ۔ جن کی حقیقت کے بارے لوگوں کو کچھ نہیں پتہ، کیسی تعجب کی بات کہ وہ حضرت بھی ایک کفن اوڑھے شخص کے بارے منافقت کے فتوے بانٹنے لگے ہیں۔

فرمایا کہ جنید جمشید منافق شخص تھے، اچھا جی یہ انکشاف آپ پر کب اور کیسے ہوا؟ اجی اس لئے کہ وہ گلوکاری سےمشہور ہوئے اور پھر گلوکاری ہی چھوڑ دی۔ یعنی جواد احمد کے نزدیک گلوکاری چھوڑ دینا منافقت ہے۔ واہ سبحان اللہ ،علم ہو تو ایسا ، عقل ہو تو ایسی اور اتنی؟؟بے چارہ نہیں جانتا کہ جنید جمشید نے دل دل پاکستان گایا تو وہ شہرت کی ان بلندیوں تک پہنچ گیا، جہاں جواد احمد دس دفعہ الٹا ہوکر بھی نہیں پہنچ سکتا۔ شہرت کی اس بلندی سے اس نے گلوکاری اللہ کے لیے چھوڑی اور پھر کبھی اس کوچے میں قدم نہ رکھا، بھری جوانی اور شہرت کے نصف النہار پر ہوتے ہوئے بھی یوں یکایک گلوکاری ترک کرکے دین اپنا لینا کوئی معمولی بات نہیں ہوتی۔ یہ بڑے حوصلے اور عزیمت کے کام ہوتے ہیں، جن پر گفتار کے غازی نہیں ،کردار کے صاحب عزیمت لوگ ہی چل پاتے ہیں۔ یہی جنید جمشید نے کیا اور پھر زندگی بھر اس پر ثابت قدم رہ کے بھی دکھایا۔ جواد احمد کی کیسی پست اورسطحی لاجک کہ جس ذریعے سے شہرت ملے ، اسے چھوڑ دینا منافقت ہے، یہ گاؤدی شخص اتنا نہیں جانتا کہ شہرت کبھی بھی کسی سبب سے نہیں ملتی، جو ملتا ہے، مسب الاسباب سے ملتا ہے۔ کبھی بھی کوئی سبب الہ اور ذریعہ عطا نہیں ہوتا ، مسبب الاسباب ہی حقیقتا دینے والا ہوتا ہے۔

کیسی حماقت والی بات کہ رزق کی قدر کی جائے اور رازق کی نافرمانی کی جائے؟ بالفرض فائدہ شیطان سے ہو تو سچا الہ چھوڑ کر شیطان کو الہ بنا لیا جائے؟ گلوکاری سے شہرت ملے تو اسی شہرت کے چاؤ میں جہنم خرید لی جائے؟؛جنید جمشید جانتا تھا، وسائل نہیں، وسائل والا عزت و شہرت عطا کرتا ہے، اس نے وسیلے کی نہیں مانی، وسیلے والے کی مانی، گلوکاری ترک کی، ہزاروں دلوں میں جگہ بنائی اور وہ قبر میں لیٹا آج تک وہ عزت پا رہا ہے۔ جو منافق کہنے والے گلوکار کو چھو کر بھی نہیں گزری۔

ویسے گلو کار صاحب کی فکری تربیت اور اصلاح مزاج کیلئے اتنا بتا دوں کہ مدینے والے ہمارے سید و حبیب نے گانا گانے کو نفاق کہا ہے، گانا چھوڑنے کونہیں، یوں شریعت کی نظر میں اگر کسی کو منافق کہا جا سکتا ہے تو وہ کم از کم جنید جمشید نہیں۔ وہ کون ہے؟ ٹھنڈے دل سےحضور والا خود غور کر لیں اور فوت شدگان کی قبریں نوچنے اور زندہ ہوکر بھی مردوں کی طرح بول کے کفن پھاڑنے سے باز رہیں۔

مأخَذ

سوشل میڈیا سے انتخاب

کالم نگار : یوسف سراج
| | |
33