(+92) 319 4080233
کالم نگار

ڈاکٹر ناصر خان

ڈاکٹر ناصر خان

پروفائل | تمام کالمز
2026/05/31
موضوعات
معاشرے میں طلاق کا بڑھتا ہوا رجحان
ایک طلاق یافتہ خاتون( فرضی نام عشرت بیگم) رقمطراز ہیں: میں آپ کو یہ بات سمجھانے کے لیے لکھ رہی ہوں کہ اپنے شریک حیات کی خوبیوں کی قدر کرنا ضروری ہے، چاہے ان میں خامیاں ہوں۔میری عمر 32 سال ہے۔میرے سابق شوہر اور میں نے 6 سال تک ڈیٹ کی۔ہم بہترین دوست تھے۔میں نے انتظار کیا یہاں تک کہ اس نے کالج مکمل کر لیا اور کام شروع کر دیا۔پھر میرے خاندان اور اس کے خاندان نے ملاقات کی۔ ہماری شادی ہوئی اور ہمارا ایک بیٹا ہوا۔ [اب 7 سال کا ہے]۔میرا شوہر کبھی کبھار غصے میں آ جاتا تھا لیکن ہمارے مسائل تب شروع ہوئے جب میں نے اسے یہ محسوس کرانا چاہا کہ وہ مجھے کنٹرول نہیں کر سکتا۔جب بھی ہم جھگڑتے، میں اپنا سامان باندھ کر اپنے خاندان کے پاس چلی جاتی اور انہیں صورتحال سمجھاتی۔میری بہنیں میرے شوہر کو فون کرتیں اور اس پر چیختیں۔ اگر وہ مجھے کنٹرول کرنے کی کوشش کرتا تو میں ہمیشہ اسے کہتی کہ اگر وہ چاہے تو مجھے طلاق دے سکتا ہے۔میں کبھی طلاق نہیں چاہتی تھی۔مجھے صرف اپنی عزت کا خیال تھا اور میں کبھی بھی اس کی نظروں میں ایک کمزور عورت نہیں بننا چاہتی تھی۔ایک دن میں نے اسے اتنا تنگ کیا کہ پہلی بار اس نے مجھے مارا اور گھر سے باہر نکال دیا۔میں اپنے خاندان کے پاس چلی گئی، میرے خاندان نے اسے پولیس میں رپورٹ کر دیا، ہر بار ایسا لگتا تھا جیسے میں ہی مظلوم ہوں!لیکن حقیقت میں، میں اپنے شوہر کو جذباتی طور پر تکلیف پہنچاتی تھی۔اسے گرفتار کر لیا گیا اور حراست میں رکھا گیا۔اس کے خاندان نے مجھ سے کیس واپس لینے کو کہا۔مجھے محسوس ہوا کہ میں غلط کر رہی ہوں۔میرا شوہر کبھی بھی پرتشدد انسان نہیں تھا، اس نے جو کیا وہ اس لیے کیا کیونکہ میں نے اسے مجبور کیا اور اس نے کھلے دل سے معافی مانگی۔میں نے کیس واپس لے لیا، اور ہم دوبارہ مل گئے۔تین ماہ بعد، ایک چھوٹے مسئلے پر میں نے پھر سے اپنا سامان باندھ لیا اور وہ اکیلا رہ گیا۔دو دن بعد، مجھے کال آئی کہ وہ ہسپتال میں ہے۔میرے خاندان نے مجھے کہا کہ وہاں نہ جاؤں کیونکہ ایسا لگے گا جیسے میں اسے منانے جا رہی ہوں اور میری بہنیں مانتی تھیں کہ وہ بیماری کا ڈرامہ کر رہا ہے۔اس دوران، لوگ مجھے مظلوم سمجھتے رہے جیسے میں ہی ظلم کا شکار ہوں۔وہ ایک ہفتہ ہسپتال میں رہا، جب وہ واپس آیا، مجھے صرف طلاق کا نوٹس ملا۔میں طلاق کو رد کرنا چاہتی تھی، لیکن میرے غرور کی وجہ سے، میں چاہتی تھی کہ وہ اپنا فیصلہ بدلے اور مجھ سے معافی مانگے۔میں نے اسے فون کیا اور کہا کہ اسے طلاق مل جائے گی کیونکہ میں جہنم میں جی رہی تھی۔جب ہم عدالت گئے، میں چاہتی تھی کہ وہ قیمت چکائے، اس لیے میں نے عدالت سے کہا کہ اس کی جائیداد تقسیم کی جائے۔میری حیرت کی بات یہ تھی کہ اس نے کھلے عام عدالت کو بتایا کہ جو کچھ بھی ہم نے اکٹھا حاصل کیا ہے وہ مجھے دیا جائے، اسے صرف طلاق چاہیے۔ہم جولائی 2009 میں طلاق یافتہ ہو گئے۔اب، میرا شوہر شادی شدہ ہے، جبکہ میں یہاں برباد ہو رہی ہوں!میرے خاندان والے میرے بارے میں چغلی کرتے ہیں۔میں اپنی بقا کے لیے اپنے بیٹے کے لیے جو میرے سابق شوہر دیتا ہے، اس پر انحصار کرتی ہوں۔مجھے معلوم ہے کہ میں نے اپنی شادی برباد کی۔میں یہاں تمام بیویوں کو بتا رہی ہوں کہ انہیں مشورہ لیتے وقت احتیاط کرنی چاہیے۔دھوکہ نہ کھائیں، اپنے خاندان کی مداخلت کو اپنی شادی میں نہ آنے دیں یہاں تک کہ میری چھوٹی بہنیں بھی مجھ سے زیادہ عزت پاتی ہیں۔جن لوگوں نے مجھے طلاق لینے کی ترغیب دی، وہ ہمیشہ میرا مذاق اڑاتے ہیں اور میرے بارے میں بری باتیں کرتے ہیں۔براہ کرم خواتین، اپنی شادی میں چوکسی سے کام لیں۔غرور میں کوئی فائدہ نہیں۔کبھی کبھی یہ مرد کا قصور نہیں ہوتا، یہ آپ کا غرور ہوتا ہے، اور وہ لوگ جو آپ کو مشورہ دیتے ہیں، اس لیے اپنی شادی میں ہوشیار اور چوکنا رہیں۔
بڑھتا ہوا سرطان:
ایک وقت تھا جب ہمارے معاشرے میں لفظ "طلاق" کا ذکر بھی معیوب سمجھا جاتا تھا اور لوگ اسے چھپانے کی کوشش کرتے تھے۔ لیکن وقت کے ساتھ سماجی رویے بدل گئے ہیں، اور اب یہ لفظ نہ صرف عام طور پر بولا جاتا ہے بلکہ طلاق کی شرح میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ادارہ شماریات کے مطابق، گزشتہ پانچ سالوں میں طلاق کی شرح میں 35 فیصد اضافہ ہوا ہے، اور ملک میں طلاق یافتہ خواتین کی تعدادتقریباً 4 لاکھ 99 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔پاکستان میں طے شدہ شادیاں(ارینجڈشادیاں) 4 فیصد طلاق کی شرح رکھتی ہیں جبکہ محبت کی شادیوں کی طلاق کی شرح 55 فیصد ہے۔یہ ایک اہم سماجی مسئلہ ہے جو مختلف وجوہات کی بنا پر بڑھ رہا ہے۔ طلاق کے بڑھنے کی وجوہات کو سمجھنا ضروری ہے، جن میں میاں بیوی کے درمیان عدم ہم آہنگی، مالی مسائل، جذباتی ناچاقی، سماجی دباؤ، اور خواتین کی خود مختاری کی بڑھتی ہوئی سوچ شامل ہیں۔
سب سے بڑی اور بنیادی وجہ:
طلاق کی سب سے بڑی وجہ، جو میرے سروے میں نمایاں ہو کر سامنے آئی، وہ نئی نویلی شادی شدہ لڑکیوں کی اپنی ماؤں یا بڑی بہنوں کے ساتھ غیر معمولی موبائل رابطے ہیں۔ یہ لڑکیاں اپنے سسرال میں ہونے والی ہر چھوٹی بڑی بات کو روزانہ تفصیل سے اپنی ماں یا بہن کے ساتھ شیئر کرتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں، ان کی مائیں یا بہنیں نہ صرف ان باتوں کو اپنی رائے یا جذبات کے ساتھ مزید پیچیدہ بناتی ہیں، بلکہ اکثر لڑکی کو مختلف معاملات میں غیر ضروری مشورے اور ہدایات بھی دیتی ہیں۔ یہ عمل نہ صرف نئے رشتے میں اعتماد کو کمزور کرتا ہے بلکہ لڑکی کے شوہر اور اس کے خاندان کے ساتھ تعلقات میں غلط فہمیاں اور تناؤ بھی پیدا کرتا ہے۔ مداخلت کے اس انداز کی وجہ سے میاں بیوی کے درمیان معاملات کو خود حل کرنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے، اور چھوٹے مسائل وقت کے ساتھ بڑے تنازعات کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ طلاق کے بڑھتے ہوئے رجحان میں ماؤں کا کردار انتہائی اہم اور قابل غور ہے، چاہے وہ لڑکے کی ماں ہو یا لڑکی کی۔ دونوں صورتوں میں، مائیں اکثر ایسی منفی سوچ کو فروغ دیتی ہیں جو رشتے کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ بہت سی مائیں اپنی بیٹیوں کو یہ سکھاتی رہتی ہیں کہ سسرال میں اپنا "اثر و رسوخ" قائم کرنا ضروری ہے۔ وہ اپنی بیٹیوں کو یہ مشورہ دیتی ہیں کہ شوہر کو اپنی "مٹھی میں" رکھنے کی کوشش کریں اور گھر کے ہر معاملے میں نہ صرف شامل ہوں بلکہ حاوی ہونے کی کوشش کریں۔ یہ تربیت یا ہدایت اکثر رشتوں میں کشیدگی پیدا کرتی ہے، کیونکہ ایسی سوچ نہ صرف شوہر کے ساتھ تعلقات کو کمزور کرتی ہے بلکہ سسرال کے دیگر افراد کے ساتھ بھی اختلافات کو جنم دیتی ہے۔ دوسری طرف، لڑکے کی مائیں بھی بعض اوقات اپنے بیٹوں کو اپنی بیویوں پر شک کرنے یا انہیں کنٹرول میں رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں، جو ازدواجی تعلقات کو مزید خراب کر دیتی ہے۔
جذباتی اور بے جوڑ رشتے:
طلاق کی دوسری بڑی وجہ محبت کی شادیوں کو قرار دیا جا سکتا ہے۔ محبت کی شادی کرنے والے افراد عموماً بہت زیادہ توقعات کے ساتھ یہ فیصلہ کرتے ہیں۔ یہ توقعات اکثر فلموں، ڈراموں، اور رومانوی کہانیوں کے ذریعے پیدا ہونے والے خوابوں پر مبنی ہوتی ہیں، جو حقیقت سے کافی دور ہوتی ہیں۔ جب شادی کے بعد حقیقی زندگی کے مسائل، مالی ذمہ داریاں، اور روزمرہ کی زندگی کے چیلنجز سامنے آتے ہیں تو یہ جوڑے ان کا سامنا کرنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں۔ ان کی توقعات ٹوٹ جاتی ہیں، اور وہ اپنے شریک حیات میں وہ کامل تصویر نہیں دیکھ پاتے جو انہوں نے اپنی ذہنی سوچ میں بنائی تھی۔ محبت کی شادی میں جذبات پر مبنی فیصلے اکثر عملی پہلوؤں کو نظر انداز کر دیتے ہیں، جیسے کہ خاندانی ہم آہنگی، معاشرتی تقاضے، اور شخصیت کے فرق۔ جب جذباتی لمحوں کا اثر کم ہوتا ہے تو حقیقت کا سامنا کرنے پر کئی بار رشتے کمزور ہو جاتے ہیں۔یہ بات طے شدہ ہے کہ جب دو لوگ مختلف توقعات، اقدار، اور طرز زندگی کے ساتھ صرف محبت کے بل بوتے پر شادی کرتے ہیں، تو ان کے درمیان مستقل تناؤ اور ناخوشی پیدا ہو سکتی ہے۔ دونوں افراد اپنی ضروریات پوری نہ ہونے کی وجہ سے عدم اطمینان محسوس کرتے ہیں۔ مسائل حل کرنے میں دشواری پیش آ تی ہے اور وہ ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھنے اور مشترکہ حل پر پہنچنے میں ناکام رہتے ہیں۔ نتیجتاً غلط فہمیاں بڑھتی ہیں،جذباتی دوری پیدا ہوتی ہے جو بالآخر طلاق پر منتج ہوتی ہے۔
تعلیم کے ساتھ تربیت بھی لازم ہے:
طلاق کی شرح میں اضافے کی ایک اہم وجہ یہ بھی سامنے آئی ہے کہ لڑکیاں اب زیادہ تعلیم یافتہ ہو گئی ہیں اور اپنے حقوق سے بہتر طور پر آگاہ ہیں۔ وہ یہ سمجھنے لگی ہیں کہ ان کی زندگی کے فیصلے ان کی مرضی کے مطابق ہونے چاہئیں، اور اگر شادی شدہ زندگی میں ان کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہو یا وہ خوش نہ ہوں تو طلاق کا حق استعمال کرنا ان کا اختیار ہے۔ تعلیم یافتہ خواتین اپنی عزت نفس اور خود مختاری کو زیادہ اہمیت دیتی ہیں۔ وہ نہ صرف اپنے حقوق بلکہ اپنی خواہشات اور خوابوں کو بھی سمجھتی ہیں۔ نتیجتاً، وہ ایسے رشتے میں رہنے سے انکار کر دیتی ہیں جہاں انہیں عزت، محبت، اور برابری کا مقام نہ ملے۔یہ خرابی تعلیم سے نہیں آئی بلکہ سراسر تربیت کا فقدان ہے۔ تعلیم کے ساتھ تربیت بھی اتنی ہی اہم ہے، بلکہ بعض اوقات تو اس سے بھی زیادہ ورنہ انسان اپنے تئیں درست سمت پر گامزن ہوگا لیکن درحقیقت اپنا نقصان کر بیٹھے گا۔صرف کتابی علم حاصل کر لینا کافی نہیں ہوتا۔ اس علم کو عملی زندگی میں کیسے استعمال کرنا ہے، مسائل کو کیسے حل کرنا ہے، دوسروں کے ساتھ کیسے پیش آنا ہے اور بالخصوص خانگی معاملات میں کیسا برتاو کرنا ہے ؟؟ یہ سب تربیت کے ذریعے ہی سیکھا جاتا ہے۔ تعلیم آپ کو معلومات اور نظریات فراہم کرتی ہے، جبکہ تربیت آپ کو ان معلومات کو استعمال کرنے اور مہارتیں حاصل کرنے کا طریقہ سکھاتی ہے۔ یہ ایک طرح سے علم کی عملی شکل ہے۔ایک اچھے مستقبل کے لیے دونوں کا ہونا لازمی ہے۔ ایک شخص جو صرف تعلیم یافتہ ہے لیکن اس میں عملی مہارتیں اور آداب نہیں ہیں، وہ زندگی کے میدان میں پیچھے رہ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل لڑکیاں کچھ پڑھ لکھ کر کسی کو خاطر میں نہیں لاتیں اگرچہ مد مقابل شوہر ہی کیوں نہ ہو۔ طلاق کی شرح میں اضافے کی ایک اور اہم وجہ خود مختار زندگی گزارنے کی خواہش ہے۔ آج کی خواتین نہ صرف اپنے تعلیمی اور پیشہ ورانہ سفر میں آگے بڑھ رہی ہیں بلکہ وہ اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کی خواہش بھی رکھتی ہیں۔ یہ خواہش انہیں ایک ایسے رشتے میں رہنے سے روکتی ہے جہاں انہیں محدود کیا جائے یا ان کی آزادی پر پابندی لگائی جائے۔ خود مختاری کی یہ خواہش اس بات کا ثبوت ہے کہ خواتین اب اپنی صلاحیتوں اور خود اعتمادی پر یقین رکھتی ہیں۔ وہ یہ سمجھتی ہیں کہ ان کی زندگی کا مقصد صرف گھر کی چار دیواری میں محدود رہنا نہیں بلکہ اپنی قابلیت کے ذریعے اپنی پہچان بنانا اور سماج میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ تاہم، یہ خواہش بعض اوقات ازدواجی رشتے میں چیلنج پیدا کرتی ہے، خاص طور پر جب شوہر یا سسرال کے لوگ اس آزادی کو قبول نہیں کرتے یا اسے رشتے کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔
طلاق میں کمی کے عملی اقدام:
اگر طلاق کی شرح میں کمی کرنی ہے تو اس کے لیے مردوں اور عورتوں دونوں کو اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔ وہ لڑکیاں جو اپنی ماؤں سے اپنی ازدواجی زندگی کے بارے میں مسلسل ہدایات لیتی رہتی ہیں، انہیں یہ رویہ ترک کرنا ہوگا۔ انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ازدواجی زندگی کے چھوٹے موٹے مسائل ہر گھر میں ہوتے ہیں، اور انہیں خود ان مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت پیدا کرنی چاہیے۔ دوسری جانب، ماؤں کو بھی اپنی بیٹیوں کو یہ سمجھا کر رخصت کرنا چاہیے کہ ازدواجی مسائل کو خود سمجھداری سے حل کرنا ایک مضبوط اور کامیاب شادی کا بنیادی عنصر ہے۔اسی طرح، ہر ماں کو اپنی بہو کے ساتھ وہی رویہ اپنانا چاہیے جو وہ اپنی بیٹی کے لیے توقع کرتی ہے۔ اگر بہو کو عزت، محبت، اور تعاون دیا جائے تو وہ خود کو اس خاندان کا حصہ محسوس کرے گی اور ازدواجی زندگی میں زیادہ خوشی اور ہم آہنگی کا مظاہرہ کرے گی طلاق کی شرح کم کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ میاں بیوی کی ذاتی زندگی میں دیگر افراد کی مداخلت کو محدود کیا جائے۔ قریبی رشتہ دار، خصوصاً والدین اور بہن بھائی، اکثر بلا وجہ میاں بیوی کے تعلقات میں شامل ہو کر مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ میاں بیوی کو اپنی ازدواجی زندگی کے مسائل کو خود سمجھنے اور حل کرنے کے لیے مکمل آزادی اور جگہ فراہم کی جانی چاہیے، اور ان کی پرائیویسی کا احترام کیا جانا چاہیے۔ یہ عمل نہ صرف ان کے رشتے کو مضبوط بناتا ہے بلکہ ان کے درمیان اعتماد اور محبت کو بھی فروغ دیتا ہے۔ جب جوڑے کو اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کی آزادی دی جاتی ہے، تو وہ بہتر طور پر ایک دوسرے کو سمجھ سکتے ہیں اور اپنے تعلق کو مستحکم بنا سکتے ہیں۔ اسکول اور کالج کی سطح پر ایسی تعلیم کا شامل کیا جانا نہایت ضروری ہے جو نوجوانوں کو ازدواجی تعلقات کے احترام اور ان کے صحیح انتظام کی سمجھ فراہم کرے۔ اس تعلیمی نظام کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ نوجوانوں کو رشتوں کی اہمیت، باہمی احترام، برداشت، اور تعلقات میں پیش آنے والے چیلنجز کو سمجھنے کی تربیت دی جائے۔میڈیا اور ادب کے ذریعے بھی ازدواجی تعلقات کے آداب اور احترام سکھایا جانا چاہیے۔ میڈیا میں مختلف ٹی وی پروگرامز، فلمیں، اور ڈرامے ایسے مواد فراہم کر سکتے ہیں جو شادی کے مثبت پہلوؤں کو اجاگر کریں، جیسے کہ ایک دوسرے کا احترام، محبت، اور سمجھوتہ۔ ادب میں بھی یہ موضوعات اہمیت رکھتے ہیں، جہاں کہانیاں اور شاعری میں انسانوں کے آپسی ربط اور معاشرتی اصولوں کو پیش کیا جا سکتا ہے۔ ان ذرائع سے نہ صرف فرد کو اپنی ازدواجی زندگی کے بارے میں بہتر سمجھ بوجھ حاصل ہوتی ہے بلکہ یہ معاشرتی سطح پر بھی ایک مثبت پیغام دیتے ہیں کہ ایک کامیاب اور خوشگوار ازدواجی زندگی کے لیے فریقین میں باہمی محبت اور احترام کا رشتہ از حد ضروری ہے

کالم نگار : ڈاکٹر ناصر خان
| | |
532