(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/05/23
موضوعات
اﷲتعالیٰ کے چند پسندیدہ امور
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ اﷲتعالیٰ کے چند پسندیدہ امور ایک صاحب ایمان کے لےہ معبود حقیمش کے قرب کے حصول کے لےا قرآن مجدی کے یہ جملے اپنے اندر کیتز مقناطیت، کشش (Gravitational attraction) رکھتے ہںے: (1) {اِنَّ اللہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَہِّرِیْنَ}(سورۂ بقرہ آیت 222) ’’بے شک اﷲ(تعالیٰ) توبہ کرنے والوں اور پاک صاف رہنے والوں کو پسند فرماتے ہں ۔‘‘ (2) {فَاِنَّ اللہَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ}(سورۂ آل عمران آیت 76) ’’سو بے شک اﷲ(تعالیٰ) پرہزقگاروں کو پسند فرماتے ہںع۔‘‘ (3){وَ اللہُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ} (سورۂ آل عمران آیت 146) ’’اور اﷲ(تعالیٰ) صبر کرنے والوں کو پسند فرماتے ہںس۔‘‘ (4) {اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِیْنَ}(سورۂ آل عمران آیت 159) ’’بے شک اﷲ(تعالیٰ) اپنے اوپر بھروسا رکھنے والوں کو پسند فرماتے ہںر۔‘‘ (5) {اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ}(سورۂ مائدہ آیت 42) ’’بے شک اﷲ(تعالیٰ) انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتے ہں ۔‘‘ (6) {وَ اللہُ یُحِبُّ الْمُطَّہِّرِیْنَ}(سورۂ توبہ آیت 108) ’’اور اﷲ(تعالیٰ) پاک رہنے والوں کو پسند فرماتے ہں(۔‘‘ اَلْحَمْدُ ِﷲِ عَلٰی ذٰلِکَ۔ اَللّٰھُمَّ اجعلنا منھم ۔ اﷲتعالیٰ کے چند ناپسندیدہ امور اﷲ کرے اس محبت بھرے انداز کو ذہن نشین (Instilled) رکھتے ہوئے امت مسلمہ کا ہر ہر فرد قرآن مجدَ کے ان جملوں مں بھی غوروفکر کرے۔ (1) {اِنَّ اللہَ لَا لااَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ}(سورۂ بقرہ آیت 190) ’’بے شک اﷲ(تعالیٰ) حد سے باہر نکل جانے والوں کو پسند نہںت فرماتے۔‘‘ (2) {اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ}(سورۂ انعام آیت 141) ’’بے شک اﷲ(تعالیٰ) فضول خرچی کرنے والوں کو پسند نہںر فرماتے۔‘‘ (3){وَ اللہُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ}(سورۂ بقرہ آیت 205) ’’اوراﷲ(تعالیٰ) فساد کو پسند نہںی فرماتے۔‘‘ (4){وَ اللہُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ}(سورۂ آل عمران آیت 57) ’’اوراﷲ(تعالیٰ) ظلم کرنے والوں کو پسند نہںن فرماتے۔‘‘ (5) {اِنَّ اللہَ لَا یُحِبُّ مَنْ کَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرَا}(سورۂ نساء آیت 36) ’’بے شک اﷲ(تعالیٰ) کسی اترانے والے، بڑائا۔ں مارنے والے کو پسند نہں9 فرماتے۔‘‘ (6){اِنَّ اللہَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ}(سورۂ قصص آیت 77) ’’بے شک اﷲ(تعالیٰ) فساد کرنے والوں کو پسند نہں، فرماتے۔‘‘ (7) {اِنَّ اللہَ لَا یُحِبُّ الْخَآئِنِیْنَ}(سورۂ انفال آیت 58) ’’بے شک اﷲ(تعالیٰ) دغا بازوں (دھوکے بازوں، خالنت کرنے والوں) کو پسند نہںا فرماتے۔‘‘ (8){اِنَّ اللہَ لَا یُحِبُّ کُلَّ خَوَّانٍ کَفُوْرٍ}(سورۂ حج آیت 38) ’’بے شک اﷲ(تعالیٰ) کسی دھوکے باز، ناشکرے کو پسند نہںن فرماتے۔‘‘ (9){اِنَّ اللہَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ}(سورۂ قصص آیت 76) ’’بے شک اﷲ(تعالیٰ) اترانے والوں کو پسند نہں} فرماتے۔‘‘ (10){اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَکْبِرِیْنَ}(سورۂ نحل آیت 23) ’’بے شک وہ (اﷲتعالیٰ) غرور (تکبر) کرنے والوں کوپسند نہںر فرماتے۔‘‘ اللّٰھُمَّ لاتجعلنا منھم اﷲتعالیٰ خود خوبصورت اور خوبصورتی سے پارر ’’اﷲ جملج‘‘ اﷲتعالیٰ انتہائی خوبصورت، نہایت حسنس، بہت بہت، بہت بہت ہی خوب رو شکلر، سندر اور وجہس ہںل۔ ’’یحب الجمال‘‘ حسن، روپ، جوبن، خوبصورتی کو خوب پاٰر فرماتے ہںو، پسند کرتے ہںح، رغبت رکھتے ہںب، ترجحخ دیتے ہںج۔ دناموی تخلیبن خوبصورتی یوں تو اﷲتعالیٰ نے اپنی اس دناو کو بھی تخلی پ خوبصورتی ہی عنایت فرمائی ہے۔ اس کے آسمان کو قوس و قزح (وہ سات رنگی کمان جو برسات کے موسم مںت آسمان پر دکھائی دیی ہے)، کاہ کشاں (چھوٹے چھوٹے ستاروں کی وہ قطار جو اندھیری راتوں مںی آسمان پر نظر آتی ہے)، آفتاب (سورج)، ماہتاب (چاند)، کواکب (ستاروں)، ساسروں (گردش مںا رہنے والے تاروں)، گرجتے بادلوں، کڑکتی بجلوتں وغرپہ سے مزین فرمایا۔ اس کے گلزاروں کو قسم ہا قسم کے پھلوں، پھولوں سے لادا، اس کے کوہساروں (پہاڑی سلسلوں) کو خوبصورت مناظر سے آراستہ کار (سنوارا، سجایا) اس کی جھلورں، تالابوں، چشموں، نہروں، دریاؤں، آبشاروں، سمندروں کو پانی کی اٹکھیلیوں (مستانہ چالوں) سے مالا مال رکھا، اس کی فضاؤں کو پرندوں کی چہچہاہٹوں (نغمہ سرائوںں)، اڑانوں (پروازوں) سے آباد رکھا، اس کے موسموں کو بدلتی رُتوں سے پوچستہ (ملا ہوا) رکھا۔ اس دناںمں سرٹوتفریح کے دلداوں (عاشقوں) کے لے انجوائمنٹ کا خوب، خوب، خوب، خوب تر سامان وافر مقدار مںو چار دانگ عالم مںہ (چاروں طرف) پھیلا ہُوا ہے۔ {فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ} (سورۂ رحمن) ’’اے انس و جن تم دونوں اپنے رب کی کار کاں نعمتںر جھٹلاؤگے۔‘‘ {لَابِشَیْئٍ مِنْ نِّعَمِکَ رَبَّنَا نُکَذِّبُ فَلَکَ الْحَمْدُ}(سنن الترمذی جلد 5 صفحہ 399) ’’اے ہمارے رب! ہم آپ کی کسی بھی نعمت کو نہں جھٹلاتے، تمام تعریںمِ، حمد و ثنا آپ ہی کے لےن ہںا۔‘‘ انسان بھی خوبصورت ہے کاس بھلا کوئی اس دعوے کی نفی کرسکتا ہے کہ بلاشبہ اس انسان کے خالق نے انسان کو بہترین سانچے (قالب) مںو ڈھالا ہے۔‘‘ اس مںس کال کات صلاحں‘ چ رکھی ہں ، عالی دماغ، روشن ضمرن، اخلاق حمدعہ کا پکرہ، خودفراموشی کے لبادے مںَ حق پرستی کا مجسمہ، کمزوری سے پاک نرمی، جبر سے پاک قوت، جذبات کی غلامی سے محفوظ عزم، سراپا غرلت و خودداری، خوفِ الٰہی کی چادر مںے چھپا راہِ حق کا سپاہی، نفرتوں کے سمندر مں محبتوں بھرا ٹاپو (جزیرہ، خشکی کا وہ ٹکڑا جس کے چاروں طرف پانی ہو)، عداوت کے اُفق (آسمان کا کنارہ) پر دوستی کا ہاتھ بڑھاتے رہنے والا حرارت بھرا اُبھرتا سورج، بغض کے مدران مںک پایر کے پھلوں سے لدا سایہ دار درخت، کینے کے کانٹوں کے درماان آشنائی کا مہکتا گلاب، حسد کی دلدل کے قریب شناسائی کی رغبت بھری چٹان۔ یہ انسان اپنی فطرت مںک ترقی کرے تو مسجود ملائک (فرشتوں سے سجدہ کرائی جانے والی عظمغ مخلوق) : ؎ کچھ بھی نہںد، اور سب کچھ ہوں، گر دیکھو چشم حققتع سے مںھ ہوں ظفر مسجود ملائک، گرچہ خاک کا پتلا ہوں حسن وخوبصورت خالق نے احسن تقویم انسان کے لےا دنا بطور ٹرانزٹ بنائی ہے اس خوبصورت اﷲ رب العزت، سبحانہ وتعالیٰ، جلّ جلالہ، عم نوالہ، تقدس ذاتہ، عزاسمہ نے اس حسنا، مکرم، محترم، معزز، محبوب انسان کے لےی پُرلطف، پُرلذت، ُپُرکشش، اسباب ضرورت سے بھری ہوئی، اطمنازن کے لمحات فراہم کرنے والی، اس عمدہ و نفسا دناا کو بطور ٹرانزٹ (گزرگاہ) کے بنایا ہے تاکہ اپنے آبائی وطن (جنت) سے نکالا ہُوا یہ انسان، دوبارہ جنت مںد پہنچنے کی تگ و دو (کوشش) مں تھکاوٹ دور کرنے کے لے اس دناّ مںہ پُرسکون انداز مں( مختصر عرصے کے لےا سُستا لے (آرام کر کے تازہ دم ہوجائے اور منزل کی طرف بڑھتا رہے)۔ دناا کی حققتا کا ایک سرسری جائزہ اس دنا کی حققت۔ تک پہنچنے کے لےل اگر اس کا سرسری جائزہ (جانچ پڑتال) لا جائے تو اس جائزے کا ایک پہلو (سمت، گوشہ) یہ بھی ہے کہ اس دنا کی چز وں مںک عموماً ایک دوسرے کی اُلٹ، برعکس، مخالف چز یں بھی پائی جاتی ہں ۔ اصطلاح مںش اسے ’’ضد‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ مثلاً اُجالے کے مقابلے مںب اس کی ضد اندھیرا، راحت کے مقابلے مںک پریشانی، آسانی کے مقابلے مں مشقت، موافقت کے مقابلے مںک مخالفت وغرقہ وغربہ۔ گویاکہیہ دنار ضدوں کا مجموعہ بھی ہے۔ اس دناے کو اضداد سے کوقں بھرا گاپ ہے؟ اس کی اصل حکمت، علّت، وجہ، سبب تو ربّ ذوالجلال والاکرام، مالک و ذوالمنن، ملیک ومقتدر، کِردگار عالم ہی جانتے ہںک، ذاتی طور پر کوئی بھی انسان او راجتماعی طور پر پوری انسانتل مل کر بھی اس کی حققتے کو مشت ایزدی (اﷲتعالیٰکی مرضی) کے عنئ مطابق سمجھ ہی نہںج سکتی۔ ہاں! نتائج کی روشنی مں انسان کچھ اندازوں سے رائے قائم کرسکتے ہںق۔ (جسے ہرہر موقعے پر حتمی،ییمق ، قطعی کہا جانا قابل غور ہے)۔ دنوتی ضدوں کے متعلق چند رائںق ان قائم کی جانے والی رایوں کے حوالوں سے چند باتیںیہ کہی جاتی ہں جسے عقل بھی قبول کرتی ہے: (1) چزیوں کی پہچان ان کی اُلٹ چزحوں سے ہی ہوتی ہے، مثلاً مقابلے مںی اندھیرا نہ ہو تو اُجالے کی پہچان نہںن کرائی جاسکتی، دُکھ نہ ہوں تو سُکھ کو سمجھایا نہںل جاسکتا، مشقت نہ ہو تو آسانووں کو دکھایا نہںج جاسکتا، بمامریاں نہ ہوں تو صحت کو بتلایا نہںہ جاسکتا، سزا نہ ہو تو جَزا کو تسلمھ نہںے کرایا جاسکتا۔(چزںوں کا تعارف ان کی اضداد ہی سے ہُوا کرتا ہے۔) (2) چزھوں کی ’’قدر‘‘ ان کی مخالف چززوں سے ہی ہوتی ہے۔ مثلاً (۱)تنگ دستی دیکھ کر ہی خوشحالی کی قدر ہُوا کرتی ہے، (۲)بماسریوں سے ہی صحت کی قدر آیا کرتی ہے، (۳)بڑھاپے سے ہی جوانی کی قدر سمجھ مںت آیا کرتی ہے۔ (۴)مصروفتو مںہ مبتلا ہوکر ہی فراغت کی قدر تسلمی کیجاتی ہے، موت کے نظر آنے پر ہی زندگی کی قدر ثابت ہُوا کرتی ہے (ناقدری، ناانصافی، احسان فراموشی سے بچنے، بچانے کا گُر (راز) چزہوں کی اضداد مںر پوشدیہ اور چھپا ہُوا ہے۔) (3) چزھوں کے مقابلے مں( اس کے برعکس چزںوں کے وجود سے ہی انسان کو چوائس (انتخاب، چناؤ، پسند ناپسند) کے حق کا اختاار حاصل ہُوا کرتا ہے۔ اختابر کی ابتدا انسان کے ارادے اور عزم سے ہوتی ہے اور اس کی تکملد اس اختاسر کے استعمال سے ہوتی ہے، لہٰذا اس پروسس (لائحہ عمل، بندوبست، انتظام) کے بعد ہی نتائج کا اصل ذمہ دار انسان کو قرار دیا جایا کرتا ہے (لہٰذا انسان نہ مختارکُل ہے، نہ مجبور محض، سارا دارومدار نتو ں پر ہے اور اس کی بنا د اختاار ہے اور اختا ر کے استعمال مںہ اضداد اشاےء معاونت کا کردار ادا کا کرتی ہںم۔) (4) حاصل شدہ نعمتوں کے تحفظ، بقاء، بڑھوتری اور اضافے کے لےب ’’شکر‘‘ ایک عظمس سعادت و عبادت ہے اس شکر نامی عبادت کی ادائینع مں اضداد اشاضء مفدی معنہ و مددگار ثابت ہوتی ہںا۔ جب انسان اپنے جسےن انسان کو نعمت کی بجائے زحمت مںا دیکھتا ہے تو اس کے دل کے اندر اپی ذات کے حوالے سے اﷲتعالیٰ کی تعریف کا داعہت، جوش، ولولہ پدکا ہوتا ہے اور وہ زبان سے کہتا ہے کہ تمام تعریںاس اس اﷲتعالیٰ ہی کے لےٰ ہںن جس نے مجھے اس چزا سے عافت (سلامتی) بخشی جس مںے تجھے مبتلا کای (پکڑا) اور مجھے اپنی بہت ساری مخلوقات پر بہترین فوقتے عطا فرمائی (یہ وہ دعا ہے جس کے الفاظ بھی شریعت کے تعلمک کردہ (دیے ہوئے) ہںر اور اس دعاء کو مصبتت مںت مبتلا شخص کو نہںے سنانا بلکہ اس مصبت کے حوالے سے فوراً اﷲتعالیٰ کی تعریف کرتے ہوئے اس کا شکر ادا کرنا ہے تاکہ جسے اِس وقت اُس ذات نے اس مصبتر سے محفوظ رکھا ہے ایسے آئندہ بھی عافتظ مںے رکھے۔) (5) نعمت کی ضد زحمت ہے۔ نعمت سے سُکھ ملتا ہے۔ زحمت سے دُکھ پہنچتا ہے۔ نعمت شکر کا ذریعہ ہے زحمت صبرکا سبب ہے۔ شکر کی طرح صبر بھی سعادت و عبادت ہے۔ نعمتوں پر شکر، زحمتوں پر صبر اﷲتعالیٰ کی طرف رجوع (بذریعہ دعا اﷲتعالیٰ کی بارگاہ مںر لوٹنا حاضری دینا) کرنے کا نام ہے۔ مجبوری (ھائے واویلا، افسوس و ماتم کرنے کے بعد بے بسی کے اظہار) کا نام صبر نہںم ہے۔ صبر تو وہ ہے جو صدمہ پہنچتے ہی کاا جائے، اسے صبر جملک بھی کہا جاتا ہے۔ صبر جملل وہ صبر ہے جس پر اجر ملتا ہے۔ صبر کرنے والوں کے اجر کا اندازہ کاپ ہی نہں جاسکتا۔ مخلوقات کے باہمی معاملات کے حوالوں سے صبر مظلوم کی خاموش بدعاء ہے جو ظالم کے پچھے پڑ کر اسے ہلاک، تباہ و برباد کرکے ہی اس کا پھاا۔ چھوڑتی ہے۔ ظالم کے نیک اعمال بھی مظلوم کے صبر کی تاب (برداشت) نہںو لاسکتے۔ مظلوم ظلم جتنا انتقام ظالم سے لنےا کا شرعی حق رکھتا ہے، صبر اس حق کو اﷲتعالیٰ کے سپر کردینے کا نام ہے۔ اﷲتعالیٰ کاں خوب بدلہ لنےم والے ہںس۔ ظالم کو اس کے ظلم کے مطابق سزا اور مظلوم کو اس کے صبر کے مطابق جزا بھی دیتے ہںی۔ اﷲتعالیٰ اپنے ذاتی معاملات مںل مکمل قدرت و طاقت کے ہوتے ہوئے معاف کرنے، کرتے رہنے کو ترجحا دیتے ہںم جس کا تند(3) حرفی نام ’’فضل‘‘ ہے۔ اس لےا اپنے مظلوم بندوں کو ترغبر دیتے ہوئے فرماتے ہںے کہ ظلم کے حوالے سے تمہارے پاس جو حق ہں) اس کے تن’ (3) درجے ہںل: (i) ظلم کے بقدر خود بدلہ لے لو، اس مںق خدشہ، خطرہ، ڈر ہے کہ کہںب تمہارا بدلہ ظالم کے ظلم سے نہ بڑھ جائے، ایی صورت مںے تم ظالم اور وہ مظلوم بن جائے گا اور اﷲتعالیٰ کی مدد مظلوم کے ساتھ ہوتی ہے چاہے وہ کافر ہی کوجں نہ ہو۔ (ii)اپنا انتقام صبر کے ذریعے اﷲتعالیٰ کے حوالے کردیا جائے، اس میںیقینی طور پر ظالم کی تباہی و بربادی ہے اس مں( ظالم کی کا مدد ہے؟ (iii) نہ صرف ظالم سے بدلہ نہ لاے جائے بلکہ اسے معاف بھی کردیا جائے او رممکن ہو تو اس پر اپنی طرف سے مزید انعام و احسان کا بوجھ بڑھایا جائے یہ اخلاق عالہو کا بلند ترین درجہ ہے اس کا پرکشش، جاذبتم بھرا نام ’’خلق عظم ‘‘ ہے جو نبیﷺ کی سنت ہے اور مفادپرستی کے اس دور مںل مسلمانوں بلکہ دین کے علمبرداروں (جھنڈا اٹھانے والوں) کی طرف سے تقریباً متروک ہوچکی (چھوڑی جاچکی) ہے۔ ایسے وقت مںل اس پر عمل کرنے کا اجر صحابہ کرامؓ کے زمانے کے سو(100) شہد وں کے اجور کے برابر ہے۔ اس طرح اس مں کچھ مشقت کے بغرا صبر کرنے، معاف کرنے، فساد امت کے زمانے مں نبیﷺ کی سنت پر عمل کرنے کے اجور شامل ہوجاتے ہںچ۔ مظلوم مندرجہ بالا ان تنپ (3) درجات مں سے جس درجے کا اپنی خوشی سے بغرف جبر کے اپنے لےر انتخاب کرلے) زحمت کے وجود نے جو نعمت کی ضد ہے صبر کے شعبے کو تقویت بخش رکھی ہے۔ مزیدیہ کہ … (6) اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہی ہے جس مںت ایک احسن ترین مقام جنت ہے جو بھلے، اچھے کاموں کی اﷲتعالیٰ کی طرف سے مقررشدہ حقیلد جزا کے پانے کا صححا، برحق ٹھکانا ہے (یہ دنای تو حقیرو جزا کے قطرے کو بھی برداشت نہںے کرسکتی۔) وہںر ایک بدترین مقام ’’جہنم‘‘ ہے جو بُرے کاموں کی اﷲتعالیٰ کی طرف سے مقررکردہ حقیاش سزا کے ملنے کا ٹھکم، ٹھکم بندوبست ہے۔ (ورنہ یہ دنا تو حقید سزا کا ایک ذرّہ بھی برادشت نہں کرسکتی۔) صاحب ایمان بندے اﷲتعالیٰ کے محبوب ترین بندے ہوتے ہں۔۔ ان محبوب ترین بندوں کے مختلف درجات ہںن ایک درجہ یہ ہے کہ ان کے لےش آخرت مں اﷲتعالیٰ نے ایک برتر مقام طے فرمارکھا ہے جس مقام کو انہوں نے دنا مں اپنے نیک اعمال کے ذریعے حاصل کرنا ہوتا ہے، لکن ان کے اعمال، نیک ہونے کے باوجود، اس بلند درجے کے نہںں ہوتے کہ اس برتر مقام کے ’’حق دار‘‘ بن سکں ، لہٰذا دنا، مںر ان پر ان کی ایمانی طاقت کی مناسبت سے زندگی کے کسی ایاد ایک سے زائد شعبوں مںد ابتلاء ات، تکالفح، بماظریاں، مادی محرومانں، ڈر، خوف، غم، قرضوں کا بوجھ، لوگوں کا غلبہ، بھوک، مالی نقصانات، عزیزوں کی اموات، ناخوشگوار حادثات، خلاف مزاج گفتگو، خلاف توقع معاملات، سخت مشقت، برائوبں (بدناموتں) کا حصول، بدبختوزں، بدحالوّں کی وجہ سے دشمنوں کے خوش ہونے، جشن منانے، نچاا دکھانے وغر،ہ وغرتہ جیںں پریشانواں کا ازدھام وغروہ کی کثرت رہتی ہے، چاہے ایک ساتھ تمام صورتں پش، آئں،، چاہے ایک کے بعد دوسری (پے درپے)، چاہے کوئی ایک صورت ہلکے، بھاری مختلف انداز مںح طویل عرصے تک ادلتی، بدلتی رہے۔ اس صورتحال کو وہ بندے رضابالقضا کی کتی کے ساتھ اﷲ رب العزت کی توفقم کے سائے تلے بغرت کسی شکوے، شکایت کے سہتے، برداشت کرتے رہتے ہںا، اور اس مقام تک رسائی حاصل کرلتے ، پہنچ جاتے ہںم۔ گویا دنا مںو صبر نامی مضمون کے امتحانی پرچے کے سوالات حل کرتے رہتے ہںی اور کاماقبی کی سند اخروی ’’مخصوص مقام‘‘ کی صورت مں پاکر ہمشہب ہمشہن کے مزے اڑانے لگ جائںل گے)۔ ایمان والوں کی ایک جماعت ایی بھی پائی جاتی ہے جو محبوبتا کے ابتدائی درجے مںے شمار ہوتی ہے یہ وہ جماعت ہے جو بشری تقاضوں، باطنی کمزوریوں، نفس کے غلبوں، شطاکن کے داؤں مںا پھنس کر حقوق اﷲ کے حوالوں سے فوری لذت کی مصنوعی خوبصورتوبں والی نافرمانوکں کو کربیھتکی ہے، ان کی بہت ساری نافرماناتں تو حساب لنےو والے کی نگاہ مںی صرف نظر، ناقابل توجہ، نظرانداز کےن جانے کے لائق ٹھہرتی ہںش، بعض نافرمانامں، بعض فرمانبرداریوں کی وجہ سے مٹائی جاتی رہتی ہںو، بعض نافرمانونں پر ضمرا (نفس) مںھ ایک خلش (کھٹک) شرمساری کی صورت پدحا ہوتی ہے جس سے نافرمانامں کافور ہوجاتی ہںض (اُڑ کر اپنا وجود ہی کھو بیھت ہںھ)، اس شرمساری (ندامت) پر ایک داعہی (خواہش) دل مںے پدسا ہوتا ہے کہ جس کی نافرمانی ہوئی ہے اس کے سامنے معافی کی درخواست لے کر حاضر ہوا جائے، چانچہ دل، دماغ، زبان باہمی موافقت، موافعت، مشابہت کے ساتھ (ایک صفحے پر آتے ہوئے) ایک عاجزانہ کلمہ کہتے ہںا ’’اَسْتَغْفِرُاﷲِ رَبِّیْ‘‘ (اے مراے پروردگار، پالنہار اﷲ مںت معافی چاہتا ہوں) (ایسے بندوں کا یہ عمل غنی، صمد، بے ناہز، بے پروا، بے غرض، بے مثل، بے ہمتا، بے ہمہ وباہمہ ذات اﷲتعالیٰ جل شانہ عم نوالہ، تقدس ذاتہ، عزاسمہ کو بہت، بہت، بہت، خوب، خوب اور خوب محبوب ہے) جسے، ہی ارفع، اعلیٰ، عمدہ، پروزن، تاثرل بھرا یہ کلمہ اپنی روحانی قوت کے ساتھ مز ائل کی رفتار کے ساتھ فرش سے عرش کی طرف پرواز کا آغاز کرتا ہے، عنٰ اسی لمحے عرش سے ذوالجلال والاکرام، ذوالمنن، ذوالطول، علی کل شیء قدیر، غافر الذنب، قابل التوب ذات کا ایک طمانت بھرا، لذت سے بھرپور، جاذبت سے لبریز، مقناطییو قوت کا حامل، تاثرد سے لبالب بھرا چھلکتا ہوا پاتلہ سر پر جمائے ہوئے، تسکین سے لدا پھریرا (پرچم) ہاتھ مںت تھامے ہوئے پغامم نشر ہونا شروع ہوجاتا ہے کہ مرتے بندے کو معلوم ہے کہ مجھے کوئی پکڑنے والا اور معاف کردینے والا بھی ہے مںا نے اپنے بندے کو (اس معافی چاہنے کے عوض) معاف کردیا۔ یہ پغاام معافی چاہنے والا بندہ اگرچہ اپنے حسی کانوں سے نہ سُن پاتا ہو، مگر اس پغا م کی تراوٹ، ٹھنڈک، تازگی، دلجمعی، اطمناہن، تسلی، خاطر جمع اس کی روح مںر بالیقین اترتی محسوس ہوتی ہے، جب ہی تو بندہ اپنے رحم ، کریم، شفقے، حلمئ، تواب، وھاب، غفور، شکور، رؤف، ودود، عفو، رب کی طرف ایک قدم اور بڑھتا ہے او رکہتا ہے جو کر بٹھاد ہوں، وہ ہونا نہںھ چاہےش تھا، انتہائی شرمسار ہوں، معافی کا خواستگار ہوں، آئندہ اس غلطی کے دوبارہ نہ دہرائے جانے کے لےن پرعزم ہوں، قابل تلافی اعمال کے حوالے سے تلافی مافات کے لےس عزم بالجزم (پکے ارادے) کے ساتھ تارر ہوں، بندے کے ایسے قدم کی قدر ملیک مقتدر، شدید العقاب، الم العذاب، ذوانتقام، عزیز و قہار ذات کی طرف سے اس کے شایان شان ہوتی ہے۔ گناہ کرتے فرشتوں نے دیکھ لا ہے، اعضاء جسمانی گواہ بن چکے ہںل، زمنز کے ٹکڑے نے محفوظ کرلائ ہے، کوئی بات ہی نہں ہم انہںر ایسا بھلا دیں گے کہ کبھییاد ہی نہںز آئے گا، کبھی حاشۂے خاول مں دھندلی سی جھلک بھی نمودار نہ ہوگی، کوئی ثبوت، شواہد، گواہ نہ بن سکںم گے۔ نامۂ اعمال مںم لکھے جاچکنے کے باوجود نہ صرف ان گناہوں کو مٹاکر، ان جگہوں کو صاف ستھرا کردیا جائے گا بلکہ ان گناہوں کے بدلے مںگ نہ کےس جانے کے باوجود نا جسں لکھ دی جائںں گی (تاحاجت جب کبھی بندے کی طرف سے یہ عمل صادر، سرزد، واقع، جاری، نکلتا رہا کرے گا فاےض، سخی، دریا دل، بادشاہ کی طرف سے ایسے ہی مراحم خسروانہ، شاہی عطایا، سلطانی عنایںلت حاصل ہوتی رہںج گی۔ اﷲتعالیٰ کے بلند مرتبے، ارفع شان کی قسم! مر مٹنے کا اکسرے، پُراثر، رسائن، فوری اثر رکھنے والا، کاات گر، ترجبہدف عنل نشانے پر لگنے والا نسخہ ہے۔ آگے بڑھنے کا جذبہ رکھنے والوں کو چاہے کہ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے، بڑھتے رہنے کے جوہر، کمال، ہنر، خوبی اس مدےا ن مںے آزمایا کریں۔ یہ وہ تجارت ہے جس مںا گھاٹا، ٹوٹا، خسران، نقصان نامی شئے کا لمحے بھر کے لے ذرّہ برابر بھی گزر نہںر، ہے کوئی مرد مدلان؟ ہے کوئی فضلت ابن عااض، مالک ابن دینار،عبداﷲ ابن مبارک، بشر حامیٰ وغربھم رحمہم اﷲ علہمو اجمعن مں سے کسی کا اس زمانے مںا پرنوکار، مقلد، مرید، چیلا، پچھے چلنے والا)۔ مندرجہ بالا اس لطفل، پرلطف انتظام کے باوجود، ان محبوبنز کی بعض نافرمانوہں کی تلافی، مکافات، بدلے اور سزا کے لےا اس دنال کے تکویید (براہ راست اﷲتعالیٰ کے اپنے طے کردہ اصولوں کے مطابق چلنے والے) نظام مں عبادات نہںی ابتلاٰت کو رکھا گاز ہے۔ یاربتلاٰت کفارہ سیّئات (گناہوں کا بدلہ)، رفع درجات (ترقی، اپ گریڈیشن) کا سبب قرار دی گئی ہںس۔ (مؤمن کی عجبر شان ہے اس کے لےا دنوہی جزا مںا بھی، دنوطی سزا مں بھی روحانی ترقی کا سامان ہے۔ اس کے لےق اجر مںی بھی روحانی بلندی ہے، زجر مں بھی روحانی بلندی ہے، اس کے لے) سُکھ مں بھی قرب ہے، دُکھ مںد بھی قرب ہے، چنانچہ سداھی طرف کی جیب مںن رکھی ہوئی چزت کو ضرورت کے موقعے پر تلاش کرتے ہوئے بے دھا نی مںک پہلے اُلٹی طرف کی جیب مں ہاتھ داخل ہوگاا، وہاں وہ چزت نہ پاکر رنج ہوا اور فوراً یاد آیا کہ وہ چزب تو سد ھی طرف کی جیب مںک ہے اور وہ چزا وہاں مل بھی گئی۔ اس دوران کے چند لمحات کی اس کلفت، تکلفو، رنج او رپریشانی پر بھی گناہ معاف ہوتے ہںھ، قرب بڑھتا ہے، درجات بلند ہوتے ہںی، نای ں ملتی ہں ۔) (7)اس دناو مں ایسے انسان بھی تقریباً ہر زمانے مںت پائے جاتے رہے ہںں کہ (۱)وہ اﷲتعالیٰ کے ذاتی وجود ہی کے قائل نہںک ہں، (دھریے)، (۲)ایسے لوگ بھی تاریخ کے صفحات مںز ملتے ہںد جو خود اپنے لےی الوہت ، معبودیت، ربوبتا کا دعویٰ کر بٹھےل (۳)ایسے لوگوں کا وجود بھی اس کائنات کا حصہ رہا ہے جو اﷲتعالیٰ کے مدبر کائنات (کائنات کا نظام چلانے والے) ہونے کی نفی کرتے رہے ہںا (نچروی) (۴)اس دناص نے ان لوگوں کو بھی اپنے اندر سَمو (برداشت کر) رکھا ہے جو اﷲتعالیٰ کی وحدانتہ کا انکار کرتے ہںے اور انہوں نے مختلف اقسام کے چھوٹے بڑے مستقل معبود اپنی زندگو ں مںں شامل، داخل اور اپنا رکھے ہںچ، (۵)جابجا ایسے لوگوں کی ایک تعداد اس دنام مں بکھری پڑی ہے جس نے اپنے زعم، گمان کے مطابق (نعوذباﷲ) خود اﷲ تعالیٰ کی طرف سے نظم و نسق چلانے کی غرض سے بااختافر شریک کار تجویز کرتے ہوئے انہںن الٰہ اور معبود کے درجوں پر فائز کررکھا ہے، (۶)عالم دناﷲ مںم ایسے لوگ بھی سانسںر لتےا رہے ہںھ جن کا عقد ہ ہے کہ فرشتے (نعوذباﷲ) اﷲتعالیٰ کی بایر ں ہںگ، (۷)عالم للا و نہار مںے ایسے لوگوں کے اپنی اپنی مدت سے پہلے زندہ رہنے کے ثبوت ملتے رہے، جن کا نظریاتی ایمانہہ ہے کہ حضرت عزیر علہل السلام اور حضرت عیٰسے علہب السلام (العازذباﷲ) اﷲتعالیٰ کے بٹےٰ ہںے، (۸)اس دنابئے رنگ و بو مںو ایسے لوگوں کو بھی زندگی بسر کرنے کے مواقع دئےی گئے جو حققت کا اِدراک (سوجھ بوجھ) رکھنے کے باوجود خود اپنے طور پر نبوت کا دعویٰ کر بٹھے ، (۹)روئے زمن پر ایک طبقہ ایسے لوگوں کا بھی دندناتا پھر رہا ہے جو جھوٹے مدعاےن نبوت کے پرووکار ہںف، (۱۰)ایسے لوگوں سے بھی زمنا کی گود خالی نہںم ہے جو آخری آسمانی مذہب (اسلام) کے آجانے کے بعد اسلام سے پہلے کے منسوخ شدہ آسمانی مذاہب یا خودساختہ مذاہب کے پرںوکار ہونے کے دعویدار ہں (یہودی، عسالئی، ہندو، بدھ وغر ہ)، (۱۱)آسمان تلے ایسے بھی لوگ چل پھر رہے ہںو جنہوں نے مذہب اسلام کو دل سے قبول ہی نہںا کار (منافقنو)، (۱۲)آسمان و زمن کے درمابن ایسے لوگوں کی بھی ایک بھڑہ ہے جو اپنے آپ کو مسلمان کہلوانا چاہتی ہے لکنں ضروریات دین (وہ تمام عقائد جن پر اسلامی تعلما ت کے مطابق ایمان لانا اور تاحاست رکھنا فرض ہے) مںچ سے کسی بھی عقدپے کے منکر ہںد(مرتدین)، (۱۳)ایسے کم نصبا بھی اسی دنان مں ہںل جو مسلم معاشرے مں رہتے ہوئے معنوی و مرادی اعتبار سے دین کے مسلمات (تسلمن شدہ باتوں) کو اپنے من پسند معنیٰ پہناتے ہوئے ان کی تشہر و تبلغا کرتے ہںن (زندیق وملحد)، (۱۴)ایسے عقل کے اندھوں، حسد کے ماروں، ڈھٹائی کے پکرنوں، شطاان کے شداائویں کا بھی ایک ٹولہ ہے جو(نعوذباﷲ) اسلام کی بخہ کنی، قلع قمع، جڑ سے اکھیڑ دینے والی،انہدام، مسماری، گرا دینے والی اپنی ریشہ دوانو ں ، سازشوں، شرارتوں مںک دن رات دامے (مکر کے جالوں) درمے (مالوں) قدمے (جانوں) سخنے (تحریروں، تقریروں) جتے ہوا ہونے کے باوجود حاںت کی قدک مںہ ہے۔ (۱۵)ایسے لوگوں کا بے ہنگم، بے ڈول، ناموزوں، بھونڈا گروہ بھی دیکھتی آنکھوں، سنتے کانوں، اسی دنای مںو جئے جارہا ہے جو بغر کسی مجبوری کے، بصد رضا و رغبت، دلوں پر تالے ڈال کر، ذہنوں کو مادیت کی چادر مں ڈھانپ کر، ضمرجوں کو فانی عشر کا کلوروفارم (Chloroform) (بے ہوش کردینے والی دوا) کا عادی بناتے ہوئے، بے حسی کی تھپکواں کے سہارے گہری نندہ کی بے تھاہ (عمقم، نہایت اونڈی) وادیوں مںگ پہنچاکر مؤخرالذکر ٹولے کا آلۂ کار یا سہولت کار بنا ہوا ہے۔ (ایمان کا آخری درجہ دل سے بُرا جاننا ہے جس کے بعد رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہںن بچتا۔) خاموشی جفاؤں کی تائدا بھی ہے: مذکورہ بالا پندرہ (15) طبقات کا ہرہر فرد، اپنی اپنی، پوری پوری، برادری سمتب آسمانی، اسلامی رجسٹر مںس اپنے اپنے ناموں کے اندراج (لکھا ہوا ہونا) کا حق (موت سے پہلے پہلے تک اپل کا حق رکھتے ہوئے) کھوئے ہوئے ہںا (ان سطور کے ذریعے تبلغ، ایمان و اسلام کا (امتی ہونے کی حتبر سے) اپنا حاصل شدہ حق استعمال کرتے ہوئے ان طبقات کے تمام افراد کو فرداً فرداً بھی اور اجتماعی طور پر بھی اسلامی تعلمانت کی روح (تقاضوں) کے مطابق قبولتح ایمان و اسلام کی اپنے اور ان کے آخری سانس اور ہوش و حواس باقی رہنے تک مسلسل، بلاتعطل، بلا رکاوٹ، بلا جبر واِکرہ، دعوت عام ہے اور انسان ہونے کے ناتے (تعلق و قرابت داری) ان کا فلاح و بہبود، ہمدردی، بھائی چارگی کا حق تسلم، کرتے ہوئے ان کے لےن بذریعہ دعا، دلوں کے ادلتے بدلتے رہنے والی ذات سے بصداحترام، الحاح وزاری، قبولتل کے ینا کے ساتھ درخواست ہے کہ انں، ہدایت کی دولت سے مالامال فرمائے اور ہم سب کو ضلالت و گمراہی سے تاحابت دُور رکھتے ہوئے ہدایت سے بھرپور صراط مستقمہ پر استقامت کے حصار مںک محض اپنے فضل و کرم سے رکھے ۔ ان سطور کے صحح العقدتہ قارئنئ کرام سے بھی مؤدبانہ درخواست ہے کہ نبیﷺ کے ختم نبوت کے طفل اور صدقے مں نبیﷺ کے ہرہر متبع (اتباع کرنے والے) پر لاگو و لازم ہونے والے فریضۂ تبلغی کی روشنی مں دعوت و تبلغب کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے دعوت و دعا کے جوڑ کے ساتھ جانی، مالی، اوقاتی نعمتوں کو یکجا کرتے ہوئے مخلصانہ جدوجہد اﷲتعالیٰ کی رضا کے حصول کے جذبے کے ساتھ تادم مرگ جاری و ساری رکھںم (دعوت و تبلغا کے اصول و ضوابط کی جان کاری کے لےو ادارے سے شائع ’’دعوتی نظام کے اسلامی اُصول‘‘ نامی رسالے کا مطالعہ فرمائے ۔) مذکورہ بالا تمام طبقات کے تمام افراد اس دنای کی مقررکردہ اپنی اپنی طبعی عمریں گزار کر اگر اپنے ان بوسدمہ، گلے سڑے، لچر، مہمل، بے معنی، بے وزن، بے وقعت نظریات کے ساتھ اس دنام سے رخصت ہوگئے تو آنے والی دنان مںج نہ ان کا اپنا وزن ہوگا، نہ ان کے نظریات کا، نہ ہی ان کے اچھے، بُرے اعمال کا وزن ہوگا۔ ان کی وقعت، قدر، عزت، بزرگی، توقرا، قمت ، ساکھ، بھرم صرف اور صرف یہ ہوگی کہ ان سب کو ردّی، کوڑا، کباڑ، نکما، بے کار قرار دیتے ہوئے ردّی کی ٹوکری، کوڑے دان، کچرا کونڈی، مںچ ہمشہی ہمشہع کے لےہ اُلٹ دیاجائے۔ جانتے بھی ہو آخرت مںع اس جگہ کا کاک نام ہے؟ اس کا چار(4) حرفی نام ’’جہنم‘‘، ’’دوزخ‘‘ ہے جسے قرآن مجدش نے انتہائی بُرا ٹھکانہ کہا ہے، جس مںت بچھونا (بستر) بھی آگ کا ہوگا اوڑھنا (چادرا) بھی آگ کا ہوگا۔ نہ تکالف’ مںے تعطل (عارضی رکاوٹ وقفہ) آئے گا، نہ شدت مںس کمی آئے گی۔ نہ برگونی تفریح کے لے لمحے بھر کے لے بھی کہںم لے جایا جائے گا۔اللّٰھمّ احفظنا منھا مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میںیہ بھی ایک حققت ہے کہ مندرجہ بالا طبقات مں؟ سے کسی نے انفرادییا اجتماعی طور پر اس دناُ مںئ رفاہ عامہ، مفاد عامہ اور عوامی مفاد کے شعبوں مںم کوئی مفدوکارنامہ انجام دیا ہو جس سے دنوای مخلوقات فضی اٹھا رہی ہوں تو مخلوقات کے ان محسنوں کو خالق کی طرف سے بھی اجر و انعام ملنا چاہےم اور ضرور ملنا چاہےج مزیدیہ کہ جب اخروی زندگی مںہ اجر نامی کوئی ذرّہ ان کے لےر لمحے بھر کے لےم بھی نہںر ہے تو ا ن کے ان دنوجی کارناموں کا عوض، بدلہ اس دنای مں تو ملنا چاہےک چنانچہ اس معقول تصور، عقلی خاّل کے تناظر مںم تجربہ اور مشاہدہ یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو نیک نامی، شہرت، وقعت، ساکھ، بھرم، اعتبار، بھروسے جسےص اخلاقی انعامات کے ساتھ ساتھ دولت، آسانورں، آسائشوں جیار مادی بخششوں سے، انجوائمنٹ، خوشورں، رفعتوں جیرو قلبی راحتوں سے بھی نوازا جاتا رہا ہے، نوازا جارہا ہے، نوازا جاتا رہے گا۔ (ان کے کارنامے بھی دنوای ہںر، ان کے بدلے بھی دنووی ہںل۔) اس دنا مں نعمتوں کے فضاان کی جزوی علت یہ بھی سمجھ مںت آتی ہے کہ مخالفنو اسلام، دشمنان رب العزت، منکرین آخرت کے بھلے کاموں کا بدلہ اسی دناس مںا چُکا دیا جایا کرے۔ (بات چل نکلی ہے تو اسی ضمن، اسی تعلق سے ایک تجرباتی و مشاہداتی عمومی بات پر بھی ایک نظر ڈال لی جائے۔ اس دنا کی چز وں کی بنامد اور جڑ مں برائی ہے جو بغرع کسی محنت کے نمودار او رظاہر ہو جایا کرتی ہے اچھائی پد ا کرنے اور برقرار رکھنے کے لے محنت کرنا پڑتی ہے، اچھائی والی محنت کے چھوٹتے ہی برائی اپنا اثر دکھانا شروع کردییر ہے۔ گرموکں کے موسم مںل خصوصاً ہر انسان بغرر کسی دقّت، مشقت، محنت کے اپنے پسنےے کا اثر جسم اور لباس پر بذات خود، بنفس نفسں محسوس کرسکتا ہے اور اِردگرد، پاس پڑوس، قرب و جوار کے لوگوں کو بھی تجربہ کروا سکتا ہے۔) (8) اس کائنات کون و مکان (دناھ) مں ایک بہت بڑا حصہ بلاؤں، جنّات، بھوتوں، ناپاک روحوں، چڑیلوں، ڈائنوں وغر ہ کا بھی ہے۔ اسی دناا مں مختلف مقامات پر ان کا بسربا بھی ہوتا ہے او رمختلف اوقات مںج ان کا نزول بھی بتلایا جاتا ہے۔ چنانچہ عرصہ دراز (لمبی مدت) سے بوڑھی عورتوں سے مسلسل یہ سننے کو ملتا رہا ہے کہ مغرب کے وقت اور رات بارہ (12) بجے کے بعد کمسن (چھوٹی عمر کے) بچوں/بچوتں کو کھلی چھتوں، کھلے مدےانوں سے گھروں مں واپس بلا لناک چاہےی، اس لے کہ ان اوقات مںب بلاؤں کا نزول ہوتا ہے، مبادا (اﷲ نہ کرے، ایسا نہ ہو) کہ کوئی بلا بچے پر مسلط ہوجائے (چپک جائے) اسی طرح مرمی معزز، ہردل عزیز مائں ، بہنںا، باوا ں، بہوئںل، قریب البلوغ بچے، بچاںں جنہں فطری طور پر بھی خوبصورت دکھائی دینے کا شوق ہوتا ہے، خوب بن ٹھن کر، لالی، پاؤڈر کے ساتھ مکب اپ کرکے، بھڑکلےئ رنگوں کے مچنگب والے کپڑے پہن کر، زوردار خوشبو والی پرفو م لگا کر، ناک پر عنک سجا کر، کھلے بالوں، کشادہ چہروں، ننگے بازوؤں کے ساتھ تفریح گاہوں، شادی ہالوں، صحت نچوڑ لنےق والے ہسپتالوں مںک اپنی حاضری لگاتی ہںب،جہاں بَدشکل، بدروح، جناتی بلائںل ان کی منتظر ہوتی ہںم اور عشق کے نام سے اپنی بدصورتی کا غصّہ ان خوبصورت بننے والی پریوں پر مسلط ہوکر اتارتی ہںَ (عاشق کبھی اپنے معشوق کو تکلفے نہںو دیتا،یہاں تو صاحب معاملہ ہی نہںو اس کے متعلقنن بھی مشکلات کا مستقل شکار بن جایا کرتے ہں،۔) جن سے ان موم کی پتلوفں اور نازک تتلوتں پر دماغوت جسمانی منفی اثرات مرتب ہوا کرتے ہںر، عملااتی اصطلاح مںا اسے آسیب کا نام دیا گاے ہے جو عاملنپ کے مطابق روح، جسم، خون و ہڈیوں مں اُتر کر مرض کا روپ دھار لاں کرتے ہںا۔ اسی طرح ہمارے گھروں کے بتس الخلاؤں مں ان شا طیوا قوتوں کا ٹھکانہ ہوا کرتا ہے (جن سے حفاظت کے لےھ بتں الخلاء کے استعمال سے پہلے، بتو الخلاء مںل داخل ہونے سے پہلے ایک مختصر سی دعا تعلمک کی گئی ہے (اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخَبَائِثِ) ’’اے مرعے اﷲ! مں آپ کی پناہ چاہتا ہوں خبثت (پلدا، بدباطن، شرارت کرنے والے، نقصان پہنچانے والے) مردوں اور عورتوں سے) شاسطیب و دشمنانِ جان قوتوں کے مقابلے اپنی بے بسی اور اپنے اﷲ تبارک وتعالیٰ کی قوت کا کاخ خوبصورت اظہار ہے (پناہ چاہے جانے والے اس جملے مںے اور اگر اس جملے کے شروع مںا دو(2) لفظی جملے ’’بِسْمِ اﷲِ‘‘ (یینل اﷲتعالیٰ کے نام کے ساتھ) کا اصافہ کرلاس جائے تو اس ناگزیر (ضروری)، ناگوار (طبعتب کو ناپسند) موقعے پر ایک طرف زبردست طاقت کو آواز ہے تو دوسری طرف دشمن کے اپنی طرف اٹھتے قدم، بڑھتے ہاتھ، دیکھتی آنکھوں سے اپنے آپ کو محفوظ، دشمن کے تاثرآی حربوں کو مفلوج بنادینا ہے بت الخلا شایطیجی جنات کے قلعے ہوتے ہں جہاں اپنی تکلفط دور کرنے کے لےس انسان کا جانا لازمی ہوجایا کرتا ہے۔ آج کے قبض کے مرض مںہ وہاں کچھ زیادہ ہی وقت گزارنا پڑ جایا کرتا ہے ان حقائق کے پشل نظر انسان کو یہ تعلم دی گئی کہ وہ اس موقعے پر بت الخلاء کے باہر ہی ’’بِسْمِ اﷲِ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخَبَائِثِ‘‘ پڑھ لات کرے (اگر باہر پڑھنا بھول جائے تو بتج الخلاء مںئ زبان سے نہ پڑھے، دل مںت خاخل کرلا کرے) یہ وہ حصار (پناہ کی چار دیواری) ہے جس مںس پڑھنے والا اس شطاتنی قلعے مں کسی گزند، صدمے، نقصان، اثر دکھ سے مکمل طور پر سلامتی کے ساتھ رہتا ہے چاہے کتنا ہی وقت وہاں صرف (گزر) ہوجائے۔ چنانچہ جسےخ ہی فراغت کے بعد باہر آتا ہے فوراً اﷲتعالیٰ کے لےا تعرییت کلمات کہتا ہے جس نے تکلف دور کرنے کے ساتھ اسے عافتہ بخشی۔ (ھائے! انسانوں کا ایک بہت بڑا طبقہ بغر کسی رکاوٹ کے، محض (صرف) اپنی مرضی سے دولت اسلام ہی سے محروم ہے، ایک طبقہ ایسا ہے جسے یہ معلوم ہی نہںل کہ اس شعبے مں اسلام کی تعلماوت کاے کال ہںو؟ ایک طبقے کو اس موقعے کی دعا ہییاد نہںہ، ایک طبقہ یاد ہونے کے باوجود غفلت کا شکار ہے (کاک مساجد کے کھلے پیشاب خانوں کے استعمال سے پہلے اس دعا کے پڑھے جانے کا باعتبار مجموعی اہتمام کا جارہا ہے؟ کاا کھلی فضاؤں مںہ قضاء حاجت کے موقعے پر بھییہ دعا یاد رہتی ہے) ایک طبقہ نہ اس کی ضرورت محسوس کرتا ہے، نہ ہی اس کی اہمتی ہی تسلمر کرتا ہے۔ گویاکہ اﷲتعالیٰ کے ذکر، اﷲتعالیٰ کییاد، اﷲتعالیٰ کے خاال سے دل، دماغ اور زبان خالی، عاری، ننگے، قاصر، سُونے، غریآباد، ویران، سنسان، اجاڑ، بنجر ہںت تو سنئیے! فارسی زبان کا ایک محاورہ ضرب المثل او رکہاوت (وہ کلمہ یاکلام جو کسی خاص مفہوم کے لےن چُن لاو گان ہو) خانۂ خالی را دیومے گرپد ہے (خالی گھر پر بھوت اور بھوتنیوں کا قبضہ ہوجایا کرتا ہے) چنانچہ آج انسانی جسموں پر مسائل، مصائب، آلام، امراض کا جو راج ہے اس مںگ کہںب نادیدہ قوتوں کا ہاتھ تو نہںو؟ اس لےد کہ آج کے انسان نے تو قدرت کے حفاظتی آہنی ہاتھ کو تو نعوذباﷲ طویل جبری رخصت دے رکھی ہے، لہٰذا اس وقت قدرت کے حفاظتی آہنی ہاتھ کے بجائے مواخذاتی (پکڑ) آہنی ہاتھ متحرک، کارفرما محسوس ہورہا ہے۔ اس نکتۂ نظر کو مزید تھوڑی سی وسعت دیےقت۔ جن، جن جگہوں، مقامات، گھروں مںہ ہم نے اقامت، رہائش اختاسر کررکھی ہے بحتصت مجموعی ہم نے وہاں وہاں اﷲتعالیٰ کے ذکر، درودشریف، استغفار، تلاوت قرآن، نماز، تسبحا،ت وغرہہ کا داخلہ ممنوع قرار دے رکھا ہے غور فرمائے ! یہ خالی جگہںک کن سے آباد ہوں گی؟ ناجائز تجاوزات کے ذریعے کون قبضہ جمائے گا؟ (سورۃ البقرہ کی تلاوت سے تو شا طنئ رفوچکر، بھاگ جایا کرتے ہںذ) ان ناجائز قابضنغ کو تو حکم تھا کہ اپنا بسراا، ٹھکانہ انسانی آبادیوں سے دور رکھںق، لکنئ جب انسان نے انسانی شناخت ہی کھودی تو اکثریت کے ساتھ اقلتم بھی پِس رہی ہے۔ ایک اور زاویہ، پہلو، نکتہ بھی قابل غور ہے انسان صحبت، ہم نشی ن، مجلس کا اثر قبول کرتا ہے، لہٰذا شاوطیب اثر کے نتائج سے انسان کی سوجھ بوجھ، عقل متاثر ہوتی ہے اور انسان بھی شطاونی حرکات کو اختا ر کرلتاک ہے۔ (اس سلسلے کا ایک احتاکطی پہلو یہ بھی ہے۔ انسان کے اندر دلرعی اور بہادری کا بھی ایک وصف (صفت، خوبی) ہے اور اسے تعلمل بھی دی گئی ہے کہ وہ تکلفے دینے والے جانداروں کو تکلفی پہنچانے سے پہلے ہی ہلاک کردے (اُقْتُلُوا الْمُوْذِیْ قَبْلَ الْاِیْذَائِ) اس کے ساتھ ساتھ خصوصاً جنّات کو جُون، بھسے، حلہس، ہئتا، شکل، سوانگ (سانگ)، بہروپ بدلنے کی طاقت دی گئی ہے۔ اس بدلی ہوئی شکل مںس جنات نظر بھی آجایا کرتے ہںک۔ اس صورتحال کا تقاضہ اور تعلیمیہ ہے کہ ایسے کیم موذی کو قتل کرنے سے پہلے یہ آواز لگائی جائے کہ اگر قوم جنات مںہ سے ہوں تو ہٹ جائیںیا چلے جائںس۔ اسی طرح کسی مد ان، جنگل یا کھلی جگہ پر پڑاؤ ڈالنا ہو، کہںی کھلی فضا مںک قضائے حاجت کرنی ہو تو پہلے اعلان کرا دیا جائے تاکہ غرچ مرئی، نادیدہ جاندار وغر ہ، وہاں سے دور چلے جائںج۔ اسی طرح چھپکلی، منڈتک وغرسہ جسےس چھوٹے چھوٹے جانداروں کو بلا ضرورت نقصان پہنچانے سے بھی پرہزی کاد جائے کہںج ایسا نہ ہو کہ ان شکلوں مںں جنات ہوں۔ اسی طرح درختوں پر بھی جنات کا بسر ا ہوتا ہے درختوں کے کاٹتے وقت احتا طی تدابرا کو نہںن بھولنا چاہےہ۔ اسی طرح کسی خالی زمنئ پر مکانات بنانے سے پہلے، کسی بنے ہوئے مکان کے خریدے جانے سے پہلے بھی کسی اس سلسلے کے عامل سے رہنمائی لے لی جایا کرے۔ احتارط کا ایک پہلو کچھ یوں بھی ہے۔ باورچی خانے (کچن) مں رات کے اوقات مںن برتن خالی ہوں یا ان مںط کھانے پنےس کی اشانء ہوں تو انہںی ڈھک دینا چاہےی۔ نزب بستر استعمال کرنے سے پہلے ہلکا سا جھاڑ لنام چاہےی۔ کھونٹویں پر لٹکے ہوئے استعمالی لباس کو بھی پہننے سے پہلے جھٹک لنال چاہےن۔ (ہمارے ہاں بناہدوں مںر بکرا ذبح کرکے اس کا خون ڈالے جانے کا رواج ہے۔ اییو کوئی شرعی تعلمب نظر سے نہںے گزری، البتہ اس موقعے پر بکرا صدقے کی نتو سے ذبح کروا کر اس کے تمام قابل استعمال حلال اجزاء کو غریبوں مںو تقسمہ کرا دینے کی اجازت ہے لکنہ کسی بھی حلال جاندار کے ذبح کو لازمی اور ضروری سمجھنا حد سے آگے بڑھ جانا ہے بلکہ اس موقعے پر بھی غریبوں مںے صدقے کی نت سے نقد رقم (اپنی حت ک کے مطابق کم یا زیادہ) دینا افضل اور بہتر ہے۔) (9) اسلامی تعلما ت کے مطابق نبیﷺ کے ہرہر امتی پر دہری ذمہ داری ہے: (۱)خود اپنی زندگی بھی نبیﷺ کے طریقوں کے مطابق گزارے۔ (۲)ان نورانی، پاکزطہ، آسان ترین، سوفصدر (100%) کاما:بی کے ضامن طریقوں کی طرف دوسروں کو بھیبلائے، چنانچہ دورِحاضر کے مسلمان دعوت و تبلغپ، تعلمآ و تعلم، درس و تدریس، وعظ و نصحتب، تذکرا و تزکہن جہاد و قتال، تصنفط و تالفد کے اسلامی مدبانوں مںا اپنی ذمہ داریاں جان و مال او راوقات صرف کرتے ہوئے مثبت و ایجابی انداز مںی نبھا رہے ہںن جو شا طنا الانس والجن سے برداشت نہںہ ہو پاتںی۔ یہ طاغوتی، شر پھیلانے والی قوتںج ان کوششوں کو اپنے کاموں کے حوالے سے نقصان دہ اور رکاوٹ سمجھتی ہںا، لہٰذا وہ ان کوششوں کے کرنے والوں کو بطور خاص آسیب، سحر، سفلی عملاھت کے ذریعے بھی جسمانی و روحانی و مالی و مادی طور پر زِک، نقصان پہنچاتی ہںم تاکہ وہ حضرات اپنی اصلاحی کوششوں کو چھوڑ بںھو اور ان شااطنص کو کھلے مُہار (بغرا کسی نکلو (اونٹ کے ناک کی رسّی) کے) اپنا کُھل (بے شرمی و بے حاائی کے ساتھ آزادانہ و علانہش طور پر بُرے کام کرنا) کھلنےل کے مواقعے پر کوئی دقت پشک نہ آسکے۔ (اس نکتۂ نظر کے ساتھ دین کے تمام کاموں کے کرنے والوں کی زندگورں مںی آتی رہنے والی پریشانوشں پر بھی نظر دوڑائےّ اور ان کی ہمت کی داد دیےیی۔ رب ملیک مقتدر، ذوالجلال والاکرام کی قسم! قابل تحسنا، لائق داد ہںا ہرہر شعبہائے دین کے یہ تمام کے تمام افراد۔ آفرین ہے ان پر کہ شاکر و علمک ذات کی بارگاہ مںن اپنی وفا کا نذرانہ پشا کررہے ہں ، ذات حق کے ساتھ اپنی وابستگی (تعلق) کا ثبوت دے رہے ہںا، حکم کی تعمل کے لےا ہرحال مںا گردن جھکائے ہوئے ہمہ وقت تارر رہتے ہںم،یی تو وہ لوگ ہںش جو انسانی، جناتی شا طن کے لے مستقل دردِسَر بنے ہوئے ہں ،ییت وہ بنی نوع انسانتے کے بظاہر لُولے، لَنگڑے، اندھے، کانے، معذور، کمزور و بمامر دکھائی دینے والے مایہ ناز (فخر و ناز کی پونجی) سپوت (سعادت مند اولاد) ہںا جو اﷲتعالیٰ الجبارالقہار کے قہر (غضب) کی آگ پر الرحمن والرحمر کے مہر (رحمت) کا پانی ڈالتے رہتے ہںع (گویا روحانی دناڑ مںذ فائربریڈے۔ (Fire-Brigade) آگ بجھانے والی جماعت کی ڈیوٹی دے رہے ہںی۔) اے راہِ حق کے مزدورو! نباہ کے پکرںو! آپ (جماعت) کو شرف، بزرگی، برتری، عزت، فخر حاصل ہے، آج کے مادیت اور معصیت کے طوفانی، سیلابی دور مں امام الانبیاء، فخر موجودات، محسن انسانت،، ھادی السبل، محبوب رب العالمنیﷺ کی تبلیلا مداانوں کی سنتوں کے زندہ کرنے کا۔ اپنے نفسوں کو اس شرف سے خوشی پہنچائےا۔ اﷲتعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں مںل تحدیث بالنعمہ کی نتف سے تذکرہ کرتے ہوئے ترغبو کی نتح بھی کےدے ۔ جانتے بھی ہو؟ اس قادرمطلق، مختارکُل نے تمہارا ہی انتخاب کوزں کاس ہے؟ نعوذباﷲ کاہ اپنی کسی کمزوری، عاجزی، بے بسی چھپانے کے لےہ؟ نہںُ! یہ دشمنان دین متنم تو اس کے ’’امرکُن‘‘ کی مار سہہ ہی نہںہ سکتے۔ (دوستوں، دشمنوں، معصوموں، شطاینوں، عقل مندوں، بے وقوفوں، چھوٹوں، بڑوں، تمام جانداروں، کل مخلوقات کی تمام طاقتںی مل کر بھی اس حیّ و قومم، لم یزل ولا یزال طاقت کے سامنے سَر اُٹھا ہی نہں سکتںد {وَعَنَتِ الْوُجُوْہُ لِلْحَیِّ الْقَیُّوْمِ} (سورۂ طٰہٰ آیت 111) اس ذات اقدس کے پاس، طاقت کے کبھی نہ ختم ہونے والے، کبھی نہ کم ہونے والے، کبھی نہ کمزور پڑنے والے، کبھی نہ پڑے پڑے زنگ آلود یا ضائع و بے کار ہوجانے والے، لامتناہی، لازوال ایسے ایسے خزانے ہںل جنہںن محفوظ رکھنے کے لےْ نہ گوداموں کی ضرورت ہے، دیکھ بھال کے لےی نہ چوکدواروں کی حاجت ہے، نہ ہی پرانوں کو نئوں سے بدلنے کی مانگ ہے۔ یہ طاقت تو ’’امرکُن‘‘ کے حکم مں پوشد ہ اور چھپی ہوئی ہے۔ اس المہمنی (تمام مخلوقات کی نگہبانی کرنے والی) العزیز (کسی سے بھی، کبھی بھی مغلوب نہ ہونے والی، سب پر ہمشہ مکمل طور پر غالب رہنے والی)، الجبّار (تمام بگڑے ہوئے کاموں اور حالات کو درست کردینے والی)، القہّار (تمام مخلوقات کو قابو مںا رکھنے والی)، الحافض (نافرمانوں کو پست کردینے والی)، المذل (کافروں کو ذللن کردینے والی)، المنتقم (بدلہ لنےر والی)، الضار (نقصان پہنچانے والی) ذات نے اپنے اقدس، احسن و اصدق کلام مں) ماضی مںے اپنے ’’امرکُن‘‘ سے طاقت کے اظہار کے مختلف انداز کے مختلف نمونوں کو پشا کرتے ہوئے متنبہ فرمایا ہے۔ آئےا! دل کی آنکھوں سے دیکھتے، دل کی زبان سے پڑھتے ہںظ، {فَکُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْبِہٖ…اَنْفُسَہُمْ یَظْلِمُوْنَ}(سورۂ عنکبوت آیت 40) ’’پس ہم نے ان سب کو (ان کے) اپنے اپنے گناہوں پر پکڑا، پھر ان مںت سے کچھ تو ایسے تھے جن پر ہم نے ہوا بھی ا، ہوا سے پتھراؤ کای (قوم لوط و قوم عاد) اور کوئی تھے جنہںپ چنگھاڑ، نے پکڑا (ثمود واہل مدین) او رکوئی تھا جسے ہم نے زمنَ مں دھنسا دیا (قارون) اور ان مں سے کچھ تو ایسے تھے جن کو ہم نے پانی مں غرق کردیا (فرعون و ہامان و فرعونی قبطی و قوم نوح) اور اﷲ(تعالیٰ) تو ایسا ہے ہی نہںن (اس کی شان کے خلاف ہے یہ بات) کہ وہ ان پر ظلم کرتا بلکہ وہ تو خود اپنی (اپنی) جانوں پر ظلم کرنے والے تھے۔‘‘ اس قہرآلود طاقت کے سامنے عداوت کے جمتے پہاڑ روئی کے امڈتے ہوئے گالے (دُھنی ہوئی روئی کا ایک حقرک گپھا، ذلل گچھا) ہںت، معاندین کے مضبوط و محصور قلعے، مکڑی کے جالے ہں ۔) یہ تو الصبور (بہت ہی زیادہ برداشت کرنے والا)، التوّاب (توبہ کی توفقں دینے اور قبول کرنے والا) الستّار (عبویں کی پردہ پوشی کرنے والا)، حلمص (بہت ہی زیادہ برداشت کرنے والا) ذات کا احسان ہے کہ دشمنوں کو سانس لنےہ دے رہا ہے، نعمتںا استعمال کرنے دے رہا ہے، اپنے ماننے والوں پر ان روڑے اٹکانے، رکاوٹںع پددا کرنے اور رخنے ڈالتے رہنے والوں کو مالی او رمادی اعتبار سے برتری دے رکھی ہے تاکہ ان کے دلوں مںک اپنی شرارتوں کے حوالے سے کوئی حسرت، یاس، افسوس، ناامدیی کا ذرّہ برابر عنصر لمحے بھر کے لے بھی باقی نہ رہے۔ جب اس قماش کے بدمعاش اپنی ریشہ دوانوفں کے نتائج سے مایوس رہتے ہوئے بھی باز نہ آئںو اور نعمتوں کی فراوانی پر غرور، تکبر، فخر، گھمنڈ، شی ق کی انتہاؤں مںر قدم جمائے رکھںس تو پھر غیائ ہاتھ حرکت مںر آتا ہے اور جو ایسا بھرپور ہوتا ہے کہ وہ چاروں شانے چِت ہوجاتے ہں ، مکمل طور پر پچھڑ جاتے ہںب، پوری طرح اس دناس مں ہی شکست کھا جاتے ہںی، شا طنں کی منفی (آسیب، سحر، سفلی عملاچت، جنترمنتر، ٹونا، ٹوٹکا، نظربندی، شعبدہ بازی، ہیپٹانزم، مسمیرزم وغرجہ ) سرگرمواں کے جو اثرات آپ حضرات (مبلغنس، مجاہدین، مصلحنھ، مصنفین، مقررین، واعظین، ناصحنٹ، مدرسن ، مقربنط، صالحنر، دیی معاوننک وغراہ) پر پڑتے ہں جانتے بھی ہو اس کا کا مطلب ہے؟ یہ مدبّرِکائنات کا خاموش اعلان ہے کہ یہ سب خاص مر،ے اپنے بندے ہںر۔ ان کا مرنی ذات سے ذاتی تعلق ہے، یہ نبیﷺ کی اطاعت مںر ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی راہں ہر وقت تلاشتے رہتے ہںپ، انہںی مذہب اسلام سے والہانہ، مجنونانہ عقد ت اور لگاؤ ہے یہ تو ہمارے ہاتھوں اپنی جانوں، مالوں کو جنت کے بدلے بچم چکے، انہوں نے تو پچھےر نہ ہٹنے کا معاہدہ کررکھا ہے، اس وعدے کے تحت بہت سارے خود اپنی جان وار چکے، بہت سے ابھی موقعے ملنے کے صدق دل سے انتظار مںت ہںے۔ ان پر تو کوئی حال آتا ہے تو اﷲتعالیٰ کی ذات کے ساتھ ان کے ایمان و اطمنابن مںن مزی

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
373