مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں
مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔
مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔
پروفائل | تمام کالمزنَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
اﷲ رب العزت کی ذات غنی (اپنے غیر سے بالکلیہ مکمل طور پر بے نیاز) حمید (قابل تعریف، لائقِ ستائش، سزاوار حمدوثنا) صمد (بے خوف و بے نیاز) جواد (سخی، بے پناہ عطا کرنے والا)، کریم (کرم کرنے والا)، ذوالجلال (عظمت کی آخری حد پر فائز رہنے والا، عظیم الشان) ، ذوالاکرام (کسی کو بے عزت کیے بغیر ایسا نفع پہنچانے والا جو انتہائی عمدہ، اشرف اور اعلیٰ ہو) ہے۔ اس کے لیے ہی کائنات کی ہرہر چیز ہے جیساکہ ایک مقام پر ارشاد ہے
لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ - (سورۂ بقرہ آیت 107)
اﷲتعالیٰ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے۔
کائنات کی ہرہر چیز، ہر وقت، ہر جگہ اپنی ہر مقدار اپنے نفع نقصان سمیت اس کی دسترس میں ہے جیساکہ ایک مقام پر ارشاد ہے
لَہٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ} (سورۂ شوریٰ آیت 12)
آسمانوں اور زمین کی ساری کنجیاں اُسی کے قبضے میں ہیں۔
موجود چیزوں میں سے ہرہر چیز کے بے پناہ ذخائر ہر وقت اس کے پاس رہتے ہیں
وَ اِنْ مِّنْ شَیْئٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَآئِنُہٗ(سورۂ حجر آیت 21)
اور کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس کے (کبھی نہ ختم ہونے والے بھرپور) خزانے ہمارے پاس نہ ہوں.
شعبان المعظم کی پندرھویں رات میں عبادات کے اہتمام کے حوالے سے جو روایات ملتی ہیں ان روایات کے نقل کرنے والے صحابۂ کرام کی تعداد محققین کے شمار کے مطابق دس(10) ہے اس رات کی اہمیت او رحقیقت کو مانے جانے کے حوالے سے علماء کرام کی ایک رائے یہ ہے کہ اس رات کی اہمیت و حقیقت کے ثبوت کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اسے کم از کم دس(10) صحابہ نے نقل کیا ہے، مزید یہ کہ نبیﷺ کے زمانے سے لے کر آج تک کے ہر علاقے کے مسلمانوں نے اپنی اپنی حیثیت و طاقت کے مطابق اس کا اہتمام رکھا ہے اور عبادت کا اہتمام ان شاء اﷲ قیامت تک جاری و ساری رہے گا، عرف عام میں اس رات کو شبِ برأت کہا جاتا ہے، عام زبانوں پر اسے بڑی رات کے نام سے پکارا جاتا ہے، بڑی سے مراد لمبی رات نہیں ہے کہ عام راتوں کے مقابلے میں اس کا دورانیہ کچھ زیادہ ہو بلکہ اس کا بڑا ہونا عظمت و تقدس کے اعتبار سے ہے، مختصر یہ کہ اس را ت کی عبادت کے اہتمام کو دین کا حصہ سمجھا اور کہا جائے گا جس کی فقہی حیثیت کم سے کم نفل یا مستحب کی اور زیادہ سے زیادہ سنت کی ہے اس رات میں عبادت کے اہتمام کو کسی راوی کے کمزور ہونے کی آڑ میں بدعت کہا جانا قرینِ قیاس نہیں ہے اور فضائل کے باب میں اس کی کمزوری کی حیثیت نہیں ہے۔ اس رات میں روایت کے مطابق مغفرت عامہ کا اعلان ہوتا ہے اور تعداد کے اعتبار سے اس کی کل تعداد تو ہمیں نہیں بتلائی جاتی صرف اتنی بات کہی جاتی ہے کہ قبیلۂ بنوکلب (قبائل میں یہ ایسا قبیلہ تھا بکریاں پالنا جس کا پیشہ تھا اور تعداد کے اعتبار سے ان کی بکریوں کی تعداد دوسرے قبائل میں پائی جانے والی بکریوں کی تعداد سے کہیں زائد تھی) میں پائی جانے والی بکریوں کی کھالوں پر جتنے بال ہوں اس سے زیادہ لوگوں کی مغفرت کی جاتی ہے (ایک بکری کی کھال پر کتنے بال ہوتے ہیں اس کا شمار ناممکنات میں سے ہے صرف اتنا کہا جاسکتا ہے کہ کسی بھی بکری کی کھال پر بے شمار، بے حساب، اَن گنت بال ہوتے ہیں جب ایک بکری کا یہ عالم ہے تو بنوکلب کی تمام بکریوں کی کھالوں پر بالوں کی کتنی تعداد ہوگی اس تعداد کے اعتبار سے ایمان والے بندوں کی اﷲتعالیٰ کی طرف سے اس رات میں مغفرت کردی جاتی ہے اور ظاہر سی بات ہے کہ جو اپنے ایمان اور عمل سے اپنا استحقاق ثابت کرے گا وہ کیسے محروم رہ سکے گا؟) عرفِ عام میں رات کی ابتداء سورج کے غروب ہوتے ہی ہوجاتی ہے اور اس کی تکمیل صبح صادق کے ہونے پر ہوجایا کرتی ہے اس عرف میں شبِ برأت بھی شامل ہے چنانچہ جیسے ہی چودھویں تاریخ کا سورج غروب ہوجاتا ہے تو چودھویں کا دن ختم ہوجاتا ہے او رپندرھویں رات کا آغاز ہوجاتا ہے، عین اس وقت مغرب کی نماز کا وقت ہوجاتا ہے اس وقت کے ہوتے ہی روایت کے مطابق آسمان دنیا پر اﷲتعالیٰ کی رحمت کا نزول شروع ہوجاتا ہے جو اعلان اﷲتعالیٰ کی طرف سے ہر رات کے آخری حصے میں کرایا جاتا ہے وہ اس رات کے ابتداء ہی سے جاری کرا دیا جاتا ہے اور رات کی تکمیل یعنی صبح صادق تک جاری رہتا ہے۔ وہ اعلان یہ ہے کہ ’’ہے کوئی مغفرت کا چاہنے والا کہ میں اس کی مغفرت کردوں، ہے کوئی رزق کا مانگنے والا کہ میں اُسے رزق دے دوں، ہے کوئی اپنی حاجتوں کو پورا کرانے کا مطالبہ کرنے والا کہ میں اس کی حاجتوں کو پورا کردوں‘‘ (خدا کی قسم لوٹنے کا موقع ہے اور لُٹانے والی بے نیاز اور فیاض ذات اس رات میں لُٹانے پر صرف آمادہ ہی نہیں ہے لٹانے کے لیے آسمان دنیا پر لُٹانے کے لیے تیار ہے صرف لوٹنے والوں کو ہی اپنے اعلانات کے ذریعے سے جوکہ مسلسل ساری رات جاری رہتے ہیں متوجہ نہیں کررہی بلکہ غافلین کو بھی جھنجوڑتے ہوئے ان کے کانوں تک اس آواز کو پہنچایا جارہا ہے اس کا کھلا ثبوت یہ ہے کہ عام حالات میں روزمرہ معمولات میں پھنسے رہنے والے اور مساجد کی آبادی سے غفلت برتنے والے بطور خاص مساجد میں عبادات میں مشغول اور منہمک نظر آیا کرتے ہیں۔)اس رات میں پوری رات کا دورانیہ رکھا گیا ہے کوئی ایک خاص وقت مقرر نہیں کیا گیا مغرب کے فوری بعد سے لے کر صبح صادق تک کے کسی بھی وقت میں اس کی بارگاہ میں رجوع کیا جائے تو بیڑا پار کرانے کا فیصلہ لیا جاسکتا ہے مسلسل پوری رات عبادت ہی میں گزارنا نہ مطلوب ہے نہ مقصود ہے اگر کوئی شحص بشاشت کے ساتھ اکتائے بغیر پوری رات عبادت میں مشغول رہے تو وہ اپنی محنت کے بقدر اُجور میں حصہ پاسکتا ہے لیکن اگر کوئی رات کے ابتدائی حصے میں عبادت کرلے جب تک استطاعت ہو اور پھر آرام کرلے تو وہ بھی اس رات کو عبادت کے ساتھ زندہ کرنے والوں میں شمار ہوگا، اسی طرح اگر کوئی شخص ابتداء میں آرام کرلے اور اخیر رات میں عبادت کرلے تو وہ بھی اس رات عبادت کرنے والوں میں شمار رہے گا اگر کوئی ابتداء میں عبادت کرلے اور درمیان میں آرام کرلے اور آخر میں عبادت کرلے تو وہ نیک بخت بھی اس رات کی عبادت کرنے والوں کی فہرست میں شامل رہے گا اگر کوئی شخص ابتداء میں آرام کرے درمیان میں عبادت کرلے اور آخر میں آرام کرلے تو وہ بھی اس کے اجور سے محروم نہیں رہے گا۔ گویاکہ عبادت اور آرام کے حوالے سے کوئی متعین وقت قائم نہیں کیا گیا، عبادت و آرام دونوں کو جمع کیا جاسکتا ہے چاہے اس کی ترتیب کوئی بھی ہو، عبادت کرنے والے کو اس کا اختیار ہے۔ جیسے اوقات میں سے کوئی وقت متعین نہیں کیا گیا ایسے ہی عبادت کرنے کے حوالے سے کسی عبادت کو متعین کرکے نہیں بتلایا گیا ہے، مغرب، عشاء اور فجر کی نماز میں تو عام راتوں کی طرح اس رات میں بھی ادا کرنی ہیں اس لیے کہ وہ فرض ہیں، قابل غور بات یہ ہے کہ اگر ساری رات عبادت میں خرچ کی جائے اور فجر کی فرض نمازیں تھکاوٹ اور نیند کا غلبہ ہو خوش دلی سے بشاشت کے ساتھ فجر کی نماز ادا نہ ہوسکے، یا نیند کے غلبے اور تھکاوٹ کی وجہ سے فجر کا وقت فجر کی نماز کی ادائیگی کے بغیر نیند میں گزر جائے تو عبادت کرنے والا خود یہ فیصلہ کرے کہ مستحب یا سنت کا ادا کرنے والا فرض نماز کی ادائیگی کو مکروہ بنادے یا بالکل ہی محروم ہوجائے یہ کیسی اور کہاں کی دانشمندی ہے؟ اگر اس شخص نے عشاء کی جماعت کے ساتھ نماز پڑھ لی ہے تو آدھی رات کی عبادت کا ثواب ملتا ہے اور فجر کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھ لی ہو تو آدھی رات کا ثواب ملتا ہے۔ عام دنوں میں یا اس رات میں عشاء اور فجر کو جمع کرنے والا رات بھر میں عبادت کیے بغیر پوری رات کی عبادت کا ثواب پاتا ہے تو ایسے کمزور شخص کو رات کی عبادت کے بجائے یا جتنی بشاشت ہو اتنا کرنے کے بعد عشاء اور فجر کی نمازوں کی باجماعت ادائیگی کا اہتمام کرلینا چاہیے اور اﷲتعالیٰ کی فیاضی کا حصول اپنے لیے آسان بنالے۔ اس رات کی عبادت کے حوالے سے مذہب نے عبادت کرنے والوں کو کھلی اجازت دی ہے کہ جس قسم کی عبادت میں بشاشت کے ساتھ طبیعت چلتی ہو اس عبادت کو اختیار کیا جائے مثلاً نفل نمازیں جس میں صلوٰۃ التسبیح بھی شامل ہے، تلاوت قرآن، ذکر و اذکار اور دعا وغیرہ میں سے چاہے سب کو تھوڑا تھوڑا اختیار کرلے چاہے بعض کو اختیار کرے اور بعض کو چھوڑ دے۔ چاہے کسی ایک کو پکڑ لے باقی کو چھوڑ دے، مذہب نے کسی ایک کا پابند نہیں کیا، ہر ایک کی کھلی اجازت ہے موجودہ دور کے حوالے سے راقم الحروف کی رائے یہ ہے کہ جب شریعت نے اجازت دی ہے تو عبادت کرنے والا اس بات پر غور کرے کہ میرے بالغ ہونے سے اب تک کسی بھی وجہ سے میری فرض نمازیں تو نہیں چھوٹ گئیں اور جنہیں میں نے قضا کے درجے میں پڑھ بھی نہیں رکھا وہ میرے اوپر واجب کے درجے میں ہیں۔ اوپر ذکرکردہ عبادتیں صرف جائز کے درجے کی ہیں اس جائز پر مجھے واجب کو ترجیح دینی چاہیے، لہٰذا اگر اس رات میں جاگنے یا عبادت کرنے کا موقع میسر آہی رہا ہے تو میں اپنی قضا نمازوں کو ادا کیوں نہ کرلوں، جہاں تک اس کی نیت کرنے کا تعلق ہے تو ہر نماز کی ادائیگی پر صرف اتنی نیت کافی ہے کہ جو میری فجر یا کوئی نماز پہلی قضا ہوئی ہے اُسے ادا کررہا ہوں، اسی طرح ہر نماز پر پہلی قضا نماز کی نیت کرتا جائے اور قضا نمازیں ادا کرتا جائے، رات کی نماز کا ثواب بھی پاتا رہے گا اور قضا نمازیں بھی ادا ہوتی رہیں گی اور مؤاخذے سے بچ جائے۔ جہاں تک اس رات کی عبادت کا تعلق ہے کسی بھی روایت سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس عبادت کو اجتماعی عبادت کا رنگ دیا گیا ہو البتہ یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ یہ عبادتیں انفرادیت کا تقاضا کرتی ہیں جب کوئی مخصوص عبادت ہی نہیں ہے ہرہر عبادت کرنے والے کو الگ الگ عبادت کرنے کی اجازت ہے تو کسی بھی عبادت کے لیے اجتماعیت کی نہیں انفرادیت کی ضرورت ہے یہ ضرورت اگر گھروں میں پوری ہوسکتی ہو تو اس رات کے پانے کے لیے مساجد میں جانا بھی لازمی نہیں ہے، مذہب انفرادی عبادت بتلاتا ہے اور اگر ہم اجتماعیت پر اصرار کرتے ہیں تو ہمارا یہ اصرار قولی ہو یا عملی، مذہبی حدود کو پار کرجانے کا ذریعہ تو نہیں بن جائے گا او رہم سنت سے بدعت میں تو داخل نہیں ہوجائیں گے؟ اس رات میں جتنی بھی عبادت کی جاتی ہیں ان کی اپنی فقہی حیثیت نوافل کی ہے اور احناف کے نزدیک نفلی نمازوں کا باجماعت ادا کرنا شریعت کی رُو سے ناپسندیدہ ہے لہٰذا مغرب کے فوری بعد چھ رکعتوں کا دو(2) دو(2) کرکے ادا کرنا اور رات کے کسی حصے کو مخصوص کرکے باجماعت صلوٰۃ التسبیح پڑھنا حنفی حیثیت سے مکروہ ہے۔ خلاصہ یہ کہ شب برأت ہو کہ شب قدر یہ انفرادی عبادت کی راتیں ہیں، ترغیب کے لیے اجتماعی بیان بھی مکروہ ہی کہا جائے گا، البتہ تھوڑی سی دیر حقائق سمجھانے کی نیت سے ترغیبی بات کی گنجائش نکل سکتی ہے بشرطیکہ کسی کی تغلیظ و تنقیص نہ ہو۔ اس رات میں نبیﷺ سے جنت البقیع نامی قبرستان جانا اور مردوں کے لیے دعا و مغفرت کرنا بھی ثابت ہے لیکن محققین کی تحقیق یہ ہے کہ ایسا زندگی بھر میں صرف ایک مرتبہ ہی ہوا ہے جبکہ متعدد راتیں آپﷺ کی زندگی میں پندرھویں شعبان کی آئی ہیں۔ فقہاء کرام نے اوّل تو اس ایک مرتبہ کے ثبوت کے باوجود اس رات میں قبرستان کی حاضری لازم قرار نہیں دی ہے زیادہ سے زیادہ سنت ہے اور ایک مرتبہ ہی ثابت ہے تو اس سنت کی ادائیگی کی نیت سے اس کو اپنی حدود میں رکھتے ہوئے تم بھی ایک مرتبہ قبرستان میں حاضری لگالو اور اگر ایک مرتبہ تم یہ سنت پوری کرچکے ہو تو تم اس سنت کے پورا کرنے والوں میں شمار ہوگے لہٰذا اس رات میں باربار جانے کو نہ لازم سمجھو اور نہ اسے باربار عمل میں لاؤ۔ پھر دورِحاضر میں سڑکوں پر گاڑیوں کا اژدحام ہوتا ہے اور گزرنے والوں کو کئی کئی گھنٹے راستوں میں پھنس کر گزانے پڑتے ہیں اور مخلوقِ خدا اذیت کا شکار رہتی ہے۔ خود قبرستان میں میلوں ٹھیلوں کا ایسا سماں ہوتا ہے کہ روحانیت اور قبر سے عبرت حاصل کرنے کا فقدان ہوجاتا ہے ان شرعی قباحتوں کی روشنی میں بھی اس عمل کو ترک کردینا ہی صحیح اور مناسب ہے ویسے بھی فقہی مسئلہ ہے کہ اگر کسی جائز کو واجب کا درجہ دے دیا جائے تو اس کو چھوڑ دینا واجب ہوجاتا ہے۔ اس رات میں خصوصاً ہند و پاکستان میں ایک رسم تقریباً لازم بناتے ہوئے اختیار کی جاری ہی ہے جس کا شرعاً کوئی جواز ثابت ہی نہیں کیا جاسکتا، وہ ہے اس رات میں حلوہ پکانا اور محلے بھر میں اس حلوے کو بانٹنا یوں تو حلوہ ایک مرغوب ڈش ہے لیکن اس کو اس رات کے ساتھ کوئی مناسبت نہیں ہے اگر اس کو دین کا حصہ سمجھ کر اختیار کیا جاتا ہے تو یہ دین میں اضافہ ہے اور قطعاً ناجائز ہے، عورتیں عبادت کے بجائے حلوہ پکانے میں وقت صرف کرتی ہیں، بچے عبادت کے بجائے محلے بھر میں حلووں کا تبادلہ کرنے میں وقت لگاتے ہیں اور بڑے حلوہ کھانے ہی کو عبادت سمجھ بیٹھتے ہیں، رات تو عباداتی مشقت اٹھانے کے لیے تھی اور ہے ہم نے آرام طلبی اور خوش خوراکی کے راستے پر اسے ڈال دیا۔ ہند و پاکستان ہی میں ایک اور ناجائز رسم کا اجرا ہے کہ اس رات میںدھوم دھام سے پٹاخے بازی اور آتش بازی ساری رات جاری رکھی جاتی ہے نہ عبادت گزار سکون سے عبادت کرسکتے ہیں نہ بیمار سکون سے آرام کرسکتے ہیں، نہ طالب علم سکون سے مطالعہ کرسکتے ہیں، نہ بچے سکون سے سوسکتے ہیں۔ اگر یہ پٹاخے بازی اور اس کی دیگر قسمیں جائز بھی ہوتیں تو ان اعذار کی وجہ سے انہیں ترک کردینا لازم ہوتا جبکہ شرعاً، اخلاقاً، دیانتاً یہ صرف اور صرف ناجائز اور حرام کام ہے۔ غور تو کیجیے! جب اﷲتعالیٰ آسمان سے زمین کی طرف رحمت کی بارش کررہا ہو اس وقت بعض نادان یہ شرارت کررہے ہوں کہ اس کے جواب میں وہ زمین سے آسمان کی طرف آگ بھیجنے کی کوشش میں ہوں، آگ تو رحمت کی ضد ہے کیا یہ رحمت کو آگ سے بجھانا چاہتے ہیں۔ غور کیجیے!ان کا مقام بارگاہِ الٰہی میں کیا بن رہا ہے اپنے اس عمل سے یہ اﷲتعالیٰ کی نگاہ سے گِر رہے ہیں، خدشہ یہ ہے کہ کہیں نظرِرحمت سے دنیا ہی میں دھتکار نہ دیے جائیں۔ اللّٰھمّ احفظنا منھا ایک انتباہ اے مسلمانانِ عالم آ ج ایک مرتبہ پھر شبِ برأت میں اﷲتعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں کے درمیان میں یہ رات ایک ایسے موقعے پر ان حالات میں ہمارے پاس آئی ہے جبکہ ہم بحیثیت مسلمان اجتماعی طور پر ذلت و خواری کے گہرے سمندروں میں ڈوبے ہوئے ہیں ایک مظلومات کسمپرسی اور بے بسی کی زندگی گزارنے پر مجبور کردیے گئے ہیں، طاغوتی قوتوں کے دلوں میں کافرانہ ذہنیت رکھنے والوں کے ذہنوں میں کوئی ادنیٰ سا خوف بھی ہمارے متعلق نہیں ہے وہ من چاہے ہمیں جڑوں سے اُکھاڑ دینے کے بے باکانہ نہ صرف فیصلے کررہے ہیں بلکہ اس پر بلاجھجک ملامت کی پرواہ کیے بغیر عمل بھی جاری رکھے ہوئے ہیں او رہمیں گاجر اور مولی کی طرح کاٹا جارہا ہے، کبھی فلسطین میں کُشت و خون کا بازار گرم کیا جاتا ہے، کبھی شام میں المناک کھیل کھیلا جاتا ہے، کبھی عراق، لیبیا اور یمن کو تختۂ مشق بنایا جاتا ہے، کبھی افغانستان اور برما میں اس شرم ناک کھیل کے حوالے سے کچھ شرم نہیں کی جاتی، کبھی ہندوستان کے مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائے جارہے ہیں، کبھی سعودی عرب، پاکستان، ایران، ملائیشیا، انڈونیشیا کو مالی و مادّی اعتبار سے ہر شعبۂ زندگی میں انہیں کمزور کردیے جانے کی سازشیں عروج پر ہیں، کبھی کشمیری مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ ہے۔ اس تناظر میں ہمارے آقاﷺ کا یہ ارشاد مبارک ذہن میں گونجتا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ غیرمسلم اقوام تمہیں ختم کرنے کے لیے آپس میں ایک دوسرے کو اس طرح بلائیں گی جیسے دعوت کے موقعے پر دسترخوان پر رکھے ہوئے کھانے سے بھرے پیالے کی طرف بلایا جاتا ہے (آج ظاہری و باطنی دونوں حوالوں سے غیرمسلم اقوام و ممالک کی مسلمانوں کو کمزور اپنے مذہب سے بے روح اور ختم کردیے جانے کے اعتبار سے باہمی طور پر ایسا ہی نقشہ ہے۔) جب صحابۂ کرامؓ جن کی ایمانی قوت نے اس وقت کی طاغوتی قوتوں کو مغلوب کررکھا تھا نے نبیﷺ کا یہ ارشاد مبارک سُنا تو بڑے تعجب سے پوچھا کہ کیا اس وقت مسلمان تعداد کے اعتبار سے کم ہوں گے؟ تو نبی ﷺ نے جواب میں ارشاد فرمایا نہیں تعداد میں تم اس وقت بہت زیادہ ہوگے لیکن تمہاری حیثیت اس وقت سیلاب میں بہنے والے خس و خاشاک کی سی ہوگی (صحابۂ کرامؓ کے زمانے میں ذکر واذکار کے ساتھ ان کا اﷲتعالیٰ کے ساتھ بہت مضبوط تھا اور وہ اپنے آپ کو زندہ اور کافروں کو مردہ سمجھا کرتے تھے۔ آج کے دور کے ہم مسلمانوں نے غفلت کو اپناکر اﷲتعالیٰ کے ساتھ اپنے اس رشتے کو یا تو بہت کمزور کردیا ہے یا بالکلیہ ختم کررکھا ہے، صبح کے وقت کھلتی ہوئی ہر آنکھ رات گئے دیر تک بند ہونے تک مادیت دیکھتی ہے، مادیت چاہتی ہے اور مادیت ہی کے حصول میں جائز سے زیادہ ناجائز طریقوں میں مشغول و مصروف اور منہمک ہے، مادی قوتوں نے مسلمانوں کو مردہ او راپنے آپ کو زندوں میں سمجھ لیا ہے۔) صحابۂ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین نے اپنے آقا ﷺ سے دریافت کیا کہ ہم مسلمانوں کے ایسے پستی میں گِر جانے کی بنیادی وجہ کیا ہے؟ محسنِ کائنات ﷺ نے دو(2) مختصر سے جملوں پر مشتمل ایک بات ارشاد فرمائی ان میں دنیا کی محبت پیدا ہوجائے گی اور وہ موت کو ناپسند کرنے لگ جائیں گے۔ اے مسلمانانِ عالم اگر ہمارے ایمان میں زندگی کی کوئی رمق ہو تو آج کی رات مسلمانانِ عالم کی اس اندوہناک صورت حال کو نبی ﷺ کے صحابۂ کرامؓ کے ساتھ مندرجہ بالا مکالمے کو مدنظر رکھ کر گزاریں، یقیناً عبادات کے حوالے سے اگر اخلاص ہو تو آج کی رات کا احیا قابل تحسین ہے۔ اور یقیناً اجر و ثواب کے اعتبار سے مایوس ہوئے بغیر اﷲ کی ذات پر امید رکھتے ہوئے پورے اطمینان کے ساتھ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ہماری یہ عبادتیں ضائع نہیں ہوں گی ، لیکن سوچنے کا مقام یہ ہے کہ ایسی اور اتنی عبادتیں تو اس موقعے پر ہر سال ہم کیا کرتے ہیں کیا ہماری (مسلمانوں کی) عمومی ذلت بھری اس صورتِ حال میں کوئی ادنیٰ سی کمی بھی واقع ہوئی ہے یا ہرگزرتے ہوئے لمحے کے ساتھ اس میں اضافہ ہورہا ہے، خدارا! سوچیے اور اس کے بدلنے کی صورت حال پیدا کیجیے جس کی چند تدابیر درج ذیل ہیں: (1)انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنے اپنے گناہوں کی سچے دل کے ساتھ معافی مانگیے اور توبہ کیجیے۔ (2) آئندہ ان گناہوں کے نہ کرنے کا پختہ عزم کیجیے۔ (3) ہر حال میں اﷲتعالیٰ کی ذات پر یقین، بھروسہ ، اعتماد، توکل کیجیے اورتقویٰ اپنائیے۔ (4) ہرہر شعبۂ زندگی میں نبیﷺ کے طریقوں کو اپنانے کا لائحہ عمل بناتے ہوئے عمل شروع کردیجیے۔ (5) ہر بالغ مرد و عورت ہر دن کی پانچ نمازیں روزانہ کی بنیاد پر اہتمام کے ساتھ ادا کریں۔ (6) جن لوگوں پر مالی حوالوں سے زکوٰۃ فرض ہے وہ پورا پورا حساب کرکے خوش دلی کے ساتھ اسے پورا پورا ادا کرے۔ (7) جو لوگ مالی اعتبار سے اگرچہ کمزور ہوں لیکن زکوٰۃ وصول کرنے کے مستحق نہ ہوں وہ مکمل طور پر زکوٰۃ حاصل کرنے سے رُک جائیں اور باز آجائیں۔ (8) جن لوگوں کے والدین حیات ہیں وہ ان کی نافرمانی، انہیں قولی فعلی اذیت پہنچانے سے من کل الوجوہ باز آجائیں۔ (9)جن لوگوں کے والدین حیات نہیں ہیں وہ اپنی روزانہ کی دعاؤں میں والدین کی مغفرت کی دعاؤں کو شامل رکھیں۔ (10) جن لوگوں نے اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ تعلقات توڑ رکھیں ہیں وہ ان تعلقات کو دوبارہ جوڑنے او رکسی نہ کسی درجے میں جوڑا ہوا رکھیں۔
وما توفیقی إلاباللّٰہ
کالم نگار : مولانا نعمان نعیم