(+92) 321 2533925
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/01/27
موضوعات
ایماناتت واعتقادیات
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ ایماناَت واعتقادیات سوال: ایمان لانے کا کار مطلب ہے؟ جواب: نبیﷺ کی ذات پر اعتماد کرتے ہوئے آپ ﷺ کی بات کو دل سے سچا جانتے ہوئے زبان سے اقرار کرنے کو ایمان لانا کہتے ہںُ۔ سوال: مذہب اسلام مں کتنی باتوں پر ایمان لانا ضروری ہے؟ جواب: مذہب اسلام مں سات (7) باتوں پر ایمان لانا ضروری ہے۔ سوال: وہ سات (7) باتںذ کون کونسی ہںا؟ جواب: (1)اﷲتعالیٰ پر ایمان لانا۔ (2)اﷲتعالیٰ کے تمام فرشتوں پر ایمان لانا۔ (3)اﷲتعالیٰ کی (نازل کردہ) تمام کتابوں پر ایمان لانا۔ (4)اﷲتعالیٰ کے تمام رسولوں پر ایمان لانا۔ (5)قاشمت کے دن پر ایمان لانا۔ (6)ہر اچھی بُری تقدیر اﷲتعالیٰ کی طرف سے ہے اس بات پر ایمان لانا۔ (7)مرنے کے بعد اﷲتعالیٰ دوبارہ زندہ کرے گا اس بات پر ایمان لانا۔ سوال: ان سات (7) ایمانا7ت کے مجموعے کا نام کاا ہے؟ جواب: ان سات (7) ایمانا7ت کے مجموعے کا نام ایمانِ مُفَصَّلْ ہے۔ جس کے معنی ہںا (الفاظ کے اعتبار سے) تفصی)ٰ ایمان۔ سوال: عربی مںا اس کی ترتب کس طرح ہے؟ جواب: اٰمَنْتُ (۱)بِاﷲِ وَ(۲)مَلٰٓئِکَتِہٖ وَ(۳)کُتُبِہٖ وَ(۴)رُسُلِہٖ(۵) وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ(۶)الْقَدْرِ خَیْرِہٖ وَشَرِّہٖ مِنَ اﷲِ تَعَالٰی وَ(۷)الْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ۔ سوال: ایمان مُفَصَّلْ کا ترجمہ کاٰ ہے؟ جواب: ’’مںن ایمان لایا اﷲ(تعالیٰ) پر اور اس کے فرشتوں پر او راس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر او رآخرت کے دن پر اور ہر اچھی بُری تقدیر اﷲ(تعالیٰ) کی طرف سے ہے اور مَرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر۔‘‘ سوال: مذہب اسلام مں سب سے پہلے کس ذات پر ایمان لانے کا حکم دیا ہے؟ جواب: مذہب اسلام مں سب سے پہلے اﷲتعالیٰ کی ذات پر ایمان لانے کا حکم دیا ہے۔ سوال: اﷲتعالیٰ کی ذات سے کون سی ہستی مراد ہے اور ان کی تعداد کتنی ہے؟ جواب: اﷲتعالیٰ کی ذات سے اس دناٰ مںِ ان دنوری آنکھوں سے نظر نہ آسکنے والی وہ ہستی مراد ہے، جس کا وجود خودبخود ہُوا ہے اور اس کا ہونا ضروری بھی ہے اور جسے اس کا وجود ہمشہک سے ہے ایی؟ ہی ہمشہا ہمشہر رہے گا۔ نزد اس کی موجودگی ہمشہی، ہمشہی سے ہمشہے ہمشہا تک اپنی ہر طرح کی مکمل قدرتوں کے ساتھ ہر وقت، ہرجگہ تھی، ہے اور رہے گی۔ اور وہ ذات اپنی ذات و صفات کے حوالوں سے بغرہ کسی محتاجی، بغر کسی کمزوری اور عبن کے بالکل اکی۔ ہمشہ سے ہے اور ہمشہ۔ ہمشہی رہے گی، اس جسا، کوئی دوسرا نہ کبھی ہوا ہے، نہ کبھی ہوسکے گا، تمام کی تمام چھوٹی، بڑی، نظر آنے والی، نظر نہ آسکنے والی چزشیں اپنے اپنے وجود مںز آنے سے پہلے بھی، وجود مں، آتے ہوئے بھی، وجود مںط آنے کے بعد بھی، اپنا وجود ختم کرچکنے کے بعد بھی مکمل طور پر اس کے علم و قدرت مں تھںن، ہںی اور رہںک گی۔ سوال: خدا کا کای مطلب ہے؟ کاط اﷲتعالیٰ کو خدا کہہ سکتے ہںن؟ جواب: خدا فارسی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہں خودبخود آنے والا، خودبخود موجود ہونے والا۔ فارسی زبان کے ماہرین نے اپنی زبان مںک اﷲتعالیٰ کے معنی مں اس لفظ خدا کو لا، تھا جسےل انگلش مں انگریزی زبان کے ماہرین نے اس مقصد کے لےیGodکا لفظ رکھا ہے۔ چنانچہ اﷲتعالیٰ کے لےے خدا اور God کے الفاظ جائز ہونے کے باوجود اسلام کے دئے۔ ہوئے الفاظ نہںہ ہںص (واضح رہے کہ لفظ خدا اور Godکی جمع بھی آتی ہے جبکہ اﷲ کا لفظ مفرد اور اﷲ کی ذات واحد ہے) اسلام نے اس ذات اقدس کے لےن اﷲ کا نام عنایت فرمایا ہے۔ قرآن و حدیث مںر لفظ اﷲ صرف اور صرف اسی ذات کا نام بتلایا گات ہے، لہٰذا اعلیٰ، عمدہ، برتر، بہتر، مناسب اور موزوں یی ہے کہ اس ذات کا جب بھی نام زبان پر آئے اﷲ کے لفظ کے ساتھ آئے (اگرچہ خدا یاGodکہنا بھی جائز ہے) اور لفظ اﷲ کے ساتھ کوئی نہ کوئی اور اعزاز و اکرام سے بھرپور لفظ بھی شامل کاخ جائے جسےک تعالیٰ، سبحانہ، جلّ جلالہ وغرےہ وغر ہ سوال: کاھ لفظ اﷲ کے علاوہ اﷲتعالیٰ کے دوسرے نام بھی ہںر؟ جواب: جی ہاں! لفظ اﷲ، اﷲتعالیٰ کا اسم ذات (ذاتی نام) اور دوسرے نام اس کے اندر کمالات اور خوبو ں کی وجہ سے صفاتی نام کہلاتے ہں ۔ اﷲتعالیٰ کا ذاتی نام کسی دوسرے کا رکھا ہی نہںد جاسکتا ، البتہ بعض صفاتی نام دوسروں کے بھی رکھے جاسکتے ہںہ اور بعض صفاتی ناموں سے پہلے لفظ ’’عبد‘‘ کا بڑھانا، لگانا لازمی اور ضروری ہوتا ہے اور ان دوسروں کو جب بھی لکھا، پڑھا، پکارا اور بتلایا جائے گا ’’عبد‘‘ کے ذکر کے ساتھ کاھ جائے گا ۔ قرآن حدیث مںل اللہ تعالیٰ کے لے، متعدد صفاتی ناموں کا استعمال ہوا ہے۔جنہں اسماء الحسنی کہا جاتا ہے ۔ محققنل کے شمار کے مطابق اسماء الحسنیٰ کا لفظ قرآن مجد مںس چار (4)مرتبہ آیا ہے۔محققن علماء کرام کے مطابق اللہ تعالیٰ کے صفاتی نام سنکڑ وں کی تعدا د میںہیں۔صححک حدیث مں جہاںایک ساتھ ان ناموں کا ذکر ہے وہ ننانوے(99)ہں ۔ ان مذکورہ بالا صفات کے ساتھ کوئی نام رکھنا چاہے تو اس کے ساتھ لفظ’’ عبد‘‘لگایا جائے جسے( عبدالرحمن، عبدالصمد، عبد الخالق وغربہ۔اگر شروع مںس لفظ ’’عبد‘‘نہ لگایا جائے تو جاننا چاہےک کہ ان مںی سے بعض صفات ایید ہںر جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہںر۔کسی مخلوق کی طرف ان کی نسبت کرنا غلط عقدبے کی بناند پر کفر وشرک ہے۔اگر غلط عقددہ نہںی لکنل بے توجہی اور ناواقفی سے ان خاص صفات کی نسبت غرو اللہ کی طرف کی جائے تو گناہ کبریہ اورحرام ہے۔البتہ ان مںم سے بعض صفات ایی بھی ہیںجن کی مخلوق کی طرف نسبت کرنے کی گنجائش ہے۔لکن بندوں کی طرف ان کی نسبت کرنے سے معنی الگ ہونگے جو درج ذیل ہںں: (1)رَحِیْمْ:اللہ تعالیٰ کے بندوں کے کام آنا اور ان کی ضرورتو ں کو پورا کرنے کی کوشش کر نا۔ (2) مَلِکْ: وہ جو کسی سلطنت پر قابض ہو ، فوج اور رعایا ا س کی اطاعت کا دم بھرتی ہوں۔ (3)سَلَامْ: وہ شخص جس کی زبان اور ہاتھ سے لوگ سلامت رہںو ۔ (4)مُؤْمِنْ: ایمان لانے والا، وہ شخص جس کی طرف سے مخلوق کو ضرر پہنچنے کا خوف نہ ہو۔ (5)مُھَیْمِنْ:اپنے دل کے احوال اور اخلاق کی درستی کی نگہداشت رکھنے والا۔ (6)عَزِیْزْ: دنا والوں کی نظروں مں عزت اور مرتبہ رکھنے والا۔ (7)جَبَّارْ: وہ شخص جو اپنے عمدہ اخلاق واعمال کے ذریعے لوگوں کو تابعدار بنائے۔ (8)مُتَکَبِّرْ: بڑائی کا خواہاں(یہ انسانوں کے حق مںں بری صفت شمار ہوتی ہے)۔ (9)قَھَّارْ: جو اپنے دشمنوں پر غصہ و غضب رکھتا ہو۔ (10)وَھَّابْ: بغرا کسی غرض کے راہ خدا مںے خرچ کرنے والا ، تحفہ دینے والا۔ (11)فَتَّاحْ: دییے اور دنولی امور مںح آسانی کرنے والا۔ (12)عَلِیْمْ: کسی قدر علم رکھنے والا۔ (13)قَابِضْ:اللہ تعالیٰ کا عذاب سنا کر برائی سے روکنے ولا۔ (13)بَاسِطْ: اللہ تعالیٰ کی نعمتں بانن کر کے لوگوں کو بندگی کے لےا تانرکرنے والا۔ (15)خَافِضْ: باطل کو پست کرنے کی کوشش کرنے والا۔ (16)رَافِعْ: حق کو بلند کرنے کی کوشش کرنے والا۔ (17)سَمِیْعْ: کانوں کی مد د سے سننے والا۔ (18)بَصِیْرْ: آنکھوں کی مدد سے دیکھنے والا۔ (19)حَکَمْ: لوگوں کے تنازعات مں فصلہ کرنے والا۔ (20)عَدَلْ: لوگوں کے ساتھ برابری اور انصاف کا سلوک روا رکھنے والا۔ (21)لَطِیْفْ: بندگان خدا کے ساتھ نرمی سے پش آنے والا۔ (22)خَبِیْرْ : اپنے ظاہر و باطن کی خبر رکھنے والا۔ (23)حَلِیْمْ: بردباری سے پشن آنے والا۔ (24)عَظِیْمْ:اچھے اعمال و صفات و بلند مرتبہ ہونے کی وجہ سے لوگوں مںے باعظمت شمار ہونے والا۔ (25)غَفُوْرْ: لوگوں کی برائو ں سے درگزر کرنے والا، پردہ پوشی کرنے والا۔ (26)شَکُوْرْ: اللہ تعالیٰ اور لوگوں کے احسانات کا شکریہ ادا کرنے والا۔ (27)عَلِیْ: لوگوں مںی بلند درجہ رکھنے والا۔ (28)کَبِیْرْ : اپنی اچھائی کے ذریعے دوسروں کو فائدہ پہنچانے والا۔ (29)حَفِیْظْ: برائوپں سے اپنے ظاہر وباطن کی حفاظت کرنے والا۔ (30)مُقِیْتْ: بندگان خدا پر اپنا مال خرچ کرنے والا۔ (31)حَسِیْبْ: اپنے اعمال کا احتساب کرنے والا، اپنی اولاد کی تربت کرنے والا۔ (32)جَلِیْلْ: اچھے اعمال واخلاق کے بسبب بزرگی پانے والا۔ (33)کَرِیّمْ : اچھے اعمال واخلاق کے بسبب شرافت پانے والا۔ (34)رَقِیْبْ:برائوپں سے بچنے کی خاطر ظاہر و باطن کی نگہداشت رکھنے والا۔ (35)مُجِیْبْ: اللہ تعالیٰ کی اطاعت قبول کرنے والا،مانگنے والوں کی مدد کرنے والا۔ (36)وَاسِعْ: علوم مںو وسعت رکھنے والا۔ (37)حَکِیْمْ: اللہ تعالیٰ کی معرفت رکھنے والا۔ (38)وَدُوْدْ: وہ شخص جو اپنے لےت پسند کرتاہے وہ دوسروں کے لے بھی پسند کرے۔ (39)مَجِیْدْ: نسب کے اعتبار سے شریف، اچھے کاموں والا۔ (40)بَاعِثْ: علم و عمل کے لے دوسروں کو ابھارنے والا۔ (41)شَھِیْدْ: گواہی دینے والا، راہ حق مںو قتل کاہ جانے والا۔ (42)حَقّ: موجود۔ (43)وَکِیْلْ : جس کے ذمے کوئی کام سپر د کا، جائے ۔ (44)وَلِیْ: اللہ تعالیٰ کی خاطر نیک لوگوں سے محبت رکھنے والا اور اللہ کے دشمنوں سے بغض رکھنے والا۔ (45)حَمِیْدْ: عقائد ،اعمال اور اخلا ق کے اعتبار سے قابل تعریف شخص۔ (46)مُحْصِیْ: انسانی قدرت کے مطابق معلومات کا جمع کرنے والا۔ (47)حَیّ: زندہ شخص ۔ (48)قَیُّوْمْ : اللہ تعالیٰ کے علاوہ سے استغناء اختافر کرنے والا۔ (49)وَاجِدْ : مقصود پانے والا۔ (50)مَاجِدْ: بندوں مںن بزرگی اور شرافت والا۔ (51)وَاحِدْ: بندوں مںن کسی خصلت کے لحاظ سے اکیلا شمار ہونے والا۔ (52)صَمَدْ: دنووی او ر دییم امور مں لوگوں کا مرجع بننے والا۔ (53)قَادِرْ: (ناقص) قدرت والا۔ (54)مُقَدِّمْ: کسی چزل کو آگے کردینے والا۔ (55)مُؤَخِّرْ: کسی چزل کو پچھے کردینے والا۔ (56)اَوَّلْ: پہلے مرتبہ والا۔ (57)آخِرْ: آخر ی مرتبہ والا۔ (58)ظَاھِرْ : جسم وصورت اور افعال کے اعتبار سے نظر آنے والا ۔ (59)بَاطِنْ: ادراک و شعور رکھنے والا ۔ (60)وَالِیْ: کسی کا م کی ذمہ داری اٹھانے والا۔ (61)مُتَعَالْ: لوگوں مںش بلند مرتبہ والا۔ (62)بَرّ: خلق خدا کے ساتھ نیکھ اور احسان کرنے والا۔ (63)تَوَّابْ: مجرم کی درخواست قبول کرنے والا حاکم، دوست کا عذر قبول کرنے والا۔ (64)مُنْتَقِمْ: دشمن سے انتقام لنےخ والا۔ (65)عَفَوّ: ظلم کے باوجود ظالم کو معاف کرکے اس کے ساتھ احسان کرنے والا۔ (66)رَؤُفْ: خلق خدا پر مہربان ہونے والا۔ (67)مُقْسِطْ: اپنے نفس اور خلق خدا کے ساتھ انصاف کا معاملہ کرنے والا۔ (68)جَامِعْ: اچھے اعما ل اور اخلاق کو اختاار کرنے والا۔ (69)غَنِیْ: اپنی ضروریات کا پانے والا۔ (70)مُغْنِی:مال دے کر کسی کو مال دار بنانے والا۔ (71)مَانِعْ:حفاظت کرنے والا، کسی سے کوئی چزے روکنے والا۔ (72)ضَارّ: تکلفت دینے والا۔(یہ انسانوں کے حق مںل بری صفت شمار ہوتی ہے۔) (73)نَافِعْ: فائد ہ پہنچانے والا۔ (74)نُوْرْ: ظاہری اعضاء اور جسم والا۔ (75)ھَادِیْ: رہنما ۔ (76)بَاقِیْ:کسی چزض کا باقی ماندہ حصہ۔ (77)وَارِثْ: نائب ، خلفہ ۔ (78)رَشِیْدْ: سمجھدار ، ہدایاوافتہ۔ (79)صَبُوْرْ: ناجائز و حرام سے بچنے والا، نیک اعمال پر استقامت اختاحر کرنے والا، مصائب و تکالف پر صبر کرنے والا۔ ان صفات کے ساتھ عبد لگا کر نام رکھنا بھی جائز بلکہ بہتر ہے ۔ اور بغر عبد کے بھی نام رکھنے کی گنجائش ہے مگر یہاں ایک قابل توجہ بات یہ ہے کہ اول تو عام معاشرہ مںب اس تمزل اور فرق کا خارل نہں رکھا جاتا ۔ دوسرے یہ کہ ان ناموں کو مختصر کر کے یا اپنے رسم ورواج کے مطابق کوئی لفظ بڑھا کر نام سے پکارا جاتاہے ۔ واضح رہے کہ شریعت اسلام نے غلط نام رکھنے اور صححھ نام کو بگاڑنے دونوں سے منع فرمایا ہے ۔ جساب کہ سورۂ حجرات آیت 11 مںل ارشاد ہے: ’’اور برے نام سے ایک دوسرے کو مت پکارو۔ایمان قبول کرلنےع کے بعد برا نام لنارگناہ ہے اور جو توبہ نہ کرے وہی لوگ ظالم ہںط ۔‘‘ سوال: کای اﷲتعالیٰ پر ایمان لانے کے لے اسلام نے کوئی مخصوص الفاظ بھی عنایت فرمائے ہںم؟ اور وہ کار ہںق؟ جواب: جی ہاں! اﷲتعالیٰ پر ایمان لانے کے عربی جملے درج ذیل ہںے: ’’اٰمَنْتُ بِاﷲِ کَمَا ھُوَ بِاَسْمَآئِہٖ وَصِفَاتِہٖ وَقَبِلْتُ جَمِیْعَ اَحْکَامِہٖٓ اِقْرَارٌم بِاللِّسَانِ وَتَصْدِیْقٌم بِالْقَلْبِ۔‘‘ سوال: عربی کے ان جملوں کے مجموعے کو کاس نام دیا گان ہے؟ جواب: اس مجموعے کا اصطلاحی نام ایمان مجمل ہے۔ جس کے معنی ہںب (الفاظ کے اعتبار سے) مختصر ایمان۔ سوال: ایمان مجمل کا ترجمہ کاا ہے؟ جواب: اﷲتعالیٰ پر مں ایمان لایا جسےی کہ وہ اپنے (تمام) ناموں اور صفات (خوبوںں) کے ساتھ ہںو اور مںک نے اﷲتعالیٰ کے تمام احکامات (عقائد و اعمال سے متعلق) (شریعت کے بتلائے ہوئے طریقوں کے مطابق) قبول کے ، زبان سے اقرار (منظور)، دل سے تصدیق کرتے ہوئے (سچا جانتے ہوئے)۔ سوال: اﷲتعالیٰ کے فرشتوں پر کسا اور کتنا ایمان رکھنا ضروری ہے؟ جواب: اﷲتعالیٰ نے ایک مخلوق، نور (ہر قسم کی کمزوریوں، برائوےں، نافرمانوزں سے پاک ایک بارونق، روشن، چمکیلا مادہ، جو ان دنوبی آنکھوں کو عموماً دکھائی نہںا دیتا) سے بھی پد،ا فرما رکھی ہے، ان کو عربی مں مَلَکْ (جمع ملائکہ)، اردو مںا فرشتہ (جمع فرشتے) کہتے ہںص۔ ان پر اتنا ایمان کافی ہے کہ یہ اﷲتعالیٰ کی نورانی مخلوق ہںہ جو اﷲتعالیٰ کی نافرمانی نہںم کرتے، جس جس کو جو جو ذمہ داری اﷲتعالیٰ کی طرف سے مقرر کرکے دی گئی ہے، بس اسی کو ذمہ داریوں کے عنر مطابق بتلائے ہوئے طریقوں سے پورا کرنے مں لگے ہوئے ہںل۔ ذاتی طور پر ان کا اپنا یا ان کی اپنی سوچ کا کسی بھی کام مںے کوئی دخل ہی نہںی ہے۔ سوال: اﷲتعالیٰ کی کتابوں پر ایمان لانے کا کاا مطلب ہے؟ جواب: اس دناا مںا اﷲتعالیٰ کا قائم کردہ ایک نظام ’’نظامِ ہدایت‘‘ بھی ہے، اس نظام کے تحت اﷲتعالیٰ نے کچھ کتابںہ اور صحائف بھی بھجےن ہںر (جس مںٰ تفصیائ باتں زیادہ مقدار مںی جمع کی گئی ہوں اسے کتاب (جمع کتب، کتابںب)، جس مں اختصار کے ساتھ اجمالی طور پر بناادی باتوں پر اکتفا کاٰ گاص ہو جس کی وجہ سے اس مںی صفحات کی تعداد کم ہو، اسے صحفہئ جمع (صحف، صحائف) کہتے ہںم۔ صحفےر کو کتابچہ (چھوٹی سی کتاب جمع کتابچے) اور رسالہ (چھوٹی سی کتاب جمع رسائل) بھی کہہ سکتے ہں ، لکنے مذہبی اصطلاح مںم صحفہی اور صحف کے الفاظ استعمال ہوتے ہںس۔ اسلامی معلومات مںر کتابوں مںو صرف چار (4) کتابوں کا ذکر پایا جاتا ہے اور صحائف کی تعداد کے تعن کے حوالے سے مکمل تعداد کا کوئی ذکر نہںا پایا جاتا۔ چار (4) کتابوں کے نام اور ترتب اس طرح ہے: (۱)زبور (۲)تورات (۳)انجلم (۴)قرآن شریف۔ پہلی کتاب (زبور) اور تمام صحائف کا وجود ہی اس دناپ سے ختم ہوچکا، دوسری اور تسریی (تورات و انجل() مںع خود انہو ںنے جن پر نازل کی گئی تھںا بے شمار تبدیاوجں پدپا کردیںیا اصل تعلماوت کو نکال کر اس جگہ اپنی خودساختہ، جعلی، جاہلانہ باتںم ڈال دیں۔ نزا قرآن شریف سب کتابوں کے بعد بھجال گاپ اور اس حوالے سے یہ بات بتلائی گئی کہ قرآن شریف کے اس دناا مں آتے ہی پہلے والی تینوں کتابوں اور تمام صحائف کی تعلماات مکمل طور پر منسوخ (ختم) ہوگئںی اور اب صرف ان پر ایمان رکھنا اس مفہوم مںن رہ گای ہے کہ ہمارے اﷲتعالیٰ نے جو کچھ بھی نازل فرمایا اس سب پر ہم ایمان رکھتے ہںر۔ صرف قرآن کریم ہی اﷲتعالیٰ کی وہ آخری آسمانی کتاب ہے جو اپنے نزول کی تکملی کے روز سے آج تک، آج کے بعد سے قارمت کے دن (اس دناھ کے آخری دن) تک، قاہمت کے دن سے ہمشہت ہمشہ تک کسی آیت، کسی جملے، کسی لفظ، کسی حرف، کسی نقطے، کسی حرکت (زبر، زیر، پشا) کے حوالے سے نہ کم کےی جانے کے، نہ بڑھائے جانے کے، نہ رَدّوبدل کے اعتبار سے درستی کی گنجائش رکھتی ہے، نہ رکھے گی (زمانہ چاہے کساع ہی کوکں نہ ایڈوانسہوجائے، قرآن کریم سے اپنی اصلاح تو لے سکتا ے، قرآن کی اصلاح نہںھ کرسکتا) اس بدلی نہ جاسکنے والی کتاب پر اس انداز سے ایمان رکھنا ہے کہ یہ اسی ترتب کے ساتھ اﷲتعالیٰ کا حق، اٹل، سچا کلام ہے جو قا مت تک کی انسانتچ کی ہدایت کے لےد اﷲتعالیٰ کی طرف سے بھجاک گات ہے، اس کے احکامات کے مطابق زندگی گزارنا ضروری ہے۔ سوال: اﷲتعالیٰ کے رسولوں پر ایمان لانے کا کاے مطلب ہے؟ جواب: اﷲتعالیٰ اپنے نظام ہدایت کے تحت اپنے بندوں کی ہدایت کے لےو انسانوں مںل سے خود چن چن کر مختلف زمانوں مں بعض انسانوں کو نبی و رسول کا بلند مرتبہ و عہدہ دے کر بھجتان رہا ہے۔ ان کی کل تعداد کم و بشے ایک لاکھ چوبسے ہزار (1,24,000) بتلائی گئی ہے۔ ان مں سب سے پہلے حضرت آدمؑ اور سب سے آخری حضرت محمدﷺ ہں ۔ نبی و رسول ہونے کی حت ن سے ان کے درماتن آپس مں کوئی فرق نہںو ہے۔ ان پر ایمان رکھنا لازمی اور ضروری ہے کہ وہ تمام کے تمام اﷲتعالیٰ کے برگزیدہ (پارسا) منتخب بندے اور رسول ہںس، مزیدیہ کہ محمدﷺ کے اعلان نبوت کے ہوتے ہی آپﷺ سے پہلے کے تمام انبیاء علہمپ السلام کا زمانہ مکمل ہوچکا (ان کی نبوت منسوخ نہں ہوئی)۔ سوال: آخرت کے دن پر ایمان لانے سے کاز مراد ہے؟ جواب: اسلامی تعلمامت کے مطابق جب اس دناو کی عمر مکمل ہوجائے گی تو وہ دن آجائے گا جس کے آنے مں کوئی شک ہی نہںت ہے۔ اس دن تمام جانداروں سے ان کی دنومی زندگواں کا اﷲتعالیٰ حساب لںو گے۔ اسی مناسبت سے اس دن کو قاکمت کا دن، حساب کا دن، بدلے کا دن، حشر کا دن بھی کہا جاتا ہے۔ اس ییوچ دن کے واقع ہونے پر کہ وہ ضرور بالضرور واقع ہوگا ایمان رکھنا ضروری ہے۔ سوال: اچھی، بری تقدیر، اﷲتعالیٰ کی طرف سے ہے اس پر ایمان رکھنے کا کاچ مطلب ہے؟ جواب: دنویی زندگی مںت انسان پر اچھے بُرے دونوں قسم کے حالات آسکتے ہںف، بعض اوقات یہ انسان کے اپنے اعمال کے نتائج ہوتے ہں ، اور بعض اوقات انسان کی برائی کی ترقییا برائی کی تنزلی (چھوڑ دینے ) کی مہلت، انسان کی اچھائی کی بلندی کی آزمائش ہوتے ہں (کبھی اعمال حالات کا سبب بنتے ہںچ، کبھی حالات اعمال کا ذریعہ بن جاتے ہںو)، لیکنیہ نتائج و حالات کا ظاہر ہونا یا نہ ہونا اﷲتعالیٰ ہی کی طرف سے ہوتا ہے، اسی کو تقدیر کہتے ہںئ اور نتائج کے ظاہر ہونے یا نہ ہونے کے اعتبار سے چاہے اچھے ہوں یا بُرے، اﷲتعالیٰ کی طرف سے ہی ہونے پر ایمان رکھنا ضروری ہے۔ سوال: مرنے کے بعد دوبارہ زندہ اٹھائے جانے پر ایمان رکھنے کا کات مطلب ہے؟ جواب: پدنائش کے ذریعے اس دنان مںک زندہ حالت مں آنے والا انسان موت کے ذریعے مردہ حالت مںل اس دنا سے نکال لار جاتا ہے۔ نہ جھٹلائی جاسکنے والی اس حققتا کو یوں بھی باھن کان جاسکتا ہے کہ بھجنےس والا پدےائش کی صورت زندہ حالت مںا اس دنان مں بھجتاہ ہے اور موت کی صورت مردہ حالت مںا اس دناا سے واپس بلا لتان ہے۔ اس موت کی وجہ سے انسان کا خاتمہ نہںے ہوا کرتا صرف اس دنال سے انسان کا تعلق ختم ہوجایا کرتا ہے۔ بس انسان عالم برزخ (قبر کی زندگی) مں منتقل کردیا جاتا ہے، پھر ایک وقت آئے گا تمام انسانوں کو دوبارہ زندہ اٹھاتے ہوئے ایک مدسان مںی جمع کاد جائے گا جہاں دنوای زندگی کا حساب لتےہ ہوئے بعد کی (آخرت کی) زندگی کا فصلہت سناتے ہوئے اس فصلےن کو نافذ کاع جائے گا اس دوبارہ زندہ حالت مںک تمام انسانوں کو اٹھائے جانے کا عقد ہ اسلام نے دیا ہے جس پر ایمان لانا مسلمان ہونے اور رہنے کے لےا ضروری ہے۔ سوال: اگر کوئی آدمی ان سات (7) چزفوں مںو سے کسی بات پر ایمان نہ لائے یا ان مںں سے کسی بات کا انکار کردے تو وہ مسلمان باقی رہ سکتا ہے؟ جواب: ان پوری سات (7) باتوں پر ایمان لانا ضروری ہے۔ ان مںی سے کسی بات کا انکار کرنے والا مسلمان باقی نہںے رہے گا۔ یہاں تک کہ ساری زندگی ان باتوں پر (ایمان پر) قائم رہنا ضروری ہے اور موت بھی ایمانی حالت مںک آنی چاہےی ورنہ آخرت کی ہمشہہ ہمشہی والی زندگی میںہمیشہ ہمشہا دوزخ مںم تکلفومں میںر ہے گا اور یہ بہت بڑا نقصان ہے۔ سوال: کا ان سات (7) چزروں کے علاوہ بھی کوئی بات اییئ ہے جس پر ایمان لانا ضروری ہے؟ جواب: جی ہاں! اسلام مں) جتنے فرائض ہںے ان کو فرض ماننا بھی ایمان مںپ داخل ہے اگر کوئی آدمی اسلام کے کسی فرض کا انکار کرے گا تو وہ کافر ہوجائے گا۔ سوال: اگر کوئی آدمی (اسلام و ایمان قبول کرلنےن کے بعد) اسلام کی حلال چزاوں مںر سے کسی چزک کو حرام سمجھتا ہو یا حرام باتوں مںا سے کسی بات کو حلال کہتا ہو اس کے بارے مںن کا حکم ہے؟ جواب: ایسا آدمی بھی اسلام سے نکل جائے گا اور مرتد کہلائے گا۔ سوال: اگر کوئی آدمی اییب غلطی جان بوجھ کر کرے گا تو اس کے کاض اثرات پڑیں گے؟ جواب: اگر کوئی آدمی جان بوجھ کر اییل غلطی کرے تو وہ مرتد ہوجائے گا اگر شادی شدہ ہوگا تو اس کی بوری اس پر حرام ہوجائے گی۔ اسے دوبارہ اسلام قبول کرنے کی دعوت دی جائے گی اگر وہ اس دعوت کو قبول نہ کرے تو اس کے رشتہ داروں کو اس سے تعلقات ختم کردینے چاہیئیں اور اسلامی حکومت کو اسے قتل کردینا چاہےک۔ سوال: مرتد کو قتل کرنے کی اجازت کسی عام مسلمان کو ہے؟ جواب: نہںد! یہ کام اسلامی حکومت کا ہے۔ اصلی اور پداائشی غرہفسادی کافر کو قتل کرنے کا اختا ر اسلامی حکومت کو بھی نہںھ ہے۔ سوال: اسلامی حکومت کو مرتد کے قتل کے متعلق کای حکم ہے؟ جواب: مرتد عورت کو دوبارہ اسلام قبول کرنے تک جلت مںو قدس رکھا جائے اور مرتد مرد کو (قدس مںو رکھتے ہوئے) دوبارہ اسلام قبول کرنے کی دعوت دی جائے، اس کے لےع تنو (3) دن کا وقت دیا جائے دوبارہ اسلام قبول کرنے پر تارر نہ ہو تو تنپ (3) دن کے بعد قتل کردیا جائے۔ سوال: اگر کوئی مرتد دوبارہ اسلام مںل داخل ہونا چاہے تو اسے کا) کرنا چاہےد؟ جواب: اسے پاک صاف ہوکر دوبارہ کلمہ بھی پڑھنا پڑے گا اور اگر شادی شدہ ہے اور اس کی بوئی زندہ ہے تو اسے اپنا نکاح بھی دوبارہ پڑھوانا پڑے گا۔ سوال: اگر کوئی آدمی لاعلمی مںھ اییا غلطی کرجائے تو اس کی تلافی کسےا ہوگی؟ جواب: ایسے آدمی کو توبہ کرنی چاہے اور صحح عقداے کے مطابق ایمان رکھنا چاہےگ۔ سوال: اگر کوئی آدمی اسلام کے احکام پر عمل کرتا ہو لکنا اس کے عقائد (اس کا ایمان) اسلامی عقائد و ایمان کے مطابق نہ ہوں تو اس کے بارے مںا علمائے کرام کاو کہتے ہںک؟ جواب: ایسا آدمی جس کے عقائد اسلامی عقائد کے خلاف ہوں سخت خطرے مں ہے اس کے کافر ہوجانے کا بہت سخت اندیشہ اور خطرہ ہے اور وہ آخرت میںیقینی نقصان مںا ہوگا۔ سوال: اگر کوئی آدمی اسلام کی تمام باتوں کو اسلامی عقائد کے مطابق مانتا ہو لکنے اسلام پر عمل کرنے مںر کوتاہی کرتا ہو۔ اس کے متعلق علمائے کرام کاک کہتے ہںب؟ جواب: ایسا آدمی مسلمان ہونے کے باوجود گنہگار ہے۔ اسے دناف اور آخرت مںم اس کے گناہوں کی سزا ملنے کا خطرہ ہے۔ لکنہ اﷲتعالیٰ اسے اپنے فضل سے معاف کردینے کا بھی اختافر اور قدرت رکھتا ہے۔ اگراس نے معاف کردیا تو بغرن سزا کے اور اگر معاف نہ کاا تو سزا کے بعد ایسا شخص بالآخر ہمشہب ہمشہی کے لےر کامامب ہوجائے گا۔ سوال: کاک اسلام کی بات جاننے کے لےآ سوالات کرنے کی اجازت ہے؟ جواب: جی ہاں! معلومات حاصل کرنے کے لےآ سوالات کی اجازت ہے لکن؟ عقداۂ اسلام ہی کے مطابق رکھنا ہوگا۔ سوال: سوالات کس قسم کے لوگوں سے کرنے چاہیئیں؟ جواب: اﷲتعالیٰ کا حکم ہے کہ اگر تم نہںآ جانتے تو جاننے والوں سے پوچھو۔ لہٰذا سوالات علمائے حق اور مفتورں سے کرنے چاہیئیں۔ سوال: کاا اسلام کے متعلق آپس مں بحث کرنی چاہے ؟ جواب: نہںل! ناواقف اور کم علم لوگوں کو آپس مںر بحث کرنے کے بجائے مفتاچنِ کرام کے پاس جاکر معلومات حاصل کرنی چاہے ۔ سوال: مفتی کون لوگ ہوتے ہںا؟ جواب: جنہوں نے علم حاصل کرنے کے بعد خاص طور پر فتویٰ کے فن کو حاصل کاک ہوتا ہے۔ اردو عربی مںس اس فن کو تَخَصُّصْ اور انگریزی مںل پی۔ایچ۔ڈی کہتے ہںص۔ سوال: کاہ مفتی کے علاوہ کسی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی پر کافر ہونے کا یا کوئی اور حکم لگائے؟ جواب: نہںو! کسی کو یہ حق حاصل نہںص اور مفتی بھی اس معاملے مں پوری احتازط کے بعد تعصّب اور دشمنی کے جذبے سے پاک ہوکر اپنے آپ کو اﷲتعالیٰ کے ہاں جوابدہ ہونے کے ین ی کے ساتھ پورا اطمناتن کرکے کوئی حکم لگاتے ہںں۔ سوال: اسلام کا حکم بتلانے کے لےس مفتی صاحب کن ذریعوں کو استعمال کرتے ہںع؟ جواب: سب سے پہلے اس حکم کو قرآن شریف مں تلاش کا جاتا ہے۔ اگر قرآن شریف مںا وہ حکم نہ ملے تو اسے احادیث مں تلاش کاا جاتا ہے۔ قرآن و حدیث کے بتلائے ہوئے حکم کے خلاف کرنے کا حق اور اختاھر کسی کے پاس نہں ۔ اگر قرآن و حدیث مںت کوئی حکم نہ ملے تو علمائِ حق کی اکثریت کی رائے دییھ جاتی ہے، جسے اجماع کہتے ہںس۔ اگر یہ صورت بھی حاصل نہ ہوسکے تو پھر قرآن و حدیث، اقوالِ صحابہؓ اور علمائے حق کی اکثریت کی رائے کی روشنی مں اجتہاد کا جاتا ہے جسے قاتس کہتے ہںر۔ قرآن و حدیث مںب اجماع او راجتہاد کے ذریعے مسئلہ تلاش کرنے کے اس مجموعی کام کو ہی فقہ کہتے ہںا، فقہ اسلام سے ہٹ کر کوئی نات کام یا نا اسلام نہںا ہے۔ سوال: کاے اسلام مں اجتہاد کا کام ہوا ہے؟ جواب: جی ہاں! نبیﷺ کے زمانے سے ہی اس کا آغاز ہوا۔ عہدِ صحابہؓ مںہ بھییہ کام ہوتا رہا اور تابعنؒ کے زمانے مںے باقاعدہ طور پر اسے جمع کاہ گاں اور تدوین و ترتبے دی گئی۔ سوال: اسلامی تاریخ مں اجتہاد کرنے والے ائمہ مجتہدینؒ کی تعداد کتنی ہے؟ جواب: بے شمار لوگوں نے اجتہاد کاد لکنز دنام بھر مںح چار(4) ائمَّہ مجتہدینؒ بہت مقبول ہوئے۔ سوال: ان چار(4) ائمہ مجتہدینؒ کے نام کان ہںؒ؟ جواب: (1)امام ابوحنفہؒ (2)امام شافعیؒ (3)امام مالکؒ (4)امام احمد بن حنبلؒ۔ سوال: مجتہد کے اندر کاح صفتں ہونی چاہیئیں؟ جواب: (1)مجتہد کا مسلمان ہونا ضروری ہے۔ (2)مجتہدکا نیک، صالح پرہزہگار ہونا ضروری ہے۔ (3)مجتہد کا قرآن و حدیث کے علوم کا اور لغت عربی کا ماہر ہونا ضروری ہے۔ (4)مجتہد مںد اﷲ کی پکڑ کا خوف او رآخرت کی جوابدہی کا ینرآ ضروری ہے۔ (5)مجتہدکے اندر قرآن و حدیث سے مسئلہ نکالنے کی صلاحیت کا ہونا ضروری ہے۔ (6)مجتہد کی سمجھداری (تفقہ) اعلیٰ درجے کی ہونی چاہےا۔ (7)مجتہد مںس اخلاص اور للہتا کا اعلیٰ درجہ ہونا چاہےر۔ سوال: اگر مجتہد سے غلطی ہوجائے تو اس کے بارے مں کال حکم ہے؟ جواب: بھول کر غلطی ہوجانے کا امکان ہے نادانستہ غلطی کے باوجود اسے کوشش کرنے کا ثواب ملے گا اور اگر اس کی کوشش صححد ہوئی تو اسے دو(2)گنا اجر ملے گا۔ سوال: اگر کوئی مجتہد جان بوجھ کر غلطی کرے تو اس کا کاو حکم ہے؟ جواب: جان بوجھ کر غلطی نہںو ہوتی اسے تحریف کہتے ہں اور تحریف بہت بڑا گناہ ہے اور مجتہد ایسا نہںہ کرسکتا۔ سوال: کان آج کے زمانے مںں بھی اجتہاد کا دروازہ کھلا ہوا ہے؟ جواب: اجتہاد کا دروازہ قاکمت تک کُھلا رہے گا لکنا اس ضرورت کو بہت بڑی حد تک ائمہ مجتہدینؒ نے پورا کردیاہے لہٰذا جن مسائل مں: اجتہاد ہوچکا ہے اس مںم نئی تحققک کی ضرورت ہی نہںئ ہے۔ دوسرے مجتہد والے اوصاف کا آج کے زمانے مںل ملنا مشکل ہے۔ تسریے آج کے زمانے مںت پشی آنے والے مسائل کا حل مفتی صاحبان آپس مںد مل کر نکال سکتے ہںم۔ اس لےک عام آدمی کو اپنے آپ کو اجتہاد کی مشکلات مںش ڈالنے کی اجازت نہںہ ہے۔ سوال: آج کے زمانے مںا عام مسلمان کو عمل کرنے کے لے کاا کرنا چاہےے؟ جواب: عام مسلمان کو چار مشہور(4) اماموںؒ مں سے کسی ایک امامؒ کی بتلائی ہوئی فقہ پر عمل کرنا چاہےک۔ سوال: کسی امام کی فقہ پر عمل کرنے کا کان نام ہے؟ جواب: اسے تقلدی کہتے ہں ۔ سوال: کاے تقلد کرنا فرض ہے؟ جواب: تقلدی اس معنی مںر فرض اور ضروری ہے کہ عام آدمی خود مسائل نہںہ جانتا۔ قرآن و حدیث سے خود مسائل نکالنے کی صلاحیت نہںد رکھتا۔ چنانچہ خواہش نفسانی کے غلبے کی وجہ سے اپنی مرضی اور اپنے مزاج کا غرقاسلامی حل نکال کر اس کے مطابق عمل کرکے اپنی آخرت تباہ کرے گا۔ لہٰذا ایسے کم علم آدمی کو اﷲتعالیٰ کا یہ حکم ہے کہ وہ جاننے والوں سے پوچھے تاکہ عقد ہ اور عمل صحح ہو۔ سوال: کسی ایک امامؒ کی تقلد کومں ضروری ہے؟ جواب: اگر ہر امامؒ کی تقلدا کی اجازت ہو تو وہ کسی بھی امامؒ کی تقلدہ نہںہ ہوگی بلکہ وہ نفس کی تقلدی بن جائے گی جس امامؒ کا جو مسئلہ نفس کو پسند ہوگا اسی پر عمل کرے گا۔ اگرکسی بھی امامؒ کا کوئی مسئلہ پسند نہ آیا تو اپنے خازل کے مطابق عمل کرے گا جو نفس کی تقد ک ہی کہلائے گا۔ اور نفس نافرمانی اور برائی ہی کی طرف لے جاتا ہے لہٰذا کسی ایک امام کی تقلد ضروری ہے۔ سوال: آج کے زمانے مں کوئی اچھا، نیک اور ثواب کا کام جس کا ثبوت نہ قرآن شریف مں ہو، نہ احادیث مںا مل سکے ،نہ عہدِصحابہؓ سے ثابت ہوسکے، نہ فقہ مںم اس کا ثبوت ہو اس عمل کو کاا کہا جائے گا؟ جواب: ایسا عمل جائز اور مباح کہلاتا ہے۔ اس پر عمل کرنے کا ثواب ملے گا نہ کرنے سے کوئی گناہ نہں ہوگا۔ سوال: کسی جائز اور مباح کام کے نہ کرنے والے پر کوئی الزام لگایا جاسکتا ہے؟ جواب: جی نہںہ! کسی بھی جائز اور مباح کام کے لےو نہ کسی پر جبر کام جائے گا نہ اسے طعنے دئےن جاسکتے ہںا نہ بُرا بھلا کہا جاسکتا ہے۔ سوال: اگر کسی جائز اور مباح کام کو لازمی قرار دیا جائے اور ضروری سمجھا جائے تو اس کے متعلق کاا حکم ہے؟ جواب: اگر کسی جائز اور مباح کام کو لازمی اور ضروری سمجھا جائے تو اسے بدعت کہتے ہںج جس کا چھوڑ دینا لازمی اور ضروری ہے۔ سوال: بدعت کی تعریف کاا ہے؟ جواب: ہر اس اچھی چزر اور کام کو بدعت کہتے ہں جس کا وجود رسول اﷲﷺ اور صحابۂ کرامؓ، تابعنؒا اور تبع تابعنؒے کے زمانوں مں نہ ہو۔ او رنہ ہی اس چزایا کام کا ثبوت قرآن و حدیث مں ملے۔ اور اس چزجیا کام کو دین کی بات اور کام سمجھ کر کاا جائے۔ سوال: بدعت کے متعلق شریعت کار کہتی ہے؟ جواب: نبیﷺ نے بدعت کو مردود فرمایا ہے اور بدعتی کو دین کا ڈھانے والا (گرانے والا تباہ کرنے والا) بتایا ہے اور فرمایا کہ ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی دوزخ مں لے جانے والی ہے لہٰذا بدعت بہت بُری چز ہے۔ سوال: ہمازے زمانے مں بہت ساری چزتیں اور کام ایسے ہںب جن کا ثبوت قرآن و حدیث مںر ہے اور نہ ہی اسلام کے شروع زمانوں مںا پائے جاتے تھے ان کے متعلق کاب حکم ہے؟ جواب: نبیﷺ نے حلال و حرام او رجائز اور ناجائز کو خوب واضح کرکے بتلایا ہے جن کی روشنی مںن علمائے حق نے حلال و حرام اور جائز و ناجائز کے قواعد طے کردیے ہںح۔ اس کے ساتھ رسول ﷺ نے ایک رہنما اصول یہ عطافرمایا ہے کہ اﷲتعالیٰ نے بہت سی چزئوں کے بارے مںا خاموشی اختاھر فرمائی او ریہ خاموشی کسی بھول کا نتجہق نہںئ ہے لہٰذا ان کو مت کریدو۔ لہٰذا جن چز وں کا حکم قرآن و حدیث مںے نہ ملے اور وہ کسی شرعی قاعدے کے خلاف بھی نہ ہو تو اس کو جائز سمجھا جائے گا اور اس چز یا کام کا کرنا یا نہ کرنا یکساں اور برابر ہوگا۔ اس کام یا چزا کو اختاار کرنے کو ضروری سمجھنا یا چھوڑ دینے کو ضروری سمجھنا ہی بدعت ہے۔ سوال: کار ہمارے زمانے مں ایسے کام اور باتں پائی جاتی ہں جنہںی بدعت کہا جاسکے؟ جواب: جی ہاں! مسلمانوں مںس بہت سارے کام ایسے رائج ہوچکے ہںا جو واضح طور پر بدعت ہںہ اور ان کاموں کے کرنے والے انہںک نہ صرف ضروری سمجھتے ہںم بلکہ ان کاموں کے نہ کرنے والوں کو برا بھی سمجھتے ہںا انہںپ طعنے بھی دیتے ہں برا بھی کہتے ہںہ بلکہ بعض اوقات ان کاموں کے نہ کرنے والوں پر کفر کا فتویٰ بھی لگاتے ہںی۔ سوال: ان کاموں کے کرنے والے تراویح کی بسن (20) رکعات کو باجماعت ادا کرنے کے اہتمام سے اور جمعہ کی پہلی اذان سے نسبت دے کر بتلاتے ہںا کہ تراویح کی بسن (20) رکعات کی باجماعت ادائیام کا اہتمام سدینا عمر رضی اﷲ عنہ نے اپنی خلافت کے زمانے مںب فرمایا اور جمعہ کی پہلی اذان سدلنا عثمان رضی اﷲ عنہ نے اپنے دور خلافت مںی قائم فرمائی، اس کا کاع جواب ہے؟ جواب: بلاشبہ یہ دونوں کام رسول اﷲﷺ کے زمانے مںے نہںت تھے لکنا اس کے ساتھ امت کو رسول ﷺ کا یہ حکم ہے کہ تمہارے اوپر لازم ہے مر ی سنّت (طریقہ) اور ہدایادلفتہ خلفاء راشدین کی سنت اور طریقہ۔ آپﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا بنااسرائلے کے بہتّر (72) فرقے تھے اور مرےی امت کے تہتّر (73) فرقے ہوں گے لکنا ایک فرقے کے علاوہ تمام جہنمی ہوں گے اور وہ ایک فرقہ وہ ہوگا جو مرکے اور مرھے صحابہؓ کے طریقے پر چلا ہوگا لہٰذا مذکورہ بالا تمام کام اگر صحابہؓ نے کے ہوتے تو بلاشک و شبہ دین کا حصہ ہوتے۔ سوال: بدعت کے کام کرنے والے بدعتی کا احترام کرنے والے کے متعلق اسلام کا کاے حکم ہے؟ جواب: بدعتی کا اعزاز و اکرام و احترام کرنے والے کو دین اسلام کے گرانے مںق مدد کرنے والا کہا گاک ہے۔ سوال: نیک کاموں مں مزید بہتری پدکا کرنے کے لےد دوسری اچھی باتوں کو شامل کرلنےے مںو کاں حرج ہے؟ جواب: جو کام اور باتںں رسول ﷺ، صحابہ کرامؓ، تابعنؒا، تبع تابعنؒے کے زمانوں مں جس طریقے سے ادا ہوتی تھںے ان مںر کسی بھی قسم کی کمی بی ا کا مطلب یہ ہے کہ نعوذباﷲ نبیﷺ نے اﷲتعالیٰ کا حکم پہنچانے مںن غلطی کی۔ مں نعوذباﷲ نبیﷺ، صحابہ کرامؓ، تابعنؒس، تبع تابعنؒ سے بہتر طریقہ جانتا ہوں۔ نعوذباﷲ اسلام کے شروع زمانے کے لوگوں کے اعمال مں کمی تھی۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ نئی بات کرنے والا نبیﷺ کے دین کو نامکمل سمجھتا ہے اور ایسا سمجھنا کھلی بغاوت، بہت بڑا گناہ اور سراسر اﷲتعالیٰ اور نبیﷺ کی نافرمانی ہے۔ سوال: جو کام اور باتںی اسلام کے شروع زمانوں مں نہںت تھںا اور آج کی ضرورت ہںی ان مںا کسی طریقے کو اختاکر کرنے کی شریعت مں حت ا کاز ہے؟ جواب: جو کام اور باتں اسلام کے شروع زمانوں مںں تھںا انہںت تو اسی طریقے سے ادا کرنا چاہےی اس مں کسی قسم کی کمی بییل کرنا اور اس کمی بی ا کو دین سمجھنا اور اسے لازمی قرار دینا ہی بدعت ہے۔ جو کام اور باتںق اسلام کے شروع زمانوں مںس نہںح تھںم لکنت آج کی ضرورت ہںی اس مںر ان طریقوں کو اختاار کرنا جائز ہے جو اسلام کے حلال و حرام، جائز و ناجائز کے قواننا کے خلاف نہ ہوں۔ ان طریقوں کی حتام صرف جائز ہونے کی ہوگی۔ اس کو فرض، واجب قرار دینا اور ان طریقوں کو اختامر کرنے پر جبر کرنا اختا ر نہ کرنے والوں کو طعنے دینا برا بھلا کہنا بھی بدعت اور تحریف کہلائے گا۔ ان طریقوں کو مکمل اختامر کرنے کی، مکمل چھوڑ دینے کی، اس مںو کمی بیاے کی، تبدیل کرنے کی، بہتری کی، حالات کے مطابق اجازت ہوگی۔ سوال: صحابہؓ تو نبیﷺ کے ساتھوبں کو کہتے ہںب تابعنؒو اور تبع تابعنؒت کا کان مطلب ہے؟ جواب: جن لوگوں نے نبیﷺ کے زمانے کو پایا اور آپ ﷺ کو دیکھا اور ایمان لائے اور ایمان پر ان کا انتقال ہوا انہںی صحابہؓ کہتے ہں ۔ جن مسلمانوں نے صحابہ کرامؓ کا زمانہ پایا اور ان کی ایمانی حالت مںع زیارت کی، ان سے علم اور فضا حاصل کاب اور ایمان پر ہی ان کا انتقال ہوا، انہں تابعنؒ کہتے ہںا، اور جن مسلمانوں نے تابعنؒا کا زمانہ پایا اور ان کی زیارت کی، ان سے علم اور فضا حاصل کات اور ایمان پر ہی ان کا انتقال ہوا انہںت تبع تابعنؒ کہا جاتا ہے۔ سوال: نبیﷺ صحابہؓ، تابعنؒؓ اور تبع تابعنؒر تک کے زمانوں تک کے حوالے کواں دیے جاتے ہںے؟ جواب: نبیﷺ نے فرمایا بہترین زمانہ مرنا زمانہ ہے، پھر جو زمانہ اس سے ملا ہوا ہے اور پھر وہ زمانہ جو اس زمانہ سے ملا ہوا ہے۔ علمائے کرام فرماتے ہںق کہ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ زمانے نیک اور بھلائی اور دین داری کے اعتبار سے بہترین زمانے تھے کو نکہ نبیﷺ نے ان کے بہترین ہونے کی گواہی اور شہادت دی ہے۔ لہٰذا ان زمانوں مں پائے جانے والے مسلمانوں کے عقائد اور اعمال سو(100%) فصدا دین کے مطابق تھے اس لےب ان زمانوں تک کا ہی حوالہ دیا جاتا ہے اور یہ زمانے تبع تابعنؒ کے زمانے تک ہی محدود ہںی۔ انہںک قرون اولیٰبھی کہا جاتا ہے۔ سوال: کا فقہ کے چاروں مشہور اماموںؒ کا تعلق انہںل زمانوں سے ہے؟ جواب: جی ہاں! ان چاروں مشہور اماموںؒ کا تعلق انہںع زمانوں سے ہے ان مں صحابی کوئی بھی نہںن ہے۔ سوال: ان چار(4) مشہور اماموںؒ مںم سب سے بڑے اور پہلے امام کون ہںہ؟ جواب: ان مںر سے پہلے اور بڑے امام، امام اعظم ابوحنفہؒس ہںم۔ ابوحنفہؒن ان کی کنت اور لقب ہے ان کا اصلی نام نعمان ابن ثابتؒ ہے۔ آپ کنتی اور لقب سے زیادہ مشہور ہوئے۔ اسی وجہ سے ان کی فقہ کو جو قرآن و سنت ہی سے نکالی گئی ہے فقہ حنفی کہتے ہںا۔ سوال:شرک کسے کہتے ہں ؟ جواب: شرک کے لغوی معنی شراکت اور حصہ داری کے ہںے۔ اصطلاح میںاﷲتعالیٰ کی ذات و صفات مںق کسی اور کو اس کاشریک ٹھہرانا اور غرک اﷲ کے لےد ایسا عقدڑہ رکھنا جساو اﷲتعالیٰ کی ذات و صفات کے بارے مںس رکھا جاتا ہے، شرک کہلاتا ہے۔ سوال:کاک شرک کی قسمںی بھی ہںد؟ جواب: جی ہاں!علماء نے شرک کی کئی اقسام بادن فرمائی ہںی جن مںٰ سے چند درج ذیل ہںی: 1 شرک حقی ج: اﷲتعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک ٹھہرانا،یہ سب سے بڑا کفر ہے اور قرآن مجدج نے اسے ظلم عظمب بھی کہا ہے۔ 2 شرک مجازی: کسی نیک کام مں اﷲتعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو بھی خوش کرنے کا اعتقاد رکھنا اسی کا دوسرا نام ریا اور نفاق ہے۔ 3 شرک فی الذات: اﷲتعالیٰ کے ساتھ (یا علاوہ) کسی دوسرے کے متعلق یہ اعتقاد رکھنا کہ وہ اﷲتعالیٰ جساا ہے یا اﷲتعالیٰ کی ذات سے نکلا ہوا ہے یااﷲتعالیٰ کا بٹاھیا بیتع ہے۔ 4 شرک فی الصفات: اﷲتعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کے متعلق یہ اعتقاد رکھنا کہ وہ اﷲتعالیٰ کی صفات مںظ اس کا شریک ہے اور اپنے کام اس کے سپرد کرنا۔ 5 شرک فی العلم: اﷲتعالیٰ کے ساتھ (یا علاوہ) کسی دوسرے کے متعلق یہ اعتقاد رکھنا کہ وہ سب کچھ جانتا ہے۔ 6 شرک فی التصرف: اﷲتعالیٰ کے ساتھ (یا علاوہ) کسی دوسرے کے متعلق یہ اعتقاد رکھنا کہ وہ اپنے ذاتی اختاار سے جو چاہے کر سکتا ہے۔ 7 شرک فی العبادت: اﷲتعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو ایسے کاموں مں شریک کرنا جنہںھ شریعت نے عبادت قرار دیا ہے یا اﷲتعالیٰ کے علاوہ کسی کی عبادت کرنا۔ 8 شرک فی الاطاعت: اﷲتعالیٰ کے علاوہ کسی کی اییی اطاعت کرنا کہ اس کا حکم اﷲتعالیٰ کے احکامات کے خلاف بھی ہو تو اسے مان کر اس کے مطابق عمل کرنا۔ 9 شرک فی القَسم: اﷲتعالیٰ کے علاوہ کسی اور کے نام کی قسم کھانا۔ 10 شرک فی المشیئت: اﷲتعالیٰ کی مرضی کے ساتھ کسی اور کی مرضی بھی شامل کرنا۔ 11 شرک فی الذبح: حلال جانور کو ذبح کرتے ہوئے اﷲتعالیٰ کے ساتھ کسی اور کا نام بھی لنا یا صرف اﷲتعالیٰ کے علاوہ کسی کانام لنام۔ 12 شرک فی العادت: ہر وقت اٹھتے بیٹھتے، کسی کام کے شروع کرنے مں ، اپنی اولاد کا نام رکھنے مںر، نذروناتز کے دینے مںی، اپنے کاموں کی نسبت کرنے مںٹ اﷲتعالیٰ کے ساتھ (یا علاوہ) کسی اور کا نام لنا ۔ 13 شرک فی الدعاء: اﷲتعالیٰ کے ساتھ یا علاوہ کسی دوسرے سے اییر چزضیں مانگنا جو بغرع اسباب کے ملتی ہوں (یینل مافوق الاسباب ہوں) یا اسباب کے باوجود اﷲتعالیٰ کی مرضی پر موقوف ہوں وغرےہ وغر ہ ۔ سوال: شرک کرنے والے کو کا کہتے ہںل؟ جواب: شرک کرنے والے کو مشرک کہتے ہںب۔ سوال: کاک مشرک کی بخشش ہوسکتی ہے؟ جواب: جی نہںو! شرک کی حالت مںے مَر جانے والے کی آخرت مںے کبھی بخشش نہں۔ ہوگی۔ وما توفیقی إلاباللّٰہ

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
253