(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/05/23
موضوعات
فقہ،اجتہاد اور تقلداکی اہمت
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ فقہ،اجتہاد اور تقلدِکی اہمتی فقہ انسان کے ظاہری اعضاء سے نکلنے والے جائز و ناجائز، اچھے بُرے اعمال کے متعلق تفصییا دلائل کے ساتھ جاننے کے علم کو فقہ کہتے ہںس۔ جاننے کی اس صلاحیت کو تفقہ اور جاننے والے کو فقہف کہا جاتا ہے۔ (واضح رہے کہ یہاں جاننے سے احکام شرعہ کے دلائل کے ذریعے سے مسئلہ کی صفات متعنو کرنا مراد ہے۔ لہٰذا عام مسلمان تو دور کی بات ہے وہ علماء بھی فقہے کی تعریف مںے نہںم آتے جو فقہا کے دیے ہوئے علم کو تو جانتے ہں لکن احکام شرعہا کے دلائل کے ذریعے مسئلہ نکالنے اور صفت متعنم کرنے کی صلاحیت نہںا رکھتے۔ یہاں فقہ اور مجتہد ہم معنٰی ہںر۔) احکام شرعہہ کے دلائل: احکام شرعہہ کے دلائل صرف چار (4) ہںن: (۱) قرآن (۲)سنّت (۳)اجماع (۴)قاکس ان مںع سے ہر ایک کی تفصل( درج ذیل ہے: 1… قرآن کے لغوی معنی ’’سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب۔‘‘ اصطلاح مںے ’’اﷲ تعالیٰ کا وہ کلام جو حضرت محمد ﷺ پر لفظ بہ لفظ نازل ہوا، لکھا گا او رآپ ﷺ سے بغرن کسی شبہ کے تواتر کے ساتھ منقول ہے۔‘‘ اس کا اعزاز یہ ہے کہ نہ اس کا کوئی حرف، نہ کوئی نقطہ، نہ کوئی ترکبظ بدلی جاسکتی ہے۔ یہ لوح محفوظ پر جس طرح ہے اسی طرح قاتمت تک دنال مںن موجود رہے گا۔ فقہی اعتبار سے اس کے تمام احکام شرعی طور پر حجت ہںس جن پر عمل کاہ جانا ضروری ہے۔ 2… سنت: لغوی معنیٰ ’’طریقہ اور عادت‘‘ کے ہں ۔ اصطلاح مںا حضرت محمدﷺ کے اقوال اور افعال کو سنت کہا جاتا ہے۔ فقہی اعتبار سے آپﷺ کے اقوال اور افعال دونوں شرعی حجت ہں اور جن پر عمل کاک جاتا ہے۔ 3…اجماع: لغت مںو متفق ہونے کو اجماع کہتے ہںت۔ اصطلاح مںت آنحضرت ﷺ کے دناج سے پردہ فرما جانے کے بعد کسی بھی زمانے کے فقہاء مجتہدین کا کسی حکم شرعی پر متفق ہوجانا اجماع کہلاتا ہے۔ اجماع کی حتت احکام شرعہج کی دللن اور فقہ کے ماخذ ہونے کے اعتبار سے وہی ہے جو آنحضرت ﷺ کی سنت کی ہے۔ اور یہ بھی فقہی اعتبار سے شرعی حجت ہے اور مجتہدین کے اجماع کے احکامات پر اسی طرح عمل ہوگا جسا کہ قرآن و سنت کے احکامات پر ہوتا ہے۔ 4…قاتس کے لغوی معنیٰ ’’اندازہ‘‘ کرنے کے ہںر۔ اصطلاح مںت قرآن و حدیث اور اجماع سے ثابت ہونے والے کسی حکم کو اییل چزت کی طرف لے جانا جس کا حکم قرآن و حدیث اور اجماع سے ثابت نہ ہو لکنس قرآن و حدیث سے ثابت شدہ حکم کی علت اور وجہ اس دوسری چزے مں پائی جاتی ہو، قامس کہلاتا ہے۔ قامس بھی سنت سے ثابت ہے اور اس کا حکم بھی پہلے تن (3) دلائل ہی کی طرح ہے۔ ہر عمل کا شرعی حکم انہی چار (4) مںے سے کسی نہ کسی دللئ سے ثابت ہوتا ہے۔ ان دلائل کو فقہ کے مآخذ (منبع کسی چز کے نکلنے کی جگہںی) (Source) بھی کہتے ہںث۔ سنت اور حدیث مںم فرق: سنت نبیﷺ کے اقوال و افعال دونوں کو سنت اور صرف اقوال کو حدیث کہا جاتا ہے۔ اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ احکام شرعہم کی دلل سنت ہے۔ شرعی احکام کی صفات: صفات کے حوالے سے اعمال کی سات (7) قسمںو بنتی ہںے جوکہ درج ذیل ہں : (۱)فرض (۲)واجب (۳)مندوب (۴)مباح (۵)حرام (۶)مکروہ تحرییک (۷)مکروہ تنزییا مندرجہ بالا چند اصولوں پر ہی اگر غور کاس جائے تو بآسانی فقہ کی ضرورت ابھر کر سامنے آجاتی ہے اور یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ فقہ کے بغرر نہ کسی شرعی حکم کی حتمں متعنف ہوسکتی ہے نہ عمل کرنے یا نہ کرنے والوں کی اپنی حتو ں کو متعنے کاہ جاسکتا ہے۔ (فقہ اور اصول فقہ کی روشنی مں ہی مومن، کافر، فاسق، مشرک، مرتد، منافق، گمراہ کا حکم لگتا ہے)۔ درس نظامی کے نصاب مںع فقہ اور اصول فقہ نامی دو (2) مضامن کے متعلق طلبہ کو بذریعہ کتب تفصیحت دروس دیے جاتے ہں جو نہ صرف مفدی معلومات فراہم کرتے ہںا بلکہ نہایت دلچسپ اور پرکشش بھی ہوتے ہںہ۔ زیرنظر مضمون مںم عوام الناس کی ذہنی سطح کو ملحوظ رکھتے ہوئے چند ابتدائی اصول ذکر کےو گئے ہںے تاکہ انہںپ بھی فقہ کی اہمت کا اندازہ ہوسکے۔ فرض: اس حکم شرعی کو کہتے ہں جس کے ثبوت مںا کوئی شبہ نہ ہو۔ اس کی فرضت کا انکار کرنے والا کافر اور بلاعذر چھوڑنے والا فاسق اور عذاب کا مستحق ہوتا ہے۔ واجب: اس شرعی حکم کو کہتے ہںے جس کا ثبوت اگرچہ دللی سے ہو لکنن اس مںص دوسرے معانی کا بھی احتمال ہو۔ اس کا انکار کرنے والا کافر نہں ہوتا بلاعذر چھوڑنے والا فاسق اور عذاب کا مستحق ہوتا ہے۔ مندوب: ان جائز اختاہری (نفلی) کاموں کو کہتے ہںل جن کی فضیلت شریعت سے ثابت ہو اسے مستحب اور تطوع بھی کہتے ہںا۔ مباح: ان جائز کاموں کو کہتے ہںچ جن کے کرنے مں ثواب نہ ملے او رنہ کرنے مں گناہ اور عذاب نہ ہو۔ حرام: ان ناجائز کاموں کو کہتے ہںو جن کی ممانعت کی دلل مںہ کوئی شبہ نہ ہو، ایسے کاموں کو کرنے والا فاسق اور عذاب کا مستحق ہو اور منکر کافر ہوجائے۔ مکروہ تحرییے: ان کاموں کو کہتے ہںک جس کی ممانعت کی دلل مںذ دوسرے معانی کا بھی احتمال ہو اس کا منکر کا فر نہںہ ہوتا البتہ ایسے کاموں کا کرنے والا گنہگار ہوتا ہے۔ مکروہ تنزییگ: ایسے کاموں کو کہتے ہںج جن کے چھوڑ دینے مںا ثواب ملے البتہ کرنے والے کو عذاب نہ ملے لکنو ایسا کرنا برائی مں داخل نہں ۔ اجتہاد اجتہاد کے لغوی معنی ممکن حد تک کوشش کرنے کے ہں اصطلاح مںڑ اجتہاد اس امکانی کوشش (Possible effort) کو کہتے ہںت جسے قرآن وحدیث اور اجماع مں سے دلائل شرعہو کے ذریعے احکام ومسائل نکالنے مںش صرف کاfجائے۔ مثلاً کوئی ایسا معاملہ پشت آجائے جس کا واضح طور پر قرآن ،حدیث اور اجماع مںہ کوئی شرعی حکم نہ ملتا ہو تو اس جسےک کسی دوسرے حکم کو قرآن ،حدیث اور اجماع میںتلاش کر کے اس معاملے کا شرعی حکم بھی قواعد وضوابط کی روشنی مںو پورے غورو خوض کے بعد معلوم کر لاے جائے، اس کوشش کو اجتہاد اور اییک کوشش کرنے والے کو مجتہد (Reformer) کہتے ہںم۔ اجتہاد کا ثبوت قرآن مجدی اور حدیث سے ثابت ہے۔ قرآن مقدس سے تو اس طرح کہ ارشاد خداوندی ہے:’’اگر کسی معاملے مںس تمہارے درماہن اختلاف ہوجائے تو اس معاملے مںہ اﷲ(تعالیٰ) اور اس کے رسول (ﷺ) کی طرف رجوع کرو‘‘۔ (سورۂ نساء آیت 59) اور حدیث سے اس طرح کہ حضور اکرم ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ عنہ کو یمن کا والی (Ruler) بنا کر بھجاے تو دریافت فرمایا کہ اے معاذ! کس طرح فصلےذ کروگے؟ حضرت معاذرضی اﷲ عنہ نے عرض کا کہ قرآن وحدیث اور اس کے بعد اپنے اجتہاد سے۔ حضورﷺنے اس طریقہ کار کو نہ صرف منظور فرمایا بلکہ بے حد پسند بھی فرمایا۔ صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کو بھی جب کبھی کوئی ایسا معاملہ پشن آجاتا جس کے بارے مںک قرآن وحدیث مںا واضح حکم نہ ملتا تو انفرادییا اجتماعی طور پر اجتہاد فرما کر اس معاملے کا شرعی حکم طے فرمایا کرتے تھے ائمہ اربعہ اور دیگر مجتہدین نے بھی اسی طریقہ کار پر عمل کر کے عوام الناس کی اکثریت کلئے شرعی احکامات پر عمل کرنے مںھ بہت ساری آسانائں پدما کر دی ہں اور فقہ اسلامی کا ایک بہترین مجموعہ (Collection) تاار فرما کر اسلام پر عمل کرنے والوں پر زبردست احسان فرمایا ہے۔ رسول اﷲﷺ نے اجتہادکی کوشش کرنے والے کلئےا ارشاد فرمایا کہ اگر اس نے صححی اجتہاد کا تو اس کے لےم دو (2) اجر ہںر اور اگر باوجود کوشش کے اس سے غلطی ہوگئی تو اس کلئے ایک اجر ہے۔ آپ ﷺ کے اس ارشاد مبارک سے مجتہد کے اعتماد اور کوشش مںج بے پناہ اضافہ ہوجاتا ہے۔ صحابہ کرامؓ اور دیگر مجتہدینؒ نے اپنے اپنے اجتہادات کے بعد احتاجط کے پہلو کو ہمشہ مدنظر رکھا اور اپنے اجتہاد پر اصرارکی بجائے ییہ موقف اختادر فرمایا کہ یہ ہماری رائے ہے درست ہو تو اﷲ تعالیٰ کی طرف سے اور غلط ہو تو ہماری طر ف سے ہے اور ہم اﷲ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتے ہںپ۔ اجتہاد ہرشخص پر واجب نہںر ہے بلکہ صرف وہ اہل علم فقہ اجتہاد کے اہل ہں جن مںا مندرجہ ذیل شرائط پائی جاتی ہوں: 1: مجتہد تقویٰ، خرہ خواہی، دیانت اور امانت کے ساتھ خدا خوفی اور اخروی جوابدہی (Answerable) کی صفات رکھتا ہو ۔ 2: مجتہد علوم عربہر مثلاً صرف ونحو(گرامر) لغت وبلاغت(ادب) وغرلہ مںس ماہر ہو کوتنکہ قرآن وحدیث عربی زبان مںف ہںت اور علوم عربہ پر مکمل عبور حاصل کئے بغرم قرآن وحدیث کے معانی سمجھنا ممکن نہںے ہںو۔ 3: مجتہد قرآن وحدیث اور صحابہ رضی اﷲ عنہم وتابعنٓ رحمہم اﷲ کے اقوال سے پوری طرح واقف ہو اس لئے کہ قرآن مقدس مختلف قرا ء توں مںم تلاوت ہوتا تھا لہٰذا احکام معلوم کرنے کلئےت ان کا علم ہونا ضروری ہے۔ آیات کے اسباب نزول اور ناسخ و منسوخ وغرفہ کا علم بھی ضروری ہے تاکہ قرآن مجدع کی صححض تفسرا ہو سکے۔ احادیث نبویہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام مختلف احوال کے تحت ارشاد فرمائی گئی ہںہ ترجح کلئے ان کا علم اور احادیث کے درجات ومراتب سے واقفتک ضروری ہے تاکہ مختلف احادیث مںل تطبقل دی جا سکے۔ 4: مجتہد کی اپنی سمجھ، تفقہ اور ذہانت غرم معمولی ہو تاکہ اسلامی قواننو کی حکمتوں کو سمجھ سکے اور پدخ وہ (Complicated) مسائل کو سمجھ کر ان کا شرعی حل تلاش کر سکے۔ 5: مجتہد کے لے ضروری ہے کہ وہ اجتہاد کلئے طے شدہ اصول و ضوابط سے پوری طرح واقف ہو۔ اجتہاد کا دروازہ قاےمت تک کلئےک کھلا ہوا ہے اس لئے کہ زمانے اور حالات وضروریات کی تبدیاجتں نت نئے اور پدے تہ مسائل پد)ا کر رہی ہں لہٰذا ان مسائل کے حل کلئے اجتہاد کی ضرورت باقی رہتی ہے جساو کہ ہمارے زمانے مںے ایسے بہت سارے مسائل پد ا ہوئے ہںp جو پہلے نہیںتھے ان مسائل کا حل علمائے امت پر لازم ہے لہٰذا وہ علمائے امت جن مں مذکورہ مجتہدانہ صفات پائی جاتی ہوں ان کلئےہ ضروری ہے کہ وہ باہمی طورپر پورے غور وخوض کے بعد متفقہ طور پر ان مسائل کا شرعی حل عوام الناس کو بتلائںہ جسا کہ یہ فریضہ مفتاطن کرام سر انجام دے رہے ہںم (ضرورت صرف باہمی ربط ومشاورت (Mutual discussion and connection) کیہے) اور عوام الناس کا فریضہ مفتا ن کرام کے دیئے ہوئے حل پر بے چوں وچرا عمل کرنا ہے۔ ہر مسئلے کی علت اور دللi مانگنا عوام الناس کلئے قطعاً ضروری نہںا اوراس دللک کا سمجھنا عوام الناس کلئے مشکل بھی ہے۔ البتہ جن مسائل مںز فقہائے امت اورہم سے پہلے کے نیک وصالح لوگ اجتہاد فرما چکے ہںس ان مسائل مںن اجتہاد کی ضرورت ہی نہںت ہے ۔ ان مسائل پر دئےف ہوئے حل کے مطابق عمل کرنا ہی دیانت داری کا تقاضا ہے انہںں تبدیل کر کے اپنی تن آسانوiں اور جدت پسندی(Innovation) کے مطابق بنانے کی بجائے اپنے آپ کو تبدیل کرکے ان کے مطابق بنا لناا ہی عافت کا راستہ ہے۔ اس لئے کہ جوابدہی اور انصاف کا مداان بہت جلد قائم ہونے والا ہے۔ اس مںٓ سرخرو اور پار ہو جانا ہی کامانبی ہے جساہ کہ اﷲتعالیٰ کا واضح ارشاد ہے:’’پس جو شخص دوزخ سے بچا لاقگا اور جنت مںم داخل کار گاہ سو وہی کامایب ہوا۔‘‘(سورۂ آل عمران آیت 185) تقلداکا نقلی (منقول شدہ) و عقلی مقام آج دناے بھر مںش مسلمانوں کی جتنی بھی زیادہ تعداد موجود ہے اس کی اکثریت چاہے وہ کسی بھی مکتبۂ فکر سے تعلق رکھتی ہو اپنے مذہب کے ضروری علوم سے واقفتں ہی نہںق رکھتی، اس اکثریت کے مقابلے مںہ (اکثر مقامات پر علماء کی موجودگی کے باوجود) واقفین علومِ دینیہ (علماء) اقلتر مںت ہںہ،یہ اس زمانے کا خاصہ نہں ہے بلا مبالغہ اسلام کی ابتدا سے آج تک ہر زمانے مںف تعداد (Number of Persons) دییش علوم جاننے، نہ جاننے کے اعتبار سے اسی طرح تقسم رہی ہے، اسلام نے اپنے ماننے والوں کی اس اکثریت کو آزاد نہںی چھوڑا بلکہ انہںج اس بات کا پابند کار ہے کہ اپنے عباداتی، معاملاتی، معاشرتی، معیتٓز وغرڑہ مسائل کا حل نہ جاننے کی صورت مںا اپنی ذاتی، صوابدیدی، من چاہی رائے سے نہںپ بلکہ جاننے والوں سے پوچھ پوچھ کر نکالںی جساہکہ قرآن مجدم مںن ارشاد ہے: ’’(اے منکرین حق) اگرتمہںں اس حققتو کا علم نہںہ ہے تو جاننے والوں سے پوچھ لو۔‘‘(سورۂ نحل آیت 43) اور حدیثِ مبارکہ مں : ’’انما شفاء العَیّ السوال‘‘ ’’جہالت کی شفا پوچھنے مں ہے۔‘‘ لہٰذا صحابہ کرامؓ کے زمانے سے ہی مسلمانوں نے اس پر عمل کرنا شروع کام جو تسلسل کے ساتھ آج تک بغرں کسی تعطل و رکاٹ کے جاری ہے اور قاامت تک ان شاء اﷲ تعالیٰ اسی طرح جاری رہے گا۔ اصطلاح شریعت مں مسلمانوں کے اس عمل کو تقلدی کا نام دیا گاا ہے۔ جن کی تقلدن کی جاتی ہے انہںس مجتہد کہا جاتا ہے اور تقلدش کرنے والوں کو مقلد کہتے ہیںیہ تقلدں عقائد و (ضروریات دین) مںک قطعاً نہںے ہوتی البتہ اعمال کی ادائیہں کے حوالوں سے ان کی تعداد، مقدار اور کاتا ت وغرھہ کے اعتبار سے لازماً ہوتی ہے۔ اور ییک راستہ مقلدین کے لےس عافتک کا راستہ ہے۔ اس لے کہ اس راستے مں نفس و شا طنہ کے جالوں مںد پھنسنے سے بلاشبہ امن ہے۔ اور اس کے خلاف چلنے مںج رفتہ رفتہ (آہستہ آہستہ) اسلام ہی سے نکل جانے کا ییرہ خطرہ ہے۔(جو بچہ اپنے سرپرست کی انگلی پکڑ کر چلتا رہے وہ کبھی گم نہںس ہوتا۔) ایک زمینی حققت : جہاں تک ہمارے دور کے علماء کی اکثریت کے متعلق اس حوالے سے زمینی حققتو کا تعلق ہے وہ اپنے اپنے مسلک کے مطابق فقہیکتب دیکھ کر مسائل تو بتلاسکتے ہںا لکن مسائل کے دلائل اور دیگر مسائل قرآن و حدیث کی روشنی مں نکال سکنے سے قاصر ہں ۔ لہٰذا لامحالہ (ناچاری) انہںب بھی اپنی ذات کے حوالے سے تقلدو ہی مں عافت دکھائی دییے ہے اور ایسا تقریباً ہر دور مںو ہوا ہے چنانچہ بڑے بڑے محدثن(، مبلغنؒہ اور صوفایئے کرامؒ علم و عمل کے بحربے کنار ہونے کے باوجود کسی نہ کسی مجتہد کے مقلد ہی رہے ہںا۔ مفتاین کرام کا عمل: جہاں تک دورِحاضر کے فقہائے کرام کا تعلق ہے قرآن و حدیث کی روشنی مںب مسائل نکال سکنے کی صلاحیت کے باوجود جن جن مسائل مںا مجتہدین کے اجتہادات موجود ہں ان مسائل مںر انہی کی طرف رجوع(Refer to) رکھتے ہںا اور اس معنیٰ مںا وہ بھی کسی نہ کسی مجتہد کے مقلد ہی ہیںچاہے وہ امام ابن تہؒن ہوں یا امام ابوحنیفہؒیا امام شافعیؒیا امام مالکؒ یا امام احمد بن حنبلؒ ہوں۔ امام ابن تہؒک کی تقلدہ کرنے والے غرمفطری طور پر غر مقلد کہلوانے پر مصر ہںt (لکن اس سے کوئی فرق نہںا پڑتا) امام ابوحنفہؒا کے مقلدین حنفی (جمع احناف)، امام شافعیؒ کے مقلدین شافعی (جمع شوافع)، امام مالکؒ کے مقلدین مالکی (جمع مالکیہ) اور امام احمد بن حنبلؒ کے مقلدین حنبلی (جمع حنابلہ) کہلاتے ہںو۔ ایک اشکال اور اس کاحل: تقلدی کے حوالے سے علمی بحث مںا چند اشکالات ضرور پدرا ہوتے ہںع (جو حل طلب نہں حل شدہ ہںن) ان اشکالات مںم سب سے اہم ترین اشکال یہ ہے کہ مندرجہ بالا تمام کے تمام مجتہدینؒ صحابیؓ ہونے کا شرف نہںح رکھتے جبکہ ان سے پہلے صحابہؓ کا طبقہ ہے جن کی طرف سب سے پہلے دین نازل ہوا اور وہ دین کے براہِ راست مخاطبین تھے کا ان مںہ کوئی مجتہد نہںب تھا کہ اس کی تقلدے کی جاسکتی؟ بحمداﷲ تعالیٰ! صحابہ کرامؓ مںت مجتہدین بھی تھے اور مقلدین کی بھی ایک بہت بڑی تعداد پائی جاتی تھی جو اپنے متعلقہ مسائل مںس اپنی ذاتی رائے کی بجائے ان مجتہد صحابہؓ سے رجوع کرتی تھی اور ان کی رائے کے مطابق جو قرآن و حدیث سے ہی مستفاد (حاصل کی ہوئی) ہوتی تھی، پر بلاچون و چرا عمل کات کرتی تھی جن کے ثبوت کتابوں مںی محفوظ ہں ۔ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ مقلدین صحابہؓ کسی ایک مجتہد صحابیؓ کی طرف بھی اپنے مسائل مںع رجوع رکھتے تھے جسے اصطلاح مںے تقلدں شخصی کہا جاتا ہے اور ان کا معمول مختلف مجتہدین صحابہؓ کی طرف رجوع کا بھی تھا جسے تقلدی مطلق کا نام دیا گال ہے۔(خود مجتہدین صحابہؓ کا آپس مں معمول یہ رہا ہے کہ کسی مجتہد کی رائے حق کے زیادہ قریب معلوم ہوتی تو اپنی رائے سے بلاجھجک رجوع کرلاج کرتے تھے۔) ان سب حقائق کے باوجود ایک بہت بڑی حققتی بھی ان حقائق کے ساتھ جُڑی ہوئی ہے کہ ان کے اجتہادات پورے دین کے تمام شعبوں کے مسائل پر محطا نہںے تھے اس لےی کہ مقلدین صحابہؓ کو جو مسئلہ درپشھ ہوتا اس کے متعلق زبانی سوال کرتے جس کا انہںن مجتہدینؒ کی طرف سے زبانی جواب مل جاتا، اس لےل ان کی تقلدر کا دور ان کے زمانے تک محدود رہا۔ ان کے بعد کے مجتہدینؒ نے اجتہاد کے باب مںر مستقل محنت فرمائی خصوصاً امام ابوحنفہؒ نے تو اُن مسائل کے حل بھی امت کے سامنے پشا کےد جو ابھی پشب بھی نہ آئے تھے اور یہ حل قرآن و حدیث سے صراحتًا ڈھونڈے بھی نہںح جاسکتے تھے (یہ امام ابوحنفہًؒ کی بصر ت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔) ائمہ اربعہؒ کے زمانوں مںہ دیگر مجتہدینؒ بھی موجود تھے لکنہ اوّل تو ان کے اجتہادات پورے دین پر مشتمل بھی نہںت تھے اور اس زمانے مںع ہی وہ عوام الناس مںث ائمہ اربعہؒ کے اجتہادات کی سیمقبولتب بھی حاصل نہ کرسکے، یوںیہ ایک قدرتی نظام تھا کہ دناب بھر کے مسلمانوں مں ائمہ اربعہؒ کے مکاتب فکر کو خوب خوب پذیرائی ملی۔ ہر امامؒ کے مجموعۂ اجتہادات کو کبھی مسلک بھی کہہ دیا جاتا ہے اورکبھی مذہب کا نام بھی دے دیا جاتا ہے۔ لفظ مسلک یا مذہب کا استعمال صرف اور صرف لغوی معنیٰ مںم ہے اس کی علحدمہ کوئی مستقل یینز اصطلاحی معنیٰ مںے کوئی حتہب نہںد ہے اور لغوی معنی، راستہ، قاعدہ اور دستور کے ہں جس کی حتمج صرف اتنی ہے یینق دینِ اسلام پر عمل کا طریقہ لہٰذا ان مسالک کو بدعت قرار دینا علومِ دینیہ سے ناواقفتب کی دللت ہے اس لے کہ اس کی بناقد خود نبیﷺ کے ہاتھوں رکھی گئی ہے جس کی تفصلا حضرت معاذ رضی اﷲ عنہ کو یمن بھجےف جانے والی روایت مںہ ملتی ہے۔ نزم ان مسالک کو شرک قرار دینا تو بے جا ضد اور حسدوکنہج کے زمرے مںس آتا ہے جس کا اظہار دانستہ کا جاتا ہے اور امام ابن تہؒی کے افادات (فائدہ پہنچانے) سے مستفاد (فائدہ حاصل کرنے) ہونے کی روشنی مںس تو انتہائی عجبم، انوکھا، نرالا، تعجب خزو او رحرات انگزا دکھائی دیتا ہے۔ اور باربار اس وضاحت کے بعد کہ دین اسلام کے مقابلے میںیہ کوئی علحدیہ مذاہب نہں، ہں اپنی بات پر اصرار انتہائی عجبا و غریب اور طرفہ تماشا سمجھ مں آتا ہے، نزا اسے ظلم قرار دینا ہی قرین قااس (عقل کے مطابق) ہے یاد رہے کہ ظلم کا ازالہ (خاتمہ) دعا ہی سے ہوسکتا ہے۔ اجتہادکی بنااد: بلاشبہ، بلامبالغہ اور بالتحقیقیہ دعویٰ کا جاسکتا ہے کہ تمام مجتہدینؒ کی تحقیہی رائے قرآن و حدیث سے ہی دلائل کی مضبوط بنارد اپنے پچھے رکھتی ہںی اور یہ تمام رائںا عملی شریعت مںہ ہی ملتی ہںر، اعتقادی شریعت مں نہں ملتںی۔ اعتقادی شریعت مں ان سب کا متفقہ موقف وہی ہے جن کے ثبوت قرآن و حدیث مں موجود ہںی، ان مںؒ رتی برابر بھی نہ کمی کی جاسکتی ہے نہ اضافہ، البتہ فقہی اعتبار سے ان کے احکامات (فرض ، واجب ہونے کی حتد سے) مںہ معمولی اختلاف اگرچہ پایا جاتا ہے لکن اس کا ذرہ برابر اثر عملی حتکا پر نہںے پڑتا۔ عملی شریعت مںک مجتہدینؒ کے اختلافات کی نوعتل اکثر مسائل مں افضل وغر افضل کی ہے او ریہ اختلاف بھی دوسرے کی رائے کو غلط کہے بغرر قائم ہے اور ذاتی طور پر خود کسی امامؒ کی طرف سے یہ پابندی نہںا ہے کہ ان کے مسلک ہی کو اختاار کای جائے اور دوسرے مسالک کو غرعصحح کہنے کی مشق کی جاتی رہے۔ البتہ بعض (چند گنے چُنے) مسائل مںہ جائز اور ناجائز کا اختلاف ہے اس کی نوعتا صرف اتنی ہے کہ جس مجتہد کو اپنی مکمل تحققی کے بعد جو رائے صححچ معلوم ہو اسے اس رائے پر قائم رہنا ضروری ہے اور اگر مزید غوروفکر کے بعد دوسرے مجتہد کی رائے اپنی رائے کے مقابلے مںش صححص معلوم ہو تو اپنی رائے سے رجوع کرلناف بھی لازمی ہے اور یناً ایسا کرلناے ثابت بھی ہے۔ البتہ مقلدین فقہائے کرامؒ اگر اپنے امام صاحبؒ کی رائے کسی مسئلے مںی غرلمتوازن دیںھت اور ان کے شاگردوں یا دوسرے مجتہدین کی رائے متوازن(Suitable) ہو تو اس مسئلے مںگ فتویٰ اپنے امام صاحبؒ کی رائے کے مطابق نہںا دیتے بلکہ شاگردوں یا دیگر مجتہدینؒ کی رائے کو ترجح) دیا کرتے ہںن۔ اصحاب علم کی نظروں سے اییم مثالں پوشد ہ(Hidden) نہںو ہںئ۔ (واضح رہے جہاں تک مجتہدین کے اجتہادات کے طریقۂ کار کاتعلق ہے یہ مستقل علحد ہ موضوع ہے جس کی تقلدی کے موضوع مں چنداں (زیادہ) ضرورت نہںت۔) تقلدع اور عامۃ المسلمین: عام مسلمانوں نے پہلے دور کے اندر کسی ایک مجتہدؒ کی بھی تقلدض کی ہے جسے شخصی تقلدی کہتے ہںع اور کسی ایک کو متعنے کےا بغرر کسی بھی مجتہدؒ سے حسب ضرورت مسئلہ پوچھ کر بھی عمل کا ہے جسے تقلدج مطلق کا نام دیا گا ۔ (یہ دور تھا جس مںہ مسلمانوں کی تقویٰ، دیانت اور امانت جیور صفات عروج و بلندی پر بھی تھںو اور غرممتزلزل اور غریمعمولی بھی تھںہ کویں نہ ہوتںد کہ ان زمانوں کے بھلائی پر ہونے کی خودشریعت نے گواہی دی ہے۔) جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ تقلدی شخصی ہی ضروری نہںں تھی عام مسلمانوں کے لےی محض تقلدی کافی تھی۔ لکنؒ جوں جوں زمانہ گزرتا گات، اسلام عرب سے نکل کر غرہ عرب مںں پہنچا، نبیﷺ کے زمانے سے دوری (Distance) پدپا ہونی شروع ہوئی،عام مسلمانوں مںا ایسے لوگوں کا اضافہ ہوتاگاہ جنہںی نہ اسلام قبول کرنے مںے کوئی پریشانی تھی, نہ ہی قبول کرلنےو کے بعد پہلے دَور کے مسلمانوں کیطرح تکالفو کا سامنا کرنا پڑا تھا، نزر ایک بہت بڑی تعداد تو پدںائشی مسلمان تھی اس کا اثر مسلمانوں کے عمومی ماحول پر یوں نمودار ہوا کہ محنت مںَ کمی آنے کی وجہ سے تقویٰ، دیانت اور امانت جین صفات کمزور پڑتی گئںس جس کا لازمی نتجہو پہلے دور سے قدرے مختلف نظر آنے لگا۔ پہلے دور کے مسلمان اپنے نفس کے خلاف شرعی حکم پر عمل کرگزرتے تھے۔ بعد کے دور کے مسلمان اگرچہ شرعی حکم پر عمل کرنا چاہتے تھے مگر اپنے نفس کے مطابق تلاش کرتے ہوئے۔ اس واضح فرق کو فقہائے کرامؒ جو امت کی شرعی صحت (Religious Health) کی بقا کے ذمہ دار ہںپ اور اسی وجہ سے اپنی انگلیاں امت کی نبضوں پر رکھتے ہںع، نے محسوس فرمایا اور ان کی بصر ت نے یہ نتجہ نکالا کہ اس کے آگے بند نہ باندھا گا تو یہ سیلاب اسلام کی پوری عمارت ہی کو ڈھا دے گا اور آزادی کے اس متوالے کا مسلک رفتہ رفتہ نفسانی خواہشات پر عمل کرنا بن جائے گا۔ لہٰذان نبض شناسوں نے (جن کی تشخیص (مرض کا پہچاننا) بھی عمدہ تھی اور جن کی تجویز (مریض کے مزاج کی رعایت سے علاج بتانا) بھی اعلیٰ تھی) مقلدین کو اجازت دی کہ ائمہ اربعہؒ مںو سے کسی ایک کی تقلدک کا انتخاب کرلںا پھر تاحاات اس پر قائم رہیںیعنی ہرہر مسئلے مںر اسی مسلک کے مطابق عمل کریں۔ اس تجویز نے نفسانی خواہشات پر عمل کا دروازہ بند کردیا اور مقلد سکون کے ساتھ دین پر عمل پرعا ہوگاں۔ کون سا اختلاف مذموم ہے؟ دین کے وہ اصول جو تمام مسلمانوںکے نزدیک تسلم شدہ ہںع جن مں کوئی شبہ اور پوشد گی (Secrecy) نہں اور جن کی اطاعت فرض ہے ان مں اختلاف کرنا منع ہے اور فروعی مسائل مںی اختلاف اس وقت جائز ہے جب دلائل کی بنان د پر ہو اگر اس مں بھی تعصب اور دوسرے کو نچا دکھانے کے جذبات شامل ہو جائںس تو جائز نہں ۔ اس اجمال کی تفصیلیہ ہے کہ اجتہاد سے تعلق رکھنے والے مسائل جن کا شریعت مطہرہ مںذ صاف اور واضح حکم موجود نہںں ایسے مسائل مں فصلہ کن بات معلوم کرنے کی غرض سے اجتہاد کی شرائط پر پورا اترنے والے علمائے کرامؒ کا اختلاف کرنا ایک اچھی چز ہے۔ ایسے اختلاف کے بارے مںل نبی کریمﷺ کا فرمان ہے: مرری امت کا اختلاف رحمت ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ‘ تابعن۔ ‘ تبع تابعنں اور ائمہ مجتہدین رحمہم اللہ کا کوئی اختلاف بھی اصول دین مںہ نہںر بلکہ ایسے ہی مسئلوں مں ہے ۔ حدیث مںر واضح طور پر فرمایا گا ہے کہ جو اجتہاد کے ذریعے درست مسئلہ معلوم کر لے گا اسے دو (2) اجر ملںا گے ایک محنت کرنے کا اوردوسرا صحح مسئلہ معلوم کرنے کا اور جو محنت و کوشش کے باوجود صححہ مسئلے تک نہ پہنچ سکا اور اجتہاد ی غلطی کا شکار ہوگاے وہ بھی گنہگار نہںم بلکہ اس کو بھی محنت کرنے کا ایک اجر ملے گا۔ البتہ فروعی اختلاف کو اناکا مسئلہ بنا لنا۔ ‘ اپنی بات پر اڑ جانا ‘ دوسرے کو گمراہ ‘ جہنمی اور کافر قرار دینا جائز نہںو بلکہ جو شخص اور طبقہ دین کے اصول اور ضروریات کا منکر ہوصرف وہی کافر ہے۔ وما توفیقی إلاباللّٰہ

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
1623