(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/05/23
موضوعات
مال کمانے اور خرچ کرنے کا اسلامی تصور
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مال کمانے اور خرچ کرنے کا اسلامی تصور انسان کی جب اس دناا مںو آمد ہوتی ہے اس وقت انسان کے پاس اس کے جسم کے علاوہ کچھ بھی نہںس ہوتا۔ اس جسم کی متعلقہ تمام ضرورتوں مںا سے کسی ایک ضرورت کے متعلق بھی ذاتی طور پر نہ اسے کوئی معلومات ہوتی ہںک، نہ ہی اسے ان معلومات کی کوئی سمجھ ہوتی ہے۔ نہ ہی ان ضروریات مں سے کسی ایک بھی ضرورت کے پورا ہونے کا کوئی ادنیٰ سا انتظام اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ نہ ذاتی طور پر اس کا انتظام کرنے کے حوالے سے ہلکی سی بھی وہ کوئی طاقت رکھتا ہے۔ نہ ذاتی طور پر خالق و مخلوق مںن سے کسی کے سامنے اپنی حاجات پش کرنے کے لےل ’’زبان‘‘ کا استعمال کرسکتا ہے۔ اور اس کے پاس فطری طور پر ایک ہی ہنر ہوتا ہے جس کا چار(4) حرفی نام ہے ’’رونا‘‘۔ نفع اور فائدے کو حاصل کرنے کے لےا بھی رونا، مضرت اور نقصان دور کرنے کے لےہ بھی رونا، جسےن ہی بچہ رونا شروع کرتا ہے خصوصی طور پر اس کی ’’ماں‘‘ اور عمومی طور پر اس کے دیگر متعلقن اس کی طرف متوجہ ہوتے ہںی اور اس کی وقت کی ضرورت کے اسباب کا انتظام کردیتے ہںف اور بچہ مطمئن ہوجاتا ہے، گویاکہ بے بسی کے اس دور اور زمانے مںع غررشعوری طور پر بچہ اپنے آپ کو دوسروں کے حوالے کردیتا ہے، بس ہرہر ضرورت کے موقعوں پر رو کر اپنے منعلقا کو اپنی طرف متوجہ کرکے ان سے رجوع کرتا ہے (چاہے یہ موقعہ دن کا ہو یا رات کا) ییک فطرت، جبلت، اصلی عادت، حقیمو طبعت ، پدفائشی خِلقت، درست سرشت، کھری خصلت، عقلمندی، روشن ضمر ی، انسانی فراست، مؤمنانہ بصر ت، عاشقانہ عرفان، ہر وقت کا تقاضہ ہے، خود سپردگی کے اس عمل کو اصطلاح مںے ’’تفویض‘‘ کہا جاتا ہے۔ (واقعاتی طور پر دردناک اور دکھ بھری بات یہ ہے کہ ابتدا مں، ہی بچہ جوں جوں اپنے پر وں پر کھڑا ہونے لگتا ہے، اپنی قوت بازو پر اعتماد کرنے لگ جاتا ہے، اپنے زور بازو کو آزمانا شروع کردیتا ہے تو جہاں اپنے ظاہری سرپرستوں سے بزراری کے مظاہرے کا آغاز ہوجایا کرتا ہے وہاں اپنے حقی ک پالنہار اﷲ رب العزت سے بھی دوری اختاپر کرلنےپ کو اپنا وترےہ، عادت، شوزہ اور طریقہ بنالتاا ہے۔ یہ روشن چال چلن شاید اس لےخ اپنا لتاک ہے کہ وہ اپنے دستاھب، مسرت، حاصل، موجود اسباب کے حوالے سے ہمیگ ب کا ینہر کر بٹھتا ہے یہ نادان یہ بھلا بٹھتات ہے کہ جس طرح بے بسی کی مدت مںم محتاج تھا آج طاقت کے زمانے مں بھی نہ صرف اسباب کی فراہمی و ہمیگ ک اور اسباب کے استعمال کے باوجود، نتائج و ثمرات کے تناظر و روشنی مںا اپنی ذات کے حوالے سے لولا، لنگڑا ہی ہے جبکہ قریب ہے کہ بڑھاپے کا اژدھا اس خودفرییس کی نحفا، کمزور اور پتلی چادر کو کھنچ کر ایک مرتبہ بھر برہنہ، ننگا اور عریاں کرکے رکھ دے۔ دنوبی تغر ات (تبدیل شدہ حالات) اسے اتفاقات زمانہ دکھائی دیتے ہںن جبکہ احوال مں اعمال کا دخل بذات خود ایک سبب ہے۔) عمر کی طرح رزق بھی طے شدہ مقدر ہے: اس دنات مںح آنے والے ہرہر انسان کی پدکائش سے لے کر موت تک مدت عمر انسان کی خواہش کے مطابق نںرک، اسے اس دنار مںک بھجنےس والے کی مرضی و مشتا کے مطابق طے شدہ ہے، جس مںت نہ لمحہ برابر تقدیم ممکن ہے نہ ذراہ برابر تاخرے کی کوئی گنجائش ہوسکتی ہے، عمر کییہ مدت کیی کے لے اس دناک کا ایک لمحہ بھی ہوسکتا ہے اور کسی کے لےہ چند مہنےر اور کسی کے لےس متعدد سال بھی ہوسکتی ہے۔ مدت عمر کی طرح ہی ہرہر انسان کا مقدر بھی طے شدہ ہے، انسان کی اپنی چاہت کے مطابق نہں ، دینے والے کی پسندیدگی اور منظوری کے مطابق ہے، جس مںی کسی وقت کسی کے لےد تعجلی (جلد ملنا) بھی، تاخرو (دیر سے ملنا) بھی، اندازے (قدر کے مطابق) بھی، بسط (بے حساب ملنا) بھی حکمت کے عن، مطابق ہوا کرتی ہے۔ حلال کمائی کے ذرائع اختارر کرنا فرض ہے: انسان کی پدےائش کے بعد سے لے کر اس کے بالغ ہوجانے تک (جوکہ عموماً مرد کے لےع پندرہ (15) سال کہی جاتی ہے۔) اس پر اس کی جائز ضرورت کے حوالے سے بھی مادی و عباداتی کسی عمل کی ذمہ داری نہںس ڈالی گئی ہے۔ وہ اپنے والدین کے زیرکفالت رہتا ہے۔ عورت کی تاحاےت مؤنت و ذمہ داری باپ، بھائواں، شوہر، بٹوطں مںد سے کسی نہ کسی پر رہتی ہے(اسلامی ریاست کی موجودگی مں۔ سرکاری بتے المال سے اس کا وظفہا باندھ دیا جاتا ہے۔) بالغ ہوجانے کے بعد سے لے کر جسمانی و ذہنی طور پر مشقت اٹھانے کے قابل رہنے تک اپنی اور اپنے زیرکفالت افراد کی جائز ضروریات کے بقدر حاجات پورا ہوتے رہنے کے انتظامات کے لےر حلال کمائی کے پاک اور طب ذرائع مںر سے کسی ذریعے کو شرعی قوانن کی حدود مں رہتے ہوئے اختائر کرکے اپنے طے شدہ مقرر مقدر کو تلاش کرنے مںی اوقات لگانا فرض و واجب ہے، اصطلاح مںک اسے کسب حلال کا نام دیا جاتا ہے، شریعت نے اسے فرض کا درجہ دیا ہے۔ اسباب کے ذریعے جان بچانے کو ضروری قرار دیا ہے۔ اس مںل سستی، غفلت، کوتاہی، آلکسی، کاہلی، لاپرواہی کو قابل مواخذہ بتلایا ہے۔ کمائی کی طاقت ہونے کے باوجود مخلوق سے مانگنے، چھن لنے ، چوری کرنے کو حرام کی فہرست مں، شمار کا ہے، کمائی مںا لوٹ کھسوٹ، ملاوٹ، وزن، مقدار، گنتی، معاور ، مقررشدہ ملازمتی اوقات مں، ڈنڈی مارنے، صلاحتو ں کے مطابق فرائض انجام نہ دینے کا ایک لفظی نام ’’خابنت‘‘ رکھا ہے، غلط باسنی، بے جا قسمںم کھانے کو ’’بے برکتی‘‘ کا نام دیا ہے۔ دھوکہ دہی، غبن، فراڈ، جعل سازی کو ’’قابل سزا‘‘ کہا ہے۔ اس پورے مجموعے کا خلاصہ کمائی کا ناپاک اور نجس ہونا نزے اس مال سے صدقہ و خرنات بھی ناقابل قبول بلکہ گناہ کا باعث بن جایا کرتا ہے۔ حرام کمائی کے حوالے سے بناکدی مشورہ: ناجائز کمائی چاہے حرام ذرائع سے حاصل ہوئی ہو، چاہے جائز ذرائع مںر شرعی قواننے کے خلاف حدود سے تجاوز کرکے حاصل ہوئی ہو، اس کے نقصان دہ اور مضر اثرات دنو ی زندگی پر بھی پڑتے ہںن، اخروی زندگی پر بھی پڑتے ہںح، جہاں جسم متاثر ہوتا ہے، وہاں روح بھی متاثر ہوئے بغرن نہںح رہتی۔ لہٰذا ہمدردانہ، مخلصانہ، حکماینہ، مدبرانہ، عقلمندانہ، ناصحانہ مشورہ یہ ہے کہ رزق کے حصول کے مدحانوں مںا نہ صرف حرام راستوں سے پرہزک کریں بلکہ مشتبہ، مشکوک راہوں کی طرف بھی نہ للچائں ،یہ شوگر کوٹڈ ہلاکت بھرا زہر ہے، یہخوبصورتی بھرا اژدھا ہے،یہ پا س نہ بجھا سکنے والا سمندری کڑوا پانی ہے، یہ تو اونٹ کا نچے کا ہونٹ ہے جو اونٹ کے چلنے پر ہلتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جسےا ابھی نچے زمنل پر گِر پڑے گا۔ لالچی لومڑی اس تاک مںے رہتی ہے، ٹکٹکی باندھ کر دیکھتی رہتی ہے کہ کب گِرے اور جھپٹ لوں، مگر اونٹ تو اپنے سامنے کی طرف آگے بڑھ رہا ہے، لومڑی اس کی طرف منہ رکھتے ہوئے اسی سمت پچھے ہٹنا شروع کردیین ہے یہاں تک کہ اس راہ مںب موجود گڑھے مںک گِر کر ہلاک ہوجاتی ہے۔ نتائج انسان کے بس مںن نہںے: پہلے دن سے آج تک انسانی معاشرے میںیہ غلط فہمی، ناسمجھی پائی جاتی ہے کہ انسان اپنی تقدیر خود بناتا ہے جبکہ حقیقتیہ ہے کہ انسان صرف تدبر اختاجر کرسکتا ہے (اسے صرف اتنی ہی تکلفن دی گئی ہے۔) نتائج پر اس کا کوئی زور، بس اور اختاار نہںر۔ نتائج تو طے شدہ ہںب۔ انسان کو تو ان نتائج کے بارے مںہ سِرے سے کچھ معلوم ہی نہںم ہے۔ کتنے ہںل؟ کسےک ہں ؟ کہاں ہں ؟ کب ملںن گے؟ کسے ملں گے؟ کہاں سے ملںا گے؟ (روزی اور موت تو خود انسان کو تلاش کرتے ہں ) انسان تو ان چھپے ہوئے، پوشدکہ نتائج کو ظہور مںر لاکر پالنےن کی تدابرس اختامر کرسکتا ہے، کرتا ہے اور اسی کا اسے حکم ہے۔ انسان کو اس بات کا اختادر ضرور ہے کہ وہ اپنے آس پاس، اردگرد، قرب و جوار، اڑوس پڑوس، دور و نزدیک کمائی کے حلال و حرام، جائز و ناجائز، پاک و نجس پھلےت ہوئے ذرائع مںم سے جس ذریعے کے متعلق دل چاہے انتخاب کرلے۔ (جبکہ تمل ، مطالبہ، تقاضا، تاکدل حلال، جائز اور پاک ذرائع کے انتخاب کی ہے، نز کسی مصلحت کی وجہ سے نتائج کے حصول مں تاخر در تاخرل بھی ہورہی ہو تو سخت تاکدے، انتہائی اصرار اس بات پر ہے کہ اس تاخرم کی وجہ سے حرام ذرائع کا انتخاب نہ کرلنا ۔ اﷲتعالیٰ سے ڈرتے ہوئے رزق کی طلب مںہ شائستگی برقرار رکھنا۔) کمائی کے حوالے سے اخروی سوال کی وضاحت: آخرت مںہ اس دنونی زندگی کے گزارے جانے کی روشنی مںی انسان سے چند سوالات ہونے ہںہ، ان سوالات مں ایک سوال دنا مںر حاصل ہونے والے مال سے متعلق ہوگا {مِنْ اَیْنَ اِکْتَسَبَہُ} مال کو کہاں سے (کسے ) کمایا؟ اس سوال کے الفاظ پر غور کرنے سے واضح طور پر یہ بات سامنے آجاتی ہے جس کی روشنی مںز بآسانییہ کہا جاسکتا ہے کہ سوال مقدار کے حوالے سے ہوگا ہی نہں کہ اتنا ہی کووں کمایا؟، کمائی کی مقدار اس سے کم کوںں نہں رکھی؟، اس سے زیادہ کو ں نہں کمایا؟ اس سوال کی تہہ تک پہنچنے والوں (علمائے کرام) نے سوال کو سمجھتے ہوئے بڑی نَپی تُلی، جچی تُلی، سو فصدو درست بات قاقمت تک کے ہرہر زمانے کے، ہرہر علاقے کے، ہرہر حتکرا کے انسانوں کو بلاخوف تردید سمجھائی ہے کہ سوال ذرائع کے حوالے سے ہوگا کہ کمائی کے ذرائع جائز تھے یا ناجائز، حلال تھے یا حرام، پاک و طب تھے یا ناپاک و نجس؟ اس تفصیلسے بھی وضاحت ہوجاتی ہے کہ انسان اس کمائی کے مدتان اور شعبے مں بھی دیگر شعبوں کی طرح کمائی کے ذرائع کا انتخاب کرتے ہوئے اختاکر کرنے ہی کا مکلف ہے، مطلوبہ نتائج حاصل کرنے یا ہونے کی ذمہ داری انسان کی اپنی نہںھ ہے، انسان کمائی کے ذرائع تبدیل کرسکتا ہے، کمائی کے مطلوبہ ثمرات، نتائج، منافع نہںہ پدیا کرسکتا۔ (کسی مرید نے اپنے شخن سے آکر کہا کہ مں نے ایک دکان اور کھول لی ہے، شخ نے فرمایا مشقت بڑھالی ہے قسمت نہں بڑھاسکے گا، جو روزی پہلے ایک دکان کیمشقت اختارر کرتے ہوئے ملا کرتی تھی، اب چوبسک (24) گھنٹوں کے اسی رات دن مںے دو (2) دکانوں کی مشقت اٹھاکر ملا کرے گی۔) جسےا ذرائع ویسے ہی اثرات: کمائی کے حلال ذرائع اختاےر کرکے اپنی محنت کو آداب، شرائط، دستور، قواننا کے تحت و مطابق رکھا جائے گا تو دنا مں بھی اپنا طے شدہ رزق پرسکون، اطمناان بخش طریقوں سے بابرکت انداز مں پاتا رہے گا ورنہ بے برکتی کے ساتھ پرخطر، خوف اور پریشانو ں کے حالات سے دوچار رہے گا۔ (کہتے ہںھ کسی علاقے کے تاجر اپنے علاقے کے ایک اﷲ والے کے پاس گئے اور کہا ہم علاقے کے دکان دار ہںس، نفع کے لےا دکانںق کھولی ہںا، بِکری بھی خوب ہوتی ہے، سامان نفع رکھ کر بچتےد ہںے، کاروبار بھی خوب چلتا ہے، سال بھر کے بعد حساب کرتے ہںن تو نفع کے بجائے نقصان دکھائی دیتا ہے، اﷲ والے نے فرمایا بھائوئ! ترازو صححد کرلو۔ تول صحح، رکھتے ہوئے اگلے سال کا حساب نکالا تو نقصان سے تو بچ گئے لکنا نفع بھی نہںے ہوا، بزرگ کے پاس حاضر ہوکر اطلاع دی، بزرگ نے پوچھا نفع چاہتے ہو؟ عرض کا اسی لےے دکانںف کھولی ہں ، فرمایا پھر جھکتا ہوا تولو ہمارے آقا ﷺ نے کم و بشت ساڑھے چودہ سو (1450) سال پہلے ایک نہایت مختصر، خوبصورت اور پرکشش و پرتاثرت و پرشِکوہ جملے مںب حققتا آشکارا اور نمایاں و ظاہر فرمادی {زِنْ وَارْجَحْ} ’’تولو اور جھکتا ہوا تولو‘‘۔ روزی کے حوالے سے غریبوں پر احسان: غریبوں کو روزی پہنچانے کا کسا روح پرور، فرحت بخش، وجد آفریں، دلکش، پرلطف، نفع کھنچنےئ والا، نقصان سے بچانے والا، حمد و ثنا کے لائق، صبر کا دامن تھمائے رکھنے والا، شکر کی چادر اڑھائے رکھنے والا، صبر و شکر کے اجور کے وافر ذخائر کا مالک بناتے ہوئے ہر گزرتے لمحے اضافہ در اضافہ کراتے رہنے والا {اِنَّ اﷲَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ} (سورۂ بقرہ آیت 153) ’’بلاشبہ اﷲ (تعالیٰ) کی معتا (ساتھ) صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ {اِنَّمَا یُوَفَّی الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَہُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ} (سورۂ زمر آیت 10) ’’اس مںے کوئی شک نہیںکہ صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔‘‘ {لَئِنْ شَکَرْتُمْ لااَاَزِیْدَنَّکُمْ} (سورۂ ابراہمر آیت 7) ’’اگر تم شکرگزار رہوگے تو مںن تمہںا ضرور بالضرور مزید اور زیادہ نعمتوں سے نوازتا رہوں گا۔‘‘ خوبصورت اور پادرا انتظام ہے کہ غریبوں کو ضرورت پڑنے پر بھی بقدر حاجت ہی دے، نہ سنبھالنے کی تدبرا، نہ چھپانے کی فکر، نہ بڑھانے کی سوچ، نہ بدنظری کا وہم، نہ حسد کا اندیشہ، نہ چوری کا خوف، نہ چھنو لے جانے کا ڈر، نہ آوٹ آف ڈیٹ ہو کر گل، سڑ اور ضائع ہوجانے کا خطرہ، نہ آسمانی بلاہت کا ہول، نہ زمینی آفات کا ہراس، نہ آخرت مں، حساب لےے جانے کی وحشت۔ ضرورت پڑی، پوری ہوگئی، وقت گزر گا ، بوجھ بھی نہ پڑا، ہلکے پھلکے ہی رہے۔ شکر کی توفق بھی ملی اﷲ تعالیٰ سے رابطہ بھی نہ ٹوٹا۔ جب کبھی کسی دن فاقے کی نوبت آگئی تو طبعت مں ایک بے خودی کا حال (وجد) طاری ہوگاب (چھا گا،) کہ مرشے اور مسبب الاسباب کے درماکن سبب کا پردہ جو حائل تھا (بچب مں تھا) وہ ہٹ گاد، اب مرہا رب براہ راست بغر کسی سبب کے محض اپنی قدرت سے اس وقت کی مربی بھوک کو مٹائے گا (مں کمزور ہوں، مر ا پالنے والا کمزور نہںہ، مںغ محتاج ہوں پروردگار تو غنی ہںی، مں بھوکا ہوں پالنہار خود تو بھوک کے عبں سے پاک ہں،، مں تو مہمان ہوں، مہمان نواز تو مراا ٹھکانہ جانتا ہے، اس نے اپنے فضل سے مہمان نوازی اپنے ذمے لے رکھی ہے {وَ مَا مِنْ دَآبَّۃٍ……مُسْتَقَرَّہَا وَ مُسْتَوْدَعَہَا} (سورۂ ھود آیت 6) ’’زمنک پر (بسنے والے) ہر جاندار (صرف انسان ہی نہںش) کا رزق اﷲتعالیٰ نے (اپنے فضل و احسان سے) اپنے اوپر لے رکھا ہے وہ اس کے گھومنے پھرنے کی جگہںی بھی جانتا ہے اور پھرپِھرا کر واپس لوٹ آنے کا ٹھکانہ بھی جانتا ہے۔‘‘ {وَ الَّذِیْ ہُوَ یُطْعِمُنِیْ وَ یَسْقِیْنِ} (سورۂ شعرا آیت 79) ’’اور وہ جو مجھے کھلاتا ہے او رپلاتا ہے۔‘‘ وقت کا منوا (Menu) کاو ہوگا؟ مہمان کا نہںھ مزنبان کا مسئلہ ہے، وہ چاہے اجناس کو غذا بنادے، چاہے غر( اجناس کو وقتی طور پر صحت مند خوراک مںن بدل ڈالے، چاہے بغرو کسی سبب کے اپنی قدرت کا کرشمہ ظاہر فرمادے (کہتے ہںذ کہ ایکصاحب طویل مدت کے لےن کہںا سفر پر جارہے تھے۔ جانے سے پہلے اہلہ سے پوچھا اپنی غرظ موجودگی مںے تمہارے لےص کتنا انتظام چھوڑ جاؤں؟ اس اﷲ کی بندی کے جواب کے الفاظ نہ جانے کاے تھے، مفہوم انتہائی خوبصورت، نہایت دلکش، مکمل طور پر جاذبتن بھرا، پورا کا پورا پرتاثرد’’کاا پالنے والا (کھلانے والا) بھی ساتھ لے جارہے ہںی؟‘‘ (آپ تو روزی کے دروازے ہںا۔ دروازہ رکھنا نہ عقل کے خلاف ہے نہ ہی توکل کے خلاف ہے۔ مںن نے تو اپنے دل کے دروازے اپنے رب کے لےچ چوپٹ کھول رکھے ہںل، اور وہ بھی ہر وقت مرےی شہہ رگ (وہ رگ جسے رگ جان بھی کہتے ہںو جس کے کٹ جانے سے انسان مر جاتا ہے یہ رگ گردن مںا ہوتی ہے) سے بھی زیادہ مجھ سے قریب ہوتے ہںپ {نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْد} (سورۂ ق آیت 15) ’’ہم اس کی رگ جان سے بھی زیادہ اس کے قریب ہںت۔‘‘ جب کبھی کوئی خواہش غریب کے دل مںر پد ا ہوتی ہے، نفس مطالبہ کرتا ہے اگر خواہش جائز ہوئی او راس کے پورا کرنے کا انتظام پاس ہوا تو دل نہںے توڑتا، اس کی خوشی اور راحت کا لحاظ کرتا ہے۔ اگر خواہش پوری کرنے کا فوری انتظام نہںپ ہوتا تو نفس کو یہ کہہ کر مطمئن رکھتا ہے کہ ترری خواہش جائز ہے لکنک اس کے پورا کرنے کا فوری انتظام مرطے پاس نہں ہے۔ تر ییہ خواہش مجھ پر قرض ہے، جسےط ہی بندوبست ہوگا تراایہ قرضہ اتاردوں گا۔ (عموماً خواہش پدرا ہونے کے وقت اس کے پورا کرنے کا جذبات بھرا ایک جوش ہوتا ہے جو خواہش پوری نہ ہونے پر آہستہ ، آہستہ کمزور پڑتا چلا جاتا ہے اور بالآخر ختم ہوجاتا ہے۔) (کہتے ہںک کسی زمانے مں کسی بزرگ سے پوچھا گاچ کہ آپ کے پاس ظاہری اسباب کی کمی ہونے کے باوجود چہرے پر پریشانی کے کوئی آثار بھی نہںں ہںی اس کے بالمقابل ہمارے پاس ظاہری اسباب آپ کے مقابلے مںس زیادہ اور بہتر ہںج لکنک ہماری پریشانی مں کمی نہںخ آتی۔ جواب مں، فرمایا کہ تمہاری طرح نفس مربے ساتھ بھی لگا ہوا ہے۔ حاجات تو اﷲتعالیٰ پوری فرما ہی دیا کرتے ہںہ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ عَلٰی ذٰلِکَ۔ خواہشات ناجائز ہوں تو نفس سے معذرت چاہ لتاے ہوں، جائز ہوں اور انتظام بھی ہو تو شرعی حدود مںم رہتے ہوئے پوری کردیتا ہوں، انتظام نہ ہو تو لوگوں کا مقروض بننے کے بجائے نفس کا مقروض ہوجاتا ہوں (یاد رہے! یہ دناْ ’’ضرورت خانہ‘‘ ہے ’’خواہش خانہ‘‘ نہںک؟ اس دناک مںہ دناو بھر کے تمام جانداروں کی تمام ضرورتوں کے پورا کرتے رہنے کی صلاحیت بھی ہے، انتظام بھی ہے مگر کسی ایک انسان کی کسی ایک خواہش کو تمام پہلوؤں سے پورا کردینے کی نہ صلاحیت ہے نہ انتظام، خواہش خانہ تو اﷲتعالیٰ نے صرف اور صرف ’’جنت‘‘ ہی کو بنایا ہے۔ جہاں ہمشہ ہمشہم دائمی طور پر تمام جنتو ں کی علحدخہ، علحدیہ انفرادی بھی، اجتماعی بھی تمام خواہشوں کو تمام پہلوؤں کے عن مطابق بکپ وقت، آناً فاناً، ایکا اییا،یک دم، جھٹ پٹ، بغری کسی تاخرح کے، لمحے سے پشتر ، فوراً، بلامشقت، بلا تردد دل مںت آتے ہی پورا کا جاتا رہے گا۔ اس دناو مں تو فقط وہی مطمئن، پرسکون ہے جس نے اﷲتعالیٰ کے اس دنولی نظام کو دل سے تسمور کرتے ہوئے اپنے آپ کو اس نظام کے ماتحت کرلار ہے۔ کہا جاتا ہے کسی اﷲ والے سے ان کی خرحیت پوچھی گئی، فرمایا حال اس کا پوچھو جس کی مرضی کے مطابق کام نہ ہوتا ہو، یہاں تو ہر کام مرای مرضی کے مطابق ہی ہورہا ہے۔ عرض کات ایسا کوئی شخص نہ دیکھا، نہ پڑھا، نہ ہی سُنا، جس کا ہرہر کام اس کی اپنی چاہت، مرضی اور منشا ہی کے مطابق ہورہا ہو، فرمایا پہلے بات سمجھ لے ور! دناپ مںے جو کچھ بھی ہورہا ہے اﷲتعالیٰ ہی کی مرضی و مشتی سے ہورہا ہے، اس حققتو کی تہہ تک پہنچتے ہوئے مںو نے اپنی مرضی کو اﷲتعالیٰ کی مرضی کے تابع کرلا ہے، لہٰذا اﷲتعالیٰ کی طرف سے جو بھی حال آجائے اس پر مںح راضی ہوں۔ ایک اور اﷲ والے کا تو (چاہے موقعہ خوشی کا ہو یا کہ افسوس کا۔) تکۂہ کلام (وہ بات جو گفتگو کرتے ہوئے درما ن مںب بطور عادت باربار، بلا ارادہ، غرجاختارری طور پر دہرائی جاتی رہے) ہییہ تھا ’’جو ہوا اچھا ہوا، اسی مں خر تھی‘‘ (راضی برضا، راضی بقضا وقدر رہنا نہایت اعلیٰ درجے کی بزرگی ہے) اپنا تو عقدرہ ہییہی ہے {ماشاء اﷲ کان ومالم یشاء لم یکن}’’وہی ہوا ہے جو اﷲتعالیٰ چاہتے ہںب، جو وہ نہںن چاہتے وہ ہوتا ہی نہں، ہے‘‘، لہٰذا ملنے پر اتراہٹ نہںا، نہ ملنے پر مایوسی نہںگ۔ اس کے بالمقابل آپ اپنے متعلق خود غور کرلںت نہ ملنے پر شکوہ، شکایات، خواہش کے مطابق نہ ملنے پر حرام سے بھی انکار نہںگ، ہچکچاہٹ نہں ، افسوس نہںع، جو مل رہا ہے اس کی مقدار پر شکر نہںب، نام، نمود، شہرت، ریا، دکھلاوے کے موقعے ہوں تو قرضے بلکہ سودی قرضوں کو بھی قبول کرلنےن مںے کوئی عار، شرم، برائی، عب نہں،۔ رحمن کی رحمت کے اقرار کے باوجود شطاون کی اطاعت کا دم بھرنا مہر (محبت) نہںغ قہر (غضب و غصہ) کے اترنے کا موجب (سبب) ہے۔) غرباء پروری کے اس حسنک قدرتی محسنانہ نظام پر آئےہ۔ قرآن مجدت کی زبان میںدل کی گہرائورں مں اس نعرے، للکار کو بسالںگ {فَتَبٰرَکَ اﷲُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَ} ’’پس اللہ تعالیٰ بڑے برکت والے سب سے بہتر پدغا کرنے والے ہںں۔‘‘(المؤمنون 14) روزی کے مد ان مںے بھی دعاؤں کے ذریعے رزاق سے رابطہ رہے: اسلامی تعلما ت کے خزانوں مں ایک بہت بڑا مجموعہ دعاؤں کا بھی پایا جاتا ہے۔ یہ وہ دعائں ہںے جنہوں نے قبولتس کا دروازہ دیکھا ہوا ہے یین مالک کائنات، مدبر السمٰوٰت والارض کی پسندیدہ ہںا اور مانگے والوں کے حق مںق ان کی مانگ کے مطابق قبول ہی ہوتی ہںا، گویاکہبتلائی ہی اس لےب گئی ہںؤ کہ انہں قبول کاا جائے۔ ان دعاؤں مںک کمائی کے حوالے سے مختلف پہلوؤں کو سامنے رکھ کر دعا کے الفاظ سکھلائے گئے ہں ۔ ان دعاؤں کو بھی اپنی معمول کی دعاؤں مں ہمشہں شامل رکھنا چاہےے۔ ان مںب سے چند درج ذیل ہںا: (1)(اَللّٰھُمَّ سَہِّلْ لَنَا أَبْوَابَ رِزْقِکَ)(صححؤ أبی داؤد جلد2 صفحہ 363) ’’اے مرہے اﷲ! اپنے رزق کے دروازے ہمارے لےل آسان کردیےکھ!‘‘ (2)(اَللّٰھُمَّ اکْفِنِیْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَأَغْنِنِیْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ)(ترمذی ِشریف جلد 5 صفحہ 560) ’’اے مرکے اﷲ! مجھے اپنی حرام کردہ چزیوں سے بچاتے ہوئے اپنے حلال (رزق) کو مرِے لےف کافی (بھرپور) فرمادیےعا اور اپنے محض فضل سے اپنے علاوہ کے لوگوں سے بے ناَز رکھے ۔‘‘ (3)(اَللّٰھُمَّ زِدْنَا وَلَا تَنْقُصْنَا وَاَکْرِمْنَا وَلَاتُھِنَّا وَاَعْطِنَا وَلَا تَحْرِمْنَا وَآثِرْنَا وَلَا تُؤْثِرْ عَلَیْنَا وَارْضِ عَنَّا وَ أرْضِنَا) (المستدرک علی الصحیحین جلد 1 صفحہ 717) ’’اے مرَے اﷲ! (اپنے رزق، نعمتوں، آسائشوں وغرَہ کے مدلانوں مںر) ہمںا بڑھائے رکھےِ (ان مںع) کمی نہ لائے اور ہمں (عزت کے ساتھ) سربلندی عطا فرمائےح اور (مخلوق سے) ہمںذ ذللن نہ کروائےَ اور ہں م (اپنی نعمتںئ خوب) عطا فرمائے رکھےن اور ہمںَ (کسی بھی حوالے سے ذرا بھی) محروم نہ رکھےْ اور ہمںھ غلبہ عطا فرمائے رکھےے اور ہمارے اوپر (کسی کو بھی، لمحے بھر کے لےر ذرّہ برابر بھی) غلبہ نہ عطا فرمائےا او رہمںث (اپنے اور اپنی تمام مخلوق سے خوب اور ہمشہر) خوش رکھےہ اور ہم سے (ہمشہل خود بھی) راضی ہی رئےل۔‘‘ (4)(اَللّٰھُمَّ رَبَّ السَّمٰوَاتِ السَّبْعِ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ أَکْفِنِیْ کُلَّ مُہِمٍّ مِنْ حَیْثُ شِئْتَ مِنْ أَیْنَ شِئْتَ) (کنزالعمال جلد 2 صفحہ 122) ’’اے مرھے اﷲ! (اے) ساتوں آسمانوں اور عرش عظمل کے پالنہار! تمام اہم، بھاری اور معرکے کے کاموں مںھ جسے آپ چاہں4 او رجہاں سے چاہںﷲ مرعے لےن (مرمی طرف سے خود ہی) کافی ہوجائےا۔‘‘ (5)(اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُبِکَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِکَ وَتَحْوِیْلِ عَافِیَتِکَ وَفُجَائَ ۃِ نِقْمَتِکَ وَجَمِیْعِ سَخَطِکَ) (سنن أبی داؤد جلد 1 صفحہ 566) ’’اے مرہے اﷲ! آپ کی نعمتوں کے ختم ہوجانے، اور آپ کی سلامتی کے لوٹ جانے، اور آپ کی سزا کے اچانک آپڑنے، اور آپ کی ہر طرح کی تمام ناراضگوّں سے آپ کی پناہ چاہتا ہوں۔‘‘ (6)(اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُبِکَ مَنَ الْجُوْعِ) (سنن أبی داؤد جلد 1 صفحہ 567) ’’اے مرِے اﷲ! مں بھوک اور فاقے سے آپ کی پناہ چاہتا ہوں۔‘‘ (7)(اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُبِاﷲِ مِنَ الْبُؤْسِ وَالتَّبَاؤُسَ) (الطبرانی فی مسند الشامیین جلد1 صفحہ 424 حدیث 745) ’’اے مرجے اﷲ! بلاشبہ مں( انتہائی غرییْ اور سخت محتاجگی سے آپ کی پناہ چاہتا ہوں۔‘‘ (8)(اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُبِکَ مِنَ الْحَوَرِ بَعْدَ الْکَوْرِ)(الجامع لأحکام القرآن جلد 19 صفحہ 273) ’’اے مرلے اﷲ! مںو خوشحالی کے بعد تنگی کے آجانے سے آپ کی پناہ چاہتا ہوں۔‘‘ (کمائی کے حوالے سے مزید کچھ تفصیلات ادارے سے شائع شدہ ’’روزی کے وسائل اور اسلام‘‘ نامی کتابچے مںل دییھل جاسکتی ہںی۔) کمائی و اخراجات کے حوالوں سے معاشرتی رواج: جسائکہ مضمون کی ابتداء ہی مںم اس حققتر کو وضاحت کے ساتھ پشا کاو گا ہے کہ انسان اس دناد مںح نہتا او رخالی ہاتھ ہی آتا ہے، نابالغی کی عمر مں ذاتی اخراجات کے انتظامات کے لے بھی انسان پر نہ عرفاً، نہ اخلاقاً اور نہ ہی شرعاً کوئی ذمہ داری نہںا ہوتی،یہ ذمہ داری اس کے والدین، سرپرست یا ریاست اٹھایا کرتی ہے۔ اسی طرح نابالغی کے زمانے مںو خرچ کے تمام پہلوؤں پر کنٹرول اس کے بڑوں کا ہی ہوتا ہے اور وہ تمام پہلوؤں کو اپنی آنکھوں کے سامنے رکھتے ہوئے نفع مند اور نقصان دہ صورتوں کی روشنی مںق خرچ کے اعتبار سے اس نابالغ انسان (بچے/بچی) کی کڑی نگرانی کرتے ہںآ، تربیمں حوالوں سے ذہن سازی کرتے ہںہ، تعلی ک حوالوں سے معلومات فراہم کرتے ہںو ، اخلاقی حوالوں سے اپنا ذاتی عملی نمونہ پش کرتے ہںن۔ کہاں خرچ کرنا ہے، کاا خرچ کرنا ہے، کتنا خرچ کرنا ہے، کب خرچ کرنا ہے، کسےں خرچ کرنا ہے اس پر چیک (دیکھ بھال، نگاہ) رکھتے ہں۔، البتہ بالغ ہونے کے بعد آمدنی اور خرچ دونوں شعبوں مں انسان اخلاقی طور پر اپنے متعلقنے، بڑوں، سرپرستوں سے آزاد اور خودمختار سمجھا جاتا ہے بشرطکہی آمدنی کے ذرائع اور اخراجات کی راہںں مشترکہ نہ ہوں، بلکہ جدا اور الگ الگ کرلی گئی ہوں۔ خرچ کے معاشرتی رواج کی اسلامی اصلاح: خرچ کے حوالے سے روزِاوّل سے (حوتانی نہںا) انسانی معاشرے مںو کسی نہ کسی نظریے کی بنارد پر عمل جاری تھا۔ اسلام نے اپنی آمد کے بعد نہ بالکلہو اس نظریہ و عمل کو نظرانداز (نامنظور) کاس نہ ہی مکمل طور پر اسے مسترد کا بلکہ اس مں اپنی اصلاحات (درستگیاں، ترمںعد ) دیں جو عوام الناس کی فلاح و بہبود (سلامتی، بہتری و بھلائی) کی روشنی مں خرچ کے شعبے کی خرابارں اور خاماتں دور کرنے کے لےب تھںِ اور معاشرتی امن و سکون کی ضامن (ذمہ دار) ہںم۔ ان اسلامی اصلاحات کے ذریعے انسانی معاشرہ حوصانی معاشرے سے ممتاز ہوکر مجتمع ہوتے ہوئے نکھرا (چمکا) ہے، مفادپرستی کے چُنگل (پنجے) مںی پھنستے ہوئے بکھرا (تتر بتر، منتشر) نہںش۔ (یاد رہے! یا شخس اپنی اپنی دیکھ! کسی انسانی معاشرے کا محاورہ (وہ کلمہ یا کلام جو اہل زبان نے کسی خاص مفہوم کے لے مخصوص کرلام ہو) نہںخ،یہ تو حو انی معاشرے، جانور پنے کا ابتدائی اسٹجی ہے، اس مںع بھڑ،، بکری، گائے وغرکہ جسےو جانور آتے ہںص جنہںص وقت پر اپنا چارہ، دانہ (کھانا) مل جایا کرے تو وہ کسی دوسرے کو نقصان نہں پہنچاتے، دکھ نہںج دیتے۔ اپنے نفع کے لے) دوسرے کو نقصان پہنچاتے رہنا یہ جانور پنے کا درما نی اسٹجک ہے اس مںد بھڑایا، چتاا، شرے وغرنہ جسے چرچنے پھاڑنے والے جانور پائے جاتے ہںا۔ عرف عام مںہ انہں درندہ کہا جاتا ہے یہ جب تک حملہ آور ہوکر کسی کی جان نہ لے لںت انہںر اپنی خوراک حاصل نہںے ہوپاتییعنی ان کا ذاتی نفع دوسروں کو نقصان پہنچانے مںا ہے۔ حو انی معاشرے کا انتہائی (آخری) اسٹجا ہے دوسروں کو نقصان پہنچاتے رہنا لکنپ اس نقصان پہنچانے مںا ان کا اپنا ذاتی نفع کچھ بھی نہ ہو، اس مں ڈسنے اور ڈنک مارنے والے سانپ، بچھو آتے ہیںیہ جسے ڈسیںیا ڈنک ماریں ان کا تو نقصان ہوجاتا ہے لکنب اس نقصان سے خود سانپ، بچھو کو ذاتی طور پر ذرہ برابر بھی نفع، فائدہ حاصل نہںر ہوتا۔ انسان حو ان ناطق (بولنے والا جانور) کہلائے جانے کے باوجود اشرف المخلوقات (تمام مخلوقات مںک سب سے بڑھ کر معزز، مکرم و محترم، عمدہ اخلاق و عادت و اطوار والا) کے عہدے پر براجمان (صدر مجلس) ہے۔ ایک انسانی معاشرے میںسب سے بلندترین، اعلیٰ مقام ان افراد کو حاصل ہوتا ہے جو خود ضرورت مند ہونے کے باوجود اپنی جان پر دوسروں کو ترجحم، فوقتی و برتری دیں {وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ وَ لَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ} (سورۂ حشر آیت 9) ’’اور مقدم رکھتے ہںا اپنی جانوں پر اگرچہ بذات خود فاقے سے ہوں۔‘‘ (کہتے ہںط دو مختلف علاقوں کے دو بزرگوں کی ایک دوسرے سے ملاقات ہوئی۔ ایک دوسرے کی خرایت پوچھتے ہوئے ایک نے دوسرے کے علاقے کے لوگوں کا حال پوچھا۔ فرمایا مل جائے تو شکر کرتے ہںس، نہ ملے تو صبر کرتے ہںا۔ جواب سُن کر ارشاد فرمایا کہ ایسا تو ہمارے علاقے کے ’’کتے‘‘ کرتے ہں مل جائے تو بھی دروازے پر موجود رہتے ہںک، نہ ملے تو بھی دروازہ نہںا چھوڑتے۔ پھر آپ کے علاقے کے لوگوں کا کا حال ہے؟ فرمایا نہ ملنے پر صبر کرتے ہںت، ملنے پر دوسروں کو تقسمم کردیتے ہںا۔) انسانی معاشرے مںک پائے جانے والے لوگوں مں بالکل ابتدائی درجے کے افراد انہںد سمجھا جاتا ہے جو اپنی حلال کمائی سے حاصل شدہ مال کو اپنی جائز حاجات مںع بقدر ضرورت ہی خرچ کرتے ہوئے بقہہ مال کو اﷲتعالیٰ کی خوشنودی، رضامندی حاصل کرنے کی نتہ سے، احسان جتلائے بغرا دوسروں پر خرچ کردیتے ہںو اور اس پر اﷲتعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہںد اور دوسروں کا اپنے اوپر احسان مانتے ہںن (اﷲتعالیٰ کی مخلوق کی تکلف دور کرنے کے لےل خود تکلفت اٹھانا ایی سخاوت ہے جسے حقیوں سخاوت کہتے ہںن۔ اپنے دکھ مںت تو ہر آنکھ نم (گیاش) ہوجاتی ہے، مگر دوسرے کے غم مںر آنسو بہانا، دنا کی سب سے بڑی مشقت اور سب سے مشکل کام ہے، جو دولت تم جمع کرتے ہو، درحققتہ وہ تمہاری نہںپ، تمہاری اصل دولت وہی ہے جو تم دوسروں پر خرچ کرتے ہو۔ آپ دوسروں کی ضرورت پوری کےآن ، آپ کی ضرورت اﷲتعالیٰ غیلت طریقے سے پوری کرے گا۔ مخلوق سے محبت خالق سے محبت کی سند ہے۔) اسلامی اصلاحات کی حققت تک پہنچانے والے چند بناپدی حقائق: 1…پدکائش سے لے کر مرتے دَم تک باربار جسمانی ضرورتوں کے پدخا ہوتے رہنے کے باوجود انسان اپنے جسم کے علاوہ کوئی ذرّہ برابر چزپ، سامان، اسباب، دمڑی، اثاثہ، سرمایہ اس دناا مںہ اپنے ساتھ نہںم لاتا۔ 2…اس دناش مںا انسانی جسم کے ساتھ جوجو اعضاء (بدن کے تمام ظاہری و پوشدنہ حصّے) بھی ہںآ وہ اس کے خالق یینک اﷲتعالیٰ کی عطایا، انعامات اور بخششں ہںم جو بغرھ کسی معاوضے کے مفت ملتی ہں ۔ یہاں تک کہ دنا مںم ان نعمتوں کے جائز و ناجائز استعمال کا کرایہ، بھاڑا یا اُجرت بھی انسان سے نہںی مانگی جاتی۔ 3…انسان کا پورا کا پورا جسم، بدن کا ہرہر حصّہ ذاتی کہلائے جانے کے باوجود انسان کی ذاتی ملکت نہں ہے (بدن کی نشوونما، بقا اور حفاظتی نکتۂ نظر سے بدن پر انسان کی عارضی ملکتا تسلمک کی گئی ہے) نہ اپنی اس دنو ی زندگی مںت اپنے ان اعضاء مںا سے کسی عضو کو بلاشرعی عذر و حکم اپنے جسم سے علحد ہ کرسکتا ہے، نہ بچی سکتا ہے، نہ ہدیے اور تحفے مںک بانٹ سکتا ہے (البتہ ضرورت کے مواقع پر بلاقمتی اپنے جسم کا خون دے سکتا ہے نزد قمتاً خریدنا پڑجائے تو مجبوری کی وجہ سے خریدے جانے کی اجازت ہے)، نہ موت کے بعد اپنے اعضاء کے دئےک جانے کی وصتث کرسکتا ہے، نہ اسے خودکشی (اپنے آپ کو ہلاک کرلنےی) کی اجازت ہے، اس لےم کہ اس جسم پر اس کی حقیے ملکتی بھی ثابت نہںہ اور آخرت مںت اس جسم کے حوالے سے بھی حساب اور مواخذے، سزا اور جزا کے معاملات پشک آنے ہںس، مزیدیہ کہ شرعی جہاد کے بغر کسی بھی انسان کو نہ ہی غلام بنایا جاسکتا ہے، نہ ہی انسان کو تجارتی مال کی حتام دے کر اس کی خریدوفروخت کی جاسکتی ہے، البتہ اس کے اوقات و خدمات کا معاوضہ دے کر یا لے کر اسے ملازمت دییا لی جاسکتی ہے۔ مختصر یہ کہ انسان جو اس دناف مں صرف جسم لے کر آتا ہے اور ذہنی طور پر اپنے آپ کو اپنے جسم کا مالک بھی سمجھتا ہے اس کے اس دنو ی استعمال مں جسم کے حقیتک مالک کے احکامات کا پابند ہے۔ 4… انسان کے پدصائش سے لے کر موت تک کی مدت کے دوران وقتاً فوقتاً، گاہے بگاہے، کبھی کبھی جو مال (نقد، اشاکء) بھی ملتا ہے چاہے مشقت کے بعد یا بغرش مشقت کے، وہ اس کے پاس ہونے کی وجہ سے یا مال کے حصول کی جدوجہد مںل اس کی دلچسپی برقرار رکھنے کی غرض سے عارضی طور پر اس کی ملکتی ضرور کہا جاتا ہے، لکنے اس مال کا اس کے جسم کی طرح حقیلد مالک اﷲتعالیٰ ہی ہے جس کے احکامات کا مال کے استعمال مںر بھی انسان پابند ہے۔ (اگر مال کا خود انسان حقیا مالک ہوتا تو مال کے حصول و استعمال مںا احکامات الٰہیہ کا پابند کو ں بنایا جاتا؟ پھر تو اس کے انتقال کے بعد شرعی وارثوں کی طرف شرعی تقسمم کے مطابق منتقل کےٰ جانے کے احکامات بے معنیٰ ہوکر رہ جاتے۔ پھر قا مت مں۔ کمائی او رخرچ سے متعلق سوال بے مقصد نہں بن جائے گا؟ پھر مال کے متعلق من مانی کرنے پر سزا وعذاب نعوذباﷲ ظلم نہں، سمجھا جانے لگے گا؟ پھر احکامات کی پابندی پر اجر و انعام کا باب غرممتعلق نہںر کہا جائے گا؟ 5…اسلام نے مال جمع کرتے رہنے، بڑھاتے رہنے، اکٹھا کرتے رہنے، باربار، ہروقت گنتے رہنے کا تصور، نظریہ، خاول، دُھْن، شوق دیا ہی نہںے ہے۔ اس راہ مںے اسلام نے انتہائی خوبصورت انداز مں نہایت پرکشش و جاذبت بھرا نظریہ مرحمت فرمایا ہے کہ خرچ کرنا گویا اﷲتعالیٰ کو قرض دیتے ہوئے اس کی بنک مںل جمع کرا دینا ہے، جہاں سے وقت پر کئی گنا بڑھ کر واپس ملے گا۔ 6… جہاں ہر عاقل، بالغ، صحت مند، مالی وسائل رکھنے والے انسانوں کی جسمانی حوالوں سے ذاتی طور پر کئی ضروریات ہں (خواہشات اور اس کے متعلقات موضوع بحث نہںل ہںر) وہاں ان کے اطراف مںا چاروں طرف ان کے ساتھ پد ائش سے لے کر بلاغت تک کی عمر تک پہنچنے والے بچوں، بچوںں کی، بڑی عمر کے کمزور ہوجانے والے بوڑھے، بوڑھیوں کی، مختلف بمایریوں مںم مبتلا بے وسائل بمااروں کی، والد کی وفات کی وجہ سے نابالغ یموک ں کی، والدہ کی وفات کی وجہ سے نابالغ یسیروں کی، ناداروں، غریبوں، محتاجوں، مفلسوں، دست نگروں، ہاتھ پھیلانے والوں، لولوں، لنگڑوں، اپاہچوں، معذوروں، ناچاروں، اندھوں، کانوں، بہروں، گونگوں، مجنونوں، پاگلوں، دیوانوں، مخبوط الحواسوں، مرفوع القلموں کی، لاوارثوں وغرچہ وغرہہ کی بھی ایک بہت بڑی تعداد اس دنا مںن بستی ہے، ان تمام کی زندگووں کے بھی وہی مسائل ہںر جو وسائل رکھنے والوں کے مسائل ہںو۔ پھر تمام انسانوں کے مشترکہ طور پر عوامی مفاد کے مسائل بھی اسی دنا کے ہںج، جنہںم عرف عام مں رفاہی کام کہا جاتا ہے۔ ان مںپ سڑکںے، پل، کنویں، نہریں، ہسپتال، تعلییو ادارے، عبادت خانے وغرخہ وغرلہ بنانا شامل ہںن۔ پھر آسمانی آفات، زمینی بلاؤں سے بچاؤ اور اس کے بعد کے دوبارہ آبادکاری کے مسائل پھر زندگی کی الجھی او رالجھا دی جانے والی ڈور کی الجھے رہنے کی طاقت ختم ہوجانے کے بعد ٹوٹ جاتی ہے یینے موت آجاتی ہے تو مُردوں کی تزہغ (مُردے کو دفنانے کے لےن تاار کرنا)، تکفنز (کفن (مردے کا لباس) پہنانا) تدفن (مُردے کو زمنا کے حوالے کرنا) کے مسائل اسی دنووی زندگی کی رخصتی کے آخری مراحل ہں( (یہ ہے وہ دناہوی سسٹم (نظام) جو نہ جانے کب سے چل رہا ہے، مسلسل ہر زمانے مںع، ہر علاقے مںو، ہر انسان کے ساتھ لگا ہوا ہے۔ انسان ضرور بدلے ہںآ، بدل رہے ہںن، بدلتے رہںر گے، لکنل سسٹم زمانے کی مناسبت سے معمولی جدت اور نئے پن کے باوجود وہی ہے۔ نہ معلوم کب تک اسی طرح انسان کے ساتھ ساتھ رہے گا۔) نظام کائنات سے یہ سسٹم خودکار یا قدرتی طور پر چلتے رہنے کے لےے نہں جوڑا گاا بلکہ اس پورے سسٹم کو چلاتے رہنے کے لے۔ ذمہ داری خود انسانوں پر ڈالی گئیہے (شایدییے وجہ ہے کہ اس کے نتائج میںیکسانتے نہں ہے۔) اس ذمہ داری کو ہر وہ انسان تسلمئ کرتا ہے جس کا دل بے رحمی و سنگ دلی کی سِلْ (پتھر کا ٹکڑا) نہ ہو، جس کا دماغ اپنی ہی ذات مںس جکڑا، اینٹھا، اکڑا، لپٹا، سمٹا اور سکڑا ہوا نہ ہو، جس کی آنکھوں پر خودغرضی کی عنک نہ چڑھی ہوئی ہو، جس کے کانوں مںا مطلب پرستی کا سیسا (ایک دھات) نہ ڈلا ہوا ہو، جس کی شخصتی پر نفس پرستی کا غلاف نہ منڈھا ہو، جس کی عرفتں پر شہوت پرستی کی کھال نہ مڑھی ہوئی ہو، جس کے وجود پر خودبیت ، خودنمائی، خودستائی، خودپرستی کی موٹی، دبز ، غلظس چادریں نہ تنی ہوئی ہوں یین انسان نے خود انسانتس کا چولا اُتار کر بار ڈر کراس کرتے ہوئے حوہانتی کے سرکل مںٹ داخل ہوتے ہوئے خود فرییھ کے ساتھ اپنے تصورات، خاولات، احساسات اور جذبات مںا اپنے آپ کو مطمئن نہ کررکھا ہو۔ مختلف نظاموں کے درمائن حققتا بھرا موازنہ: کمائی اور خرچ کے شعبوں مں سوشلزم، کموبنزم نے ایسے بے رحمانہ قوانن بنائے کہ انسان حوصلہ ہارتے ہوئے بگاوری مزدور (بالجبر، بلا اجرت بوجھ اٹھانے والا) بن کر رہ گات۔ کیپیٹلزم نے ایسے پُرفریب اصول وضع (تا ر) کےج کہ غریبوں کی جھولو ں کے دانے بھی سرمایہ داروں کی جبوہں مںک سمائے۔ اس کے بالمقابل اسلام نے انسانی نفسابت کے عنا مطابق، غریبوں کی عزت نفس کے مکمل موافق، سرمایہ کاری کے اصولوں کے ٹھکم ٹھکئ مناسب اییا روح پرور، دلنشنل تعلمارت عنایت فرمائںں جس نے بکق وقت انسان کو مالی وسائل کے حصول کے لےک بھی اکسایا اور ان حاصل شدہ وسائل کو انسانی مسائل کے حل پر لگانے کے لے بھی ابھارا۔ ان اعلیٰ تعلما ت پر عمل پرھا ہوکر انسان جہاں کمائی کے جائز ذرائع کی جسمانی مشقت اٹھائے جانے پر ’’مسحور‘‘ دکھائی دیتا ہے، وہاں اخراجات کے مبنی برحق مواقع کی روحانی مسرت اختاور کے جانے پر ’’مسرور‘‘ نظر آتا ہے۔ حلال کمائی کی خرچ کرنے کی احتامطی تدابرے: (1)جس طرح کمائی کا ناجائز ذرائع سے حاصل کاک جانا حرام ہے اسی طرح حرام کمائی کا جائز جگہوں پر خرچ کائ جانا بھی حرام ہے۔ حرام کمائی سے جان چھڑانا لازمی اور ضروری ہے اور اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ کمائی کے ناجائز تمام ذریعے چھوڑ دئےا جائںا، توبہ کی جائے، مال اس کے اصل مالکان کو واپس کاا جائے، اگر یہ ممکن نہ ہو تو ثواب کی نتر کے بغر ایسا تمام مال فقرعوں، غریبوں مںا جلدازجلد تقسمک کردیا جائے، جس طرح پاکز ہ مال کے مفد اثرات ہوتے ہںق جن سے دنوئی اور اخروی زندگی خوشگوار رہتی ہے اسی طرح ناپاک مال کے نقصان دہ اثرات ہوتے ہںئ جن سے دنوہی اور اخروی زندگوےں مں پراگندگی و پریشانی کے خطرات بڑھ جاتے ہںح، لہٰذا ایسا مال دین دار و متقی غریبوں کو نہ دیا جانا ہی بہتر ہے، واﷲ اعلم بالصواب (2)انسان کے پاس جائز ذرائع سے بھی جو بھی مال جس مقدار مںا بھی آتا ہے وہ اﷲتعالیٰ کی عطا و بخشش ہی سے ملتا ہے، البتہ اس کے خرچ کرنے مںس انسان کو اختایر ہے کہ منع کےج جانے کے باوجود اس مال کو ناجائز کاموں مںا خرچ کرے جو ’’تبذیر‘‘ کہلاتا ہے۔ یا منع کےک جانے کے باوجود جائز کاموں مںج ضرورت کے بقدر نہں بلکہ اس سے زیادہ خرچ کرے جو ’’اسراف‘‘ کہلاتا ہے۔ یا منع کے جانے کے باوجود جائز کاموں مںے ضرورت کے بقدر نہںد بلکہ وسعت (گنجائش) ہوتے ہوئے کم خرچ کرے جو ’’بخل‘‘ کہلاتا ہے، لہٰذا اس اختاار کو ’’تسلم ‘‘ کرتے ہوئے ’’تملا ‘‘یہ ہے کہ تبذیر کو ترک کرتے ہوئے خرچ کو اسراف و بخل سے بچاتے ہوئے ما،نہ روی، اعتدال یینم درما نہ درجے مںہ رکھا جائے (نہ ہی ہاتھ اپنے گلے سے ایسا بندھا ہو کہ مال خرچ ہی نہ ہوتا ہو، نہ ہی ہاتھ اتنا کھلا ہوا ہو کہ مال ضرورت کے لے بھی نہ بچتا ہو اور خود کو خر ات مانگنی پڑجائے اور اﷲتعالیٰ سے ہی بدگمان ہوجائے۔) (3) جائز کاموں مں خرچ کرنے والوں کو یہ تعلمو بھی دی گئی ہے کہ جو بھی، جتنا بھی، جب بھی، جہاں بھی، جساہ بھی، جسےل بھی خرچ کاھ جائے تو صرف اور صرف اﷲتعالیٰ کا حکم سمجھتے ہوئے، نہایت خوش دلی کے ساتھ، لنےس والے پر کوئی شرط عائد کےئ بغر ، لنے والے کا اپنے اوپر احسان سمجھتے ہوئے، خرچ کے عوض (بدلے مںہ) اپنا ذاتی کوئی کام نہ لتےل ہوئے ، سائل کو جھڑکنے، ڈانٹنے، دھتکارنے، ذلل کرنے، دھمکانے، گھرکانے سے اجتناب کرتے ہوئے محض اﷲتعالیٰ کی خوشنودی اور رضا حاصل کرنے کے لےل ہی دے۔ (4) خرچ کرنے والوں کو یہ ذہن نشین رکھنا چاہےا کہ جن پر خرچ کاگ جارہا ہے وہ اسی اﷲتعالیٰ ہی کے بندے ہں جن کے ہم بندے ہںے، وہ اﷲتعالیٰ ہمںت جسےا لنےج والوں کے واسطے کے بغرو، براہ راست عطا فرمارہے ہں ، ویسے ہی انہںک بھی براہ راست ہمارے واسطے کے بغرچ عطا فرمانے کی قدرت رکھتے ہںس،یہ تو اﷲتعالیٰ کا لطف و احسان ہے کہ انہوں نے ہمارا انتخاب انسانی فلاح و بہبود کے اجتماعی اس نظام مںم اوپر (دینے) والے ہاتھ کے طور پر کا ہے خزانوں کا وہ مالک اپنے ذاتی خزانوں سے ہمںن دے کر ہمارے ہاتھوں سے تقسمی کروا رہا ہے۔ لہٰذا اس باریک (لطفے) مگر نازک (نفسو، نزاکت بھرے) نظام کو غفلت، کوتاہی، بے پرواہی، بے حسی، تکبر، فخر، اتراہٹ، احسان جتلانے، تکلفے پہنچانے، حقارت جسے موذی اوصاف سے ملوث، آلودہ، لتھڑا ہوا، ناپاک بنانے کی جسارت، جرأت نہ کریںیہ اس باب مںے سنگنا جرم ہے جو انتخاب بدلوا سکتا ہے۔ (5) لنےم والوں کے لےخ بھی قدرت کے خزانوں مںن لمحے بھر کے لےا ذرّہ برابر بھی کمی نہںب ہے۔ اگر قدرت نے محنت کے اوزار (ہاتھ، پاؤں)، محنت کی صلاحیت (ذہن)، محنت کے مواقع (صحت) دے رکھے ہںد تو سوال (مخلوق سے بھکی مانگنا) تو درکنار (جدا، علاوہ، دور کی بات) اشراف (دل مں خاعل لانا) بھی منع ہے۔ اگر کسی بھی عنوان سے محتاجی، معذوری نے آن پکڑا ہے تو عزتِ نفس اور دل کے استغنا کے ساتھ بقدر ضرورت پر ہی اکتفا، قناعت کی جائے، جو مل جائے اسی کو کافی سمجھا جائے، لپٹ کر، چمٹ کر، ہاتھ دھو کر پچھے پڑ کر، درپئے آزار ہوکر، جان کو آکر، کسی کے سامنے شرمندہ کر کر، راستہ روک کر، آرام کے مواقع مںم خلل ڈال کر، مصروفارت کے اوقات مںد بے جا مداخلت کرکے نہ مانگا جائے۔ کسی وقت نہ دئےٹ جانے پر ناراض ہوتے ہوئے، ناگوار کلمات سے نہ نوازا جائے، بغض، حسد، کوسنوں، بددعاؤں، گالواں سے کوسوں دور رہا جائے، مانگنے کو ایزی ارنگ (آسمان کمائی) قرار دیتے ہوئے مشغلہ نہ بنالاؤ جائے، مذہبی، سااسی، معاشرتی، رفاہی رنگ دیتے ہوئے مانگے جانے کو انڈسٹری کا درجہ نہ دے دیا جائے۔ یہ مستقل کاروبار نہیںیہ عدم استطاعت والوں کے لےر (بے روزگاروں کے لےت نہں ) ایک وقتی، عارضی، لائق ترک حل ہے۔ حلال کمائی کی خرچ کرنے کی جگہںا اور ان کی ترتبب: اس دنوئی زندگی مںو انسان کی لازمی، بناردی اور اہم ترین ضرورتوں کو اگر شمار کائ جائے تو وہ چند ایک ہی ہوسکتی ہںز: (۱)پدنائش (۲)مکان (۳)لباس (۴)خوراک (۵)تعلمی (۶)علاج (۷)شادی (۸)تدفن ۔ ان سے ہٹ کر جو بھی ضروریات ہںل وہ یا تو انہی کی متعلقات ہیںیا اتنی اہم نںہں ہںر کہ ان کے بغر زندہ نہ رہا جاسکے یا وہ من کے چونچلوں، نخروں اور خواہشات کے زمرے مں آتی ہںا۔ ان ضروریات کے پورا کرنے کا ایک ابتدائی طریقہیہ ہے کہ سادگی مںہ محدود رہا جائے، دوسرا طریقہیہ ہے گنجائش ہو تو قدرے بہتری اختارر کی جائے۔ شریعت کے حوالے سے پہلے طریقے کو مزاج شریعت کا، دوسرے طریقے کو حدود شریعت کا عنوان دیا جاتا ہے مثلاً سر چھپانے کے لےی انسان کو مکان کی ضرورت ہے۔ اگر ذاتی مکان کی گنجائش نہ ہو تو گھر کے افراد کی تعداد کی مناسبت سے کرائے کا مکان لان جائے گا، اگر ذاتی مکان بنانے یا خریدنے کی طاقت ہو تو گھر کے ہر فرد کے لےو علحدےہ، علحدیہ کمروں والا مکان بنانے یا خریدنے کی اجازت ہے، اس کو اصطلاح مں ’’رہائش‘‘ کہا جاتا ہے۔ اگر گھر کو مزین کرنے یینل فنشنگ کی وسعت ہو تو اسے بھی اختاار کاے جاسکتا ہے، اصطلاح میںیہ ’’آرائش‘‘ کہلاتا ہے۔ اگر مال کی فراوانی اور کشادگی حاصل ہو تو وقت کی مناسبت سے دستااب سہولارت کے انتظام مں بھی کوئی رکاوٹ نہں۔ ہے، اصطلاح مںن اسے ’’آسائش‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ یہاں تک حدود شریعت ہے جبکہ ابتدائی حالت مزاج شریعت کی ہے۔ اس کے بعد اگر اپنی شان دکھلانے یا دوسروں کو نچا’ دکھلانے اور اذیت پہنچانے کی غرض سے خرچ کاب جارہا ہے تو یہ حدود شریعت سے تجاوز ہے جو صرف ناجائز ہی نہںت وبال بھی ہے، اصطلاح مںم اسے ’’نمائش‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اسی مثال سے دوسری ضروریات کو سمجھا جایا کرے۔ مندرجہ بالا تمہدے کی روشنی مںے ترتبض کے ساتھ خرچ کرنے کی جگہںک درج ذیل ہںا: 1…ذاتی اور زیرکفالت (والدین، بوری بچوں، نابالغ و یمین بھائی، بہنوں) افراد کی ضروریات پر خرچ کرتے رہنا۔ 2…ددھا لی (دادا کی طرف سے)، ننھیالی (نانا کی طرف سے)، سسرالی (ماھں، بوطی کی طرف سے)، سمدھاموی (دلہا، دلہن کے والدین کے باہمی) رشتے داروں، (ذات، علاقے، زبان سے تعلق رکھنے والی) برادری مںہ سے ضرورت مند لوگوں پر خرچ کرنا۔ (اگر ہر برادری کے صاحب ثروت، صاحب خرر، مالدار احباب و خواتنا اپنی برادری کے ناداروں کی کماحقہ مالی نگہداشت رکھں۔ تو بہت بہت بہت بڑی حد تک بھکب کا ناسور بے جان ہوجائے۔ یناً دونوں طرف سے مضبوط ناہمواریاں سخت چٹانوں کی صورت درمادن مں حائل ہںت کہ ایک طرف کھال مست ہںں دوسری طرف مال مست لکنً ایثار کی چابی سے عدم موافقت کا دروازہ کھولا جاسکتا ہے اور کھلا رکھا جاسکتا ہے اگر ہر،ہر برادری کے بزرگ مخلصانہ توجہ فرمائںں۔) 3…رہائشی محلے کے چاروں طرف کے پڑوسواں کی خبرگرخی کے عنوان سے ضرورت مندوں پر خرچ کرنا۔ 4…گھریلو، کاروبار اور دفاتر کے ملازمن کی رواییر تنخواہوں کے علاوہ ان کے ناقابل برداشت خرچوں کے لےں وقتاً فوقتاً تعاون کرتے رہنا۔ 5… مذہبی عبادت گاہوں، تعلیفا درسگاہوں، اصلاحی خانقاہوں، تبلی ع مراکز، امرے کے ماتحت دفاعی و اقدامی (شرعی) جہاد کی کاوشوں پر تعمرہاتی و آبادیاتی اخراجات مںح حصہ ڈالتے رہنا۔ 6…رفاہی کاموں (سڑکںی، پُل، شفا خانوں، ڈیموں، کنووں، نہروں وغرکہ کی تعمر ات و دیکھ بھال کے امور) میںچندہ دیتے رہنا۔ 7…آسمانی آفات (طوفان بادوباراں، بجلومں کا گرنا وغرصہ)، زمینی بلا ت (زلزلہ، سیلاب، قحط وغرکہ)، وبائی و مہلک امراض (طاعون، تپ دق، ایڈز، ہیپاٹائٹس، شوگر، کنسرا وغر ہ) کی روک تھام، پھیلاؤ اور مابعد کے اثرات سے بچاؤ کے مادی انتظامی امور مںو اپنے اموال پشز کرتے رہنا۔ 8…دوستوں، رشتے داروں اور پڑوسوشں کے آپس کے تعلقات مںن قربت و مضبوطی کے لےی تحائف کے باہمی لنز دین کے حوالوں سے ایک معقول فنڈ کا اہتمام رکھنا۔ 9… راستوں کی صفائی ستھرائی، روشنی، جانداروں کی پا س کے لے پافؤ وغررہ کے انتظامات مںی مال کو حرکت مں رکھنا۔ 10… ناداروں، یموو ں، مساکنے، لاوارثوں کی پرورش، تعلمم، تربتک، علاج، شادی و موت وغر ہ کے متعلقہ امور کے اخراجات برداشت کرتے رہنا۔ 11… شریعت اور ملکی قوانن، کی روشنی مںم جائز تفریح و کھلوؤں کے لے تفریح گاہوں اور مدرانوں کے قاتم و بقا کے اخراجات اٹھاتے رہنا۔ وغرشہ وغراہ نوٹ: مندرجہ بالا نمبر

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
505