(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/05/23
موضوعات
رمضان المبارک کی خصوصیات
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ رمضان المبارک کی خصوصاُت اسلامی سال کے بارہ (12) مہنو ں مںد ترتب سے نواں مہنہ رمضان کہلاتا ہے، عربی مںے رمضان کے معنی جلا دینے کے آتے ہںل۔ علمائے کرام کے مطابق چونکہ رمضان کے اندر کثرت سے اﷲتعالیٰ اپنے بندوں کے نہ صرف گناہوں کو معاف فرمادیتا ہے بلکہ انہںب جہنم سے آزادی کے پروانے بھی عطا فرما دیتا ہے۔ گویاکہ گنہگار بندوں کے گناہوں کو خصوصی طور پر جلا کر ختم کردیا جاتا ہے، اس لےب اس مہنے کو رمضان کہتے ہںی۔ سال کے بارہ (12) مہوککں مںا رمضان کے مہنےپ کو فضائل کے اعتبار سے شریعت مںہ جو اہمتک دی گئی ہے وہ دوسرے مہنویں کو حاصل نہں ہے، اس مہنےد کے بعض فضائل و خصوصامت درج ذیل ہںن: جہنم کے دروازے بند کردئےم جاتے ہںب (1)جب رمضان المبارک کے مہنےی کا آغاز ہوتا ہے تو اﷲتعالیٰ جہنم کے تمام دروازوں کو پورے مہنےر کے لےص بند کروا دیتے ہں ، گویاکہ رمضان المبارک کے پورے مہنےت مںے اﷲتعالیٰ کے بندے جہنم کی آگ سے محفوظ رکھے جاتے ہںی۔ جہنّم آخرت کا ایک وہ مقام ہے جس مںک صرف اور صرف مصبتو ں، تکلفوںں کی نہایت خطرناک ترین قِسموں کو جمع کاک گاجہے جہاں راحت نام کی کوئی چزف نہںم ہے، نہ اس کی لمبائی اور چوڑائی کا کوئی اندازہ کاک جاسکتا ہے، نہ ہی اس کی گہرائی کا کوئی پتہ لگایا جاسکتا ہے۔ اس کی وسعت کا ایک اندازہ لگانے کے لےڑ قرآن مجدک نے انسانتے کو متوجہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: جب تمام جہنمی جہنم مں ڈال دیے جاچکیں گے، اُس دن اﷲتعالیٰ جہنم سے ایک سوال فرمائںن گے:{ہَلِ امْتَلاَتِ} (سورۂ ق آیت3)کاں تو بھر چکی؟ تو اس کے جواب مں جہنم کہے گی : {ہَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ}(سورۂ ق آیت 3) کاہ مزید اور بھی کچھ ہے ایک روایت مںف آتا ہے: کہ نبیﷺ کی مجلس لگی ہوئی تھی، ایک زوردار دھماکہ کی آواز سُنی گئی، آپﷺ نے صحابہ کرامؓ سے پوچھا یہ کیھ آواز تھی؟ صحابہ کرامؓ نے عرض کاگ اﷲتعالیٰ اور اس کے رسولﷺ بہتر جانتے ہںٍ۔ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا: جہنم کے منہ سے اس کی تہہ مںی گرنے کے لےض ایک پتھر چھوڑا گان تھا، آج مسلسل ستّر (70) سال لُڑھکنے کے بعد وہ جہنم کی تہہ مںم گِرا ہے یہ اس کے گرنے کی آواز تھی۔ قرآن کی آیت اور حدیث کی اس روایت سے بآسانییہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے جہنم کی وسعت کتنی زیادہ ہے۔ اس جہنم مںک وہ لوگ ہمشہا ہمشہی کے لےع ڈالے جائںے گے جو ایمان کے بغرج اس دناع سے جائںے گے اور بعض ایمان والے گنہگاروں کو جنت کے قابل بنانے کے لےی کچھ عرصے کے لے گناہوں سے پاک کرنے کے لےے جہنم مںئ بھجاو جائے گا۔ اس جہنم کو ان جہنمونں کے لےے سارا سال دہکایاجاتا رہتا ہے، رمضان المبارک کا مہنہک ایک ایسا مہنہی ہے جس مںج اس کے دروازے بند کرکے صاحب ایمانلوگوں کو اس سے محفوظ رکھا جاتا ہے۔ چنانچہ اسی ضمن مںم ایک روایتیوں بھی ہے کہ جو اس مہنےی مںز ایمان کی حالت مںظ انتقال کرجائے وہ عذاب قبر سے بھی محفوظ ہوتا ہے اور جہنم سے بھی محفوظ کردیا جاتا ہے۔ جنت کے تمام دروازے کھول دئےظ جاتے ہںس (2)جسےت ہی اس مہنےو کا آغاز ہوتا ہے جنت کے آٹھوں دروازے (چوپٹ) کھول دیے جاتے ہںک، آخرت مںک جنت اس مقام کا نام ہے جہاں ہر طرح کی نعمتوں اور راحتوں کو جمع کاے گاز ہے۔ یہ جنت اپنی وسعت کے اعتبار سے بے انتہا بڑی ہے جس کا صححآ اندازہ لگایا ہی نہںک جاسکتا۔ قرآن مقدس نے اس جنت کے حصول کی ترغبی دلاتے ہوئے انسانتس کو تزای سے اس کی طرف دوڑنے کو یہ کہتے ہوئے توجہ دلائی ہے {وَسَارِعُوْآ اِلٰی… السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ}(سورۂ آل عمران آیت 133)’’اور دوڑو اپنے رب کی مغفرت اور جنت کی طرف جس کی چوڑائی تمام آسمانوں اور زمن کے برابر ہے۔‘‘ یینہ ان ساتوں آسمانوں کو ایک دوسرے کے برابر رکھ دیا جائے اور اس کے ساتھ زمنک کی چوڑائی کو اس کے ساتھ ملا دیا جائے تو جتنا رقبہ بنے گا جنت کی چوڑائی اتنی ہے۔ اس کی لمبائی کے متعلق قرآن و حدیث خاموش ہںک۔ ایک روایت کے مطابق ایک ادنیٰ جنتی کو جو جنت دی جائے گی وہ اس دنای کے کُل رقبے سے دس (10) گنا بڑی ہوگی۔ رمضان کے مہنے مں اس جنت کو مومننی کے لےت بالکل کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ جس کا دل چاہے رمضان مںی اﷲتعالیٰ کو راضی کرلے اور جنت مںم چلا جائے۔ یہ خصوصتن سال کے بارہ (12) مہنودں مںے کسی دوسرے مہنے کو حاصل نہںے ہے۔ سرکش شاںطنک کو قدا کروا دیا جاتا ہے (3)رمضان المبارک کی ایک خصوصیتیہ بھی ہے جسےل ہی اس مہنے۔ کا آغاز ہوتا ہے اﷲتعالیٰ سرکش شاےطنق کو قدم کرا دیتے ہںق، شطاشن آگ سے بنی ہوئی ایک مخلوق ہے اور اس مخلوق کا نام جن ہے۔ اﷲتعالیٰ نے شطاےن کو انسان سے پہلے پدہا فرمایا اور اپنی پداائش سے لے کر انسان کی پدِائش تک اس نے اﷲتعالیٰ کی عبادت کا ایک ڈھونگ رچا رکھا تھا اور اسے آسمانوں پر آسمانی مخلوقات کے ساتھ رہنے کی سہولت حاصل تھی۔ جس وقت اﷲتعالیٰ نے سب سے پہلے انسان یینچ حضرت آدمؑ کے پُتلے مں روح ڈالی اُس وقت موجود تمام مخلوقات کو حکم دیا کہ حضرت آدم علہاﷲلسلام کو سجدہ کریں، سب نے سجدہ کاض لکنم شطا ن (جس کا ایک نام ابلس بھی ہے) سجدے سے انکار کربٹھا اور ہمشہل کے لے مردود قرار دیا گاُ، اُسی دن سے اُس نے انسان دشمنی کا اعلان کا اور انسان کو اﷲتعالیٰ سے دور کرنے اور دور رکھنے کے حربے آزمانا شروع کردیے اور اپنے پرنوکاروں کو بھی اس کام پر لگادیا اور آخرت میںیہ اپنے تمام پریوکاروں کے ساتھ جہنم مںن ڈال دیا جائے گا اور وہاں یہ سب ایک دوسرے پر لعنت ملامت کریں گے۔ رمضان المبارک کے مہنےک مںن ان مںا سے جتنے بھی سرکش شاھطنا ہںس اﷲتعالیٰ اُن کو قدم کروا دیتا ہے اور پورے مہنے یہ قدک مں رہتے ہںا تاکہ امت مسلمہ کے روزے داروں کے روزوں اور دیگر عبادات کو خراب نہ کرسکیںیہ قد ایک مہنےی کے لےن ہوتی ہے، یہ مہنہں خاص طور پر صرف اور صرف رمضان کا مہنہن ہوتا ہے۔ روزانہ دو(2) فرشتوں سے درج ذیل اعلانات کروائے جاتے ہں (4)رمضان المبارک کے آغاز پر اﷲتعالیٰ کی طرف سے روزانہ کی بنا۔د پر دو(2) فرشتے اس کام کے لےل مقرر کےل جاتے ہںا جو روزانہ دن کے شروع مںم دنا بھر میںیہ اعلان کرتے ہں کہ اے نیوں کے کرنے والے آگے بڑھ اور اے برائی کے کرنے والے بس کر اور رُک جا! پورا مہینہیہمعمول رہتا ہے اس حسی دناہ مں اگرچہ انسان اپنے کانوں سے ان اعلانات کو سُن نہںئ پاتا لکن ان اعلانات کے اثرات امت مسلمہ کے لوگوں پر بظاہر دیکھے جاسکتے ہںس، گاخرہ (11) مہنےا عبادت کرنے والوں کی عبادات مںب اس مہنےن مں ایک گُنا اضافہ ہوجاتا ہے، بعض گھروں میںٹیلی وژن پر پردہ ڈال دیا جاتا ہے، مرد و عورت، جوان، بوڑھے اور بچے باقاعدہ نماز کی پابندی کرتے ہںر، مساجد کی آبادی مں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔ تلاوت قرآن کا اہتمام ہوتا ہے، بہت سے نافرمان اپنی نافرمانویں سے باز آجاتے ہں۔،یہ ہے اُن اعلانات کے روحانی ثمرات او ریہ فضیلت صرف ماہ رمضان مںس حاصل ہوتی ہے اور اگر ان نو ناں کی طرف آنے والے جنہںل اﷲتعالیٰ نے یہ ماحول بناکر دیا ہے اس مہنےت مںف ان اعمال کے کرتے رہنے کے ساتھ ساتھ سالانہ بنابد پر نتر کرلں تو ییت رمضان کے صالح اور نیک آدمی مستقل نیس پر پڑسکتے ہے، مشکل یہ ہے کہ ان نئے اور نیک لوگوں کی نتا صرف اور صرف رمضان المبارک کے مہنےن تک کی ہوتی ہے۔ رمضان کا چاند دیکھ کر ناے کں اوڑھ لتےل ہںا اور عدر کے چاند کے انتظار مںت نیتی کییہ چادر آہستہ آہستہ سرکتی رہتی ہے اور عدس کا چاند نظر آتے ہی اس چادر کو لپٹف کر رمضان کے ہاتھوں مںو تھماتے ہوئے الوداع الوداع رمضان کا شور مچانا شروع کردیتے ہںظ۔ رحمتوں کی موسلادھار بارش شروع ہوجاتی ہے (5)رمضان المبارک کے مہنےد کی ایک خصوصیتیہ بھی ہے کہ جسےت ہی رمضان المبارک کا آغاز ہوتا ہے اﷲتعالیٰ کی رحمت کی بارش برسنا شروع ہوجاتی ہے جس مںی ہر آن، ہر لمحے، ہر گھڑی اضافہ ہوتا رہتا ہے، بوندا باندی کی صورت مںا شروع ہونے والی رحمت کییہ بارش موسلادھار بارش مں تبدیل ہوجاتی ہے اور اس مںن ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ایسا اضافہ ہوجاتا ہے کہ بارش کی جھڑی لگ جاتی ہے جو رکنے کا نام نہںے لی ہ۔ اس فضیلت کو ایک روایت مںم ان الفاظ کے ساتھ نقل کاف گاش ہے کہ یہ وہ مہنہی ہے جس کے شروع کا حصہ رحمت کا ہے، درماننی حصہ مغفرت کا ہے اور آخری حصہ آگ سے آزادی کا ہے۔ ایک اور روایت کے مطابق افطار کے وقت دس (10) لاکھ جہنیموں کو جہنم سے آزادی دی جاتی ہے اور آخری دن روزانہ کی کُل تعداد کے مطابق جہنمو ں کو جہنم سے آزادی کے پروانے مل جاتے ہں اعمال کی قمتن بڑھا دی جاتی ہے (6) ایک خصوصیتیہ بھی ہے کہ جب رمضان المبارک کا آغاز ہوتا ہے تو اﷲتعالیٰ کی طرف سے مؤمننع کے اعمال کی قمتو ں کو بڑھا دیا جاتا ہے، چنانچہ روایات مںت آتا ہے کہ ایک نفل عمل کی قمتل کو فرض کی قمتن کے برابر کردیا جاتا ہے اور ایک فرض کی قمتا مں ستّر (70) گُنا اضافہ کردیا جاتا ہے، گویا کہ عمل کی قمتک ستّر (70) گُنا بڑھا کر دی جاتی ہے۔ اعمال کی اس قمتا کو اصطلاح مںت نیتا کہا جاتا ہے، یہ نیاف دناا مںو بھی کام آتی ہے، لکنن آخرت میںیہ اُخروی کرنسی ہے، ایک انسان اس دنا مںم بھی جب اپنے ملک سے کسی دوسرے ملک مں جاتا ہے تو وہاں قادم کے دوران اپنی ضروریات پوری کرنے کے لےک اسے پسودں کی ضرورت ہوتی ہے اس ضرورت کو پورا کرنے والا اپنے لےہ اس ملک مںو چلنے والی کرنسی کا انتظام کرکے جاتا ہے جس کے پاس وہاں کی کرنسی نہ ہو وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لے مشکلات کا سامنا کرتا ہے، یہاں تک کہ بعض اوقات اُسے دوسروں سے بھکے مانگنی پڑجاتی ہے، جو انسان کے لےا انتہائی ذلّت کی چزک ہے اس لے عقلمند انسان اگر اسے دوسرے ملک مںر جانا پڑ جائے تو وہ اُس ملک کی کرنسی کا انتظام کرکے جاتا ہے اور جتنی مدت کا وہاں قایم ہو اس کے مطابق کرنسی کا انتظام رکھتا ہے، بالکل اسی طریقے سے انسان نے زندگی کی تکملا پر موت کے ذریعے سے آخرت کی طرف منتقل ہونا ہے جہاں سے دوبارہ اس دنان مںل نہں آنا اور وہاں ہمشہن ہمشہی کے لےی زندہ رہنا ہے، لہٰذا ایک صاحب ایمان کو بھی آخرت کی اس ہمشہو ہمشہا والی زندگی کے لےہ وہاں کی کرنیک کا انتظام اسی دناا مں کرکے جانا ہے اور آخرت کی کرنسی نیک اعمال ہی سے حاصل ہوتی ہے جو انسان اس دناش مںا کوئی نیک عمل ایمان کی حالت مںا کرتا ہے اُسے اپنے اس عمل پر اﷲتعالیٰ کی طرف سے نوو وں کی صورت مںہ اجر اور بدلہ ملتا ہے، آخرت مںل اس ایک نیمش کی قدر دس (10) نوخر ں کے برابر ہوگی اور اگر یہ نیل رمضان المبارک کے مہنےد مںل کی جائے تو اس مںو ستّر (70) گُنا اضافہ ہوجاتا ہے، مثال کے طور پر محققن) کے شمار کے مطابق قرآن مقدس کے حروف کی کُل تعداد تنہ لاکھ، تئیس ہزار، سات سو ساٹھ (3,23,760) ہے، اگر اس قرآن مجدشکو نماز کی حالت مں رمضان کے مہنے مںا کھڑے ہوکر تلاوت کا6 جائے، جساسکہ حفاظ کرام تراویح مں، اور دیگر حضرات نوافل و تہجد مںا تلاوت کی تکملی کا اہتمام رکھتے ہںڑ اس ایک اہتمام پر تلاوت قرآن کی تکمل پر ان کے نامۂ اعمال مں دوارب، چھبس کروڑ، تریسٹھ لاکھ، بس ہزار (2,26,63,20,000) نوے ں کا اضافہ ہوجاتا ہے، یہ تو قواعد کے مطابق ہے، اﷲتعالیٰ کی شان فاتضی سے اس سے زیادہ بھی ناار ں مل سکتی ہںف، اس لے کہ خود اﷲتعالیٰ کا ارشاد ہے جوکہ عام ہے (خاص رمضان سے اس کا تعلق نہں ہے) {وَاﷲُیُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآئُ}(سورۂ بقرہ آیت 261) یہ مثال تو صرف قرآن کے حوالے سے دی گئی ہے۔ رمضان کے مہنےق مںھ کےس جانے والے نیک اعمال کے اجور کو ستّر (70) سے ضرب دے کر سمجھا جاسکتا ہے۔ گویاکہ رمضان کا مہنہم مؤمننن کے لےُ نوعِ ں کا موسم بہار ہے اور ان نووعِں کو حاصل کرنے کے لے رمضان کے مہنےت مںی ماحولی اعتبار سے ایک عمومی فضاء بنی ہوئی ہوتی ہے۔ مادیت اور معصیت کے اس زمانے مںت نویھ ں کی بات شاید بعض ذہنوں مں ہلکی محسوس ہوتی ہو لکنک حقیلم قدر آخرت مںم آنکھوں کے سامنے دکھائی دے گی، چونکہ آخرت مںر ایک بندے کو بلایا جائے گا اُس کے ساتھ ایمان بھی ہوگا اور ناوتیں بھی ہوں گی، لکنت اُسے کہا جائے گا جنت کے داخلے کے لےا تراے پاس ایک نینی کم ہے اگر تو کہںا سے ایک نیگا کا انتظام کرلے تو تجھے جنت کا داخلہ مل جائے گا! وہ کہے گا ابھی لے کر آتا ہوں، اپنے تمام متعلقنہ کے پاس ایک ایک کرکے جائے گا اور پوری منت سماجت کرتے ہوئے اپنے تعلق اور احسانات کو جتلاتے ہوئے اپنا حق ثابت کرتے ہوئے ایک نیدے مانگے گا، لکنم اس کا کوئی رشتہ دار، دوست احباب، پڑوسی، جاننے والوں مںا سے کوئی بھی اُسے ایک نیگا دینے کے لےھ تا ر نہ ہوگا، آخرت کے اس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے اس تناظر مںی اس رمضان کی قدر کرلی جائے جو ہمارے اوپر ایک مرتبہ پھر اپنا سایہ لمحہ دو لمحے کے لےد نہںے، گھنٹوں دو گھنٹوں کے لے نہںا، ایک دو دن کے لےے نہںو، ایک دو ہفتوں کے لےک نہںر، پورے چار ہفتوں اور ایک ماہ کے لے پھیلا کر رکھے گا، انتہائی بدقسمت ہوگا وہ انسان جس پر نا، رں کمانے کا یہ پورا مہنہر گزر جائے اور اس کی مغفرت کا کوئی سامان نہ ہوسکے اور ایسے شخص کے لےق جبرئلج امن علہن السلام نے ہلاک ہوجانے کی بددعاء فرمائی ہے اور اس بددعاء پر نبی اکرمﷺ جی ا شفقے ذات نے آمنئ کہا ہے۔ جبرئلگ امنؑل جسےک مقدس فرشتے کی بددعاء ہی کافی تھی، نبی اکرم ﷺ کی آمنا نے اس بددعاء کو مزید سخت بنادیا ہے۔ نماز تراویح کا ایک مہنےس کے لےم اضافہ کردیا جاتا ہے (7) جسےئ ہی رمضان المبارک کا چاند نظر آتا ہے اس مہنےے مںر خصوصتھ کے ساتھ ایک اضافے کے ذریعے ایک مخصوص عبادت کا اضافہ ہوجاتا ہے جو خاص طور پر اسی مہنےن کی برکت ہے، وہ اضافہ یہ ہے کہ رمضان کی ہر رات مںپ عشاء کے فرضوں اور سنتوں کے بعد باجماعت بسے (20) رکعت کا دو دو رکعت پڑھتے ہوئے اضافہ ہوجاتا ہے۔ اصطلاح مںی اسے تراویح کی نماز کہتے ہں جو اسی مہنےی کے ساتھ خاص ہے جسے باجماعت ادا کرنے کا حکم دیا گال اور تاکدا کی گئی ہے، تراویح مردوں کی طرح عورتوں پر بھی لازم ہے اور احناف کے نزدیک عورتوں کو تنہا اکلےج اکلےک ادا کرنی چاہےا۔ ان بسا (20) رکعتوں مںو ایک خصوصیتیہ بھی ہے کہ اس مں قرآن مقدس کو پورے مہنےر مں اس طرح ترتبد سے سُنا اور پڑھا جاتا ہے کہ پورا قرآن ازاوّل تا آخر اس مہنےہ کی تراویح کی نمازوں مںن مکمل ہوجائے، یہ اجتماعی طور پر قرآن پڑھنے اور سننے کی فضیلت وہ بیو نماز کی حالت مںت صرف اسی مہنےو کا خاصّہ ہے، سال کے گانرہ مہنواں مںی ایسے انتظام کی کسی بھی مہنےی مں، اسلام کی طرف سے اجازت ہی نہںہ ہے۔ نزا رمضان مں تراویح کے بعد مرد حضرات وِتر کی تنن(3) رکعات بھی باجماعت ادا کاا کرتے ہں ۔ روزے کی عبادت عطا کی جاتی ہے (8) اس مہنےد کی ایک خاص عبادت یہ بھی ہے کہ اس کے دن کے اوقات مں پورے مہنےک مںں صبح صادق سے لے کر سورج کے ڈوبنے تک کے درماانی وقت مںت کھانے پنےا اور حقوق زوجیت کے ادا کرنے کی ہر بالغ، عاقل مرد و عورت کو ممانعت کردی جاتی ہے، اصطلاح مںر اردو مںی اسے روزہ اور عربی مںت صوم کہتے ہںے۔ یہ روزہ عبادات مںم ایک اییک عبادت ہے جس کے متعلق اﷲتعالیٰ نے اپنے محبوب نبی رحمت اللعالمنبﷺ کے ذریعے سے اپنے بندوں کو یہ محبت بھری خوش خبری دی ہے کہ روزہ مر،ے لےے ہے اور اس کا بدلہ مںر خود ہی دیتا ہوں، اس اجمال کی تفصلہ علماء کرام یہ بتلاتے ہںا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس روزے کا حکم دینے والا اس حکم کے عمل کرنے والے کے متعلق یہ اطلاع دے رہا ہے کہ روزہ اُس نے صرف اور صرف مراے لےھ ہی رکھا ہے، یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہے کہ عمل کرنے والے کی حوصلہ افزائی اس انداز مں کی جائے کہ اس کے عمل کو فوراً یہ کہہ دیا جائے کہ تونے یہ کام صرف اور صرف مرزے لےا ہی کائ ہے، دناز کا دستور تو یہ ہے کہ عمل کرنے والوں کو عمل کرنے کے بعد یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہم نے یہ عمل آپ کی خوشی کے لے کائ ہے لیکنیہاںیہ معاملہ بالکل الٹ ہے کہ وہ بے نا ز ذات جسے اپنے بندوں کیعبادات کی لمحے بھر کے لےف ذرہ برابر بھیضرورت نہں ہے، اُس نے تو ساری عبادات اور حکم اپنے بندوں کو نوازتے رہنے کے لےز ہی دیے ہںے جبکہ بندہ پورے خشوع و خضوع، توجہ و فکر کے بعد بھی قبولتے کی شرائط پر پورا نہںت اتر پاتا نہ اتر سکتا ہے، لکنی قربان جائےا اُس قبول کرنے والے کی شان بے نا زی پر کہ وہ ازخود یہ کہہ رہا ہے کہ اس نے روزہ مررے لےر رکھا ہے، اس کے بعد انسان جو کچھ بھی عمل کرتا ہے اﷲ رب العزت نے اُن کے بدلوں کے معاضر فرشتوں کو بتلا کر انہں مقرر کردیا ہے کہ وہ بندوں کے اعمال کے اجر نامۂ اعمال مں لکھتے رہںب، ان تمام اعمال مںی روزے کو یہ فضیلت اور خصوصتم حاصل ہے کہ فرشتوں کو اس کے بدلے کے معارر کو بتلایا ہی نہںب گاج ہے اور وہ روزے کے اجر لکھنے سے قاصر ہںر، اﷲتعالیٰ نے ان اجور کو بھی اپنی ذات کے ساتھ مختص کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ چونکہ اس نے روزہ مر ے لے ہی رکھا ہے لہٰذا اے فرشتو! اس کا اجر تم نہںن دے سکتے، مںت خزانوں کا مالک خود ہی ان کی سوچ سے بڑھ کر انہں عطا کرتا رہوں گا۔ علمائے کرام نے ایک اور خوش کُن، دل کش، پرلطف بات اسی روایت کے تناظر مںو روزہ رکھنے والوں کو ہمت دلاتے ہوئے ارشاد فرمائی ہے کہ اس روایت کے الفاظ اگر اس طرح پڑھے جائںھ کہ {الصوم لی وانا اجزیٰ بہ} کہ روزہ مراے لے ہے اور مںم روزے کے بدلے مںہ اپنے آپ کو روزہ رکھنے والے کو دے دیتا ہوں۔ یہ وہ عمل ہے کہ جس کے ذریعے سے روزے دار کو اﷲتعالیٰ کی ذات مل جایا کرتی ہے۔ مختلف مخلوقات روزہ دار کے لے مغفرت کی دعائںا کرتی ہں (9) رمضان المبارک کی ایک خصوصیتیہ بھی ہے کہ اس مہنے کے روزہ داروں کے لے ایک خاص اہتمام یہ بھی کردیا جاتا ہے کہ سمندر کی مچھلابں، بلوں کی چو نٹیاں، فضاؤں کے پرندے، جنگل کے جانور یینہ انسان سے ہٹ کر جتنے بھی جاندار جہاں جہاں، جس جس پوزیشنوں مںک ہںو اپنی اُن اُن پوزیشنوں مںن رہتے ہوئے اس روزہ دار کی روزہ رکھنے کی بنا د پر اس کے لےی دعائے مغفرت کرتی رہتی ہںو۔ روزہ دار سے صبر کا مظاہرہ کرایا جاتا ہے (10) رمضان المبارک مںں اﷲتعالیٰ کا ایک خاص کرم یہ بھی ہوتا ہے کہ روزہ دار اپنے روزہ کی تکالفا کے باوجود کھانے پنےا سے دور رہتے ہوئے اپنے روزمرّہ کے مشاغل مںہ مصروف رہتا ہے جس سے اُس کے اندر انسان ہونے کے ناتے عدم برداشت کا مادّہ اور کتر زوروں پر ہوجاتی ہے، لیکنیہ روزہ دار اس کتاش مںن بھی اپنے آپ کو کنٹرول کرتا ہے، اصطلاح مں اسے صبر کہا جاتا ہے، اﷲتعالیٰ نے اس صبر کو اس مہنے کے ساتھ خاص کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا کہ یہ مہنہ صبر کا ہے اور صبر وہ ایک عظم نعمت اور سعادت ہے جس کے متعلق خود احکم الحاکمن نے اپنے محبوب ﷺ کے ذریعے سے یہ کہلوایا کہ صبر کا بدلہ جنت ہے۔ مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے (11) رمضان المبارک کی ایک عظمے خصوصتے خود بندوں کی چاہت کے مطابق بھی ہے کہ اس مہنےت مںا روزہ دار (مومن) کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے، گاورہ(11) مہنو ں کے مقابلے مںں اس ایک مہنے مں روزہ دار کو اس کائنات کے نظام چلانے والے کی طرف سے بلااستحقاق ایک احسان یہ نصبہ ہوتا ہے کہ سال کے گاکرہ(11) مہنوکں مںا اُس کی طرف سے جو رزق دیا جاتا ہے اُس مںف کئی گنا اضافے ہوتے رہتے ہںر، چنانچہ عام انسانوں کا یہ تجربہ اور مشاہدہ ہے کہ غریب سے لے کر امری تک تمام مسلمان روزہ داروں کو وہ وہ نعمتںا بہ یک وقت ایک ساتھ تمام کو نصبا ہوتیہیں جو سال کے گا رہ(11) مہنومں مںہ خود لوگوں کی طرف سے اپنے لےو جمع بھی نہںر کی جاسکتںم، قدرتی طور پر یہ تمام نعمتوں کا مجموعہ سحر و افطار کے اوقات مںہ ہر غریب و امرو کے دسترخوان پر نظر آتا ہے جو پورا مہنہا مسلسل تواتر کے ساتھ جاری و ساری رہتا ہے۔ افطار وسحر کے اوقات مںن دعائںت ضرور قبول ہوتی ہںص (12) یوں تو انسان کو اس دنا مںب زندگی کے تمام شعبوں مںط متعدد نعمتوں کی ضرورت ہوتی ہے اور انسان اس کے لےر محنت اور کوشش بھی کرتا ہے، لکن اس محنت اور کوشش کے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لےک وہ اﷲتعالیٰ کے احسانات کا محتاج ہے، اس محتاجگی کو دور کرنے کے لےو اﷲتعالیٰ نے انسان کو ایک ایسا ہتھایر عطا فرمایا ہے جس کے استعمال کے بعد اُن نتائج کا حصول آسان ہی نہںر بلکہ ییان بن جاتا ہے، اس ہتھا ر کا عمومی نام ہر خطّے کے مسلمانوں کے درمانن دعا ہے، بندہ اﷲتعالیٰ سے دعا کے نام پر اپنی اپنی محنتوں کے بارآور ہونے کو مانگتا ہے اور وہ خزانوں کا مالک اپنے فضل سے اُن کی مانگوں کی لاج رکھتا ہے۔ اس دعا کے متعلق رمضان المبارک کے حوالہ سے اس خصوصتو کو بتلایا گاو ہے کہ یوں تو دعائںی اﷲتعالیٰ ہی قبول فرماتے ہںد، لکنو روزہ دار کی افطار اور سحری کے وقت کی دعائںو رَد نہںز ہوتںہ۔ شبِ قدر عطا فرمائی جاتی ہے (13) رمضان المبارک مںج اﷲتعالیٰ کا ایک خاص کرم یہ بھی ہوتا ہے کہ اُس نے اس مہنے کو خاص کاں ہے ایک اییز رات کے ساتھ جسے اُس نے اپنی زبان مںی لیلۃ القدر اور امت نے اُسے اپنی زبان مںد شبِ قدر کہا ہے۔ یوں تو یہ دو(2) لفظی نام ہے، لکنر اس کی وسعتوں کا اندازہ کان ہی نہں جاسکتا، صرف اس اندازے کے قریب قریب پہنچا جاسکتا ہے، رات کا لفظ سنتے ہی ذہن مں اس کی مدت یہ آتی ہے کہ یہ کم وبشں بارہ(12) گھنٹوں کی رات ہوتی ہے، یوں تو اﷲتعالیٰ کو قدرت حاصل ہے کہ وہ اس رات کی مدت کو اییُ طوالت عطا فرمادے کہ کبھی بھول کر بھی دناک کو روشنی کا منہ دیکھنے کو نہ ملے، لیکنیہ اُس کا نظام ہے کہ جہاں وہ رات کی اندھیری لاتا ہے وہاں اُس مں سے دن کے اُجالے کو بھی نکالتا ہے، اس قدرت کے باوجود وہ روحانی طور پر اس لیلۃ القدر کو ایی طوالت عطا فرماتا ہے کہ خود اُس نے یہ کہا کہ یہ ہزار(1000) منود ں سے زیادہ بہتر رات ہے اور ہزار(1000) مہنےت تراسی برس(83.4) اور چار مہنویں پر محطک ہوا کرتے ہں0، اس قدر خرووبرکت کی طوالت کسی اور رات کو نصب0 ہوہی نہں سکی ہے اور اییع خر وبرکت کی رات امت مسلمہ سے پہلے کسی امت کو بھی نہںق عطا کی گئی ہے، یہ امت مسلمہ کا خصوصتج کے ساتھ انفرادی خاصہ ہے اور امت مسلمہ کو بھییہ رات ییت ہونے کے باوجود متعنب طور پر نہںح بتلا ئی گئی ہے اور اسے تلاش کرنے کا حکم دیا گاھ ہے، اس تلاش کرنے کا زمانہ متعنب طور پر رمضان المبارک کا مہنہی بتلایا گاں ہے، اس مںی بھی اس مہنےد کے آخری عشرہ مںس بھی طاق راتوں(21,23,25,27,29) کیتاریخوں مںہ کہا گال ہے۔ یوں پورے مہنےت کی ان طاق راتوں مںت سے شب قدر تو ایک ہی رات ہوتی ہے لکنم قربان جائےا! اﷲ تعالیٰ کے اپنے بندوں کو نوازنے کی حکمت پر کہ اس ایک رات کی تلاش مںآ دوسری کئی راتںہ عبادات کے حوالے سے مل جایا کرتی ہںا،یوںیہ خصوصتی امت مسلمہ کو بھی صرف اور صرف رمضان المبارک کے مہنےے مںت ہی نصبو ہوسکتی ہے۔ آخری عشرے مںد اعتکاف کی عبادت نصبر ہوتی ہے (14) رمضان المبارک کے مہنےع کی ایک خصوصیتیہ بھی ہے کہ اس کے آخری عشرے مں اﷲتعالیٰ نے اپنے عاشقین کو اپنے گھر مںر بُلا کر پورا عشرہ ٹھہرنے کی اجازت دیتے ہوئے ترغب، دی ہے، یہ وہ عمل ہے جو رمضان المبارک کے ساتھ خاص ہے اور اصطلاح مںا اسے ’’اعتکاف‘‘ کہا جاتا ہے، اس اعتکاف کے دوران اعتکاف مںی بٹھنے والا معتکف اپنی دنوہی تمام مصروفتووں کو ترک کر کے اپنی دنا سے اپنے آپ کو بالکل الگ تھلگ کرکے اﷲتعالیٰ کے گھر مںن آکر پَڑ جاتا ہے اور صرف کھانے پنے اور آرام کی ضرورتوں تک ہی کم سے کم وقت کے لے اپنے آپ کو محدود کرلتاک ہے اور بقہ سارا وقت روزہ کی حالت مںت، دن کے اوقات مںر فرض نمازوں کے علاوہ دیگر عبادات مںپ اپنا وقت گزارتا ہے اور رات کے اوقات مں ان عبادات مں عشاء کی نماز کے ساتھ تراویح، نوافل اور تہجد کا اضافہ کرلتا ہے، ان مصروفارت مں سے تھوڑا سا وقت دعا کے عنوان سے اﷲتعالیٰ سے براہِ راست تعلق قائم کرتا رہتا ہے، اس دس(10) روزہ عبادت کے نتجےن مں ایک تو اسے اﷲتعالیٰ کا قرب تو حاصل ہوتا ہی ہے لیلۃ القدر بھی مل جایا کرتی ہے، دوسرے اﷲتعالیٰ کے گھر مںت پڑے رہنے اور ان عبادات مںع مشغول رہنے کی وجہ سے یہ بہت سارے گناہوں سے محفوظ بھی رہتا ہے، تسر ے بہت سارے نیتا کے کام ایسے ہںن جن کے کرنے کے لے انسان کو مسجد سے باہر نکلنا پڑتا ہے، مسجد مں رہنے کی مجبوری کی وجہ سے اگرچہ وہ ان نووقتں اور بھلائو ں کے کاموں تک نہںک پہنچ پاتا لکنم اعتکاف کی عبادت کی بناجد پر بغرے کےا اُن تمام عبادتوں کا ثواب اعتکاف مں بٹھے ہوئے بھی اُسے ملتا رہتا ہے، یہ اعتکاف کی دس(10) روزہ عبادت کی خصوصتہ صرف رمضان المبارک ہی کے مہنے کا خاصہ ہے۔ {اہم اعلان} بحمداﷲتعالیٰ امسال بھی جامع مسجد محمدی جامعہ بنوریہ عالمہ سائٹ کراچی مں، اعتکاف کا خاص اہتمام کاہ گاو ہے۔ جامعہ کے مہتمم شخد الحدیث مولانا مفتی محمد نعما صاحب مدظلہ کی معت و امارت مںا اعتکاف کا خصوصی اہتمام کا گاا ہے، جس مںر کراچی کے اکثر طبقات کے ایک معتدبہ افراد اس سعادت مںو شریک ہوں گے، جنہں موسم کے اعتبار سے اپنے اپنے بستر ہمراہ لانے ہوں گے۔ سحری اور افطاری کا انتظام حضرت والا کی جیب خاص سے ہوگا۔ معتکفین کے آرام اور انفرادی عبادت کا خاال رکھتے ہوئے مختلف اوقات مںے اجتماعی و تربیے پروگرام بھی جاری رہںک گے۔ خواہشمند افراد یکم رمضان سے پہلے اپنی رجسٹریشن کرا کر نمبر حاصل کرلںو۔ لیلۃ الجائزہ کے عنوان سے بندوں کو اﷲ کی عبادت کی طرف مزید ترغبں (15) رمضان المبارک کی ایک خاصیتیہ ہے کہ جب اس مہنےی کی تکملو آخری دن ہوجاتی ہے تو اُس کے بعد فوری طور پر آنے والی رات یوں تو یکم شوال کہلاتی ہے، لکند مذہبی اصطلاح میںیہ عدتالفطر کی رات عام طور پر کہی جاتی ہے، اسی رات کو مذہب اسلام کی تعلما5ت کے مطابق آسمانوں پر لیلۃ الجائزہ یینو انعام والی رات کہا جاتا ہے اور خصوصتا کے ساتھ اس رات کی عبادت کی ترغب دی جاتی ہے، اس ترغب میںیہ بات بھی شامل ہے کہ اس رات کی عبادت کرنے والے کا دل اُس دن بھی ہوش مں رہے گا جس دن بقہن دوسرے لوگوں کے دلوں پر بہوکشی طاری ہوگی،یہ خصوصت کے ساتھ رمضان المبارک کی تکمل کے موقع پر امت مسلمہ پر اﷲتعالیٰ کا خصوصی انعام ہے۔ ایک مالی عبادت صدقۃ الفطر کے نام سے ادا کرائی جاتی ہے (16) اس مہنےو کی ایک خاصیتیہ بھی ہے کہ جہاں امت مسلمہ کو اس پورے مہنےک کے ہر،ہر دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیا گا، ہے وہاں اس مہنےد کی تکمل پر ایک مالی عبادت ادا کرنے کا خصوصتص کے ساتھ مخصوص مال داروں کو حکم دیا گان ہے کہ وہ اپنی اور اپنے زیرکفالت گھر کے تمام افراد کی طرف سے فی کس ایک ایک فطرہ یا جنس کی صورت مںا جوکہ شریعت کی طرف سے مخصوص مقدار کے اعتبار سے بھی اور نوعتا کے اعتبار سے بھی مخصوص ہیںیا اُن کی رقم ناداروں، غریبوں (مستحقین زکوٰۃ) کو تقسمر کی جائے، اس کو شریعت کی اصطلاح مںت صدقۃ الفطر کہا جاتا ہے، اس کی ادائیوں کا وقت رمضان المبارک کی تکملۃ پر یکم شوال کی رات کے ختم ہوتے ہی صبح صادق کا وقت شروع ہونے پر ہوتا ہے، اس لحاظ سے یہ مالی عبادت بھی رمضان المبارک کا خاصہ کہی جائے گی۔ نوٹ: مزید تفصیلات اور معلومات جاننے کے لےو ادارے سے شائع شدہ ’’رمضان المبارک کے فضائل و برکات‘‘ و ’’ماہِ رمضان موسمِ بہار‘‘ و ’’رمضان المبارک کے فضائل و مسائل‘‘ نامی رسالوں کا مطالعہ کاک جائے۔ فقہی مسائل (جن چزروں سے روزہ نہں ٹوٹتا اور مکروہ بھی نہںی ہوتا) ۱ آنکھوں مںی دوا یا سرمہ لگانا (اگرچہ ذائقہ حلق مںں محسوس ہو یا تھوک مںا رنگ دکھائی دے۔)(فتاویٰ شامی جلد 2 صفحہ 395) ۲ سر، داڑھی، مونچھوں اور بدن کے کسی دوسرے حصے پر تلن لگانا۔(فتاویٰ شامی جلد 2 صفحہ 395) ۳ کان مںڑ پانی ڈالنا یا بے اختارر چلے جانا(البتہ روزے کی حالت مںے کان مںح دوائی ڈالنے سے پرہزس کرنا چاہےے اس لے9 کہ اس سے روزہ ٹوٹ جانے کا خدشہ ہے۔)(فتاویٰ شامی جلد 2 صفحہ 396) ۴ حلق مں بلااختاچر گردوغبار یا مکھی، مچھر یا کسی قسم کے دھوئںی کا چلے جانا (لکن اپنے ارادے سے حلق مںک دھواں پہنچایا تو روزہ ٹوٹ جائے گا مثلاً بطور خود جلتی سگریٹ، لوبان، اگربتی وغرلہ کے قریب آکر ان کا دھواں لا تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔)(فتاویٰ شامی جلد 2 صفحہ 395) ۵ عطر، پھولوں، اگر بتییا لوبان وغرگہ کی صرف خوشبو سونگھنا (خواہ خوشبو کتنی ہی تزد ہو)۔(فتاویٰ شامی جلد 2 صفحہ 395) ۶ بھول کر کھاپی لناخیا بھول کر حق زوجیت ادا کرلناگ۔(البتہ یاد آجانے کی صورت مںک کھانا پنا( اور حقوق زوجیت کے عمل سے فوری طور پر علحدخگی اختابر کرلنا، ضروری ہے ورنہ یاد آنے کے بعد اس عمل مں مشغول رہنے سے روزہ ٹوٹ جائے گا)۔(فتاویٰ شامی جلد 2 صفحہ 394) ۷ روزے کی حالت مںخ سوتے ہوئے بدخوابی (احتلام) کی وجہ سے غسل واجب ہوجانا۔(فتاویٰ شامی جلد 2 صفحہ 396) ۸ مسواک کرنا۔(فتاویٰ عالمگرتی جلد 1 صفحہ 199) ۹ کُلّی کے بعد منہ کی تَری نگلنا۔(فتاویٰ شامی جلد 2 صفحہ 396) ۱۰ نکسری پھوٹنا (اگرچہ اس کا اثر تھوک مںز بھی ظاہر ہو لکنت اس کو پٹئ مںع نہ لے جائے۔)(البحرالرائق جلد 2 صفحہ 273) ۱۱ منہ مں۔ موجود تھوک کا حلق سے اندر جانا (البتہ جان بوجھ کر منہ مںی تھوک کا جمع کرتے رہنا ناپسندیدہ ہے۔)(فتاویٰ عالمگرلی جلد 1 صفحہ 199) ۱۲ ناک کے اندر آنے والی ریزش (ناک سے پانی بہنے کا مرض، نزلہ، زکام) خودبخود حلق مں6 اُتر جائے یا اسے روزے دار خود اُتار لے۔(فتاویٰ شامی جلد 2 صفحہ 400) ۱۳ قے (اُلٹی) ڈکار یا کھانسی کے ذریعے سے اگر پانی، کھانا، بلغم وغرںہ منہ کے ذریعے سے خودبخود باہر نکل جائے تو روزہ نہیںٹوٹے گا۔(البتہ منہ مںی آنے کے بعد جان بوجھ کر اسے حلق سے اُتار لای جائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا(جسائکہ آگے آرہا ہے۔)(فتاویٰ شامی جلد 2 صفحہ 414) ۱۴ کسی بھی مقصد کے لے9 جسم سے خون نکالنا یا کسی چوٹ وغرےہ کے سبب جسم کے کسی بھی حصے سے خون کا نکلنا۔(بدائع الصنائع جلد 2 صفحہ 92) ۱۵ اس احتاٹط کے ساتھ کہ پانی حلق سے نچے نہ اُتر جائے، کلی کرنا اور اس احتا ط کے ساتھ کہ پانی دماغ پر نہ چڑھ جائے، ناک مںع پانی ڈالنا۔(فتاویٰ عالمگرلی جلد1 صفحہ 199) ۱۶ غسل کرنا، کپڑا بھگو کر سر یا بدن پر لپٹنا یا ڈالنا، جسم کے کسی حصہ پر برف رکھنا۔ ۱۷ روزے دار ماں کا اپنے دودھ کو اپنی چھاتورں کے ذریعے سے اپنے یا رضاعی بچے کو دودھ پلانا۔(البحرالرائق جلد 2 صفحہ 278) ۱۸ سحری مں پان کھانے کے بعد یا دوائی استعمال کرچکنے کے بعد منہ صاف کرلاہ گا ہو لکنا اس کے باوجود صرف پان کی سُرخییا دوائی کا ذائقہ منہ مںد موجود ہو تو اس سے روزے مںن فرق نہں آتا۔(فتاویٰ شامی جلد 2 صفحہ 396) ۱۹ روزے دار کو روزے کی حالت مںہ اپنے جسم مںو خون چڑھانے کی ضرورت ہو تو اس عمل کے کے جانے سے روزے میںفرق نہںے آتا۔(فتاویٰ بیّنات جلد 3 صفحہ 79) ۲۰ اییا آکسجنو دینا جو خالص ہو اور اس مں ادویات کے اجزاء شامل نہ ہوں (ادویات کے اجزاء شامل ہوں تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔)(فتاویٰ محمودیہ جلد10 صفحہ 154) ۲۱ روزے کی حالت مںھ کسی قسم کا انجکشن چاہے نَس کا ہو یا گوشت کا یا ٹکہء لگوانا۔(فتاویٰ عثمانی جلد 2 صفحہ 182) ۲۲ روزے کی حالت مںھ اگر گلوکوز کی ڈرپ چڑھانے یا طاقت کا انجکشن لگوانے کی ضرورت پش آجائے تو اس عمل سے روزے مں۔ فرق نہںت آتا، جبکہ بلاضرورت اس عمل کو ناپسندیدہ کہا جاتا ہے۔(احسن الفتاویٰ جلد 4 صفحہ 432) ۲۳ روزے دار عورت کو اگر شوہر کی طرف سے کسی پریشانی کے پشے آنے کا خدشہ ہو تو (روزے کی حالت مںہ) وہ سالن پکاتے ہوئے نمک اور مرچ چکھ سکتی ہے (البتہ اسے چکھنے کے بعد تھوک باہر نکال دینا چاہےک نزہ اگر ایسا چھوٹا بچہ جس کو کھلانے کے لے کوئی نرم غذا موجود نہ ہو تو سخت غذا کو چبا کر اس بچے کے لےا اسے نرم بنانے کے حوالے سے کوئی حرج نہں ہوتا، روزے دار عورت ایائ اس چھوٹے بچے کی خاطر کرسکتی ہے، البتہ چبائی ہوئی غذا منہ سے نکال لنےں کے بعد تھوک بھی دینا چاہےا اور کلی بھی کرلیاس چاہے ۔)(فتاویٰ شامی جلد 2 صفحہ 416) ۲۴ اگر روزے کی حالت میںد انتوں سے خون نکلنے لگے اور اس کی مقدار تھوک سے کم ہو اور وہ خون ملا تھوک حلق سے اُتر جائے اور خون کا ذائقہ بھی محسوس نہ ہو تو اس سے روزہ نہں ٹوٹے گا (البتہ خون کی مقدار تھوک سے زائد ہو یا خون کا ذائقہ حلق مںئ محسوس ہو تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔)(فتاویٰ شامی جلد 2 صفحہ 396) ۲۵ کسی زہرییو چز کا ڈسنا۔(فتاویٰ عالمگرتی جلد 1 صفحہ 203) ۲۶ مرگی وغر ہ کا دورہ پڑنا۔(فتاویٰ عالمگربی جلد 1 صفحہ 208) ۲۷ روزے کی حالت مںٹ اگر دانت نکلوانے یا مصنوعی دانت لگوانے کی اشد ضرورت پش2 آجائے تو اس حالت مںہ علاج کرایا جاسکتا ہے بشرطکہی دانتوں مںہ لگنے والی دوائی حلق سے نچےگ نہ اُترے۔(احسن الفتاویٰ جلد 4 صفحہ 436) ۲۸ سردی کے ایام مں ہاتھ، پرییا ہونٹ وغرچہ پھٹ رہے ہوں تو روزے کی حالت مں جسم کے ہر برکونی حصے پر ویسلینیا کوئی مرہم وغرکہ لگانے سے روزے مں فرق نہںئ آتا (البتہ ہونٹوں پر بلاضرورت لگانے کو اس کے لےا ناپسند کہا جاتا ہے کہ اس کا منہ مں داخل ہونے اور تھوک کے ذریعے اس کے اجزاء کا حلق مںص اُترجانے کا خدشہ ہوتا ہے۔)(احسن الفتاویٰ جلد 4 صفحہ434) ’’روزے کے مکروہات‘‘ ۱ روزے کی حالت مںو دانتوں کی صفائی کے لےی مسواک کے علاوہ کسی بھی چزے کے استعمال کو مکروہ اور ناپسند بتلایا گاا ہے، مثلاً ٹوتھ پسٹک، منجن، مِسّی(ایک قسم کا منجن جسے عورتںر بطور سنگھار استعمال کرتی ہںو)، دنداسہ اور کوئلہ وغرہہ (واضح رہے کہ مذکورہ بالا اشاہءمں سے کسی شے کو استعمال کرتے ہوئے اس کا کوئی ذرّہ حلق سے نچے اُتر گاف تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔)(فتاویٰ شامی جلد 2 صفحہ 416) ۲ روزے کی حالت مںو کوئی بھی چزے بغرٹ کسی حاجت کے منہ مںو رکھ کر چباتے رہنا یا چکھ کر تھوک دینے کو شریعت نے مکروہ کہتے ہوئے منع فرمایا ہے اس سے روزہ فاسد تو نہںھ ہوتا لکنز بلاضرورت ایسا کوئی کام نہں کرنا چاہےہ، اگرچہ ضرورت کے موقع پر بو ییا ماں کو ایسا کرنے کی اجازت دی ہے جساتکہ پچھے ذکرہوچکا ہے۔(فتاویٰ شامی جلد 2 صفحہ 416) ۳ بعض کاموں کو شریعت نے ناجائز اور گناہ قرار دیتے ہوئے اس کو اختازر کرنے سے ہرحال مں منع فرمایا ہے لکنا ان کا روزے کی حالت مںت کاا جانا اگرچہ روزے کو نقصان نہں پہنچاتا مگر شریعت نے اسے اس حالت مںر بھی سخت ناپسند کہتے ہوئے اس سے روکا ہے، مثلاً غبتا، چغلی، جھوٹ، بہتان تراشی، بے جا غصّہ، فحش باتںم کرنا، کسی کو تکلفم پہنچانا، باہم ایک دوسرے کے ساتھ لڑنا جھگڑنا، ایک دوسرے سے گالم گلوچ کرنا یا ویسے ہی کسی جاندار یا بے جان کو گالی وغر،ہ دینا ان گناہوں کو زبان یا ہاتھ پاؤں کے گناہ کہا جاتا ہے۔(فتاویٰ شامی جلد2 صفحہ 412) ۴ شریعت نے آنکھوں سے کےے جانے والے گناہ کو بھی ناجائز قرار دیتے ہوئے ہرحال مںک اس سے روکا ہے اور روزے کی حالت مں بھی ان کا کای جانا سخت ناپسندیدہ قرار دیتے ہوئے ان سے روکا ہے، مثلاً فلم، ڈرامہ، ٹیر ویژن جس مںھ نامحرموں کو دیکھنا بالکل ظاہر ہے ییہے طور پر ایسے تمام کام روزوں کو ثواب کے اعتبار سے کم کردیتے ہں اور نامۂ اعمال مں گناہ لکھے جانے کا سبب بھی بنتے ہںا۔(آپ کے مسائل اور ان کا حل جلد 7 صفحہ 386) ۵ دانتوں کے درماان اَٹکا ہوا گوشت کا ریشہیا کوئی چز جو چنے کی مقدار سے چھوٹی تھی اسے (منہ سے باہر نکالے بغر ) نگل لناے۔(فتاویٰ عالمگر ی جلد1 صفحہ 202) ’’جن چزہوں سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے‘‘ ۱ سحری کا وقت ختم ہوچکا تھا اور اس کے ختم ہونے کے بعد کسی نے کچھ کھا پی لاے تو اس سے اس دن کا روزہ شروع ہی نہںع ہوتا (ہمارے زمانے مں سحری کے ختم ہونے کے اوقات کا نقشہ بھی شائع کاع جاتا ہے، ریڈیو وغر ہ کے ذریعے مساجد سے سائرن بجاکر اس کے خاتمے کا اعلان کام جاتا ہے، اس اعلان کے وقت سے تقریباً دو، تنئ منٹ پہلے ہی سحری کی تکملر کرتے ہوئے کھانے پنےک سے رُک جانا چاہےا اس لےع کہ ان اعلانات مںن بھی غلطی ہونے کا امکان ہے، کہںی ایسا نہ ہوکہ ان کی غلطی کی وجہ سے روزے داروں کا روزہ نہ ہو لہٰذا ان کے ذمہ داروں کو بھی اس حوالے سے سخت احتاےط کی ضرورت ہے۔)(فتاویٰ عالمگرمی جلد 1 صفحہ 194) ۲ روزے کی حالت مں کسی بھی چزخ کا چاہے وہ غذا یا دوا ہو یا مفدہ اور مضر ہو جسم کے کسی بھی ایی جگہ سے جہاں سے براہ راست وہ چزی دماغ یا معدے تک پہنچ جاتی ہو ان جگہوں سے ایی کسی چزہ کو استعمال کرنے سے روزہ ٹوٹ جائے گا (مثلاً منہ، ناک، کان اور پیشابا پاخانے کا مقام سَر یا پٹں پر زخم، جسم میںیہ وہ راستے ہںا جن کے ذریعے سے استعمال کی ہوئی چز معدے یا دماغ تک براہِ راست پہنچ سکتی ہے روزے کی حالت مں اییں کسی بھی جگہ پر کوئی ایی دوا یا غذا استعمال کی جائے روزہ ٹوٹ جائے۔)(بدائع الصنائع جلد 2 صفحہ 93) ۳ روزے دار کے ذہن میںیہ بات واضح طور پر ہوکہ مںت روزے سے ہوں (یین اسے اپنا روزہ بھولا ہوا نہ ہو) اییئ صورت مںے وضو کرتے ہوئے یا نہاتے ہوئے یا ان دونوں کاموں کے علاوہ بھی ناک یا منہ مں پانی ڈالتے ہوئے غرذارادی طور پر خودبخود پانی حلق سے اندر اتر جائے تو اییا صورت مںگ روزہ ٹوٹ جائے گا۔(فتاویٰ عالمگرہی جلد 1 صفحہ 202) ۴ دانتوں مںک لگا ہوا گوشت کا ریشہیا کوئی اور چزا جو چنے کی مقدار سے بڑی تھی اسے (منہ سے باہر نکالے بغرا) نگل لناخ (اگر منہ سے باہر نکال لا پھر اس کو کھالات تو خواہ وہ چنے کی مقدار سے چھوٹی ہو روزہ فاسد ہوجائے گا۔)(فتاویٰ شامی جلد2 صفحہ 396) ۵ روزے دار کے منہ سے روزے کی حالت مں منہ کے اندر خون یا پپز رِس رہا ہو اور اس کی مقدار منہ مں) موجود لعاب کے برابر یا اس سے زیادہ ہو اور وہ خون یا پپ حلق سے اندر اُتر جائے اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔(فتاویٰ عالمگرلی جلد 1 صفحہ 203) ۶ کسی طرح سے خود لذتی کرکے غسل واجب کرلنا ۔(البحرالرائق جلد2 صفحہ 272) ۷ اگر روزے کی حالت مں بدخوابی (احتلام) ہوجائے اور غسل واجب ہوجائے تو روزہ نہںو ٹوٹتا لکن( اگرکوئی روزے دار یہ سمجھتے ہوئے کہ بدخوابی (احتلام) کی وجہ سے روزہ ٹوٹ گاج ہے اور وہ کھا پی لے تو اس کھانے پنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔(فتاویٰ شامی جلد2 صفحہ 401) ۸ کسی عذر کی وجہ سے روزے کی تکملی کے وقت سے پہلے اگر کچھ کھاپی لاک جائے تو اس دن کا وہ روزہ ٹوٹ جاتا ہے یینر اُس روزے کو دوبارہ رکھنا ہوگا۔(فتاویٰ عالمگرمی جلد1 صفحہ 207) ۹ اگر کوئی روزے دار ابھی افطار کا وقت نہںی ہوا اور یہ سمجھ کر کہ افطار کا وقت ہوگا ہے یینہ سورج غروب ہوگات ہے اور کھانا پناو شروع کردے تو وہ روزہ نامکمل ہونے کی وجہ سے ٹوٹ جائے گا اور اسے بھی دوبارہ رکھنا ہوگا۔(فتاویٰ شامی جلد2 صفحہ 405) ۱۰ روزے دار نے روزے کی حالت مںہ اپنے اختاار سے (قصداً) منہ بھر کر قے کی تو روزہ فاسد ہوجائے گا۔(فتاویٰ شامی جلد2 صفحہ 414) ۱۱ روزے دار نے روزے کی حالت مںہ قصداً (چنے کی مقدار یا اُس سے زیادہ) قے لوٹا لی تو روزہ فاسد ہوجائے گا۔(فتاویٰ شامی جلد2 صفحہ 414) ۱۲ روزے دار نے روزے کی حالت مںہ لوبان یا عود کا دھواں قصداً ناک یا حلق مںک پہنچایا تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔(فتاویٰ شامی جلد2 صفحہ 395) ۱۳ روزے دار کی آنکھوں سے روزے کی حالت مںا آنسو نکل کر منہ مںص داخل ہوگئے یا پیشانی اور چہرے پر آنے والے پسنےا کے قطرے روزے کی حالت مںھ منہ مںن داخل ہوگئے اور روزے دار نے انہںد حلق سے اُتار لای تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔(فتاویٰ شامی جلد 2 صفحہ 404) ۱۴ اگر کسی روزے دار کو کسی ظالم یا حاکم نے اپنے جبر کے ذریعے سے روزہ توڑنے پر مجبور کردیا اور روزے دار نے وہ روزہ توڑ دیا تو وہ روزہ ٹوٹ جائے گا اور اس روزے کو دوبارہ رکھنا ہوگا۔(فتاویٰ عالمگرےی جلد 1 صفحہ 202) ۱۵ روزے دار مرد ہو یا عورت اس نے علاج یا کسی بھی غرض سے خود یا اس کے معالج نے تل0 پانییا کسی اور دوا سے تَر ہوئی انگلی شرم گاہ مںر داخل کی تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔(فتاویٰ شامی جلد2 صفحہ 397) ۱۶ روزہ کی حالت مں اگر کسی خاتون کو حیضیا نفاس کا خون جاری ہوجائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا اس روزہ کی بعد مںی قضا کرنا واجب ہے اگرچہ سورج غروب ہونے سے تھوڑی دیر پہلے ہییہ حالت پشا آئی ہو خواہ فرض روزہ ہو یا نفل۔(البحرالرائق جلد 1 صفحہ 199) ۱۷ روزے کی حالت مںڑ مقعد کے اندر بواسرا کے مسّوں کے زخم پر مرہم یا تلم لگانا منع ہے۔ اگر دوا یا تلب اس حد تک پہنچ جائے جہاں سے معدہ اس کو جذب کرلتام ہے یا وہ خود معدے مں پہنچ جاتا ہے تو روزہ فاسد ہوجائے گا اور اگر اس حد تک نہ پہنچے تو پہنچنے کا احتمال ہونے کی وجہ سے مکروہ ہے لہٰذا احتااط ضروری ہے۔(فتاویٰ عالمگرری جلد 1 صفحہ 204) ۱۸ روزے دار کا روزے کی حالت مں اگر پاخانے کے وقت بواسرم کے مسّے باہر آجاتے ہںٰ تو استنجاء کرنے کے بعد ان کو خشک کرکے اندر چڑھایا جائے۔ ورنہ پانی اندر جانے کی صورت مں روزہ فاسد ہوجائے گا۔(فتاویٰ عالمگرکی جلد 1 صفحہ 204) ۱۹ روزے دار جان بوجھ کر غذا کے طور پر یا دوا کے طور پر کسی استعمال کی جاسکنے والی چزئ کو کسی بھی غرض سے کھالے یا پی لے یا تمباکو نوشی کی صورتوں مںے سے کوئی صورت اختاار کرلے یا حلق سے کوئی اییا چزد جس کا تعلق عادتاً کھانے سے نہ ہو اپنے حلق سے اتارلے تو اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا۔(البحرالرائق جلد 2 صفحہ 297) ۲۰ کوئی شادی شدہ جوڑا روزے کی حالت مںس روزہ یاد ہونے کے باوجود حقوق زوجیت ادا کرے تو دونوں کا روزہ ٹوٹ جائے گا۔(البحرالرائق جلد 2 صفحہ 297) {۴} مسئلہ: ماہ رمضان کو پالناز شرعاََ تنا طریقو ں سے ثابت ہوتاہے۔ ایکیہ کہ خود رمضان کا چاند دیکھ لے۔ دوم یہ کہ کسی معتبر شہادت سے چاند کا دیکھنا ثابت ہوجائے۔ سوم یہ کہ اگر یہ دونوں صورتں نہ پائی جائں تو شعبان کے تسھ دن پورے کرنے کے بعد ماہ رمضان شروع ہوجائگاا۔ مسئلہ: شعبان کی 29تاریخ کی شام کو اگر بادل وغروہ کے سبب چاند نظر نہ آئے اور کوئی شرعی شہادت بھی نہ ہو تو اگلا دن شک والا (Doubtful) ہوگا۔ اُس دن کا روزہ رکھنا مکروہ ہے۔ مسئلہ: ہمارے زمانے میںرؤیت ہلال کمیمک کا اعلان معتبر ہے۔ مسئلہ: منہ کی رال، تھوک، بلغم نگلنے سے روزہ نہںک ٹوٹتا۔ مسئلہ: روزے کی حالت مںب آنکھوں مں سُرمہ لگانا، دوا ڈالنا، سَر اور بَدن پر تلد لگانا، خوشبو کا استعمال جائز ہے۔ مسئلہ: روزے کی حالت مںب ضرورت پڑنے پر گوشت اور نَس مں انجکشن لگوایا جاسکتا ہے۔ مسئلہ: روزے کی حالت مںب طبی ضرورت پڑنے پر گلوکوز کی بوتل بذریعہ نَس لگائی جاسکتی ہے۔ اسی طرح خون کی بوتل بھی لگوائی جاسکتی ہے۔ مسئلہ: روزے کی حالت مں خون دینے سے روزے مںی کوئی فرق نہںک آتا۔ مسئلہ: روزے کی حالت مںت انہلر (Inhaler) کا استعمال ناجائز ہے، روزہ ٹوٹ جائے گا۔ مسئلہ: دل، گردوں اور ذیابطس کے مریض ڈاکٹر کے مشورے سے روزے رکھںئ۔ مسئلہ: اگر کوئی شخص ایسا بمالر ہو کہ روزہ رکھنے سے اس کی بماوری بڑھنے یا صحت مزید خراب ہونے کا خطرہ نہ ہو تو اس کو روزہ رکھنا ضروری ہے ۔ صرف معمولی بما ری مثلاً بخار‘ نزلہ ‘زکام وغر ہ کا عذر ہو تو روزہ چھوڑنا جائز نہںح۔ مسئلہ: اگر ایک شخص اس قدر کمزور اور لاغر ہو جس کو ینha ہو کہ روزہ رکھو ں گا تو بماٹری پدوا ہو جائی۔ں تو روزہ نہ رکھے رمضان کے بعد تندرستی کے زمانے مں، قضا کرے اگر قضا نہ ہوسکے تو مرنے سے پہلے فدیے کی وصتج کرے۔ مسئلہ: حاملہ (Pregnant) یا دودھ پلانے والی عورت کوروزہ ناقابل برداشت ہو یا خطرہ ہو کہ اگر اس نے روزہ رکھ لا تو بچے کی صحت متاثر ہوگی تووہ روزہ نہ رکھے بعد مں ان روزوں کی قضا ہر روزے کے بدلے ایک روزہ رکھ کر کر لے۔ مسئلہ: اگرروزہ رکھنے کے بعد سفر پشز آجائے تو اس روزہ کو پورا کرنا ضروری ہے۔ مسئلہ : شرعی سفر کی مسافت اپنے شہر سے 78کلومیٹریا اس سے زائد ہے ایسے مسافر کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے۔ مسئلہ: اگر کوئی شخص 78 کلومیٹر سے زیادہ سفر کرنے کا ارادہ رکھتا ہو چاہے سفر پدکل، ریانہ ہوا ئی جہاز کا ہو اس کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت تو ہے مگر روزہ رکھنا بہتر اور افضل ہے اورماہ رمضان کی تکملی کے بعد مقما (Resident) ہو نے کی صورت مںھ فوت شدہ روزے رکھنا لازمی ہںک۔ مسئلہ: اگر کوئی شخص ایسا مریض ہو کہ روزہ رکھنے سے اس کا مرض بڑھ جائگادیا مرض بڑھنے کا خوف ہو تو اس کو بھی روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے ۔ مسئلہ: عورتوں کے لے حضا اور نفاس کے دنوں مں روزہ رکھنا حرام ہے۔ مسئلہ: حضر اور نفاس کے دنوں کے رہ جانے والے روزے رمضان کے بعد بطور قضا رکھنا ضروری ہںا۔ مسئلہ: اگر کوئی روزے دار جان بوجھ کر روزہ توڑدے تو اس پر قضاء وکفارہ دونوں لازم ہںک۔ مسئلہ: اگر کوئی شخص اتنا بوڑھا ہو کہ روزہ رکھنے کی طاقت نہیںیااس کو کوئی اییض مہلک اور طویل بماہری لاحق ہو کہ بظاہراس سے صحت پانے کی کوئی امدا نہںک تو ایسے آدمی کلئے جائز ہے کہ وہ روزہ نہ رکھے اور ہر روز ے کے بدلے فدیہ دیدے۔ مسئلہ: ایک روزے کا فدیہ صدقہ الفطر کے برابر رقم ہے۔ مسئلہ: اگر کوئی شخص فدیہ ادا کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو وہ استغفار کرتا رہے اور یہ ارادہ رکھے کہ جب مال مسروہوگا تو فدیہ ضرور اداکروںگا۔ مسئلہ: فقہاء (احناف) کے نزدیک ہمبستری کرنے اور جان بوجھ کر کھانے پنےے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور قضا وکفارہ دونوں لازم ہونگے یہ قضا اور کفارہ کا حکم صرف فرض روزوں کا ہے۔ مسئلہ: ماہِ رمضان مںو تراویح کے بعد وِتر کو جماعت سے ادا کان جائے۔ مسئلہ: اعتکاف صرف اُس مسجدمں ہو سکتا ہے جس مںع باجماعت نماز ہوتی ہو۔ مسئلہ: حالت اعتکاف مں بوای سے ہمبستری کرناجائز نہں اور اس سے اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے۔ مسئلہ: اعتکاف مںا طبعییا شرعی حاجت کے بغرز مسجد سے نکلنا جائز نہںو۔ طبعی حاجت (Call of nature) جسےن قضائے حاجت اور غسل جنابت وغ

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
398