(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/05/23
موضوعات
روزی کے وسائل اور اسلام نہ جھٹلائے جاسکنے والے حقائق
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ روزی کے وسائل اور اسلام نہ جھٹلائے جاسکنے والے حقائق اﷲتعالیٰ کی قدرت سے چلنے والے اس دنایوی نظام کا اگر سرسری جائزہ لای جائے تو یہ بات واضح طور پر اُبھر کر سامنے آتی ہے کہ اس دناج مں جتنی بھی مخلوقات پائی جاتی ہںے، ان تمام مخلوقات مںو انسان سب سے اونچی اور اشرف مخلوق ہے، دیگر تمام مخلوقات کی اہمتﷲ انسان کی وجہ سے ہی ہے، گویا کہ دناا کا یہ نظام بنامدی طور پر انسان کے ساتھ وابستہ ہے، اگر انسان کو اس دناد مںو سے نکال لات جائے تو دنال مںس موجود تمام کی تمام مخلوقات بے مقصد اور بے فائدہ ہوکر رہ جائںن جس کا انجام خاتمہ ہی ہوگا (چنانچہ اسلامی تعلماات کے مطابق یہ دناس اپنی تمام مخلوقات سمتو انسان کے فائدے ہی کے لےظ بنائی گئی ہے او رانسان اﷲتعالیٰ کی عبادت کے لےت ہی بنایا گا ہے، لہٰذا جب ایک بھی اﷲ، اﷲ کہنے والا اس دنای مںا نہںئ ہوگا تو ان انسانوں سمتا پورے دنوےی نظام کا خاتمہ ہوجائے گا۔) اﷲتعالیٰ کی قدرت سے چلنے والے انسان کے جسمانی نظام کا اگر سرسری جائزہ لا جائے تو یہ حققت واضح طور پر اُبھر کر سامنے آتی ہے کہ انسان کو اپنے جسمانی نظام کی حفاظت، پائدجاری، استحکام اور پروان چڑھانے اور نشوونما کے لےئ بنا دی طور پر چند چزپوں کی ضرورت ہے، عرف عام مںو انہں روٹی، کپڑا اور مکان کے نام سے جانا، پہچانا، مانا اور تسلمے کای جاتا ہے۔ یہ تینوں چزنیں ہرہر انسان کی لازمی ضرورتںا ہںا جن کی اہمتک کو کسی صورت، کسی طرح لمحے بھر کے لےی ذرّہ برابر بھی نہ کسی زمانے مںی کم کار جاسکا تھا، نہ آج کم کا جاسکتا ہے، نہ آئندہ کم کا جاسکے گا، ان تینوں (روٹی، کپڑا، مکان) لازمی ضرورتوں کے پورا ہوتے رہنے کا جو چز ذریعہ بنتی ہے اس کا تنر (3) حرفی نام ہے ’’مال‘‘۔ ایک انسان کی دنوای زندگی مںو مال کی کم و بشن وہی قدر و قمتا ہے جو ایک بچے کی زندگی مں اس کی ’’ماں‘‘ کی ہوتی ہے۔ جسےا بچہ اپنی ہرہر ضرورت و خواہش کا پورا ہونا ماں سے سمجھتا ہے اسی طرح انسان اپنی حاجت، ارمان او رمراد کا پورا ہونا مال مںو دیکھتا ہے، جبکہ ایک خدا پرست، خداترس مادی طور پر ماں اور مال کی اہمتس کو تسلمپ کرتے ہوئے یہ نظریہ، عقد ہ، دلییقین، اصول، تھواری (Theory) رکھتا ہے کہ تمام طاقت و قوت کا اصل سرچشمہ، تمام چزاوں کا واقعی خالق، تمام اسباب کے خزانوں کا حقییں مالک، ہر قسم کے تمام نتائج پر مکمل قدرت کے ساتھ حقیتھ اثر رکھنے والا صرف اور صرف اﷲتعالیٰ ہی ہے (جو دینے پر آئے تو اس کی جود و عطا و بخشش کو کوئرحوک نہ سکے، اگر روک لا جانا ہی اس کی مشیئت و مرضی ہو تو متعلقہ اسباب اختامر کرلےی جانے، اس کی بارگاہ مں گڑگڑاتے رہنے کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوپائں ) چنانچہ اس نظریے کا انسان اپنی محنت کو مخلوق سمجھتے ہوئے جائز محنت کے ذریعے حلال مال کی تلاش مںے لگ جاتا ہے، اپنی محنت کا پھل پاکر اسے اپنے پالنے والے کا انعام سمجھتا ہے او راس انعام پر تنح (3) طرح سے اﷲتعالیٰ کے احسان کو تسلمج کرتے ہوئے اس کا اظہار کرتا ہے: (۱)اس انعام کی قدر کرتا ہے اسے حقرذ اور کم تر نہںر سمجھتا۔ (۲)زبان و دل سے اﷲتعالیٰ کا شکر ادا کرتا رہتا ہے۔ (۳)اﷲتعالیٰ کی ناراضگی کے کاموں سے دور رہتا ہے۔ اپنی ذات کے اعتبار سے ان تنا (3) تدابرے کو اختا۔ر کرتے ہوئے مال کے حوالے سے چار (4) کام کرتا ہے: (1)مال کو ناجائز کاموں مںن خرچ نہںا کرتا (ناجائز کاموں مںڑ خرچ کرنا ’’تبذیر‘‘ کہلاتا ہے)۔ (2)جائز کاموں مں ضرورت کے بقدر ہی خرچ کرتا ہے۔ (جائز کاموں مںم ضرورت سے زیادہ خرچ کرنا ’’اسراف‘‘ کہلاتا ہے)۔ (3)اپنی اور اپنے زیرکفالت لوگوں کی ضروریات کے مطابق خرچ کرتا ہے۔ (ضروریات سے کم خرچ کرنا ’’بخل او رکنجوسی‘‘ کہلاتا ہے)۔ (4)اپنی حتر کے مطابق دوسرے ضرورت مندوں پر خرچ کرتا ہے۔ (دوسروں کی ضرورتوں پر خرچ کرنا ’’صدقہ‘‘ کہلاتا ہے۔) مزیدیہ کہ اپنے جائز ذریعۂ معاش سے نفرت نہںر کرتا، کوتاہووں پر استغفار کرتا ہے، اٹھنے والی مشقتوں کو خندہ پیشانی اور صبر سے برداشت کرتا ہے، آنے والے مسائل پر اﷲتعالیٰ سے رابطہ کرتے ہوئے ان الفاظ سے درخواست کرتے ہوئے کہتا ہے ’’اے مردے اﷲ! جو ساتوں آسمانوں اور زمنہ مںظ بسنے والی (چھوٹی، بڑی، نفع دینے والی، نقصان پہنچانے والی، معذور و صحت مند، خوشحال، مصبتہ زدہ) تمام مخلوقات کا (تن تنہا، ازل سے اَبد تک) پالنے والا ہے تو مررے تمام کاموں مں’ جہاں جہاں سے، جسےا جسےح تو چاہے مر ی کفایت فرما یین، توہی مروے لے کافی ہوجا۔ مذہبی عرف مں مندرجہ بالا صفات کو متقی انسان کی علامات کہا جاتا ہے۔ اسلامی تعلماےت کے مطابق اس کا دنوعی مقام یہ ہے کہ اسے ہر آن، ہر گھڑی، ہر جگہ اﷲتعالیٰ جو قادرِمطلق بھی ہے، مختارِکُل بھی ہے، مدبّرِ کائنات بھی ہے کی معتس حاصل رہتی ہے، اسے ماضی کے کسی نقصان کا غم نہںک ہوتا، اسے مستقبل کے کسی خطرے کا خوف نہں رہتا۔ آسمان و زمنا کی مخلوقات اس کے خلاف اجتماعی و انفرادی تدابرل پر آمادہ ہوجائے تو بھی اسے اس دشوار گزار، کٹھن مرحلے سے نکال لای جاتا ہے، ایی جگہ سے ایسا اور اتنا اسے رزق دیا جاتا ہے جہاں سے رزق ملنے کا خود اسے بھی گمان بھی نہں ہوتا، اس کے ہر کام مںِ آسانی پد ا کردی جاتی ہے، اس کے اجر و انعام و مرتبے مں اضافہ و بلندی عطا فرمادی جاتی ہے، آخرت مںر جنت کے اندر سب سے بڑے بادشاہ او رانتہائی صاحب قدرت کے بالکل قریب نشست عطا فرمائی جائے گی۔ انسانی تاریخ اس بات کی گواہی کے لےا کافی ہے کہ دنا ان مقدس ہستودں سے کبھی، کسی زمانے مں بھی خالی نہںش رہی۔ ان ہستو ں مںس انبیاء علہمی السلام بھی رہے ہںب اور صالحن بھی پائے جاتے ہںہ۔ یہ مقام مردوں نے بھی حاصل کاک ہے اور عورتںی بھی پچھے نہںا رہی ہں ۔ یہاں تک کہ تسریی جنس کے افراد نے تعلق مع اﷲ کی راہ مںئ کوشش کی اور ان کے پروردگار نے انہںص محروم نہںے رکھا، حتیٰ کہ اپنے اپنے زمانوں کے پرلے درجے کے فاسقین و فاجرین مںس سے کسی نے مسبب الاسباب کی طرف ینشش، توکل، اعتماد، بھروسے کی دولتںپ لے کر حاضری دی، تذبذب، شک، عقائدی لڑکھڑاہٹ، اعمالی لغزشوں کو ذہن سے جھٹک دیا، دل سے خرتباد کہہ دیا، خا لات سے نکال دیا تو (من کان للّٰہ کان اﷲ لہ) ’’جو اﷲتعالیٰ کا ہوجاتا ہے، اﷲ تعالیٰ اس کے ہوجاتے ہںں‘‘ کے قلعے مں محفوظ کردیا گا ، کائنات اپنے نفع، نقصان سمتت اس کے حوالے (مسخر) کردی گئی، خالق و مخلوق کی ’’محبوبتہ‘‘ کا سرٹٹکمں اسے تھما دیا گاس، اس کے لے، ہوا کی لہروں میںیہ گونج پداا کردی گئی کہ جو مریے دوست کے ساتھ (کسی زمانے مں ، کسی علاقے مںی، کسی بھی وقت، کسی بھی سطح کی) دشمنی رکھے گا مرلا اس کے ساتھ اعلان جنگ ہے۔ یہ اب اس جماعت کا فرد بن گا ہے جس نے دارالاسباب (دنار) مںا رہنے کے باوجود قَادِرِمُطْلَقْ، مُخْتَارِکُلْ، فَعَّالُ لِّمَا یُرِیْدْ کی قدرت سے پلنے کا ہر حال مں تہہف، پختہ عزم، پکا ارادہ کررکھا ہے، اب اس کے پاس حضرت ہاجرہؓ والا وجدان ہے کہ ’’اﷲتعالیٰ ہمںل ضائع نہںی فرمائے گا‘‘۔ اب یہ اس کا مسئلہ نہںا رہا کہ کسے ، کہاں سے، کب، کتنا پلے گا؟ اس نے تو اب رب کے لے، اس کے عطاکردہ اپنے دل کا دروازہ کھول دیا ہے، اپنے ذہن کو رب کییاد کے لےہ فارغ کرلا ہے، اپنے مکمل جسم کو کامل طور پر رب کے حوالے کردیا ہے، اب یہ کُنْ فَیَکُوْنْ کی قدرت رکھنے والے وَھَّابْ و رَزَّاقُکا کام ہے کہ وہ اسے کسےے کسےس، کہاں کہاں سے، کب کب او رکتنا کتنا پالتا ہے۔ وہ ذُوْالْقُوَّۃِ الْمَتِیْنْ، قَوِیُّ الْعَزِیْزُ، لَطِیْفٌ خَبِیْرْ، غَنِیٌّ حَمِیْدْ اور خَیْرُالرَّازِقِیْنْ ہے اس کے پالنے کے انداز ازل سے ابد تک ہمہ جہت او رنرالے تھے، ہںِ اور رہںِ گے۔ اس کا فصلہُ اسباب کے ذریعے پالنے کا ہوا تو اسباب پد ا فرمادے گا، بغر اسباب کے محض قدرت سے پالنے کا ہوا تو اس کا امر (حکم) ہی کافی ہے۔ ؎ اس کا ایک اشارہ کافی ہے گھٹانے اور بڑھانے مںگ۔ مندرجہ بالا حقائق صرف کتابییا نظریاتی باتں نہںد ہںب۔ واقعاتی دناا مںا اس کا عملی مظاہرہ نہ صرف ماضی مںف ہوتا رہا بلکہ آج بھی ہورہا ہے، آئندہ تاقا م قاہمت ہوتا رہے گا۔ برزخی (قبر کی) دناگ مںں انبیاء علہمم السلام اور شہدا اس وقت بھی لطف اٹھا رہے ہںّ، مزے اُڑا رہے ہں ، عشت کررہے ہں اور قارمت مںا نور او رموتوںں کے منبروں پر نشست، مشک و عنبر کے ٹلواں کی سر و تفریح، حوضِ کوثر کا دست اقدس علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام سے مشروب، پل صراط سے برق رفتاری سے پار ہوجانا، بغرت حساب کتاب کے مزضان کی ترازو مں نورے ں والے پلڑے کے جھکاؤ کے ساتھ براہ راست جنت کا دائمی، ابدی، سرمدی داخلہ انہی کے لےد ہے، حتیٰ کہ گنہگار مسلمانوں کی سفارش کا اعزاز بھی لےر ہوں گے۔ مزیدیہ کہ دیدارِالٰہی، باہمی ملاقات و مکالمہ اور رِضْوَانٌ مِّنَ اﷲِ کا اکبری شرف بھی انہںی حاصل رہے گا۔ پھر ابدی طور پر جنت مں خا ل و امر کے ساتھ وہاں کی نعمتوں کی فوری دستاﷲبی و فراہمی کا حظ ملتا رہے گا۔ انسانی حوالوں سے بنافدی حقائق (1)یہ دنان اپنے تمام جاندار و بے جان سازوسامان او ران کی انفرادی و اجتماعی صلاحتو ں سمتک انسان کے نفعے، فائدے اور خدمت کے لےس ہی پداا کی گئی ہے۔ (انسان صورۃً تو انسان ہو اور سراۃً انسان نہ ہو تو معاملہ اُلٹ سکتا ہے۔) (2)انسان اس دنا مںہ بہت تھوڑے سے وقت کے لے۔ صرف اور صرف اﷲتعالیٰ کی عبادت ہی کے لےا بھجا گاد ہے۔ (3) شریعت کے بتلائے ہوئے تمام نظریات و عقائد کو دل و زبان سے مانتے ہوئے، شریعت کے بتلائے ہوئے چند مخصوص بدنی و مالا عمال کے شریعت کے دیے ہوئے طریقوں کے مطابق اہتمام کے ساتھ ساتھ سر کے بال سے لے کر پرا کے ناخن تک کے تمام اعضاء سے متعلقہ شریعت کے احکامات کو زندگی کے تمام شعبوں مںک بالغ ہونے سے لے کر موت تک کے تمام لمحات مںا تسلسل کے ساتھ نبیﷺ کے طریقوں ہی کے مطابق اپنائے رکھنے، نفس و شاقطنغ کے شرور کے غلبے سے ہوجانے والی کوتاہواں پر توبہ و استغفار کے اہتمام کا نام عبادت ہے (یینن حقوق اﷲ، حقوق العباد اور حقوق النفس نامی تینوں مدلانوں مںع شرعی رہنمائی کے مطابق ہی زندگی کا لائحہ عمل، دستورالعمل، نصب العن ، منصوبہ، پروگرام، نقشہ بناتے ہوئے عمل پرنا رہنے کا نام شرعی اصطلاح مںا عبادت ہے)۔ (4)بدنی عبادات کے لےا بدن کا ہونا ضروری ہے، لہٰذا صححر، سالم، تندرست سے اس کے بدن کے مطابق اور معذور و مریض سے اس کے بدن کے مطابق عبادات کا تقاضا او رمطالبہ ہوگا۔ (5)مالی عبادات کے لےط مال کا ہونا ضروری ہے، لہٰذا نادار اور غریب پر مالی فرائض لازم نہںو ہوں گے، البتہ غر لازم مالی عبادات کی ادائیق پر اجر پائے گا۔ (6)انسان روح اور جسم سے مل کر بنا ہے، تاحاست روح کو پشا آنے والے تقاضوں کو روحانی اسباب اور جسم کو پشا آنے والے تقاضوں کو مادی اسباب کے ذریعے پورا کاہ جاتا رہے گا۔ (روحانی اسباب، جسمانی تقاضوں اور مادی اسباب روحانی تقاضوں کے پورا ہوتے رہنے کے لےا ناکافی ہںا۔) (7)اس دنار مںک انسانی جسم مںو پدہا ہوتے رہنے والے تقاضوں کو پورا کرتے رہنے کے لےر بناسدی طور پر مال کی ضرورت پڑتی ہے جس کے ذریعے چزکوں کا انتظام کرتے ہوئے انہںی تقاضوں کو پورا کرنے کے لے استعمال کا جاتا ہے۔ اس مال کو رزق اور روزی کا نام بھی دیا گاں ہے۔ (8)مال، رزق یا روزی مقدار کے اعتبار سے بھی، حاصل ہونے کے وقت کے اعتبار سے بھی اﷲتعالیٰ کی طرف سے طے شدہ ہے جوکہ ہر شخص کے لےر مستقل اور علحد ہ، علحدسہ ہے۔ کسی کو کم، کسی کو زیادہ۔ یہ بھی طے شدہ ہے کہ جب تک مقررشدہ مقدار پوری نہںہ ہوجاتی اس دناع مںک موجود رکھا جائے گا۔ مقدار کی کمی (قلت) اﷲتعالیٰ کی ناراضگییا مقدار کی زیادتی (کثرت) رضامندی کی دللل نہںق ہے۔ یہ تو دنوری نظام کے چلانے کے لےک طے شدہ رول (کارمنصبی، حوالے کردہ عہدہ) ہے جس کو عرف عام مںق تکوییص نظام کہا جاتا ہے، مال کی کثرت اہم نہںت، مال مںا برکت اہم ہے۔ عن ممکن ہے کثرت مں بے برکتی او رقلت مںر برکت کا عنصر (اصل جزو) شامل ہو۔ (9)اسلامی تعلماات کی رو سے جن جن اعمال صالحہ کے نتائج مںم مال مںم اضافہ بتلایا گاں ہے اس مںر انسانی نفسا تی رعایت ہے ورنہ علماء کی وضاحت کے مطابق اس سے مراد مال مںک برکت ہی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ان اعمال صالحہ کے کرنے سے پہلے طے شدہ مقدر کی جو مقدار مل رہی تھی ان اعمال صالحہ کے کرنے کے بعد اس طے شدہ مقدر کی مقدار مںک طے شدہ اضافہ کا وقت آگاہ ہو ورنہ پددائش سے لے کر موت تک کے طے شدہ دنو ی مقدر مںر کمی، بیمو کی صورت مںہ تبدییم و ردوبدل ممکن نہںے۔ پدوائش، موت، عمر، رنگ، صنف (مرد یا عورت ہونا) زبان، نسل کی طرح رزق بھی اﷲتعالیٰ کے اختاہری اوامر ہںی، تمام انسان ان امور مںت قطعاً بے بس ہں، اور مکمل طور پر عاجز ہںت۔ (10)رزق کو اﷲتعالیٰ کا فضل بھی کہا گاں ہے۔ اﷲتعالیٰ کا فضل انسان پد ا کر ہی نہںا سکتا۔ ہاں اﷲتعالیٰ کا فضل اﷲتعالیٰ سے ہی چاہا جاسکتا ہے، مانگا جاسکتا ہے، تلاش کای جاسکتا ہے، حاصل ہونے کی تدابرے اختایر کرتے ہوئے اس غنی، صمد، بے نادز، بے پروا ذات سے درخواست ہی کی جاسکتی ہے۔ یی عقلی طریقہ بھی ہے کہ خزانے جس کے پاس، جس کے قبضے مںص ہں، اسی سے طلب کےٰ جائںج وہ بھی زور سے نہںت، زاری سے۔ ییل اخلاقی طریقہ بھی ہے کہ جس کا کھا رہے ہوں اسی سے چاہ رہے ہوں، ناراض کرکے نہں ، راضی کرکے۔ ییے شرعی طریقہ بھی ہے کہ جو اپنی قدرت سے بھی اور اسباب کے ذریعے بھی سوال پورا کرنے پر مکمل طور پر قادر ہو، جو جو بھی دے رہا ہو اپنی ہی ملکتہ مںں سے دے رہا ہو، جس سے مانگا تو اپنی حت ب کے مطابق جارہا ہو لکنہ وہ عطا اپنی شان کے مطابق کررہا ہو، جس سے مانگے جانے کے اوقات مخصوص نہ ہوں، جس سے ہرحال مںی، ہروقت، ہر جگہ سے سب کچھ مانگا جاسکتا ہو، جس سے مانگے جانے کے لےے کسی خاص زبان مںح مانگنے کی قدو نہ ہو، جس سے مانگے جانے کے لےے کسی خاص رنگ، نسل، عمر، مادی، روحانی حتقا کا مطالبہ نہ ہو، جس سے مانگے جانے کے لےد کسی خاص مقدار تک ہی مانگنے کی پابندی نہ ہو تو جب سوال کا جائے تو اسی سے کاا جائے، جب مدد مانگی جائے تو اسی سے مانگی جائے، لاپرواہی اور بے ناتزی سے نہں ، اطاعت کرتے ہوئے اپنے آپ کو محتاج سمجھ کر۔ لہٰذا تدابری اختا ر کرتے ہوئے روزی تلاش کی جائے اور یہ عمل تاحاات جاری رہے۔ (11) اﷲتعالیٰ سے متعلق یہیقین دل و دماغ مںی جمائے اور ہروقت آنکھوں کے سامنے رکھے کہ بلاشبہ اﷲتعالیٰ وہی ہے جو روزی دینے والا زور آور، طاقت ور، مضبوط ہے، اﷲتعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ نرمی کا برتاؤ فرماتے ہںت، جس کے لےب جتنی چاہںو روزی دیتے ہںل اور وہی زورآور اور زبردست ہںپ۔ وہ ہی بہترین روزی دینے والے ہں ، وہ ہی اپنے بندوں مںس سے جس کے لےے چاہںر بے حساب روزی بھی دیتے ہں ۔ (12) اﷲتعالیٰ وہ مالک نہںآ ہںر جو اپنے بندوں، بندیوں سے اپنی ذات کے لےے مال کموائںے، نہ وہ یہ چاہتے ہںں کہ اس کے بندے اپنے مالک کو بٹھا کر کھلائںر بلکہ وہ تو خود اپنے تمام بندوں اور دیگر مخلوقات کو طعام، قارم، لباس، علاج، رہن سہن وغرےہ وغر۔ہ کی ضروریات فراہم فرماتے ہںو۔ (13) اس دناا مںی کشادگی کے حالات شکر کا اور تنگ دستی صبر کا امتحان ہے، خالق، مالک، رازق، رب کا اپنا ذاتی اختا ر و حق ہے کہ اپنی کس مخلوق، کس مملوک، کس مرزوق، کس مربوب کا شکر یا صبر مںا سے کس سے کساص امتحان لے۔ (ہر، ہر بندے، بندی نے اس سے اس کے رب ہونے کا اقرار ہی نہںک عہد و پمابن بھی کررکھا ہے)۔ (14) اپنے مقدر پر راضی رہتے ہوئے کشادگی کے حالات مں بذریعہ اطاعت و شکر اﷲتعالیٰ سے تعلق برقرار رکھے، تنگ دستی کے حالات مں بذریعہ اطاعت و صبر اسی ذات سے رابطہ رکھے، (شکر سے نعمتوں مں اضافہ ہوتا ہے، صبر سے روزی کے دروازے کھلتے ہں )۔ (15) اپنے مقدر پر راضی رہے، اﷲتعالیٰ سے اپنے لےک عافتس، سلامتی، بھلائی چاہے، ابتلا، آزمائش امتحان کا ازخود مطالبہ نہ کرے، اﷲتعالیٰ کی طرف سے امتحان کی صورت مں اﷲتعالیٰ کے خلاف (نعوذباﷲ کسی بھی سطح کا) ہائے واویلا، شکوہ و شکایات کا اظہار نہ کرے، سرکشی، بغاوت، دوری پددا نہ ہونے دے، توبہ استغفار کی کثرت، اطاعت مںو اضافہ، نافرمانی کا ترک، رسمی دعا کے بجائے دعا مں، الحاح، زاری، گڑگڑاہٹ پداا کرتے ہوئے اپنی عاجزی ثابت کرے۔ (16) اس دناق کا مثبت پہلو نظروں کے سامنے رکھے کہ یہاں کسی بات کو ہمیگں حاصل نہںب ہے۔ اچھا، برا وقت طویل بھی ہو تو مستقل نہں رہتا، گزر جاتا ہے۔ کمائی اور اس کے حلال ذرائع کمائی، کسب، دھندا اور پشہ ہم معنی الفاظ ہںہ جن کا مفہوم وہ محنت، مشقت، کوشش، تکلف ، جدوجہد اور مزدوری ہے جس کا نتجہک اجرت، نقدی اور روپودں اور پسورں کی صورت اور شکل مں ملتا ہے۔ (ان الفاظ کا استعمال ایک خاص ناگوار و ناپسندیدہ معنی مںم بھی ہوتا ہے شرعی طور پر ناجائز ہونے کی وجہ سے وہ اس موضوع مںل داخل ہی نہںم ہے۔) جس شخص کے پاس دنوری زندگی مں پشف آنے والی ضروریات کے پورا ہونے کا انتظام موجود ہو چاہے وراثت کے ذریعے، ہدایا و تحائف کے ذریعے، کسی کے زیرکفالت ہونے کی وجہ سے (چنانچہ عوت کی ذمہ داری اس کے شوہر، اس کے بٹوتںیا اس کے والد یا بھائوعں پر ہے) ہو یا کوئی شخص کسی کی ضروریات پوری کرنے کی ذمہ داری اپنے اوپر لے لے تو ایسے تمام افراد پر کمانا فرض نہںی ہے۔ اﷲتعالیٰ کی ذات پر کسی کا اعتماد، بھروسا، اعتقاد، ینی ، ایمان، توکّل ایسا مضبوط، مکمل اور بھرپور ہو کسی بھی حال مںے اس مںا فرق نہ آئے، وہ کمزور نہ پڑے، اس کے لے تنگ دستی و خوشحالی برابر ہوجائے، اﷲتعالیٰ کی ذات سے نظر نہ ہٹنے پائے، دل اﷲتعالیٰ کییاد مںے مشغول رہے، (ایک اﷲ والے نے تبلغب دین اور تجارت مال کے ساتھ اپنے اوقات کو لگا رکھا تھا۔ ایک مرتبہ مجمع مںہ باےن فرمارہے تھے دوران باشن خادم یا کسی اور نے قریب آکر ایک غمناک خبر سنائی کہ جس کشتییا جہاز مںپ آپ کا مال تجارت آرہا تھا وہ سمندری طوفان کی زَد میںآکر ڈوب گاخ۔ اس خبر کے سنتے ہی گردن جھکائی اور فرمایا الحمدللہ اور پھر بازن شروع کردیا۔ تھوڑی دیر کے بعد دوران با ن ہی دوسری اطلاع ملی کہ پہلی خبر غلط تھی، مال بحفاظت پہنچ گاا، پھر گردن جھکائی اور فرمایا الحمدللہ اور باین جاری رہا۔ بادن کے بعد کسی نے پوچھا صدمے کی خبر پر بھی الحمدللہ اور خوشی کی خبر پر بھی الحمدللہ۔ یہ دوسرا الحمدللہ تو سمجھ مںہ آیا پہلا الحمدللہ سمجھ مںا نہںک آیا۔ فرمایا ترری سمجھ مںم نہ پہلا آیا نہ دوسرا۔ جب مجھے صدمے والی خبر سنائی گئی تو مں نے اپنے دل کا جائزہ لاد کہ اس خبر کا اس پر کای اثر ہوا؟ تو اسے اﷲتعالیٰ کییاد مںا ہی مشغول پایا تو اس پر الحمدللّٰہ کہا۔ جب خوشی بھری خبر سنائی گئی تو مںا نے اس وقت بھی دل کی حالت دییھ تو دل اس موقعے پر بھی اس خبر کا اثر لےم بغر اﷲتعالیٰ کییاد مں ہی مصروف تھا تو مں نے اپنے دل کی حالت نہ بدلنے پر دوبارہ الحمدللہ کہا) اس کے تمام اوقات حقوق اﷲ، حقوق العباد اور حقوق النفس کی ادائوشغوں مںپ شریعت کے تقاضوں کے مطابق صرف ہورہے ہوں تو اس پر بھی ذریعۂ معاش (کمائی کا وسلہ ) اختاار کرنا فرض نہںم ہاں اگر مالی عبادات سے اپنا نامۂ اعمال بھرنے کے لےں کمائی کے ذریعے مال حاصل کرنے کی جستجو اور کوشش کرے تو جائز ہے۔ کمائی تو ہر اس عاقل، بالغ، صحت مند، طاقتور پر فرض ہے جو اپنی ضروریات پوری کرتے ہوئے، اپنے پداائش کے مقصد کو پورا کرنے مںم غفلت سے بچنے کے لےن مال کا محتاج ہو۔ کمائی مقصدِ حاغت نہںا ہے، مقصدحاقت تو اﷲتعالیٰ کی بندگی ہے، کمائی تو مقصد حاہت کے مسلسل جاری رہنے کا ذریعہ اور سبب ہے اگر مقصد حاات کے تسلسل کے لےں کمائی کا جائز ذریعہ اختایر کاے جائے تو کمائی کرنا بھی عبادت ہے اور توکل کے منافی (خلاف) بھی نہںد ہے (بقدر ضرورت دناو کا طلب کرنا حب دنات (دناا کی محبت) مںھ داخل نہں ۔) کمائی کا ذریعہ اختا(ر کرسکنے کے قابل انسان کا مخلوق کے سامنے ہاتھ پھیلانا بھک مانگنے کے برابر ہے اور بھکھ مانگنا ذلت ہے او رشریعت نے اپنے آپ کو ذللخ کرانے سے منع کاک ہے۔ لہٰذا جس شخص کے پاس اس دن کی ضروریات پوری کرنے کا انتطام موجود ہو اس کے لےا کسی سے سوال کرنا ناجائز قرار دیا گاخ ہے، شریعت نے تو اس حد تک انسانی شرافت، پارسائی، تقدس اور عظمت کا لحاظ فرمایا ہے کہ زبان کو زحمت دئےت بغرن، کسی کے سامنے ہاتھ پھیلائے بغرر صرف کسی مخلوق سے اپنے دل مںد سوال کرنے کا خاال لانا بھی ناجائز ہے۔ اصطلاح مںم اس کو ’’اِشْرَافْ‘‘ (دل کا سوال) کہتے ہںر اور اشراف ناجائز ہے۔ شریعت نے کمائی کی حوصلہ افزائی اور مخلوق سے سوال کی حوصلہ شکنی اور خالق سے مانگنے کی ہمت افزائی نہایت لطفس اور انتہائی خوبصورت انداز سے فرمائی ہے، فرمایا انسان کا بہترین کھانا وہ کھانا ہے جو اس کے اپنے ہاتھ کی، اپنی ذاتی محنت کی کمائی کا ہو۔ اﷲتعالیٰ کے علاوہ کسی کے سامنے دست سوال پھیلانا ایسا ہے جسے اپنے ہاتھ مںی آگ کے انگارے جمع کرنا جس کا دل چاہے کم جمع کرلے یا زیادہ جمع کرلے نزی قاومت کے دن اس کے چہرے پر گوشت نہںہ ہوگا! اگر کسی پر ایک دن کا فاقہ (بھوک، کھانے کے لےط پاس کچھ بھی نہ ہونا) آجائے (اﷲ والوں کے ساتھ عموماً ہر زمانے میںیہ حالت پشی آتی رہتی ہے) وہ اس فاقے کو کسی مخلوق کے سامنے ظاہر نہ کرے، ہاں! اﷲتعالیٰ کے سامنے پشس کرے اﷲتعالیٰ اس کے لےہ اس ایک دن کے فاقے پر ایک سال کی حلال روزی کے دروازے کھول دینے کا فصلہل فرمادیتے ہںً۔ حلال روزی حاصل کرنے کے جائز ذرائع درج ذیل ہںش: (1)اپنی جانی، اوقاتی، دماغی اور علمی خدمات پش۔ کرکے روزی حاصل کرنا۔ (2)ہنر، فَن، کاری گری، مہارت، کمال اور خوبی کے ذریعے روزی حاصل کرنا۔ (3)دستکاری، ہاتھوں سے چز،یں تابر کرکے روزی حاصل کرنا۔ (4)صنعت و حرفت، انڈسٹری، مشنویں کے ذریعے چزویں تانر کرکے روزی حاصل کرنا۔ (5)محنت، مزدوری کرکے روزی حاصل کرنا۔ (6)ملازمت، نوکری کر کے روزی حاصل کرنا۔ (7)انفرادی تجارت کے ذریعے روزی حاصل کرنا۔ (8)کسی دوسرے کے ساتھ سرمائے، محنت، نفع نقصان مں شریک ہوکر روزی حاصل کرنا۔ اصطلاح مں اسے مشارکت (پارٹنرشپ) کہتے ہںر۔ (9)دو(2) سے زائد لوگوں کا مل کر کمپنی قائم کر کے کاروبار کے ذریعے روزی حاصل کرنا۔ (10) اپنی محنت اور دوسرے کے سرمائے سے کاروبار کرکے روزی حاصل کرنا۔ اصطلاح مںں اسے مضاربت کہتے ہںو (اس کاروبار مںش آپس مںں نفع طے شدہ شرح کے مطابق تقسمک ہوتا ہے۔ نقصان کی صورت مںے نقصان کے بقدر سرمائے دار کا سرمایہ اور محنت کرنے والے کی محنت ضائع ہوگی، کاروبار جاری رہنے کی صورت مںت اگلے سال کے منافع مںم سے پہلے سرمائے دار کا نقصان پورا کان جائے گا۔ اگر کاروبار مں محنت کرنے والے کا سرمایہ شامل ہوگاو تو مضاربت، مشارکت سے بدل جائے گی اور دونوں فریق نفع، نقصان اور محنت مںن شریک ہوں گے)۔ (11)خریدنے اور بچنے والے کے درما ن معاملہ طے کرا کر بطور کمشنں روزی حاصل کرنا۔ اصطلاح مںب ایسے شخص کو بروکر، دلال، آڑھتی، کمشنی ایجنٹ کہا جاتا ہے، صرف بچنےن والے سے طے شدہ کمشنے لناک بھی جائز ہے اور دونوں فریق سے کمشنب لناد بھی جائز ہے، البتہ طے شدہ داموں سے خریدار سے زیادہ دام لنا، اور اس اضافے کو دلال کا اپنے پاس رکھ لناک ناجائز ہے۔ (جنسی کاروبار مںے درماہن مںئ معاملہ کرنے والے کو بھی دلال اور بھڑوا کہا جاتا ہے۔ جسمانی جنسی خرید و فروخت اور درماجن مںر معاملہ کرانا سِرے سے ہی ناجائز ہے۔) (12)ذراعت، کھیئے باڑی، کاشت کاری کے ذریعے روزی حاصل کرنا۔ (13) چرند، پرند اور دوسرے حلال جانوروں کے کاروبار کے ذریعے روزی حاصل کرنا۔ (14) کان کنی کے ذریعے زمن سے معدنارت، جواہرات، دھاتںص نکال کر کاروبار کے ذریعے روزی حاصل کرنا۔ وغراہ وغر ہ نوٹ: مندرجہ بالا تمام کاموں کی بے شمار قسمںز ہںو، جن کی جائز و ناجائز مسائل کے حوالے سے بہت طویل تفصیلات ہںر جنہں ضرورت کے مطابق مفتارن کرام سے معلوم کام جاتا رہے۔ بس اصولی بات یاد رہے، امانت داری، رزق کی برکت و کثرت کی چابی، خاونت رزق کے تنگ ہونے اور سکون کے ختم ہوجانے کا پھاٹک ہے۔ لاپرواہی خامنت کی پہلی سڑ ھی ہے۔ حلال کمائی کے فضائل (1)حافظ ابونعمؒ نے روایت کاک ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ بہت سے گناہ ایسے ہںم کہ ان کا کفارہ نہ نماز سے ہوتا ہے، نہ حج سے اور نہ عمرے سے۔ صحابہؓ نے عرض کالیارسول اﷲﷺ! پھر ان کا کفارہ کس چزا سے ہوتا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا روزی کمانے مںہ جو تکلںض ک اور رنج پہنچتے ہںر ان سے ان گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے۔ (مختصر تذکرہ قرطبی صفحہ 42، کشکول صفحہ 19) (2)حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ حضورﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ جس کسی نے اس حال مںف شام کی کہ اپنے (کمائی کے) کاموں کے کرنے کی وجہ سے تھک کر چور ہوگاو تو اس نے اس حال مںب شام کی کہ اس کے سارے گناہ معاف ہوگئے ہوں گے۔(الطبرانی فی الاوسط) (3)حضورﷺ نے فرمایا اپنے ہاتھ کی کمائی سے بہتر کوئی کمائی نہںئ۔ (4)نبیﷺ نے فرمایا کہ خوشخبری ہو اس کے لےہ جس کی کمائی پاک ہو۔(طبرانی) اﷲتعالیٰ اپنی ذات سے مانگنے والوں کو مایوس نہں فرماتے! کہتے ہںی پہلے زمانے مںا بادشاہ اپنی سلطنت مںن سر وتفریح اور شکار کے لےت اپنے ساتھواں کے ساتھ کچھ وقت کے لےک نکل جایا کرتے تھے، بعض اوقات تمام ساتھی ایک دوسرے سے علحداہ ہوجایا کرتے تھے، ایسے ہی ایک موقع پر خود بادشاہ سلامت سخت پا س کی حالت مں جنگل مںم موجود اکلےس ایک جھونپڑے تک پہنچ گئے، جھونپڑے مںص اُنہںو ایک شخص ملا، جس نے اپنی حتلت کے مطابق بادشاہ کی خدمت کی، چلتے ہوئے بادشاہ نے اپنا پتہ دیا اور کہا کہ کبھی ہمارے ہاں بھی آنا، بات آئی گئی ہوگئی، اُس شخص کی اہلہی کو بھی اس واقعے کا علم ہوا اُس نے اپنے شوہر سے کہا کہ ہم غربت کی حالت مں کسمپری کے ساتھ انتہائی تنگ زندگی گزار رہے ہںئ اور حال یہ ہے کہ بادشاہ تمہارا دوست ہے، لہٰذا تم اپنے دوست کے پاس جاؤ اور اُس سے مدد کی درخواست کرو، ہوسکتا ہے اُس کے دئے ہوئے تحائف سے ہماری زندگی مںت کچھ بہتر تبدییں آجائے، اہہوس کے بے حد اصرار پر وہ شخص بادشاہ کے دربار تک پہنچا اور بادشاہ کے قریب پہنچ گام، بادشاہ نے دیکھ کر پہچانا اور بھرے دربار مںو اُس سے پوچھا کہ دوست کسےا آنا ہُوا؟ دہشت و ہبتر کے مارے اُس شخص کی آواز بھی نہ نکل سکی، وہ بڑی حر ت کے ساتھ بادشاہ کو دیکھتا رہا، بادشاہ نے درباریوں سے کہا کہ دربار برخواست کرو، مرسا دوست تمہارے سامنے اپنا مدعا بادن نہںج کرپا رہا، پھر تنہائی ہوتے ہی بادشاہ نے اُس سے پوچھا کہ اب بتلاؤ کسےد آنا ہُوا؟ اُس کے جواب مںی اُس شخص نے صرف اتنا کہا کہ محتاج! بادشاہ اُس کی بات سُن کر سمجھ گائ،بڑے عزت و احترام کے ساتھ اپنے ہی کمرے مںو ٹھہرایا، خوب خاطر مدارات کی ، رات کو بادشاہ ہی کے کمرے مںد اُس مہمان نے رات گزاری، لکنل اُسے رات بھر نند نہ آسکی، دوسرے دن صبح ناشتہ کے بعد بادشاہ نے خزانچی کو بلوایا اور بہت کچھ تحفے تحائف دینے کے آرڈر جاری کےس،اور اپنے دوست سے کہا یہ سب تمہاری نذر ہںب، اُس نے کہا بادشاہ سلامت پہلے یہ بتلائےے کہ آپ نے رات کے پچھلے پہر منہ ہاتھ دھویا اور پھر کچھ اُٹھک بٹھکں کی اور پھر ہاتھ پھیلا کر کچھ کہتے رہے یہ سب کاے تھا؟ بادشاہ نے کہا منہ ہاتھ دھونا وضو کہلاتا ہے، جسے تم اُٹھک بٹھک کہہ رہے ہو وہ نماز ہے، اور جسے تم ہاتھ پھیلانا کہہ رہے ہو اُسے دعا کہتے ہںب اور وہ مںٹ اپنے اﷲ سے مانگ رہا تھا! بادشاہ کا یہ تفصییچ جواب سُنتے ہی اُس نے یہ کہا کہ منگتے سے کا مانگنا؟ جو خود کسی مانگ رہا ہو وہ کسی اور کو کان دے سکتا ہے؟ لہٰذا مجھے ترکے دئے ہوئے تحفے تحائف کی کوئی ضرورت نہںے ہے اور بغر کچھ لےا وہاں سے واپس چل دیا، راستے مںی رات پڑگئی، ایک دریا کے کنارے وہ رات گزارنے کے لےو ٹھہر گاا، رات کا کچھ حصہ گزرجانے کے بعد اُس نے نہر سے منہ ہاتھ دھویا جسےگ کہ بادشاہ کو اُس نے وضو کرتے دیکھا تھا، پھر اُس نے چند اُٹھک بٹھکا کںب، جسے بادشاہ نے نماز بتلایا تھا اور اُس کے بعد ہاتھ پھیلا کر اﷲ سے دُعا مانگنی شروع کی، ابھی اس عمل سے فارغ ہی ہوا تھا کہ اُسے زمنک مںے کوئی چمکتی ہوئی چزے محسوس ہوئی ، مٹی ہٹا کر دیکھا تو وہ ایک دیگ تھی، ڈھکن اُٹھایا تو اُس مںس اشرفاہں نظر آئںُ اور اییئ اییک کافی دیںو وہاں دکھائی دیں، اُس نے فوراً منہ آسمان کی طرف اٹھایا کہ واہ اﷲ! بادشاہ کو تو اُس کے محل مںا دے اور مجھے یہاں جنگل مںگ! مںہ بھی اپنے گھر مںت لوں گا اور پھر اُن دیگوں پر مٹی ڈالی اور گھر کی طرف اپنا سفر شروع کردیا،یہاں اُس کی بو ی اُس کا انتظار کررہی تھی اور علاقہ کے لوگوں کو بھی اِس بات کا علم ہوگاو تھا کہ وہ بادشاہ کے پاس گاس ہے ضرور وہاں سے بہت قیتم تحائف لے کر آئے گا، لہٰذا اُس کی جستجو مںہ رہو تاکہ وہ چز یں اُس سے ہتھاع لی جائںہ،یہ جب گھر پہنچا تو گھر کے باہر علاقہ کے لوگ بھی سُن گُن لنےف کے لےہ جمع تھے، بوجی نے بڑی بے قراری کے ساتھ پوچھا کہ بادشاہ کے پاس گئے تھے کاھ لائے؟ اُس کی بے قراری کو محسوس کےٰ بغر اُس شخص نے کہا کہ پچھےہ آرہا ہے! بوکی نے تفصل جاننا چاہی، اُس نے مکمل تفصیلات سے آگاہ کا جسے گھر کے باہر کے لوگوں نے بھی سُن لا اور گھر کے اندر بوےی نے اُسے بے وقوف قرار دیتے ہوئے اُس پر لعن طعن کی،یہاں باہر کے لوگ اُس کے بوحی کو بتلائے ہوئے پتے پر پہنچے، وہاں اُنہں دیںر نظر آئںا، جس دیگ کا بھی ڈھکن کھولتے تھے اُس مںں اُنہںو زندہ بچھو نظر آرہے تھے، آپس مںے کہنے لگے کہ جب وہ اپنی بوےی کو ساری تفصیلات بتلا رہا تھا اُس نے ہمںر بھی سُنتے ہوئے دیکھ لاد ہوگا اور ہمںئ دھوکے سے ہلاک کرنے کے لے اِن بچھوؤں کی دیگوں کو اشرفویں کی دیںںگ بتلایا تاکہ ہم اِن دیگوں کو جب اُٹھائںے تو اُس کے اندر کے بچھو ہمں ڈنگ مارمار کر ہلاک کردیں، لہٰذا اِس کو اس کا جواب دینا چاہےی، دیگوں کے ڈھکن بند کرو اور ساری کی ساری دیںان اُٹھا کر اِس کے جھونپڑے مںر ڈال دو تاکہ ان کو کھول کر جب وہ اندر ہاتھ ڈالں تو بچھوؤں کے ڈنگ سے دونوں ماکں بوہی ہلاک ہوجائںہ اور اپنے انجام کو پہنچںر، لہٰذا انہوں نے ان تمام دیگوں کو وہاں سے نکال کر علاقے مںے پہنچا کر ایک ایک کرکے اُس کے جھونپڑے مںا ڈالنا شروع کاا اور جسےں ہی وہ کسی دیگ کا منہ کھولتے تو وہ اشرفو ں سے بھری ہوئی ملتی اس طرح اﷲتعالیٰ نے اپنے سے مانگنے والے کو اُس کی اپنی چاہت کے مطابق بغرا کیو مشقت کے مالامال فرمادیا۔ ایک حکمی صاحب کا واقعہ ایک حکمی صاحب کی تربتﷲ اُن کے بچپن سے اُن کے دادا نے فرمائی تھی، روزانہ فجر کی نماز کے بعد اُن کے دادا گھر کے صحن مںا قائم ایک درخت کے نچےچ آلتی پالتی مار کر بیٹھ جایا کرتے اور اپنی گود مں اپنے اس پوتے کو لِٹا لتےل، درخت پر چڑیاں چہچہارہی ہوتںی اور دادا اپنے پوتے سے کہتے کہ تمام مخلوق اپنی روزی روزانہ صبح صبح اپنے اﷲ سے مانگتی ہںے، چڑیاں اور انسان بآواز بلند مانگتے ہںم اور بقہگ مخلوق خاموشی سے مانگتی ہے، تمام مخلوقات کو روزی اﷲتعالیٰ ہی اپنے خزانوں سے دیتے ہںب، لہٰذا تم بھی اپنی روزی روزانہ صبح اﷲتعالیٰ سے مانگا کرو اور دادا نے اپنے اس پوتے کو مستقل بناردوں پر اس کی عادت ڈلوا دی، بچپن سے جوانی،یہاں تک کہ حکمت کی تعلمﷲ حاصل کرنے کے باوجود حکمر صاحب روزانہ بلاناغہ نماز فجر کے بعد اپنی دن بھر کی روزی اﷲتعالیٰ سے مانگتے اور اپنی بوےی سے یہ کہتے کہ آج کے دن کیتمہاری جتنی بھی ضروریات ہں اُسے ایک پرچے پر لکھ کر دے دو اور وہ پرچہ تہہ کر کے جیب مںخ رکھ لتےن اور اپنے مطب چلے جاتے، مطب مںک پہنچتے ہی اُس پرچے کو نکال کر اُس مںو لکھی ہوئی ضروریات کو پڑھتے اور ہر ضرورت کی قمتد کا اندازہ لگاکر ہر ضرورت کے سامنے لکھتے اور اخری مںا ٹوٹل کرکے اﷲتعالیٰ سے دعا فرماتے کہ آج کے دن کی ضروریات کا تخمینہیہ ہے! یہ رقم مجھے عطا کی جائے۔ دعا مانگنے کے بعد مطب شروع کرتے تھے اور جسےک ہی مطلوبہ رقم پوری ہوجاتی تو اپنا مطب بند کردیتے اور بازار سے وہ چزییں لتےا ہوئے اپنے گھر پہنچ جاتے، اُن کا روزانہ کا معمول ییم تھا جسے علاقے والے بھی جانتے تھے، وقت گزرتا گای، ایک دن حکم صاحب مطب مں تشریف فرما تھے کہ مطب کے سامنے ایک گاڑی آکر رُکی اور اُس کا ڈرائوقر وہںے پنکچرشدہ ٹائر تبدیل کرنے لگ گاس اور گاڑی کا مالک دھوپ مں باہر کھڑا ہوگام، حکمے صاحب نے اپنے مطب مں بٹھے بٹھے اُسے دیکھا، اُٹھ کر اُس کے واپس گئے اور اُسے کہا جب تک ڈرائوار ٹائر تبدیل کرے آپ یہاں مطب مںھ آکر بیٹھ جائںب، وہ شخص مطب مںو آگاگ، حکم صاحب سے باتںت کرتا رہا، حکما صاحب کی ایک چھوٹی بچی بھی وہاں مطب مںا کھلم رہی تھی اُسے بھا س نے دیکھا اور حکمے صاحب سے کہا کہ مںو فلاں گاؤں مں رہتا ہوں اور انگلنڈب سے آیا ہوں، مر ی شادی کو ایک طویل عرصہ گزرگای لکنا ابھی تک مرحے ہاں کوئی اولاد نہںر ہے، اگر آپ کے پاس کوئی علاج ہو تو مر ا بھی علاج کردیں۔ حکمم صاحب نے دوائوُں کی چند پڑیاں بناکر اُسے دیں اتنے مںا ڈرائوےر نے ٹائر کے تبدیل ہونے کی اطلاع دی اور وہ دوائی کی قمتئ ادا کرکے حکم صاحب سے اجازت لے کر واپس چلا گا ۔ اﷲکی ذات نے اُس کے علاج شروع ہونے کے بعد اُس کے یہاں بی ٹ دی، سارا قصّہ وہ پہلے اپنی اہلہا کو سُنا چکا تھا دونوں مایں بوکی خوب خوش ہوئے، حکمو صاحب کو دعائںو بھی دیں، چونکہ اِن کا قاوم انگلنڈا مںر تھا اس لےک حکم صاحب سے ملاقات بھی نہ ہوسکتی تھی، اﷲ کا کرنا یہ ہوا کہ کچھ عرصے کے بعد بچپن ہی مںن اُس بچی کا انتقال ہوگاا، گاؤں کے اندر اِن کی ایک بہن رہتی تھی اُس کی بھی ایک بچی تھی جو تقریباً جوان ہوچکی تھی اور اپنی غربت کی وجہ سے اُن کی بہن اس بچی کی شادی کے اخراجات کا انتظام نہںا کرپارہی تھی، اِن دونوں ماتں بودی نے آپس کے مشورے سے اپنی بہن کی بچی کی شادی مںے تعاون اور مدد کا فصلہں کا ، سارے انتظامات مکمل ہوتے ہی اﷲ کا کرنا اُس بچی کو کوئی بماشری نکلی اور اُس بچی کا بھی انتقال ہوگا ۔ اِن صاحب کو یہیاد آیا کہ حکمن صاحب کی بھی ایک بچی تھی جو اب جوان ہوچکی ہوگی کو ں نہ یہ سارا انتظام ہم حکمن صاحب کے حوالے کرکے اُن کی بچی کی شادی مںز اُن کا تعاون کریں،یہ فصلہ کرچکنے کے بعد وہ صاحب کئی مرتبہ حکمئ صاحب کے مطب پہنچے لکنا جب بھی گئے مطب کو بند پایا، بڑی تشویش ہوئی، کئی دنوں کے بعد علاقے والوں سے حکمب صاحب کے متعلق معلوم کا ، لوگوں نے بتلایا اگر حکم صاحب سے ملنا ہی چاہتے ہں تو صبح صبح آکر ملں ، اُن کا ایک معمول ہے کہ جس وقت بھی اُس دن کی ضروریات کا انتظام مکمل ہوجاتا ہے تو وہ مطب بند کردیتے ہں چاہے پھر وہ دن کے شروع کے حصے میںیا کسی بھی حصے مں ہوجائے، لکنہ صبح صبح مطب ضرور کھلتا ہے، وہ شخص اگلے دن صبح صبح پہنچا اُس دن کا قصّہ یہ ہے کہ معمول کے مطابق جب بویی نے اُس دن کا پرچہ حکمہ صاحب کو دیا اور حکمط صاحب اُسے لے کر مطب پہنچے تو اُس پرچے مںے اُس دن کی ضروریات کے علاوہ ایک اور بات بھی لکھی ہوئی پائی کہ بچی جوان ہوگئی ہے اور اُس کی شادی کے اخراجات کی ضرورت ہے! حکمک صاحب نے دیگر چزکوں کا تو تخمنہب لگایا اور اِس بات پر یہ لکھ دیا کہ یہ مر ا نہںم اﷲتعالیٰ کا کام ہے اور پرچہ بند کرکے جیب مںس رکھ لاو۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ صاحب تشریف لائے، دعا سلام کے بعد حکما صاحب سے کہا آپ نے مجھے پہچانا! حکم صاحب نے کہا نہںک! اُنہوں نے ساری تفصیلات بتلا دیں جس سے حکم صاحب کو بھییاد آگان اور ملاقات پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے آنے کا مقصد پوچھا، اُنہوں نے ساری تفصیلات ذکر کرتے ہوئے مقصد یہ بتلایا کہ بھانجی کی شادی کا سارا انتظام مکمل تھا اور اُس کا انتقال ہوگاں اُس سارے انتظام کو ہم آپ کی بچی کی شادی کے لےہ دینا چاہتے ہں قبول فرمالا جائے۔ اُن کی بات سُن کر حکمے صاحب نے جیب سے پرچہ نکال کر اُنہںو دکھایا اور کہا کہ اسے پڑھ لو اُن صاحب نے دیکھا کہ دوسری تمام چز وں کے سامنے تو قمتے لکھی ہوئی ہے، لکنپ اِس بات کے سامنے یہ لکھا ہوا تھا کہ یہ مرحا نہںت اﷲتعالیٰ کا کام ہے اور اﷲتعالیٰ نے اُس کام کو اُسی دن حکمے صاحب اور اُن کی بوہی کی چاہت کے عنس مطابق اِن صاحب کے ذریعے سے پورا کروا دیا۔ اﷲ کی راہ اب تک ہے کُھلی اﷲ کی راہ اب تک ہے کُھلی آثار و نشاں سب قائم ہںی پر اﷲ کے بندوں نے اُس راہ پر چلنا چھوڑ دیا اﷲ کی راہ اب تک ہے کُھلی، آئےن اپنی آنکھوں سے حلال رزق کے ثمرات کا مشاہدہ کرلںہ! ابھی کچھ ہی عرصہ پہلے ایک صاحب جو چار ہزار (4000) روپے ماہانہ تنخواہ پر کسی جگہ ملازم تھے اور بظاہر اپنی ایمانداری کی وجہ سے مالکان کا اعتماد حاصل کےی ہوئے تھے، لکنھ اپنے اخراجات کے حوالے سے ملازمت کی جگہ سے مال اور رقم چوری کار کرتے تھے، نہ جانے یہ سلسلہ کب سے جاری تھا کہ اُن کی ہدایت کا وقت نزدیک آپہنچا، اﷲتعالیٰ کا کرنا یہ ہُوا کہ اِنہںل تبلی جماعت کے افراد نے دعوت دی اور وہ اﷲتعالیٰ کی راہ مں وقت لگانے پر آمادہ ہوئے، مالکان سے چار (4) مہنےت کی رخصت حاصل کی اور اﷲتعالیٰ کی راہ مںو نکل گئے۔ وقت گزارنے کے ساتھ ساتھ ذہن مںر بھی تبدییے آئی اور انہوں نے اس بات کا تہہُ کرلار کہ آئندہ چوری نہںی کروں گا، لکن اخراجات تنخواہ سے زیادہ تھے اُسے قابو کرنا چوری کے بغرا اُن کے بس سے باہر تھا، چونکہ وہ چوری نہ کرنے کا تہہا کرچکے تھے، لہٰذا چار (4) مہنےا کی تکمل کے بعد انہوں نے مالکان سے تنخواہ بڑھانے کی درخواست کی۔ مالکان نے اضافے سے انکار کردیا اور اُن کی ضد پر اُنہںک صاف جواب دے دیا کہ کام کرنا ہو تو اِسی تنخواہ مںخ کریں ورنہ آپ فارغ ہںن۔ پریشانی کے عالم مںا علاقے کے ساتھوذں سے مشورہ کاپ، انہوں نے مشورہ دیا کہ اپنایہ معاملہ بزرگوں کے سامنے رکھں ، چنانچہ انہوں نے بزرگوں سے رابطہ کا اُن کی ساری کہانی سُن کر بزرگوں نے انہںر مشورہ دیا کہ آپ اپنی تنخواہ مں، دو(200) روپے کی کمی کروا لںں، اُنہوں نے عرض کاک کہ اس تنخواہ مںم پہلے ہی اخراجات پورے نہں ہوتے، قرضہ بھی چڑھا ہوا ہے اور آپ تنخواہ مں سے دو(200) روپے کم کرنے کا مشورہ دے رہے ہںت۔ بزرگوں نے کہا کہ بھائی ہماری سمجھ مںن جو بات آئی اُس کے مطابق ہم نے مشورہ دے دیا اب آپ کی مرضی ہے کہ اس مشورے پر عمل کریںیا نہ کریںیہ تو ایک مشورہ ہے۔ اُن صاحب کی سمجھ مںس تو کچھ نہ آیا البتہ انہوں نے مشورہ مان لاا اور جاکر مالکان سے یہ کہا کہ اگر تنخواہ نہںن بڑھاتے تو مرہی تنخواہ میںسے دوسو (200) روپے کم کردیں۔ مالکان نے کہا کہ عجبا بے وقوف آدمی ہے کہاں تو اضافے کی ضد کررہا تھا اور کہاں اب دوسو (200) روپے کم کرنے کی رَٹ لگائی ہوئی ہے۔ بہرحال انہوں نے اس کی خواہش کے مطابق دوسو(200) روپے کم کردیے۔ اب اس کے پاس ماہانہ اڑتسش سو(3800) روپے تھے جس سے گھر کا خرچہ چلانا تقریباً ناممکن تھا، لکنہ مزید کسی جائز یا ناجائز انتظام کے بغرک انہوں نے اِنہی پسو ں مںپ اخراجات شروع کردئےً اور جو کچھ بھی اُن کے ماہانہ اخراجات تھے وہ بغری قرضہ لےو ہوئے پورا ہونا شروع ہوگئے۔ کچھ وقت کے بعد اُن کی بو ی نے اُن سے یہ کہا کہ اخراجات مںک تو کوئی تنگی نہںن ہے، پسےا بھی پورے ہوجاتے ہں لکنو قرضوں کی ادائیوں کے لےہ کچھ نہںج بچتا، آخر قرضے بھی تو اتارنے ہں ۔ اس پریشانی کو لے کر وہ دوبارہ بزرگوں کے پاس گئے اور کہا کہ آپ کے مشورے کے مطابق عمل کا گاں تو اخراجات تو پورے ہورہے ہں لکن قرضوں کی ادائیہں کا کوئی انتظام نہںک ہوپارہا! بزرگوں نے اُن کییہ بات سُن کر پھر مشورہ دیا کہ اپنی تنخواہ مںن سے مزید دوسو (200) روپے کم کروا لےئ جائںا۔ پہلے تجربہ کی وجہ سے اُنہوں نے بغر! کسی پس و پشا کے بزرگوں کا مشورہ قبول کرتے ہوئے اپنی تنخواہ مںھ سے مزید دوسو (200) روپے کم کروا لےب۔ اب وقت گزرتا گا ، نہ صرف اخراجات بھی پورے ہورہے تھے بلکہ قرضوں کی ادائی ا بھی شروع ہوگئی، اُنہی چھتس سو (3600) روپوں مںی غیرف طور پر اخراجات بھی پورے ہورہے تھے اور قرضے بھی ادا ہورہے تھے، یہاں تک کہ اﷲتعالیٰ نے قرضوں سے بھی فارغ فرمادیا۔ بو ی نے اپنے شوہر کو یہ بات بتلائی کہ اخراجات مںی بھی کوئی تنگی نہںک ہے اور قرضے بھی ادا ہوگئے ہںت، لکنق گھر مں بچاںں جوان ہورہی ہںک! اُن کی شادی کے انتظامات بھی تو کرنے ہں وہ کسے ہوں گے؟ یہ مسئلہ لے کر پھر وہ بزرگوں کے خدمت مںے حاضر ہوئے اور اُنہںی تفصل بتلاتے ہوئے عرض کاغ کہ اخراجات کے ساتھ ساتھ قرضے بھی ادا ہوگئے، لکنے اب بچورں کی شادیوں کے حوالے سے مسئلہ درپشی ہے۔ اُس کییہ بات سُن کر بزرگوں نے یہ کہا کہ اب تک کہ ترئے دونوں فوری مسائل اﷲتعالیٰ نے اس تنخواہ مںم پورے فرمادئےہ، جب بچوضں کی شادیوں کا وقت آئے گا تو اﷲتعالیٰ کی طرف سے اُس وقت کا انتظام بھی ہوجائے گا، لہٰذا مزید کسی پریشانی کی ضرورت نہںر ہے۔ اُن صاحب نے بزرگوں کے جواب کے بعد اُن سے کہا کہ آپ کے کہنے پر مں نے تنخواہ مںق کمی تو کروا لی لکن کمی کروانے کی وجہ مر ی سمجھ مںک نہںے آئی، اگر آپ مجھے اس کی وجہ بھی سمجھا دیں تو ینلا مںو اضافہ ہوگا! بزرگوں نے کہا بھائی ترئا کام ہوگا اب تو اسی کے مطابق کام کرتا رہ اور اس کی علّت سمجھنے کی کوشش نہ کر۔ اُس نے ضد کی تو بزرگوں نے اُس سے کہا کہ بھائی برکت حلال رزق مں ہی ہوتی ہے، جب تونے اپنے احوال ذکر کےا تھے تو ہم نے یہ سوچا کہ ترسی کمائی مکمل طور پر حلال نہںہ ہے، تو جن اوقات مںن ملازمت کرکے مالکان کو اپنا وقت دے رہا ہے وہ وقت تو ملازمت کے کاموں مں مکمل طور پر خرچ نہںح کررہا، اِن اوقات کے اندر جب تو کسی فرض نماز کی ادائی ر کے لے جاتا ہے تو فرائض کے ساتھ سُنن اور نوافل بھی ضرور پڑھتا ہوگا، تسبحابت بھی کرتا ہوگا، تعلمز مںا بھی بٹھتا ہوگا، فرض نماز کے علاوہ یہ تمام کام ملازمت کے اوقات مںھ انجام دینا تررے لےھ جائز نہںح تھا، ہم نے اُن اوقات کا اندازہ لگایا اور ترری تنخواہ مںھ سے شرح کے مطابق دوسو (200) روپے کم کروا دئےں تاکہ جتنا وقت تو ملازمت کو دیتا ہے اُس کے مطابق ترای تنخواہ بن جائے، لکنہ جب آکر تونے قرضوں کی بات کی تو ہم نے یہ سوچا کہ اب بھی تنخواہ ملازمت مںت استعمال ہونے والے طے شدہ وقت کے مطابق نہں ہے، لہٰذا اُس کے مطابق کرنے کے لےو ہم نے مزید دوسو (200) روپے کم کروا دئے ۔ اب تو ملازمت مںک جتنے اوقات دے رہا تھا اُسی کے مطابق تو تنخواہ بھی لے رہا تھا اور یہ تنخواہ ترتی خدمات کے مقابلے مں مکمل طور پر حلال ہوگئی تھی، اس حلال مں اﷲتعالیٰ نے اپنے وعدے کے مطابق برکت ڈال دی اور تر ی جتنی لازمی ضروریات تھیںوہ بھی پوری فرماتا رہا اور جتنے تروے قرضے تھے وہ بھی اﷲتعالیٰ نے پورے کروا دئےل اور تُو زندگی گزارنے کے اعتبار سے فوری طور پر اپنے اس انتظام کے ذریعے سے پریشانو ں سے فارغ ہوگاو۔ اس واقعے کی روشنی مںپ مجھ سمتا ہر انسان کو غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ملازمت کے اوقات مںے فرائض کے علاوہ دییی خدمات انجام دینے سے بھی تنخواہ کے حلال اور حرام ہونے پر اثر پڑتا ہے تو لمحۂ فکریہیہ ہے کہ ہم اپنی ملازمتی اوقات کے دوران نہ معلوم کس کس طرح کی اوقاتی غرخذمہ داریوں کا مظاہرہ کرتے ہںی، مزیدیہ کہ دفتر مںخ دفتری ضروریات کے لےن استعمال ہونے والی اشاگء کو بے دریغ اپنے ذاتی کاموں مںر استعمال کرتے ہںا، دل بہت بڑا مفتی ہے جب بھی فتویٰ لناے چاہںس تو اُس سے شریعت کی تعلمے کے مطابق فتویٰ لان جاسکتا ہے کہ اس تنخواہ کے حصول کے بعد ہماری پریشانایں کواں ختم نہںا ہورہںا؟ بلکہ اُس مںر اضافہ دراضافہ تنخواہ مں ترقی کے باوجود بھی ہوتا چلا جارہا ہے۔ روزی کی تلاش اﷲتعالیٰ سے رابطے کے ساتھ برائے کثرت رِزق {اَﷲُ لَطِیْفٌم بِعِبَادِہٖ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآئُ وَ ہُوَ الْقَوِیُّ العَزِیْزُ} (سورۂ شوریٰ آیت 19) ہر نماز کے بعد خوب کثرت سے پڑھا جایا کرے۔ فاقے سے امن پوری ’’سورۂ واقعہ‘‘ روزانہ رات کے کسی بھی حصے مںک پڑھنے کا معمول بنا لال جائے۔ (سورج غروب ہوجانے کے بعد سے لے کر صبح صادق شروع ہوجانے کا درمأنی وقفہ رات مںس شمار ہوتا ہے۔ جس کی روزی تنگ ہو {اَلْکَرِیْمُ، اَلْوَھَّابُ، ذُوالطَّوْلِ} خوب کثرت سے پڑھا کریں۔ جو روزی مںو برکت چاہتا ہو گھر مںز کوئی ہو یا نہ ہو گھر مں داخل ہوتے ہوئے ’’السلام علکمل ورحمۃ اﷲ‘‘ کہے، ایک (1) مرتبہ درودشریف پڑھ کر پھر ایک (1) مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھے۔ برائے کاروبار کی ترقی کسی بھی وقت روزانہ ایک سو اکتالس (141) بار درج ذیل آیت پڑھتا رہے: {لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِط اِنَّ اﷲَ ہُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ} (سورۂ لقمان آیت 26) کای آپ کام مںہ آسانی اور رزق مںا برکت چاہتے ہںّ کسی بھی جائز کام مںن آسانی اور رزق مںا برکت پانے کے لےن کسی بھی وقت ایک ہی بٹھک مںک اکتالست (41) مرتبہ پوری سورۂ مزمّل پڑھ لے ان، اوّل و آخر سو(100) سو (100) مرتبہ درود شریف پڑھے}،یہ عمل صرف تنہ (3) دن کے لے ہی ہے۔ رزق مںن کشادگی کون نہںس چاہتا! فجر کی نماز کے بعد گاارہ (11) مرتبہ درج ذیل آیت کے پڑھنے کا معمول اپنائےے: {اَللہُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖ وَ یَقْدِرُ لَہٗ اِنَّ اللہَ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ}(س

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
483