(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/05/23
موضوعات
دنیاوی زندگی کی حقیقت
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ دناْوی زندگی کی حققتم اللہ تعالیٰ نے اپنی اس خوبصورت دناق کو نباتات ،جمادات، حواانات کے حوالوں سے اپنی قسم ہا قسم کی نعمتوں سے سجارکھا ہے ۔انسان کی طبعتص مںہ ان نعمتوں کی چاہت اور کشش بھی رکھی ہے۔ انسان ان نعمتوں کے ذریعے اپنی فطری ضرورتوں کو پورا بھی کرتا ہے۔یقینا ان ضرورتوں کے پورا ہونے سے انسان کو سکون و اطمناھن (Peace and Satisfaction)بھی نصبا ہوتا ہے۔ یہ سکون و اطمناعن اس لےب بھی ضروری ہے تا کہ انسان اپنے رب کی بندگی کرسکے،رب کی بندگی ہی اس کی پدعائش کا مقصد حقینی ہے اور اس مقصد کے تحت اسے عارضی طور پر اس دناو مں بھجا گاے ہے۔اس بندگی کی ابتدا انسان کے بالغ ہونے کی عمر سے ہوتی ہے اور موت تک جاری رہتی ہے۔بندگی کا یہ عرصہ انسان کو اسی دنا مںب پورا کرنا ہوتا ہے۔ گویا کہ یہ پرکشش دنات انسان کی ضرورت بھی ہے اور اس کی کشش مں۔ کھو کر رب کی بندگی سے غافل بھی نہںf ہونا۔جس نے اس احتا ط سے زندگی گذارلی اسے اس دنائ کے بعد کی زندگی میںجسے آخرت کی زندگی کہا جاتا ہے اس دنال کی نعمتوں سے بدرجہا بہتر اور ہمشہ باقی رہنے والی نعمتوں سے ہمشہس ہمشہی کے لےی نواز ا جائے گا۔دنار اور اس کی نعمتوں کے مقابلے مں آخرت اور اس کی نعمتوں مںج بناہدی فرق (Basic diference) ہییہ ہے کہ دنائ اور اس کی نعمتں عارضی اور ختم ہوجانے والی ہںم جبکہ آخرت اور اس کی نعمتںد مستقل اور ہمشہd باقی رہنے والی ہں ۔دنای اور اس کی نعمتںو انسان کو صرف استعمال کے لےر دی جاتی ہں۔ اور واپس لے لی جاتی ہںگ اور ان سے متعلق حساب کتاب بھی ہوگا جبکہ آخرت اور اس کی نعمتںع مستقل طور پر نہ صرف دے دی جائیگہے،بلکہ ان مںں بہتر سے بہتر اضافہ بھی ہوتا رہے گا،کبھی واپس نہںٓ لی جائیگور اور کسی قسم کی پوچھ گچھ بھی نہںم ہوگی۔ اس دنا مں۔ گذرنے والی انسانی زندگی کا جائزہ لاھ جائے تو یہ حققتی ابھر کر (Become prominent) سامنے آتی ہے کہ اس زندگی کا واسطہ تنک چزروں سے ہے: 1 خود اللہ تعالیٰ کی ذات کی عبادت سے واسطہ، اس کا مشہور ومعروف نام حقوق اللہ ہے۔جس کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان اپنے سر کے بالوں سے لے کر پرہ کے ناخنوں(Nail) تک کے تمام اعضاء اور بالغ ہونے سے لے کر موت تک کی زندگی کے تمام لمحات مں نبیﷺ کے طریقوں کے مطابق مکمل طور پر اﷲتعالیٰ کی ’ ’غلامی‘‘اختاار کر لے۔ 2 رشتے داروں ،پڑوسوپں ،دوست احباب،معاشی تعلقات،سفر وتعلمط وغرلہ سے متعلق ساتھومں سے واسطہ، اس کو حقوق العباد کے نام سے جانا جاتا ہے۔ 3 خود انسان کی اپنی ضروریات سے واسطہ، اس کو حقوق النفس سے تعبرر کا جاتا ہے۔ مندرجہ بالا تینوں حقوق کی ادائوے وںکے لےت انسان کو دناا کی چزموں کی ضرورت پڑتی ہے جس سے انکار ناممکن ہے۔اس لازمی ضرورت کے لےا مستقل ایک طرز زندگی ایسا ہونا چاہئے جس کو اپنا کر اس دناا مںا بسنے والے (Habitant)تمام انسان، بک وقت بغرے کسی پریشانی کے اپنی اپنی ذات سے متعلقہ ان حقوق کو ٹھکا ٹھکت ادا بھی کرتے رہں اور دنان کا امن و سکون بھی تباہ نہ ہو ،تاکہ دنال کے طے شدہ نظام کے خوش اسلوبی سے چلتے رہنے مںس کوئی رکاوٹ بھی پشت نہ آئے۔ایسا طرز زندگی ’’اسلام‘‘ کے نام سے خود اللہ تعالیٰ ہی نے نبیﷺ کے ذریعے عطا فرمایا ہے جس مں اللہ تعالیٰ کے حقوق، انسان کی ذاتی زندگی ،تمام انسانوں کی اجتماعی مفادات کی اس دنا مں رکھی جانے والی صلاحتوبں کے مطابق رعایت رکھی گئی ہے۔اسلام نے اس طرز زندگی کو ’’حیٰوۃ طبہم‘‘کا نام دیا ہے جس کے لےذ ایمان و اعمال صالحہ بناےدی شرط ہںع۔اس طرز زندگی مں۔ نہ دناگ کو چھوڑنا پڑتا ہے ،نہ انسان کی پدہائش کا مقصد فوت ہوتا ہے ،نہ اﷲتعالیٰ سے تعلق ٹوٹتا ہے اورنہ ہی آخرت کی ہمشہ ہمشہں باقی رہنے والی زندگی برباد ہوتی ہے۔ اس کے بالمقابل جتنے بھی طرز زندگی آج دنا مںو پائے جاتے ہںہ اگر ان کا سرسری (By the way)بھی جائزہ لا جائے تو ابھرنے والے ان حقائق کا انکار ممکن نظر نہںہ آتاکہ یہ تمام طرز زندگی انسانوں کے اپنے بنائے ہوئے ہیںجن مںش نہ دناق کی صلاحتولں کو مد نظر رکھا گااہے نہ حقوق اللہ کی رعایت کا خازل دکھائی دیتا ہے، نہ اجتماعی مفادات کی اہمتی سمجھی گئی ہے، نہ ذاتی زندگی کا کوئی لحاظ اپنی جگہ پاسکا ہے ۔ آخرت کی زندگی کو بناقد کے طور پر لاد گاہ ہے نہ اپنی پدسائش کے مقصد پر نظر رکھی گئی ہے، نہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے شوق کا ادنیٰ سا شائبہ پایا جاتا ہے۔ نہ اللہ تعالیٰ کی طاقت، قوت، پکڑ ‘ محاسبے (Check) کے خوف کو مانا گار ہے۔ بس جس طرح ‘ جسے بن سکے دنای کو حاصل کاہ جائے ‘ اپنے ہی قبضے مںہ رکھی جائے،یی وہ طرز زندگی ہے جس کی بنااد صرف اور صرف دناک ہے ا س طرز ِ زندگی کو اگر قرآن کی زبان مںہ نام دیا جائے تو ’’حیٰوۃ الدنا ‘‘ کے علاوہ کاج ہوسکتا ہے؟ حیٰوۃ الدناس نامی طرز ِ زندگی اختازر کرنے سے پہلے انسانی حوالے سے ایک تسلم شدہ حققتن پر غور کرلنا اور اختاصر کرنے کے بعد بھی اس پرغور کرتے رہنا کتنا ضروری ہے؟ انسان کا روزانہ کا مشاہد ہ ہے کہ اس کی طرح کے سنکڑپوں انسان مٹھی بند کےس ہوئے با لکل خالی ہاتھ اس دناد مںہ آتے ہںع اور سنکڑ وں انسان ہتھاںہ ں کھولے ہوئے بالکل خالی ہاتھ اس دنا سے واپس چلے جاتے ہںا (گویایہ ایک خاموش پغاسم ہے کہ آنے والا آتے ہوئے مٹھی بند کرکے دناا پر اپنی حرص (Greed) کا اظہار کر رہا ہے اور جاتے ہوئے ہتھایغوں کھو ل کر اپنی ناکامی اور بے بسی کا اعلان کر رہا ہے)کاس اس اٹل حققتe کے تاقا مت برقرار رہنے کے اعتراف کے بعد اس کی گنجائش باقی رہتی ہے کہ اس طرز زندگی کو زندگی کا مقصد بناکر اختاار کاہ جائے؟کاe اس طرح زندگی کو اختارر کرنے والوں کے سنوہں مںج دھڑکتے دلوں کے ہوتے ہوئے قرآن کی زبان مںع انہیںیہ بات کہی جاسکتی ہے کہ: ’’ان کے دل ہںر (مگر) وہ ان سے سوچتے سمجھتے نہںد‘‘(سورۂ اعراف آیت 179) کاد ان کی آنکھوں مںت بناےئی کی طاقت ہوتے ہوئے انہیںیہ آئنہ دکھایا جاسکتا ہے: ’’ان کی آنکھںا ہںت (مگر) ان سے دیکھتے نہں ‘‘۔(سورۂ اعراف آیت 179) کار ان کے کانوں مںس سماعت کی قوت کا علم ہونے کے باوجودانہیںیہ اطلاع دی جاسکتی ہے: ’’ان کے کان ہںا (مگر) ان سے سنتے نہںف۔‘‘(سورۂ اعراف آیت 179) حیٰوۃ الدنا‘ والا طرز زندگی اختایر کرنے سے پہلے کاک اس تحققہ کی ضرورت نہں کہ خود اس دنا کی حققت) اس کے پدتا کرنے والے کے نزدیک کاد ہے؟نبیﷺ نے بڑے بھر پور اور واضح انداز مںک اس کی حققتح ارشاد فرمائی ہے۔ آپﷺ نے آخرت سے موازنہ فرماتے ہوئے ایک مثال کے ذریعےیوں ارشاد فرمایاکہ تم مںس سے کوئی سمندر کے پانی مں انگلی ڈال کر نکال لے اور دیکھے کہ سمندر مںم کاا کمی آئی۔یینب انگلی مںل لگے ہوئے اس گلےہ پن کو سمندر کے لامحدود پانی (Limitless water) سے جو نسبت ہوسکتی ہے دنا کو آخرت سے بس اتنی ہی نسبت سمجھو۔ ایک مرتبہ بکری کے ناک کان کٹے ہوئے مردار بچے کی حقارت صحابہ رضی اللہ عنہم کے ذہن مں نقش کراتے ہوئے ارشاد فرمایا: جس طرح بکری کا یہ مردار بچہ تمہارے نزدیک ذللح ہے اس سے کہںم زائد اللہ تعالیٰ کے نزدیکیہ دناs ذللد ہے۔(واضح رہے کہ اس سے وہی طرزِ زندگی مراد ہے جسے فقط دناج ہی کو مقصد بناکر اختاکر کال جائے)ان ارشادات مبارکہ کی روشنی مں اس ارشاد مبارکہ کو بھی ذہن نشین رکھا جائے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس دناا کی قمتع مچھر کے ایک پر کے برابر بھی ہوتی تو اپنے نہ ماننے والوں کو پانی کا ایک گھونٹ بھی عنایت نہ فرماتے۔کام ان حقائق کے معلوم ہونے کے بعد اس طرزِ زندگی کواہمتک دی جانی چاہئے؟ حوٰوۃ الدنای کے ظاہری نقصانات کی فہرست بھی خاصی طویل ہے: 1 انسان جو کہ اشرف المخلوقات (Most eminent of the created beings) ہے اس کی اپنی عزت کی ،وجاہت کی، مرتبے کی،عہدے کی، باہمی محبت کی، مروت کی،باہمی شرم وحاع کی،باہمی ہمدردی (Sympathy)کی، بھائی چارگی (Fraternity)کی اہمت، ختم ہوجاتی ہے۔ 2 دناt ایک منڈی بن جاتی ہے ،لوٹ مار کا بازار گرم رہتا ہے۔ 3 باہمی اعتماد دم توڑ جاتا ہے۔ 4 بد گمانی ،توہم پرستی،خوف،دہشت عروج پر رہتی ہے۔ 5 جنگ وجدل ،قتل و غارتگری کا چلن عام ہو جاتا ہے۔ حیٰوۃ الدنات کے باطنی نقصانات کا اندازہ اس سے لگا یا جا سکتا ہے کہ انسان گمراہی کے تاریک اور ڈھلوان راستے پر سر پٹ دوڑرہا ہوتا ہے اور اس کے درج ذیل نتائج ظاہر ہونا شروع ہوجاتے ہںر: 1 اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی آرزو ،امدے اور تمنا ہی ختم ہوجاتی ہے(ییر گمراہی کی ابتد ا اور پہلی منزل ہے)۔ 2 دنوہی زندگی کی مصروفتے اتنی بڑھ جاتی ہے اور اس کے خانل مںر دیوانگی کا یہ حال ہو جاتا ہے کہ اس فساد بھرے ماحول پر رضامندی پدوا ہوجاتی ہے(یہ گمراہی مںت ترقی اورا س کی دوسری منزل ہے)۔ 3 دنوہی زندگی کی طرف دل کا رجحان اتنا ہو جاتا ہے کہ اسی سے اطمناتن حاصل ہوتا ہے اور اس سے نکلنے کو جی نہںپ چاہتا (یہیگمراہی مںق پختگی اور اس کی تسر ی منزل ہے)۔ 4 دناہ مںر آنے والے زلزلوں(Earth Quake)،قحط،وبا(Famine)، طوفان(Storm)، پے درپے آفتوں، باہمی جنگوں(Wars)، کاروباری نقصانات، کساد بازاریوں، جانی مالی صدموں سے بھی ضمرے بدبار نہںو ہوپاتا(ییا گمراہی مںا رچ بس جانا او راس کی آخری منزل ہے۔) حیٰوۃ الدناو کے دنوتی نقصانات کو اس طرح بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ دناے کو مقصد بنا کر اس کے حصول مںد انتہائی(Utmost) کوشش کرنے کے باوجود دنا عطاکرنے والے کی طرف سے چاہت کے مطابق نہںی ملتی،مال کی کثرت کی خواہش رنج و غم اورحسرت و افسوس مںد مبتلا رکھتی ہے(حرفت کا مقام ہے کہ پھر بھی لائن تبدیل کرنے کی نہںہ سوجھتی۔) حیٰوۃ الدناو کے اخر وی نقصانات کچھ اس طرح ہںا کہ دناب سے جاتے ہوئے ان کے پاس کوئی اییں دولت نہںت ہوگی جس کے ذریعے وہ آخرت کا سکھ چند حاصل کرسکںی‘آخرت کی خر وں(بھلائوبں)مںے ان کا کوئی حصہ نہںہ ہوگا‘اللہ تعالیٰ کی نظر رحمت سے محروم رہیںگے‘اللہ تعالیٰ کے غضب اور لعنت کے مستحق قرار دیئے جائیںگے‘جہنم ان کا ٹھکانہ ہوگا۔ یہ ہے حیٰوۃ الدناٰ کی ہلکی سی جھلک جسے قرآن مجدہ نے کہں فرمایا کہ دنا کی چند روز ہ زندگی بالکل حقرح سی زیب و زینت ہے، کہںل فرمایا کہ صرف دناا مںل برتنے اور استعمال کرنے کی چزریں ہںل۔کہںج اسے دھوکے کا عنوان دیا۔کہں اس بے ثباتی اور حقارت کو ذہن نشین کراتے ہوئے فرمایا: {عَرَضَ الدُّنْیَا} (سورۂ انفال آیت 67) کہںک{عَرَضَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا}(سورۂ نساء آیت 94) کہں {عَرَضَ ھٰذَا الْاَدْنٰی} (سورۂ اعراف آیت 169) فرمایا (عرض اس چزو کو کہتے ہںم جس کاذاتی کوئی وجود نہ ہواور دوسروں کے سہارے(Support) ظاہر ہوسکےیہ انتہائی بے ثباتی اور حقارت کا با ن ہے)کہںک فرمایا(دناہ مںد)تمہارے پاس جوکچھ ہے وہ(ایک دن)ختم ہوجائگاے ،کہںا فرمایا (قاامت کے دن ہم تم سے کہںے گے)اور جو کچھ ہم نے تم کو (دنو ی سازو سامان)(Equipment)عطا کاہ تھا اسکو وہں چھوڑ آئے(ییند جس طرح دنا مںم بغرں ساز و سامان کے گئے تھے واپس بھی اسی طرح ہی آگئے۔) خلاصہیہ کہ اس کی ظاہری حالت چاہے کچھ ہی کوٓں نہ نظر آرہی ہوحققتاً یہ مقصد زندگی بنالنےح کے قابل ہے ہی نہں ۔ اللہ تعالیٰ نے اس مںا کشش ضرور رکھی ہے لکنا اپنے ماننے والوں کے لےم اس معنیٰ مںح کہ وہ اسے رغبت(Wish) سے حاصل کریں اور اپنی دنومی ضرورتوں اور اخروی فائدہ مند کاموں مںا استعمال کرلں ۔اپنے نہ ماننے والوں کے لےہ اس معنیٰ مںا کہ وہ اسے ہی اپنا مقصد زندگی بنانا چاہتے ہںں تو پوری رغبت سے اس کے حصول مںک لگ کر حقینی مقصد(Real aim) زندگی سے غافل ہی رہںس(یہ بھی عذاب ہی کی ایک صورت ہے۔) حق کی راہ تلاش کرنے اورکاماوبی والی زندگی کی جستجو رکھنے والوں کے لے اسلامی تعلماوت کے ذخرںے(Store) مںو اتنی کافی وشافی وضاحتیں عنایت فرمائی گئی ہںت جنہں نہ صرف عقل تسلمم کرتی ہے بلکہ انہیںجھٹلایا بھی نہیںجاسکتا۔ صاحبان عقل و شعور جنہںی پڑھنے کے بعد پورے اطمنامن سے اس نتجےل پر پہنچتے ہں کہ حیٰوۃ الدنا والے طرز زندگی کے خاطر خواہ مفدی نتائج اس دنان میںنہیں نکلتے، دناا کا امن و سکون اسی اکثریت کی وجہ سے تباہ(Spoiled) رہتا ہے اور آخرت کی ہمشہک ہمشہد والییقینی و حقیور زندگی مںا تو اس کی افادیت (فائدہ پہنچنا)ذرہ برابر بھی نہںم ہے اس کے باوجود اگر کوئی اس طرز زندگی کو اختائر کےا رکھتا ہے تو وہ نابالغ و بے شعور بچوں کی طرح بے مقصد کھلت کود والی حرکتوں مں مبتلا(Involved) ہے،یا وہ جانوروں والی بے حس زندگی گذارتے ہوئے فقط دناوکے موہوم، (فرضی و غرفییکت ) مذموم، (برے، نفرت کےن گئے) مبغوض، (ناراضگی بھرے) ملعون (رحمت سے دور کئے ہوئے) نفع کے پچھے دوڑ رہا ہے اور اپنے آپ کو کا مصداق بنادیئے جانے پر مصر (اڑا ہوا)ہے یین دناک اور آخرت دونوں کو کھودینا چاہتا ہے اور یین محرومی کی انتہاہے۔ اللہ تعالیٰ محض اپنے لطف و کرم سے امت مسلمہ کے ہر ہر فردکو اس سے تاحاںت محفوظ رکھے۔(آمنک) فقہی مسائل مسئلہ:جو کھلا دین سے گمراہ ہونے یا دوسروں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بنے یا جس سے شریعت کا کوئی حکم ٹوٹ رہا ہو ناجائز اور حرام ہے۔ مسئلہ:ایسے تمام کھلن جن سے تفریح طبع اور جسمانی صحت کا مقصد حاصل ہوتا ہو اور جن سے حقوق اللہ،حقوق العباد اور حقوق النفس کی ادائوےکےں مںا کوتاہی اور غفلت واقع نہ ہوتی ہو،جائزہں ۔ مسئلہ:ایسے تمام کھلو جن کے لازمی لباس مں کھلنےا والے کا ستر ننگا رہتا ہو یا اس کے اعضاء کی بناوٹ ظاہر ہوتی ہو،اس کھل۔ کا کھلنا اور دیکھنا ناجائزہے۔ مسئلہ:ایسے تمام کھلو اور کام جن سے ذہنی،جسمانی،دنو ی،اخروی کوئی فائدہ حاصل نہ ہوتا ہو،انہںا چھوڑ دینا ضروری ہے۔ مسئلہ:کھلویں کا جو سامان کفر وگمراہییا حرام و معصیت ہی کے طور پر استعمال ہوتا ہے اس کی تجارت اور خرید و فروخت بھی حرام ہے۔ مسئلہ:کھلویں کا جو سامان شریعت کی بتلائی ہوئی تعلماےت اور شرائط کے مطابق ہو،اس کا استعمال اور خرید وفروخت جائز ہے۔ مسئلہ:جس سامان کوجائز اور ناجائز دونوں طرح کے کاموں مںع استعمال کال جاتا ہے اس کی تجارت جائز ہے البتہ ناجائز کاموں مںہ استعمال کرنے والے کواس کے استعمال کا گناہ ملے گا۔ مسئلہ:فحش ناول و ڈائجسٹ،جرائم پشہا لوگوں کے حالات پر مشتمل قصے،فحش اشعار پر مشتمل مواد کا پڑھنا اور فحش تصاویردیکھنا،دکھانااوررکھنا نزم اس کی خرید و فروخت حرام ہے۔ مسئلہ:ایک عامی مسلمان کے لےی اہل باطل کا گمراہ کن لڑیچر پڑھنا،ان کی مجالس مں، شریک ہونا،ان سے قلبی تعلقات رکھنا ناجائز ہے البتہ محققنش علماء کے لےک ان کے لٹریچر پڑھنے کی اجازت ہے۔ مسئلہ:ضروریات زندگی پورا کرنے کے لےل معاشی ذرائع اختاہر کرنافرض ہے۔ مسئلہ:معاشی ذرائع مںز اس طرح مشغول ہوجانا جس سے حقوق اللہ وحقوق العبادکی ادائارے۔ں متاثر ہوتی ہوں، ناجائزہے۔ مسئلہ:معاشی ذرائع مںز اس طرح مشغول رہنا جس سے ذاتی صحت متاثر ہوتی ہو،ناجائز ہے۔ مسئلہ:اپنی اورجن جن کی کفالت شریعت کی طرف سے اپنے اوپر لازم ہے،ان کی ضروریات پر بقدر ضرورت مال خرچ کرنا فرض ہے۔ متاعِ حسن : بمعنیٰ ’’پرسکون زندگی‘‘۔ حاعتِ طبہو: بمعنیٰ ’’پاکزاہ زندگی‘‘یہ ایک ہی زندگی کے دو مختلف نام ہںی اس زندگی کا تعلق ظاہر سے زیادہ باطن کے ساتھ ہے جسمانی سے زیادہ روحانی زندگی ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے ان بندوں کو عطا فرماتے ہں جن کے نظریاتی اور ذہنی عقائد اسلامی تعلماےت کے مطابق ہوتے ہں اور ان کے جسم سے نکلنے والے اعمال اللہ تعالیٰ کے حکموں، نبی کریمﷺ کے طریقوں اور شریعت کی بتلائی ہوئی تعلما ت کے مطابق ہوتے ہںٰ، قطع نظر کہ اس شخص کی دنا وی زندگی آسودگی کے اسباب کے تحت گزررہی ہو یا وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مختلف قسم کی تنگدستوتں اور تکالفظ مںا مبتلا رکھا گاا ہو، اس زندگی کو اللہ سے تعلق والی زندگی بھی کہا جاتا ہے جس مںہ لمحہ بھر کے لےئ ذرہ برابر بھی اللہ تعالیٰ سے غافل ہونے کا یا غافل رہنے کا عنصر بھی نہں پایا جاتا اس زندگی کے حامل انسان پر شطاںن کا بھی کوئی داؤ نہں چلتا جساا کہ ایک مقام پر ارشاد ہے: ’’اس کا زور نہں چلتا ان پر جو ینہی رکھتے ہںز اور اپنے رب پر بھروسا کرتے ہںا‘‘۔(سورۂ نحل آیت 99) جبکہ اپنے نفس کی خواہشات کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مقابلے مں قربان کرکے نفس کو بھی مطع وفرمانبردار بنالتےد ہںآ، لہٰذا نفس و شطاون کے شرور سے محفوظ رہتے ہوئے اس کی زندگی گزرتی ہے اور کبھی نفس و شطاسن کے شرور سے مغلوب ہوجائے تو توبہ واستغفار کے ذریعے اس کی تلافی کرلاگ کرتا ہے، ایسا شخص اگر مال واسباب کی فراوانی کا حامل ہوتا ہے تو بھی اللہ سے غافل نہں رہتا اور اگر مختلف قسم کی آزمائشوں مںی مبتلا کا جاتا ہے تو اس کا دل ان آزمائشوں (Exam) کا تاثر لےر بغر اللہ کی رضا پر راضی رہتے ہوئے اس سے اپنے تعلق کو کمزور نہںش ہونے دیتا جس کے نتجےے مںم اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ زندگی عطا کی جاتی ہے جسے آیات قرآنی مںک متاع حسن اور حامت طبہل کا نام دیا گا ہے۔ اس زندگی کے اختالر کرنے کے نتجےا مں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی اییل قدردانی ہوتی ہے جس کی طرف ایک مقام پر ارشاد فرمایا: ’’اور جو شخص اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے پس وہی اس کے لے کافی ہے‘‘(سورۂ طلاق آیت 3) اور جہاں تک اس کی دناجوی ضرورتوں کی کفالت کا تعلق ہے ارشادِ خداوندی ہے: ’’اور وہ اییع جگہ سے رزق دیتے ہںط جہاں کا وہ گمان بھی نہںک رکھتا۔‘‘(سورۂ طلاق آیت 3) جہاں تک دنا مں پشک آنے والے معاملات کا تعلق ہے اس کے متعلق اطمناےن دلایا گا ہے: ’’اور جو کوئی اللہ (تعالیٰ) سے ڈرتا ہے تو اللہ (تعالیٰ) اس کے کام مں آسانی کردیتا ہے۔‘‘(سورۂ طلاق آیت 4) لہٰذا ذہنی طور پر اس غلط فہمی مںا مبتلا ہونے کا کوئی جواز ہی نہںے ہے کہ بعض اوقات ایسے لوگوں پر تنگدستی کے حالات آتے ہںا، جبکہ فراوانی کے اسباب نافرمانوں کے پاس دکھائی دیتے ہںم اس لےٓ کہ جسے قرآن نے متاع حسن اور حا تِ طبہو کہا ہے اس کا تعلق دناہ کی کسی چزد کے ساتھ ہے ہی نہںں، اس کا تعلق تو براہِ راست انسان کے قلب اور روح کے ساتھ ہے اور اس زندگی کے حامل لوگ اس اعتبار سے انتہائی پرسکون ہوتے ہںد جساس کہ حسن بصریؒ کی طرف منسوب اس قول سے بھی وضاحت ہوتی ہے کہ اگر بادشاہوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ ہمارے دلوں کو کتنا اطمناےن حاصل ہے تو وہ ملکوں پر حملہ کرنے کے بجائے ہمارے دلوں پر حملہ شروع کردیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہر زندہ انسان کو دل اور روح سے نوازا ہے اور اس زندگی کے حاصل کرنے کا راستہ ہر شخص کے لےا کھلا ہوا ہے، اپنے دل پر محنت کرکے اسے اس قابل بنا سکتا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ’’متاع حسن‘‘ یا ’’حاےتِ طبہک‘‘ حاصل ہو۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ ہر شخص کو پرسکون اور پاکزاہ زندگی حاصل کرنے کے لےع دناموی و مادی اسباب کے جمع کرنے کی محنت کے بجائے اپنے دل اور روح کی اصلاح (Reforming of Soul) کی محنت کرنی چاہے ، جہاں تک دناںوی اسباب کا تعلق ہے یہ تو مقدر سے طے شدہ ہے اور ہرحال مںا حاصل ہوکر رہںl گے اور بذاتِ خود ان اسباب کا جمع ہوجانا یا نہ ہونا اسلامی تعلماپت کے مطابق اﷲتعالیٰ کی نظر مںf کامایبی کا معانر بھی نہںں۔ تجرباتی ومشاہداتی نچوڑ: دانشوران قوم نے اپنے اپنے انداز مںچ اس دناک کو اپنے تجربات کی روشنی مںی جانچ کر اور اپنے مشاہدات کے تناظر مںی پرکھ کر دنای اور اس کے متعلقات کے بارے مںپ اپنی رائے قائم کی ہے اور اپنے تجربات و مشاہدات کا نچوڑ دنام والوں کے سامنے پشم کام ہے جس کو مدنظر رکھ کر زندگی کا لائحۂ عمل ترتبئ دیا جاسکتا ہے۔ 1 جو شخص چالسے(40) سال کی عمر سے بڑھ جائے اور اس کی خرش اس کے شر پر غالب نہ ہو تو اسے دوزخ کی تااری کرلی م چاہےج۔ 2 قارون بننے کی تمنّا کُتّا ریس ہے اس دوڑ مںس انسان شریک نہں ہوسکتا۔ 3 کتّوں کی ریس مں جو جتےد گا ہوگا تو وہ کتّا ہی نا؟ 4 لاپرواہی خادنت کی پہلی سڑ ھی ہے۔ 5 امانت داری فراوانیٔ رزق کی چابی۔ خاڑنت تنگیٔ معاش و عدم سکون کا پھاٹک ہے۔ 6 ہر وہ حد، جس سے گزر کر تم دوسرے انسانوں کے لےز کسی بھی طرح کی پریشانی کا باعث بن جاؤ وہ انتہاپسندی ہے۔ 7 اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہںں کہ خدا دولت سے کتنی نفرت کرتا ہے تو ان لوگوں کو دیںھش جن کو خدا نے دولت دے رکھی ہے۔ 8 امر وں سے نفرت کرنے والا غریب اور غریبوں سے نفرت کرنے والا امرک دونوں یکساں درجے کے مجرم ہںش۔ 9 فخر یہ ہے کہ مںف بھی ہوں، غرور یہ ہے کہ بس مںے ہی ہوں۔ اگر فخر اپنی حد سے باہر نکل جائے تو فخر اور غرور مں فرق نہںے رہتا۔ 10 خدا جس کو زمنہ پر عاجز کرنا چاہتا ہے اس سے عاجزی چھن لتال ہے۔ 11 سب سے بڑا حسد کسی کے ساتھ اپنا مقدر تبدیل کرنے کی خواہش کرنا ہے۔ 12 جو شخص اپنی قسمت پر راضی نہںہ ہوتا وہ خدا کی ناراضی مول لتاش ہے۔ 13 جو تمہارے پاس ہے اس پر قناعت کرنا خدا کا شکر بجالانے کے مترادف ہے۔ 14 مضبوط انسان دو (2) قسم کے ہوتے ہںن: (i) وہ غریب جو دولت مندوں کی دولت دیکھ کر حسد نہںک کرتے اور نہ دولت کی حرص انہںی بے چنل کرتی ہے۔ (ii) وہ دولت مند جو اپنی دولت پر غرور نہں کرتے اور نہ اپنی دولت سے دوسروں کو خوف زدہ کرتے ہںے۔ 15 دوسروں سے ستائش (تعریف) چاہنا اپنے اوپر عدم اعتماد کی علامت ہوتی ہے۔ 16 لوگوں کے حق مںش بُرا سوچنے والا پنے حق مں اچھا نہںا سوچ سکتا۔ 17 طمع (لالچ) کرنا مفلسی، بے غرض ہونا امرےی، بدلہ نہ چاہنا صبر ہے۔ 18 کسی پر لعن طعن نہ کے مف ایسا کرنے سے آپ کے اندر اخلاقی خراباےں پدصا ہوجائں گی۔ 19 بخل دناط مںا فقرہوں جیے زندگی گزارے گا اور آخرت مںپ امرسوں جساا حساب بھگتے گا۔ 20 آدھے غم انسان دوسروں سے توقعات وابستہ کرکے خرید لتا ہے۔ 21 اﷲ تعالیٰ کے علاوہ کسی سے اُمد نہ رکھو اپنے گناہوں کے علاوہ کسی سے نہ ڈرو۔ 22 جو اﷲ تعالیٰ کا وفادار نہںق وہ کسی سے وفا نہںن کرسکتا۔ 23 اﷲ تعالیٰ کے راستے پر چلنے والے کے لےا سب سے پہلا مقام توبہ ہے۔ 24 عقل کی حد ہوسکتی ہے، لکن بے عقلی کی نہںہ۔ 25 عقل کی فضیلت فضول کے ترک مںک ہے۔ 26 لایینا (ایسا کام جس کا نہ دنوہی فائدہ ہو نہ اخروی) مںگ مشغول ہونا اس بات کی علامت ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اس سے اعراض فرما رکھا ہے۔ 27 شقاوت کی علامات تنت (3) باتں ہںپ: (i) علم دیا جائے عمل سے محروم کردیا جائے۔ (ii) عمل کی توفق دی جائے اخلاص سے محروم رکھا جائے۔ (iii) صالحنی کی صحبت مسری ہو لکنم ان کے احترام سے محروم ہو۔ 28 طالب دناص کو علم پڑھانا رہزن کے ہاتھ مں اسلحہ فروخت کرنا ہے۔ 29 علم کا پڑھنا اور اس کا بڑھنا بے فائدہ ہے جب تک کہ اطاعت اور خوف ساتھ ساتھ نہ رہے۔ 30 استاد کا احترام علم حاصل کرنے کی پہلی شرط ہے۔ 31 نااہل کی تربت کرنا ایسا ہے جسےن گنبد پر اخروٹ رکھنا۔ 32 احمقوں کو نصحتت کرنا بھڑوں کے چھتے کو چھڑےنے کے برابر ہے۔ 33 طالب علم دنا سے محبت نہ رکھے کہ یہ مسلمان کا گھر نہںے، شطاون سے دوستی نہ رکھے کوبنکہ وہ مسلمان کا رفقﷲ نہںگ، کسی کو تکلفر نہ دے کہ یہ مسلمان کا پشہہ نہںھ۔ 34 ایسا طریق تعلما کس کام کا جو لڑکوں کو روزی کمانا تو سکھاتا ہے لکنا سلقےن سے زندگی بسر کرنا نہںق سکھاتا۔ 35 اے دناا کے لوگو! اﷲ(تعالیٰ) کو کبھییہ نہ بتاؤ تمہاری مصبت کتنی بڑی ہے۔ تم اپنی مصبتت کو یہ بتاؤ تمہارا اﷲ(تعالیٰ) کتنا بڑا ہے تم دکھ اور تکلفد سے رہائی پاجاؤگے۔ 36 جو اکڑتے ہںا وہ اکھڑتے ہںہ جو جھکتے ہںک وہ سلامت رہتے ہں ۔ 37 شرافت سے جھکا ہوا سَر، نِدامت سے جھکے ہوئے سر سے بہتر ہے۔ وما توفیقی إلاباللّٰہ

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
423     0