(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/05/23
موضوعات
فضیلت و اہمیت درودشریف
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ فضیلت و اہمتر درودشریف خالق ومدبرکائنات: ہمارے زمانے مںن اب اس بات کی دللب قائم کرنے کی ضرورت ہی نہں ہے کہ اس خوبصورت کائنات یینن دنا۔ کا بنانے اور پدپا کرنے والا ضرور کوئی ہے، نز یہ بات بھی روزِروشن کی طرح واضح ہے کہ اس کائنات کا بنانے والا انتہائی مُدبّر اور نہایت قدرت و طاقت والا ہے، مزیدیہ گونج بھی ہمہ وقت اس جہاں کے ہرہر ذرّے سے دل کے کانوں کے ساتھ سُنی جاسکتی ہے کہ اس کائنات کا پدقا کرنے والا اکیلا ہی ہے، اور اُس نے اس کائنات مں ہر چھوٹے، بڑے، نظر آنے اور نظر نہ آنے والے ذرّے کو وجود بھی اکلے ہی عنایت فرمایا ہے، اس کائنات کے پد اشدہ ہرہر ذرّے کی تکملن، بقا اور خاتمہ اسی کی قدرت کے ساتھ وابستہ ہے، وہی اس کائنات کے نظام کو اپنی چاہت اور اپنی مرضی اور اپنے اصولوں کے مطابق چلا رہا ہے، اور اپنے غری سے کسی معاونت کے بغر جو چاہتا ہے، وہی کرتا ہے(سورۂ بروج آیت 14) اور اپنی چاہت کے کاموں کے کرنے مں اُسے کسی قسم کی مشقت بھی اٹھانی نہںہ پڑتی، کسی تخلقس کے لےئ کسی بھی طرح کے خام مال کو جمع کرنے کی اسے حاجت بھی نہںس ہوتی، اس کے ارادے کا نام ہی وجود ہے، وہ کسی بھی چزہ کو وجود مں لانے کے لےص صرف اتنا کہتا ہے کہ ہوجا!، بغرے کسی تاخری کے وہ چز بعینہاس کی چاہت کے مطابق وجود مں آجاتی ہے(سورۂ یٰسین آیت 82) ییہ حال کسی بھی وجود کے ختم کےں جانے کا بھی ہے۔ ذاتِ باری تعالیٰ: جہاں تک اس کی اپنی ذات کا تعلق ہے، اس کا اپنا وجود خودبخود ہے، اسے ذاتی وجود کو حاصل کرنے کے لےک کسی کا لمحہ بھر کے لےے ذرّہ برابر بھی محتاج نہںپ ہونا پڑا ہے۔ وہ اپنی ذات اور اپنی ذات مںہ پائی جانے والی تمام صفات کے ساتھ ہمشہ ہمشہ سے ہے۔ اس کی تمام صفات اس کی ذات مںڑ جیاپ پہلے دن سے تھی بعنہں اُسی طرح بغری کسی کمی بی ب کے ہمشہہ ہمشب رہںر گی، جسےہ اُس کا وجود پہلے سے موجود ہے ایسے ہی ہمشہی ہمش رہے گا، یینے کبھی ختم نہں ہوگا۔ جہاں تک اس کائنات مںی پائی جانے والی اس کی اپنی پدیا کردہ مخلوقات کا تعلق ہے وہ ساری کی ساری اُسی نے پدہا کی ہںھ،یین اپنے حکم سے وجود عطا فرمایا ہے، لکنی اپنے ذاتی وجود مںب سے کسی کو نہںے نکالا ہے، یینہ اس کی ذات کے کوئی حصے بخرے نہ ہوئے ہںی اور نہ ہوسکتے ہںا اور نہ ہوں گے، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ وہ اکیلا ہے، نہ کوئی اس کے ماں باپ ہںس، نہ کوئی اس کی اہلہی ہے، نہ ہی کوئی اس کی اولاد ہے، اس پوری کائنات مںہ جب سے یہ بنی ہے اس کا ہم پلّہ، اس کا ہمسر، اُس کے برابر، اس جسار نہ کبھی کوئی ہُوا ہے، نہ ہے، نہ آیندہ اس کے ہونے کا کوئی خدشہ اور امکان ہے۔(سورۂ اخلاص) دنا کی تخلق) کی وجہ: خالقِ کائنات اﷲ رب العزت نے اپنی اس کائنات یین دناک مں آسمان و زمنا کے درماےن اپنی بہت ساری مخلوقات کو وجود عطا فرمایا ہے، ان مخلوقات مںت چھوٹی بڑی دکھائی دینے والی اور نظر نہ آنے والی مفد اور مضر تمام مخلوقات شامل ہںل، انہں جمادات، نباتات و حواانات، انسان، جنّات اور فرشتوں پر تقسمئ کاے جاتا ہے، عقلی اور مذہبی اعتبار سے یہ بات تسلم شدہ ہے کہ ان تمام مخلوقات مںی انسان کو فوقتا، برتری اور بزرگی حاصل ہے، بلکہ مذہبی حوالے سے یہ بات بتائی جاتی ہے کہ یہ دنات اور اس مں پائی جانے والی مخلوقات کو بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر اس انسان ہی کی خدمت کے لےس پدرا کان گا ہے۔ دناو مںر انسان کا مقصدِحا ت: یہ انسان اﷲ تعالیٰ نے اس دنات مںل بھجاخ ہے، بھج رہا ہے اور ایک مقررہ وقت تک اس انسان کی آمد دنام بھر مں ہوتی رہے گی، اور یہ بات بھی طے شدہ ہے کہ کسی بھی انسان کو ہمشہں ہمشہی کے لےا اس دنا مں رہنے کے لےس نہںک بھجا ہے، خود انسان کا تجربہ اور مشاہدہ بھییہی ہے کہ ہر آنے والا انسان کچھ عرصہ کے لےک آکر ٹھہرتا ضرور ہے، لکنے کچھ وقفے کے بعد یینا عمر مکمل کرکے اسے اس دنا سے رخصت ہی ہونا پڑتا ہے، اس کا اپنا دل چاہے تو بھی لمحے بھر کے لےق اس دناف مںن رُک نہں سکتا۔ ساری دنار والے مل کر اپنی تمام صلاحتو ں، طاقتوں اور وسائل کو استعمال کرتے ہوئے کسی ایک انسان کو اس کے وقت کے پورا ہونے کے بعد عارضی طور پر بھی ایک لمحہ کے لےن بھی روک نہںل سکتے، اس دنای مںک کس انسان نے کتنے وقت کے لےں رُکنا ہے، اﷲتعالیٰ کے ہاں تو طے ہے لیکنیہ مدت رخصت ہونے والے کو خود بھی معلوم نہیںہے، نہ ہی کسی مخلوق کو اس کا علم دیا گاں ہے۔ چونکہیہ دناا اس انسان کے فائدے کے لے ہی بنائی گئی ہے، لہٰذا یہ بات طے ہے کہ اس دنال کا وجود بھی اس وقت تک باقی ہے جب تک کہ انسان کا وجود قائم ہے، یوں تو دنائ کے اندر تبدییے کا قانون چل رہا ہے کہ ایک کے بعد دوسرے کو موقع فراہم کان جاتا ہے، پہلا اپنی زندگی کے تمام مراحل پورے کرچکنے کے بعد اپنے وجود کو کھو بٹھتاک ہے، اُس کی طرح اس کی جنس مںق سے دوسرا فرد اُس کے خلا کو پُر کردیتا ہے، لکن اس کے ساتھ ساتھ دناک کا نظام بھی چل رہا ہے، جب مکمل طور پر انسان کا وجود اس دنا مںر ناپدُ ہوجائے گا، تو اس دنای کو بھی ختم کردیا جائے گا۔ اﷲتعالیٰ نے اس انسان کو عدم سے وجود عطا فرمایا، لکنٹ مذہبی تعلمہ کے مطابق جس انسان کو ایک مرتبہ وجود عطا فرمادیا گاج، اس کے وجود کو کبھی ختم نہںن کا جائے گا، اس نظریے کے مطابق یوں کہا جاسکتا ہے کہ انسان ہمشہا سے نہںر ہے، لکند ہمشہی ہمشہو رہے گا اور ییی حققتن ہے، البتہ اسے مختلف جگہوں پر منتقل کاے جاتا رہتا ہے یہاں تک کہ یہ مقررہ وقت پر آخرت مںں پہنچ جائے اور اسے اس کے اعمال کے مطابق مستقل جگہ پر مستقل بدلہ عطا فرمادیا جائے، چنانچہ یہ انسان شروع مں باپ کی پیٹھ اور ماں کے سینے مںن قرار پاتا ہے پھر وہاں سے ماں کے رحم مںد منتقل ہوتا ہے، ایک طویل مدت گزار کر اس دنا کے زمنک و آسمان کے درماجن آتا ہے، یہاں سے منتقل ہوکر زمنں کے پیٹیا عالم برزخ مںی پہنچتا ہے، وہاں سے قازمت کے مدنان مںں کھڑا کاع جائے گا، جہاں اس کا حساب و کتاب ہوگا، جس کے نتجےت مںل اُسے مستقل طور پر جنت یا جہنم کے مقام مںق پہنچا دیا جائے گا، جہاں وہ ہمشہھ ہمشہج رہے گا۔ جہاں تک انسان کے پدوا کے جانے کے مقصد کا تعلق ہے تو مذہبی تعلماہت کے مطابق اسے اﷲتعالیٰ نے صرف اور صرف اپنی عبادت کے لےج ہی پدلا فرمایا ہے اور عبادت کا مطلب یہ ہے کہ اﷲتعالیٰ کے دئےن ہوئے اس جسم (جو سر کے بال سے لے کر پرش کے ناخنوں کے درماسن پایا جاتا ہے) کے ہرہر عضو کو اﷲتعالیٰ کے احکامات اور وقت کے نبی کے طریقوں کے مطابق اﷲتعالیٰ کی رضاجوئی اور خوشنودی حاصل کرنے کی نتص سے استعمال کاط جائے، اس استعمال ہونے کا تعلق عقائد سے بھی ہے اور اعمال سے بھی ہے اور اسی تناظر مںو آخرت مںن حساب کتاب ہوگا۔ جہاں تک اس ذکرکردہ عبادت کے ادا کےد جانے کے مقام کا تعلق ہے وہ متعنہ طور پر صرف اور صرف یہ دنا ہے، اس دناا سے پہلے جہاں جہاں بھی انسان رہتا ہے وہاں عبادت کا کوئی تصور نہں ہے اور اس دناٰ کے بعد جہاں جہاں بھی انسان رہے گا وہاں بھی کسی قسم کی عبادت کا اس سے مطالبہ نہںد ہے۔ جہاں تک اس انسان کی عبادت کی عمر کا تعلق ہے وہ عمر ہے بلوغت کی، اس عبادت کی ابتدا اس دناا مںر بھی بالغ ہونے سے شروع ہوتی ہے اور مسلسل موت کے حوالے سے ہوش کے باقی رہنے تک برقرار رہتی ہے، بالغ ہونے سے لے کر موت تک درماانی وقفے اور عرصے مںہ انسان کو ہرحال مںب اپنے وقت کے نبی کے طریقوں کے مطابق ہر شعبۂ زندگی مںف اﷲتعالیٰ کے احکامات کو پورا کرنا ہے۔ (ہمارے زمانے مںو وقت کے نبی صرف اور صرف حضرت محمدرسول اﷲﷺ ہںں اور دنو ی عمر کی تکملا تک آپ ﷺ کے طریقوں کے مطابق اﷲتعالیٰ کے احکامات کو پورا کار جانا مطلوب اور مقصود ہے) ییز انسان کا مقصدِحاتت ہے، اس مقصد حا ت کا پورا کرنے والا دناک و آخرت مںے کامااب ہے۔ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنَا مِنْھُمْ۔ اور اس مقصد پر پورا نہ اُترسکنے والا دنیا و آخرت میں ناکام ہے۔ اللّٰھُمَّ لَا تَجْعَلْنَا مِنْھُمْ وَاحْفَظْنَا مِنْھُمْ۔ نظام نبوت ورسالت: انسان کو یہ کسےل معلوم ہوکہ اﷲتعالیٰ کے احکامات کاے ہںم؟ اﷲ تعالیٰ نے اس کے لے ایک نظام کو وجود عطا فرمایا، اس نظام کو اصطلاح مںت نظامِ نبوت و رسالت کہا جاتا ہے، اس نظام مںُ اﷲتعالیٰ کی طرف سے برگزیدہ اور مقدس شخصاات کا انتخاب ہوتا ہے جوکہ انسانوں مںت سے ہی ہوتی ہںو، اس نظام نبوت و رسالت مںا سب سے پہلی شخصتا حضرت آدم علہ السلام کی ہے آپ کے بعد مختلف زمانوں مںت کم و بشا ایک لاکھ چوبسٰ ہزار (1,24,000)انبیائے کرام علہمق الصلاۃ والسلام کو بھجاا جاتار ہا، اور اس نظام نبوت و رسالت کی تکمل جناب محمد رسول اﷲﷺ پر کردی گئی ہے، نبیﷺ سے پہلے ضرور انبیائے کرام علہما السلام بھجےا گئے لکنت آپﷺ کے بعد کسی بھی عنوان سے کسی نئے نبی اور کسی پُرانے نبی کو بحتور نبی قا مت تک بھجےا جانے کا کوئی تصور، خاﷺل، امکان اور ضرورت ہی نہںب ہے، مذہبِ اسلام کے دئےو ہوئے عقد ے کے مطابق پرانے انبیائے کرام مںت سے صرف حضرت عیٰا علہم السلام کو اس دنال مںس دوبارہ ضرور بھجا جائے گا، لکنا وہ بحتام نبی کے نہںٰ بلکہ محمد ﷺ کے اُمتی ہونے کی حت ن سے تشریف لائںع گے۔ ختم نبوت اور امت پر ایک اہم ذمہ داری: جہاں تک محمدﷺ کی نبوت و رسالت کا تعلق ہے، آپﷺ قائمت تک کے تمام زمانوں، تمام علاقوں اور تمام انسانوں کے لےو نبی و رسول بنائے گئے ہںر، قا۔مت تک دناےمںا پایا جانے والا کوئی علاقہ، کوئی زمانہ اور کوئی انسان ایسا نہں بچا ہے جو آپﷺ کی نبوت کے تحت نہ دیا گاں ہو، لہٰذا آپ کی نبوت و رسالت عالمگرد اہمتج کی حامل ہے، دنای سے پردہ فرما جانے کے باوجود قاامت تک آپﷺ کی نبوت و رسالت قائم و دائم ہے اور آپﷺ کے طریقوں پر عمل کرنے سے ہی اﷲتعالیٰ کی بارگاہ مںر مقبول بنا جاسکتا ہے اور مقام حاصل کار جاسکتا ہے۔ آپﷺ دنار مںس اﷲتعالیٰ کے خلفہل رہے اور ہں ، بقہا افرادِ اُمّت اس حوالے سے آپﷺ کے ختم نبوت کے طفلے آپﷺ کی ناصبت کرتے ہوئے آپﷺ کے نائب ہںے، جس طرح نبیﷺ نے اﷲتعالیٰ کے بتلائے ہوئے طریقوں کے مطابق اﷲتعالیٰ کے احکامات پر خود عمل کرتے ہوئے مثال اور نمونہ قائم کا ، اب آپﷺ کی امت کا ہرہر فرد اس بات کا پابند ہے کہ اس نمونے اور مثال کے مطابق اﷲتعالیٰ کو راضی کرنے کی نتآ سے خود بھی اپنی زندگی کا لائحہ عمل بنائے اور دوسرے انسانوں مںل ان نورانی طریقوں کے جاری ہونے کی محنت وسعی، تبلغس کے اصولوں کے مطابق کرے۔ انسانی معاشرہ، آپﷺ کا طرزِزندگی اور مشن نبوی: جب دناک مںا نبیﷺ کی آمد ہوئی اُس وقت کا انسان باوجودیکہ اشرف المخلوقات تھا لکنح اپنے اعمال کی وجہ سے ارذل المخلوقات کہلانے کا مستحق تھا، انسان کے علاوہ کی تمام مخلوقات انسان کی خدمت کے لے ہی اس دناد مںط وجود مںت لائی گئی تھں اور تمام مخلوقات کو انسان کا تابع بن کر ہی رہنا تھا، لکنق اُس وقت کا انسانی المیہیہ ہے کہ انسان مخدوم اور مطبوع بن کر زندگی گزارنے کے بجائے خود ان مخلوقات کا خادم اور تابع بن کر وقت گزار رہا تھا، بلکہ بعض مخلوقات چاہے وہ جاندار ہوں یا بے جان کو اپنا معبود ہی بنابٹھاو تھا، زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہںض تھا جس مں انسان اخلاقی اقدار کا حامل ہوتا، تمام شعبۂ ہائے زندگی مںل انسان انسانت سے عاری، بہت تھ، درندگی، سفاکتت، ظلم و جبر کے نمونے پشھ کررہا تھا، ایسے مںد اﷲ رب العزت نے جناب محمد رسول اﷲﷺ کو اُن کے درمانن پداا فرمایا، جنہوں نے اُس غرا مہذّب معاشرے مںم اپنے اعلان نبوت سے پہلے کی زندگی بھی جو بچپن اور جوانی پر مشتمل تھی، ایین پاکز ہ گزاری کہ اس پر نہ اس زمانے مںے کسی کو انگلی اٹھانے کا موقع مسرد آسکا، نہ ہی اعلان نبوت کی زندگی مں ان کی موجودگی مںت کوئی ان کے ماضی کی زندگی پرلمحہ بھر کے لےی ذرّہ برابر بھی کسی قسم کا کوئی منفی اشارہ کرپایا، نہ ہی آپ ﷺ کے دناج سے پردہ فرما جانے سے لے کر آج تک آپﷺ کے دیے ہوئے پروگرام کا کوئی مخالف، کوئی قابل گرفت یا قابلِ مواخذہ یا قابلِ تنقدر کوئی واقعہ ڈھونڈنے مںا کاما ب ہوسکا، نبیﷺ نے اعلانِ نبوت سے پہلے کی اس زندگی کو معاشرے مںد پائی جانے والی بداخلاقویں کے درمابن انتہائی اخلاق کی حامل زندگی کے طور پر گزار کر دناے کے لے ایک روشن مثال قائم فرمائی، اعلان نبوت سے قبل کییہ زندگی ایک انفرادی زندگی کہی جاسکتی ہے۔ اعلان نبوت کے بعد کی زندگی مںد جو صرف تئیس(23) سال کے عرصے پر محط ہے، جس مںے پہلے ترںہ(13) سال مکہ مکرمہ مں مستقل اذیتوں، مشکلات اور ایسے مصائب کے درماون گزارے جس مںع پُرسکون ہوکر کوئی بہتری کا قدم اٹھانا بھی انتہائی مشکل تھا، بعد کے دس(10) سال مدینہ منورہ مں بھی کچھ وقت دشمنانِ اسلام سے مقابلے پر وقتاً فوقتاً صرف ہوتا رہا، اس تناظر مںہ نبیﷺ نے انسان کے اندر انسانیتیعنی اس کی پدمائش کا مقصد اجاگر کرنے کی محنت جاری رکھی، اس محنت کا دو سطری خلاصہ یہ ہے کہ:آپﷺ نے انسان اور اس کے رب کے درمانن تعلق قائم کراتے ہوئے اسے مضبوط اور مستحکم کرنے کی جدوجہد جاری رکھی اور دوسری طرف خود مخلوق کو جس مںس انسان و دیگر جاندار بھی شامل ہںم، باہمی طور پر ایک دوسرے کے لےد مفدص، معاون اور مددگار بنتے ہوئے زندگی گزارنے پر آمادہ کرنے اور رکھنے کے لے ہر شعبۂ زندگی مںہ ایک مستقل مسلسل محنت فرمائی، اس تئیس(23) سالہ زندگی مںس ایک لاکھ چوبس ہزار(1,24,000) کم و بشت جوان و بوڑھوں کی ایک اییل تعداد تا،ر ہوئی جو اندھیرے اُجالے مںز صرف اور صرف اﷲتعالیٰ ہی سے ڈرنے والی تھی اور باہمی طور پر ایی شرڑوشکر بن کررہی جس کو قرآنِ کریم نے ’’رُحَمَآئُ بَیْنَھُمْ‘‘ (سورۂ فتح آیت 29)کہہ کر متعارف کروایا ہے۔ جس کی گونج چار دانگ عالم مںر قا مت تک اس دناع مں گونجتی رہے گی اور قاکمت کے بعد جنت مںو خود حق جل مجدہ کی زبانِ مقدس سے وقفے وقفے سے جنتولں کو سننے کو ملا کرے گی۔ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنَا مِنْھُمْ محنت نبوی کے معجزانہ نتائج: یہ ایک لاکھ چوبسہ ہزار(1,24,000) کم و بشھ تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو نبیﷺ کی غلامی مں آنے سے پہلے انسانتا سے عاری زندگی گزار رہے تھے (جس کی تفصلم پہلے گزرچکی ہے) نبیﷺ نے اُسی معاشرے کے افراد پر محنت فرماکر یہ تعداد تاآر فرمائی تھی، جو بذاتِ خود کسی معجزے سے کم نہںز، بلاشبہ نبیﷺ کا ہرہر صحابی، نبیﷺ کا ایک ایک معجزہ ہے جس کی نظرا اس سے پہلے ڈھوندی جاسکتی ہے، نہ رہتی دناز تک پشم کی جاسکے گی، جو انسانتے اپنی پددائش کے مقصد سے کوسوں دور ہوچکی تھی وہ اپنی پدلائش کے مقصد پر ایی جمی کہ جان تو دے سکتی تھی مگر مقصد سے ہٹنے کے لےے سوئی کی نوک کے برابر بھی تادر نہںر تھی۔ یوں تو دناے مں دناب والوں پر احسان کرنے کے دعویدار بہت سارے ہں ، لکنہ ان کے تمام احسانات کا مرکز انسان نہںن تھا، بلکہ د ناد مںس پائی جانے والی دیگر مادی چزلیں تھںت، نبیﷺ نے ان مادی چز وں کو اپنی محنت کا مرکز نہں، بنایا، بلکہ آپﷺ نے اپنی محنت کا مرکز ان مادی چز وں کو استعمال کرنے والے انسان کو بنایا، اس لےھ کہ اصل اس دناے مںے انسان ہے، اور اگر انسان صححا اوراپنے مقام پر ہو تو دناا کی ہرہر چزب صححے اور اپنے مقام پر ہوجائے گی، تمام عالم کے دانشوروں کییہی بھول رہی، اور نبیﷺ نے اس بھول کو سدھارا، اس تناظر مںش علی الاعلان ببانگ دھل بلاخوفِ تردید، بلا خوفِ لَوْمَۃَ لَائِمْ یہ دعویٰ کاہ جاسکتا ہے کہ آدم کی اولاد پر جتنا احسان محمد رسول اﷲﷺ کا ہے، دیگر محسننا کے احسانات کا مجموعہ بھی اُس کے پاسنگ مںا نہںو آسکتا۔ محسن کائنات کے احسانات کا روح پروربدل: نبیﷺ کے ان احسانات کو دیکھتے ہوئے ہر شریف النفس اور صححُ النسب انسان کے ذہن مں ازخود یہ خواہش جنم لے گی، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھے گی کہ اس محسنِ انسانتاﷺ کو بھی خود ہماری طرف سے کوئی ایسا تحفہ پہنچنا چاہےہ اور پہنچتے رہنا چاہےے جو آپ ﷺ کے شایانِ شان ہو، اس حوالے سے پوری انسانتی کے اذہان مل کر بھی ایسے شایانِ شان اور عظما الشان، مہتم بالشان تحائف تجویز نہںو کرسکتے، شریعتِ اسلامہل نے ان احسان مندوں کی مشکل آسان کرتے ہوئے ایک ایسا طریقہ تجویز فرمایا کہ جس مںن خود انسان اﷲ تعالیٰ سے درخواست کریں کہ وہ اپنی شان کے مطابق نبیﷺ کو ان احسانات کا نعم البدل، اجر، انعام، صلہ اور تحفہ عنایت فرمائںں، اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والی اس جزا کا نام ’’درود شریف‘‘ ہے۔ اﷲ تعالیٰ جل شانہ حمدٌت مجدٌی ذات ہے، اور اس کا مقام سب سے اعلیٰ و افضل، مکرم، محترم، مقدس اور اشرف ہے، اس مقدس ذات کے فوری بعد متصل جس ہستی کو فضیلت اور تقدس عطا کاا گام ہے وہ صرف اور صرف جناب محمد رسول اﷲﷺ کی ذات اقدس ہے۔ اﷲتعالیٰ نے مخلوقات کی نسبت سے رحمۃ للعالمن ﷺ کا سب سے بلندتر اعزاز عطا فرمایا اور خود اپنی ذات اقدس کی نسبت سے آپﷺ کو محبوب رب العالمنمﷺ کے منصب جللہر پر فائز فرمایا اور اس نسبت سے اپنے محبوب ﷺ پر ہمہ وقت، ہمہ جہت، مسلسل، بلاتعطل رحمتوں کے نزول کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری فرماتے ہوئے اپنے مؤمن بندوں کو خود اپنی زبانِ مقدس سے اطلاع بھی عطا فرمائی کہ بلاشبہ خود اﷲ رب العزت ہر آن، ہر گھڑی، زمانہ ماضی، حال اور مستقبل مں ہمشہِ ہمشہی کے لےپ اپنی رحمتوں کے نزول کو جاری رکھے ہوئے ہے، جس مںب لمحہ بھر کے لےر ذرّہ برابر توقف اور تعطل کے امکان کا بیا شائبہ نہںر ہے(سورۂ احزاب آیت 36) رحمت کے اس نزول مں آپﷺ کے دناّ مںر ذکرمبارک کے ہر وقت بلند رہنے کی خوشخبری بھی شامل ہے۔ یہاں تک کہ آپﷺ کے توسط اور توسل سے انسانی مخلوق کو بے پناہ فوائد کے حصول کی خوشخبری بھی شامل ہے۔ اﷲتعالیٰ نے اس دنا کے اندر جتنی بھی مخلوقات کو وجود عطا فرمایا ہے ان مخلوقات مںر ایک عظم اور بلندتر، مطعل اور فرمانبردار، بغاوت و طغالنی اور سرکشی سے پاک انتہائی پاکزیہ مادے نور سے ایک مخلوق پدلا فرمائی ہے، جنہں بزبان اردو فرشتے اور بزبان عربی ملائکہ کہا جاتا ہے۔ ان کی کُل کتنی تعداد ہے؟ اس کا علم صرف اور صرف اﷲ رب العزت ہی کے پاس ہے(سورۂ مدثر آیت 31) اﷲ تعالیٰ نے اپنی اس پاکزپہ مخلوق کے حوالے سے اُن کے ایک عمل کو خود اپنی ذات کے اس عمل کے ساتھ ملاتے ہوئے اپنے بندوں کو ایک ابدی اطلاع دی ہے کہ یہ تمام کے تمام فرشتے نبی مقدس و مکرم جناب محمد رسول اﷲﷺ کے لےس رحمت کے درجات کی کثرت اور اضافے کی دعا مں ہروقت، ہر حال مں مصروف، مشغول اور منہمک رہتے ہںم، خالق اور اس عظمم مخلوق کے اس مقدس عمل کے ذکر کے ساتھ اﷲ تعالیٰ نے اپنے ایمان والے بندوں جن کے متعلق خود اﷲتعالیٰ نے یہ دعویٰ فرمایا ہے کہ ایمان والے اﷲتعالیٰ کی محبت مںہ انتہائی طور پر شدّت اختایر کرتے ہںر(سورۂ بقرہ آیت 165) کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ بھی نبیﷺ پر درود و سلام بھجتے رہا کریں۔ چنانچہ (سورۂ احزاب آیت 36) مںم اﷲتعالیٰ کا ارشاد ہے: {اِنَّ اﷲَ وَ مَلٰٓئِکَتَہٗیُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّیٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا} ترجمہ: ’’بے شک اﷲ(تعالیٰ) اور اس کے فرشتے نبی(ﷺ) پر رحمت بھجتے ہںت۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود اور خوب سلام بھجا کرو۔‘‘ قرآنِ مقدس کے اس تاکدشی اور مقصودی، مطلوبانہ حکم کی روشنی مںت فقہائے کرام نے یہ مسئلہ باین فرمایا ہے: پوری زندگی مںو کم از کم ایک(1) مرتبہ ہرہر صاحبِ ایمان مرد و عورت پر صلاۃ والسلام (ییند درود شریف) کا پڑھنا واجب، ضروری، لازم اور فرض ہے، اس کے بعد تفصلے باٰن کرتے ہوئے یہ فرمایا ہے کہ اگر کسی مجلس مںل نبیﷺ کا اسمِ گرامی اور ذکرِمبارک باربار آرہا ہو تو افضل، مناسب اور آپﷺ کے احسانات کو ذہن نشین رکھتے ہوئے اور آپﷺ کی محبت کے تقاضوں کے پش نظر ہر بار آپﷺ کے ذکرِمبارک پر درودشریف پڑھنا چاہےن، لکنپ فقہی حت ک سے پہلی مرتبہ ذکرِمبارک پر درودشریف پڑھنا واجب اور اس کے بعد کے ہر بار ذکرِمبارک پر درودشریف پڑھنا مستحب اور افضل ہے۔ ہمارے محدثنا کرام کا یہ معمول رہا ہے کہ جب انہوں نے احادیث رسول اکرم علیٰ صاحبہا الصلاۃ والسلام کو جمع کرتے ہوئے حدیث کی کتابںا تاار فرمائںم تو اُن کتابوں مںی جب کہںک، جہاں کہںہ نبیﷺ کا اسمِ مبارک ذکر ہوا تو انہوں نے آپﷺ کے اسمِ مبارک کے ساتھ درود شریف ضرور بالضرور لکھا، جس مںا سب سے مختصر درودشریف (صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ) ہے۔ محدثنب کرام کی تقلدو کرتے ہوئے مسلمان مصنفین نے بھی اس کا اہتمام لازمی اور ضروری قرار دیتے ہوئے ہمشہع اپنایا، آج بھییہ اہتمام جاری ہے، ان شاء اﷲ العزیز دنان کے ہرہر چپّہ چپّہ پر دائم و قائم، جاری و ساری رہے گا۔ سب سے مختصر درودشریف ’’صلی اﷲ علہر وسلم‘‘ کو مزید مخفف اور مختصر کرنے کے لےو پتا نہںر کس نے لفظ ’’صلعم‘‘ ایجاد کا،، اس موجد کی نتر پر شک کے’ بغر یہ ایک واضح بات ہے کہ لفظ ’’صلعم‘‘ محبت کی کمی اور کوتاہی کی طرف اشارہ کرتا ہے، جو آپﷺ کی شانِ اقدس کے بھی مناسب نہںّ ہے، لہٰذا ان سطور کے ذریعے سے ہرہر صاحبِ ایمان سے چاہے اُس کا تعلق کسی بھی مکتبۂ فکر سے ہو، یہ مؤدبانہ درخواست ہے کہ وہ ’’صلعم‘‘ کا استعمال زبانی اور قلمی حوالوں سے ترک کردیں، اس کا استعمال تحریر و تقریر مں قطعاً نامناسب ہے اور اس کو نامناسب سمجھنا اخلاقاً اور شرعاً ضروری ہے۔ آپﷺ پر درودشریفیا صلاۃ والسلام پڑھنا اﷲتعالیٰ کا حکم ہے جو اسلام کی تکملی کے دوران قرآن بن کر نازل ہوا، صحابہ رضوان اﷲ علہمپ اجمعن اس حکم کے نازل ہونے سے پہلے بھی نماز مں تشہد پڑھنے کے دوران ’’اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اﷲِ وَبَرَکَاتُہُ‘‘ کے جملے کے ساتھ آپﷺ پر سلام پڑھنے کا معمول رکھتے تھے۔ اس حکم کے نازل ہونے کے بعد انہوں نے خود نبیﷺ سے اس کا ذکر کرتے ہوئے پوچھا کہ سلام تو ہمںا معلوم ہے اور وہ ہم پڑھتے بھی ہںا، آپﷺ پر صلاۃ (درودپاک) کسےن پڑھںا، احادیث مبارک کی روایات کے مطابق حضوراکرمﷺ نے درودابراہیاس: {اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰٓی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَاصَلَّیْتَ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰٓی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔ اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰٓی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ} پڑھ کر بتلایا کہ اس طرح صلاۃ (یینِ درودشریف) پڑھا جایا کرے۔ چنانچہ اُس وقت سے لے کر آج تک تمام مسلمان ہر نماز مںْ تشہد کے بعد نزَ نماز کے علاوہ بھی اس درودابراہیٍ کے پڑھے جانے کا معمول اپنائے ہوئے ہں ، جو ان شاء اﷲ تعالیٰ تاقاںمِ قاَمت جاری اور باقی رہے گا۔ درودشریف اور قرون اولیٰ: تاریخ اسلام مںق اس بات کا ذکر تو ملتا ہے کہ آج سے پہلے کے تمام زمانوں مں اس وقت موجود تمام صاحبِ ایا ن انفرادی طور پر بکثرت درودشریف پڑھنے کا اہتمام نماز کے علاوہ بھی انتہائی شدومد کے ساتھ رکھا کرتے رہے ہں ، اور اس باب مںن انفرادی طور پر اس معمول کو تواتر کا درجہ حاصل ہے، لکنہ پہلی صدیوں کی تاریخ کے صفحات اجتماعی طور پر درودشریف پڑھے جانے کے معمول کے ذکر سے خاموش ہںت، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انفرادی طور پر کثرت سے درودشریف پڑھے جانے کے باوجود اس کے اجتماعی طور پر پڑھے جانے کا رجحان نہںل تھا، اب اگر اجتماعی طور پر کسی مکتبۂ فکر مںے معمول پایا جاتا ہے تو فقہی اصولوں کے تناظر مںا اسے زیادہ سے زیادہ جائز کہا جاسکتا ہے، اس کو فرض و واجب کا درجہ دیا جانا اور اس اہتمام کے نہ کرنے والوں پر طعن و تشنعو، فقہی و اخلاقی زیادتی اور ظلم سے تعبرس کاو جانا چاہےک، اسی تناظر مںش غوروفکر کے حوالے سے اس بات پر بھی غور کا جاسکتا ہے کہ آیت قرآن مںپ نبیﷺ پر درودشریف پڑھنے کا حکم دیا گا ہے، اس حکم مں اضافہ کرکے اسے ہر نماز کے بعد درودشریف اجتماعی طور پر پڑھا جائے اور درودشریف پڑھنے سے پہلے اس آیت قرآنی کو بھی پڑھا جائے تو اس اضافہ کے حوالے سے قرآن بھی خاموش اور احادیث بھی اس اضافہ کے ذکر سے خالی ہںآ اور کوئی قولی حدیث اس اضافے کے ساتھ پشم نہںے کی جاسکتی، خود نبیﷺ کا معمول اس آیت کے نزول کے بعد کسی فعلی حدیث سے ثابت نہںف کا جاسکتا، کسی صحابی نے اس اضافے کے ساتھ اس حکم پر عمل نیمﷺ کے زمانے مںن آپﷺ کے سامنے کان ہو اور آپﷺ نے اس پر خاموشی اختاکر کی ہو، یین کسی تقریری حدیث کا حوالہ بھی نہںر دیاجاسکتا، آپﷺ کے بعد تقریباً تسل(30) سال خلافتِ راشدہ رہی اُن دنوں مںض کسی ایک دن کسی ایک نماز کے بعد بھی اُن حضرات سے یہ عمل ثابت نہںآ ہے کہ جسے پشً کرکے یہ کہا جائے کہ نبیﷺ نے خلفائے راشدین کی اتباع کا حکم دیا ہے، نبیﷺ کے دناس سے پردہ فرماجانے کے بعد تقریباً ایک سودس(110) سال تک صحابہ کرامؓ کا وجود اس زمنف پر رہا ہے، اس پورے عرصے مںی کہںے بھی کسی جگہ سے کسی صحابیؒیا تابعیؒ سے اس عمل کی اطلاع نہںر ہے، جبکہ دین کی تکملا کو ایک صدی (سوسال) گزرچکی تھی، لہٰذا فقہی حوالے سے زیادہ سے زیادہ صرف اور صرف جائز کا درجہ اس اضافے کو دیا جاسکتا ہے، لکنی اس کو فرض وواجب کا درجہ دیا جانا فقہی و اخلاقی اعتبار سے لمحہ فکریہ ہے، یناً اسے فرض وواجب کا درجہ دینے والوں کے ہاں کوئی دللک ہوگی بس وہ اتنا سوچ لںو کہ وہ دللہ عنداﷲ آخرت مںا مقبول ہوگییا نہںز؟ اس لےن کہ وہاں اسلامی تعلماحت کے مطابق ہرہر مسلمان کی زندگی کے اعمال کو نبیﷺ کی زندگی بھر کے ہر شعبے مںر کےن جانے والے اعمال کے نمونے کے مطابق ہی جانچا جائے گا، دناب مں کسی بھی انسان کو مطمئن کرنے کی کوئی اہمتک نہںے ہے، اصل تو آخرت مںں اﷲتعالیٰ کے دربار مں نبیﷺ کی زندگی کے نمونے پر کامایب ہونے کے لےی پورا اُترنا ضروری اور لازمی ہے۔ درودشریف احادیث کی روشنی مںو: نبیﷺ کی احادیث مںد درودشریف کے حوالے سے کئی باتںا ارشاد فرمائی گئی ہںں، جس میںد رودشریف کے فضائل، اس کے پڑھنے کا طریقہ خود نبیﷺ کا پڑھنے والے کے درودشریف کے متعلق سننا اور پہنچنا اور اﷲتعالیٰ کی طرف سے اس کا صلہ اور اَجر کا ملنا شامل ہے۔ ان تمام جہات سے ان احادیث کی روشنی مں خلاصہ نکالا جائے تو وہ درج ذیل بنتا ہے: 1 نبیﷺ پر درودشریف کن الفاظ کے ساتھ پڑھا جائے؟ ان کے الفاظ بھی احادیث سے ثابت ہںا۔ 2 درودشریف پڑھنے والے کا درودشریف سُننا نبیﷺ سے ثابت ہے اور احادیث سے اس کی تفصیلیہ معلوم ہوتی ہے کہ روضۂ اقدس پر جاکر جو شخص درودشریف پڑھتا ہے اس کو نبیﷺ روضۂ اقدس مںب بنفس نفسث براہِ راست خود سُنتے ہںا اور جو لوگ اپنے اپنے مقامات پر رہتے ہوئے درودشریف پڑھتے ہںک، اﷲ تعالیٰ نے فرشتوں کی ایک جماعت کو مقرر فرمایا ہے جو پڑھنے والے کے نام کے ساتھ نبیﷺ تک اس پڑھے جانے والے درودشریف کو پہنچاتے رہنے کا فریضہ انجام دیتے رہتے ہںے۔(مسندالبزار جلد 2 صفحہ 455) 3 جو شخص نبیﷺ پر ایک(1) مرتبہ درودشریف پڑھے تو پڑھنے والے پر اﷲتعالیٰ کی طرف سے دس(10) مرتبہ رحمت کا نزول ہوتا ہے۔(سنن نسائی جلد 3 صفحہ 58) 4 نبیﷺ پر ایک(1) مرتبہ درودشریف پڑھنے کے بدلے مںے اﷲتعالیٰ اس کے نامۂ اعمال مں( دس(10) نا5 ں لکھتے ہںم۔(سنن نسائی جلد 3 صفحہ 58) 5 ایک(1) مرتبہ درودشریف پڑھنے کے بدلے مں پڑھنے والے کے نامۂ اعمال مںﷲ سے دس(10) گناہ اور برائابں مٹادی جاتی ہںت۔(سنن نسائی جلد 3 صفحہ 58) 6 نبیﷺ پر ایک(1) مرتبہ درودشریف پڑھنے کا صلہ یہ ملتا ہے کہ اﷲتعالیٰ کے ہاں پڑھنے والے کے مرتبے اور مقام مںا دس(10) درجہ ترقی ہوجاتی ہے۔(سنن نسائی جلد 3 صفحہ 58) 7 جو شخص نبیﷺ پر کثرت سے درودشریف پڑھتے رہنے کا اہتمام رکھتا ہے، قانمت کے مدہان مں آپﷺ کی طرف سے اُس کی شفاعت و سفارش واجب ہوجاتی ہے۔(المعجم الکبر جلد 5 صفحہ 25) اختاُری عبادات مںب افضل ترین عبادت: اﷲ تعالیٰ کی رضا حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ اﷲتعالیٰ کی طرف سے ناراضگی سے امن مل جائے گا، قاںمت کے مدران مں جہاں کوئی سایہ نہںہ ہوگا اسے اﷲتعالیٰ کے عرش کا سایہ نصبل ہوگا، اعمال کے تولے جانے کے وقت درودشریف کی کثرت کی وجہ سے اس کے نیک اعمال کا پلّہ بھاری اور جُھکا ہوا ہوگا۔ اسے حوضِ کوثر کی حاضری نصبل ہوگی، قاتمت کے دن کی سخت گرمی کی شدید پااس سے امن حاصل ہوگا، پُل صراط پر آسانی سے گزر جائے گا، جہنم کی آگ سے خلاصی نصبع ہوگی اور درودشریف کی کثرت رکھنے والوں کو اِن اخروی ثمرات کے حصول سے پہلے مرتے وقت روح نکلنے سے پہلے اس کا جنت مںہ طے شدہ ٹھکانہ دناو ہی مںر دکھا دیا جائے گا۔ شریعتِ اسلامہم نے جہاں عملی زندگی مںگ کچھ اعمال بحتہف فرض وواجب کے بتلائے ہں وہاں اییر اییا نووئ ں کی طرف ترغبی دلائیہے، جن سے نہ صرف نامۂ اعمال مُزیّن ہوتا رہتا ہے بلکہ خود انسانی زندگی بھی انتہائی آسان، انتہائی پرسکون اور نہایت روح پرور بن جایا کرتیہے، ان تمام نولی ں مںل افضل نی درودشریف کی کثرت ہے، چنانچہ ایک روایت مںئ آتا ہے کہ: ایک صحابی نے نبیﷺ کے پاس آکر پوچھا کہ مںئ اپنی عبادات کے اوقات مںا سے کتنا وقت درودپاک کے لےر متعنک کروں؟ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا: جتنا آپ کا دل چاہے، اُس نے عرض کاے، کات اُن اوقات کا تسرےا حصہ مختص کردوں؟ تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اچھا ہے، لکنﷺ اگر اس مںا مزید اضافہ ہوجائے تو یہ تراے لے بہتر ہے، انہوں نے عرض کاع، آدھا حصہ کردوں؟ آپﷺ نے فرمایا: کہ یہ اچھا ہے، اس مں مزید اضافہ ہوجائے تو تراے لے بہتر ہوگا، اس پر صحابی نے پھر عرض کا : مںک سارا ہی وقت درودشریف پڑھتے رہنے کے لے مقرر کرتا ہوں؟ اس جواب پر آپﷺ نے ارشاد فرمایا: پھر تو ترری ساری دنا وی و اُخروی جاجتںر غب سے پورے ہونے کا فصلہ کردیا جائے گا۔(سنن ترمذی جلد 4 صفحہ 636) مندرجہ بالا روایت سے یہ بات بآسانی سمجھ مںے آتی ہے کہ درودشریف پڑھنا ایک اہم ترین عبادت ہے اور اﷲتعالیٰ کے ہاں انتہائی محبوب ہے اور تجربے و مشاہدے کے حوالے سے بلاخوفِ تردیدیہ دعویٰ کاا جاسکتا ہے کہ درودشریف کی کثرت فقر اور تنگیٔ معشتب کو دور کرتی ہے اور اس کی برکات سے درودشریف پڑھنے والا خود بھی فائدہ اٹھاتا ہے اور اس کے اثرات و ثمرات اس کی آئندہ نسلوں مںج بھی منتقل ہوتے رہتے ہںت،یہ ایک ایسا عمل ہے جس کو پڑھ کر اس کا ثواب اس دناس سے گزر جانے والے اپنے متعلقنن اور پوری امت کو بھی پہنچایا جاسکتا ہے اور وہ منعلقاد عالم برزخ مں اس لذتوں کے ذریعے سے مسرتوں اور خوشو ں کے ماحول مںی آجاتے ہںی۔ درودشریف کے ظاہری باطنی نتائج: درودشریف پڑھنا ایک ایسا عمل ہے جو ظاہری بماعریوں کے خاتمے کے لےر مفدں، معنک اور معاون ثابت ہوتا ہے، نز باطنی بماںریوں کی جڑیں بھی اُکھاڑ کر پھنکا دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، جس مںل دلوں کا نفاق اور زنگ سرفہرست ہے، نزو درودشریف کی کثرت رکھنے والے کی نہ صرف دوسرے انسانوں بلکہ تمام جانداروں کے دلوں مںظ محبت پدعا کردینے کا ذریعہ ہے، اس دناا کے اندر رہتے ہوئے درودشریف کی کثرت کے ذریعے سے خواب مںے نبیﷺ کی زیارت بھی ہوسکتی ہے، علمائے کرام یہ بات بھی ارشاد فرماتے ہں : درودشریف کی کثرت کا ایک بھرپور فائدہ یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کی غبت کرنے سے خود بھی محفوظ رہتا ہے اور اس کی غبتر سے لوگوں کو بھی دور رکھا جاتا ہے، درودشریف بابرکت اعمال مںپ سے سب سے بڑھ کر بابرکت اور افضل ترین عمل ہے، انسانوں کی سمجھداری کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اسلام کے تفویض کردہ فرائض وواجب اعمال کے اہتمام کی پابندی کے ساتھ ساتھ درودشریف کی کثرت سے اپنی دییھ، دنافوی اور اخروی زندگوکں کو مزین فرماکر نہ صرف اﷲتعالیٰ کا قرب حاصل کریں بلکہ نبیﷺ کی شفاعت کو اپنے لےی واجب کروائںم اور دنال و آخرت مںر سُرخ رو اور کاماوب ہوں۔ خاص خاص درودوں کے خاص خاص فضائل 1 وہ درود جس کا ثواب ستّر(70) فرشتے ہزار(1000) دن تک لکھتے رہتے ہںہ: عن ابن عباس قال: قال رسول اﷲ صلی اﷲ علہک وسلم: من قال جزی اﷲ عَنَّا مُحَمَّدًا مَّا ھُوَ اَھْلُہُ، اتعب سبعین کَاتِبًا الف صباح۔(المعجم الاوسط جلد1 صفحہ 82) ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہ حضوراقدس ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہںو کہ: آپﷺ نے فرمایا: جو شخص یہ دعا (درودپاک پڑھ کر) کرے: ’’جَزَی اﷲُ عَنَّا مُحَمَّدًا مَّا ھُوَ اَھْلُہُ‘‘ ترجمہ:’’اﷲتعالیٰ جزا دے محمدﷺ کو ہم لوگوں کی طرف سے جس بدلے کے وہ مستحق ہںت۔‘‘ تو اس کا ثواب ستّر(70) فرشتوں کو ایک ہزار (1,000) دن تک مشقت مںٰ ڈالے گا۔ 2 درود برائے دفع تمام مصائب و پریشانی و قضائے حاجات: علامہ فاکہانی رحمۃ اﷲ علہت کی ’’الفجر المنیر‘‘ مںا شخر صالح موسیٰ الضریر رحمہ اﷲ سے مروی ہے کہ وہ سمندری سفر مںج تھے، سمندری طوفان آگار، جس سے بہت کم ہی جہاز ہلاکت سے بچتا ہے، اسی دوران نند آگئی تو خواب مں آپﷺ کی زیارت ہوئی، آپﷺ نے تعلمہ فرمائی کہ تمام اہلِ جہاز سوار ایک ہزار (1,000) مرتبہ یہ درود شریف پڑھں ، تو مںو بدوار ہوا، اور تمام جہاز مں، سواروں کو بتایا سب نے یہ درود پڑھا، اس درودپاک کی برکت سے ہم سب بچ گئے، حسن بن علی الاسوانی رحمہ اﷲ فرماتے ہں کہ تمام نازل شدہ مصائب و حوادث پر ایک ہزار(1,000) مرتبہیہ درود پڑھنے سے نجات ملتی ہے: ٭ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ صَلٰوۃً تُنَجِّیْنَا بِھَا مِنْ جَمِیْعِ الْاَھْوَالِ وَالْاٰفَاتِ، وَتَقْفِیْ لَنَابِھَا جَمِیْعَ الْحَاجَاتِ، وَتُطَھِّرُنَا بِھَا مِنْ جَمِیْعِ السَّیِّئَاتِ، وَتَرْفَعُنَا بِھَا عِنْدَکَ اَعْلٰی الدَّرَجَاتِ، وَتُبَلِّغُنَا بِھَا اَقْصَی الْغَایَاتِ مِنْ جَمِیْعِ الْخَیْرَاتِ فِی الْحَیَاۃِ وَبَعْدَ الْمَمَاتِ۔(زادالسعدئ/ القول البدیع/ دییب دسترخوان جلد اوّل، اسوۂ رسول اکرم صفحہ 211) ترجمہ:(اے اﷲ! ہمارے سردار حضرت محمد مصطفیﷺ اور اُن کی آل پر اییَ رحمت و برکت نازل فرما جس سے ہمںا تمام ڈر خوف اور آفات سے نجات ہوجائے اور جس کی برکت سے ہماری تمام حاجتںص پوری ہوجائںک اور جس کی بدولت ہم تمام گناہوں سے پاک و صاف ہوجائںن اور جس کے وسلہا سے ہم ترصی بارگاہ مںل اعلیٰ درجوں پر متمکن ہوں اور جس کے ذریعے ہم زندگانی کی تمام نوھ اں اور مرنے کے بعد کی تمام اچھائوسں سے مکمل طور پر فائدہ حاصل کریں۔) 3 ہر سختی اور پریشانی کو دور کرنے والا درودِپاک: رسولِ خدا ﷺ نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو ہر مشکل اور پریشانی کے دور کرنے کے لےریہ درود اور دُعا سکھائی: ٭ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مَحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مَحَمَّدٍ، اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ اَسْأَلُکَ بِحَقِّ مَحَمَّدٍ وَآلِ مَحَمَّدٍ اَنْ تَکْفِیَنِیْ شَرَّ مَا اَخَافُ وَاَحْذَرُ۔(جواہر درود و سلام صفحہ 56) ترجمہ:(اے اﷲ! محمد(ﷺ) اور ان کی آل پر درود بھج ، اے اﷲ! مںّ محمد اور آل محمد کے وسلےِ سے آپ سے سوال کرتا ہوں کہ آپ ہر اُس شر سے مر ی کفایت فرمائے جس کا مجھے ڈر اور خوف ہے۔) 4 مال مںُ برکت ، زیادتی اور تنگدستی دور کرنے والا درودِپاک: ٭ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَرَسُوْلِکَ وَعَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ۔(اعمال قرآن للتھانوی صفحہ 229) ترجمہ:(اے اﷲ! اپنے بندے اور رسول محمد(ﷺ) پر اور تمام ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں پر درود بھجئ۔) 5 قرض کی ادائیٰی کے لے درودِپاک: ٭ اَللّٰھُمَّ صَلِّ اَبَدًا اَفْضَلَ صَلَوَاتِکَ، عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَنَبِیِّکَ النَّبِیِّ الْاُمِیِّ وَاٰلِہِ وَسَلِّمْ عِنْدَکَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔(جواہر درود وسلام صفحہ 62) ترجمہ:(اے اﷲ! ہمشہَ کے لے افضل درود بھجل ہمارے سردارممد(ﷺ) پر جو آپ کے بندے اور آپ کے نبی امی ہںَ اور ان کی آل پر اور سلامتی بھج قاتمت کے دن تک۔) اگر کوئی قرض دار اس درودشریف کو روزانہ سو(100) مرتبہ پڑھا کرے تو انشاء اﷲ اس کے قرض کی ادائیکے کا بندوبست اﷲتعالیٰ فرمادیں گے۔ 6 دل اور اس کی بماشریوں کے لے درودشریف: ٭ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ طَبِیْبِ الْقُلُوْبِ وَنُوْرِ الْاَبْصَارِ وَضِیَایُھَا وَعَلٰی آلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ۔ ترجمہ:(اے ہمارے آقا محمد(ﷺ) پر درود بھجو جو دلوں کے طببپ اور آنکھوں کا نور اور اس کی روشنی ہںھ اور ان کی آل اور ان کے اصحاب پر اور برکت وسلام بھجم۔) یہ درود بھی ہے اور مکمل شفا بھی ہے، دل کے درد اور جملہ امراضِ دل کے لے ایک لاجواب دوا ہے، بالخصوص دل دھڑکنے، دل تڑپنے، دل ڈوبنے، دل بڑھنے، کمزور ہونے اور دل بنےبھی کے لے مجرب نسخہ ہے، یہ درودپاک تن سو(300) مرتبہ روزانہ پڑھنا چاہےڈ، اﷲتعالیٰ دل کی ہر بما ری سے شفا عطا فرمائے گا۔(فضائل و برکاتِ درودشریف/ مقام درودشریف صفحہ 87) 7 ازالہ امراض کے لےڑ: ٭ اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰٓی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِہٖ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ کُلِّ دَائٍ وَّدَوَائٍ وَّ بَارِکْ وَسَلِّمْ عَلَیْہِ وَعَلَیْہِمْ کَثِیْراً۔ ترجمہ:(اے اﷲ! ہمارے سردارمحمد(ﷺ) اور ان کی آل پر ہر بماہری اور دوا کی تعداد کے بقدر درود بھجا اور آپ پر اور ان سب پر بہت بہت کثرت سے برکتں اور سلامتی نازل فرما۔) ہر فرض نماز کے بعد تنو(3) مرتبہ پڑھے۔(سعادت الدارین ص۳۰۴) نماز کے علاوہ بھی پڑھنا امراض کے ازالہ کے لےپ مجرب ہے خصوصاً طاعون اور وَبا کے زمانے مں اہتمام سے پڑھنا چاہےد۔(جامع الصلاۃ ص۳۴۴) ہر درد وبما۳ری دور کرنے کے لےے اول و آخر یہ درود پڑھے ۔درمامن مں سورۃ الفاتحہ ، نزل اگر سو(100) مرتبہ اس کو روزانہ پڑھے تو گناہو ں سے بھی محفوظ رہے گا۔(ذریعۃ الوصول ص ۱۶۰) 8 محتاجی سے حفاظت : جو اس درود کو روزانہ پانچ (500) سو مرتبہ پڑھے گا وہ کبھی محتاج نہںپ ہو گا۔ ٭ صَلَّی اللّٰہُ عَلٰٓی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ وَسَلِّمْ۔(ذریعۃ الوصول ص۱۵۳) ترجمہ:(ہمارے سردار محمد(ﷺ) پر اﷲتعالیٰ کا درود اور سلامتی ہو اور ان کی آل پر۔) 9 قرض سے حفاظت ہو : جو شخص ظہر کی نماز کے بعد سو(100) مرتبہ یہ درود پڑھے گاتو تنو(3) انعامات سے نوازا جائے گا:(1)کبھی مقروض نہں0 ہو گا ۔(2)اگر مقروض ہو تو خزانہ غبب سے ادائی) کا انتظام ہو گا۔ (3)قا مت مں اس کو کسی تقصر1 پر عذاب نہں ہو گا ۔ ٭ اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰٓی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ۔ ترجمہ:(اے اﷲ! محمد(ﷺ) اور ان کی آل پر درود اور برکت اور سلامتی نازل فرما۔) 10 حل مشکلات کے لےَ درود : بزرگوں نے فرمایا کہ جو شخص سختی و پریشانی مں مبتلا ہو اسے چاہےف کہ یہ درود شریف پڑھے: ٭ اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰٓی مُحَمَّدٍ نِالنَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الطَّاہِرِ الذَّکِیِّ صَلَاۃً تَحُلُّ بِہِ الْعُقَدُ وَتَفُکُّ بِہَا الْکُرَبُ، صَلَاۃً تَکُوْنُ لَکَ رِضًی وَلَحِقَہُ اَدَائٌ وَعَلٰٓی اٰلِہٖ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ۔ ترجمہ : (اے اللہ! رحمت نازل فرما حضر ت محمدﷺ پرجو نبی امی اور طاہر وذکی ہں اییک رحمت کہ اس کی برکت سے عقدے حل ہو جائںل اور پریشانا ں دور ہو جائںس۔) اس درود کو کثرت سے پڑھے اللہ تعالیٰ تما م مشکلات کو حل فرمادیں گے نزل اس کا ورد دل کو رووشن کرتاہے اور سینے کو کشادہ کرتا ہے ۔یہ شخر عبدالقادر جیلانی ؒ سے منقول ہے۔(ذریعۃ الوصول ص ۱۱۴) 11 حل مشکلات: ٭ اَللّٰہُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ عَلٰٓی سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ صَلَاۃً تَحُلُّ بِہَا عُقْدَتِیْ وَتَفْرُجُ بِہَا کُرْبَتِیْ وَتُنْقِذُنِیْ بِہَا مِنْ وَحْلَتِیْ وَتَقِیْلُ بِہَا عُثْرَتِیْ تَقْضِیْ بِہَا حَاجَتِیْ۔ ترجمہ:(اے اﷲ! درود و سلام بھجر ہمارے آقا اور مولیٰ محمد(ﷺ) پر ایسا درود جس کی برکت سے مر ی مشکلات کی گرہ کھل جائے اور مرُی تنگی مںج کشادگی ہوجائے اور مر ی مشکل سے نجات مل جائے اور مرَی دشواریاں کم ہوجائںی اور مرقی حاجت پوری ہوجائے۔) حل مشکلات کے لےی خصوصاً جب رات کو آدمی دو(2) رکعت پڑھ کر پھر ہزار(1000)مرتبہ اس کو پڑھے تواللہ تعالیٰ تمام پریشانواں سے نجات عطا فرماتا ہے۔ بزرگ فرماتے ہںو اس کو لازم پکڑ لو بہت نافع ہے ۔(جامع الصلاۃ ص۲۰۶) 12 دشمنون سے حفاظت کے لےن: ٭ اَللّٰہُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ عَلٰٓی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ صَلَاۃً تَکُوْنُ لَنَا عَلَی اللّٰہِ بَابًا مَشْہُوْداً وَعَنْ اَعْدَائِہٖ حِجَابًا مَسْدُوْداً وَعَلٰٓی اٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلِّمْ۔ ترجمہ:(اے اﷲ!درود و سلام بھج ہمارے سردار محمد(ﷺ) پر اور ان کی آل اور صحابہ پر درود و سلام بھجب، ایسا درود جو ہمارے لےَ اﷲتعالیٰ کی بارگاہ مںَ بابِ مشہود اور ہمارے دشمنوں پر حجاب مستور بن جائے۔) دشمنوں سے حفاظت کے لےْ بہت مجرب ہے ۔(جامع الصلاۃ ص۲۴۴)۔ وما توفیقی إلاباللّٰہ

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
874     1