(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/05/23
موضوعات
مدارس کی اہمیت
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مدارس کی اہمتع مدارس کا قاوم کووں عمل مںے لایا گا ؟ جب جنوبی ایاوْ مکمل طور پر انگریز کے قبضے مں چلاگاط اور یہاں صدیوں سے چلے آنے والے نظام تعلما کو ختم کردیا گای تو علماء نے عام مسلمانوں کی دین کے ساتھ وابستگی، ان کے عقائد کی حفاظت، اجتماعی اور انفرادی ہر قسم کے مسائل مںذ اُن کی دییت رہنمائی کے لے، عوام کے تعاون سے ایک نئے تعلی ط نظام کی بناظد رکھی۔ نئی سا سی تبدیلیوں کی وجہ سے اس نظام تعلمل کی اہمت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی تھی کوونکہ اگر مسلمانوں کے اس نظام تعلم کو یکسر ختم کردیا جاتا تو اس بات کاییس خطرہ تھا کہ مسلمان اپنے دین اور مذہب سے دُور ہوجائیںگے۔ چنانچہ مسلمانوں کی اسلامی طرزِ زندگی برقرار رکھنے کے لےر اس نظامِ تعلما کو انفرادی طور پر دوبارہ استوار کا گا اور 1865ء مں دیوبند کے قصبے سے اس کا آغاز ہوا پھر رفتہ رفتہ یہ سلسلہ پورے برّصغرت مںع پھیل گاد اور مکمل کاماسبی کے ساتھ اپنے مقاصد کی تکمل کرتے ہوئے مسلمانوں کے تشخّص کو برقرار رکھا۔ مدارس چلانے کی حکمت عملی: ان مدارس کے قالم کا مقصد چونکہ عام مسلمانوں کی دییے رہنمائی کرنا تھا لہٰذا ان کے چلانے کے لےھیہ حکمت عملی ترتبی دی گئی کہ یہ عام مسلمانوں کے رضا کارانہ تعاون سے چلائے جائں گے، حکومت سے کسی قسم کی امداد نہںے لی جائے گی اور نہ ہی مستقل طور پر کوئی ذریعہ آمدنی اختاتر کام جائے گا تاکہ عام آدمی کا ان مدارس کے ساتھ اور مدارس کا عام آدمی کے ساتھ تعلق قائم رہے۔ اس حکمت عملی کی برکت سے آج تک مدارس کا سلسلہ قائم ہے اور مسلسل ترقی کررہا ہے، ہندوستان کے چھوٹے اور غرن معروف قصبے ’’دیوبند‘‘ سے نکل کر اس کی شاخں پوری دناس مںم پھیل چُکی ہںر، مسلم ممالک کے علاوہ غرت مسلم ممالک مں۔ بھی مسلمانوں کی دییم رہنمائی کا فریضہ انتہائی کاماپبی سے نبھارہی ہے۔ آج اس دورِجدیدمں ،جہاںبڑی بڑی اسلامییونوقرسٹاسں قائم کی گئی ہںے، دنام کے گوشے گوشے سے طلباء آکر دیوبند کی ان شاخوں مںا پڑھ کر پوری دناد مںر اسلام کا صححب پغاام پہنچارہے ہںٹ۔ یہ اس کی اللہ کے نزدیک قبولتن کی بہت بڑی نشانی ہے۔ موجودہ دور مںر دیی مدارس کی اہمتک: دییا مدارس کا وجود ہر دور مںم مسلّم ہے۔ جس طرح روزِ اوّل اس کی اہمتی تھی آج بھی اتنی ہی اہمت ہے۔ شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے اس کی اہمت کو یُوں اجاگر کاِ ہے۔ ان مکتبوں کو اس طرح رہنے دو ،غریب مسلمانوں کے بچوّں کو اس مںا پڑھنے دو اگر یہ ملاّ اور درویش نہ رہے تو پتہ ہے کاک ہوگا؟ جو ہوگا مںے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ آیا ہوں۔ اگر ہندوستانی مسلمان ان دییج مدارس کے اثر سے محروم ہوگئے تو بالکل ایسا ہوگا جس طرح اندلس مں مسلمانوں کی آٹھ سو برس کی حکومت کے باوجود آج غرناطہ اور قرطبہ کے کھنڈرات اور الحمرا ء کے نشانات کے سوا اسلام کے ماننے والوں اور اسلامی تہذیب کے آثار کا کوئی نقش نہں ملتا۔ ہندوستان مں بھی آگرہ، تاج محل اور دلّی کے لال قلعہ کے سوا مسلمانوں کی آٹھ سو سالہ حکومت اور ان کی تہذیب کا کوئی نشان نہںن ملے گا۔ (مسلمانوں کی ملّی اور سا سی زندگی) یاد رکھےی! جس طرح دییک مدارس سے مذہب اور اسلامی قومتں کی حفاظت ہوتی ہے اس طرح ملک کی حفاظت اور اس کے استحکام کا دارومدار بھی انہی مدارس پر ہے۔ مطالبہ پاکستان کے وقت جس طرح مسلم قومتی اور مذہب اسلام مضبوط بنا د تھے اس طرح آج بھی پاکستان کی بقاء اور استحکام کے لےا مسلم قومتا اور مذہب اسلام کو وہی حتہب حاصل ہے۔ دییے مدارس مں چونکہ مسلم قومت اور مذہب اسلام کی تعلم دی جاتی ہے لہٰذا اس کی جتنی اہمتی اور ضرورت انگریزی دور مںم تھی اس سے بڑھ کر ان مدارس کی آج پاکستان کو ضرورت ہے۔ وجہ یہ ہے کہ یہ مدارس جس طرح ملّت اسلام اور دییم تعلمت کی حفاظت کے واسطے مضبوط قلعے ہںں، اسی طرح ملک پاکستان کے لےو اغاتر کے فکری اور نظریاتی حملوں سے بچانے کے مضبوط قلعے ہں ۔ ان مدارس سے غفلت برتنا اور حسب استطاعت ان کی ترقی مں حصہ نہ لناا ملّت اور ملک پاکستان دونوں کی بناکد سے بے پرواہی برتنے اور چشم پوشی کرنے کے مترادف ہے۔ مدارس دینیہ کا قارم اور وجود مسلمانوں کے پاس وہ نعمت ہے جو تمام نعمتوں سے برتر اور اعلیٰ ہے۔ اسلام کی حقینے روح کی بقاء اسی مدارس کے وجود مںی پوشدکہ ہے، علم کے بغرس اسلامی عقائد پر ایمان رکھنا اور احکام پر عمل کرنا ممکن نہںح ہے، موجودہ دور مںک صحح اسلامیعلوم انھی مدارس مںا پڑھائے جاتے ہںک لہٰذا یہ وہ مراکز ہںٰ جن سے منسلک رہ کر مسلمان اپنے دین کی حفاظت اور عقائد کو درست کرسکتے ہںو۔ موجودہ مدارس کی ضرورت کوسں پشھ آئی؟ ابتدائے اسلام مں۔ مدارس کی ضرورت اس لےج نہںت تھی کہ رات دِن دییا علوم کی ترویج اور اشاعت کا کام ہوتا تھا، اعلیٰ درجے کے تقویٰ کی وجہ سے مسلمانوں کا حافظہ انتہائی قوی ہوتا تھا۔ ہر قسم کے مسائل وہ صرف سُن کر یاد کرلتےل تھے۔ گردشِ زمانہ کی وجہ سے نہ تقویٰ کا وہ معا ر رہا اور نہ حافظوں پر مکمل اعتماد رہا ،لہٰذا مسائل کی حفاظت کے لےح اس کو لکھنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ چنانچہ علماء نے احادیث کی مدد سے ہر قسم کے مسائل اور ان کے احکام کو لکھ لاں اور حفاظت کے واسطے ان کو کتابوں مںا جمع کرلا تاکہ کسی قسم کی غلطی کی گنجائش نہ رہے۔ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اس بات کی ضرورت محسوس ہوئی کہ یہ کام باقاعدہ ایک جماعت کو کرنا چاہےح۔ کوینکہ کام مںق وسعت پدرا ہونے کی وجہ سے یہ ایک شخص کے بس کی بات نہ تھی کہ وہ اکلےس سارا کام سنبھال سکے۔ اس کے بعد یہ مرحلہ آیا کہ کتابوں مں محفوظ احکام و مسائل کو دوسروں تک پہنچایا جائے چنانچہ پڑھانے والوں (اساتذہ) کی ضرورت پشی آئی جن کا کام یہ تھا کہ وہ ہر وقت تاکر رہںک جو ان سے مسائل شرعہد پوچھنے آئے یہ حضرات اُن کی رہنمائی کریں ۔ اس طرح وقت اور تقاضے کے لحاظ سے اس کی صورت گری ہوتی رہییہاں تک کہ آج مدارس موجودہ شکل مںو منظم طریقے سے چل رہے ہںا۔ مدارس کی اعانت کرنا: اہل مدارس کی اعانت اور امداد کرنا عوام پر لازم ہے۔ چونکہ دین کی حفاظت سب مسلمانوں پر فرض ہے لہٰذا جو دین کی حفاظت مںا لگے ہوئے ہںا ہمارے ذمّے ان کی خدمت ضروری ہے۔ دین کا کام چونکہ ہم سب مسلمانوں کا مشترکہ کام ہے گویا کہ دین کا کام کرنے والے ہمارا ہی کام کررہے ہںو۔ جو لوگ علم دین پڑھنے اور پڑھانے مںا مصروف ہںد وہ تمام مسلمانوں کی طرف سے فرضِ کفایہ ادا کررہے ہںن ۔فرضِ کفایہ کا قاعدہ یہ ہے کہ اگر کچھ مسلمان اس کو ادا کریں تو باقی مسلمان گناہ سے بچ جاتے ہںس۔ اور اگر کسی نے بھی انجام نہںے دیا تو سب گناہ گارہوں گے۔ اگر مدارس والے بھی پڑھنا پڑھانا چھوڑدیں تو یہ کام ہر مسلمان کے ذمّے فرض ہوجائے گا اور پوری سوسائٹی فرض ترک کرنے کی وجہ سے گناہ گار ٹھہرے گی۔ہمںھ دییل مدارس کے منتظمن کا شکریہ ادا کرنا چاہےو کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی اس کام کے لےک وقف کرکے ہمںگ اس فرض کفایہ سے سبکدوش کردیا ہے۔ اس تفصلا سے یہ بات واضح ہوگئی کہ جو لوگ دین کے کاموں مں مشغول ہںج وہ ہمارے ہی کام مں لگے ہوئے ہںن۔ اس طرح تجربہ اور مشاہدہ اس بات کی تصدیق کرتاہے کہ علم دین کے کاموں مںر مشغولتک کے ساتھ ساتھ معاش کی فکر مںا لگنے کی وجہ سے علم دین کا کام متاثر ہوتا ہے کورنکہ اس کام کے لے مکمل انہماک اور پوری توجہ کی ضرورت ہوتی ہے اور کسبِ معاش سے یہ انہماک اور توجہ باقی نہںم رہتی، لہٰذا یہ تمام مسلمانوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ دین کے کام مںگ مشغول اہلِ مدارس کو کسبِ معاش کی فکر سے آزاد رکھںہ تاکہ وہ مکمل اطمناتن اور توجہ کے ساتھ دیین امور انجام دے سکںش۔ شریعت کے قانون پر نظر ڈالنے سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص کسی کے کام مںم لگا ہوا ہے تو اس کا نفقہ (خرچہ) اُسی کے ذمّے واجب ہے جس کا کام کررہا ہے۔ ییر وجہ ہے کہ قاضی کی تنخواہ سب مسلمانوں کے ذمّے ہے کوینکہ وہ مسلمانوں کے کام مں مصروف ہے۔ سرکاری خزانے سے تنخواہ دینا ایسا ہے جسام کہ سب مسلمانوں کی طرف سے دیا جاتا ہے اِسی قانون کی وجہ سے اہلِ علم کا نفقہ (خرچہ) بھی سب مسلمانوں کے ذمّہ ہے تمام مسلمان خود اس بات کا خاول رکھںک کہ اہلِ علم کی خدمت کریں اور پڑھنے پڑھانے کے مقدّس کام مں) حصہ دار بنںم۔ جب تک بت المال کا نظام موجود تھا، بتت المال ہی سے مسلمانوں کے اجتماعی مصالح کے لے وصولی کی جاتی تھی۔ چنانچہ قاضی صاحبان، علماء حضرات، مفتا ن کرام کو بتا المال ہی سے تنخواہ ملتی تھی کوانکہ ان حضرات نے اپنی خدمات کو مسلمانوں کی فلاح کے لےح وقف کررکھا تھا۔ لکنا اب چونکہ بتم المال کا نظام باقی نہںا رہا لہٰذا اس کا حل یہ ہے کہ سب مسلمان متفق اور مجتمع ہوکر ان کی خدمت کریں جس کے پاس جس قدر وُسعت ہو وہ اتنا ہی ذمّہ دار ہے۔ لہٰذا ہر شخص کو چاہےو کہ قوم کے مصالح کے ان کاموں مں حصہ لے، اگر کوئی اپنی ذمّہ داری میںکوتاہی کرے گا تو کل بروزِ قاہمت اس سے اس کی ذمّہ داری کے بارے مںف پوچھا جائے گا۔ ہم علماء کے محتاج ہںپ: آج ایک بہت افسوسناک تصوّر ابھرا ہے اور وہ یہ ہے کہ لوگ علماء کو اپنا محتاج سمجھتے ہںس، ان کا خایل ہے کہ علماء اور مدارس کا وجود ان کے مرہونِ منّت ہے، اگر ہم علماء کا ساتھ نہںو دیں گے تو یہیوں بکاےر پڑے رہںس گے۔ آئےر! ایک لمحے کے لےر فرض کرلں کہ ہم علماء کے تعاون سے ہاتھ کھنچک لتےا ہںہ۔ اس کا نتیجہیہ ہوگا کہ وہ بھی دوسرے لوگوں کی طرح دُناگ کے کاموں مں لگ جائںں گے اور اپنے لے کسبِ معاش کی فکر کریں گے اس صورت مں ہمںو اپنی اولاد کی خرں منانی ہوگی۔ پچاس سال کے اندر کچھ یہودی ہوں گے اور کچھ نصرانی۔ کوینکہ وہ باطل قوّتںہ جن کے آگے علماء نے علم کی رکاوٹںں کھڑی کی ہںپ، پوری قوّت سے حملہ آور ہوں گی، ان کا راستہ روکنے والے کوئی نہں ہوگا، چند سالوں کے اندر ہمارے گھروں سے اسلام کا جنازہ نکل جائے گا۔ لہٰذا ہمں کبھی بھی علماء کو اپنا محتاج نہں سمجھنا چاہےب۔ حقیقتیہ ہے کہ یہ بڑے با صلاحیت لوگ ہںل اگر چاہے تو دُناہ کما سکتے ہں لکنت انہوں نے دُنا سے منہ موڑ کر اپنے آپ دین کی حفاظت ے لےس وقف کررکھا ہے۔ ان کی خدمت مںگ ہم سب کی بھلائی ہے اور ہم علماء کے محتاج ہں ۔ مدرسہ اور اہلِ مدرسہ کی مدد صدقہ ٔجاریہ ہے: مدارس کی اہمتی کے پشٔ نظر ہمںو مدارس کی معاونت مںپ بڑھ چڑھ کر حصہ لناا چاہےو، جس کی جس قدر وسعت ہو وہ اپنا حصہ ملائے۔ یہ نہ سوچںا کہ مںہ کم حصہ لے رہا ہوں یا زیادہ ،بلکہ محض شرکت ہی کو غنمتا سمجھں،۔ یہ انشاء اللہ ہمارے لےح صدقۂ جاریہ ہوگا، مرنے کے بعد مال اولا ء کی مرراث ہوجاتا ہے اور صرف وہی مال کام آتا ہے جو صاحب مال نے اپنی زندگی مں اللہ کے نام پر خرچ کاہ ہو، لہٰذا اپنی زندگی مںر جس قدر ممکن ہو اپنے لے توشۂ آخرت بڑھانا چاہےا۔ جب انسان مرجاتا ہے تو ذرہ ذرہ نی ا کو ترستا ہے اور کہتا ہے کہ کاش! کوئی شخص ایک مرتبہ’’ سبحان اللہ ‘‘کہہ کر اس کا ثواب بخش دے، یہ صدقۂ جاریہ اس وقت کام آئے گا۔ یہ خواہش صرف ایک عام آدمی ہی نہںل بلکہ بڑے بڑے اولا ء اللہ بھی کریں گے۔ ایک مسلمان کے لےی اس سے بڑھ کر اور کاو عظمب خوشخبری ہوسکتی ہے کہ جب قاصمت کے روز سب کے نامۂ اعمال پشک کےے جائںف گے تو یہ سمجھے گا کہ مرمے پاس تو مغفرت کے لےں مطلوبہ نابڑےں نہںا ہںا،یہ بہت ہی غم اور حسرت کا مقام ہوگا، لکنو جب نامۂ اعمال کا ورق اُلٹا جائے گا تو کہںک بخاری شریف کا ثواب لکھا ہوا پائے گا، کہںں تلاوتِ قرآن کا ثواب۔ اس شخص کو ایک خوشگوار حر ت ہوگی کہپڑھنا تو در کنارمںی نے زندگی بھر بخاری شریف کو ہاتھ تک نہںں لگایا،یہ بخاری شریف پڑھنے کا ثواب کہاں سے آگا ؟ اسی طرح تلاوتِ قرآن پاک کا ثواب دیکھ کر کہے گا کہ مںت نے تو کبھی اتنی تلاوت نہںل کی، مروے نامۂ اعمال مں اتنی تلاوت کا ثواب کہاں سے آگار؟ اس وقت اس کو بتایا جائے گا کہ تم نے فلاں فلاں مدرسے کے ساتھ تعاون کاو تھا، آپ تو دے کر بُھول گئے لکنص اللہ تعالیٰ بڑا قدروان ہے وہ احسان نہںت بھولتا، جب تک اُس مدرسے مں قرآن پاک کی تلاوت اور احادیث پڑھنے پڑھانے کا سلسلہ چلتا رہا برابر آپ اُس مں حصّہ دار رہے۔ اور یہ سلسلہ تا قاےمت چلتا رہا، کو نکہ اگر مدرسے کی عمارت کسی وجہ سے باقی نہ بھی رہی لیکنیہاں سے پڑھ کر نکلنے والے تو برابر اِس علم کی اشاعت کرتے رہے اور یہ سب تمہارے نامۂ اعمال مںک جمع ہوتا رہا، آج جو تم ثواب اور انعامات کی پوٹلی کو پوٹلی دیکھ رہے ہو یہ سب اُسی صدقۂ جاریہ کا اجر اور بدلہ ہے، اس وقت پتا چلے گا کہ ایک روپہ ، دوروپہو دینے مںع کال نفع عظمپ حاصل ہوا۔ ہمںل اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہے کہ ہمارے تھوڑے سے سرمایہ سے ہمں اتنی بڑی دولت عطا فرمائںت گے۔ حقیقتیہ ہے کہ آج ہمارے پاس جو کچھ بھی مال و متاع ہے یہ سب اللہ تعالیٰ کی ملکتے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے رحم و کرم سے ہمںا کچھ دنوں تک اس کامالک بنایا ہے، کوہں نہ ہم اس اختاٰر کو غنمتہ سمجھتے ہوئے روزِ قاہمت کے لےہ ذخر ہ بڑھائںر، قالمت کا دِن بڑا ہولناک ہے جس قدر ممکن ہو ہمںر اس کی تامری کرنی چاہےن۔ مدرسہ کے لےا عمارتِ بنانے کی فضیلت: مسلمان اپنا مال رضائے الٰہی کے لےو کئی جگہوں مںی صرف کرسکتے ہںم مثلاً تعمرِہ مسجد، تعمرع مدرسہ، مفد انجمن کا قاہم،یا بااعتماد ٹرسٹ کے ساتھ معاونت وغرنہ لکنب اصول یہ ہے کہ جس وقت جو مصرف زیادہ ضروری ہو وہ زیادہ حقدار ہے، اگر موجودہ دور مںس ہم دیںھ تو طلبہ کے لےو رہائش گا ہںک تعمرں کرنا بہت اجر و ثواب کا عمل ہے عام لوگوں کے لےں مسافر خانہ بنوانے کے ثواب کا ذکر حدیث شریف مںن بھی آیا ہے آپ ا کا ارشاد ہے ’’اوبتاا لا بن السیل بناہ‘‘ یینے جس نے مسافر خانہ بنوایا تو یہ اس کے لےڑ صدقۂ جاریہ ہوگا، اگر وہ مسافر طلبہ علم ہوں جو کہ آپ ا کے مہمان ہں اور جن کا مشغلہ صبح و شام قال اللّٰہ وقال الرسول ہوتا ہے، ایسے مسافر حضرات کو رہائش فراہم کرنا کس قدر اونچے درجے کا عمل ہے اس کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہں ۔ مدارس کی مدد علماء کے زمرے مںے شمولتا کاذریعہ: مدارس کے ساتھ تعاون کرنے کے مختلف طریقے ہں جس مں سے کسی ایک کو بھی ہم اختابر کرکے اجرو ثواب کے مستحق ہوسکتے ہںا۔ جن حضرات کو اللہ رب العزّت نے مال سے نواز ہے۔ وہ اس نعمت کبریٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے اللہ کی راہ مںا بھی خرچ کریں، مال ایک ایسا ذریعہ ہے جس سے بہت ساری ضروریات پوری کی جاسکتی ہںھ۔ اگرآپ صاحب مال نہں تو وقتاً فوقتاً ہاتھ پاؤں کی خدمت کی ضرورت پڑتی ہے اس مںذ تعاون کریں اگر اس کی بھی طاقت نہںی تو جو لوگ مدارس کے ساتھ تعاون کررہے ہںٓ اُن کے حق مں دُعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کی سعی کو قبول فرمائں ۔ دُعا تو ہر شخص کرسکتا ہے اس سے تو کوئی معذور نہںع۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ عالم بنو یا طالب علم نبو، یا خادم نبو اس کے علاوہ کوئی صورت نہںت ورنہ ہلاک ہوجاؤ گے۔ مدارس کے ساتھ معاونت چھوٹی بات نہںع ہے اس کو بے حتلم کام مت سمجھیںیہ قرآن کی خدمت ہے جو ہمارے دین کی بناود ہے اپنے دین کے بقاء کی فکرکرو، مراکزِ اسلام کی تعمرس کرو اسی مں ہم سب کی بقاء ہے۔ جو قرآن کی خدمت کرے گا ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے مال و عزّت مںب اضافہ فرمائںک گے۔ طلبہ کی معاونت (امداد) کرنے کی فضیلت: طلبہ کے ساتھ مدد کرنا اور ان کی دستگرنی کرنا بہت اجر وثواب کا عمل ہے، غور فرمائےن کہ آپ نے ایک طالب علم کو کھانا کھلادیا اس سے اس کے بدن مںم وہ قوّت پدیا ہوگئی جس سے اُس نے قرآن سکھاو،یا دین کی کوئی بات سیھت ، اس طرح آٹھ، دس سال مسلسل یہ سلسلہ چلتا رہا، اس مدّت مںن وہ اس قابل ہوگاک کہ دین کی خدمت کرے اور وہ دین کی خدمت مںک لگ گاا،یقینایہ خدمت کرنا اس معاونت و امداد کی بدولت ہے جو آٹھ، دس برس تک اس کو ملتی رہی۔ دین کی خدمت کا یہ ثواب ان سب لوگوں کو بھی ملے گا جو اس امداد مں شریرہہے۔ صاحب مال کو اللہ تعالیٰ نے بڑی فضیلت دی ہے اگر وہ اپنے مال و متاع مں سے اللہ تعالیٰ کے راستے مں خرچ کرے ،کوںنکہ ایک تو خرچ کرنے کی برکت کی وجہ سے مال مںھ مزید اضافہ ہوتا ہے اور دوسرا وہ اس کے لےن صدقۂ جاریہ بن جاتا ہے۔ طلبہ پر خرچ کرنا بہت بڑی فضیلت ہے۔ اس نکتہ کو یاد رکھنا چاہےخ کوانکہ آج کل اگر کسی کے ذہن مںد اللہ کی راہ مںر خرچ کرنے کا خارل آتا ہے تو وہ مسجد بنواتاہے، حالانکہ طلبہ پر خرچ کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ انہی مں سے ایسے ایسے علماء نکل آتے ہںک جو سارے دین کا کام سنبھال لتے ہںک، مساجد پر خرچ کرنے کے ساتھ ساتھ طلبہ کی ضروریات کا خاسل رکھنا بھی ضروری ہے۔ مدارس مںچ طلبہ کو کتابں فراہم کرنا: دین کی اشاعت و تبلغں کی ایک بہترین صورت یہ ہے کہ مدارس مںا طلبہ کو مطلوبہ کتابں فراہم کی جائںہ۔ یہ بھی صدقہ جاریۂ کی ایک بہترین صورت ہے۔ جب تک کتاب موجود ہے اور اس سے فائدہ اُٹھایا جاتا ہے، کتاب فراہم کرنے والے کو برابر ثواب ملتا رہتا ہے، اس کتاب سے نفع حاصل کرنے والا جب علم آگے پھیلاتا ہے تو اس کا فائدہ بڑھتا رہتا ہے۔ اس لےف کوشش کرنی چاہےا کہ طلبہ کو دین متنت سکھنے کے واسطے مطلوبہ کتابںے فراہم کی جائںی، لوگ قرآن کریم وقف کرنے کو تو ثواب کا کام سمجھتے ہںے لکن دیگر علمی کتابوں کی طرف متوجہ نہں ہوتے، حالانکہ بسا اوقات قرآن مجدد کی ضرورت نہںو ہوتی بلکہ دیگر علمی کتابوں کی طلب زیادہ ہوتی ہے۔ قاعدہ اور اصول یہ ہے کہ جس چزب کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے اس کی اہمت بھی زیادہ ہوتی ہے اور جس چز کی جتنی زیادہ اہمتی ہوگی اُس پر اتنا زیادہ ثواب حاصل ہوگا۔ بہتریہ ہے کہ مدارس والوں سے معلوم کاو جائے کہ انھںض کو ن سی کتابوں کی زیادہ ضرورت ہے ؟پھر اس ضرورت کی مدّنظر رکھ کر مطلوبہ کتابںہ فراہم کی جائںی۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ ہر کتاب سے بھرپور فائدہ حاصل ہوگا اور مہار کرنے والے کو بھی زیادہ سے زیادہ ثواب ملے گا۔ اس مںس آسانییہ ہے کہ مدارس والوں کے پاس موجودہ اور مطلوبہ دونوں طرح کی کتابوں کا مکمل ریکارڈ ہوتا ہے اس لےہ وہ باآسانی بتاسکتے ہںس کہ اُن کو کون سی کتابوں کی زیادہ ضرورت ہے۔ مدارس مںا کتابںا دینے کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ کسی ایک شخص کی ملکت مں نہںب رہتںب بلکہ ادارے کے لےا وقف ہوجاتی ہںھ جن سے ہر مسلمان حسبِ ضرورت فائدہ حاصل کرسکتا ہے۔ اہل مدارس پر اعتراض اوراس کی اصلاح: مدرسہ بھی ایک ادارہ ہوتا ہے جس کا انتظام چلانے کے لےس مختلف اصول وضع کےط جاتے ہںگ پھر ان اصولوں کی روشنی مںہ مدرسے کا نظام چلانے کی کوشش کی جاتی ہے لہٰذا اس مںے بھییقینا اصلاح کی گنجائش ہوتی ہے۔ اور منتظمنے حضرات وقتاً فوقتاً اصلاحات بھی نافذ کرتے رہتے ہںی۔ اگر ہمںک کوئی قابلِ اصلاح چزس نظر آئے اور ہمںو اس کی اصلاح کی فکر ہوتو اس خامی اورکمی کو علی الاعلان نہںب پھیلانا چاہےم، بلکہ مدرسے کے منتظمنل مںس سے کسی ایک کو خلوت مںک بتانا چاہےس اور پھر اس بات کا انتظار بھی نہ کریں کہ ہمارے ہی مشورے پر عمل ہوجائے۔ اس طرح ہمارا یہ طرزِ عمل ناصحنر والا ہوگا اور ہم عبک جوئی کی خرابی سے بھی بچ جائںی گے۔ بسااوقات ایسا ہوتا ہے کہ چندہ دینے والے حضرات انتظامی امور مںا دخل دیتے ہںج چونکہ یہ مدرسے کے مصالح کے خلاف ہے لہٰذا اس سے احتراز کرنا چاہےا۔ یہ ممکن ہے کہ وہ عمل ہمارے خاضل مںو غرا مناسب ہو لکنج وہ مدرسے کے فائدے کے لے ناگزیر ہو۔ علماء اور منتظمنا حضرات جو بھی کام کرتے ہںا وہ باقاعدہ مشورے اور سنت نبوی کی پر وی مں کرتے ہںل۔ لہٰذا آخری اور حتمی فصلہ انھی کا ہونا چاہے ۔ انہں ضروریات کا بھی درست اندازہ ہوتا ہے اوروہ انتظامات چلانے کا بھی تجربہ رکھتے ہںئ۔ اگر ہر شخص کی رائے پر عمل کام جائے تو نظام مںن شدید خلل اور رکاوٹ آئے گی۔ علماء اپنا کام زیادہ اچھے طریقے سے جانتے ہںگ اور بوقت ضروری فصلے کرتے ہںے،اگر کارپنٹرن کی ضروریات کا صححت اندازہ کارپنٹرا ہی کو ہوتا ہے تو کاف علمِ دین کی صححے خدمت کا اندازہ علماء کو نہ ہوگا؟! مدرسہ کا مہتمم عالم دین ہونا چاہےٹ: سوسائٹی پر مدرسہ کا اثر بہت دور رس ہوتا ہے۔ انتظام مں ذراسی غلطی بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ اس لےی ہر شخص اس بات کا حقدار نہںی کہ وہ مدرسے کا اہتمام سنبھالے۔ مدرسے کا مہتمم عالم باعمل ہونا چاہےییا اگر عالم نہں تو کم ازکم باعمل علماء کا صحبت یافتہ ہو۔ اگر کوئی شخص ان دونوں مں سے ایک بھی صفت کا حامل نہںی تو وہ مدرسے کے اہتمام کے لےا بالکل موزوں نہںے ہے۔ بانی مدرسہ کا خاندانی عالم زیادہ مناسب ہے: اگر مدرسے کے بانی کا کوئی خاندانی عالم ہو تو بہتر ہے کہ اُسی کو مہتمم بنادیا جائے، بشرطکہت وہ اس منصب کی لالقت اور اہلت رکھتا ہو، کوتنکہ خاندانی عالم کا مدرسے کا ساتھ تعلق مذہبی بھی ہوتا ہے اور خاندانی بھی۔ حضرت شاہ ولی اللہؒ نے حدیث شریف الأئمّۃ من قریش کی حکمت یہ با ن کی ہے کہ اسلام سے اوروں کاتعلق مذہبی ہے جبکہ قریش کا تعلق مذہبی اور خاندانی دونوں طرح ہے۔ نبی کا خاندانی تعلق چونکہ قریش سے ہے لہٰذا قریش اسلام کی نصرت و حمایت مذہب کی وجہ سے بھی کریں گے اور خاندان کی وجہ سے بھی۔ اسی طرح اگر مہتمم بانی مدرسہ کے خاندان سے ہوگا تو وہ بھی مدرسے کی خدمت دوسروں کی نسبت زیادہ کرے گا۔ بانی دارالعلوم دیوبند حضرت مولانامحمد قاسم صاحب نانوتویؒ کے پوتے حضرت مولانا قاری محمد طبؒک صاحب کو جب دارالعلوم کے اہتمام کی ذمّہ داری سونپی گئی تو آپ نے دارالعلوم کی وہ خدمت کی جواہل علم سے پوشدؒہ نہںد ہے۔ بہت ہی قللر عرصے مںب پورے ہندوستان سے طلبہ تحصلب علم کے لےئ دارالعلوم کا رُخ کرنے لگے۔البتہ اگرخاندانی عالم مںا مطلوبہ اوصاف نہ پائے جاتے ہوں توکسی اورباصلاحیت عالم باعمل کومہتمم بنایاجاسکتاہے۔ مدرسے کا اصل مقصد تبلغی دین اور اصلاحِ معاشرہ ہے، اپنے سامنے عظم مقاصد رکھنے کی وجہ سے یہ کام بہت نازک ہے، اس کا ہر منصب انتہائی اہمتغ کا حامل ہوتا ہے، اگر خدانخواستہ کسی منصب پر کوئی نااہل آجائے تو وہ اس عظمہ کام مںز بڑے نقصان کا باعث بنتا ہے۔ آپ ا کا ارشاد ہے إذاوسد الأمرإلی غرت اہلہ فانتظر الساعۃیینم جب دییا خدمت نالی نامعقول اور نا اہلوں کے سُپرد کے جائں تو قا۔مت کا انظار کرنا چاہئے۔ یاد رکھیئے! کسی لائق شخص کو محض اس بناء پر نظر انداز کرنا کہ، لباس وپوشاک کا زیادہ اہتمام نہںت کرتا یا تنگ دست ہے، بڑا عظمہ جُرم ہے۔ ہر شخص کو اس کی لاےقت اور اہلت کے مطابق کام کرنے کا موقع دینا چاہےا تاکہ مخلوقِ خدا کو زیادہ سے زیادہ نفع ہو۔ سرمت پاک ا سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ا نے ہمشہ با صلاحیت لوگوں کو آگے فرمایا، مشاہدہ اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ اکثر ضعفاء مںا باطنی قوّت، ہمت، اور خلوص اقویاء کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔ مدارس کی ترقی کا راز: اگر کوئی دییچ مدرسہ قائم کرنا چاہتا ہے تو بڑی رقم کا انتظار نہ کرے بلکہ جس قدر وسائل مہاک ہوں، اللہ تعالیٰ کا مبارک نام لے کران سے کام شروع کردے۔ ابتداء ہر کام کی کمزور اور معمولی ہوتی ہے اوراس مںا ترقی تدریجاً آتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ ہر عمل مںع تدریج ہو۔ انسان کی پدہائش ایک نطفے سے شروع ہوتی ہے پھر نو ماہ کے بعد بچہ پدلا ہوتا ہے پھر رفتہ رفتہ نشوونما پاکر کڑیل جوان بنتا ہے۔ ابتدائے عمل کے ساتھ عروج و ترقی کا طالب نہںت بننا چاہےے بلکہ چھوٹے پماقنے سے کام شروع کرنا چاہےٓ۔ ہر کام مںا ترقی انتظام سے آتی ہے، ہمںش اپنا انتظام نقشِ رسول ا کے مطابق بنانا چاہے ، اسی مںت کاماہبی مضمر ہے۔ اگر کوئی کام محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے واسطے شروع کاہ جائے تو وہ ضرور آگے بڑھتا ہے۔ حضرت نانوتویؒ کے اصول اسی بات کو سامنے رکھتے ہوئے دارالعلوم دیوبند کی تاسسج کے وقت قاسم العلوم ؒ نے اصول ہشتگانہ مرتب فرمائے تھے،جن مںت سے یہ باتںب اب بھی تمام ارباب مدارس کے لےک قابل عمل ہں : مہتمم امور مشورہ طلب مںے اہل مشورہ سے ضرور مشورہ کاک کرے ، خواہ وہ لوگ ہوں جو ہمشہس مشرت مدرسہ رہتے ہںس،یا کوئی واردوصادر جو علم وعقل رکھتا ہو اور مدرسوں کا خرو اندیش ہو۔مدرسے کے امورمیںسرکار کی شرکت اور امرا کی شرکت بھی زیادہ مضر معلوم ہوتی ہے ۔ ایسے لوگوں کا چندہ زیادہ موجب برکت معلوم ہوتا ہے، جن کو اپنے چندہ سے امدر ناموری نہ ہو۔ مدارس کا صحح مقصد اور ان کا صححے نتجہر اسی وقت درست ہوسکتا ہے جب مدارس کو اخلاص اور نیک نیرس کے ساتھ چلایا جائے، ان کو امت کا سرمایہ خاصل کرتے ہوئے ہمشہج مدرسہ کی خوبی اور خوش اسلوبی ملحوظ رہے، ان مںت اپنی انا کی خلج حائل نہ ہونے دیں، نزو ہمہ وقت ظاہری ومعنوی دونوں حتکرت سے طلبا کی افزائش کا خادل رہے ۔ چنانچہ آج دیوبند اور مسلک دیوبند کی جو اتنی مقبولتر ہے بلکہ پورے چہارِ دانگِ عالم مںن علما ئے دیوبند کی جو شہرت ہے ، اس کے علما اور فضلا کو آج جس نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ، اس مںد انہی بزرگوں کے اخلاص اور نیک نیرے کا اثر ہے ۔چنانچہ دارالعلوم دیوبند اور اس کے اصول پر گامزن تمام مدارس باطل کی مکمل شرارتوں کے باوجود اپنی منزل اور مقصد کی طرف رواں دواں ہںی۔ہرآنے والی حکومت مدارس اصلاحات کابڑاااٹھاتی ہے اور مدارس کومختلف پابندیوں مںز جکڑنے کی کوشش کرتی ہے ،جس کا مقصد مدارس کی عالمگرمیت کومحدود کرنا اور ان کی آزادی کو سلب کرنا ہوتا ہے۔ الحمدللہ! مدارس کی بقااورحفاظت کے محاذ پر اہل مدارس متحد ومتفق ہںل اور حکومت کی جائز تجاویز کو کھلے دل سے تسلم کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی نامناسب باتوں کو رد کرنے مں کوئی دققہ فروگذاشت نہں کرتے۔اسلام دشمن قوتوں کی آشرد باد کے حصول کی غرض سے ہمشہر بر سراقتدار طبقے کی جانب سے مدارس واہل مدارس کو بے بنااد الزامات کا سامنا رہاہے۔اہل مدارس ان الزامات کے باوجود اپنے کام مںی مشغول ہںی اور اہل خرر حضرات بھی کسی قسم کی سستی کے بغرز ان کے شانہ بشانہ ہں ۔ اللہ تعالیٰ اہلِ مدارس کو مزید خدمت کی توفق دے اور جو لوگ مدارس مںک اپنا سرمایہ لگاتے ہںی اللہ ربّ العزّت قاومت کے دن انہں بہترین اجر وثواب عطا فرمائںر۔آمن ۔ اللہ تعالیٰ اہلِ مدارس کو مزید خدمت کی توفق دے اور جو لوگ مدارس مںک اپنا سرمایہ لگاتے ہںی اللہ ربّ العزّت قاامت کے دن انہںز بہترین اجر وثواب عطا فرمائںر۔ آمنش۔ وما توفیقی إلاباللّٰہ

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
1525