(+92) 321 2533925
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/01/27
موضوعات
فضائل ذی الحجہ و مسائل حج و قربانی
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ فضائل ذی الحجہ و مسائل حج و قربانی سوال: شریعت اسلامہر مںح ذی الحجہ کے مہنے کو کوئی خصوصی فضیلت دی گئی ہے اور وہ کاھ ہے؟ جواب: جی ہاں! شریعت اسلامہَ کی تعلماْت کے مطابق ذی الحجہ کے مہنےب کو روحانی اعتبار سے بہت سارے فضائل سے مالامال کا؟ گاا ہے جن مں سے چند ایک درج ذیل ہںْ: (1)اﷲ تعالیٰ نے سورۃ الفجر کی دوسری ہی آیت مںب دس راتوں کی قسم کھائی ہے نبیﷺ کے ارشاد مبارک کے مطابق ان دس راتوں سے ذی الحجہ کے مہنے کا پہلا عشرہ مراد ہے۔ (2) عشرۂ ذی الحجہ کے فضائل میںیہ روایت بھی احادیث کے ذخر ے مںہ محفوظ ہے کہ اس مہنےن کے پہلے نو دنوں مںم رکھا جانے والا ہر روزہ ایک سال کے روزے رکھنے کے برابر اور ہر رات کی عبادت شب قدر مںن کی جانے والی عبادت کے برابر ہے (محدثنک کرام کے باشن کردہ اصولوں کے مطابق فضائل کے باب مںُ کمزور راویوں کی روایات بھی قابل قبول ہوتی ہںت۔) (3) جس نے ذی الحجہ کی نویں(9) تاریخ کا روزہ رکھا اس کے مسلسل دو سالوں (ایک گزشتہ اور ایک آئندہ) کے گناہ معاف کردیے جاتے ہںج۔ گزشتہ سال کے گناہ کرچکنے کے بعد اور آئندہ سال کے گناہ کرنے سے پہلے ہی معاف ہوچکے۔ (یہ گناہ کرنے کی اجازت نہںے محبوبتک کی انتہا، بلندی، معراج، کوالٹی، کوائف اور کامعات کا آخرت سے پہلے دناو ہی مں بے غبار، غر مبہم، ناقابل تردید، ترممب و تنسخل اظہار ہے) اس دین، عطا، بخشش، دادودہش، عطہف، انعام کی کوئی انتہا ہے کہ ایک نفلی، مستحب یا مسنون روزے پر اﷲ تعالیٰ کی طرف سے اییہ اپنائت ۔ اس سے اندازہ لگانا کای مشکل ہے کہ خود روزے دار کے اندر للہت کا درجہ کس مقام و درجے کا ہوتا ہے۔ مادنِ عاشق و معشوق رمزیست کہ کراماً کاتبن راہم خبرنست (شطاکن کا کام اپنے بُنے ہوئے جالوں مں پھنسانا۔ پھنسانے کے بعد پھنسائے رکھنا۔ رحمن کا فضل بچنے مںو مدد کرنا۔ پھنسنے کے بعد بھی محفوظ رکھنا۔ آزاد ہونے کی کوشش کرنے والے کو آزاد ہونے مںا رہنمائی کرنا۔ انسان کی جیت پھنسنے سے پہلے، پھنستے ہوئے پھنسنے کے بعد رحمن کی رحمتِ آغوش مںک پہنچنے کے لےی بے بسی کے باوجود بے قراری سے پھڑپھڑاتے رہنا۔) (4) ذی الحجہ کی نویں(9)تاریخ کا دن سال کا واحد دن ہے جسے شریعت نے یوم العرفہ قرار دیا اور صرف اسی تاریخ مںت حج کا اہم ترین رکن وقوف عرفہ عرفات کے مدحان مں ادا کاھ جاسکتا ہے نہ اس تاریخ سے پہلے کسی بھی تاریخ مںر نہ اس تاریخ کے بعد کی کسی تاریخمیں وقوف عرفہ کرکے کسی مسلمان کو عنداﷲ وعندالناس حج کا فریضہ ادا کرنے والا تسلمہ کاع جاسکتا ہے۔ نہ ہی اس دن کے علاوہ سال بھر کے کسی بھی دن کو عرفے کا دن کہا جاسکتا ہے۔ (5) ذی الحجہ کی دس، گادرہ، بارہ، تروہ تاریخ کے چار مسلسل دن ہں۔ جن مںم کسی مسلمان (مردوعورت) کو کسی بھی قسم (نفلی، نذری، قضائی) کا روزہ رکھنے کی اجازت ہی نہںے ہے۔ بلکہ ان دنوں مںم روزہ رکھنا عبادت نہںں جرم ہے (اس حکم میںیکم شوال عدرالفطر کا دن بھی شامل ہے۔) (6)ذی الحجہ کے مہنےع کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ مسلمانوں کے صاحب وسعت طبقے کی طرف سے قربانی کے نام سے کاہ جانے والا مخصوص عمل اسی مہنے کی مخصوص تاریخوں مںے ہی ادا ہوسکتا ہے۔ سال بھر کے کسی مہنےی کی کسی تاریخ کو یہ مقام حاصل نہںا کہ اس تاریخ کے ذبحےے کو قربانی کا نام دلوایا جاسکے نہ عنداﷲ نہ عندالناس۔ (7)ذی الحجہ کے مہنےے کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ارکان اسلام مںد سے ایک بناندی اور اہم ترین بکر وقت بدنی اور مالی عبادت کا مجموعہ ’’حج‘‘ اسی مہنےک مںز ادا ہوتا ہے وہ بھی ایک ہی وقت مں دنا بھر سے مختلف علاقوں، زبانوں، رنگوں، نسلوں، عمروں، سوچوں اور حتوص ں کے مسلمان مرد اور عورتںے بغرن باہمی شناسائی کے مکمل اتحاد و اتفاق کے سائے تلے ہر سال لاکھوں کی تعداد مںخ صرف اور صرف حج کا فریضہ ادا کرنے کے لےع جمع ہوتے ہںن۔ جو اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ایسے اور اتنے آدمی کسی جھوٹ پر متفق نہں ہوسکتے۔ سوال: کاف ذی الحجہ کے مہنےو کی بعض تاریخوں مں ہر فرض نماز کے بعد مسلمان مرد و عورت کو کسی تکبرج کے پڑھنے کا حکم دیا گاں ہے؟ اور اسے کاف کہا جاتا ہے اور وہ کس تاریخ سے کس تاریخ تک پڑھی جاتی ہے؟ جواب: جی ہاں! نو ذی الحجہ سے ترکہ ذی الحجہ مںج آنے والے د نوں کو شریعت کے دیے ہوئے نام کے مطابق ایام تشریق کہا جاتا ہے اور ان دنوں مںی انفرادی اور جماعت سے پڑھی جانے والی نمازوں کے فرض پڑھ چکنے کے فوراً بعد پڑھی جانے والی تکبریات کو تکبروات تشریق کا نام دیا گا ہے۔ یہ تکبروات نو ذی الحجہ کی فجر کی نماز کے فرض پڑھ چکنے کے فوراً بعد سے لے کر ترکہویں ذی الحجہ کی عصر کے فرض پڑھ چکنے کے بعد تک ہر نماز مںا پڑھی جاتی ہںب۔ ان تکبرےات کا پڑھنا اختااری نہںز تشریعی ہے اور ہر مرد و عورت پر ان پانچ دنوں کی کل تیئیس نمازوں مںز ایک مرتبہ پڑھنا واجب ہے۔ مرد متوسط بلند آواز سے اور عورتںر آہستہ پڑھںض۔ چونکہ سال بھر مں صرف ایک مرتبہ ان پانچ دنوں میںیہ تکبراات پڑھی جاتی ہںا اس لےی عموماً پڑھنا یاد نہں رہتا لکنک باجماعت نماز پڑھنے پر دوسرے بھی پڑھنے لگتے ہں ۔ عورتوں کے لےڑیاد رکھنے کا آسان طریقہیہ ہے کہ ان پانچ دنوں مںو گھر مںس نماز پڑھنے کی جگہ پر سامنے کی طرف لکھ کر لٹکا لاہ جائے۔ ان مواقع پر بہت سارے نمازیوں کو دیکھا گات ہے کہ وہ خاموش رہتے ہیںیا آہستہ پڑھتے ہںل حالانکہ فقہائے کرام کی وضاحت کے مطابق مرد حضرات کے لےا بلند آواز سے پڑھنا ضروری ہے لہٰذا ان مواقع پر آہستہ پڑھنا غفلت بھرا گناہ ہے اور دانستہ چھوڑ دینا سرکشی سے لبریز گناہ ہے اور بھول جانا بھی نافرمانی کے زمرے مںہ شمار ہوسکتا ہے۔ یہ تینوں طریقے توبہ اور اصلاح کو لازم کرتے ہںا۔ تکبر تشریق کے الفاظ انتہائی آسان، نہایت سادہ، بے حد پرکشش، عمدہ درجہ کی مٹھاس، شرھییے اور حلاوت سے لبریز، نفس کلاس کی لذت سے بھرپور، معنوی اعتبار سے دلآویز، خوشی کے اعتبار سے فرحت بخش، سکون کے حوالے سے مسرت آمز ، دل بستگی کی نظر سے مکمل طور پر مرغوب، دل جمعی کے لےا دلربا عطہ ، تعلق مع اﷲ کے لےا بہترین وظفہس، درجات کی ترقی کے لےو روح پرور، ٹوٹے دلوں کی راحت کے لےت شرطہی کاماہب نسخہ، مہرالٰہی کے نزول کی اعلیٰ تدبری، قہرالہٰی سے بچاؤ کی کارآمد حکمت ہے۔ ان گوناگوں مفدی اور بے ضرر خوبولں کے تناظر مںہ کون صاحب ایمان ہوگا جو ان الفاظ کو ذہن نشین کرنے اور بروقت اس کی روح کے مطابق پڑھنے مںغ کوتاہی برتے گا۔ ائمہ مساجد تو وقت آنے پر مقتدیوں کو اس طرف توجہ دلاتے ہی ہںن۔ مقتدیوں کو بھی چاہے کہ وہ آپس مںب اس کا مذاکرہ کریں۔ جن کو یاد ہو وہ دوسروں کو یاد کرائںہ، جن کو یاد نہ ہو وہ بلاہچکچاہٹ جن کو یاد ہو ان سے یاد کرلںا۔ تکبروتشریق کے الفاظ اور ان کی ترتبک: اَللّٰہُ اَکْبَرْ، اَللّٰہُ اَکْبَرْ، لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، وَاللّٰہُ اَکْبَرْ، اَللّٰہُ اَکْبَرْ، وَلِلّٰہِ الْحَمْد (مصنف ابن ابی شبہٰ جلد2صفحہ73) یہ تنب اعلیٰ ترین بزرگوار شخصا ت کی (ایک خاص موقع پر) زبانوں سے نکلے ہوئے کلمات کا مجموعہ ہے پہلی شخصتی حضرت جبرئلص امنْ علہ، السلام ہے جو فرشتوں کی جماعت کے سردار ہںْ۔ دوسری شخصت حضرت ابراہمہ علہ السلام اور تسر ی شخصتل حضرت اسماعلن علہی السلام ہںن، تینوں شخصا ت اﷲ تعالیٰ کی مقرب جللو القدر معصوم و محفوظ شخصامت ہںر دوسری اور تسرمی شخصا ت تو ہمارے نبیﷺ کی جدامجد بھی ہںں۔ خاص موقعہ وہ ہے جب حضرت ابراہم علہ السلام اﷲ تعالیٰ کے حکم سے اپنے بٹے حضرت اسماعلن علہے السلام کے گلے پر پورے انہماک کے ساتھ خلوص، لتہاع کو مکمل طور پر بروئے کار لاتے ہوئے چھری چلاتے ہوئے ایک سخت و شدید امتحان مں پورا اتر رہے تھے بلکہ اپنی طرف سے ظاہری طور پر اترچکے تھے کہ حضرت جبرئلت امنا علہ السلام جنت سے ایک منڈ ھا لے کر اس مقام پر نازل ہوئے اور باپ بٹےہ کی توجہ حاصل کرنے کے لےط بلند آواز سے تکبر پڑھی: اَللّٰہُ اَکْبَرْ،اَللّٰہُ اَکْبَرْ اس تکبرْ کو سنتے ہی موحد اعظم حضرت ابراہمر علہک السلام نے توحدک بھرے سب سے اعلیٰ، ارفع، اشرف کلمات بلند آواز سے کہے: لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، وَاللّٰہُ اَکْبَرْ اﷲ تعالیٰ کی وحدانتح، معبودیت کے اقرار بھرے ان کلمات کی تکمل ہوتے ہی مطع و فرمانبردار بٹے حضرت اسماعلت علہو السلام کی مقدس زبان نے فضا میںیہ کلمات بلند فرمائے: اَللّٰہُ اَکْبَرْ، وَلِلّٰہِ الْحَمْد اﷲ تعالیٰ نے ان کلمات کے مجموعے کو امت محمدیہ علی صاحبہاالصلوٰۃ والسلام کے نمازیوں پر ہر سال کے ذی الحجہ کے مہنےد کی نویں(9) تاریخ کی فجر سے لے کر تربہویں(13) تاریخ کی عصر تک ہر نماز کے فرض پڑھ چکتے ہی پڑھنا واجب قرار دیا ہے واضح رہے کہ اس مںں قربانی کرنے اور نہ کرنے والے تمام نمازی شامل ہںٰ۔ اور ان تکبرخات کا پڑھنا ان تاریخوں مںک ہی واجب ہے اور نہ پڑھ سکنے کی صورت مںی اس کی بعد مںل قضا بھی نہںم ہے البتہ نہ پڑھنے کا گناہ ہوگا جو توبہ سے ہی معاف ہوسکے گا۔ ان مقدس کلمات کا پڑھنا جہاں پڑھنے والوں کو اجوروانعامات دلاتاہے وہاں حضرت ابراہمض خللٰ اﷲ علہ السلام کے جذبۂ ایثار اور حب خدا اور حضرت اسماعل ذبحھ اﷲ علہے السلام کی بے نفسی و تسلمت و رضا کییاد دلاتے ہں جن کو یاد کرکے مسلمان ہر سال اپنے گذشتہ سال کے جذبات کا محاسبہ اور آئندہ ایک سال کا قبلہ درست کرسکتا ہے۔ سوال: کام ذی الحجہ کے مہنےا مںہ اسلام کے کسی اہم رکن کی ادائیڑھ بھی ہوتی ہے، اس رکن کا نام کاا ہے، اس کی فقہی حتکے کاس ہے؟ کن کن لوگوں پر اس کی ادائی ا کو لازمی قرار دیا گال ہے اور ان کی ادائی ر کی جگہ کون کون سی ہںن، اور کن کن تاریخوں مںش اس کے اعمال ان جگہوں پر ادا کےد جاتے ہںع؟ جواب: جی ہاں! ذی الحجہ کے مہنے؟ مںا اسلام کے ایک انتہائی اہم اور بناکدی رکن کی ادائی ک کی جاتی ہے، شرعی اصطلاح مںن اس کو حج کا نام دیا گاں ہے۔شریعت نے مالی اعتبار سے ایک خاص قسم کے مالدار مرد و عورت پر اس کی ادائییٔ کو لازم قرار دیا ہے، اس بنا د پر اس کی فیہی حتاو فرض کی ہے جو ایک مرتبہ لازم ہوجائے تو ادائیدا نہ کرنے کی صورت مںو تاحاقت لازم رہتی ہے، جن لوگوں کو اﷲتعالیٰ نے زندگی مںت اتنی مالی وسعت عطا کی ہوکہ وہ اپنے روزمرہ کے اپنے اور اپنے زیرِکفالت افراد کے اخراجات کرتے ہوئے کچھ رقم پس انداز یینا جمع کرسکتے ہوں یہ رقم کسی بھی مرد یا عورت کے پاس اس کی ضرورت سے زائد اتنی مقدار مںد جمع ہوجائے (جو اس کی فوری ضرورت کی بھی نہ ہو) جس کے ذریعے سے وہ حج کے لے آنے جانے کے سفر کے اخراجات برداشت کرسکے جتنا عرصہ حج کے لےق رُکنا پڑے وہاں قا م کے دوران اپنے اخراجات کو پورا کرسکے، وطن مںر جتنے لوگ اس کے زیرِکفالت ہوں اس کی غرلموجودگی کی مدّت مں ان کے اخراجات کا بندوبست کرسکے تو ایسے بالغ مرد و عورت پر حج فرض ہوجاتا ہے، صرف عورت کے لے ایک مزید شرط ہے کہ اس سفر کو وہ اکی ک نہںت کرسکتی (اکید کرے گی تو گنہگار ہوگی لکنج فرض ذمے سے ساقط ہوجائے گا) یا تو اس کا شوہر اس کے ساتھ ہو یا کوئی ایسا قریی عزیز مثلاً باپ، بھائی، بٹاا وغرجہ اس کے ساتھ ہو جن سے نکاح کرنا اس کے لےا تاحا ت اور ہمشہ کے لےہ حرام ہو یہ حج زندگی مںل ایک ہی مرتبہ فرض ہوتا ہے اور ادا نہ کرنے کی صورت مںا ساری زندگی برقرار رہتا ہے اور ایک مرتبہ ادا کرلنےس کے بعد ہمشہم کے لےج ذمے سے اُتر جاتا ہے۔ اگر زندگی مںر اﷲتعالیٰ پناہ مںن رکھے اور محفوظ فرمائے دین سے پھر جانے یینہ مرتد ہونے کی صورت نہ پدںا ہوجائے، حج کا یہ رکن دناد بھر مںت صرف ایک ملک سعودیہ عرب مںف ہی ادا کا جاسکتا ہے، ملک سعودیہ عرب مں بھی تمام جگہںج نہںا بلکہ اس کے ایک مخصوص شہر مکۃ المکرمہ اور اس کے اطراف کے بعض مخصوص علاقوں مں ہی حج کے اعمال ادا کےت جاسکتے ہںو (تفصیلات حج کی کتابوں مںی دییھب جاسکتی ہںم) احرام کی حالت مںے آٹھ ذی الحجہ کو فجر کی نماز کے بعد منیٰ کے مددان مںا جانا پڑتا ہے اور اگلے دن کی فجر کی نماز ادا کرلنےر کے بعد عرفات کے مدمان مںھ جانا پڑتا ہے (جو حج کا انتہائی اہم رکن ہے) سورج کے غروب ہونے کے بعد وہاں مغرب کی نماز پڑھے بغرا مزدلفہ کے مدمان مںھ جانا پڑتا ہے وہاں پہنچ کر عشاء کے وقت مںی مغرب اور عشاء ایک ساتھ پڑھی جاتی ہںگ، ساری رات اسی مدران مں گزارنی پڑتی ہے اور دس ذی الحجہ کی فجر کی نماز کے بعد دوبارہ منیٰ مںک واپس آیا جاتا ہے، وہاں بارہ ذی الحجہ یا ترہہ ذی الحجہ تک رُک کر بعض اعمال ادا کےپ جاتے ہںد، مزیدیہ کہ بارہ ذی الحجہ کے سورج کے غروب ہونے سے پہلے پہلے مکہ جاکر بتل اﷲ کا طواف، صفا و مروہ کی سعی کرلیس پڑتی ہے، اسے طواف زیارت کہتے ہںر اور یہ عرفات کے مدھان مں ٹھہرنے کی طرح انتہائی اہم رکن ہے (مزید تفصیلات ادارے سے شائع شدہ رہنمائے حج تمتع او رحج و عمرہ نامی کتابچوں مںے دییھر جاسکتی ہںک۔) سوال: کات ذی الحجہ کے مہنے مں، کسی اور عمل کا لازمی حکم شریعت نے اپنے ماننے والوں کو دیا ہے اور اس کا کای نام ہے؟ جواب: جی ہاں! شریعت نے اپنے بعض ماننے والوں کو کچھ مخصوص جانوروں کو ان کی مخصوص شرائط کے ساتھ ذی الحجہ کی مخصوص تاریخوں مںں ذبح کرنے کا حکم دیا ہے، اصطلاح مںو اسے قربانی کہا جاتا ہے۔ سوال: کاں اس قربانی کا کوئی خاص پس منظر بھی بتلایا جاتا ہے؟ جواب: جی ہاں! اس قربانی کا ایک دل کش، دل پذیر، دل پسند، دل شاد، دل فریب، دل کشا، دل نشین اور دل نواز پس منظر ہے۔ شریعت کی نظر سے اس اجمال کی تفصیلیہ ہے کہ اﷲتعالیٰ نے اپنے ایک جللا القدر نبی حضرت ابراہم علہ السلام کو جن کا لقب خللا اﷲ ہے، بڑھاپے کی عمر مںص ایک جللا القدر صاحبزادے عطا فرمائے، جن کا نام حضرت اسماعلل ذبحو اﷲ علہی السلام ہے، جب وہ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچے اور اپنے والد بزرگوار کے کاموں مں ان کی معاونت کے قابل ہوئے تو اﷲتعالیٰ نے ان کے والد حضرت ابراہمپ علہے السلام کو ایک خواب دکھایا کہ وہ اپنے ہاتھوں سے اپنے بٹےب اسماعلا علہے السلام کو ذبح کر رہے ہں ، خواب تو بس اتنا ہی ہے کہ ابراہمع علہل السلام کو ذبح کرتے ہوئے دکھایا گاھ ہے، اس ذبح کے نتجےا مں اسماعلا علہر السلام کو ذبح ہوتے ہوئے نہںا دکھایا گاچ ہے (نبی کا خواب بھی وحی ہوا کرتا ہے گویاکہ خواب کے ذریعے سے اﷲتعالیٰ حکم دے رہے ہںے کہ وہ اپنے ہاتھوں سے اپنے بٹےپ اسماعلر علہل السلام کو ذبح کردینے کا عمل کریں، واضح رہے کہ انسانی تاریخ مںم ایسا حکم حضرت آدم علہہ السلام سے لے کر اب تک صرف اور صرف حضرت ابراہم علہک السلام کو ہی دیا گاھ ہے نہ ان سے پہلے کسی کو ایسا حکم ملا کہ وہ اپنے ہاتھوں سے اپنے بٹے کو ذبح کرنے کا عمل کریں نہ ان کے بعد اب تک کسی کے لےہ ایسا حکم ہے نہ آئندہ قالمت تک کسی انسان کے لے ایسا کوئی حکم ہوسکتا ہے، جبکہ وحی کا سلسلہ بھی نبیﷺ پر مکمل طور پر ختم کردیا گا ہے اور آپﷺ کے بعد کوئی ناا نبی بھی نہںل آئے گا، نزم نبی کے علاوہ کسی کا خواب وحی کی حققتط بھی نہںن بن سکتا۔ لہٰذا کسی بھی انسان کی طرف سے اییب سوچ یا ایسا عمل احمقانہ، شطاینی اور کافرانہ عمل کہلائے گا، جس کے جواز کی کوئی بھی صورت ثابت نہںو کی جاسکتی۔) اس وحی کے مطابق کوکنکہ معاملہ حضرت اسماعلف علہگ السلام کے ساتھ بھی تھا اس لےا حضرت ابراہمخ علہن السلام نے حضرت اسماعلل علہض السلام سے اس خواب پر عمل کے لےم آگاہ فرمایا، حضرت اسماعلب علہل السلام نے سَرتسلمد خم کرتے ہوئے اس خواب پر عمل کرنے کا اپنے ابّاجان کو مشورہ دیا، چنانچہ باپ بٹےر دونوں نے پوری جانثاری کے ساتھ اس خواب پر عمل کردکھایا اﷲتعالیٰ نے اسماعلم علہّ السلام کو ذبح تو نہںچ ہونے دیا ان کی جگہ جنت سے ایک منڈلھا (دنبہ) بھجاپ جسے ذبح کردیاگاک،یہ عمل رہتی دنار تک ایااندگار بننے کی روشنی مںت شریعت اسلامہن نے اپنے مخصوص ماننے والوں پر مخصوص جانوروں کی مخصوص شرائط کے ساتھ مخصوص تاریخوں مںد ذبح کے عنوان سے لازم قرار دیا ہے جو احناف کے نزدیک فقہی حتلب سے واجب کا درجہ رکھتا ہے، ان مخصوص تاریخوں مںا مخصوص شرائط والے مخصوص جانوروں کے ذبح سے واجب ذمہ سے اُتر جاتا ہے اور اگر ان مخصوص تاریخوں مںہ ذبح کا عمل نہ ہوسکے تو واجب ہونے کی وجہ سے ذمے پر باقی رہتا ہے جس کی قضاء زندگی بھر مںر کسی بھی وقت کرنا ضروری ہے جسے جانور کی قمتا مستحق کو دے کر ادا کاض جاتا ہے۔ سوال: قربانی مں شریعت کے مقررکردہ حلال جانوروں کو ذبح کرنا ہی کونں ضروری ہے؟ ذبح کے بجائے اتنی رقم کسی رفاہی کام میںیا کسی مجبور و مستحق مسلمان پر خرچ کردینے سے یہ حکم پورا نہںک ہوجاتا؟ جواب: اس حکم مںس حلال جانور کو ذبح کرتے ہوئے اس کی جان کا نذرانہ پشی کرنے کا حکم ہے جب تک جان کا نذرانہ بذریعہ ذبح پشا نہںح کاا جائے گا یہ حکم پورا نہںک ہوسکے گا لہٰذا کوئی محبوب سے محبوب، بڑے سے بڑا عمل بھی اس عمل کا بدل نہںہ ہوسکتا، دیگر تمام اعمال کی اپین اپنی علحد ہ اور منفرد حتذا ہے اور اس نیک عمل کی بھی اپنی منفرد اور علحدمہ حت ک ہے اور ان تاریخوں میںیہ عمل اﷲتعالیٰ کے نزدیک تمام اعمال پر فوقتپ لے جاتا ہے۔ سوال: کن کن مخصوص مسلمانوں پر ان مخصوص تاریخوں مں قربانی کا یہ عمل واجب اور لازم ہے؟ جواب: ایسے تمام مسلمان جو عاقل، بالغ اور اپنے وطن مںک موجود ہوں اور ان کے پاس ان تاریخوں مں اپنی ضرورت سے زائد اتنی مالتی (اس مالتم مں نقد رقم، بنک مں جمع رقم، وصول ہونے والے قرضے، پرائزبونڈز، این آئی ٹییونٹس، کمپنوپں کے حصص، وصول ہونے والی بی سی (کمی،ں) مںا اداشدہ رقم، مال تجارت مں، خام مال اور تاےرشدہ مال کا اسٹاک، پہننے کے تنم جوڑے سے زائد کپڑے، روزانہ کے استعمال مں آنے والے برتن و بستروں سے زائد برتن و بستر، ریڈیو، ٹی وی، وی سی آر، وی سی پی وغرتہ شامل ہںڑ۔) ہو جس سے ساڑھے باون تولہ چاندی خریدی جاسکیو ہو ایسے تمام مسلمان مرد و عورت پر قربانی کرنا واجب ہے، چاہے وہ شہری ہو یا دیہاتی، تاجر ہوں یا صنعتکار و دستکار، موییل پالتا ہو یا کسان ہو، ملازمت پشہ ہو یا مزدور، شادی شدہ ہو یا غریشادی شدہ ہو، عالم ہو یا اَن پڑھ اس پر اپنی طرف سے قربانی کرنا واجب ہے۔ سوال: قربانی کے لےس شریعت نے کن کن جانوروں کو متعنت کرکے بتلایا ہے؟ جواب: بکرا، بکری، دنبہ، دنبی، بھڑن، بھڑںی، منڈےھا، منڈلھی، گائے، بلی، بھنسی، بھنساا، اونٹ، اونٹنی اس کے علاوہ کسی جانور، پرندے وغر ہ کی قربانی اس کے حلال ہونے کے باوجود جائز نہںڑ۔ سوال: کار شریعت نے ان جانوروں کے لےب عمر کی کوئی قدھ لگائی ہے؟ جواب: جی ہاں! شریعت نے بکرا، بکری کے لےی مکمل ایک سال کا ہونا، گائے، بلے، بھنسل، بھنساس مکمل دو سال کے ہوں، اونٹ اونٹنی پانچ سال کے ہوں۔ البتہ دنبہ، بھڑی، منڈبھا (نر و مادہ) چھ ماہ کے ہوں لکنا اتنے موٹے تازہ ہوں کہ ایک سال کے دکھائی دیتے ہوں تو ان کی قربانی کو بھی درست قرار دیا گام ہے۔ سوال: قربانی کے مخصوص جانوروں مںن کوئی اور شرائط بھی رکھی گئی ہں ؟ جواب: جی ہاں! جانوروں مںت پائی جانے والی بعض کمزوریاں اور عولب خاص طور پر قربانی کے لےس شریعت کی نظر مںک رکاوٹ بنتی ہیںیعنی قربانی کے جانوروں کا ان عووب سے پاک ہونا ضروری ہے، اس کی تفصلی درج ذیل ہے: (1) اندھا ہونا۔ (2)کانا ہونا۔ (3)بھنگاب ہونا۔ (4)ایک تہائی سے زیادہ بصارت و سماعت سے محروم ہونا۔ (5)ایسا لنگڑا جانور جو چلنے کے دوران چوتھی ٹانگ کا سہارا نہ لے سکتا ہو۔ (6)جس کے دانت نہ ہوں۔ (7)جو جانور پاگل ہو گات ہو۔ (8)جو متعنہب عمر سے کم ہو۔ (9)جس جانور کا کان یا دُم یا چکتی ایک تہائی سے زیادہ کٹے ہوئے ہوں۔ (10)جو ایسا کمزور ہو اس کی ہڈیوں کا گودا تک ختم ہوگا۔ ہو خود چل کر قربان گاہ تک بھی نہ جاسکے۔ (11)خارشی ہو۔ (12)سنگئ جڑسے اکھڑ گئے ہوں یا اتنے ٹوٹ گئے ہوں کہ اس کا اثر دماغ کی ہڈی تک پہنچ گاو ہو۔ (13)بکری کا ایک تھن اور گائے اور اونٹنی کے دونوں تھن سُوکھ گئے ہوں وغروہ وغرسہ۔ یہ وہ عو ب ہںر جو قربانی کے لےس غرت مقبول ہںک لہٰذا ایسے عبک دار جانوروں کی قربانی درست نہںی۔ (واضح رہے کہ شروع زمانے سے خصوصاً بکرے کے اندر مشنو کے ذریعے سے اسے خصی بنادینے کا رواج رہا او رآج تک قائم ہے۔ نبیﷺ کے زمانے مںص بھییہ رواج موجود تھا اور نبیﷺ نے ایسے بکرے کی قربانی کو درست قرار دیا تھا۔ حدیث کی اس واضح ہدایت کے بعد بکرے کے اندر خصی ہونا عب شمار نہںو ہوگا، خصی بکرے کی قربانی درست اور جائز رہے گی۔) سوال: کاو قربانی کے ایک جانور مں ایک سے زائد آدمی شریک ہوسکتے ہںم؟ جواب: قربانی کے لےی جتنے چھوٹے جانور مخصوص کےم گئے ہں جسے بکرا، بکری، دنبہ، دنبی، منڈیھا، منڈ۔ھی، بھڑو، بھڑچیا ان مںم تو ایک سے زائد آدمی شریک نہںر ہوسکتے، یہ فی کس ایک ہی فرد کے لے مقرر کےی گئے ہںد، البتہ جتنے بڑے جانور ہںا مثلاً گائے، بل ، بھنسا، بھنساے، اونٹ، اونٹنی ان مںہ فی کس ایک جانور مںف زیادہ سے زیادہ سات آدمی شریک ہوسکتے ہںں لکنا اس مںو شرط یہ ہے کہ ان مںے سے کسی کا حصہ ساتویں حصے سے کم نہ ہو، مالی حوالے سے بھی سات برابر کے حصے ہوں اور گوشت کے حوالے سے بھی اندازے سے نہںے بلکہ تول کر سات برابر کے حصے کےو جائںح۔ سوال: قربانی کرنے کے لےی شریعت نے کون کون سے دن اور ان دنوں کے کون کون سے اوقات مقرر کےر ہںو؟ جواب: شریعت نے ذی الحجہ کے مہنےت کی دس، گاورہ اور بارہ ذی الحجہ کے دن ہر سال مں مقرر فرمائے ہںو ان تند دنوں مںج اوقات کے حوالے سے تفصیلیہ ہے کہ شہری علاقوں مںت عد الاضحیٰ کی نماز کی ادائی ک کے بغرک قربانی شروع کرنا جائز نہںج، گاؤں اور دیہات مں صبح صادق کے بعد قربانی کا آغاز کان جاسکتا ہے، اگر کسی شہر کے رہنے والے نے اپنی قربانی کسی گاؤں مںر بھجں دی ہے تو گاؤں مںا ہونے کی وجہ سے اسے بھی اجازت ہے کہ صبح صادق کے بعد قربانی کا آغاز کرسکتا ہے۔ یہ تفصل صرف دس ذی الحجہ کے لےئ ہںے قربانی کا آغاز ہوتے ہی اس کا وقت مسلسل رات اور دن کے تمام اوقات مںا بارہ ذی الحجہ کے سورج کے غروب ہونے سے پہلے تک باقی رہتا ہے، البتہ رات کے اوقات مں اتنی روشنی کا مناسب انتظام ہونا چاہےا کہ شریعت کی نگاہ سے ذبح درست ہوجائے۔ سوال: شریعت کی نگاہ مں ذبح کا درست طریقہ کاا ہے؟ جواب: شریعت کی نگاہ مں ذبح کرنے کا طریقہیہ ہے کہ قربانی کے جانور کو قبلہ رُخ لِٹاکر اس کے گلے پر جانور کی زندہ حالت مںی ابھری ہڈی کے نچےا بسم اﷲ اﷲ اکبر پڑھتے ہوئے پوری قوت کے ساتھ تزہ دھار والی چھری اس وقت تک چلائی جائے کہ اس کے گلے مںی پائی جانے والچا ر رَگوں مںا سے کم از کم تنو رگں کٹ جائںے۔ (اگر تن سے کم رگںئ کٹںے اور چھری چلانا موقوف کردیا تو جانور مردار ہوجائے گا اور اس کا گوشت حرام ہوجائے گا) نزگیہ بھی احتانط رہے کہ ذبح کرتے ہوئے اس کی گردن علحدنہ نہ ہوجائے۔ مزیدیہ کہ ذبح شدہ جانور کے ٹھنڈا ہوجانے کے بعد اس کی کھال اُتارنے کا کام شروع کرے۔ سوال: اس کتابچے مںہ ذکرکردہ شرائط کے علاوہ کاج شریعت نے مزید شرائط بھی بتلائی ہںد؟ جواب: شریعت نے بعض اہم مسائل مزید بتلائے ہںر جن کی تفصلد درج ذیل ہے: (1)جس شخص پر قربانی کرنا غربت کی وجہ سے واجب نہ ہو اور اس نے قربانی کے دنوں مںص قربانی کی نتُ سے جانور خرید لاد تو اس پر بعنہِے اسی جانور کی قربانی لازم ہے۔ اب اس جانور کو نہ فروخت کرسکتا ہے نہ کسی دوسرے مقصد کے لےی کام مں لاسکتا ہے اگر قربانی کے دن گزر گئے اور اس نے وہ جانور ذبح نہںئ کا تو اس جانور کا صدقہ کرنا ضروری ہے۔ (2)غریب شخص کے قربانی کے جانور مں کوئی عبہ پد ا ہوجائے تو اسے دوسرا خریدنے کی ضرورت نہں ہے اسی جانور کو قربانی کے دنوں مںگ ذبح کرلے۔ اگر دوسرا قربانی کی نتب سے خرید لتاو ہے تو دونوں جانور قربان کرنا ہوں گے۔ (3)غریب شخص کا قربانی کی نت سے خریدا ہوا جانور قربانی سے پہلے کھو گان تو اسے دوسرا جانور خریدنے کی ضرورت نہںے ہے۔ اگر قربانی کے دنوں مںح مل جائے تو اس کی قربانی کرلے، قربانی کے دن گزر جانے کے بعد ملے تو اس جانور کو صدقے مںا دے دے، اگر نہ ملے تو اس شخص پر اس کے بدلے کچھ لازم نہںی البتہ دوسرا خرید لا تو دوسرے کی قربانی تو لازم ہوگی ہی لکنگ پہلا مل گاگ تو اسے بھی قربان کرنا ہوگا۔ (4)مالدار شخص کے قربانی کے لےچ خریدے ہوئے جانور مںن قربانی سے پہلے کوئی عبے پد ا ہوجائے تو اسے لازمی طور پر دوسرا بے عبی جانور خریدنا ہوگا۔ اگر جانور گم ہوجائے تو بھی دوسرا خریدنا ہوگا۔ البتہ دوسرا خریدنے کے بعد پہلے کا عبو دور ہوجائے یا پہلا مل جائے تو اس کو اختا ر ہے دونوں مںگ سے کسی ایک کی قربانی کرلے۔ (واضح رہے کہ ذبح کرتے ہوئے کوئی عبو پد ا ہوجائے تو وہ معاف ہے اس کا قربانی پر کوئی اثر نہںا پڑے گا۔) سوال: شریعت نے قربانی کرنے والے کو قربانی کے گوشت کے متعلق کان تعلم۔ دی ہے؟ جواب: شریعت نے قربانی کرنے والے کو مکمل اختاجر و اجازت دی ہے کہ وہ چاہے تو پورا کا پورا گوشت تقسمب کردے اور چاہے تو کسی کو ایک بوٹی بھی نہ دے۔ ہاں! اخلاقی حوالوں سے اسے ترغبو دی ہے کہ وہ گوشت کے تن حصے کرلے ایک اپنے لے رکھ لے دوسرا دوست احباب پڑوسوعں رشتے داروں مںن تقسما کردے اور تسرےا اﷲتعالیٰ کے نام پرغریبوں مں تقسما کردے۔ (غریبوں کے حصے مںو اس بات کا خاںل رکھے کہ ان کے حصے مںک بغرر گوشت کی ہڈیاں، چھیچھڑے، چربی، پھپھڑرے ہی نہ ہوں اس لے کہ یہ اﷲ تعالیٰ کو دیا جارہا ہے یہ سوچے اس نے مجھے کساہ دیا اور مں اسے کساھ لوٹا رہا ہوں؟) قربانی کا گوشت غرومسلموں کو بھی دیا جاسکتا ہے البتہ اسے فروخت نہں کاا جاسکتا نہ ہی کسی کی خدمت کے بدلے بطور معاوضہ و اجرت دیا جاسکتا ہے۔ سوال: ہمارے زمانے مں جہاں لوگ انفرادی طور پر قربانی کا کرتے ہں وہاں اجتماعی قربانی کا رواج بھی پڑ گاو ہے، اس کی وجوہات کاش ہںا؟ جواب: دورحاضر مںے انفرادی و اجتماعی حوالوں سے گوناگوں مسائل کا بے حد اضافہ ہوگام ہے جس مں قربانی کے حوالے سے مہنگائی بدامنی، جگہ کی تنگی، جسمانی امراض، ذہنی تفکرات، مذہبی معاملات مںے دھوکہ دہی، شرعی شرائط کی روشنی مںو جانور کی خریداری، اسے بحفاظت گھر تک پہنچانا، اس کی ضروریات کے مطابق اس کی دیکھ بھال، خوراک کا انتظام، بھتہ خوروں کی عقابی نظریں، قصائی کی تلاش، اس سے اجرت کا طے کرنا، قربانی کے دن ذبح اور گوشت بنوانے کے لےہ اس کا انتظار وغررہ سرفہرست ہیںیہ اور ان جسےے دیگر مسائل کا ون ونڈو حل اجتماعی قربانیہے۔ جس کا انتظام شرعی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے دیگر اداروں کی طرح جامعہ بنوریہ عالمہح بھی گزشتہ طویل عرصے بخرکوخوبی کررہا ہے، جس مں جانور وں کی خریداری سے لکرا حصہ لنےع والوں تک ان کے حصوں کے مطابق صاف شفاف ٹوکریوں مںی گوشت پہنچنے تک کی ذمہ داری ادارے کیہوتی ہے۔ ادارے کی طرف سے آن لائن اجتماعی قربانی کی سہولت بھی فراہم ہوتی ہے۔ لہٰذا جنہںذ قربانی کے حوالے سے مسائل درپشک ہوں تو وہ ادارے سے رجوع کرسکتے ہںا۔ سوال: شریعت نے قربانی کی کھال کے متعلق کا تعلماوت دی ہںل؟ جواب: قربانی کے جانور کی کھال اپنے ذاتی مصرف مںا لائی جاسکتی ہے، کسی کو ہدیہ کی جاسکتی ہے لکن اسے بچو کر اس کی رقم اپنے ذاتی استعمال مںت نہںق لائی جاسکتی اس کی قمتو کو لازماً مستحق زکوٰۃ پر صدقہ کرنا ہوگا۔ دییے مدارس کے طلبا بھی اس کے مستحق اور سب سے افضل مصرف ہںط اس لےن کہ اس مںل دین اور علوم دینیہ کے ساتھ معاونت بھی ہے جامعہ بنوریہ عالمہا کی طرف سے بھی ہر سال کھالںص جمع کرنے کا اہتمام ہوتا ہے۔ وما توفیقی إلاباللّٰہ

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
449