(+92) 321 2533925
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/04/22
موضوعات
احکام میت اور نماز جنازہ مع متعلقات
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلیٰ
رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ احکا
م متہ اور نماز جنازہ مع متعلقات سوال: کال کسی کی موت سے پہلے اس کی موت کے آثار ظاہر ہونے لگتے ہںُ؟ جواب:جی ہاں!بعض لوگوں کی تو اچانک بغرا کسی علامت کے ظاہر ہونے کے موت واقع ہوجاتی ہے، اس کے باوجود بعض لوگوں پر موت کے آثار ظاہر ہونا شروع ہوجاتے ہںب جن مں سے بعض یہ ہںر: ٭… سانس اُکھڑ جاتاہے اور جلدی جلدی چلنے لگتا ہے۔ ٭… ٹانگںا ڈھیلد پڑ جاتی ہں اور کھڑی نہںہ ہوسکتںا۔ ٭… ناک ٹڑُھی ہوجاتی ہے اور کن پٹاہں بیٹھ جاتی ہںو۔ یہ عام طور پر کسی بھی مریض کے موت کے آثار بتائے جاتے ہںٹ۔ سوال: جب کسی پر موت کے آثار ظاہر ہونے لگںی تو اس کے قریب کے لوگوں کو کاہ کرنا چاہےل؟ جواب: اس کے قریب کے لوگوں کو اس کے پاس بیٹھ کر سورۂ یٰسٓ کی تلاوت کرنی چاہے ۔ سورۂ یٰسٓ کی تلاوت سے موت کی سختی کم ہوجاتی ہے۔ نزی اس کے پاس بیٹھ کر اتنی آواز سے جس کو مرنے والا سُن سکے (لا الٰہ الّا اﷲ) پڑھنا چاہےو۔خود مرنے والے کو یہ نہں کہنا چاہےس کہ تم (لا الٰہ الّا اﷲ)پڑھو بلکہ اس کے سامنے قریب کے بٹھےب ہوئے لوگ (لا الٰہ الّا اﷲ) خود پڑھنے لگںن، جب ایک مرتبہ مرنے والا کلمہ پڑھ لے تو پاس والوں کو (لا الٰہ الّا اﷲ) پڑھنا بند کردینا چاہے تاکہ دنا سے جاتے وقت اس کی آخری بات جو منہ سے نکلے وہ (لا الٰہ الّا اﷲ) ہو، اس کلمے کے پڑھنے کے بعد اگر وہ کوئی اور دناووی بات کرے تو پھر پاس بٹھنے والوں کو دوبارہ (لا الٰہ الّا اﷲ) پڑھنا شروع کردینا چاہےل، مرنے والا بھی دوبارہ پڑھ لے تو پھر پڑھنا بند کر دینا چاہےٹ۔ اصطلاح مں اس کو تلقنہ کہتے ہں ۔ سوال: مرتے وقت پاس بٹھنےہ والوں کو کاا کرنا چاہےک؟ جواب: مرنے والے کو اس طرح سدھھا اور چِت لِٹا دینا چاہےے کہ قبلہ اس کی سدھھی طرف ہو اور مرنے والے کا سَر تھوڑا سا قبلہ کی طرف جھکا دینا چاہے ، اگر ایسا ممکن نہ ہو تو دوسری صورت یہ ہے کہ اس کے پاؤں قبلہ کی طرف کردینے چاہیئیں اور سَر کے نچےب تکہل رکھ کر سَر کو ذرا اونچا کردیا جائے اس طرح بھی قبلہ رخ ہوجائے گا۔ اگر دونوں مںے سے کوئی ایک بھی صورت ممکن نہ ہو یین اس سے مریض کو تکلف ہوتی ہو تو اس کو اس کے حال پر بھی چھوڑا جاسکتا ہے۔ سوال: جب کسی کی موت واقع ہوجائے پھر پاس بٹھنے والوں کو کاس کرنا چاہےر؟ جواب: جب موت واقع ہوجائے تو پاس بٹھنے والے (انّا للّٰہ وَاِنَّا الہس رٰجعون) پڑھں اور کپڑے کی ایک چوڑی پٹی لے کر متا کی ٹھوڑی کے نچے سے نکال کر سَر پر لاکر باندھ دیں اور آہستہ سے مت کی آنکھںڑ بند کردیں۔ اس کے ہاتھ، پاؤں سدنھے کردیں، دونوں پریوں کے انگوٹھے ملا کر کپڑے یا کسی بھی چزپ سے باندھ دیں۔ پٹک پر کوئی بھاری چزہ رکھ دیں تاکہ پٹے نہ پھولے۔ اگر متچ زمنو پر ہو تو کسی تخت یا چارپائی پر رکھں نزح جس پر غسل واجب ہو اس کے غسل کرلنےر سے پہلے اسی طرح حضی اور نفاس والی عورت کو اس کے پاس نہ آنے دیں، خوشبو کا اسپرے، جلتی ہوئی اگربتی وغرپہ دستاکب ہو تو متہ کے قریب رکھی جاسکتی ہے البتہ متر کو غسل دینے سے پہلے اس جگہ یا اس کمرے مں قرآن مجدا پڑھنا درست نہں ۔ پھر دوست احباب اور رشتہ دار وغرلہ کو اس کی موت اور نماز جنازہ کی اطلاع دی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس کی نمازِ جنازہ مںا شریک ہوں اور اس کے لے دعا کریں، اس کے ساتھ ساتھ قبرستان مںد اس کی قبر تازر کرائںے اور اس کے غسل، کفن، جنازے اور دفن مںا غردضروری تاخرا نہ کی جائے۔ سوال:کاب مسلمان مت کو غسل دینا، کفن پہنانا اس پر نماز جنازہ پڑھنا اور اس کو دفن کرنا ضروری ہے؟ جواب: جی ہاں! مسلمان متو کو غسل دینا موجود مسلمانوں پر فرضِ کفایہ ہے، اسی طرح اس کی تجہزی و تکفنک، نماز و تدفنا بھی فرضِ کفایہ ہے، اگر مسلمان متس کو بغرز غسل کے دفنایا گاا تو تمام موجود مسلمان گنہگار ہوں گے جس کی تلافی کے لےک توبہ و استغفار کرنا ضروری ہے۔ سوال: مسلمان متے کو غسل دینے کا طریقہ کاپ ہے؟ جواب:متب کو غسل دینے کا طریقہیہ ہے کہ جب کسی شخص کی موت کا یننہ ہوجائے تو متت کو کسی تخت وغرہہ پر لٹا دیں اور بہتر یہ ہے کہ اس تخت کو متل رکھنے سے پہلے طاق مرتبہ یینر تینیا پانچ یا سات مرتبہ دھونی وغرجہ دے دیں اور دھونی دینے کا طریقہیہ ہے کہ وہ انگیٹھیجس مںہ لوبان یا اگربتی وغریہ جلائی ہوئی ہو اس کو تخت کے اِردگِرد چاروں طرف پھرا دیں۔ اور دھونی متو کی تعظمہ کی غرض سے دی جاتی ہے تاکہ کوئی ناخوشگوار بو وغریہ محسوس نہ ہو۔ مت کو تختہ پر لٹانے کی کت ت : چوڑائی مں قبلہ رخ اس طرح لٹادیں جس طرح قبر مں لٹاتے ہں او رجہاں متب کو غسل دینا ہے اس جگہ کو کپڑے وغرںہ سے ڈھانپ لںی اور اچھی طرح پردہ کرلںں تاکہ غسل دینے والوں کے علاوہ کسی کی اس پر نظر نہ پڑے، پھر متا کا ستر ناف سے گھٹنے تک کسی کپڑے وغراہ سے ڈھانپ لال جائے اور کپڑے وغرنہ اتار لےک جائں ، اس کے بعد نہلانے والا اپنے بائںن ہاتھ پر کوئی کپڑا یا تھیای وغرنہ لپٹ لے اور جو کپڑا ناف سے زانو تک مت پر پڑا ہوا ہے اس کے اندر سے نجاست کے مقام کو دھو دے۔ پھر متظ کو نماز کے وضو کی طرح وضو کرادیں البتہ کلی کرانے اور ناک مں پانی ڈالنے کی ضرورت نہں اس کے لےکیہ مناسب ہے کہ کوئی آدمی اپنی انگلی پر گیضو روئی وغرنہ لپٹ کر مت کے منہ مں بھی گھما دے او رناک مں بھی۔ پھر متک کا منہ دھولں ، پھر دونوں ہاتھ کہنیوں سمتل دھوئںر، پھر سر کا مسح کریں اور پھر دونوں پاؤں دھو ڈالںم۔ اگر متن کی داڑھییا بال وغرکہ ہںپ تو ان کو صابن وغروہ سے اچھی طرح دھولںر۔ گرم پانی سے غسل دینا افضل ہے لکنن اس بات کا خاھل رہے کہ پانی زیادہ گرم نہ ہو، بلکہ درماونہ گرم ہو۔ جو بروی کے پتوں اور کافور وغرتہ ڈال کر گرم کان گاض ہو اگر یہ نہ ہوں تو خالص پانی کافی ہے۔ اب متا کو بائیںکروٹ پر لٹاکر دائںو طرف سے نہلانا شروع کریں تاکہ پانی پہلے دائں طرف پر پڑے، تنر(3) مرتبہ پانی ڈالںی اور اس قدر ڈالں کہ تمام بدن پر پانی پہنچ جائے۔ اس کے بعد متت کو اپنے بدن کا سہارا دے کر بٹھا دیں او رپٹ، پر ہلکا ہلکا زور دیں تاکہ اگر کوئی نجاست ہو تو نکل جائے او ربعد مں کفن خراب نہ ہو، اگر کچھ نکل آئے تو دھو ڈالںک ازسرنو وضو اور غسل کرانے کی ضرورت نہں ۔ اس کے بعد متھ کو دائںڈ کروٹ پر لٹائںن اور سَر سے پاؤں تک تنھ(3) مرتبہ پانی بہاد یں اور تسرای مرتبہ پھر بائںر کروٹ پر لٹائںر، ہر دفعہ پہلو بدلنے کے وقت تمام بدن پر ایک مرتبہ پانی بہانا فرض ہے اور تنر مرتبہ سنت ہے۔ جب اس طریقہ کے مطابق غسل پورا ہوجائے تو اب سارا بدن کسی پاک کپڑے سے پونچھ لںن تاکہ کفن وغر ہ گیلا نہ ہوجائے۔ اور غسل کراتے وقت متق کے چہرے، دونوں کانوں، دونوں نتھنوں اور سوراخوں کے مقام پر روئی وغرنہ رکھ سکتے ہںک تاکہ ان مںا پانی نہ جائے۔ اور پھر کفن پہنانا شروع کریں۔ سوال:مسلمان متں کو کفن پہنانے کی شریعت مںس کان حت ک ہے اور اس کا طریقہ کاع ہے؟ جواب: مت کو کفن دینا غسل دینے کی طرح فرضِ کفایہ ہے۔ مرد کے لےت سنّت کفن تنپ کپڑے ہںر: (۱) کرتہ (۲) تہبند (۳) لفافہ 1کرتہ: سب سے پہلے کُرتہ ہوگا جس کی مقدار کندھے سے لے کر پاؤں تک ہے۔ 2تہبند: یہ کُرتے کے نچے او رلفافے کے اوپر ہوگا جس کی مقدار کُرتے سے کم اور لفافے سے زیادہ ہے۔ 3لفافہ: یہ سب سے نچےن ہوگا جس کی مقدار سر اور پاؤں دونوں جانب اس قدر بڑھی ہوئی ہو کہ دونوں طرف باندھا جاسکے۔ عورت کے لےت سنّت کفن پانچ کپڑے ہںے: (۱) لفافہ (۲) تہبند (۳)سنہف بند (۴)اوڑھنی (۵) کُرتہ کفن رکھنے کے اعتبار سے اس طرح رکھںا، سب سے پہلے لفافہ اس کے بعد تہبند اس کے بعد سنہن بند اس کے بعد اوڑھنی اور اس کے بعد کُرتہ۔ جبکہ پہنانے کے اعتبار سے سب سے پہلے کُرتہ پہنایا جائے گا اور اس کے اوپر بال ڈال دیے جائں گے اور اس کے اوپر اوڑھنی جس کی مقدار تنے ہاتھ یینہ ڈیڑھ گز ہے جو عورت کے بالوں کو سینے پر ڈال کر اس پر ڈال دی جائے گی، پھر سنہخ بندجس کی مقدار بغلوں کے نچے سے گھٹنوں تک چوڑائی مںف ہے جبکہ لمبائی اس قدر ہوکہ ایک کپڑے کو دوسرے کپڑے پر ڈالا جاسکے، پھر تہبند اور آخر مں لفافہ یینو بڑی چادر جسے اوپر سے باندھ دیں گے۔ نوٹ: متا کو غسل کے بعد فقط کفن پہنانا فرضِ کفایہ ہے، کفن کے کپڑوں کی تعداد سنت اور کفن پہنانے کی ترتبر استحباب کے درجے مںک ہے لہٰذا ضرورت کے پشد نظر تعداد مںی کمی اور ترتب مںک تبدییک ہوسکتی ہے۔ سوال: نماز جنازہ پڑھنے والوں کی تعداد کے اعتبار سے متہ کے حق مںی فضیلت کان بتلائی جاتی ہے؟ جواب1:حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہںا کہ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا: جس متت پر مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت نماز پڑھے جن کی تعداد سو(100) تک پہنچ جائے اور وہ سب اﷲ تعالیٰ سے اس مت کے لے سفارش کریں (یین مغفرت و رحمت کی دعا کریں) تو ان کییہ سفارش اور دعا ضرور قبول ہوگی۔ 2:حضرت مالک بن ہُبَیْرَہ رضی اﷲ عنہ سے نبیﷺ کا یہ ارشاد نقل کای جاتا ہے کہ جس مسلمان کا انتقال ہو اور مسلمانوں کی تنت صفںک اس کی نماز جنازہ پڑھںپ (اور اس کے لےس مغفرت و جنت کی دعا کریں) تو اﷲ تعالیٰ اس کے واسطے ضرور (مغفرت اور جنت) واجب کردیتے ہں ۔ سوال:جنازے کے ساتھ تدفنے تک شامل رہنے کے فضائل کاا ہںگ؟ جواب1:حضرت ابوھریرہ رضی اﷲ عنہ نبیﷺ کی حدیث مبارکہ با ن فرماتے ہںع: جو مسلمان ثواب کی نتا سے کسی مسلمان کی نمازجنازہ مں: شریک ہو اور اس کی تدفنع سے فراغت کے بعد واپس ہو تو وہ ثواب کے دو(2) قر اط لے کر واپس ہوگا اور ہر قر اط اُحد پہاڑ کے برابر ہوگا۔ :2جو شخص جنازے کی چارپائی کو چاروں طرف سے کندھا دے تو اس کے چالس (40) گناہ (جو صغائر مںا بڑے بڑے ہوں) معاف کردیے جائںی گے۔ :3پڑوس، رشتے دار یا نیک مت کے جنازے کے ساتھ جانا نفل نماز پڑھنے سے افضل ہے۔ سوال: نماز جنازہ کسے کہتے ہںی؟ جواب: انسان کے مرنے کے بعد اس کی لاش کو سامنے رکھ کر اس پر نماز کے نام سے امام کی اقتدا مںہ باجماعت ادا کی جانے والی دعا کو نماز جنازہ کہتے ہں ۔ سوال:نماز جنازہ کے متعلق شریعت کی کار تعلمم ہے؟ جواب: نماز جنازہ فرضِ کفایہ ہے اگر چند لوگ پڑھ لںس چاہے پڑھنے والی ایک عورت ہی کو ں نہ ہو تو سب سے معاف ہوجائے گی اگر کوئی بھی نہ پڑھے تو سب گنہگار ہوں گے اگر بالفرض کسی کو بغرڑ جنازہ پڑھائے دفنا دیا گاا تو تنو دن کے اندر اس کی قبر پر نماز جنازہ پڑھی جاسکتی ہے۔ حکم: نمازجنازہ کا منکر دائرۂ اسلام سے نکل جاتا ہے۔ سوال:نماز جنازہ مں کتنے فرائض ہں ؟ جواب: نماز جنازہ مںم مندرجہ ذیل دو(2) چزڑیں فرض ہںف: 1 چار مرتبہ اﷲ اکبر کہنا۔ (۱) تکبرِ۔تحریمہ کے وقت (۲) ثنا کے بعد (۳)درودشریف کے بعد (۴) دعا کے بعد۔ 2 قاتمیعنی کھڑے ہوکر نماز جنازہ پڑھنا، جس طرح فرض اور واجب نمازوں مںت قاضم فرض ہے اور بغرا کسی شرعی عذر کے ان کا بیٹھ کر ادا کرنا جائز نہں اسی طرح اس نماز مںا بھی قاام فرض ہے اور بغرے کسی شرعی عذر کے بیٹھ کر نماز جنازہ پڑھنا جائز نہںک۔ سوال:نمازِجنازہ مںہ سنتں کون کون سی ہںح؟ جواب: نمازِجنازہ مںر تنہ چزنیں سنّت مؤکدہ ہںں: ۱ پہلی تکبرں کے بعد اﷲ تعالیٰ کی حمدوثنا با؟ن کرنا۔ ۲ دوسری تکبرں کے بعد نبی کریمﷺ پر درود پڑھنا۔ ۳ تسر ی تکبری کے بعد متّ کے لےں دعا کرنا۔ سوال: نمازِجنازہ پڑھنے والوں اور متے کے اعتبار سے نماز جنازہ کے صحح ہونے کی کان شرائط ہںہ؟ جواب: نمازجنازہ کے صحح ہونے کے لے دو قِسم کی شرطںح ہںپ: (1) وہ شرطںز جو نماز پڑھنے والے سے تعلق رکھتی ہں ، وہ مندرجہ ذیل ہں : i جس پر غسل فرض ہے اس کا غسل کرنا اور جس کا وضو نہں ہے اس کو وضو کرنا اگر اتنا موقع نہ ہو تو اس کے قائم مقام تممب ہوگا۔ ii نمازی کے بدن، کپڑوں او رنماز کی جگہ کا نجاستِ حقیوض سے پاک ہونا۔ iii جتنی مقدار ستر کا چھپانا فرض ہے، اس کا چھپا ہوا ہونا۔ iv قبلہ کی طرف منہ کرنا۔ v نمازجنازہ کی نتف کرنا۔ (2) دوسری قسم کی وہ شرطںھ ہںض جن کا تعلق متن سے ہے، وہ مندرجہ ذیل ہںے: i متا کا مسلمان ہونا۔ ii طہارت اس مںر (3) چز یں شامل ہںن: (۱) متم کے بدن کا ظاہری گندگی سے پاک ہونا، بدن پاک ہونے سے مراد متi کو غسل دیا گاا ہو یا غسل ناممکن ہونے کی صورت مں اُسے تممد کرایا گا ہو۔ (۲)کفن کا پاک ہونا او ر(۳)نماز جنازہ کے لےی متi رکھنے کی جگہ کا پاک ہونا ۔ iii ستر عورت یینی مت کے بدن کا وہ حصہ جس کا چھپانا فرض ہے، اس کا چھپا ہوا ہونا۔ iv متر کا سارا جسم یا اکثر حصہ نماز پڑھانے والے امام کے آگے قبلہ کی جانب ہونا۔ اگر مت، امام کے پچھے رکھی ہو او رامام آگے کھڑا ہوجائے تو نمازجنازہ نہںج ہوگی۔ v متڑ کا نمازجنازہ کی ادائیکث کی جگہ پر ہونا یینا کُل جسم یا اکثر حصّہ جسم موجود ہو اگرجسم موجود نہںے ہے اور غائبانہ نمازجنازہ پڑھی جارہی ہو تو احناف کے نزدیکیہ جائز نہںو۔ vi متپ کا یا جس چزا پر متا ہو اس کا زمنی پر رکھا ہوا ہونا۔ نمازجنازہ کا وقت: جب جنازہ لایا ہوجائے تو اسی وقت اس کی نماز ادا کردی جائے لکنپ مکروہ اوقات یینّ طلوعِ آفتاب، عنے دوپہر کے وقت، اور غروبِ آفتاب کے وقت نماز جنازہ پڑھنا جائز نہںج ہے اس لےو ان وقتوں کے گزر جانے کے بعد ہی نمازجنازہ ادا کی جائے۔ لکنن جو جنازہ عصر کے مکروہ وقت مںن تاجر ہوا ہو اس کی نماز جنازہ اسی وقت ادا کی جاسکتی ہے۔ سوال:نماز جنازہ پڑھنے کا طریقہ کاا ہے؟ جواب: سب سے پہلے نماز جنازہ پڑھنے کی نتا کریں کہ مںک اﷲ تعالیٰ کی عبادت کے لےا اس فرض کے ادا کرنے کی نتغ کرتا ہوں۔ پھر اﷲ اکبر کہہ کر دونوں ہاتھوں کو کانوں کی لو تک اٹھا کر ناف کے نچے باندھ لںﷲ اور یہ ثنا پڑھںت: (سبحانک اللّٰھُمَّ وبحمدک وتبارک اسمک وتعالیٰ جدّک وجلَّ ثناؤک ولا الٰہَ غرُ کَ) ’’پاک ہںو آپ اے اﷲ! اور ہم آپ کی تعریف کرتے ہںں اور برکت والا ہے نام آپ کا، اور بلند ہے بزرگی آپ کی، اور بڑی ہے تعریف آپ کی اور نہںع ہے کوئی معبود سِوائے آپ کے۔‘‘ اس کے بعد ہاتھ اٹھائے بغرک اﷲ اکبر کہں او ر درودِ ابراہیُک پڑھںں، اس کے بعد ہاتھ اٹھائے بغرہ تسرفی مرتبہ تکبرغ(اﷲ اکبر) کہں اور اگر مت بالغ (مرد یا عورت) ہے تو یہ دعا پڑھںں: (اَللّٰھُمَّ اغفرلحیّنا ومیّتنا وشاھدنا وغآئبنا وصغر نا وکبرپنا وذکرنا واُنثٰنا اللّٰھُمَّ من احییتَہ منّا فاحہ علی الاسلام ومن توفّیتہ منّا فتوفّہ علی الایمان) ’’اے اﷲ! بخش دیےلغ ہمارے زندہ اور مُردہ کو اور ہمارے حاضر اور غائب کو اور ہمارے چھوٹے اور بڑے کو اور ہمارے مرد اور عورت کو۔ اے اﷲ! جس کو آپ ہم مںں سے زندہ رکھںے تو اُسے اسلام پر زندہ رکھںب او رجس کو آپ ہم مںا سے وفات دیں تو اُسے ایمان پر وفات دیےںع۔‘‘ اگر متا نابالغ بچہ یا مجنون ہو تویہ دعا پڑھںا: (اَللّٰھُمَّ اجعلہُ لنا فرطًا وَّاجعلہُ لنآ اَجرً وَّذُخْرًا وَّاجعَلْہُ لنا شافعًا وَّمُشفَّعًا) ’’اے اﷲ! اس کو ہمارے لےج پشّ رو بنادے اور اس کو ہمارے لےک اجراور ذخرآہ بنا دے اور اس کو ہمارے لےی سفارش کرنے والا اور سفارش قبول کاج گاّ، بنادے۔‘‘ اگر بچی ہو تو یہ دعا پڑھں : (اَللّٰھُمَّ اجعلہُ لنا فرطًا وَّاجعلہُ لنآ اَجرً وَّذُخْرًا وَّاجعَلْہُ لنا شافعَۃً وَّمُشفَّعَۃً) ’’اے اﷲ! اس کو ہمارے لےج پشّ روبنادے اور اس کو ہمارے لےَ اجراور ذخر ہ بنا دے اور اس کو ہمارے لےے سفارش کرنے والی اور سفارش قبول کی گئی، بنادے۔‘‘ اس کے بعد ہاتھ اٹھائے بغرّ چوتھی مرتبہ تکبرہ( ) پڑھںا اور دونوں طرف (السلام علکمس ورحمۃ اﷲ) پڑھتے ہوئے سلام پھرُدیں۔ اس کے بعد جنازے کو اٹھا لاَ جائے شریعت سے اتنا ہی ثابت ہے۔ نوٹ: اگر نماز جنازہ والی ثنا اور درودشریفیاد نہ ہوں تو نماز والی ثنا اور درودشریف پڑھے جاسکتے ہں ۔ اگر ان مںر سے کچھ بھییاد نہ ہوتو بھی نماز جنازہ مںل شرکت ضرور کریں اور امام کی اقتدا مںا صرف چار تکبرشیں کہتے رہںہ، بقہر مں خاموش رہںر۔ نوٹ: جن چزموں سے نماز فاسد ہو جاتی ہے نماز جنازہ بھی ان تمام چزیوں سے فاسد ہوجاتی ہے۔ سوال: نمازِ جنازہ کو باجماعت ادا کرنا ضروری ہے؟ جواب: جی ہاں! شریعت کی تعلمہ کے مطابق نمازِ جنازہ ایک امام کی اقتداء مںں باجماعت ہی ادا کی جاتی ہے۔ سوال: نمازِ جنازہ کی نماز کی کتنی صفں ہونی چاہیئیں؟ جواب: افضل یہ ہے کہ کم از کم تنع (3) صفںھ ہونی چاہیئیں، لوگ زیادہ ہوں تو تنا صفوں سے زائد بھی بنائی جاسکتی ہںا لکنو بہتر یہ ہے کہ وہ صفں طاق عدد مںت ہوں یینم (7,5,3) وغروہ۔ سوال: اگر نمازِ جنازہ شروع ہوجائے اور کوئی شخص بے وضو ہو اور نمازِ جنازہ مں شامل ہونا چاہتا ہو تو اس کے لےا شریعت مں کا حکم ہے؟ جواب: ایسا شخص نمازِ جنازہ مںد شامل ہونے کے لےم وضو کے بجائے تمم کرسکتا ہے، لہٰذا وہ تممے کرکے نماز مںں شامل ہوجائے۔ تممب کا طریقہیہ ہے کہ پاک مٹی پر دونوں ہتھانازں مارے اور ہلکے سے جھاڑ کر وہ ہتھاہٰذں پورے چہرے پر اس طرح پھروے کہ بال برابر جگہ بھی نہ بچے۔ پھر دوبارہ دونوںہتھیلیاں پاک مٹی پر مارے اور ہلکے سے جھاڑ کر الٹے ہاتھ کی ہتھیاں کو سداھے ہاتھ کی کہنیوں تک اور سدےھے ہاتھ کی ہتھیاں کو الٹے ہاتھ کی کہنیوں تک اچھی طرح پھرل لے کہ بال برابر بھی جگہ نہ بچے اور اس کے بعد نماز مںی شامل ہوجائے۔ سوال: اگر کسی شخص کو نمازِ جنازہ مںک پڑھی جانے والی چزییںیاد نہ ہوں تو کا وہ نماز جنازہ مں شامل ہوسکتا ہے؟ جواب: جی ہاں! وہ نمازِ جنازہ مں اور لوگوں کی طرح امام کے ساتھ شریک ہوجائے اور خاموش کھڑا رہے اور امام کے تکبر کہنے کے بعد خود بھی تکبرہیینن کہتا رہے اس طرح اس کی بھی نماز ہوجائے گی اور جب امام سلام پھروے تو وہ بھی سلام پھرک دے۔ سوال: اگر کوئی شخص ایسے وقت مںس جماعت مںب شامل ہو کہ کچھ تکبرےیں کہی جاچکی ہوں تو ایسا شخص اپنی نماز کس طرح پوری کرے؟ جواب: ایسے شخص کو اصطلاح مں مسبوق کہتے ہںم او راس کے لے حکم یہ ہے کہ وہ امام کے ساتھ سلام نہ پھربے پہلے اپنی رہ جانے والی تکبرسیں کہہ لے اور اس کے بعد اپنا سلام پھرادے۔ سوال: متّ کی تدفنل کے متعلق شریعت کا کا حکم ہے اور اس کا کا طریقہ ہے؟ جواب: متّ کو غسل، کفن اور نماز جنازہ کے بعد زمنق مںا دفن کردینا بھی فرض کفایہ ہے۔ دفن نہ کےا جانے کی صورت مںز سب لوگ گنہگار ہوں گے البتہ سمندری سفر مںر اگر ساحل قریب نہ ہو تو غسل، کفن اور نماز جنازہ کے بعد مت کے ساتھ کوئی بھاری، وزنی چزا باندھ کر سمندر مںم اتار دینا چاہےن جبکہ ساحل قریب ہو تو ساحل پر اتر کر زمنک مںپ دفنانا چاہےے۔ تدفنگ کے لےم مخصوص جگہ کو قبرستان اور اس مںا اس مقصد کے لےغ کھودے ہوئے گڑھے کو قبر کہتے ہں ۔ قبر دو قسم کی ہوتی ہے: 1 بغلی قبر: زمنر کھود کر اس کے اندر کی طرف نچےل زمند سے مٹی نکال کر کھوکھلی (خالی) کی جاتی ہے اور اس جگہ مںم متف رکھ کر سائڈد سے بند کردیاجاتا ہے اسے بغلی قبر کہتے ہںح۔ 2 صندوقی قبر: زمنر کو کھود کر اس مں سدفھا سدںھا گڑھا تامر کرلاھ جاتا ہے اسے صندوقی قبر کہتے ہںی۔ قبر کی گہرائی کم از کم متک کے نصف قد کے برابر، زیادہ سے زیادہ پورے قد کے برابر، لمبائی پورے قد کے برابر اور چوڑائی نصف قد کے برابر ہونی چاہےئ۔ زمن کے بہت زیادہ نرم ہونے اور قبر کے بیٹھ جانے کے خطرے کی صورت مںم قبر کے اندر چاروں طرف اینٹوں کی دیواریں بنانے کی اجازت ہے۔ زمنو اگر بہت ہی زیادہ نرم یا سیلاب زدہ ہو تو اس صورت مںی متن کو لکڑییا لوہے وغررہ کے صندوق مںں رکھ کر دفنانے کی بھی اجازت ہے۔ قبر مں اتارنا: قبر کے قبلے والی سمت پہلے متم کی چارپائی زمنر پر رکھ لںھ اس کے بعد قبر مںی اتارنے والے بھی قبلہ رخ ہوجائںو۔ (متج اگر عورت کی ہو تو دفناتے وقت نامحرم وہاں سے ہٹ جائیںیا چادر سے قبر کا ایسا پردہ کرلںا کہ نامحرم کی نگاہ نہ پڑے) اور متا کو احتا ط کے ساتھ قبر مںم اتاریں۔ اتارتے وقت: بسم اﷲ وعلیٰ ملۃِ رسول اﷲ’’اﷲ (تعالیٰ) کے نام کے ساتھ اور اﷲ(تعالیٰ) کے حکم سے اور حضور(ﷺ) کے طریقے پر اتارتا ہوں‘‘پڑھنا مستحب ہے۔ متں کو سد ھی کروٹ پر لٹانا مسنون ہے صرف منہ قبلہ رخ کرنا کافی نہںل۔ اس کے لے قبر کی دیوار کا سہارا بھی لاخ جاسکتا ہے یا کوئیپتھر بھی رکھا جاسکتا ہے۔ جب متھ کو قبر مںج داہنی کروٹ لٹا چکیں تو قبر کو سمنٹر کے سلیبیا لکڑی کے تختوں سے بند کردیں جو سوراخ یا دراڑیں رہ جائںو اسے بھی گارے وغرکہ سے بند کردیں اور مٹی ڈالنا شروع کریں جس کا مستحب طریقہیہ ہے کہ ابتدا سرہانے سے کی جائے او رہر شخص اپنے دونوں ہاتھوں مںغ مٹی بھر کر قبر پر تن مرتبہ ڈالے۔ پہلی مرتبہ مٹی ڈالتے وقت (مِنْھَا خَلَقْنٰکُم) ’’اسی (زمنر) مں سے ہم نے تمہںے پد ا کائ تھا‘‘ دوسری مرتبہ(وفِیْھَا نُعِیْدُکُمْ)’’اور اسی مںن ہم تمہںا واپس لے جائںں گے۔‘‘ اور تسروی مرتبہ (وَِمِنْھَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْرٰی)’’اور اسی مںہ سے تمہںں دوبارہ پھر نکالں گے‘‘کہے۔ قبر کھودتے وقت جتنی مٹی نکلی تھی وہی قبر پر ڈالے اس سے زیادہ باہر سے لاکر دوسری مٹی ڈالنا غرکضروری اور نامناسب ہے۔ مستحب یہ ہے کہ ایک بالشت اونچی قبر اونٹ کے کوہان کی طرح رکھی جائے۔ قبر پر مٹی ڈال چکنے کے بعد پانی چھڑکنا بھی مستحب ہے۔ دفن کے بعد قبر کے سرہانے سورۂ بقرہ کی ابتدائی آیات المّٓسے مُفلحونَ(ابتدائی پانچ آیات) تک اور پرا کی جانب آخری آیات اٰمن الرَّسولسے ختم سورت (آخری دو آیات) تک پڑھنا مستحب ہے۔ تدفنَ کے بعد متخ کے لےہ دعا کرنا بھی ثابت ہے۔ نشانی کے طور پر قبر پر کتبہ لگانا جائز ہے البتہ اس پر قرآنی آیات و احادیث وغرےہ جسےچ مقدس کلمات لکھوانا بے ادبی کے خوف سے نامناسب ہے۔ سوال: قبرستان مںق جانے کے متعلق شریعت کی کاب تعلمٓ ہے؟ جواب: دناس کی بے ثباتی، آخرت کییاد دل مںس پد؟ا کرنے کا بہترین ذریعہ زیارت قبوربھی ہے، مستحب یہ ہے کہ کبھی کبھی قبروں کی زیارت کے لےں بھی جایا جائے۔ اہلِ قبور کے لےُ دعائے مغفرت کے لےب بھی قبرستان جانا سنت سے ثابت ہے۔ قبرستان مںا داخل ہوتے ہوئے تمام اہلِ قبور کی نتئ کرکے ان الفاظ مں سلام کاد جائے: (السلام علیکمیآ اھل القبور یغفرُ اللّٰہُ لنا ولکم انتم سلفنا ونحن بالاثر) ’’سلام پہنچے تم کو اے اہلِ قبور! بخشے ہمںغ اور تمہںو اﷲ، تم آگے جانے والے ہو اور ہم تمہارے قدم پر ہںس۔‘‘ اس کے بعد جتنا اور جہاں سے ممکن ہوسکے زبانییا دیکھ کر قرآن شریف کی تلاوت کرکے اس کا ثواب صاحبِ قبر کو پہنچایا جائے اس کے لےل دعائے مغفرت کی جائے۔ سوال: ایصالِ ثواب کے متعلق شریعت کار بتلاتی ہے؟ جواب: ایصالِ ثواب کا ثبوت بھی حدیثِ مبارکہ سے ملتا ہے۔ اس کا طریقہیہ ہے کہ انسان جو بھی نفلی، مالییا جانی عبادت کرتا ہے اور اس مں اخلاص بھی ہو تو وہ اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ مں قبولتن حاصل کرلتان ہے اور انسان کو اس پر ثواب ملتا ہے۔ انسان وہ ثواب اپنے مرجانے والے متعلقن کو اﷲ تعالیٰ سے درخواست کرکے منتقل کرادے کہ اے اﷲ! اس کا ثواب فلاں فلاں کو مرحمت فرمادیےر ۔ (واضح رہے کہ یہ ثواب زندوں کو بھی پہنچایا جاسکتاہے) البتہ یہ ایصالِ ثواب دن، تاریخ، وقت اور جگہ کی قد۔ کا محتاج نہں ہے۔ ہر وقت، ہر پاک جگہ سے کسی بھی قسم کی نفلی عبادت کرکے پہنچایا جاسکتا ہے۔ وما توفیقی إلاباللّٰہ

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
1707     3