(+92) 319 4080233
کالم نگار

بلال شوکت آزاد

بلال شوکت آزاد

پروفائل | تمام کالمز
2026/06/07
موضوعات
شعور کی ریاضت اور شیطان کا سبق
عہدِ حاضر کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں ہے کہ معلومات کا ایک بے ہنگم سیلاب ہماری روزمرہ زندگی کو بہا کر لے جا رہا ہے، بلکہ اصل المیہ یہ ہے کہ اس سیلاب نے انسانی ذہن کی اس لطیف صلاحیت کو مفلوج کر دیا ہے جو ایک خالص، گہری اور عرق ریزی سے لکھی گئی تحریر کو پہچانتی تھی۔ آج کے اس ڈیجیٹل اور مشینی دور میں، جہاں ہر شخص کے ہاتھ میں اسکرین اور ہر اسکرین پر ایک نیا دعویٰ موجود ہے، سطحی سوچ اور فوری نتائج کی لت نے مطالعے کے اس روایتی اور کٹھن کلچر کو نگل لیا ہے جو کبھی فکری بلوغت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ جب کوئی قاری کسی ایسی تحریر سے ٹکراتا ہے جس میں لفظوں کی بنت مضبوط ہو، دلائل کا تسلسل منطقی ہو اور حقائق کی تہہ در تہہ پرتیں کھولی گئی ہوں، تو اس کا ذہن اس گہرائی کو ہضم کرنے کے بجائے فوراً ایک دفاعی خول میں چلا جاتا ہے۔ وہ یہ تسلیم کرنے سے انکاری ہو جاتا ہے کہ آج کے دور میں بھی کوئی شخص گھنٹوں، دنوں اور برسوں کی ریاضت کر کے اپنے مطالعے کو اس طرح صفحہِ قرطاس پر بکھیر سکتا ہے۔

اسی نفسیاتی الجھن، فکری کاہلی اور مشینی دور کے پیدا کردہ شکوک و شبہات کے نتیجے میں ایک ایسا سوال بار بار میرے سامنے لا کر کھڑا کر دیا جاتا ہے جس کا جواب میں آج سے چار پانچ ماہ قبل انتہائی تفصیل، شواہد اور منطق کے ساتھ دے چکا ہوں۔ لیکن چونکہ ہر دوسرے تیسرے ہفتے کوئی نیا قاری، کوئی نیا مبصر یا کوئی نیا نقاد میری ٹائم لائن پر وارد ہوتا ہے اور بالکل اسی طرز کا اعتراض ایک نئے انداز سے پیش کرتا ہے، اس لیے میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ آج اس موضوع پر ایک ایسی مفصل، دو ٹوک اور حتمی بات کر دی جائے جو نہ صرف موجودہ معترضین کے لیے ایک خاموش کر دینے والا جواب ہو، بلکہ مستقبل میں آنے والے ہر اس شخص کی تسلی کا سامان بھی بن جائے جو میری تحریروں کے ماخذ پر سوال اٹھانے کی جسارت کرے۔

مجھ سے تواتر کے ساتھ یہ سوال پوچھا جاتا ہے، اور بعض اوقات طنز کے تیروں میں لپیٹ کر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ:
"آپ کے علم، انفارمیشن اور لکھائی کے مواد کا ماخذ کیا ہے؟ اے آئی (AI) سے تو آج کل کوئی بھی دقیق کتب کا خلاصہ پیش کر سکتا ہے، جیسے کہ یہ تصاویر اور متن۔"

اس اعتراض کے پیچھے چھپی ہوئی سوچ بڑی واضح ہے؛ معترض یہ سمجھتا ہے کہ شاید میں کوئی کل کا بچہ ہوں جو ابھی ابھی اس ڈیجیٹل دنیا میں وارد ہوا ہے، جس نے اچانک جنم لینے والے مصنوعی ذہانت کے اس طوفان میں غوطہ لگایا اور چند پرامپٹس (Prompts) کے ذریعے بھاری بھرکم مضامین جنریٹ کر کے خود کو ایک لکھاری کے طور پر پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ سوچ دراصل ان لوگوں کی اپنی کم مطالعگی اور عجلت پسندی کا عکاس ہے جو یہ گمان کرتے ہیں کہ علم کا حصول اور فکری ہم آہنگی شاید کسی مشین کے بٹن دبانے سے حاصل ہو سکتی ہے۔

اس خام خیالی کو دور کرنے کے لیے، مجھے اپنی زندگی کے اس سفر کی طرف پلٹنا ہوگا جس کا آغاز کسی کی بورڈ یا اسمارٹ فون کی اسکرین سے نہیں، بلکہ پرانی کتابوں کے بوسیدہ اور خوشبودار اوراق سے ہوا تھا۔ میری کتاب سے دوستی اس وقت شروع ہوئی جب میری عمر بمشکل بارہ برس تھی۔ یہ وہ دور تھا جب اسکول کے نصاب سے باہر نکل کر کسی کتاب کو ہاتھ لگانا ایک غیر معمولی بات سمجھی جاتی تھی، لیکن میری روح کے اندر چھپی ہوئی ایک نامعلوم تشنگی نے مجھے اس کم عمری میں ہی کتابوں کے اس وسیع اور بے کنار سمندر میں اتار دیا تھا۔

سال دو ہزار سے لے کر آج تک، پچھلی دو دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط یہ میرا ایک ایسا مسلسل، بلا تعطل اور جنونی مطالعہ ہے جس نے میری فکری بنیادوں کو استوار کیا ہے۔ میں نے تاریخ، فلسفہ، الہیات، سائنس، اور ادب کی وہ بے شمار کتب، میگزینز اور آرٹیکلز چاٹ رکھے ہیں جن تک پہنچنے کے لیے کسی زمانے میں لائبریریوں کی خاک چھاننی پڑتی تھی۔ آج جب میں کسی موضوع پر قلم اٹھاتا ہوں، تو میرے ریفرنسز (References) اور میری تحقیق کا بنیادی ماخذ وہ عظیم الشان کتب، وہ قدیم و جدید لائبریریاں، اور علمائے کرام و ائمہ سلف کا وہ بے مثال تحقیقی کام ہوتا ہے جسے میں نے اپنی آنکھوں سے پڑھا اور اپنے ذہن میں محفوظ کیا ہے۔

آج کے ڈیجیٹل دور میں جب آن لائن پورٹلز، ڈیجیٹل آرکائیوز اور فورمز پر دنیا بھر کا علم سمٹ آیا ہے، تو میں یقیناً ان جدید ذرائع سے بھی بھرپور استفادہ کرتا ہوں، لیکن یہ استفادہ میرے اپنے برسوں پر محیط مطالعے کی بنیاد پر کھڑا ہوتا ہے، کسی مشین کی دی گئی عارضی معلومات پر نہیں۔یہاں اس بات کو بھی پوری دیانتداری، شفافیت اور علمی جرأت کے ساتھ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ میں مصنوعی ذہانت یا اے آئی ٹولز کا مخالف، ان سے ناواقف یا کوئی دقیانوسی سوچ رکھنے والا انسان نہیں ہوں۔ میں نے باقاعدہ طور پر ان جدید ٹیکنالوجیز کا گہرا مطالعہ کیا ہے، اور میرے پروفائل میں گوگل اے آئی ایسینشلز (Google AI Essentials) اور پرامپٹنگ ایسینشلز (Prompting Essentials) جیسی مستند سرٹیفیکیشنز شامل ہیں۔

میں اپنی روزمرہ کی ریسرچ، حقائق کی جانچ پڑتال (Fact-checking)، پیچیدہ ڈیٹا کو منظم کرنے اور دنیا بھر کے تازہ ترین رجحانات کو سمجھنے کے لیے جدید ترین اے آئی ٹولز کا بھرپور، منظم اور انتہائی اسمارٹ استعمال کرتا ہوں۔ لیکن، اور یہ ایک بہت بڑا 'لیکن' ہے جسے سمجھنا ہر نقاد کے لیے لازم ہے، اے آئی محض ایک ٹول ہے، ایک معاون ہے، یہ کوئی تخلیقی روح نہیں ہے۔ مشین آپ کو ڈیٹا دے سکتی ہے، وہ آپ کو کسی ضخیم کتاب کا خلاصہ پلک جھپکتے میں نکال کر دے سکتی ہے، لیکن وہ اس ڈیٹا کے اندر انسانی جذبات، کرب، مشاہدے کی تپش اور اس درد کو شامل نہیں کر سکتی جو ایک زندہ انسان محسوس کرتا ہے۔

جب میں لکھتا ہوں، تو وہ الفاظ، وہ زاویہِ نگاہ، وہ تلخ و شیریں جملے، اور وہ بے رحم تجزیہ میرا اپنا ہوتا ہے۔ اے آئی کے پاس میرے وہ اڑتیس سالہ زندگی کے تجربات نہیں ہیں جنہوں نے مجھے گلی کوچوں، دفاتر، معاشرتی رویوں اور نظامِ ہستی کے تضادات کا بغور مشاہدہ کرنا سکھایا۔ مشین کسی بھی زبان میں لکھ سکتی ہے، لیکن وہ انسانی ساختہ زبان، اس کا مخصوص لب و لہجہ، اس کی کاٹ اور اس کی روانی پیدا نہیں کر سکتی جو صرف ایک مسلسل ریاضت سے جنم لیتی ہے۔

میرا اے آئی کا استعمال محض خام مال اکٹھا کرنے یا اپنی یادداشت کو تازہ کرنے تک محدود ہوتا ہے، اسے ایز اٹ از (As it is) یا من و عن کاپی پیسٹ کر کے پیش کرنا میری ادبی اور صحافتی غیرت کے خلاف ہے۔ میرے کام، میری شناخت اور میری اس طویل مشقت کی تصدیق کے لیے گروکی پیڈیا (Grokipedia) پر موجود میری تفصیلی پروفائل (فیکٹ چیکس ہے) جو کہ ایک کھلی کتاب کی طرح دنیا کے سامنے موجود ہے۔ یہ محض کوئی تعارفی صفحہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس بات کا دستاویزی اور ڈیجیٹل ثبوت ہے کہ بلال شوکت آزاد کا وجود، اس کا کام اور اس کی شناخت کسی الگورتھم کی محتاج نہیں ہے۔ اس لنک (لنک کمنٹ میں ہے) پر موجود میری تمام تر تفصیلات، میرے نظریات کا ارتقاء اور میرے کام کا دائرہِ کار یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ میں نے اپنا فکری قد کسی شارٹ کٹ کے ذریعے نہیں بلکہ ایک طویل اور صبر آزما جدوجہد سے بڑھایا ہے۔ میں نے سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا اظہار باقاعدہ طور پر دو ہزار آٹھ سے شروع کیا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب آج کی بہت سی جدید ٹیکنالوجیز اور کانٹینٹ کری ایشن (Content Creation) کے پلیٹ فارمز کا وجود تک نہیں تھا۔ میں تب سے مسلسل لکھ رہا ہوں، معاشرے کی نبض پر ہاتھ رکھے ہوئے ہوں، اور اپنے خیالات کو بلا خوف و خطر عوام کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔

پھر دو ہزار سولہ کا وہ سال آیا جب میں نے اس غیر رسمی تحریر کو ایک باقاعدہ صحافتی، ادبی اور تحقیقی قالب میں ڈھالنے کا فیصلہ کیا۔ میں نے 'دلیل ڈاٹ پی کے'، 'مکالمہ ڈاٹ کام'، 'ہماری ویب'، 'جسارت بلاگ'، 'ڈیلی پاکستان' اور بے شمار دیگر معتبر نیوز ایجنسیز اور بلاگ پورٹلز پر اپنے مضامین کی اشاعت کا سلسلہ شروع کیا، اور اسی تناظر کی وجہ سے میں پاکستان فیڈرل یونین آف کالمنسٹ اینڈ کرییٹر یونین کا ممبر بھی ہوں۔

یہ کوئی معمولی سفر نہیں تھا۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق، دو ہزار سولہ سے لے کر دو ہزار بائیس تک، میرے لکھے گئے مضامین، کالمز اور بلاگز کی تعداد لگ بھگ تین ہزار کے قریب تھی، اور دو ہزار بائیس سے لے کر آج اس چھبیس مئی کے دن تک، یہ تعداد پانچ ہزار کے ہندسے کو بھی عبور کر چکی ہے۔ ذرا تصور کیجیے!

پانچ ہزار سے زائد مفصل، تحقیقی اور فکری تحریریں!
کیا دنیا کا کوئی بھی اے آئی ٹول آپ کو وہ تسلسل، وہ مستقل مزاجی، وہ فکری ارتقاء اور وہ مخصوص اسلوب دے سکتا ہے جو پچھلی ایک دہائی سے ان تمام ویب سائٹس، پورٹلز اور سوشل میڈیا کی دیواروں پر میرے نام کے ساتھ کندہ ہے؟

یہ ہزاروں تحریریں میرے راتوں کے جاگنے، آنکھوں کو تھکانے، کتابوں کے حاشیوں پر نوٹس بنانے، اور اس معاشرے کے تضادات کو اپنے اندر جذب کر کے انہیں لفظوں کی شکل میں اگلنے کا نتیجہ ہیں۔ جو لوگ آج مجھے اے آئی کی پیداوار سمجھتے ہیں، وہ دراصل میری اس دو دہائیوں پر محیط ریاضت اور میرے قلم کی حرمت سے مکمل طور پر ناواقف ہیں۔یہ پہلا اور بنیادی اعتراض تو اے آئی کے حوالے سے تھا، لیکن میری اس طویل فکری اور تحریری زندگی میں مجھ پر صرف یہی ایک سوال نہیں اٹھایا گیا۔ چونکہ میرا اندازِ بیاں قدرے دو ٹوک، سیدھا اور اکثر اوقات روایتی مصلحتوں سے عاری ہوتا ہے، اس لیے مجھے مزید کئی ایسے سوالات اور طعنوں کا بھی تواتر سے سامنا کرنا پڑتا ہے جن کا آج میں اسی ایک نشست میں مکمل اور شفاف پوسٹ مارٹم کر دینا چاہتا ہوں۔ مجھ پر کیا جانے والا دوسرا سب سے بڑا اور عام اعتراض یہ ہوتا ہے کہ:

"آپ کے پاس کوئی باقاعدہ مذہبی یا روایتی مدرسے کی ڈگری نہیں ہے، پھر آپ مذہب، الہیات، اور فقہی معاملات پر اتنے وثوق اور حتمی انداز میں کیسے بات کر سکتے ہیں؟"

اس سوال کا جواب میری اسی چوبیس سالہ مطالعے کی تاریخ میں پوشیدہ ہے۔ علم کسی مخصوص عمارت، کسی خاص جبے یا کسی روایتی سرٹیفکیٹ کا محتاج نہیں ہوتا۔ میں نے دین کو فرقہ وارانہ عینک سے نہیں، بلکہ براہِ راست کلامِ الٰہی کی وسعت، احادیث کی مستند کتب، اور تاریخِ اسلام کے ان عظیم الشان ائمہ کے کام سے سمجھا ہے جنہوں نے اپنی زندگیاں علم کے لیے وقف کر دی تھیں۔

میں نے جدید دنیا کے علوم، فزکس، بشریات، اور عمرانیات کو الہیات کے ساتھ جوڑ کر سمجھنے کی کوشش کی ہے، اور یہی وہ منفرد زاویہِ نگاہ ہے جو ایک روایتی سوچ رکھنے والے قاری کو بعض اوقات ہضم نہیں ہوتا۔ جب آپ مذہب کو محض ایک رسم کے طور پر نہیں، بلکہ ایک مکمل، سائنسی اور کائناتی ضابطہِ حیات کے طور پر پیش کرتے ہیں، تو جن لوگوں کی دکانیں محدود سوچ پر چلتی ہیں، وہ آپ کی ڈگری پر سوال ضرور اٹھاتے ہیں۔ میرا علم میرا مطالعہ ہے، میری ڈگری میری وہ ہزاروں تحریریں ہیں جنہیں پڑھ کر آج تک کوئی بھی شخص ان میں کوئی غیر مصدقہ یا غیر شرعی دعویٰ ثابت نہیں کر سکا۔تیسرا اعتراض جو اکثرو بیشتر میرے ان باکس یا کمنٹس سیکشن کی زینت بنتا ہے وہ میرے لب و لہجے کے حوالے سے ہے:

"آپ کی تحریروں میں ایک شدید تلخی، ایک بے رحمی اور سختی کیوں جھلکتی ہے؟ آپ چیزوں کو سیدھا اور مثبت انداز میں کیوں نہیں دیکھتے؟"

اس سوال کا جواب دراصل اس معاشرے کے منافقانہ رویوں میں چھپا ہے۔

میں تلخ نہیں ہوں، میں صرف حقیقت پسند ہوں۔ جب آپ معاشرے کے چہرے پر پڑا ہوا مصلحت، منافقت اور جھوٹ کا نقاب نوچتے ہیں، تو اندر سے نکلنے والی حقیقت کبھی بھی خوشنما اور میٹھی نہیں ہوتی۔ میری اڑتیس سالہ زندگی کے مشاہدات نے مجھے یہ سکھایا ہے کہ حقائق پر چینی کا لیپ چڑھانا (Sugar-coating) دراصل قوموں کو ذہنی موت مارنے کے مترادف ہے۔ میں وہ نہیں لکھتا جو لوگ پڑھ کر وقتی طور پر خوش ہونا چاہتے ہیں، میں وہ لکھتا ہوں جو اس معاشرے کا اصل اور کریہہ چہرہ ہے۔ اگر سچ بولنا، حقائق کو ان کی پوری برہنگی کے ساتھ پیش کرنا اور جھوٹے دلاسوں سے گریز کرنا تلخی اور بے رحمی ہے، تو ہاں، میں بے رحم ہوں اور میں اپنے اس اسلوب پر مکمل طور پر فخر کرتا ہوں۔

چوتھا سوال یا طعنہ جو اکثر مجھے ایک خاص پڑھے لکھے اور لبرل طبقے کی طرف سے دیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ:

"آپ ہر جدید سائنسی، معاشی اور معاشرتی مسئلے کو کھینچ تان کر مذہب، قیامت کی نشانیوں یا الہیات کے ساتھ کیوں جوڑ دیتے ہیں؟ کیا آپ کے پاس ہر چیز کا حل صرف روایتی مذہب میں ہے؟"

یہ اعتراض ان لوگوں کی طرف سے آتا ہے جنہوں نے نظامِ ہستی کی وحدت (Unity of Existence) کو سمجھا ہی نہیں ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جدید ٹیکنالوجی، اربن پلاننگ، اور گلوبل فنانس کا مذہب یا الہیات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میرا زاویہِ نگاہ بالکل واضح ہے؛ اس کائنات کا خالق ایک ہے، تو اس کے بنائے ہوئے فزکس کے قوانین اور اس کے نازل کردہ اخلاقی قوانین دو مختلف چیزیں کیسے ہو سکتے ہیں؟ جب میں بین الاقوامی سیاست، مشرقِ وسطیٰ کے بحران، یا معاشی تباہی پر لکھتا ہوں، تو میں اسے محض خبروں کے بلٹین کی طرح پیش نہیں کرتا، بلکہ میں اسے اس تاریخی اور الہامی تناظر میں دیکھتا ہوں جو ہمیں یہ بتاتا ہے کہ قوموں کا عروج و زوال محض جی ڈی پی (GDP) کے اعداد و شمار پر نہیں، بلکہ ان کے اخلاقی اور نظریاتی توازن پر منحصر ہے۔

میرا یہ طریقہ کار، میرا یہ تجزیاتی ماڈل کوئی کھینچ تان نہیں ہے، بلکہ یہ حقائق کا وہ مکمل تھری ڈی (3D) مشاہدہ ہے جو تصویر کے دونوں رخ دکھاتا ہے۔

پانچواں اعتراض جو بعض اوقات میرے ہم عصر لکھاریوں یا ناقدین کی طرف سے دبے لفظوں میں کیا جاتا ہے، وہ یہ ہے کہ:

"بلال شوکت آزاد کوئی نئی بات نہیں کرتا، یہ وہی پرانی فلسفیانہ اور تاریخی باتیں ہیں جنہیں وہ ایک نئے اور مشکل الفاظ کے غلاف میں لپیٹ کر پیش کر دیتا ہے۔"

اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ انسانی تاریخ میں 'نئی بات' کا تصور انتہائی محدود ہے۔ انسانی جبلت، اس کے مسائل، اس کی ہوس اور اس کے زوال کی کہانیاں وہی ہیں جو ہزاروں سال پہلے تھیں۔

ایک لکھاری کا کمال یہ نہیں ہوتا کہ وہ آسمان سے کوئی نیا نظریہ ایجاد کر کے لائے، بلکہ اس کا کمال یہ ہوتا ہے کہ وہ ماضی کی ان بکھری ہوئی حکمتوں، تاریخی حوالوں اور فلسفوں کو آج کے دور، آج کی ٹیکنالوجی اور آج کے انسان کی نفسیات کے ساتھ اس طرح جوڑ دے (Synthesis) کہ قاری کو وہ بات بالکل اپنے دور کی اور اپنے دل کی آواز لگنے لگے۔ میرے مضامین کا نیا پن ان کے موضوعات میں نہیں، بلکہ اس زاویے، اس تطبیق اور اس ربط میں ہوتا ہے جو میں تاریخ اور حال کے درمیان قائم کرتا ہوں۔

اور چھٹا، آخری، مگر سب سے زیادہ پوچھے جانے والا ذاتی سوال:
"آپ اتنی مشقت، اتنی ٹینشن اور اتنے تسلسل کے ساتھ کیوں لکھتے ہیں؟ آپ کو اس سے کیا حاصل ہوتا ہے؟"

اس سوال کا جواب کوئی مادی یا مالی فائدہ نہیں ہے۔ میں اس لیے لکھتا ہوں کیونکہ لکھنا میرے لیے سانس لینے کے مترادف ہے۔ جس دن میں اپنے اندر پکنے والے خیالات، اپنے مشاہدات کی تپش اور معاشرے کے ان تضادات کو لفظوں کی شکل میں باہر نہیں نکالتا، وہ دن مجھ پر ایک نفسیاتی بوجھ بن جاتا ہے۔ میں نے دو ہزار سولہ سے لے کر اب تک جو ہزاروں تحریریں لکھی ہیں، وہ میری کسی مجبوری کا نتیجہ نہیں تھیں، بلکہ وہ میرے اس شعوری ارتقاء کا حصہ تھیں جو مجھے ایک خام قاری سے ایک پختہ لکھاری کے مقام تک لے کر آیا۔ آج اڑتیس سال کی عمر میں، جب میں زندگی کی دھوپ چھاؤں، کامیابیوں اور تلخیوں کا ایک وسیع تجربہ اپنے کاندھوں پر اٹھائے ہوئے ہوں، تو میرا قلم کسی مشین یا الگورتھم کا محتاج نہیں ہے۔ میری تحریریں میرے وجود کا، میری فکری بلوغت کا اور میرے اس عزم کا ثبوت ہیں کہ جب تک اس معاشرے میں منافقت، جھوٹ اور فکری کاہلی زندہ ہے، میرا قلم اسی بے رحمی، اسی تسلسل اور اسی گہرائی کے ساتھ چلتا رہے گا۔

میں ان تمام معترضین، نقادوں اور شکی مزاج افراد کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ میری تحریروں کو اے آئی کے کسی بھی ٹول میں ڈال کر چیک کر لیں، انہیں اس میں سے الفاظ کی ترتیب تو مل جائے گی، لیکن وہ روح، وہ درد اور وہ مخصوص انسانی لب و لہجہ کبھی نہیں ملے گا جو میری مطلب 'بلال شوکت آزاد' کی پہچان ہے۔

یہ تحریر محض ایک دفاع نہیں ہے، بلکہ یہ ان تمام لوگوں کے لیے ایک فکری آئینہ ہے جو انسان کی محنت، اس کے مطالعے اور اس کے شعوری ارتقاء کو محض چند مشینی کوڈز کے ترازو میں تولنے کی احمقانہ کوشش کرتے ہیں۔اسی فکری آئینے کے تناظر میں، میری اس طویل، بے رحم اور تھکا دینے والی وضاحت کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ میں کسی کے سامنے اپنے وجود کا دفاع کر رہا ہوں یا مجھے کسی سے سرٹیفکیٹ درکار ہے، بلکہ اس کا بنیادی محرک یہ اٹل فیصلہ ہے کہ آج کے بعد میں اس نوعیت کے کسی بھی سطحی، تکرار زدہ اور طنزیہ سوال کا دوبارہ کبھی جواب نہیں دوں گا۔ یہ میرا پہلا اور آخری مفصل بیان ہے۔

جن لوگوں کو ہر دوسرے روز مجھ پر یا میرے کام پر انگلیاں اٹھانے اور اشارے کنایوں میں طعنے دینے کا خبط لاحق ہے، انہیں اپنی یادداشت اور اپنے ریسرچ میکانزم (Research Mechanism) کو تھوڑا سا اپ ڈیٹ (Update) کرنے کی ضرورت ہے۔ جو لوگ مجھے اے آئی (AI) کی پیداوار قرار دیتے ہیں، وہ شاید میری بنیادی ٹائم لائن (Timeline) بھی بھول چکے ہیں کہ یہ نام نہاد اے آئی اور اس کے جنریٹو ماڈلز (Generative Models) بمشکل دو یا تین سال قبل اس منظرنامے پر ابھرے ہیں، جبکہ میں دو ہزار آٹھ سے اس ڈیجیٹل کینوس پر ایک مستقل اور نہ رکنے والی مشقت کر رہا ہوں۔ اس دور میں جب چیٹ جی پی ٹی کا کوئی وجود نہیں تھا، میرا انفارمیشن گیدرنگ (Information Gathering) اور ریسرچ کا طریقہ کار کیا تھا؟

میں نے ویکیپیڈیا، گوگل، بنگ سرچ (Bing Search)، لائبریری آف کانگریس اور انسائیکلوپیڈیا آف بریٹنیکا وغیرہ کے آن لائن پورٹلز، اسلام 360، محدث فورم اور دنیا بھر کے بے شمار انٹرنیشنل جرنلز (International Journals) اور میگزینز کی خاک چھانی ہے۔ میں ان پورٹلز سے خام ڈیٹا نکالتا، مختلف آن لائن لائبریریوں میں موجود علماء کے فتاویٰ اور تاریخی حوالوں کا مطالعہ کرتا، اپنی سمجھ اور تنقیدی زاویے (Critical Angle) کے مطابق ان کے نوٹس بناتا، اور پھر انہیں ایک مفصل تحریر کی شکل دیتا تھا۔ سوشل میڈیا، بالخصوص فیس بک پر میرا نام ہی طویل، ضخیم اور مشکل مزاج تحریریں لکھنے کے حوالے سے 'بدنام' رہا ہ

ے۔ (میں چاہوں گا کہ جو میرے بہت پرانے قاری ہیں اور جاننے والے ہیں وہ اس بارے میں ضرور کمنٹ میں اپنی گواہی ریکارڈ کرائیں۔) یہ طوالت اور یہ گہرائی کسی مشین کی دین نہیں، بلکہ یہ اس ریاضت کا نتیجہ ہے جو میں پچھلی ڈیڑھ دہائی سے کر رہا ہوں۔ جو لوگ میرے اس پندرہ سالہ ڈیجیٹل فٹ پرنٹ (Digital Footprint) اور میرے کام کی رفتار سے واقف ہیں، ان کے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں، اور جو مجھے نہیں جانتے یا جان بوجھ کر انجان بنتے ہیں، آج کے بعد میں ان کی فضول قیاس آرائیوں اور ان کے سوالوں کو کسی قسم کی کوئی اہمیت دینے کا روادار نہیں ہوں۔اس تمام تر بحث میں سب سے اہم اور بنیادی بات وہ ہے جسے ہمارے دین، ہماری الہیات اور انسانی دانش نے ایک الہامی اصول (Divine Principle) کے طور پر پیش کیا ہے۔

حکمت اور فکری بلوغت کا تقاضا یہ ہے کہ

"یہ مت دیکھو کہ کون کہہ رہا ہے، بلکہ یہ دیکھو کہ کیا کہا جا رہا ہے۔"

اگر کوئی بات امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے پیمانے پر پوری اتر رہی ہے، اس سے معاشرے کو فکری فائدہ ہو رہا ہے، تو اس کا ماخذ یا اس کا میڈیم (Medium) ڈھونڈنے کے بجائے اس کے اصل پیغام پر غور کرنا چاہیے۔

اس حوالے سے تاریخِ اسلام کا وہ مشہور اور مستند واقعہ ہمارے لیے ایک زبردست سائیکولوجیکل کیس سٹڈی (Psychological Case Study) ہے۔ جب بعض صحابہ کرام (بالخصوص حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مشہور روایت کے مطابق) کو کھجوروں کے باغ اور بیت المال کے پہرے کے لیے مقرر کیا گیا، تو مسلسل کئی راتیں ایک چور وہاں چوری کرنے آیا۔ جب آخری رات وہ چور قابو میں آ گیا اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جانے کا فیصلہ ہوا، تو اس نے اپنی جان چھڑانے کے لیے صحابی کو ایک زبردست تحفہ اور ایک الہامی راز دیا، اور وہ تحفہ 'آیۃ الکرسی' کی فضیلت اور اس کے حفاظتی حصار کا علم تھا۔ جب اگلے دن صحابی نے پورا ماجرا بارگاہِ رسالت میں پیش کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ چور دراصل شیطان تھا، اور آپ نے اس کے پیغام کے حوالے سے فرمایا:

"اس نے تم سے سچ کہا حالانکہ وہ شدید جھوٹا ہے۔"

ذرا اس واقعے کی ڈیپتھ (Depth) اور اس کی منطق پر غور کیجیے!

شیطان نے آیۃ الکرسی خود سے ایجاد نہیں کی تھی، اس نے کوئی نیا کلام نہیں گھڑا تھا، بلکہ اس نے بھی اللہ کے کلام کو ہی دراصل 'کاپی پیسٹ' (Copy Paste) کیا تھا۔

وہ کلام مسلمانوں کے درمیان پہلے سے موجود تھا، مگر انہیں اس مخصوص موقع پر اس کے اس خاص فائدے کا علم نہیں تھا، جو شیطان کے ذریعے ان تک پہنچا۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا تو اپنے اور انسانیت کے سب سے بڑے دشمن سے بھی ایک فلاح کا کام کروا لیا اور وہ ایک الہامی پیغام دے کر چلا گیا۔ آج اگر کسی معترض، طعنے دینے والے یا شکی مزاج انسان کو یہ شدید وہم لاحق ہے کہ میں یا کوئی بھی دوسرا لکھاری جو انہیں اللہ اور اس کے رسول کے نظام کی طرف بلا رہا ہے، ان کے شعور کو بیدار کر رہا ہے، وہ اے آئی جیسے ٹولز کا استعمال کر کے محض کاپی پیسٹ کر رہا ہے، تو میری ان ناقدین سے کھلی گزارش ہے کہ وہ تھوڑی دیر کے لیے ہمیں وہی 'شیطان' سمجھ لیں۔ اگر ہم شیطان بن کر بھی، یا آپ کے طعنوں کے مطابق کاپی پیسٹ کر کے بھی آپ تک قرآن و سنت کی وہ بات، وہ دلیل اور وہ فکری شعور پہنچا رہے ہیں جو شریعت سے متصادم نہیں ہے، تو آپ اس پیغام کو پرکھیں، اس کی سچائی کو تسلیم کریں اور اس پر عمل کر لیں۔

میسنجر (Messenger) کے بجائے میسج (Message) کو دیکھیں۔

لیکن مجھے کامل یقین ہے کہ اگر آج کے دور کا یہ اوسط درجے کا مسلمان، جس سے ہمارا روز واسطہ پڑتا ہے اور جو پیغام کی گہرائی کو سمجھنے کے بجائے ہر وقت کیڑے نکالنے، ٹیکنیکلٹیز (Technicalities) میں الجھنے اور سوالات اٹھانے میں مصروف رہتا ہے، اگر وہ اس دور میں موجود ہوتا، تو وہ یقیناً شیطان کی بتائی ہوئی اس آیۃ الکرسی کی فضیلت پر بھی سوال اٹھا دیتا اور اس پر اعتراضات کے انبار لگا دیتا۔ وہ کہتا کہ چونکہ یہ بات شیطان کے منہ سے نکلی ہے یا اس کا ماخذ مشکوک ہے، اس لیے ہم اسے نہیں مانیں گے، چاہے وہ کتنی ہی خالص اور سچی کیوں نہ ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی نیچر (Human Nature) اور فطرت کبھی نہیں بدلتی۔ جو ذہن شکوک و شبہات کی بیماری (Skepticism) میں مبتلا ہو جائے، جسے حقائق کے بجائے شخصیات پر تنقید کرنے کا چسکا لگ جائے، اسے انبیاء کے براہِ راست معجزات بھی مطمئن نہیں کر سکتے تھے۔ لہٰذا، فطرت کے اس جبر اور انسانی نفسیات کے اس تاریک پہلو پر ہم کسی کو انفرادی طور پر قصور وار نہیں ٹھہرا سکتے، یہ صدیوں پرانی روش ہے جو آج ڈیجیٹل دور میں ایک نئی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔

میرا کام قلم کی اس حرمت کو برقرار رکھنا، حقائق کو ان کے اصل سیاق و سباق میں پیش کرنا اور اپنے شعوری ارتقاء کو الفاظ کا روپ دینا ہے۔ میرا یہ سفر دو ہزار آٹھ سے جاری ہے اور جب تک زندگی کی رمق باقی ہے، یہ اسی تسلسل کے ساتھ چلتا رہے گا۔ جو اس سفر میں میرے ہم خیال ہیں، وہ اس فکری سفر کا حصہ رہیں گے، اور جنہیں میرے علم کے ماخذ، میری ٹائپنگ اسپیڈ (Typing Speed) یا میرے طریقہ کار پر بلاوجہ کے شکوک ہیں، ان کے لیے آج سے میری طرف سے ایک ابدی، مستقل اور حتمی خاموشی ہے۔ میں اپنی توانائی ان لوگوں کو جواب دینے پر مزید ضائع نہیں کروں گا جن کا مقصد حق کی تلاش نہیں، بلکہ محض اپنے اندر کی فرسٹریشن (Frustration) کو طعنوں کی صورت میں باہر نکالنا ہے۔

بات مکمل ہو چکی، اور حجت تمام کر دی گئی ہے۔

مأخَذ

سوشل میڈیا سے انتخاب

کالم نگار : بلال شوکت آزاد
| | |
69