کیا ترکی کا یہ ماڈل پاکستان میں مدرسہ کی تعلیم اور یونیورسٹی کی تعلیم کے درمیان حقیقی پل بن سکتا ہے؟ترکی کے سفر کے دوران ابن خلدون یونیورسٹی کی طرف سے میری رہائش ایک منفرد علمی ادارے میں رکھی گئی جس کا نام "استنبول ریسرچ اینڈ ایجوکیشن فاؤنڈیشن" (ائی ایس اے آر) ہے۔https://www.isar.org.tr/en/education/isarیہ ان کی ویب سائٹ کالنک ہے۔
یہ کوئی سرکاری ادارہ نہیں، نہ ہی روایتی معنی میں مدرسہ ہے، بلکہ ایک ایسا علمی و تربیتی نظام ہے جو یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم نوجوانوں کو دینی، فکری اور تہذیبی بنیادوں پر مضبوط بنانے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔
مجھے اس ادارے کی مینجمنٹ اور پرنسپل کے ساتھ تفصیلی ملاقات کا موقع ملا۔ میں نے ان کے نصاب، بروشرز اور تعلیمی منصوبوں کا جائزہ لیا، تین دن ان کے ساتھ گزارے، طلبہ سے طویل گفتگو کی، ان کے انٹرویوز ریکارڈ کیے اور ان کے تعلیمی ماحول کو قریب سے دیکھا۔
یہاں استنبول کی مختلف یونیورسٹیوں کے بی ایس اور ماسٹر کے طلبہ رہتے ہیں۔ دن کے وقت وہ اپنی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں اور ظہر کے بعد اس ادارے میں آ جاتے ہیں، جہاں ان کے لیے بہترین رہائش، کھانا، لائبریری، مطالعہ گاہیں، تربیتی ماحول اور منظم تعلیمی نظام موجود ہے۔
پانچ سالہ پروگرام کے تحت پہلے دو سال جدید اور کلاسیکی عربی زبان پر بھرپور محنت کروائی جاتی ہے۔ بعد ازاں فقہ حنفی، حدیث، تفسیر، اصولِ فقہ اور دیگر اسلامی علوم کی تدریس ہوتی ہے۔ آخری مرحلے میں انگریزی زبان اور اکیڈمک اسکلز پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ طلبہ کو چند ماہ کے لیے اردن اور دیگر عرب ممالک بھی بھیجا جاتا ہے تاکہ وہ عربی زبان اور عرب معاشروں کا عملی تجربہ حاصل کر سکیں۔
جو چیز مجھے سب سے زیادہ متاثر کر گئی وہ یہ تھی کہ ایک ایسے ملک میں، جہاں عمومی طور پر ترکی زبان کے علاوہ دوسری زبانیں کم بولی جاتی ہیں، وہاں یہ نوجوان نہ صرف عربی بلکہ انگریزی بھی ایسی روانی اور اعتماد کے ساتھ بول رہے تھے کہ انسان حیران رہ جائے۔جب وہ عربی بولتے تو محسوس ہوتا جیسے کسی عرب ملک کے طالب علم سے گفتگو ہو رہی ہو، اور جب انگریزی بولتے تو یوں لگتا جیسے کسی انگریزی بولنے والے ملک کے شہری سے بات ہو رہی ہو۔میں مسلسل یہ سوچتا رہا کہ آخر انہوں نے وہ خلا کیسے پُر کر دیا جو ہمارے ہاں مدرسے اور یونیورسٹی کے درمیان آج بھی موجود ہے؟پاکستان میں ایک طرف مدارس ہیں جو دینی علوم کے مضبوط مراکز ہیں، لیکن اکثر جدید علوم اور عصری تقاضوں سے دور رہ جاتے ہیں۔دوسری طرف یونیورسٹیاں ہیں جو جدید علوم، تحقیق اور پیشہ ورانہ مہارتوں کا مرکز ہیں، لیکن وہاں دینی شعور، فکری تربیت اور اسلامی علمی روایت سے تعلق کمزور ہوتا جا رہا ہے۔دونوں کے درمیان ایک گہرا فاصلہ موجود ہے۔
مدرسے کا طالب علم اپنی دنیا میں مطمئن ہے اور یونیورسٹی کا طالب علم اپنی دنیا میں۔
دونوں ایک دوسرے کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں، جبکہ قوم کو دونوں کی ضرورت ہے۔
ائی ایس اے آر جیسے اداروں نے اسی فاصلے کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔
انہوں نے یونیورسٹی کے طالب علم کو دین، عربی زبان، اسلامی علوم، اخلاقی تربیت اور فکری گہرائی سے جوڑ دیا، بغیر اس کے کہ وہ اپنی یونیورسٹی کی تعلیم چھوڑے۔میں نے محسوس کیا کہ اگر پاکستان میں بھی یونیورسٹیوں کے قریب ایسے علمی ہاسٹل اور تربیتی مراکز قائم کیے جائیں، جہاں نوجوان اپنی ڈگری کے ساتھ ساتھ عربی، اسلامی علوم، فکری تربیت، تحقیق اور زبانوں کی مہارت حاصل کریں، تو ایک نئی علمی نسل تیار ہو سکتی ہے۔
اسی طرح مدارس کے طلبہ کے لیے بھی ایسے راستے پیدا کیے جائیں کہ وہ جدید علوم، یونیورسٹی تعلیم، تحقیق، ٹیکنالوجی اور عصری مہارتوں سے جڑ سکیں۔شاید یہی وہ "برج" ہے جس کی ہمیں دہائیوں سے تلاش ہے۔
میرا یقین مزید مضبوط ہوا ہے کہ مسئلہ مدرسے یا یونیورسٹی کا نہیں، مسئلہ ان دونوں کے درمیان رابطے، اعتماد اور مشترکہ پلیٹ فارم کی کمی کا ہے۔
ترکی نے ایک ماڈل پیش کیا ہے۔
سوال یہ ہے:
کیا پاکستان میں بھی ایسے ادارے قائم کیے جا سکتے ہیں جو مدرسے اور یونیورسٹی کے درمیان حقیقی پل بن جائیں؟کیا ہماری تاجر برادری، مخیر حضرات، جامعات اور دینی قیادت مل کر اس خواب کو حقیقت میں بدل سکتے ہیں؟