(+92) 319 4080233
کالم نگار

محمد عرفان اللہ اختر

محمد عرفان اللہ اختر

پروفائل | تمام کالمز
2026/06/07
موضوعات
حضرت مولانا پروفیسر محمد محسن رحمانی رحمۃ اللہ علیہ
حضرت مولانا پروفیسر محمد محسن رحمانی رحمۃ اللہ علیہ کا وصال آج سے سات سال قبل 31 مئی 2019ء میں ماہِ رمضان المبارک کے بابرکت لمحات میں، جمعۃ الوداع کے مقدس دن حرکتِ قلب بند ہو جانے کے باعث ہوا۔ آپ کی رحلت کی خبر نے پورے شہر کو سوگوار کر دیا اور علمی، دینی اور سماجی حلقوں میں ایسا خلا پیدا کر دیا جس کی کسک آج بھی محسوس کی جاتی ہے۔

مولانا محمد محسن رحمانی رحمۃ اللہ علیہ ایک جید عالمِ دین، عظیم پروفیسر، کامیاب لیکچرار، باوقار خطیب، خوش اخلاق، خوش مزاج اور نہایت ملنسار شخصیت کے مالک تھے۔ آپ نے اپنی پوری زندگی علمِ دین کی اشاعت، اصلاحِ معاشرہ، تعلیم و تربیتِ نسلِ نو اور خدمتِ خلق کے لیے وقف کیے رکھی۔ دینی، تعلیمی اور سماجی میدانوں میں آپ ہمیشہ صفِ اوّل میں نظر آتے اور دوسروں کو بھی نیکی، خیر خواہی اور رفاہِ عامہ کے کاموں میں شریک ہونے کی ترغیب دیتے تھے۔

آپ کا حلقۂ احباب نہایت وسیع تھا۔ عالم و عامی، بزرگ و نوجوان، اساتذہ و طلبہ، سبھی آپ کی محبت، شفقت اور خلوص کے معترف تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ محض ایک فرد نہیں بلکہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ آپ کی علمی خدمات، اخلاقِ حسنہ اور عوامی مقبولیت ایسی تھی کہ آپ کسی تعارف کے محتاج نہ تھے۔

آپ کی غیر معمولی مقبولیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب آپ کی وفات کی خبر نشر ہوئی تو صرف اتنا کہنا کافی تھا کہ ’’مولانا پروفیسر محمد محسن رحمانی صاحب وفات پا گئے ہیں۔‘‘ نہ والد کے نام کی ضرورت محسوس ہوئی اور نہ خاندان کے تعارف کی، کیونکہ آپ خود اپنی شناخت اور اپنے نام کا مکمل تعارف تھے۔

استادِ محترم حضرت اقدس مولانا مفتی حبیب الرحمن درخواستی صاحب دامت برکاتہم نے نمازِ جنازہ کے موقع پر نہایت بصیرت افروز بات ارشاد فرمائی کہ:

"بعض اوقات انسان کی زندگی میں موجود بشری کمزوریوں کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم اور حسنِ خاتمہ کی برکت سے اس طرح ڈھانپ لیتا ہے کہ لوگوں کے دلوں میں اس کی محبت اور قبولیت راسخ فرما دیتا ہے۔"

مولانا رحمۃ اللہ علیہ کی وفات بھی رمضان المبارک اور جمعۃ الوداع جیسے مبارک دن میں ہوئی، اور ان کے جنازے کا منظر اس ارشاد کی عملی تفسیر بن گیا۔ شہر اور گرد و نواح سے لوگوں کا سمندر جنازے میں امڈ آیا۔ ہر آنکھ اشک بار تھی، ہر دل غم سے بوجھل تھا اور ہر زبان ان کی مغفرت و بلندیِ درجات کے لیے دعاگو تھی۔ یہ غیر معمولی اجتماع اس حقیقت کا روشن گواہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے بندوں کے دلوں میں بے پناہ محبت، عزت اور قبولیت عطا فرمائی تھی۔ مولانا کی تدفین دین پور شریف کے عظیم قبرستان میں سیکڑوں علماء ومشائخ کے پہلو میں ہوئی ۔

مولانا محمد محسن رحمانی رحمۃ اللہ علیہ کی علمی خدمات، دینی کاوشیں، شاگردوں کی ایک بڑی جماعت، ان کا حسنِ اخلاق اور خدمتِ خلق کا روشن باب ہمیشہ ان کی یاد کو زندہ رکھے گا۔ ایسے لوگ بظاہر دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، مگر اپنے کردار، اخلاص اور نیک اعمال کے ذریعے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ حضرت مولانا پروفیسر محمد محسن رحمانی رحمۃ اللہ علیہ کی قبرِ کو نور سے بھر دے، ان کی دینی، علمی اور سماجی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کے درجات بلند سے بلند تر فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی معیت نصیب فرمائے۔آمین یا رب العالمین!

مأخَذ

سوشل میڈیا سے انتخاب

کالم نگار : محمد عرفان اللہ اختر
| | |
52