(+92) 319 4080233
کالم نگار

محمد معین یوسف

محمد معین یوسف

پروفائل | تمام کالمز
2026/06/07
موضوعات
نوجوان علمااورکاروبار
نوجوان علماء اور کاروبار کے عنوان سے لکھی جانے والی میری تحریر پر علماء اور مذہبی لوگوں کی اکثریت نے اتفاق کیا ہے ۔ میں کراچی میں رہتا ہوں تو دارالعلوم کراچی ، بیت السلام اور جامعۃ الرشید کے نظام سے کافی حد تک واقف ہوں۔ ان اداروں میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم بھی دی جا رہی ہے ۔

دین کے تین بڑے شعبہ جات تبلیغ ، تصوف اور تدریس میں عوام، خواص اور اخص الخواص شامل ہیں۔ ہمارا موضوع مدارس کے اساتذہ یا مدارس میں درس نظامی پڑھنے والے نوجوانوں کی عملی زندگی اور معاشی سرگرمیاں ہیں۔

میری گفتگو کا موضوع مدارس میں عصری تعلیم نہیں ہے۔ میں اس بات کی نشاندہی کررہا ہوں کہ درس نظامی پڑھا ہوا ایک نوجوان یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس کی قابلیت اور استعداد کسی بھی ماسٹرز یا ایم فل کی ڈگری یافتہ لوگوں کے برابر یا اس سے بھی زیادہ ہے۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس قدر استعداد اور قابلیت رکھنے والے نوجوان کو صرف مدرسہ میں پڑھانے کے لئے تیار کیا جاتا ہے۔ شروع سے اس کے ذہن میں یہ بات بٹھا دی جاتی ہے کہ رزق کا وعدہ اللہ تعالیٰ کا ہے اور اگر آپ نے درس نظامی کا علم حاصل کرنے کے بعد تدریس نہیں کی تو آپ کا علم ضائع ہو جائے گا ۔

درس نظامی مکمل کرنے کے بعد جب نوجوان فارغ ہوتے ہیں تو ان کے ذہن میں مدرسہ کا استاد بننے کی ایک معصوم خواہش کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ زمانہ طالب علمی میں ان کے دماغ میں یہ بات راسخ ہو چکی ہوتی ہے کہ دنیا سے بے رغبتی ایک بڑی فضیلت ہے ، جبکہ دنیا کمانے کی کوشش کو کم تر سمجھا جاتا ہے۔

ایک مخصوص اور محدود حلقہ میں رہنے والے لوگ جب زندگی کے ہر ہر پہلو پر رہنمائی کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں تو پھر ان کے ادارے سے نکلنے والے طلباء بھی سوچ کے محدود اور عمل سے دور ہو جاتے ہیں۔ ہر سال بڑی تعداد میں نوجوان درس نظامی پڑھ کر فارغ ہو رہے ہیں۔

زمانہ طالب علمی میں انہیں اکابرین اور اخص الخواص کے حالات سنا سنا کر قلیل تنخواہوں پر تدریس کے لئے آمادہ کر دیا جاتا ہے ۔دوسری طرف جائزہ لیا جائے تو اس نظام کو کنٹرول کرنے والے مذہبی اشرافیہ کی زندگی، مدرسین سے بالکل الگ اور اسائیشات سے بھری ہوتی ہے۔ بہت سے مدرسین ترس ترس اور گھٹ گھٹ کر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ بعض مہتمم حضرات اپنے اہل و عیال کے ساتھ آسودہ زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ لیکن آپ کے لئے ان کی ہدایات اور رہنمائی دین کے نام پر قربانی دینے اور قلیل تنخواہ میں پڑھانے کے لئے ہے۔

میری ایک بات اپنے دماغ میں ٹھوک کر بٹھا لیں، اپنے کتنے ہی قابل کیوں نہ ہو جائیں، مہتمم صاحب کا بیٹا ہی آپ کے بعد مدرسہ کی اونچی مسند پر بیٹھے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر مہتمم صاحب کا بیٹا اہل اور قابل ہو تو؟ تو میرے پیارے مدرسین صاحبان ، اس بات پر بھی ذرا غور فرمالیں کہ ہمیشہ مہتمم صاحب کا بیٹا ہی کیوں قابل ہوتا ہے؟ جواب یہ ہے کہ اس کو بچپن سے ہی مہتمم بننے کی ٹریننگ دی جاتی ہے اور آپ کو قلیل تنخواہ میں تدریس کرنے کے فضائل سنائے جاتے ہیں یا اکابرین کے بعض مشہور قصے سنائے جاتے ہیں۔

ایک مشہور مولانا صاحب کی بات یاد آگئی، ہنستے ہوئے فرمایا کرتے تھے کہ اگر میرے ابا حضور کسی مدرسہ کے مہتمم ہوتے تو میں آج شیخ الحدیث ہوتا۔تو نئے نئے مولانا بننے والے میرے نوجوان بچونگڑو۔۔۔ درس نظامی کے ساتھ ساتھ کسی کام کو سیکھیں، یا تعلیم سے فارغ ہو کر کسی کمپنی میں ملازمت یا کوئی چھوٹا سا کاروبار کرنے کی کوشش کریں۔ بیروزگاری اور مہنگائی کے دور میں، آپ کے اساتذہ کی طرف سے آپ کو مدرسہ میں تدریس کرنے کا مشورہ، ان کی محدود فکر اور عملی زندگی کے چیلنجز کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے۔اور ہاں، واللہ، باللہ، ثم تالله۔۔۔ میں اس بات پر کامل یقین رکھتا ہوں کہ آج کے دور میں قلیل ترین تنخواہ پر مدرسہ میں تدریس کرنا ہمیشہ دین کے نام پر قربانی نہیں ہوتا ہے ، بلکہ بعض اوقات یہ ایک ایسے نظام کو سہارا دینا بھی بن جاتا ہے جس میں محنت کرنے والوں اور فیصلے کرنے والوں کے معیارِ زندگی میں بہت فرق ہوتا ہے ، جس کا جواب آپ کو قیامت کے دن دینا پڑے گا جب آپ کے گھر والے اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہو کر آپ کا گریبان پکڑیں گے کہ میرے باپ، بھائی، شوہر یا بیٹے نے قلیل ترین تنخواہ پر تدریس کرکے ، مذہبی اشرافیہ کے لئے ہمارے مالی حقوق کی پامالی کی ہے۔

نوٹ ۔ میرے دوست مولانا شعیب حسین صاحب ملتان سے تعلق رکھتے ہیں ۔ انھوں نے میری تحریر نوجوان علماء اور کاروبار پر اپنا تبصرہ فرمایا ہے ۔ اپ بھی پڑھ لیں۔
معین بھائی آپ نے ایک بار پھر حساس موضوع کو چھیڑا ہے ۔پہلےبھی آپنے لکھا تھا مگر میں اس پر تبصرہ نہ کر سکا کہ یہ موضوع دل کو دکھا دیتا ہے ، بہت ہی حساس موضوع ہے یہ ۔یہ اس زمانہ میں بہت ہی زیادہ در پیش آنے والا مسئلہ ہے کہ فارغ التحصیل ہونے والے علماء کرام اور ڈگری ہولڈر نوجوان کیا کر سکتے ہیں ؟

ہمارے بڑے حضرات اللہ ان کو جزائے خیر عطا فرمائے کہ وہ اس طرف توجہ نہیں کر رہے یا محض توکل کا ہی درس دینا چاہتے ہیں ،کچھ سمجھ نہیں آ رہا ۔آج کا مسئلہ بےروزگاری کا ہے ، ہرسال ہزاروں علماء مدرسوں سے فارغ ہوتے ہیں مگر ان تمام کے سامنے کوئی لائحہ عمل نہیں ہوتا کہ انہوں نے کرنا کیا ہے۔؟؟؟ کوئ ہنر ان کے پاس ہوتا نہیں ہے اور مدرسوں میں اتنی گنجائش نہیں ہوتی کہ سب کھپ سکیں اور پھر تنخواہیں انکی کم کہ ہر وقت بندہ پریشان رہتا ہے۔

ہمارے بعض اساتذہ آج بھی وہی پچاس اور سو سال پرانی باتیں کرتے ہیں اور ان اکابرین کے تقویٰ اور للہیت کو بیان کرتے ہیں جب کہ اُسوقت کی آمدنی علماء کی زیادہ ہوتی تھی اور پیسے کی دوڑ نہیں تھی ،دنیا کی چکا چوند نہیں تھی اور پھر سب سے بڑی بات اللہ معاف فرمائے آج ہمارے بڑے حضرات کا رہن سہن خود سادہ نہیں رہا خود توکل والا نہیں رہا اپنی اولاد کے لیے ان کا طرز عمل اور ہےاور شاگردوں کے لیے طرز زندگی اور اس لیے آپ اگر دیکھیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ اب مدارس دینیہ میں پڑھنے والوں کی تعداد بہت کم ہو گئی ہے جو درس نظامی کریں ۔ بچے حفظ کرتے ہیں اور کام کاج میں لگ جاتے ہیں کیونکہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ مولوی کا کوئی مستقبل نہیں ہے ،مولوی سارا مہینہ کھپ کھپا کر بھی اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ نہیں پال سکتا انکو ایک اچھی زندگی نہیں دے سکتا ، ہروقت اسکی نظر دوسروں کیطرف ہوتی ہے ،ہر پریشانی میں وہ قرض اٹھا رہا ہوتا ہے ،اس لیے اب ضرورت ہے علماء بھی کچھ کریں اور ہمارے بڑے احباب بھی کچھ انکی فکر کریں ورنہ آئندہ پچاس سالوں میں مدراس کی بلڈنگیں تو شاید ہوں مگر ان میں پڑھنے والے بچے نہ ہو ۔

(مولانا شعیب حسین)
مأخَذ

سوشل میڈیا سے انتخاب

کالم نگار : محمد معین یوسف
| | |
23