(+92) 321 2533925
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/01/27
موضوعات
رمضان المبارک
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ رمضان المبارک سوال: اسلام اور مسلمانوں مںِ رمضان المبارک کی کا اہمتا ہے؟ جواب: ہجری سال کے بارہ(12) مہنویں مںر ترتب کے اعتبار سے رمضان المبارک کا مہنہا نواں مہنہ ہے، اس مبارک مہنےا مںم اﷲتعالیٰ نے مسلمانوں پر روحانی اعتبار سے بے پناہ اور بے شمار رحمتوں کا نزول فرمایا ہے، جس کی تفصلل مندرجہ ذیل ہے: (1) یہ وہ مبارک مہنہر ہے جس مںے اﷲتعالیٰ نے اپنا کلام مقدس اپنے بندوں پر رحم فرماتے ہوئے ان کی ہدایت کی غرض سے دنار مںا جبرائلا امنن کے ذریعے سے نبیﷺ کے قلب اطہر پر نازل فرمانے کی ابتدا فرمائی۔ (2) اس مہنےو کو تنح عشروں مںع تقسمی فرماتے ہوئے یہ خوشخبری عنایت فرمائی گئی کہ اس کا پہلا عشرہ رحمت کا ہوتا ہے، دوسرا عشرہ مغفرت کا ہوتا ہے اور تسریا عشرہ جہنم سے آزادی عطا فرمانے کا ہوتا ہے۔(مشکوٰۃ المصابحک صفحہ 174) (3) روایات کے مطابق اس مبارک مہنےر مں روزانہ افطار کے وقت ایسے دس لاکھ آدمو ں کو جہنم سے آزادی عطا فرما دی جاتی ہے جو اعمالِ بد کے حوالے سے جہنم کے مستحق ہوچکے ہوتے ہںر، نزم جب رمضان کا آخری دن ہوتا ہے تو یکم رمضان سے اس آخری دن جتنی تعداد جہنم سے آزاد کردی گئی ہوتی ہے اس تعداد کے برابر اس ایک دن مں ایمان والوں کو جہنم سے آزادی کے پروانے عطا کردیے جاتے ہںس۔(کنزالعمال جلد 8 صفحہ 268) (4) اس مبارک مہنےہ مںت دیگر مہنو2ں کے مقابلے مںک اعمال کی قمتا مںہ اضافہ کردیا جاتا ہے، اس مبارک مہنےں مںل ادا کا جانے والا ایک نفلی عمل اجر کے اعتبار سے ایک فرض کے اجر کے برابر قرار دیا جاتا ہے اور ایک فرض کے اجر کے عمل کو ستّر(70) فرائض کے اجور تک بڑھا دیا جاتا ہے۔(شعب الایمان جلد 3 صفحہ 305) (5) اس مبارک مہنےہ مںے امت مسلمہ کو نماز جسےے محبوب عمل مںا روزانہ کی بنا د پر باجماعت قرآن پڑھنے اور سُننے کی ترغب دی گئی ہے جسے نماز تراویح کا نام دیا گاس ہے اور اس عمل کو نبی اکرمﷺ نے اپنی طرف منسوب فرمایا ہے۔ (6) اس مبارک مہنےہ مںے اﷲتعالیٰ نے اپنے بندوں کو باعتبار حکم کے ایک عمل روزانہ کی بناود پر پورے مہنےن کے لےب ایسا عطا فرمایا ہے جس کے متعلق نبی اکرمﷺ کے ذریعے سے ایک روایت کے مطابق یوں کہا گاف ہے کہ یہ عمل مر ے لےے ہے اور اس کا بدلہ مں خود دیتا ہوں۔ ایک اور روایت کے مطابق یہ عمل مر ے لےا ہے اور اس کے بدلے مںو، مںل خود اپنے آپ کو دیتا ہوں۔ اصطلاح مںج اس عمل کو روزہ کہتے ہں ۔(مسلم شریف جلد 1 صفحہ 363) (7) اس مبارک مہنےا مںے اﷲتعالیٰ نے ایک رات اییم بھی رکھی ہے جو عموماً اس کے آخری عشرے کی کسی طاق رات مںا پائی جاتی ہے اور اس ایک رات مںل عبادت کا ثواب ہزار مہنواں سے زیادہ وقت عبادت مںس گزار کر ثواب حاصل کےی جانے سے بڑھ کر ہوتا ہے، اصطلاح مںق اس رات کو شب قدر کہتے ہںز۔(مسند احمد جلد 2 صفحہ 425) (8) اس مہنےک کے آخری عشرے مںم ایک اور مخصوص عمل امت مسلمہ کو عطا فرمایا گاا ہے جو سنّت مؤکدہ علی الکفایہ کے درجے مں ہے۔ اصطلاح مںق اسے اعتکاف کہتے ہںر۔ (9) یی وہ مبارک مہنہں ہے جس کے متعلق یہ بات کہلوائی گئی ہے کہ اس کے آغاز سے ہی جنت کے تمام دروازے مستقل طور پر پورے ایک مہنے کے لےہ کھول دیے جاتے ہں ۔(بخاری شریف جلد 1 صفحہ 255) (10) ییے وہ مبارک مہنہے ہے جس کی ابتدا ہوتے ہی جہنم کے تمام دروازوں کو پورے ایک مہنے1 کے لےت مستقل اور مکمل طور پر بند کردیا جاتا ہے۔(بخاری شریف جلد 1 صفحہ 255) (11) ییے وہ مقدس اور عظمل مہنہ ہے جس مں2 سرکش شامطن کو (پورے ایک مہنےی کے لےل) اس طرح قدے کردیا جاتا ہے کہ وہ امت مسلمہ کے روزے داروں کو ورغلانے، پھسلانے اور نافرمانی پر اکسانے کی غرض سے ان کے قریب تک نہںن جاپاتے۔(ترمذی شریف جلد 1 صفحہ 331) (12) یید وہ مبارک مہنہا ہے جس مںک سال کے گاےرہ(11) مہنوںں کے مقابلے مںی ایمان والے کے رزق کو بڑھا دیا جاتا ہے جسے علمائے کرام برکت سے تعبری فرماتے ہںن۔(شعب الایمان جلد 3 صفحہ 305) (13) اسی ماہ مبارک مںت نبیﷺ نے قاامت تک کے اپنے زمانوں مں) پائے جانے والے اپنے عاشقین کو یہ خوشخبری بھی عطا فرمائی ہے کہ جس شخص نے بھی رمضان کے مہنےش مںک عمرہ کا گویا اس نے مر ے ساتھ حج کام۔(بخاری شریف جلد 2 صفحہ251) سوال: کا شریعت کی طرف سے رمضان المبارک مںد کسی خاص عمل کی طرف بھی ترغبس دلائی گئی ہے؟ جواب: جی ہاں! نبیﷺ نے ہر اس شخص کو جس کے ماتحت نوکر، خادم یا غلام وغرعہ ہوں اس کے کاموں مںغ اس کے بوجھ کو ہلکا کردینے کی ترغبی دلاتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ جو لوگ اس مہنےی مں اپنے ماتحت کی ذمہ داریوں مں کچھ کمی کردیں اﷲتعالیٰ ان کی مغفرت فرماتے ہوئے ان کو آگ (جہنم) سے آزادی عطا فرما دیتے ہںو۔(شعب الایمان جلد 5 صفحہ 223) نز نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس مبارک مہنےف مں چار(4) چزاوں کی خوب کثرت کرو: (۱) کلمۂ طبہا (۲)استغفار (۳)جنت کی طلب (۴) جہنم سے پناہ لہٰذا رمضان المبارک مںی خصوصاً اس کا اہتمام کرتے ہوئے کثرت سے پڑھتے رہنا چاہےل’’لَااِلٰہَ اِلَّااﷲُ، اَسْتَغْفِرُاﷲ، اَسْئَلُکَ الْجَنَّۃَ،وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ النَّارِ‘‘(کنزالعمال جلد 8 صفحہ 222) سوال: کاا شریعت کی طرف سے ایسے لوگوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جن کی اس مبارک مہنےَ مںب بھی مغفرت نہںع کی جاتی؟ جواب: ایک طویل حدیث مں ان شخصتولں کے متعلق نشاندہی کی گئی ہے جن کی مغفرت کا سامان نہںہ ہوتا: (۱)شراب کا عادی (۲)والدین کا نافرمان (۳)قطع رحمی کرتے ہوئے رشتے کو توڑنے والا (۴)وہ شخص جو دل مںج کنہر رکھتا ہو اور آپس کے تعلقات کو توڑنے والا ہوں۔(کنزالعمال جلد 2 صفحہ 268) سوال: کاو نبیﷺ نے کسی حدیث مبارکہ مںط کچھ لوگوں کے لےش حضرت جبرئلا امنل کی بددعا پر آمنر کہتے ہوئے ان کی محرومی پر مہر لگائی ہے؟ جواب: جی ہاں! ایک موقع پر نبی اکرمﷺ سے منبر پر جاتے ہوئے تنے مرتبہ بلند آواز سے آمن کہنا ثابت ہے، جس کے متعلق صحابہ کرام نے خطبے کے بعد استفسار کاز تو جواب مںر نبیﷺ نے فرمایا کہ جب مںن نے منبر کے پہلے درجے پر قدم رکھا تو جبرئل علہے السلام نے کہا ہلاک ہوجائے وہ شخص جس نے رمضان کا مبارک مہنہپ پایا پھر بھی اس کی مغفرت نہ ہوئی مںا نے کہا آمنئ۔ جب دوسرے درجے پر قدم رکھا تو جبرئلا علہہ السلام نے کہا ہلاک ہوجائے وہ شخص جس کے سامنے آپ کا ذکر ہو اور وہ درود نہ بھجےن مں نے کہا آمن ۔ جب مںم نے تسر ے درجے پر قدم رکھا تو جبرئل علہا السلام نے کہا ہلاک ہوجائے وہ شخص جس کے سامنے اس کے والدیاوس ان مںو سے کوئی ایک اپنے بڑھاپے کی عمر مںر موجود ہوں اور وہ اس کو جنت مںس داخل نہ کرائںل(یینہ اس کی مستقل نافرمانا ں اور والدین کی خدمت نہ کرنا جنت مںے جانے کے لےر رکاوٹ بن جائے) مں نے کہا آمنہ۔(المستدرک للحاکم جلد 4صفحہ 170) ’’نماز تراویح‘‘ سوال: نماز تراویح کسے کہتے ہیںیہ کب، کسےت اور کتنی پڑھی جاتی ہںو؟ جواب:ہر عاقل، بالغ، مقمے مرد و عورت پر رمضان المبارک کے پورے مہنےی کی ہر رات مںے عشاء کے فرض پڑھ لنے کے بعد دو دو کرکے بسس(20) رکعات کا باجماعت یا اکلےو اکلے پڑھنا سنت مؤکدہ ہے (باجماعت پڑھنا سنت مؤکدہ کفایہ ہے یینن جماعت سے پڑھنا بالکل چھوڑ دیا جائے تو تمام لوگ گنہگار ہوں گے نزی صبح صادق تک اکلے اکلےہ پڑھ لنان ہر شخص پر لازم ہے۔) اس وقت پڑھی جانے والی اس نماز کو نماز تراویح کہتے ہںہ۔ نماز تراویح صرف رمضان المبارک ہی مںے پڑھے جانے کی تعلمر شریعت سے ثابت ہے اور اسے علمائے کرام نے نبیﷺ کی سنت بتلایا ہے۔ بسن(20) رکعات بھی نبیﷺ نے ہی بتلائی ہںل جنہںش باجماعت پڑھنا یین جماعت سے پڑھنے کا اہتمام حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کے دورِخلافت مں لازم کال گاا اس وقت سے لے کر آج تک مسلمانانِ عالم بلاانکار ہر زمانے مںج اس پر عمل کرتے چلے آئے ہںو اور ان شاء اﷲقاںمت تک یہ عمل جاری رہے گا (مسلمانوں کے ایک طبقے نے نبیﷺ کے سال بھر کے روزانہ ہر رات مں آٹھ نوافل پڑھنے کے معمول کو رمضان المبارک مںت بھی تراویح کے نام سے جاری رکھا ہواہے)۔ نماز تراویح کا وقت عشاء کے فرض پڑھ لنےھ کے بعد شروع ہوتا ہے اور سحری کا وقت ختم ہونے تک جاری رہتا ہے لہٰذا اگرکسی رات مںو کسی وجہ سے اول وقت مںو نماز تراویح ہی نہ پڑھی جاسکی ہو یا اس کی کچھ رکعتںن رہ گئی ہوں تو انہں سحری کا وقت ختم ہونے سے پہلے پہلے تک پڑھ لناں چاہےو اس کے بعد قضا نہںم ہے۔ اس نماز کے حسن (خوبصورتی) مںے دو چزنیں شامل ہںت: (۱) رمضان المبارک کی تمام راتوں میںعشاء کے فرضوں اور وِتروں کے درماپن باجماعت پڑھنے کا اہتمام رکھا جائے (اکلے پڑھی جاسکتی ہے، فرضوں سے پہلے نہںت پڑھی جاسکتی، وتروں کے بعد وقت باقی ہونے کی صورت مںن پڑھی جاسکتی ہے)۔ (۲) نماز تراویح مںہ ایک خاص مقدار مں روزانہ پورا قرآن مجد اس ترتبد کے ساتھ پڑھا جائے کہ پورے مہنےم مںا از اوّل تا آخر کم از کم ایک مرتبہ مکمل پڑھ اور سُن لا جائے۔ سوال: کا کسی شخص کے عشاء کے فرض جماعت کے ساتھ نہ پڑھے جاسکے ہوں تو وہ تراویح کی جماعت مںک شامل ہوسکتا ہے؟ جواب:جی ہاں! ایسا شخص پہلے عشاء کے فرض علحدڑہ اکلےو پڑھ لے پھر تراویح کی جماعت مں شامل ہوجائے۔ اور تراویح کی رہ جانے والی رکعتںن وتروں کی جماعت کے ساتھ پڑھ لنےف کے بعد ادا کرے۔ سوال: کاع وِتر بھی باجماعت پڑھے جاتے ہںھ؟ جواب:جی ہاں! صرف رمضان المبارک مںپ ہی وِتر جماعت کے ساتھ پڑھے جانے کی اجازت شریعت نے دی ہے۔ سوال: اگر کسی کے عشاء کے فرض جماعت کے ساتھ نہ پڑھے جاسکے ہوں تو وہ وِتر باجماعت پڑھ سکتا ہے؟ جواب:جی ہاں! پڑھ سکتا ہے بلکہ پڑھ لیھ چاہے ۔ سوال: اگر کسی کا معمول تہجد کے بعد وِتر پڑھنے کا ہو تو وہ وِتر کی جماعت چھوڑ سکتا ہے؟ جواب:جی ہاں! اسے اپنا ہمشہب کا معمول برقرار رکھنے کا اختا ر حاصل ہے لہٰذا وہ وِتر کی جماعت چھوڑ سکتا ہے البتہ اگرجماعت کے ساتھ پڑھ لتاج ہے تو بھی کوئی حرج نہںم لکنن اس صورت مں اس روز تہجد کے بعد نہ پڑھے اس لےو کہ ایک رات مںو ایک مرتبہ ہی وِتر کی نماز واجب ہے۔ سوال: رمضان المبارک مںن اگر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کا سفر ہو تو کاڑ تراویح کے بعد وہاں کے اماموں کے پچھےت وِتر باجماعت پڑھ سکتے ہںھ؟ جواب:علمائے کرام اس مسئلے کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہںن کہ امام ابوحنفہؒ کے مسلک مں وِتر کی نماز واجب ہے دوسرے امام وتر کی نماز کو سنت کہتے ہںز اور فقہی اصول یہ ہے کہ واجب پڑھنے والے کی نماز سنت پڑھنے والے امام کے پچھے درست (صحح ) نہں ، لہٰذا ایسے امام کے پچھے واجب پڑھنے کی نتت کرنے والا اپنی واجب نماز نہ پڑھے علحدھہ پڑھے البتہ نفل کی نت سے شریک ہوسکتا ہے جہاں تک وتر کی نماز پڑھنے کے طریقے کا تعلق ہے احناف کے نزدیک ایک سلام کے ساتھ تنے رکعتںا ہںع اور دوسروں کے نزدیک دو سلام کے ساتھ ہں ۔ احناف کے نزدیکتیسری رکعت مںے رکوع سے پہلے دعائے قنوت کا پڑھنا ہے اور دوسروں کے نزدیک رکوع کے بعد قنوت نازلہ کا پڑھنا ہے۔ دونوں طریقے صحح ہںں فرق صرف افضلتہ کا ہی ہے۔ سوال: اگر تراویح کی کوئی دو رکعتںح فاسد ہوجائںت (فقہی اصولوں کے مطابق درست اور قابل قبول نہ ہوں) تو کاک کا جائے؟ جواب:نہ صرف ان دو رکعتوں کو دوبارہ پڑھا جائے بلکہ ان مںط پڑھے ہوئے قرآن کے حصے کو بھی دوبارہ پڑھا جائے۔ سوال: کا تراویح مںک قرآن سنانے والا سنانے کی اجرت یا اپنے وقت کا معاوضہ لے سکتا ہے؟ جواب:نہںص! تراویح مںن قرآن سنانے والا نہ خود کوئی اجرت، نہ سنانے کا کوئی معاوضہ اپنے وقت کا لے سکتا ہے، نہ انتظامہ کوئی اجرت طے کرسکتی ہے۔ نہ کوئی امد دلاسکتی ہے اگر رضائے الہٰی کے لےس سنانے والا نہ ملے تو تراویح چھوٹی چھوٹی سورتںا پڑھ کر ادا کرلی جائں ۔ جہاں تک پنج وقتہ نمازوں کے امام کی تنخواہ کے جواز کا تعلق ہے وہ وقت کا معاوضہ ہے وہ بھی فرض نمازوں کی امامت مںل خرچ ہونے والے وقت کا ہے او ریہ روزانہ کا مستقل عمل ہے جس کا اہتمام کرانے والا اپنی معاشی ضرورتوں کے لےت کوئی اور کام نہںی کرسکتا تراویح میںیہباتں نہںا پائی جاتں ۔ البتہ بغرر طے کےم اور بغر امدا رکھے ہوئے کوئی اعانت کردے تو اُس کا لناا اور دینا جائز ہے۔ سوال: کاچ تزک رفتاری کے ساتھ تراویح مںم قرآن پڑھا جاسکتا ہے؟ جواب:اتنی تزو رفتاری جائز ہے جس سے تلاوت کے لےہ بتلائے ہوئے آداب و قواعد متاثر نہ ہورہے ہوں اییں برق رفتاری جو ان آداب و قواعد کو پامال کررہی ہو ناجائز ہے۔ اس سے کہںز بہتر آداب و قواعد کی رعایت کے ساتھ چھوٹی چھوٹی سورتوں کی تلاوت کے ذریعے تراویح پڑھ لی جایا کرے۔ اس حوالے سے حافظ صاحب، انتظامہب اور نمازیوں کو درج ذیل حقائق کو مدنظر رکھنا چاہےع: ۱ تراویح ایک عبادت ہے بوجھ نہںا۔ اسے ادا کرنا ہے، سر یا کندھوں سے اُتار کر پھنکنا نہںل ہے۔ ۲ قرآن اﷲتعالیٰ کا مقدس کلام ہے جہاں بھی پڑھا جاتا ہے اﷲتعالیٰ خود بھی سنتے ہں ۔ اﷲتعالیٰ کی موجودگی مں انہںل سناتے ہوئے ان کے کلام کے تلاوتی تقدس کا کسام خاال رکھنا چاہےص؟ اگر کوئی ہماری تحریر کو ہمارے سامنے پڑھتے ہوئے ضائع کررہا ہو تو ہم اس کے ساتھ کاک، کتنا اور کساک سلوک کریں گے؟ سوال: تراویح کی نماز مںم کسی آیت کی تلاوت ہی رہ جائے یا غلط پڑھ لی گئی ہو تو اس کی تلافی (نقصان دور کرنے) کا طریقہ کا ہے؟ جواب:اگر اُسی روز نماز تراویح کی تکمل سے پہلے علم مںا آجائے تو اگلی رکعت مں اس کی صححم تلاوت کی جاسکتی ہے۔ اگر نماز تراویح کی تکملا کے بعد معلوم ہو تو اگلے دن کی نماز تراویح کی کسی بھی رکعت مںت اس کی تلاوت کی جائے گی اگر ایسا نہ کام گاا تو پورے قرآن کے پڑھنےیا سننے مںب اس اعتبار سے کمی رہ جائے گی۔ اگر رمضان المبارک کے مہنےئ کی تکملں پر اییا صورت سامنے آئے تو سوائے توبہ و استغفار کے اور کوئی راستہ نہںہ ہے اس سال کے قرآن کے پڑھنے، سننے کی سنت کی تکملن مںں اُتنی کمی رہ جائے گی جس کا کوئی ازالہ نہںت ہوسکتا۔ نوٹ: کسی بھی نماز مںا تلاوت کے دوران امام صاحب سے کوئی بھول یا غلطی ہورہی ہو تو اس نماز مںی شامل مقتدی ہی اس کی اصلاح کروا سکتا ہے۔ نماز تراویح مںو تو پہلے سے اس کا انتظام سامع کی صورت مں کرلا جاتا ہے لہٰذا اس بھول یا غلطی کی اصلاح سامع کے ذمے ہوتی ہے اس کے علاوہ کوئی اور مقتدی اس وقت تک اصلاح کی کوشش نہ کرے جب تک امام اور سامع اس کی اصلاح نہ کرسکںے البتہ اس کے علاوہ کی نمازوں مںق اگر تن آیات کی بہ قدر امام صاحب تلاوت کرچکے ہوں تو اصلاح کی کوشش کے بجائے امام صاحب کے لے رکوع کرلنای بہتر ہے، اگر امام صاحب کا اصلاح کا اصرار ہو اور ان کی کوشش جاری ہو اور مقتدیوں مںم سے کسی کو وہ مقام یاد ہو تو وہ ان کی اصلاح کراسکتا ہے۔(اصطلاح مںا اسے لُقمہ دینا کہتے ہںب۔) اگر اس نماز مںب شامل لوگوں کے علاوہ کسی او رنے لقمہ دیا او رامام صاحب نے قبول کرلاا تو سب کی نماز ختم ہوجائے گی اور اس نماز کو دوبارہ پڑھنا ہوگا۔ سوال: تراویح کی نماز مںز اگر قرآن پڑھنے کے لے کوئی حافظ نہ ملے تو نماز تراویح مںل قرآن پاک پڑھنے کی نتع سے قرآن دیکھ کر پڑھنے کا شریعت مںا کاا حکم ہے، یا نماز کی حالت مں مقتدی کا قرآن کو ہاتھ مںل رکھتے ہوئے دیکھ کر سُننے کے متعلق شریعت کا کہتی ہے؟ جواب: نماز کی حالت مںے امام کا قرآن دیکھ کر پڑھنا یا مقتدی کا پڑھے جانے والے قرآن کا دیکھ کر سُننا دونوں ناجائز ہں اور اس سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ قرآن دیکھ کر نماز پڑھانے والے امام کے پچھے جماعت کی نماز مںن شامل ہونا بھی ناجائز ہے اور اس جماعت مںر شامل کسیمقتدی کا پڑھے جانے والے قرآن کو دیکھ کر سُننا بھی ناجائز ہے، اس سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ سوال: دوران تراویح بعض حفاظ کرام آنے والے سجدۂ تلاوت کے متعلق نماز شروع کرنے سے قبل ہی اعلان کردیتے ہںب اور بعض اعلان نہں کرتے، اس مںپ بہتر صورت کال ہے؟ جواب: بہتر تو ییا ہے کہ اییو رکعت کے شروع کرنے سے قبل ہی اعلان کردیا جائے کہ پہلییا دوسری رکعت مںا سجدہ ہے اگر کسی وجہ سے اعلان کرنا بھول جائے تو تلاوت کے سجدے مںک جانے والی تکبرے کو قدرے طول دے تاکہ نمازیوں کو اس بات کی اطلاع ہوجائے کہ امام صاحب رکوع مں نہںک بلکہ سجدے مںی جارہے ہں ۔ سوال: قرآن پاک کے نماز تراویح مںت پڑھنے، سننے کی تکملے پر شرےییل تقسمک کرنے کے حوالے سے شریعت کی کار تعلمو ہے؟ جواب:کسی بھی خوشی کے موقع پر شر،ییب تقسمل کرنے کا جواز شریعت سے ثابت ہے یہ ایک خوشی کا اظہار ہے جس سے شریعت نے منع نہںک فرمایا ہے، البتہ اس مںر کچھ تفصیلات ہں جوکہ درج ذیل ہں : ۱ اگر مسجد مںن جمع شدہ چندے سے شراییع تقسمی کی جارہی ہے تو یہ چندہ مسجد کی لازمی ضروریات کے لےہ دیا گا؟ ہوتا ہے اس کا غرا لازم اخراجات پر خرچ کرنا چندہ دینے والوں کی اجازت کے بغر ناجائز کہا جائے گا۔ ۲ اگرشرسییز کے لےر الگ مستقل چندہ کاا جاتا ہے اور چندہ دینے والے بادل نخواستہ یا جبر سمجھ کے دیتے ہںش تو ایسے چندوں کا لا جانا لازمی ضروریات کے لے بھی ناجائز ہے اس لےہ کہ نبیﷺ کا ارشاد ہے کہ کسی کے نفس کی خوشی کے بغرا اس کا مال لنال ہی ناجائز ہے (نفس تو اپنی جان پر خرچ کرنے پر بخلی ہے تو دوسروں کے لےے خوشی سے دینے پر کسےے آمادہ ہوگا؟) ۳ شرریین کی تقسما، حافظ صاحب وغرلہ کو پھولوں کا ہار پہنانے مں مسجد کے تقدس آداب کا لحاظ نہںر رکھا جاتا۔ ۴ ہر سال شرزییخ کی تقسمم کی پابندی نے اسے جواز کے درجے سے نکال کر وجوب کے درجے مںے پہنچا دیا ہے اور تراویح کا لازمی جزو بن کر رہ گار ہے جس کا چھوڑ دینا ہی دین ہے، لہٰذا اس کے چھوڑ دیے جانے مںا ہی عافتو ہے البتہ عمومی چندے کے بجائے اگر کچھ لوگ اپنے ذاتی مال سے بغرد کسی جبرواکراہ کے اپنی طرف سے انتظام کرلںب مسجد سے باہر تقسم کریں اور کسی کسی سال ناغہ (شراییا کی تقسمغ کی چھٹی) کرلای کریں تاکہ عام لوگوں اور بچوں کے ذہنوں سے اس کا تراویح کا لازمی جزو ہونا نکل جائے۔ ورنہ کہں وہ وقت نہ آجائے کہ ہماری مسجد مں تراویح نہںا ہوتی اس لےا کہ ہم شرکیی تقسمح کرنے کی استطاعت نہںو رکھتے۔ ’’روزہ‘‘ سوال: روزہ کسے کہتے ہںہ؟ جواب: شریعت مطہرہ کا بتلایا ہوا ایک مخصوص عمل ہے جس مںپ اس عمل کو اختاکر کرنے والا صبح صادق کے شروع ہوتے ہی سورج کے غروب ہونے تک کھانے پنےہ اور اپنی جنسی ضروریات کے پورا کرنے سے رُک جاتا ہے، صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک کے اس عمل کو اصطلاح مںں روزہ کہتے ہںی، نزو اگر یہ عمل شریعت کا حکم سمجھتے ہوئے اﷲتعالیٰ کی رضا کی نت سے اختاطر کات جائے تو یہ عمل بھی عبادت بن جاتا ہے۔ سوال: کائ شریعت کی طرف سے روزے کی فرضتا کا بھی کوئی حکم ہے؟ جواب: جی ہاں! عقائد کے اعتبار سے روزے کی فرضتی پر ایمان لانے کا حکم ہے یہاں تک کہ اگرکوئی روزے کی فرضتک پر ایمان نہںب رکھتا تو وہ دائرۂ اسلام سے بھی خارج ہوجاتا ہے۔ عملی اعتبار سے ہر بالغ مسلمان مرد و عورت پر رمضان المبارک کے پورے مہنےی کے تمام دنوں کے روزے رکھنا فرض اور ضروری ہںض۔ سوال: کائ رمضان المبارک کے ان روزوں کے رکھنے کی ممانعت کسی کے لے ثابت ہے؟ جواب: ہر وہ عورت جس کو ایام حیضیا ایام نفاس سے اس مبارک مہنےا مںل سابقہ پڑے اس کے لےا ان ایام کے روزے رکھنا ناجائز اور حرام ہے۔ لکنہ رمضان المبارک کے مکمل ہوجانے کے بعد انہں نہ رکھے جاسکنے والے ان روزوں کی قضا ضروری اور لازمی ہے۔ سوال: کا کسی شخص پر روزے رکھنے کے اوقات شروع ہونے سے قبل غسل واجب ہوجائے اور اسے غسل کرلنےہ کا وقت نہ مل سکے تو کا ایسا شخص روزہ رکھ سکتا ہے؟ جواب: جی ہاں! اگر کسی بھی عذر کے سبب غسل کرنے کا وقت روزہ شروع ہونے کے اوقات سے قبل نہ مل سکے تو ایسا شخص غسل واجب کی حاجت ہونے کے باوجود روزے کی نتو کرکے روزہ بلاکراہت رکھ سکتا ہے۔ سوال: اگر کسی شخص نے رمضان کی رات مںو سے کسی رات مں تراویح پڑھی ہی نہ ہو تو کا ایسا شحص اگلے دن کا روزہ رکھ سکتا ہے؟ جواب: جی ہاں! اس لےک کہ تراویح ایک مستقل اور علحدوہ عبادت ہے جو رات کے اوقات مں کی جاتی ہے اور روزہ ایک مستقل اور علحدوہ عبادت ہے جو دن کے اوقات مںی کی جاتی ہے، ان کا آپس مںل لازمی کوئی تعلق نہں ہے اور یہ آپس مں ایک دوسرے پر جواز یا عدم جواز کی حت ک سے اثرانداز بھی نہںز ہوتںی۔ سوال: ایسے کون سے عذر ہںں جنہںد تسلمن کرتے ہوئے شریعت نے ان دنوں مںا روزہ نہ رکھنے کی اجازت دی ہو؟ جواب: شریعت نے مختلف اعذار (عذر کی جمع) کو تسلمپ کرتے ہوئے ان مخصوص ایام مںہ روزہ نہ رکھنے کی اجازت ضرور دی ہے لکنب ان رہ جانے والے روزوں کو رمضان المبارک کی تکمل کے بعد قضا کی صورت مںے رکھنے کا تاکدےی حکم بھی دیا ہے۔ اور زندگی مںن قضا نہ کے جاسکنے کی صورت مںع مرتے وقت ان کا فدیہ جوکہ صرف اور صرف مالی صورت مںہ ہی ہوتا ہے، کی وصتے کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور متعلقنے مرنے والے کے ترکے کے ایک تہائی حصے مں سے پورا کرنے کے پابند ہوتے ہںے، ان اعذار کی تفصل درج ذیل ہے: (۱) ایسا مریض (مرد و عورت) جو روزہ رکھنے کا مکمل وقت روزے کی حالت مںے پورا کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو۔ (۲) اییا عورت جو حاملہ ہو یا نوزائدمہ بچے کو دودھ پلا رہی ہو اور روزہ رکھنے کی صورت مںی خود اُسے یا بچے کو یا دونوں کو نقصان پہنچنے کا ییا خدشہ ہو۔ (۳) ایسے اشخاص جنہںو رمضان المبارک کے مہنےہ مںھ سفر درپشہ ہو چاہے وہ سفر دییں ہو یا دنالوی نزن روزہ رکھنے کی صورت مں سفر کے مقاصد پورا ہونے مںے کوئی حرج یا نقصان ہورہا ہو یا نہ ہورہا ہو۔ (۴) ایسے اشخاص (مرد و عورت) جو عمر کے اس حصے مں ہوکہ ہوش وحواس باقی ہونے کے باوجود روزہ رکھنے کو برداشت نہ کرسکتے ہوں۔ مندرجہ بالا چاروں قسم کے لوگ روزہ نہ رکھ سکنے کے باوجود رمضان المبارک کی تکملی کے بعد ان کے قضا کےر جانے کے پابند رہتے ہںہ۔ ’’روزے کے مسائل‘‘ (جن چزووں سے روزہ نہںو ٹوٹتا اور مکروہ بھی نہںے ہوتا) سوال: کاں شریعت نے روزوں سے متعلق بعض اعمال کی نشاندہی کی ہے جو روزے کی تکملپ پر اثرانداز نہںت ہوتے؟ جواب: جی ہاں! شریعت نے بعض امور کی نشاندہی کی ہے جن کے صادر ہوجانے کے باوجود روزے دار کا روزہ خراب نہںد ہوتا، ان کی تفصلی درج ذیل ہے: ۱ آنکھوں مںپ دوا یا سرمہ لگانا (اگرچہ ذائقہ حلق مںں محسوس ہو یا تھوک مںد رنگ دکھائی دے۔)(فتاویٰ شامی جلد 2 صفحہ 395) ۲ سر، داڑھی، مونچھوں اور بدن کے کسی دوسرے حصے پر تلچ لگانا۔(فتاویٰ شامی جلد 2 صفحہ 395) ۳ کان مںڑ پانی ڈالنا یا بے اختارر چلے جانا(البتہ روزے کی حالت مںو کان مںح دوائی ڈالنے سے پرہزو کرنا چاہےو اس لے9 کہ اس سے روزہ ٹوٹ جانے کا خدشہ ہے۔)(فتاویٰ شامی جلد 2 صفحہ 396) ۴ حلق مں بلااختاچر گردوغبار یا مکھی، مچھر یا کسی قسم کے دھوئںی کا چلے جانا (لکن اپنے ارادے سے حلق مںک دھواں پہنچایا تو روزہ ٹوٹ جائے گا مثلاً بطور خود جلتی سگریٹ، لوبان، اگربتی وغر ہ کے قریب آکر ان کا دھواں لا تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔)(فتاویٰ شامی جلد 2 صفحہ 395) ۵ عطر، پھولوں، اگر بتییا لوبان وغرگہ کی صرف خوشبو سونگھنا (خواہ خوشبو کتنی ہی تزد ہو)۔(فتاویٰ شامی جلد 2 صفحہ 395) ۶ بھول کر کھاپی لناخیا بھول کر حق زوجیت ادا کرلناگ۔(البتہ یاد آجانے کی صورت مںب کھانا پنا( اور حقوق زوجیت کے عمل سے فوری طور پر علحدخگی اختابر کرلنا، ضروری ہے ورنہ یاد آنے کے بعد اس عمل مں مشغول رہنے سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔(فتاویٰ شامی جلد 2 صفحہ 394) ۷ روزے کی حالت مںخ سوتے ہوئے بدخوابی (احتلام) کی وجہ سے غسل واجب ہوجانا۔(فتاویٰ شامی جلد 2 صفحہ 396) ۸ مسواک کرنا۔(فتاویٰ عالمگرتی جلد 1 صفحہ 199) ۹ کُلّی کے بعد منہ کی تَری نگلنا۔(فتاویٰ شامی جلد 2 صفحہ 396) ۱۰ نکسری پھوٹنا (اگرچہ اس کا اثر تھوک مںز بھی ظاہر ہو لکنت اس کو پٹئ مںع نہ لے جائے۔)(البحرالرائق جلد 2 صفحہ 273) ۱۱ منہ مں۔ موجود تھوک کا حلق سے اندر جانا (البتہ جان بوجھ کر منہ مںی تھوک کا جمع کرتے رہنا ناپسندیدہ ہے۔)(فتاویٰ عالمگرلی جلد 1 صفحہ 199) ۱۲ ناک کے اندر آنے والی ریزش (ناک سے پانی بہنے کا مرض، نزلہ، زکام) خودبخود حلق مں6 اُتر جائے یا اسے روزے دار خود اُتار لے۔(فتاویٰ شامی جلد 2 صفحہ 400) ۱۳ قے (اُلٹی) ڈکار یا کھانسی کے ذریعے سے اگر پانی، کھانا، بلغم وغرںہ منہ کے ذریعے سے خودبخود باہر نکل جائے تو روزہ نہیںٹوٹے گا۔(البتہ منہ مںی آنے کے بعد جان بوجھ کر اسے حلق سے اُتار لای جائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا(جسائکہ آگے آرہا ہے۔)(فتاویٰ شامی جلد 2 صفحہ 414) ۱۴ کسی بھی مقصد کے لے9 جسم سے خون نکالنا یا کسی چوٹ وغرےہ کے سبب جسم کے کسی بھی حصے سے خون کا نکلنا۔(بدائع الصنائع جلد 2 صفحہ 92) ۱۵ اس احتاٹط کے ساتھ کہ پانی حلق سے نچے نہ اُتر جائے، کلی کرنا اور اس احتا ط کے ساتھ کہ پانی دماغ پر نہ چڑھ جائے، ناک مںع پانی ڈالنا۔(فتاویٰ عالمگرلی جلد1 صفحہ 199) ۱۶ غسل کرنا، کپڑا بھگو کر سر یا بدن پر لپٹنا یا ڈالنا، جسم کے کسی حصہ پر برف رکھنا۔ ۱۷ روزے دار ماں کا اپنے دودھ کو اپنی چھاتورں کے ذریعے سے اپنے یا رضاعی بچے کو دودھ پلانا۔(البحرالرائق جلد 2 صفحہ 278) ۱۸ سحری مں پان کھانے کے بعد یا دوائی استعمال کرچکنے کے بعد منہ صاف کرلاہ گا ہو لکنا اس کے باوجود صرف پان کی سُرخییا دوائی کا ذائقہ منہ مںد موجود ہو تو اس سے روزے مںن فرق نہں آتا۔(فتاویٰ شامی جلد 2 صفحہ 396) ۱۹ روزے دار کو روزے کی حالت مںہ اپنے جسم مںو خون چڑھانے کی ضرورت ہو تو اس عمل کے کے جانے سے روزے میںفرق نہںے آتا۔(فتاویٰ بیّنات جلد 3 صفحہ 79) ۲۰ اییا آکسجنو دینا جو خالص ہو اور اس مں ادویات کے اجزاء شامل نہ ہوں (ادویات کے اجزاء شامل ہوں تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔)(فتاویٰ محمودیہ جلد10 صفحہ 154) ۲۱ روزے کی حالت مںھ کسی قسم کا انجکشن چاہے نَس کا ہو یا گوشت کا یا ٹکہء لگوانا۔(فتاویٰ عثمانی جلد 2 صفحہ 182) ۲۲ روزے کی حالت مںھ اگر گلوکوز کی ڈرپ چڑھانے یا طاقت کا انجکشن لگوانے کی ضرورت پش آجائے تو اس عمل سے روزے مں۔ فرق نہںت آتا، جبکہ بلاضرورت اس عمل کو ناپسندیدہ کہا جاتا ہے۔(احسن الفتاویٰ جلد 4 صفحہ 432) ۲۳ روزے دار عورت کو اگر شوہر کی طرف سے کسی پریشانی کے پشے آنے کا خدشہ ہو تو (روزے کی حالت مںہ) وہ سالن پکاتے ہوئے نمک اور مرچ چکھ سکتی ہے (البتہ اسے چکھنے کے بعد تھوک باہر نکال دینا چاہےک نزہ اگر ایسا چھوٹا بچہ جس کو کھلانے کے لے کوئی نرم غذا موجود نہ ہو تو سخت غذا کو چبا کر اس بچے کے لےا اسے نرم بنانے کے حوالے سے کوئی حرج نہں ہوتا، روزے دار عورت ایائ اس چھوٹے بچے کی خاطر کرسکتی ہے، البتہ چبائی ہوئی غذا منہ سے نکال لنےں کے بعد تھوک بھی دینا چاہےا اور کلی بھی کرلیاس چاہے ۔)(فتاویٰ شامی جلد 2 صفحہ 416) ۲۴ اگر روزے کی حالت میںد انتوں سے خون نکلنے لگے اور اس کی مقدار تھوک سے کم ہو اور وہ خون ملا تھوک حلق سے اُتر جائے اور خون کا ذائقہ بھی محسوس نہ ہو تو اس سے روزہ نہں ٹوٹے گا (البتہ خون کی مقدار تھوک سے زائد ہو یا خون کا ذائقہ حلق مںئ محسوس ہو تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔)(فتاویٰ شامی جلد 2 صفحہ 396) ۲۵ کسی زہرییو چز کا ڈسنا۔(فتاویٰ عالمگرتی جلد 1 صفحہ 203) ۲۶ مرگی وغر ہ کا دورہ پڑنا۔(فتاویٰ عالمگربی جلد 1 صفحہ 208) ۲۷ روزے کی حالت مںٹ اگر دانت نکلوانے یا مصنوعی دانت لگوانے کی اشد ضرورت پش2 آجائے تو اس حالت مںہ علاج کرایا جاسکتا ہے بشرطکہی دانتوں مںہ لگنے والی دوائی حلق سے نچےگ نہ اُترے۔(احسن الفتاویٰ جلد 4 صفحہ 436) ۲۸ سردی کے ایام مں ہاتھ، پرییا ہونٹ وغرچہ پھٹ رہے ہوں تو روزے کی حالت مں جسم کے ہر برکونی حصے پر ویسلینیا کوئی مرہم وغرکہ لگانے سے روزے مں فرق نہںئ آتا (البتہ ہونٹوں پر بلاضرورت لگانے کو اس کے لےا ناپسند کہا جاتا ہے کہ اس کا منہ مں داخل ہونے اور تھوک کے ذریعے اس کے اجزاء کا حلق مںص اُترجانے کا خدشہ ہوتا ہے۔)(احسن الفتاویٰ جلد 4 صفحہ434) ’’روزے کے مکروہات‘‘ سوال: کاہ روزے کے حوالے سے شریعت نے ایی باتںا بھی بتلائی ہںے جن پر اگر روزے کی حالت مں عمل ہوجائے تو روزہ تو نہںل ٹوٹتا مگر مکروہ ہوجاتا ہے؟ جواب: جی ہاں! شریعت نے بعض چزایں روزے دار کو کرنے سے منع بھی کال ہے باوجود یہ کہ اس سے روزے پر کوئی اثر نہںن پڑتا مگر وہ اعمال روزے کی حالت مںا ناپسندیدہ قرار دیے ہںو اور اَجر مںا کمی آنے کی طرف بھی شریعت نے ان اعمال کے کرنے کے حوالے سے توجہ دلائی ہے، اس کی تفصلن مندرجہ ذیل ہے: ۱ روزے کی حالت مںک دانتوں کی صفائی کے لےد مسواک کے علاوہ کسی بھی چزے کے استعمال کو مکروہ اور ناپسند بتلایا گار ہے، مثلاً ٹوتھ پسٹد، منجن، مِسّی(ایک قسم کا منجن جسے عورتںر بطور سنگھار استعمال کرتی ہںو)، دنداسہ اور کوئلہ وغرہہ (واضح رہے کہ مذکورہ بالا اشالءمں سے کسی شے کو استعمال کرتے ہوئے اس کا کوئی ذرّہ حلق سے نچے اُتر گاف تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔)(فتاویٰ شامی جلد 2 صفحہ 416) ۲ روزے کی حالت مںک کوئی بھی چزے بغرں کسی حاجت کے منہ مںو رکھ کر چباتے رہنا یا چکھ کر تھوک دینے کو شریعت نے مکروہ کہتے ہوئے منع فرمایا ہے اس سے روزہ فاسد تو نہںھ ہوتا لکنز بلاضرورت ایسا کوئی کام نہں کرنا چاہےہ، اگرچہ ضرورت کے موقع پر بو ییا ماں کو ایسا کرنے کی اجازت دی ہے جساتکہ پچھے صفحہ 17 مںپ ذکرہوچکا ہے۔(فتاویٰ شامی جلد 2 صفحہ 416) ۳ بعض کاموں کو شریعت نے ناجائز اور گناہ قرار دیتے ہوئے اس کو اختازر کرنے سے ہرحال مں منع فرمایا ہے لکنن ان کا روزے کی حالت مںت کاا جانا اگرچہ روزے کو نقصان نہں پہنچاتا مگر شریعت نے اسے اس حالت مںر بھی سخت ناپسند کہتے ہوئے اس سے روکا ہے، مثلاً غبتا، چغلی، جھوٹ، بہتان تراشی، بے جا غصّہ، فحش باتںم کرنا، کسی کو تکلفم پہنچانا، باہم ایک دوسرے کے ساتھ لڑنا جھگڑنا، ایک دوسرے سے گالم گلوچ کرنا یا ویسے ہی کسی جاندار یا بے جان کو گالی وغرچہ دینا ان گناہوں کو زبان یا ہاتھ پاؤں کے گناہ کہا جاتا ہے۔(فتاویٰ شامی جلد2 صفحہ 412) ۴ شریعت نے آنکھوں سے کےے جانے والے گناہ کو بھی ناجائز قرار دیتے ہوئے ہرحال مںک اس سے روکا ہے اور روزے کیحالت مںا ان کا کا جانا سخت ناپسندیدہ قرار دیتے ہوئے ان سے روکا ہے، مثلاً فلم، ڈرامہ، ٹیکا ویژن جس مںا نامحرموں کو دیکھنا بالکل ظاہر ہے ییہے طور پر ایسے تمام کام روزوں کو ثواب کے اعتبار سے کم کردیتے ہں اور نامۂ اعمال مں گناہ لکھے جانے کا سبب بھی بنتے ہںا۔(آپ کے مسائل اور ان کا حل جلد 7 صفحہ 386) ۵ دانتوں کے درماان اَٹکا ہوا گوشت کا ریشہیا کوئی چزک جو چنے کی مقدار سے چھوٹی تھی اسے (منہ سے باہر نکالے بغرن) نگل لناے۔(فتاویٰ عالمگر ی جلد1 صفحہ 202) ’’جن چزہوں سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے‘‘ سوال: کاا شریعت نے اییم باتیںیا کام بتلائے ہںے جنہںر روزے کی حالت مںا کرنے سے روزہ ٹوٹ ہے؟ جواب: جی ہاں! بعض کام ایسے ہںز کہ اگر وہ روزے کی حالت مںک عمل مںھ آجائں تو ان سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، ان کی تفصلن درج ذیل ہے: ۱ سحری کا وقت ختم ہوچکا تھا اور اس کے ختم ہونے کے بعد کسی نے کچھ کھا پی لاے تو اس سے اس دن کا روزہ شروع ہی نہںئ ہوتا (ہمارے زمانے مں سحری کے ختم ہونے کے اوقات کا نقشہ بھی شائع کا جاتا ہے، ریڈیو وغرئہ کے ذریعے مساجد سے سائرن بجاکر اس کے خاتمے کا اعلان کام جاتا ہے، اس اعلان کے وقت سے تقریباً دو، تنئ منٹ پہلے ہی سحری کی تکملر کرتے ہوئے کھانے پنےک سے رُک جانا چاہےا اس لےع کہ ان اعلانات مںھ بھی غلطی ہونے کا امکان ہے، کہںی ایسا نہ ہوکہ ان کی غلطی کی وجہ سے روزے داروں کا روزہ نہ ہو لہٰذا ان کے ذمہ داروں کو بھی اس حوالے سے سخت احتااط کی ضرورت ہے۔)(فتاویٰ عالمگرای جلد 1 صفحہ 194) ۲ روزے کی حالت مں کسی بھی چزخ کا چاہے وہ غذا یا دوا ہو یا مفدہ اور مضر ہو جسم کے کسی بھی ایی جگہ سے جہاں سے براہ راست وہ چزی دماغ یا معدے تک پہنچ جاتی ہو ان جگہوں سے ایی کسی چزہ کو استعمال کرنے سے روزہ ٹوٹ جائے گا (مثلاً منہ، ناک، کان اور پیشابا پاخانے کا مقام سَر یا پٹں پر زخم، جسم میںیہ وہ راستے ہںا جن کے ذریعے سے استعمال کی ہوئی چز معدے یا دماغ تک براہِ راست پہنچ سکتی ہے روزے کی حالت مں ایی کسی بھی جگہ پر کوئی ایی دوا یا غذا استعمال کی جائے روزہ ٹوٹ جائے۔)(بدائع الصنائع جلد 2 صفحہ 93) ۳ روزے دار کے ذہن میںیہ بات واضح طور پر جوکہ مںت روزے سے ہوں (یین اسے اپنا روزہ بھولا ہوا نہ ہو) اییئ صورت مںے وضو کرتے ہوئے یا نہاتے ہوئے یا ان دونوں کاموں کے علاوہ بھی ناک یا منہ مں پانی ڈالتے ہوئے غرتارادی طور پر خودبخود وہ پانی حلق سے اندر اتر جائے تو اییے صورت مںں روزہ ٹوٹ جائے گا۔(فتاویٰ عالمگر ی جلد 1 صفحہ 202) ۴ دانتوں مںن لگا ہوا گوشت کا ریشہیا کوئی اور چزا جو چنے کی مقدار سے بڑی تھی اسے (منہ سے باہر نکالے بغر0) نگل لناخ (اگر منہ سے باہر نکال لا پھر اس کو کھالات تو خواہ وہ چنے کی مقدار سے چھوٹی ہو روزہ فاسد ہوجائے گا۔)(فتاویٰ شامی جلد2 صفحہ 396) ۵ روزے دار کے منہ سے روزے کی حالت مںک منہ کے اندر خون یا پپع رِس رہا ہو اور اس کی مقدار منہ مںی موجود لعاب کے برابر یا اس سے زیادہ ہو اور وہ خون یا پپ حلق سے اندر اُتر جائے اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔(فتاویٰ عالمگرجی جلد 1 صفحہ 203) ۶ کسی طرح سے خود لذتی کرکے غسل واجب کرلنات۔(البحرالرائق جلد2 صفحہ 272) ۷ اگر روزے کی حالت مں بدخوابی (احتلام) ہوجائے اور غسل واجب ہوجائے تو روزہ نہںو ٹوٹتا لکن اگرکوئی روزے دار یہ سمجھتے ہوئے کہ بدخوابی (احتلام) کی وجہ سے روزہ ٹوٹ گاج ہے اور وہ کھا پی لے تو اس کھانے پنےم سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔(فتاویٰ شامی جلد2 صفحہ 401) ۸ کسی عذر کی وجہ سے روزے کی تکملی کے وقت سے پہلے اگر کچھ کھاپی لاک جائے تو اس دن کا وہ روزہ ٹوٹ جاتا ہے یینر اُس روزے کو دوبارہ رکھنا ہوگا۔(فتاویٰ عالمگرمی جلد1 صفحہ 207) ۹ اگر کوئی روزے دار ابھی افطار کا وقت نہںی ہوا اور یہ سمجھ کر کہ افطار کا وقت ہوگاج ہے یینٹ سورج غروب ہوگاے ہے اور کھانا پناو شروع کردے تو وہ روزہ نامکمل ہونے کی وجہ سے ٹوٹ جائے گا اور اسے بھی دوبارہ رکھنا ہوگا۔(فتاویٰ شامی جلد2 صفحہ 405) ۱۰ روزے دار نے روزے کی حالت مںہ اپنے اختاار سے (قصداً) منہ بھر کر قے کی تو روزہ فاسد ہوجائے گا۔(فتاویٰ شامی جلد2 صفحہ 414) ۱۱ روزے دار نے روزے کی حالت مںہ قصداً (چنے کی مقدار یا اُس سے زیادہ) قے لوٹا لی تو روزہ فاسد ہوجائے گا۔(فتاویٰ شامی جلد2 صفحہ 414) ۱۲ روزے دار نے روزے کی حالت مںہ لوبان یا عود کا دھواں قصداً ناک یا حلق مںہ پہنچایا تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔(فتاویٰ شامی جلد2 صفحہ 395) ۱۳ روزے دار کی آنکھوں سے روزے کی حالت مںا آنسو نکل کر منہ مںا داخل ہوگئے یا پیشانی اور چہرے پر آنے والے پسنےا کے قطرے روزے کی حالت مںھ منہ مںن داخل ہوگئے اور روزے دار نے انہںں حلق سے اُتار لا تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔(فتاویٰ شامی جلد 2 صفحہ 404) ۱۴ اگر کسی روزے دار کو کسی ظالم یا حاکم نے اپنے جبر کے ذریعے سے روزہ توڑنے پر مجبور کردیا اور روزے دار نے وہ روزہ توڑ دیا تو وہ روزہ ٹوٹ جائے گا اور اس روزے کو دوبارہ رکھنا ہوگا۔(فتاویٰ عالمگرےی جلد 1 صفحہ 202) ۱۵ روزے دار مرد ہو یا عورت اس نے علاج یا کسی بھی غرض سے خود یا اس کے معالج نے تل0 پانییا کسی اور دوا سے تَر ہوئی انگلی شرم گاہ مںر داخل کی تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔(فتاویٰ شامی جلد2 صفحہ 397) ۱۶ روزہ کی حالت مں اگر کسی خاتون کو حیضیا نفاس کا خون جاری ہوجائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا اس روزہ کی بعد مںی قضا کرنا واجب ہے اگرچہ سورج غروب ہونے سے تھوڑی دیر پہلے ہییہ حالت پشا آئی ہو خواہ فرض روزہ ہو یا نفل۔(البحرالرائق جلد 1 صفحہ 199) ۱۷ روزے کی حالت مںڑ مقعد کے اندر بواسرا کے مسّوں کے زخم پر مرہم یا تلم لگانا منع ہے۔ اگر دوا یا تلب اس حد تک پہنچ جائے جہاں سے معدہ اس کو جذب کرلتام ہے یا وہ خود معدے مں پہنچ جاتا ہے تو روزہ فاسد ہوجائے گا اور اگر اس حد تک نہ پہنچے تو پہنچنے کا احتمال ہونے کی وجہ سے مکروہ ہے لہٰذا احتا ط ضروری ہے۔(فتاویٰ عالمگر ی جلد 1 صفحہ 204) ۱۸ روزے دار کا روزے کی حالت مں اگر پاخانے کے وقت بواسرم کے مسّے باہر آجاتے ہں تو استنجاء کرنے کے بعد ان کو خشک کرکے اندر چڑھایا جائے۔ ورنہ پانی اندر جانے کی صورت مںر روزہ فاسد ہوجائے گا۔(فتاویٰ عالمگرکی جلد 1 صفحہ 204) ۱۹ روزے دار جان بوجھ کر غذا کے طور پر یا دوا کے طور پر کسی استعمال کی جاسکنے والی چزا کو کسی بھی غرض سے کھالے یا پی لے یا تمباکو نوشی کی صورتوں مںے سے کوئی صورت اختاار کرلے یا حلق سے کوئی اییا چزد جس کا تعلق عادتاً کھانے سے نہ ہو اپنے حلق سے اتارلے تو اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا۔(البحرالرائق جلد 2 صفحہ 297) ۲۰ کوئی شادی شدہ جوڑا روزے کی حالت مںس روزہ یاد ہونے کے باوجود حقوق زوجیت ادا کرے تو دونوں کا روزہ ٹوٹ جائے گا۔(البحرالرائق جلد 2 صفحہ 297) سوال: اوپر ذکر کی گئی صورتوں مںا سے کوئی صورت پشک آجائے جس سے روزہ ٹوٹ جائے تو شریعت نے اس نقصان کو پورا کرنے کا کاے طریقہ بتلایا ہے؟ جواب: اوپر ذکر کردہ صورتوں مںٹ سے کوئی بھی صورت پش آجائے تو شریعت نے اس نقصان کو پورا کرنے کا ایک طریقہیہ بتلایا ہے کہ اگر وہ رمضان المبارک کا روزہ ہے تو رمضان المبارک کا مہنہی پورا ہونے کے بعد کسی بھی دن اس روزے کو رکھ لان جائے، شریعت مں اس عمل کو قضا کہتے ہںں اور یہ قضا مرد و عورت مںش سے ہر اس شخص پر لازم ہے جس نے رمضان کے روزے رکھے ہی نہ ہوں یا کسی بھی وجہ سے رکھنے کے بعد وہ روزے ٹوٹ گئے ہوں یینت مکمل نہ ہوسکے ہوں۔ روزے کے ٹوٹ جانے کے عنوان سے اوپر جو صورتں ذکرکی گئی ہںس اس مں سے نمبر1سے 18 تک کی کوئی بھی صورت پشا آجائے تو اس روزے کی صرف قضا کرنی ہوگی چاہے وہ رمضان المبارک کا روزہ ہو یا اس کے علاوہ کا کوئی روزہ ہو۔ سوال: روزہ توڑ دینے والی صورتوں مںا سے کا کوئی اییہ صورت بھی پائی جاتی ہے کہ جس کی تلافی کے لےج صرف قضا ناکافی ہو۔ جواب: جی ہاں! روزہ توڑ دینے والی صورتوں میںسے دو صورتںی اییھ ہںئ جن کے پائے جانے کی صورت مںک قضا کے ساتھ ساتھ کفارہ بھی ادا کرنا پڑتا ہے۔ ان صورتوں مںو روزہ ٹوٹ جانے والی صورتوں مں سے آخری دو صورتںا ہںے۔ یینک جان بوجھ کر حلق سے کوئی چزا اُتار لناویا جان بوجھ کر ماںں بو ی کا حقوق زوجیت ادا کرلنا ۔ سوال: روزے کے حوالے سے کفارہ کسے کہتے ہںو؟ جواب: روزے کے حوالے سے شریعت نے ایک عمل بتلایا ہے اس مکمل عمل کو کفارہ کہتے ہں جس کی تفصیلیہ ہے کہ اگر روزہ توڑ دیے جانے کی صورت مںک قضا کے ساتھ کفارہ بھی لازم آجائے تو قضا کے ایک روزے کے علاوہ ساٹھ(60) روزے رکھے جاتے ہیںیہ کل اکسٹھ(61) روزے ہوئے اس مں ایک روزہ قضا کا کہلائے گا جو کفارے کے روزوں سے علحد ہ بھی رکھا جاسکتا ہے بقہق ساٹھ(60) روزے کفارہ کہلاتے ہں) اور انہںک مسلسل رکھنا ہوتا ہے لکنا کفارے کے روزے رکھتے ہوئے کچھ روزوں کے بعد روزے چھوڑ کر وقفہ کرلای تو پہلے روزے شمار نہںو ہوں گے اسے دوبارہ ایکساتھ ساٹھ(60) روزے رکھنے ہوں گے۔ البتہ کسی عورت نے کفارے کے روزے رکھنا شروع کےا اور اس کے مکمل ہونے سے پہلے اسے ماہوارییعنی حض آجائے تو حضھ کے ایام مںل شریعت نے روزے رکھنے کو حرام قرار دیا ہے لہٰذا یہ درماین مںل آجانے والا وقفہ شریعت نے عذر تسلمت کاا ہے، حضٹ کے ایام شروع ہونے سے پہلے رکھے جانے والے روزوں کی تعداد شمار ہوگی اور اس تعداد مںا باقی رہ جانے والی کمی کو حضے کے ایام مکمل ہوجانے کے بعد مسلسل روزے رکھ کر مکمل کرنا پڑتا ہے نزت کفارے کے روزے رکھنے والی عورت روزوں کی تکملا سے پہلے زچگییعنی بچے کی ولادت کے عمل سے گزر رہی ہو اور بچے کی ولادت کے بعد اسے خون جاری ہوجائے (جسے اصطلاح مںن نفاس کہتے ہںگ) تو نفاس کے اس عمل سے پہلے رکھے جانے والے روزے کفارے کے حق مںر باطل یینک ختم ہوجائںس گے، نفاس کی تکملا کے بعد ازسرنو دوبارہ یین کفارے کے ساٹھ(60) روزوں کو مللسم رکھنا ہوگا۔ سوال: کار رمضان کے روزوں کے ایک روزے کا یہ کفارہ ہے یا متعدد روزوں کا ایک ہی کفارہ ہے؟ جواب: اگر کسی رمضان مںو جان بوجھ کر کھاپی لنےل کی وجہ سے کفارہ واجب ہوا ہو اور اس رمضان مںک کئی مرتبہ کفارے واجب ہوچکے ہوں یا اسی سبب سے دوسرے سال کے رمضان مںک بھی کئی مرتبہ ایسا ہوچکا ہو اور پہلے سال کے رمضان کا کفارہ ادا نہ کا جاسکا ہو تو ایک ہی کفارہ کافی ہوجائے گا (البتہ مایں بوعی کے آپس کے حقوق زوجیت کی ادائیدا کی وجہ سے کفارہ واجب ہوا ہو اور اس رمضان مں ایک سے زائد مرتبہ یہ عمل ہوتا رہے تو اس ایک سال کے کئی کفارے نہںس ادا کےہ جائں گے بلکہ ایک ہی کفارہ سب کی طرف سے کافی ہوگا۔ لکنئ اگر پہلے سال کے رمضان کا اس سبب سے واجب ہونے والا کفارہ ابھی ادا نہ کاے جاسکا ہو کہ آئندہ سال کے رمضان مںو اسی سبب سے دوبارہ کفارہ واجب ہوجائے تو دونوں رمضان کے واجب ہونے والے یہ کفارے علحدحہ علحداہ ادا کرنے پڑیں گے۔) سوال: کاف رمضان المبارک کے فوری بعد کفارے کے روزے رکھنا ضروری ہے؟ جواب: جی نہںا! رمضان المبارک کی تکملھ کے بعد کسی بھی وقت کفارہ ادا کاحجاسکتا ہے (البتہ جب بھی کفارہ شروع ہوگا اوپر ذکر کردہ تفصل کے مطابق ہی اس کی تکملک ہوگی۔) سوال: اگر کوئی شخص کفارے کے روزے رکھنا شروع کردے اور اس کی تکمل۔ سے پہلے آئندہ سال کا رمضان شروع ہوجائے یا بقرعدت کا دن (10ذی الحجہ) یا ایّام تشریق (13,12,11ذی الحجہ) تو اییہ صورت مںض کفارے کے متعلق شریعت کاف کہتی ہے؟ جواب: کفارے کی مدت کی تکملا سے پہلے اگر سوال مںر ذکر کردہ صورتوں مںس سے کوئی صورت پشد آجائے تو کفارے کے یہ تمام روزے کفارے کے حق مںن ختم ہوجائںو گے اور ان ایام کے گزر جانے کے بعد اُسے ازسرنو دوبارہ کفارے کے ساٹھ روزے رکھنے ہوں گے۔ سوال: اگر کوئی کفارے کے ساٹھ روزے مسلسل رکھنے کی اپنے اندر طاقت نہ رکھتا ہو تو اس حوالے سے شریعت نے اس کی کاگ راہنمائی فرمائی ہے؟ جواب: اگر کوئی شخص کفارے کے ساٹھ روزوں کو مسلسل رکھنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو طاقت نہ رکھنے کی اس صورت مں ہی شریعت نے اس کی تلافی کا طریقہیہ بتلایا ہے کہ وہ کفارے کے بدلے میںساٹھ(60) فطرے یینن دو کلو گندم یا آٹا یا اس کی قمتن مساکنا، مستحق زکوٰۃ لوگوں پر خر ات کرے، اس کا طریقہیہ ہے کہ ساٹھ مسکنواں کو علحدوہ علحدعہہ فطرہ یا اس کی رقم خرضات کرنے یا کسی ایک مسکنل کو ساٹھ دنوں تک ایک، ایک فطرہ دیتے ہوئے ساٹھ فطروں کی تعداد مکمل کرے، البتہ ساٹھ فطرے ایک ہی وقت مںئ ایک مسکینیا فقرس کو دینا صححت نہںم ہے اگرایک ہی فقرک کو ایک ہی دن مںں ساٹھ فطرے خر ات کرے گا تو وہ ایک ہی دن کا کفارہ کہلائے گا، انسٹھ فقرتوں کو مزید دینا ہوگا۔ نزی کفارے کے ان ساٹھ فطروں مںے سے ایک فطرے کی رقم کی مقدار سے کچھ کم دیا تو بھی کفارہ صححف نہں ہوگا یینا ایک دن مںف ایک مسکنک کو مکمل طور پر ایک ہی فطرہ دینا ہوگا مقدار کے اعتبار سے کم شمار نہںا ہوگا اور مقدار سے زیادہ ایک ہی فطرہ کہلائے گا۔ سوال: اگر بمافر آدمی نے بما ری کی وجہ سے کفارے کے روزوں کی ادائیس کے بجائے ساٹھ فطرے ادا کردیے اس کے بعد اسے بمالری سے صحت مل جائے اور وہ روزے رکھنے کے قابل ہوجائے تو کفارے کے حق میںیہ فطرے برقرار رہںر گے؟ جواب: جی نہںم! کفارے کے حوالے سے ادا کےف جانے والے فطرے زندگی مںں صحت ملنے کے بعد کفارے کے حق مںف ختم ہوجائںو گے اور اسے لازماً اپنی زندگی کے اندر ازسرنو دوبارہ روزوں کی مسلسل ادائیق کی صورت مںر ہی کفارہ ادا کرنا ہوگا۔ ’’روزے سے متعلق آداب‘‘ سوال: کار علمائے کرام نے روزے سے متعلق کچھ آداب بھی بتلائے ہںو؟ جواب: جی ہاں! شریعت نے روزے کے عمل کی انتہائی اہمت بتلائی ہے اور یہ روزہ اگر اپنی روح کے مطابق ہو تو نہ صرف یہ کہ شااطنے سے بھی روزے دار کی حفاظت ہوتی ہے بلکہ بعض روایات کے مطابق اﷲتعالیٰ کے عذاب سے بھی اور جہنم سے بھی حفاظت ہوتی ہے لکنل خود روزے دار سے بعض اوقات ایسے اعمال سرزد ہوجاتے ہںط جو روحانتٰ کے اعتبار سے روزے کو کمزور کردیتے ہںل۔ گویا کہ ان اعمال کی وجہ سے خود روزے دار اپنے روزے کو متاثر کردیتا ہے جسااکہ ایک روایت کے مطابق خود نبی اکرمﷺ کا ارشاد ہے کہ روزہ آدمی کے لےہ ڈھال ہے جب تک کہ وہ خود (روزہ دار) اس کو پھاڑ نہ ڈالے۔(سنن نسائی جلد 1 صفحہ 311) اس اہمت) کے پشد نظر علمائے کرام نے اس کے چند آداب اور ان کے اہتمام کو ضروری قرار دیا ہے جوکہ درج ذیل ہںس: (۱) روزہ دار اپنی آنکھوں کی حفاظت کرے یہاں تک کہ اپنی اہلہی پر بھی روزے کی حالت مں شہوت کی نگاہ نہ ڈالے اس لےا کہ نگاہ شاحطنے کے ترےوں مںر سے ایک ترا ہے علمائے کرام نے اس کی وضاحت فرماتے ہوئے ہر اس عمل سے منع کاں ہے جو دل کو خدا سے پھرہ کر کسی دوسری طرف متوجہ کردے۔ (چنانچہ محتاط قسم کے لوگ خصوصی طور پر رمضان المبارک کے مہنے۔ مںا ٹی وی وغراہ دیکھنے کی زحمت نہں اٹھاتے جبکہ غر رمضان مںر بھی غر محرم کو دیکھنے کا جواز نہںو ہے۔) (۲) روزہ دار، روزے کی حالت مںر جھوٹ، چغل خوری، لغو، بکواس، غبتئ، بدگوئی، بدکلامی، جھگڑے وغریہ سے اپنی حفاظت کرے۔ (۳) روزہ دار ہر ناجائز بات کے سننے سے اپنے کانوں کی حفاظت کرے۔ (اگر رمضان المبارک مںی مسلسل یہ عادت پڑگئی تو ان شاء اﷲ غرا رمضان مںا بھی اس حفاظت مںو آسانی رہے گی۔) (۴) تمام بدن کے اعضاء مثلاً ہاتھ، پاؤں وغریہ کو ناجائز کاموں سے محفوظ رکھے نزی اسی طرح افطار کے وقت مشتبہ چزاوں سے بھی اپنے پٹن کو محفوظ رکھے۔ (۵) افطار کے وقت حلال مال سے بھی خوب پٹن بھر کر

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
330