(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/05/23
موضوعات
صلوٰۃ التسبیح ودیگرنوافل
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ صلوٰۃ التسبیح ودیگرنوافل ’’صلٰوۃ التسبیح‘‘ سوال: صلوٰۃ التسبیح کسے کہتے ہں اس کے پڑھے جانے کے اوقات کات ہںج اور اس نماز کی رکعات کی تعداد کتنی ہے؟ جواب:صلوٰۃ التسبیح کے لفظی معنیٰ ہں تسرتے کلمے (کلمۂ تمجد ) کے ساتھ پڑھی جانے والی نماز۔ یہ ایک خاص نماز ہے جو ایک سلام کے ساتھ چار رکعات صلوٰۃ التسبیح پڑھنے کی نت کرتے ہوئے پڑھی جاتی ہے اور ہر رکعت مںی مختلف جگہوں مںم مقررہ تعداد مںا تسرعا کلمہ نماز کی حالت مںی پڑھا جاتا ہے اور ہر رکعت مںح اس کی مجموعی تعداد پچھتر (75) رہتی ہے اس طرح چار رکعتوں مںہ پڑھے جانے والے تسررے کلمے کی کُل تعداد تنم سو(300) مرتبہ ہوجاتی ہے۔ اس کے پڑھے جانے کا بہترین وقت زوال کے بعد نماز ظہر کی ادائیلت سے پہلے کا بتایا گاھ ہے لکنع اس نماز کو نماز پڑھے جانے کے ممنوعہ مواقع و اوقات کے علاوہ رات دن کے کسی بھی وقت مں پڑھا جاسکتا ہے نزے اس کی ترغبی دیتے ہوئے نبیﷺ نے ارشاد فرمایا اگر ہوسکے تو ہر روز ایک مرتبہ اس نماز کو پڑھ لای جایا کرے، یہ ممکن نہ ہو تو ہفتے بھر مںت (بہتر یہ ہے کہ جمعے کے دن) ایک مرتبہ، ورنہ مہنے مںا ایک مرتبہ، نہںم تو سال بھر مںو ایک مرتبہ، یہ بھی قابو مں نہ آسکے تو زندگی بھر مںت ایک مرتبہ تو پڑھ ہی لات جائے۔ (یہ ارشاد مبارک بطور ترغبں کے ہے فرض واجب کے درجے مںت نہںس ہے۔) (ہمارے زمانے مں ہمارے علاقوں مں عموماً صلوٰۃ التسبیح کی نماز پڑھنے کا اہتمام شب برات اور شبِ قدر مںج کاے جاتا ہے بہت اچھی بات ہے اس اہتمام مں کوئی حرج بھی نہںد ہے بس دو باتوں کا بطور خاص خاپل رکھا جائے، نمبر ایک اس نماز کو صرف ان راتوں مںت ہی پڑھی جانے والی نماز نہ سمجھا جائے، نمبر دو چونکہ اس نماز سے متعلق جتنی معلومات کتابوں کے حوالوں کے ساتھ دی جاتی ہںت ان مںڑ کہںے بھییہ نظر سے نہںا گزرا کہ نبیﷺیا صحابہ کرامؓ نے اس نماز کو باجماعت پڑھا ہو یا پڑھنے کو کہا ہو۔ نزا اگر ہمارا فقہی مسلک حنفی ہے تو احناف کے مسلک مںج نفل نماز انفرادی طور پر اکلےق ہی پڑھی جاتی ہے باجماعت نہںح۔) سوال: تسروا کلمہ کسے کہتے ہںہ اور صلوٰۃ التسبیح مںک اسے کتنا پڑھا جانا کافی ہے؟ جواب:تسرنا کلمہ (کلمۂ تمجدا) کو کہتے ہںا او راس کے مکمل الفاظ یہ ہںڑ: {سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرْ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ} افضل تو ییٰ ہے کہ اس مکمل کلمے کو ہر مرتبہ صلوٰۃ التسبیح مں بھی پورا ہی پڑھا جائے لکنِ واﷲ اکبر تک پڑھنا بھی کافی رہے گا۔ سوال: صلوٰۃ التسبیح کی ہر رکعت مںل تسرْے کلمے کی پچھتر(75) مرتبہ کی ترتب کاھ ہے؟ جواب: صلوٰۃ التسبیح کی ہر رکعت مںل پچھتر(75) مرتبہ تسرَے کلمے کی مقدار اور ترتبت حسب ذیل ہے: ۱ نماز شروع کرکے مکمل ثنا پڑھنے کے بعد تسر ا کلمہ پندرہ (15) مرتبہ پڑھا جائے۔ ۲ مکمل اعوذباﷲ من الشیطٰن الرجمر، بسم اﷲ الرحمن الرحمھ، سورۂ فاتحہ،کوئی چھوٹی سورت یا تنھ آیںاع پڑھنے کے بعد تسربا کلمہ دس (10) مرتبہ پڑھا جائے۔ ۳ رکوع مںل، رکوع مںے پڑھی جانے والی تسبح تن مرتبہ پڑھنے کے بعد تسریا کلمہ دس(10) مرتبہ پڑھا جائے۔ ۴ رکوع کے بعدسدبھے کھڑے رہنے کی حالت مں۔ سَمِع اﷲ لمن حمدہ اور ربّنا لَک الحمد پڑھنے کے بعد تسریا کلمہ دس (10) مرتبہ پڑھا جائے۔ ۵ پہلے سجدے مں ، سجدے مںن پڑھی جانے والی تسبح تنب مرتبہ پڑھنے کے بعد تسرھا کلمہ دس (10) مرتبہ پڑھا جائے۔ ۶ پہلے سجدے کے بعد بٹھنےا کی حالت مں۔ تسرِا کلمہ دس (10) مرتبہ پڑھا جائے۔ ۷ دوسرے سجدے مںب، سجدے مںی پڑھی جانے والی تسبحک تن مرتبہ پڑھنے کے بعد تسراا کلمہ دس (10) مرتبہ پڑھا جائے۔ اس طرح ایک رکعت مںع سات(7) مختلف جگہوں پر مندرجہ بالا ترتبہ کے مطابق پڑھنے جانے والے تسرلے کلمے کی کل تعداد پچھتر(75) مرتبہ ہوجائے گی۔ اس ترتبا کے ساتھ ہر رکعت مںر پچھتر(75) ، پچھتر(75) مرتبہ پڑھے۔ اس طرح چار رکعتوں مںح کُل تعداد تنج (300) سو مرتبہ ہوجائے گی۔ او راس تعداد سے زیادہ نہںچ پڑھی جائںھ گی، لہٰذا دوران نماز سجدۂ سہو واجب ہوجائے تو سہو کے سجدوں مںد اس تسبحک کو نہں پڑھا جائے گا صرف سجدے مںے پڑھی جانے والی تسبح ہی سہو کے دونوں سجدوں مںا پڑھی جائے گی نزل اگر کسی جگہ پر اس کی مقررہ تعداد غلطی سے کم رہ گئی ہو یا بھول کر اس جگہ تسبحد ہی نہ پڑھی جاسکی ہو تو اس سے اگلی جگہ پر وہاں کی مقررہ تعداد کو پورا کرتے ہوئے اس تعداد کو بھی پورا کار جائے گا۔ اگر پڑھی جانے والی تعداد ذہنی طور یاد نہ رہ سکتی ہوں تو انگلوہں پر گنا جاسکتا ہے۔ سوال: صلوٰۃ التسبیح پڑھنے کی فضیلت شریعت نے کا بتلائی ہے؟ جواب:اﷲتعالیٰ صلوٰۃ التسبیح پڑھنے والے کے حقوق اﷲ سے تعلق رکھنے والے اگلے، پچھلے، پرانے، نئے، جان بوجھ کر کےا گئے، انجانے مں ہوجانے والے، چھوٹے، بڑے، سب کے سامنے ہونے والے، چھپ کر کے جانے والے گناہ تعداد کے اعتبار سے اگر سمندر کی جھاگ کے برابر بھی ہوں تو معاف فرما دیں گے۔ سوال: صلوٰۃ التسبیح پڑھنے کا مکمل طریقہ کاح ہے؟ جواب:باوضو ہوکر قبلے کی طرف رُخ رکھتے ہوئے یہ دل مں ارادہ کرے کہ میںچار رکعت صلوٰۃ التسبیح کی نتن سے پڑھ رہا ہوں۔ پھر اﷲ اکبر کہتے ہوئے کانوں تک دونوں ہاتھ اٹھائے اور ناف (پٹہ کے درماان کا سوراخ) کے نچےا پٹا پر باندھ لے ، پھر ثنا : {سُبْحٰنَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالٰی جَدُّکَ وَلَآ اِلٰہَ غَیْرُکْ} پڑھے، پھر: {سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرْ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ}پندرہ(15) مرتبہ پڑھے، پھر: {اعوذباﷲ من الشیطٰن الرجیم}،{بسم اﷲ الرحمن الرحیم} سورۂ فاتحہ: {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَO الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِO مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِO اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُO اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَO صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَ لااَا الضَّآلِّیْنَO} {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} کوئی سورت مثلاً: {قُلْ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌO اَللّٰہُ الصَّمَدُO لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْO وَ لَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌO} یا تنا آیںَّ پڑھے، پھر : {سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرْ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ} دس(10) مرتبہ پڑھے، پھر اﷲ اکبر کہتے ہوئے رکوع مں جائے تنَ مرتبہ {سبحان ربّی العظمِ} پڑھے، پھر: {سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرْ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ} دس(10) مرتبہ پڑھے، پھر: {سمع اﷲ لمن حمدہ} کہتے ہوئے سدُھا کھڑا ہو اور:{رَبَّنا لک الحمد} کہے، پھر: {سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرْ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ} دس(10) مرتبہ پڑھےدس(10) مرتبہ پڑھے، پھر اﷲ اکبر کہتے ہوئے سجدے مںٓ جائے، تنب مرتبہ {سبحان ربّی الاعلٰی} پڑھے، پھر: {سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرْ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ} دس(10) مرتبہ پڑھے، پھر اﷲ اکبر کہتے ہوئے قعدے کی حالت مںل بٹھے اور : {سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرْ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ} دس(10) مرتبہ پڑھے، پھر اﷲ اکر کہتے ہوئے دوسرا سجدہ کرے، اور تنا مرتبہ {سبحان ری الاعلیٰ} کہنے کے بعد: {سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرْ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ} دس(10) مرتبہ پڑھے۔ اس کے بعد اﷲ اکبر کہتے ہوئے (دوسری رکعت کے لےُ) سدْھا کھڑا ہو، اور ہاتھوں کو ناف کے نچےا باندھ لے پہلے پندرہ (15) مرتبہ : {سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرْ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ}پڑھے، پھر پوری بسم اﷲ الرحمن الرحمِ، سورۂ فاتحہ اور کوئی سورت یا تنل آیںْع پڑھ لنےع کے بعد: {سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرْ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ} دس(10) مرتبہ پڑھے، پھر اﷲ اکبر کہتا ہوا رکوع مںٓ جائے، رکوع کی تسبح {سبحان ربّی العظیم} تنل مرتبہ پڑھنے کے بعد: {سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرْ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ} دس(10) مرتبہ پڑھے، پھر{سمع اﷲ لمن حمدہ}، {ربنا لک الحمد} کہتا ہوا سدلھا کھڑا رہے، اور: {سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرْ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ} دس(10) مرتبہ پڑھے، پھر اﷲ اکبر کہتا ہوا سجدے مںٓ جائے، سجدے کی تسبح : {سبحان ربّی الاعلیٰ} تنل مرتبہ پڑھنے کے بعد: {سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرْ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ} دس(10) مرتبہ پڑھے، پھر اﷲ اکبر کہتا ہوا قعدے کی حالت میںسیدھا بیٹھ جائے اور : {سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرْ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ} دس(10) مرتبہ پڑھے، پھر اﷲ اکبر کہتا ہوا سجدے مںٓ جائے، سجدے کی تسبح :{سبحان ربّی الاعلیٰ} تنّ مرتبہ پڑھنے کے بعد: {سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرْ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ} دس(10) مرتبہ پڑھے، پھر اﷲ اکبر کہتے ہوئے قعدے کی حالت مںل بٹھے اور پوری التحالت، درودشریف اور دعا: {اللّٰھم انی ظلمت نفسی ظلما کثیرًا ولا یغفر الذنوب الّا انت فاغفرلی مغفرۃ من عندک وارحمنی انّک انت الغفور الرحیم} پڑھے۔ (صرف پوری التحاًت پڑھنا بھی کافی ہوگا۔) پھر (تسرہی رکعت کے لےم)اﷲ اکبر کہتے ہوئے کھڑے ہوکر دونوں ہاتھ ناف کے نچےگ باندھ لے پھر پوری ثنا پڑھے، پھر: {سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرْ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ} پندرہ(15) مرتبہ پڑھے، پھر:{اعوذ باﷲ من الشیطٰن الرجیم، بسم اﷲ الرحمن الرحیم } ، سورۂ فاتحہ ، پھر کوئی سورت یا تنَ آیںال پڑھے، پھر: {سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرْ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ}دس(10) مرتبہ پڑھے، پھر اﷲ اکبر کہتے ہوئے رکوع مں جائے تنَ مرتبہ {سبحان ربّی العظیم} پڑھے، پھر: {سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرْ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ}دس(10) مرتبہ پڑھے، پھر{سمع اﷲ لمن حمدہ} کہتے ہوئے سداھا کھڑا ہو اور {ربنا لک الحمد}کہے، پھر: {سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرْ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ}دس(10) مرتبہ پڑھے، پھر اﷲ اکبر کہتے ہوئے سجدے مںل جائے تنہ مرتبہ {سبحان ربی الاعلیٰ}پڑھے، پھر: {سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرْ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ}دس(10) مرتبہ پڑھے، پھر اﷲ اکبر کہتے ہوئے قعدے کی حالت مںل بٹھے اور: {سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرْ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ}دس(10) مرتبہ پڑھے، پھراﷲ اکبر کہتے ہوئے دوسرا سجدہ کرے اور تنَ مرتبہ {سبحان ربی الاعلیٰ} کہنے کے بعد: {سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرْ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ} دس(10) مرتبہ پڑھے۔ اس کے بعد اﷲ اکبر کہتے ہوئے(چوتھی رکعت کے لےُ) پھر سدوھا کھڑا ہو اور ہاتھوں کو ناف کے نچےی باندھ لے پہلے پندرہ (15) مرتبہ: {سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرْ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ} پڑھے، پھر پوری{بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم}، سورۂ فاتحہ ، پھر کوئی سورت یا تنل آیںلِ پڑھے، پھر: {سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرْ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ}دس(10) مرتبہ پڑھے، پھر اﷲ اکبر کہتا ہوا رکوع مںٓ جائے، رکوع کی تسبحب{سبحان ربی العظیم} تنل مرتبہ پڑھنے کے بعد: {سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرْ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ} دس(10) مرتبہ پڑھے، پھر{سمع اﷲ لمن حمدہ} کہتے ہوئے سداھا کھڑا ہو اور {ربّنا لک الحمد} کہتا ہوا سدبھا کھڑا رہے اور: {سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرْ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ} دس(10) مرتبہ پڑھے، پھراﷲ اکبر کہتا ہوا سجدے مںٰ جائے، سجدے کی تسبحٰ{سبحان ربی الاعلیٰ} تنل مرتبہ پڑھنے کے بعد: {سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرْ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ}دس(10) مرتبہ پڑھے، پھر اﷲ اکبر کہتا ہوا قعدے کی حالت میںسیدھا بیٹھ جائے اور: {سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرْ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ} دس(10) مرتبہ پڑھے، پھر اﷲ اکبر کہتا ہوا سجدے مںا جائے، سجدے کی تسبحک{سبحان ربی الاعلیٰ} تنہ مرتبہ پڑھنے کے بعد: {سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرْ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ}دس(10) مرتبہ پڑھے، پھر اﷲ اکبر کہتے ہوئے قعدے کی حالت مںّ بٹھے اور پوری التحاَت، درودشریف اور دعا (جوصفحہ 7 پر موجود ہںِ) پڑھے۔ پھرالسلام علکم ورحمۃ اﷲ کہتے ہوئے سدبھے ہاتھ کی طرف صرف گردن گھمائے پھر اسی طرح السلام علکم ورحمۃ اﷲ کہتے ہوئے الٹے ہاتھ کی طرف صرف گردن گھمائے اس طرح صلوٰۃ التسبیح کی نماز مکمل ہوجائے گی۔ نوٹ: اگر سلام پھرصنے کے بعد یاد آئے کہ کسی مقررہ جگہ کی تسبحی بالکل نہںر پڑھی جاسکییا پڑھتے ہوئے تعداد مںے کمی رہ گئی تو کوئیبات (حرج) نہں آئندہ دوبارہ پڑھے جانے کے مواقع پر جگہوں اور تعداد کا خا ل رکھے۔ ’’نماز استخارہ‘‘ سوال: نماز استخارہ کسے کہتے ہں اور اسے کب پڑھا جاسکتا ہے اور اس کی کتنی رکعتںل ہوتی ہںل؟ جواب: شرعی اصطلاح مںہ استخارے کا مطلب ہے اﷲتعالیٰ سے مشورہ چاہنا کسی جائز اور اہم کام کے بارے مںِ دل کوئی فصلہ نہ کر پاتا ہو کہ اس کام کو کات جائے یا نہ کاا جائے یا کسےر اور کس وقت کاا جائے؟ (واضح رہے کہ فرض وواجب کام تو ہر حال مں کرنا ضروری ہںک) تو اس کا فصلہ کرنے کے لےا شریعت نے ترغبک دی ہے کہ باوضو ہوکر دو رکعت نماز پڑھ کر دعا مانگتے ہوئے اﷲتعالیٰ سے مشورہ چاہ لاا جائے اس مقصد و نتر سے پڑھی جانے والی نماز کو نماز استخارہ کا نام دیا گاو ہے۔ عموماً یہ نماز رات کو تمام کاموں سے فارغ ہوکر سونے سے پہلے پڑھے جانے کا رواج ہے لیکنیہ ضروری نہںہ بہتر ہے۔ اس نماز کو نفل نماز کے ممنوعہ مواقع اور اوقات کے رات دن کے کسی بھی حصے مںا پڑھا جاسکتا ہے۔ نماز پڑھ کر سونے کی حالت مںت خواب مں اشارہ ملنے کی بات بھی کہی جاتی ہے جوکہ صححپ ہے لکنن ضروری نہں ہے (البتہ خواب نظر آنے کی صورت مںز اس خواب کی تعبرب (خواب کا نتجہج) اگر خود نہ جانتا ہو تو فن تعبرج کے ماہرین سے پوچھ کر عمل کرے۔ نزا اگر خواب کی تعبرا کام نہ کرنے کی ہو پھر وہ کام نہ کرے کرنے کی صورت مںن نقصان کا خطرہ ہے) دو رکعت پڑھ کر اپنے مقصد کے حوالے سے دعا مانگے دعا کی ابتدا حمدوثنا اور درودشریف سے کرے ، دعا میںیہ کہے کہ اے اﷲ! اگر آپ کے علم کے مطابق یہ کام مررے، مرحے دین، معاشی او رآخری انجام کے حوالے سے بہتر ہو تو اسے مرہا مقدر بناتے ہوئے اسے مر ے لئے آسان بھی فرمائںم اور مرتے لےر اس مںی برکت بھی ڈال دیں، اور اگر بہتر نہ ہو تو مرےے دل و دماغ سے اس خاےل ہی کو ختم فرمادیں اور جو مرےے حق مںر بہتر ہو جس طرح آپ چاہں عطا فرمادیں اور پھر مجھے اس کے ساتھ راضی فرمادیں پھر درودشریف پڑھ کر دعا مکمل کرلں ۔ یہ عمل سات دنوں تک کریں اور سات دنوں کے بعد دل و دماغ کا رجحان جس جانب ہو اس پر عمل کرلںر اسی مں خرم (بھلائی) ہوگی۔ بہتر یہ ہے کہ اپنے کاموں کے لےک استخارہ خود کاس جائے دوسروں سے بھی کرایا جاسکتا ہے۔ ’’صلوٰۃ الحاجات‘‘ سوال: صلوٰۃ الحاجات کسے کہتے ہںہ اور ان کی رکعات کی تعداد کتنی ہے؟ جواب:قرآن عزیز مںت ہے اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعے اﷲتعالیٰ سے مدد چاہو۔ احادیث مبارکہ مںس ہے کہ نبی اکرم ﷺ کو جب کوئی اہم بات پشت آجاتی تھی تو آپ ﷺ فوراً نماز کی طرف متوجہ ہوجایا کرتے تھے۔ چنانچہ شریعت نے ترغبخ دی ہے کہ جب بھی کوئی ضرورت پش آجائے چاہے وہ چھوٹی ہو یا بڑی، دنووی ہو یا دییت، کسی ناگوار، تکلف دہ چزں سے بچنا ہو، یا کسی خوشگوار و مفد چزم کو حاصل کرنا تو جسےل اس کے لےی مادی تدابرے اختایر کی ہںر ایسے ہی اس کے لے روحانی تدبرس بھی اختایر کی جائے اور وہ یہ ہے کہ جسےا ہی کوئی فوری ضرورت پشم آجائے اور اس وقت نفل نماز پڑھے جانے کا وقت ہو تو دو رکعات صلوٰۃ الحاجات کی نتر کرتے ہوئے پڑھیجائںس اور اس مقصد کے حصول کے لےو اﷲتعالیٰ سے دعا مانگی جائے (مثلاً ہم خود کسی بمااری مںد مبتلا ہوں یا ہمارا کوئی متعلق بما ر پڑجائے تو جہاں ہم علاج کرانے کی تدبرا کرتے ہں وہاں اسے بھی ایک روحانی تدبرم کا درجہ دیں اور دو رکعات صلوٰۃ الحاجات کی نتر سے پڑھ کر اﷲتعالیٰ سے شفا مانگںر)۔ نوٹ:نماز استخارہ آئندہ پشا آنے ولی ضرورت کے لےل پڑھی جاتی ہے اور نماز حاجات فوری ضرورت کے لےد پڑھی جاتی ہے۔ ’’نمازاحرام‘‘ سوال: نماز احرام کسے کہتے ہںر اور ان کی رکعات کی تعداد کتنی ہے؟ جواب:حج اور عمرہ کرنے والے بتہ اﷲ کا طواف مَرد احرام کی چادریں باندھ کر اور عورتں احرام کی حالت مںی کرتی ہںہ۔ اس احرام کی حالت مںع آنے کے بعد شریعت نے دو رکعتںر پڑھنے کی تعلمھ دی ہے۔ اس نماز کو نماز احرام کہتے ہںی اور اس نماز کو سر ڈھانپ کر نفل نماز پڑھے جانے کے مواقع اور اوقات مںع پڑھا جاتا ہے۔ ’’صلوٰۃ الکسوف‘‘ سوال: صلوٰۃ الکسوف کسے کہتے ہں ؟یہ نماز کب اور کسےا اور کتنی رکعات پڑھی جاتی ہںز؟ جواب:سورج ایک طے شدہ نظام کے ماتحت اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے کبھی کبھی اس پر قدرتی طور پر ایی حالت آجاتی ہے کہ اس کی روشنی بجھ جاتی ہے اس کی چمک کچھ دیر کے لےے اس سے جاتی رہتی ہے (جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سورج معبود نہںے ہے۔ ایسا نہ کسی کی پدھائش پر ہوتا ہے نہ ہی کسی کی موت اس کی وجہ بنتی ہے، یہ تو اﷲتعالیٰ کی قدرت کا اظہار، اس کے مواخذے اور پکڑ کا خوف دلانے اور اس کی طرف رجوع کرانے کی ایک علامت ہے) سورج کی اس حالت کو عربی مںف کسوف اور اردو مں گہن کہا جاتا ہے۔ شریعت نے ایسے موقعے پر نہ صرف اﷲاکبر کہتے رہنے، خرھ خر ات کرنے اور دعائںز مانگنے کی تعلمک دی ہے بلکہ نماز پڑھنے کی بھی ترغبی دی ہے۔ اس وقت پڑھی جانے والی اس نماز کو صلوٰۃ الکسوف کا نام دیا گاز ہے۔ جس مںہ دو رکعتںم پڑھی جاتی ہں ۔ جسے باجماعت بھی پڑھا جاسکتا ہے اور اکلےک اکلےی بھی۔ باجماعت پڑھنے کی صورت مںا پڑھے جانے سے پہلے نہ اذان دی جاتی ہے نہ ہی اقامت کہی جاتی ہے۔ قرأت بھی بلند آواز سے یینے جہری نہں آہستہ یینے سری پڑھی جاتی ہے۔ قرأت بھی طویل کرنا افضل ہے۔ نماز کے بعد اگر ابھی تک گہن ختم نہ ہوا ہو تو اس کے ختم ہونے تک دعا مںع مشغول رہا جائے۔ البتہ اس بات کا خایل رہے کہ سورج کے گہن کے وقت نفل پڑھنا منع نہ ہو۔ اگر نماز سے پہلے کوئی جنازہ آجائے تو پہلے نماز جنازہ پڑھی جائے۔ ’’صلوٰۃ الخسوف‘‘ سوال: صلوٰۃ الخسوف کسے کہتے ہںے؟ اور اس کی رکعات کی تعداد کتنی ہے؟ جواب:خسوف عربی زبان مںک چاند گرہن کو کہتے ہںی (گرہن اور گہن تقریباً ہم معنیٰ ہںا) (چاند گہن سے متعلق تمام تر تفصیلاتسورج گہن والی ہی ہںن) چاند گرہن کے موقعے پر بھی شریعت نے دو رکعات صلوٰۃ الخسوف کی نتے سے پڑھنے کی ترغب دی ہے لکنر اس نماز کا اکلے اکلےے پڑھنا ہی افضل ہے۔ نوٹ: اگر کوئی ڈراؤنی اور خوفناک صورتحال پشا آجائے مثلاً دن یا رات کے وقت سخت آندھی آجائے یا لگاتار نہ بند ہونے والی بارش برسے یا دھند چھا جائے یا کثرت سے نہ رکنے والے اولے گرتے رہںا،یا دن مںا سخت تارییھ چھا جائے، یا رات مںی غرر معمولی (خوفناک) روشنی ہوجائے،یا زلزلے آئیںیا بجلادں کڑکںت (خوفناک آوازیں) یا بجلا ں گریںیا کوئی وائرس پھیل جائے، یا دشمن کا سخت خوف ہو یا دھمکا،ں ملیںیا بھتے کی پرچا ںیا فون آئںآ وغرنہ وغرسہ تو ایسے ہرہر موقعے پر اکلےئ اکلےج دو رکعات ان موقعوں کے عافتگ کے ساتھ دور ہونے کی نتے سے پڑھی جایا کریں اور نماز کے بعد ان کے دور ہونے کی دعائںا مانگی جایا کریں۔ ’’نماز استسقا‘‘ سوال: نماز استسقا کسے کہتے ہں اور اس کی کتنی رکعات ہںی؟ جواب:استسقا کے معنٰی ہںر پانی مانگنا، شریعت کے اعتبار سے یہ ایک اصطلاح ہے جس وقت سخت خشک سالی (قحط) ہوجائے، بارش نہ ہو رہی ہو، جھلویں، تالاب، نہروں، کنووں وغرگہ کا پانی انسانوں اور دیگر جانداروں کو پنےت کے لےر بھی ناکافی ہوجائے اور کھیتوں کو سرھاب کرنے کے لےو بھی نہ ملے اس وقت اﷲتعالیٰ سے جس کت ںر کے ساتھ بارش مانگی جائے اسے استسقا کہتے ہںا۔ اس صورتحال کے پشی نظر اکلےل اکلےی نماز پڑھنا، باجماعت نماز پڑھنا، صرف دعا و استغفار کرنا ثابت ہے، لہٰذا ان ثابت شدہ اعمال مں سے کوئی بھی عمل کا جاسکتا ہے۔ اس موقعے پر جو دو رکعت نماز پڑھی جاتی ہے اسے نماز استسقا کہتے ہںل اس نماز کے لےا اپنے نابالغ بچوں اور پالتو جانوروں کو ساتھ لے کر لوگ جنگل کی طرف نکلتے ہںس اور بغرم اذان و اقامت کے دو رکعتںس باجماعت پڑھ کر ہتھولغ ں کی پشت آسمان کی طرف رکھتے ہوئے نہایت گِڑگِڑا کر اپنے گناہوں کی معافی چاہتے ہوئے بارش کی دعائںا اﷲتعالیٰ سے اجتماعی طور پر مانگتے ہںی اور ایسا تنہ دنوں تک کرتے ہںگ۔ ’’نماز تراویح‘‘ سوال: نماز تراویح کسے کہتے ہیںیہ کب، کسےن اور کتنی پڑھی جاتی ہںز؟ جواب:ہرہر عاقل بالغ مقمگ مرد و عورت پر رمضان المبارک کے پورے مہنےی کی ہرہر رات مںک عشاء کے فرض پڑھ لنےو کے بعد دو دو کرکے بسا(20) رکعات کا باجماعت یا اکلےو اکلے پڑھنا سنت مؤکدہ ہے (باجماعت پڑھنا سنت مؤکدہ کفایہ ہے یینے جماعت سے پڑھنا بالکل چھوڑ دیا جائے تو تمام لوگ گنہگار ہوں گے نزہ صبح صادق تک اکلے اکلےہ پڑھ لنان ہر شخص پر لازم ہے۔) اس وقت پڑھی جانے والی اس نماز کو نماز تراویح کہتے ہںگ۔ نماز تراویح صرف رمضان المبارک ہی مںا پڑھے جانے کی تعلمخ شریعت سے ثابت ہے اور اسے علماء نے نبیﷺ کی سنت بتلایا ہے۔ بسن(20) رکعات بھی نبیﷺ نے ہی بتلائی ہںل جنہںش باجماعت پڑھنا یینا جماعت سے پڑھنے کا اہتمام حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کے دورِخلافت مںم لازم کاق گاا اس وقت سے لے کر آج تک مسلمانانِ عالم بلاانکار ہر زمانے مںت اس پر عمل کرتے چلے آئے ہںن اور ان شاء اﷲقازمت تک یہ عمل جاری رہے گا (مسلمانوں کے ایک طبقے نے نبیﷺ کے سال بھر کے روزانہ ہر رات مں آٹھ نوافل پڑھنے کے معمول کو رمضان المبارک مںی بھی تراویح کے نام سے جاری رکھا ہؤاہے)۔ نماز تراویح کا وقت عشاء کے فرض پڑھ لنےپ کے بعد شروع ہوتا ہے اور سحری کا وقت ختم ہونے تک جاری رہتا ہے لہٰذا اگرکسی رات مںو کسی وجہ سے اول وقت مںن نماز تراویح ہی نہ پڑھی جاسکی ہو یا اس کی کچھ رکعتںس رہ گئی ہوں تو انہںک سحری کا وقت ختم ہونے سے پہلے پہلے تک پڑھ لناں چاہےو اس کے بعد قضا نہںم ہے۔ اس نماز کے حسن (خوبصورتی) مں دو چز یں شامل ہںت: (۱) رمضان المبارک کی تمام راتوں میںعشاء کے فرضوں اور وِتروں کے درماحن باجماعت پڑھنے کا اہتمام رکھا جائے (اکلےی پڑھی جاسکتی ہے، فرضوں سے پہلے نہںی پڑھی جاسکتی، وتروں کے بعد وقت باقی ہونے کی صورت مںت پڑھی جاسکتی ہے)۔ (۲) نماز تراویح مںہ ایک خاص مقدار مں روزانہ پورا قرآن مجد اس ترتبق کے ساتھ پڑھا جائے کہ پورے مہنےھ مںل از اوّل تا آخر کم از کم ایک مرتبہ مکمل پڑھ اور سُن لا جائے۔ سوال: کا کسی شخص کے عشاء کے فرض جماعت کے ساتھ نہ پڑھے جاسکے ہوں تو وہ تراویح کی جماعت مںا شامل ہوسکتا ہے؟ جواب:جی ہاں! ایسا شخص پہلے عشاء کے فرض علحدڑہ اکلےو پڑھ لے پھر تراویح کی جماعت مں شامل ہوجائے۔ اور تراویح کی رہ جانے والی رکعتںن وتروں کی جماعت کے ساتھ پڑھ لنےف کے بعد ادا کرے۔ سوال: کاع وِتر بھی باجماعت پڑھے جاتے ہںھ؟ جواب:جی ہاں! صرف رمضان المبارک مںپ ہی وِتر جماعت کے ساتھ پڑھے جانے کی اجازت شریعت نے دی ہے۔ سوال: اگر کسی کے عشاء کے فرض جماعت کے ساتھ نہ پڑھے جاسکے ہوں تو وہ وِتر باجماعت پڑھ سکتا ہے؟ جواب:جی ہاں! پڑھ سکتا ہے بلکہ پڑھ لیھ چاہے ۔ سوال: اگر کسی کا معمول تہجد کے بعد وِتر پڑھنے کا ہو تو وہ وِتر کی جماعت چھوڑ سکتا ہے؟ جواب:جی ہاں! اسے اپنا ہمشہب کا معمول برقرار رکھنے کا اختا ر حاصل ہے لہٰذا وہ وِتر کی جماعت چھوڑ سکتا ہے البتہ اگرجماعت کے ساتھ پڑھ لتاج ہے تو بھی کوئی حرج نہںم لکنن اس صورت مںب اس روز تہجد کے بعد نہ پڑھے اس لےو کہ ایک رات مںو ایک مرتبہ ہی وِتر کی نماز واجب ہے۔ سوال: رمضان المبارک مںن اگر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کا سفر ہو تو کاڑ تراویح کے بعد وہاں کے اماموں کے پچھےت وِتر باجماعت پڑھ سکتے ہںھ؟ جواب:علمائے کرام اس مسئلے کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہںن کہ امام ابوحنفہؒ کے مسلک مں وِتر کی نماز واجب ہے دوسرے امام وتر کی نماز کو سنت کہتے ہںز اور فقہی اصول یہ ہے کہ واجب پڑھنے والے کی نماز سنت پڑھنے والے امام کے پچھے درست (صحح ) نہں ، لہٰذا ایسے امام کے پچھے واجب پڑھنے کی نتت کرنے والا اپنی واجب نماز نہ پڑھے علحدھہ پڑھے البتہ نفل کی نت سے شریک ہوسکتا ہے جہاں تک وتر کی نماز پڑھنے کے طریقے کا تعلق ہے احناف کے نزدیک ایک سلام کے ساتھ تنے رکعتںا ہںع اور دوسروں کے نزدیک دو سلام کے ساتھ ہں ۔ احناف کے نزدیکتیسری رکعت مںے رکوع سے پہلے دعائے قنوت کا پڑھنا ہے اور دوسروں کے نزدیک رکوع کے بعد قنوت نازلہ کا پڑھنا ہے۔ دونوں طریقے صحح ہںں فرق صرف افضلتہ کا ہی ہے۔ سوال: اگر تراویح کی کوئی دو رکعتںح فاسد ہوجائںت (فقہی اصولوں کے مطابق درست اور قابل قبول نہ ہوں) تو کاک کا جائے؟ جواب:نہ صرف ان دو رکعتوں کو دوبارہ پڑھا جائے بلکہ ان مںط پڑھے ہوئے قرآن کے حصے کو بھی دوبارہ پڑھا جائے۔ سوال: کا تراویح مںک قرآن سنانے والا سنانے کی اجرت یا اپنے وقت کا معاوضہ لے سکتا ہے؟ جواب:نہںص! تراویح مںن قرآن سنانے والا نہ خود کوئی اجرت، نہ سنانے کا کوئی معاوضہ اپنے وقت کا لے سکتا ہے نہ انتظامہظ کوئی اجرت طے کرسکتی ہے۔ نہ کوئی امد دلاسکتی ہے اگر رضائے الہٰی کے لےس سنانے والا نہ ملے تو تراویح چھوٹی چھوٹی سورتںا پڑھ کر ادا کرلی جائں ۔ جہاں تک پنج وقتہ نمازوں کے امام کی تنخواہ کے جواز کا تعلق ہے وہ وقت کا معاوضہ ہے وہ بھی فرض نمازوں کی امامت مںل خرچ ہونے ولے وقت کا ہے او ریہ روزانہ کا مستقل عمل ہے جس کا اہتمام کرانے والا اپنی معاشی ضرورتوں کے لےر کوئی اور کام نہںی کرسکتا تراویح میںیہ باتں نہںن پائی جاتںی۔ البتہ بغر طے کےم اور بغری امدت رکھے ہوئے کوئی اعانت کردے تو اُس کا لنا اور دینا جائز ہے۔ سوال: کاچ تزا رفتاری کے ساتھ تراویح مںم قرآن پڑھا جاسکتا ہے؟ جواب:اتنی تزو رفتاری جائز ہے جس سے تلاوت کے لے بتلائے ہوئے آداب و قواعد متاثر نہ ہورہے ہوں اییا برق رفتاری جو ان آداب و قواعد کو پامال کررہی ہو ناجائز ہے۔ اس سے کہںز بہتر آداب و قواعد کی رعایت کے ساتھ چھوٹی چھوٹی سورتوں کی تلاوت کے ذریعے تراویح پڑھ لی جایا کرے۔ اس حوالے سے حافظ صاحب، انتظامہر اور نمازیوں کو درج ذیل حقائق کو مدنظر رکھنا چاہے : ۱ تراویح ایک عبادت ہے بوجھ نہںا۔ اسے ادا کرنا ہے، سر یا کندھوں سے اُتار کر پھنکنا نہں ہے۔ ۲ قرآن اﷲتعالیٰ کا مقدس کلام ہے جہاں بھی پڑھا جاتا ہے اﷲتعالیٰ خود بھی سنتے ہںل۔ اﷲتعالیٰ کی موجودگی مں انہںل سناتے ہوئے ان کے کلام کے تلاوتی تقدس کا کسام خاال رکھنا چاہےب؟ اگر کوئی ہماری تحریر کو ہمارے سامنے پڑھتے ہوئے ضائع کررہا ہو تو ہم اس کے ساتھ کاک، کتنا اور کساک سلوک کریں گے؟ سوال: تراویح کی نماز مںم کسی آیت کی تلاوت ہی رہ جائے یا غلط پڑھ لی گئی ہو تو اس کی تلافی (نقصان دور کرنے) کا طریقہ کا ہے؟ جواب:اگر اُسی روز نماز تراویح کی تکمل سے پہلے علم مںا آجائے تو اگلی رکعت مںل اس کی صححم تلاوت کی جاسکتی ہے۔ اگر نماز تراویح کی تکملا کے بعد معلوم ہو تو اگلے دن کی نماز تراویح کی کسی بھی رکعت مںت اس کی تلاوت کی جائے گی اگر ایسا نہ کام گاا تو پورے قرآن کے پڑھنےیا سننے مںب اس اعتبار سے کمی رہ جائے گی۔ اگر رمضان المبارک کے مہنےئ کی تکملں پر اییا صورت سامنے آئے تو سوائے توبہ و استغفار کے اور کوئی راستہ نہںہ ہے اس سال کے قرآن کے پڑھنے، سننے کی سنت کی تکملن مںں اُتنی کمی رہ جائے گی جس کا کوئی ازالہ نہںت ہوسکتا۔ نوٹ: کسی بھی نماز مںا تلاوت کے دوران امام صاحب سے کوئی بھول یا غلطی ہورہی ہو تو اس نماز مںی شامل مقتدی ہی اس کی اصلاح کروا سکتا ہے۔ نماز تراویح مںو تو پہلے سے اس کا انتظام سامع کی صورت مں کرلا جاتا ہے لہٰذا اس بھول یا غلطی کی اصلاح سامع کے ذمے ہوتی ہے اس کے علاوہ کوئی اور مقتدی اس وقت تک اصلاح کی کوشش نہ کرے جب تک امام اور سامع اس کی اصلاح نہ کرسکںے البتہ اس کے علاوہ کی نمازوں مںق اگر تن آیات کی بہ قدر امام صاحب تلاوت کرچکے ہوں تو اصلاح کی کوشش کے بجائے امام صاحب کے لے رکوع کرلنای بہتر ہے، اگر امام صاحب کا اصلاح کا اصرار ہو اور ان کی کوشش جاری ہو اور مقتدیوں مںم سے کسی کو وہ مقام یاد ہو تو وہ ان کی اصلاح کراسکتا ہے۔(اصطلاح مںا اسے لُقمہ دینا کہتے ہںو۔) اگر اس نماز مںش شامل لوگوں کے علاوہ کسی او رنے لقمہ دیا او رامام صاحب نے قبول کرلاا تو سب کی نماز ختم ہوجائے گی اور اس نماز کو دوبارہ پڑھنا ہوگا۔ سوال: تراویح کی نماز مںز اگر قرآن پڑھنے کے لے کوئی حافظ نہ ملے تو نماز تراویح مںل قرآن پاک پڑھنے کی نت سے قرآن دیکھ کر پڑھنے کا شریعت مںا کاا حکم ہے، یا نماز کی حالت مں مقتدی کا قرآن کو ہاتھ مںل رکھتے ہوئے دیکھ کر سُننے کے متعلق شریعت کا کہتی ہے؟ جواب: نماز کی حالت مںے امام کا قرآن دیکھ کر پڑھنا یا مقتدی کا پڑھے جانے والے قرآن کا دیکھ کر سُننا دونوں ناجائز ہں اور اس سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ قرآن دیکھ کر نماز پڑھانے والے امام کے پچھے جماعت کی نماز مںن شامل ہونا بھی ناجائز ہے اور اس جماعت مںر شامل کسیمقتدی کا پڑھے جانے والے قرآن کو دیکھ کر سُننا بھی ناجائز ہے، نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ سوال: دوران تراویح بعض حفاظ کرام آنے والے سجدۂ تلاوت کے متعلق نماز شروع کرنے سے قبل ہی اعلان کردیتے ہںب اور بعض اعلان نہں کرتے، اس مںپ بہتر صورت کاے ہے؟ جواب: بہتر تو ییا ہے کہ اییو رکعت کے شروع کرنے سے قبل ہی اعلان کردیا جائے کہ پہلییا دوسری رکعت مںا سجدہ ہے اگر کسی وجہ سے اعلان کرنا بھول جائے تو تلاوت کے سجدے مںک جانے والی تکبرے کو قدرے طول دے تاکہ نمازیوں کو اس بات کی اطلاع ہوجائے کہ امام صاحب رکوع مں نہںک بلکہ سجدے مںی جارہے ہں ۔ سوال: قرآن پاک کے نماز تراویح مںت پڑھنے، سننے کی تکملے پر شرےییل تقسمک کرنے کے حوالے سے شریعت کی کار تعلمو ہے؟ جواب:کسی بھی خوشی کے موقع پر شر،ییب تقسمل کرنے کا جواز شریعت سے ثابت ہے یہ ایک خوشی کا اظہار ہے جس سے شریعت نے منع نہںک فرمایا ہے، البتہ اس مںر کچھ تفصیلات ہں جوکہ درج ذیل ہں : ۱ اگر مسجد مںن جمع شدہ چندے سے شراییع تقسمی کی جارہی ہے تو یہ چندہ مسجد کی لازمی ضروریات کے لےہ دیا گا؟ ہوتا ہے اس کا غرا لازم اخراجات پر خرچ کرنا چندہ دینے والوں کی اجازت کے بغر ناجائز کہا جائے گا۔ ۲ اگرشرسییز کے لےر الگ مستقل چندہ کاا جاتا ہے اور چندہ دینے والے بادل نخواستہ یا جبر سمجھ کے دیتے ہںش تو ایسے چندوں کا لا جانا لازمی ضروریات کے لے بھی ناجائز ہے اس لےہ کہ نبیﷺ کا ارشاد ہے کہ کسی کے نفس کی خوشی کے بغرا اس کا مال لنال ہی ناجائز ہے (نفس تو اپنی جان پر خرچ کرنے پر بخلی ہے تو دوسروں کے لےے خوشی سے دینے پر کسےے آمادہ ہوگا؟) ۳ شرریین کی تقسما، حافظ صاحب وغرلہ کو پھولوں کا ہار پہنانے مں مسجد کے تقدس آداب کا لحاظ نہںر رکھا جاتا۔ ۴ ہر سال شرزییخ کی تقسمم کی پابندی نے اسے جواز کے درجے سے نکال کر وجوب کے درجے مںے پہنچا دیا ہے اور تراویح کا لازمی جزو بن کر رہ گار ہے جس کا چھوڑ دینا ہی دین ہے، لہٰذا اس کے چھوڑ دیے جانے مںا ہی عافتو ہے البتہ عمومی چندے کے بجائے اگر کچھ لوگ اپنے ذاتی مال سے بغرد کسی جبرواکراہ کے اپنی طرف سے انتظام کرلںب مسجد سے باہر تقسم کریں اور کسی کسی سال ناغہ (شراییا کی تقسمغ کی چھٹی) کرلای کریں تاکہ عام لوگوں اور بچوں کے ذہنوں سے اس کا تراویح کا لازمی جزو ہونا نکل جائے۔ ورنہ کہں وہ وقت نہ آجائے کہ ہماری مسجد مں تراویح نہںا ہوتی اس لےا کہ ہم شرکیی تقسمح کرنے کی استطاعت نہںو رکھتے۔ سوال: کاا اوپر ذکر کردہ نوافل کے علاوہ بھی کچھ نوافل بتلائے جاتے ہںح؟ جواب:جی ہاں! دیین کتابوں مںن مزید مواقع کے لے بھی نفل بتلائے جاتے ہں مثلاً جب اپنے ملک یا شہر سے باہر سفر (چاہے سفر دییہ ہو یا دنودی، سراو تفریح کا ہو یا تجارتی، دوستوں رشتے داروں سے ملذ ملاقات کا ہو یا آب و ہوا کی تبدییہ، شادی با ہ مںا شرکت کا ہو یا تعزییک) پر جانے لگے تو سفر کی ابتدا گھر مںح دو نفل پڑھ کر کی جائے جب سفر مکمل کرکے واپس لوٹے تو گھر مں داخل ہونے سے پہلے مسجد جاکر دو نفل پڑھ لے بس اس بات کا خاول رکھے کہ ان دونوں مواقع پر نفل پڑھنا منع نہ ہو۔ (موجودہ حالات مںن کاج ہی بہتر ہو کہ صبح گھروں سے نکلنے سے پہلے، شام کو گھروں مںن داخل ہونے کے بعد اگر نفل نماز پڑھے جانے کا وقت ہو تو فرض و واجب نہ سمجھتے ہوئے کبھی کبھی دو دو رکعات پڑھ لی جایا کریں)۔ ۲ اگرکبھی کوئی گناہ ہوجائے تو توبہ کی نتہ سے دو رکعت نفل نماز توبہ پڑھ لی جایا کرے۔(نماز توبہ کو روزانہ کا معمول بھی بنایا جاسکتا ہے۔) ۳ اگر کبھی کوئی خوشی حاصل ہوجائے تو شکرانے کے طور پر دو رکعت نفل نماز شکرانہ پڑھ لی جایا کرے۔ ۴ اگرکسی کو موت کی سزا ہوجائے یا اسے قتل کاک جارہا ہو تو موقعہ ملے تو دو رکعت نماز نفل کی نتے سے پڑھ کر گناہوں کی معافی اور اپنی مغفرت کی دعا مانگتا رہے تاکہ دنا سے جاتے وقت آخری عمل نماز، استغفار اور دعا بن جائے۔ ۵ اگر کوئی شخص بڑی عمر مں قرآن مجدد حفظ کرنا چاہتا ہو تو حدیث کی کتابوں (ترمذی و حاکم وغروہ) مںس ایک نماز کی تعلم، دی گئی ہے جو درج ذیل ہے۔ ایسا شخص جمعرات اور جمعے کی درماینی رات (شبہ جمعہ) کے آخری تہائی حصے (مثلاً چھ گھنٹے کی رات ہو تو آخری دو گھنٹوں) میںچار رکعت نفل اس ترتب سے پڑھے پہلی رکعت مں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ یٰس شریف، دوسری رکعت مں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ دخان، تسرای رکعت میںسورۂ الم سجدہ ، چوتھی رکعت مںا سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ ملک پڑھے نماز کے بعد اﷲتعالیٰ کی حمدوثنا، درودشریف اور پھر خوب گڑگڑا کر قرآن شریف کے حفظ ہونے اور یاد رہنے کی دعا کرے۔ ۶ ایک حدیث مبارکہ مںد سورج غروب ہونے کے بعد دو رکعت نفل نماز پڑھنے کی ترغبک دی گئی ہے اور ایک دوسری حدیث مںف سورج غروب ہونے کے بعد مغرب کے فرائص مںر تاخر نہ کرنے کی تعلمک دی گئی ہے۔ احناف دوسری حدیث پر عمل کرتے ہںا ان کے علاوہ کے لوگوں کا عمل پہلی حدیث کی ترغب کے مطابق ہے لہٰذا دونوں ہی طریقے صححا ہںس جس طرح دوسرے لوگ کبھی اسے چھوڑ بھی سکتے ہں ۔ احناف کبھی پڑھ بھی سکتے ہں ۔ سوال: کار دن اور رات کے تمام اوقات نفل نمازوں مںف لگائے جاسکتے ہںف؟ جواب:دن اور رات کے جن جن اوقات مںا اور سال بھر کے جن جن مواقع پر نماز پڑھنا یا نوافل پڑھنا منع ہے ان کے علاوہ کے تمام مواقع اور اوقات مںک نفل نمازیں پڑھی جاسکتی ہںں لکنف حقوق واجبہ (حقوق اﷲ، حقوق النفس، حقوق العباد) کی ادائولوگں کے ساتھ ساتھ۔ بلاشبہ نوافل اﷲتعالیٰ کا قرب حاصل کرنے، اﷲتعالیٰ سے تعلق قائم کرنے، برقرار رکھنے کا اعلیٰ، اشرف وافضل ترین ذریعہ ہے۔ اخروی حساب مںے فرائض کی کمی کو نوافل سے پورا کاٰ جائے گا اس لےل نامۂ اعمال مںہ نوافل کا ذخریہ بھی ہونا چاہے ۔ علمائے کرام نے شرعی سفر میںد وران سفر چلتی سواری پر اگر نوافل پڑھے جانے کا وقت ہو تو قبلۂ رخ ہوئے بغرگ بھی نفل پڑھنے کی اجازت دی ہے (یہ اجازت فرض واجب اور سنت نمازوں کے لےر نہںن ہے اس مں قبلۂ رخ ہونا اور تکملی نماز تک رہنا پڑے گا۔) سوال: وہ کون سے مواقع ہںر جن مںہ نفل نماز پڑھنے سے منع کاں گای ہے؟ جواب:عدشالفطر (یکم شوال) اور عدڑالاضحیٰ (دس ذی الحجہ) کے دن نماز فجر کی ادائی ت کے بعد سے عد کی نماز کی تکمل تک نہ گھر مں۔، نہ ہی مسجد و عدنگاہ مںل کوئی نفل نماز بشمول اشراق کے پڑھنے سے منع کاا گا ہے۔ عدت کی تکمل کے بعد بھی عددگاہ مںن کوئی نفل نماز نہںی پڑھی جائے گی البتہ عد کی نماز کے بعد گھر آکر نوافل پڑھے جاسکتے ہں ، جمعے کے خطبے کے لے، جب خطبم منبر پر بیٹھ جائے تو اس موقعے پر بھی (احناف کے مسلک مں ) نماز کے پڑھنے سے منع کا گاک ہے۔ سوال: وہ کون کون سے اوقات ہںع جن مںگ نفل نماز پڑھنا منع ہے؟ جواب:تنش اوقات تو وہ ہںر جن مںد نماز پڑھنا ہی منع ہے چاہے فرض وواجب نماز ہی کوکں نہ ہو۔ ۱ جب سورج نکل رہا ہو۔ (قضا نمازیں دس منٹ بعد اور نوافل احتاپطاً بسع منٹ بعد پڑھے جائں ۔) ۲ زوال (جب سورج اپنی بلندی کی انتہا تک پہنچنے کے بعد ڈھلنا (نچےچ کی طرف اترنا) شروع ہوجائے) کے وقت۔ (زوال کے وقت سے پانچ منٹ پہلے اور پانچ منٹ بعد تک) نماز نہ پڑھی جائے۔ ۳ جب سورج غروب ہورہا ہو۔ (اگر کسی دن عصر کی نماز نہ پڑھی گئی ہو اور سورج غروب ہونے مںہ ایک لمحہ بھی باقی ہو تو صرف اس دن کی عصر کی نماز پڑھنی شروع کردییا چاہے چاہے نماز کے دوران سورج غروب ہی کووں نہ ہوجائے نماز مکمل کرلی جائے البتہ اتنی تاخرک کرنا نامناسب ہے) دو اوقات وہ ہںی جن مںی صرف نفل نماز پڑھنا منع ہے۔ قضا نمازیں، نماز جنازہ، سجدۂ تلاوت منع نہں ہے۔ ۱ نماز فجر کا وقت شروع ہونے کے بعد سے سورج نکلنے کے تقریباً بسز منٹ بعد تک کوئی نفل نماز نہ پڑھی جائے۔ ۲ عصر کے فرض پڑھ لنےو کے بعد سے لے کر سورج کے غروب ہوجانے تک کوئی نفل نماز نہ پڑھی جائے (البتہ عصر کے وقت مںر عصر کے فرض پڑھے جانے سے پہلے نوافل پڑھے جاسکتے ہںہ۔) نفل نمازوں سے متعلق مزید وضاحتیں ۱ نفل نماز کی دو رکعت مںن مختلف مقاصد سے متعلق جتنی چاہے نںےنف کی جاسکتی ہںق مثلاً تحیۃ المسجد، صلوٰۃ التوبہ، صلوٰۃ الحاجات، نفل شکرانہ وغرتہ۔ ۲ نفل نماز یا سنت غرتمؤکدہ چار رکعات والی ہوں تو بہتر اور افضل یہ ہے کہ دو رکعت کے بعد جب پہلے قعدے مںی پوری التحافت پڑھ چکیں تو اس کے بعد درودشریف اور دعا بھی پڑھ لں، اس کے بعد تسرہی رکعت کے لےر کھڑے ہوں پہلے سبحٰنک اللّٰھُمَّ پوری پڑھں اس کے بعد پوری اعوذباﷲ من الشیطٰن الرجمے، اور بسم اﷲ الرحمن الرحیمپڑھ کر سورۂ فاتحہ اور سورت پڑھںم (جبکہ چار اور تنا رکعات والی فرض، تنا رکعات والی وِتر، چار رکعات والی سنت مؤکدہ نمازوں مں دو رکعات کے بعد والے قعدے مں صرف مکمل التحاکت پڑھ کر تسربی رکعت کے لےو کھڑا ہوا جاتا ہے اگر ان نمازوں مںں مکمل التحاات پڑھ لنےح کے بعد فوراً کھڑے ہونے کے بجائے بھول کر بھی اللّٰھم صلِّ علیٰ محمدٍ تک بھی پڑھ لات تو سجدہ سہو واجب ہوجائے گا۔(مکمل تفصیلات ان شاء اﷲ علحدکہ با ن ہوں گی۔ ۳ صحح سالم، تندرست و توانا (کھڑے ہوکر نماز پڑھ سکنے والے) مرد و عورت کے لےا فرض، واجب (اگر بیٹھ کر پڑھنے کی نذر نہ مانی ہو)، سنت مؤکدہ نمازوں کو کھڑے ہوکر پڑھنے کا حکم ہے جبکہ غرامعذور کو بھی سنت غرےمؤکدہ اور نوافل کو بیٹھ کر پڑھنے کی اجازت ہے حکم نہں، کہ بیٹھ کر ہی پڑھا جائے نزو اس اجازت کے ساتھ یہ بھی بتلا دیا گار ہے کہ سنت غرامؤکدہ اور نوافل کو بیٹھ کر پڑھنے کی صورت مںب ثواب آدھا ملے گا۔ اس اجازت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض مرد اور اکثر خواتن۔ نے تمام نفل نمازوں کو بیٹھ کر ہی پڑھتے رہنے کی عادت سی بنالی ہے۔ اس مںئ قابل اصلاح پہلو یہ بھی ہے کہ نوافل کو بیٹھ کر پڑھنے کو شریعت کا حکم نہ سمجھا جائے۔ نزپ آخرت مںن تو ایک ایک نید قیت ہوگی (یہ فارن اینجچ جتنا زیادہ ہوگا بہتر سے بہتر اعزاز و اکرام کے حصول مںت آسانی ہوگی) لہٰذا بغرم عذر کے پست ہمتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ثواب مںے پچاس فصد کٹوتی مسلسل کراتے رہنا قابل غور ہے کبھی کبھی بلند حوصلگی دکھاتے ہوئے کھڑے ہوکر نوافل مںی بھی اپنے شفق کریم، سخی اَن داتا کے حضور پش ہوا جایا کرے البتہ نبیﷺ سے عشاء کی نماز کے آخری دو نفل بیٹھ کر پڑھنا بھی ثابت ہے، لہٰذا نبیﷺ کی اتباع کی نتل سے کبھی کبھی عشاء کے آخری دو نفل بیٹھ کر یہ سعادت بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔ ۴ نوافل کی تمام رکعتوں میںسورۂ فاتحہ کے ساتھ دوسری سورت بھی پڑھنا واجب ہے رہ جانے کی صورت مںم سجدہ سہو کرنا ضروری ہوگا ورنہ وہ نوافل فقہی اصولوں کی رو سے ناقص کہے جائںت گے۔ ۵ نوافل مںی اتنی گنجائش تسلم کی گئی ہے کہ اس مںی قرآن کسی خاص ترتبک سے پڑھا جائے یا کسی ایک سورت کو ایک خاص مقدار تک کسی رکعت مںی باربار پڑھا جائےیا قعدے مںک درودشریف پڑھ لنےی کے بعد عربی کی ایک سے زائد دعائںن مانگی جائں ۔ ۶ اوپر جتنے بھی نوافل ذکر کےں گئے ہںئ ان کے علاوہ بھی بعض لوگ کسی خاص موقعے پر یا کسی خاص ترتبی سے یا کسی خاص فضیلت کے حصول کی غرض سے کچھ نوافل کا اہتمام بھی کرتے ہںج اور اس کی ترغبم بھی دیتے ہںض ایسے تمام نوافل کے مستند ثبوت پر علمائے کرام کا اتفاق نہںک ہے۔ اس لے اس کتاب مںں ان کا ذکر نہںف ہے لہٰذا ان نوافل کے بارے مں آپ کے معتمد علماء اطمناپن دلاتے ہوں اور اس کے ثبوت کے حوالے سے آپ خود بھی مطمئن ہوں تو ان کے کبھی کبھی پڑھ لنےف مںی کوئی حرج نہں ۔ وما توفیقی إلاباللّٰہ

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
361