(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/05/23
موضوعات
اﷲتعالیٰ اور اسکے دوستوں کے باہمی تعلقات(حقائق و حکایات غیبی معاش کی روشنی میں)
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ اﷲتعالیٰ اور اسکے دوستوں کے باہمی تعلقات (حقائق و حکایات غیوس معاش کی روشنی مں ) انسان کا اﷲتعالیٰ سے ایک تعلق: انسان کا ایک تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ بندے اور غلام کی حتکا سے ہے، غلام کی حققتح صرف اتنی ہے کہ آقا و مالک کے احکامات کے مقابلے مںک اپنی پسند و ناپسند یا ذاتی رائے نہںح رکھتا اور احکامات کو اپنی خواہشات پر ہمہ وقت ترجح دیتا ہے، چاہے وہ احکامات اس کی سمجھ مںل آئیںیا نہ آئںا، اس اعتبار سے دناا کا ہر ہر انسان اپنے بالغ ہونے سے لے کر موت تک مسلسل اللہ تعالیٰ کے احکامات پر برضاورغبت عمل کرنے کا پابند ہے، اس مںں نبی سے لے کر ایک عام آدمی تک شامل ہے، چاہے وہ کسی بھی رنگ و نسل، ذات و علاقے سے تعلق رکھتا ہو، کسی بھی زمانے مں اس دناا مںد موجود رہا ہو اور مالی اعتبار سے بھی اس کی کوئی بھی حتام رہی ہو، اس مںا کسی بھی انسان کو استثناء حاصل نہں ہے، اُسے زندگی کے تمام شعبوں مںا اللہ تعالیٰ کے احکامات کو ان کے ادا کرنے کے اوقات مںں نبیﷺ کے طریقوں کے مطابق ہر حال مں، ادا کرنا ہوگا، اِلّا یہ کہ خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی خاص مواقع پر کوئی خاص رعایت دی گئی ہو، اس تعلق کی ایک خصوصتز منفرد طور پر یہ ہے کہ جو اس تعلق پر پورا اترتا ہے اُسے دناا اور آخرت مںم حاصتِ طبہ اور جنت نعما کا حقدار اللہ تعالیٰ کی طرف سے بنادیا جاتا ہے، اور خدانخواستہ جو اس تعلق پر پورا نہ اترے اور اس کی بدنیںک کے باعث اللہ تعالیٰ کا فضل بھی شاملِ حال نہ ہو تو دناا مں، خائب و خاسر اور آخرت مںی دوزخ کا حقدار ٹھہرتا ہے، لہٰذا ہر وہ بندہ جس کا ایمان اس تعلق پر ہے وہ دنوھی زندگی مںل تاحاںت مسلسل یہ کوشش کرتا ہے کہ اس تعلق پر پورا اترے اور نفس و شطاسن کے غلبے سے اگر کبھی کوتاہی ہوجائے تو توبہ واستغفار کے ذریعے اس کی تلافی کرلے۔ انسان کا اﷲتعالیٰ سے ایک اور تعلق: انسان کا ایک تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوستی کا بھی ہے اس منفرد اعزاز کی ایک مسحورکن خصوصیتیہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جو بذاتِ خود ہر ہر اعتبار سے سب سے بڑے ہںہ، ہر ہر چز ان کی اپنی بنائی ہوئی ہے، اُن مںا سے کسی بھی چز کی خود اُنہںہ لمحے بھر کے لے ذرہ برابر بیت ضرورت نہںع ہے، اس کے باوجود وہ اپنی مخلوق انسان کو خود اپنی ذات سے تعلق قائم کرنے کی نہ صرف اجازت دیتے ہںا بلکہ اس کی بے انتہا قدر بھی فرماتے ہں جسات کہ خود ان کا ارشاد ہے: {وَ کَانَ اللهُ شَاکِرًا عَلِیْمًا} ’’اور اللہ (تعالیٰ) قدر دان، جاننے والے ہں ۔‘‘ اﷲتعالیٰ سے تعلق قائم کرنے کا آسان راستہ: اس تعلق کے قائم کرنے کا آسان اور سہل راستہ شریعتِ اسلام نے یہ بتایا ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے اوپر لازم کردہ فرائض و واجبات کی ادائیآ کے ساتھ ساتھ ہر نیک عمل مںا نوافل کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قُرب حاصل کرے جساا کہ نبیﷺ کی حدیثِ مبارکہ سے اس کی تعلما ملتی ہے: (لَا یَزَالُ الْعَبْدُ یَتَقَرَّبُ اِلَیَّ بِالنَّوافِلِ حَتّٰی اَحْبَبْتُہٗ فَاِذَا اَحْبَبْتُہٗ کُنْتُ سَمْعُہُ الَّذِیْیَسْمَعُ بِہٖ وَبَصَرُہُ الَّذِیْیَبْصُرُ بِہٖ) (بخاری شریف جلد2 صفحہ 963) ’’بندہ نفلی عبادات سے مر2ے قریب ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ مںب اس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور جب مںذ اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو مںن ہی اس کے کان ہوجاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور مں ہی اس کی آنکھ ہوجاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے۔‘‘ (اس حدیث کی تشریح مںک علمائے کرام فرماتے ہںف کہ ایسے شخص کے اعضائے جسمانی کا ہر عمل شریعت کے احکامات کے مطابق بن جاتا ہے اور خلافِ شریعت کاموں مںح اُس کا ذہن اور جسم چلتا ہی نہںہ ہے، گویا کہ شریعت اُس کی پختہ عادت بن جاتی ہے جسے اصطلاح مں عادتِ ثانہا کہتے ہںر۔) اس تعلق مںت ابتدا بندے کی طرف سے ہوتی ہے اور اُسے پروان اللہ تعالیٰ کی ذات چڑھاتی ہے، جسا کہ اس بات کی تائدس قرآن مقدس سے بھی ملتی ہے: { فَاذْکُرُوْنِیْٓ اَذْکُرْکُمْ} ’’سو تم مجھ کو یاد کرو، مںو تمہیںیاد کروں گا۔‘‘ اور حدیث پاک مںذ بھی اس کے متعلق یہ ارشاد مبارک ہے کہ: {مَنْ اَحَبَّ لِقَائَ اللّٰہِ فَاَحَبَّ اللّٰہُ لِقَائَہٗ} (بخاری شریف جلد2 صفحہ 963) ’’جو قرب الٰہی کا طالب ہو اللہ تعالیٰ اُسے بھی اپنا قرب عطا فرمادیتے ہںن۔‘‘ اﷲتعالیٰ سے تعلق قائم ہونے کا اثر بندے کی زندگی پر: جبیہ تعلق قائم ہوجاتا ہے تو شریعت کی طرف سے دیے گئے احکامات پر جس مںی اوامر ونواہی دونوں شامل ہںا، عمل کرنے کے بعد جو بھی وقت انسان کے پاس بچتا ہے وہ اس وقت کو لا یین کاموں مںی ضائع کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کے ذکر، تلاوت، درود شریااور نوافل وغرپہ مں استعمال کرتا ہے، اکثر دنوں مںا جسمانی طور پر اپنے آپ کو فرض روزوں کے علاوہ بھی نفل روزوں کی ادائییا مںو مشقت مںو مبتلا رکھتا ہے، مالی طور پر فرض وواجبات کی ادائیٰہ، حقوق النفس اور اپنے زیرِ کفالت افراد کی ضروریات پر اعتدال کے ساتھ خرچ کرنے کے ساتھ ساتھ نفلی صدقات مں اپنے اوپر لازم نہ ہونے کے باوجود لوگوں کی بھلائی اور رفاہِ عامہ کے کاموں مںا اپنے مال کو مشغول رکھتا ہے۔ اولااء اﷲ کی شان: ان صفات کا حامل انسان، عرف عام مںش ولی اﷲ (اﷲتعالیٰ کا دوست) کہلاتا ہے ایسا انسان اللہ تعالیٰ کا اتنا مقرب اور محبوب بن جاتا ہے کہ بظاہر اگرچہ اُس کی ظاہری حالت خستہ ہی کونں نہ ہو لکنع اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کا وہ مقام ہوتا ہے کہ اگر وہ کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے پر اللہ تعالیٰ کی قسم کھالے تو اللہ تعالیٰ اس کی قسم کو پورا فرمادیں گے۔ جساا کہ اس کی تائدک حدیثِ پاک سے بھی ہوتی ہے: (رُبَّ أَشْعَثٍ مَدْفُوْعٌ بِالْاَبْوَابِ لَوْاَقْسَمَ عَلَی اللّٰہِ لَاَبَرَّہٗ) (مسلم شریف جلد 2 صفحہ 329) ’’کتنے ہی خستہ حال لوگ جن کے لے2 دروازے بھی نہںّ کھولے جاتے اگر وہ اللہ تعالیٰ پر کسی بات کی قسم کھالں تو اللہ تعالیٰ اُسے پورا فرمادیتے ہںت۔‘‘ ایسا آدمی اللہ تعالیٰ کے ہاں دوستی کے اس مقام پر ہوتا ہے کہ مخلوق مںے سے کوئی بھی اس سے بغض و عداوت رکھے تواللہ تعالیٰ پورے جلال مںَ آکر ارشاد فرماتے ہںی کہ مرسا اُس سے اعلان جنگ ہے جسال کہ حدیث مں آتا ہے: (مَنْ عَادٰی لِیْ وَلِیًّا فَقَدْ اٰذَنْتُہٗ بِالْحَرْبِ) (بخاری شریف جلد2 صفحہ 963) ’’جو شخص مجھ سے محبت رکھنے والے سے عداوت رکھے اس کو مرسی طرف سے اعلانِ جنگ ہے۔‘‘ ایک اور حدیث سے بھی اس کی تائدر ہوتی ہے کہ حضورﷺ فرماتے ہںٰ کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے مجھے اپنے مقبول بندوں کے چھڑےے جانے پر ایسا غصہ آتا ہے جسےم شرُ کو اپنے بچوں کے چھڑاے جانے پر۔ ایسا شخص جو اللہ تعالیٰ سے دوستی قائم کرنا چاہتا ہے اس کی سب سے پہلی بناحدیہ ہوتی ہے کہ وہ ایمانا ت مںھ شریعت کا پابند اور اعمال مںڑ شریعت کے خلاف چلنے سے بچتا ہے جسام کہ خود اللہ تعالیٰ نے اپنے دوستوں کے متعلق ارشاد فرمایا ہے: {الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ کَانُوْا یَتَّقُوْنَ} ’’یہ وہ لوگ ہںت جو ایمان لائے (اور عمر بھر)تقویٰ اختادر کےف رہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ اپنے اس دوست کے چہرے پر اییے وجاہت قائم فرمادیتے ہںپ کہ اُن کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کییاد آجاتی ہے جساج کہ حضورﷺ کا فرمانِ عالشا ن ہے کہ ’’کائ مں تمہںی اُن لوگوں پر آگاہ نہ کروں جو تم سب سے بہتر ہںہ؟ سب نے عرض کام اے اللہ کے رسول! ضرور بتائےا، تو حضورﷺ نے فرمایا جب ان کی زیارت کی جائے تو اللہ(تعالیٰ) یاد آجائںپ۔‘‘ کشف: اللہ تعالیٰ اُس کی نظروں مں بعض اوقات اییک قوت عطا فرماتے ہںُ کہ اُس کا دیکھا ہوا پاس بٹھنے والا محسوس بھی نہںر کرسکتا جب تک کہ وہ خود اس کا اظہار نہ فرمادے اس کو اصطلاح مںو ’’کشف‘‘ کا نام دیا گان ہے۔ اس کی طرف متنبہ فرماتے ہوئے نبیﷺ نے ارشاد فرمایا: {اِتَّقُوْا فِرَاسَةَ الْمُؤْمِنِ فَاِنَّہٗ یَنْظُرُ بِنُوْرِ اللّٰہِ} (ترمذی شریف جلد 2 صفحہ 391) ’’مؤمن کی فراست سے ہوشاور رہو کوئنکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نور (ایمانی) سے دیکھتا ہے۔‘‘ کرامت: اللہ تعالیٰ بعض اوقات اُس کے ہاتھ پر کوئی ایسا عمل ظاہر فرمادیتے ہںپ جو اسباب کے دائرے مںہ ناممکن ہوتا ہے، اِسے اصطلاح مں ’’کرامت‘‘ کہتے ہںم۔ اس کا تعلق صرف اتنا سا ہوتا ہے کہ اِس اللہ تعالیٰ کے دوست کی مقبولتٓ عام بندوں پر ظاہر ہوجائے چونکہ یہ عمل اللہ تعالیٰ کے ذریعے ظاہر ہوتا ہے لہٰذا اس مںا اللہ تعالیٰ کا دوست بے اختاگر ہوتا ہے۔ (ایسا کوئی فعل جسے خارقِ عادت بھی کہا جاتا ہے، کسی نبی کے ہاتھ پر ظاہر ہو تو اُسے معجزہ کہتے ہںہ، اللہ تعالیٰ کے کسی غر نبی دوست (ولی) کے ہاتھ پر ظاہر ہوتواُسے کرامت کہتے ہیںاور اگر کسی کافر، مشرک، دہریےیا فاسق و فاجر شخص کے ہاتھ پر ظاہر ہوتو اُسے استدراج کہتے ہںہ۔ استدراج مقبولتت کی دلل نہںر ہوتا، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ڈھلا ہوتی ہے جس کا نتجہل ہدایت بھی ہوسکتا ہے اور ہلاکت بھی۔) الہام: اللہ تعالیٰ بعض اوقات اپنے اِس دوست پر بعض مسائل کا حل دل مں، ڈال دیتے ہںت، اِسے اصطلاح مںع ’’الہام‘‘ کہتے ہںک۔ مبشرات: بعض اوقات نندٰ مںا سچے خواب دکھاکر اُس کا حل بتلادیتے ہںے، اِسے اصطلاح مں ’’مبشرّات‘‘ کہتے ہں ۔ الہام و مبشرات کا فقہی حکم: الہام اور مبشرّات کے بارے مںض فقہائے کرام کا فتویٰیہ ہے کہ اگر وہ ظاہری شریعت کے موافق ہو تو اُس پر عمل کاّجاسکتا ہے، اگر ظاہرِ شریعت کے خلاف معلوم ہوتا ہو تو اُس پر عمل نہںھ کرنا چاہے ، کشف، کرامت، الہام، مبشرّات اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوستی کرنے والے کی لازمی ضرورت نہںپ ہے، یہ تمام کام تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتے ہں اور وہ اپنی مشتل کے مطابق کسی کو عطا فرماتے ہں ، کسی کو نہںو۔ استقامت: اللہ تعالیٰ کے ولی کے لےں لازمی ضرورت صرف اتنی ہے کہ وہ خلافِ سُنت اور خلافِ شرع کام کسی صورت مںم نہ کرے، اسے اصطلاح مںت ’’اِستقامت‘‘ کہتے ہں اور ولی کے حق میںیہی استقامت سب سے بڑی کرامت ہے۔ چنداحتامطںر: ولایت کے مندرجہ بالا حقائق کی روشنی مں، قابلِ تنبہ بات یہ ہے کہ ولایت اختاکر کرنے والا خود ساختہ یا کتابوں مںِ دیکھ کر وظائف وغراہ کا اہتمام نہ کرے بلکہ کسی ولی کے زیرِ نگرانی اِن امور کو طے کرے، اس کے ساتھ دوسری احتااطہس ہے کہ روحانی طور پر بھی اپنی استعداد کے مطابق اعمال اختاےر کرے، استعداد سے بڑھ کر اعمال کرنے مں ذہنی اور جسمانی طور پر ناقابلِ برداشت صورت حال پشا آسکتی ہے جو شرعی اعتبار سے نقصان کا پشر خمہ بھی بن سکتی ہے۔ مکمل سپردگی اور اس کا لازمی نتجہا: یوں تو اﷲ رب العزت نے اس انسان (مسلمان) کو یہ اختا ر عطا فرمایا ہے کہ وہ اس دنام مںا زندگی گزارنے کے اعتبار سے اپنی مرضی اور چاہت کے تحت اپنے اختانر سے اﷲتعالیٰ کے احکامات تاحانت پورے کرتا رہے۔ اﷲتعالیٰ کے ان بندوں مںص ایک اکثریت ان افراد کی ہے، جو اﷲتعالیٰ کے احکامات کو پورا کرتے ہوئے اپنے اختانرات کا استعمال بھی کرتی ہے۔ انہی طبقۂ انسانی مںا چند گِنے چُنے افراد کا مجموعہ ایسا بھی ہے جو اپنے اختاارات کو بھی اپنے حق مںر سلب (ختم) کرتے ہوئے اﷲتعالیٰ کے حوالے کردیتا ہے، جساےکہ اس کی تائدہ نبی اکرمﷺ کی ایک دعا سے بھی ملتی ہے: (وَاَصْلِحْ لِیْ شَأْنِیْ کُلَّہٗ وَلَا تَکِلْنِیْ اِلٰی نَفْسِیْ طَرْفُةَ عَیْنٍ) (کنزالعمال جلد 2 صفحہ 62) ’’اور (اے اﷲ!) مر،ی حالت (اور مراے سب کام) درست فرما دیےرْ اور پلک جھپکنے کے لےن بھی مجھے اپنے نفس کے قبضے مںی نہ دیےرا۔‘‘ (اَللّٰھُمَّ خِرْلِیْ وَاخْتَرْلِیْ) (ترمذی شریف جلد 2 صفحہ 499) ’’اے اﷲ مرحے کام (اور معاملے) کو اچھا (اور بہتر) فرما دیےرْ اور جو (مرلے حق مںٰ بہتر ہو) وہ پسند فرما دیےا ۔‘‘ انہی لوگوں کو اﷲتعالیٰ کا دوست کہا جاتا ہے اور یہ ایی مستحکم دوستی اﷲتعالیٰ کے بندوں کی طرف سے اﷲتعالیٰ کے ساتھ ہوتی ہے کہ اس مںی اپنے جذبات، احساسات، خواہشات یہاں تک کہ (کسی حد تک) اپنی حاجات تک ختم کرلی جاتی ہںا اور جب بالکلہع طور پر یہ اپنے آپ کو اﷲتعالیٰ کے حوالے کردیتے ہںا تو اﷲتعالیٰ بھی ان کے اپنے گمانوں کے مطابق انہںئ ضائع نہںا فرماتا، جساسکہ حضرت حاجرہ رضی اﷲ عنہا نے جنگل باتبان مں چھوڑے جانے پر خود اپنی زبان سے فرمایا تھا کہ اگر اییک ہی بات ہے تو اﷲتعالیٰ ہمںت ضائع نہںﷲ فرمائے گا۔ اور یناً اﷲتعالیٰ نے ماضی مںج بھی اس منصب پر فائز لوگوں کو اس دنا مںو نہ ضائع ہونے دیا ہے، نہ ناکام ہونے دیا ہے اور ہرہر شعبۂ زندگی مںا ان کی مناسب کفالت فرمائی ہے اور وہ اپنی اس جانے والی کفالت پر بالاشتاںق، بغر کسی شکوہ اور شکایت کے، راضی بھی رہے ہںے۔ ان مںم انبیا، صلحا اور اولا تمام شامل ہں ۔ حال مںں بھی اس منصب پر فائز رہنے والوں کو بھرپور کفالت کا درجہ حاصل ہے او رآئندہ بھی تاقایمت ایسے لوگوں کی کفالت کی جاتی رہے گی اور کواں نہ ہو، کہ وہ اپنی زندگی کے تمام اقوال و افعال مںح اپنی ذات کی نفی کرتے ہوئے ہر حال مںی اﷲتعالیٰ کے تعلق کو مقدم رکھتے ہںا۔ ییک ان کی تربتی کا حصہ ہوتا ہے اور اسی پر یہ تاحایت عامل رہتے ہںی۔ دوباطل نظریے: اسی تربیپر حوالے سے ایک واقعہ یوں بھی ملتا ہے کہ ایک اﷲوالے کی خدمت مںر بغرضِ اصلاح ایک مُرید نے طویل عرصہ گزارا، جوکہ غالباً تئسع(23) یا بتسن (32) سال پر مشتمل تھا اور اپنے وطن اصلی سے کوسوں دور اس طویل عرصے کو گزارنے کے بعد اس مرید نے اپنے وطن جانے کی اجازت چاہی، جو شخا کی طرف سے عطا کردی گئی۔ رخصت ہونے سے پہلے مرید نے اپنے شخو سے نصحتم کے طور پر وصتا چاہی تو شخ نے ارشاد فرمایا: دو باتوں کا خاصل رکھنا کہ کبھی نہ خدائی کا دعویٰ کرنا، نہ کبھی نبوت کا دعویٰ کرنا، مرید نے جواب مںب اپنی حر انگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: یہ دو دعوے کسی عام مسلمان سے بھی ممکن نہںد ہں ، جبکہ ایسا شخص جس نے آپ کی خدمت مںر ایک طویل ترین وقت گزارا ہو، وہ ایسا دعویٰ کسےس کرسکتا ہے؟ شخ نے فرمایا: پہلے بات سمجھ لو! (۱)اگر کوئی شخص اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ جو مں کہتا ہوں، وہ ہوجاتا ہے یا اس کی خواہش یہ ہے کہ جو مں کہوں، وہی ہوجائے، تو یہ ایسا ہے جسےد کہ اس نے خدائی دعویٰ کاو۔ اس لےط کہ صرف اﷲتعالیٰ ہی کی ذات ہے کہ جو وہ چاہتی ہے وہی ہوتا ہے اور وہی ایک ہستی ہے کہ جو وہ کہے وہ پورا ہوتا ہے۔ (۲) اور اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ جو مںہ کہتا ہوں، وہ بالکل سچ اور اٹل ہے تو یہ نبوت اور رسالت کا دعویٰ ہے، اس لےے کہ صرف نبی اور رسول ہی ایک اییے ہستی ہے، جس کا کہنا حق، سچ اور اٹل ہوتا ہے۔ شخف کی اس وضاحت کو سننے کے بعد مرید نے کہا کہ حضرت! اس بات کو سمجھنے کے لے اور اس پر عمل پر ا ہونے کے لے، مزید اتنا عرصہ آپ کی خدمت مںل رہنا پڑے گا۔ جب اس معارر کی تربت کے ساتھ اﷲتعالیٰ سے تعلق قائم ہوگا (یین مردہ بدست زندہ والی صورت ہو کہ بندہ ہرحال مںد اپنے آپ کو اﷲتعالیٰ کے حوالے کردے اور اس کی طرف سے پشا آنے والے حکم، بات او رکام کو بغری کسی پس و پشن کے قبول کرتا رہے) تو ایسے شخص کی، کواں نہ ہرہر شعبہ زندگی کے اندر حفاظت و اعانت کی جائے گی۔ بندگی کے اقدام اﷲتعالیٰ کے انعام: اﷲ رب العزت کا ارشاد عالی ہے: {وَ مَنْ یَّتَّقِ اللهَیَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا، وَّ یَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثاُ لَا یَحْتَسِبُ وَ مَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللهِ فَہُوَ حَسْبُہٗ} (سورۂ طلاق آیت 3-2) ’’اور جو کوئی اﷲ(تعالیٰ) سے ڈرے گا، اﷲ تعالیٰ اس کے لےج (ہرہر) مشکل سے نکلنے کا کوئی (نہ کوئی) راستہ پدیا کردے گا اور اسے اییر جگہ سے رزق عطا فرمائے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہوگا اور جو کوئی اﷲ(تعالیٰ) پر بھروسا کرے تو وہ اس (کے تمام کام) بنانے کے لے کافی ہے۔‘‘ اﷲ رب العزرت کا ارشاد عالی ہے: {وَ مَنْ یَّتَّقِ اللهَیَجْعَلْ لَّہٗ مِنْ اَمْرِہٖ یُسْرًا} (سورۂ طلاق آیت4) ’’اور جو کوئی اﷲ(تعالیٰ) سے ڈرے گا اﷲ(تعالیٰ) اس کے کام مںے آسانی پد ا فرمادے گا۔‘‘ اﷲ رب العزت کا ارشاد عالی ہے: {اَلَیْسَ اللهُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ} (سورۂ زمر آیت36) ’’کاز اﷲ(تعالیٰ) اپنے بندے کے لےل کافی نہںُ۔‘‘ نبیﷺ کا فرمان عالشاین ہے (مَنْ کَانَ لِلّٰہِ کَانَ اﷲُ لَہُ)(مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابحا جلد3صفحہ201) ’’جو اﷲ تعالیٰ کا ہوجاتا ہے اﷲ تعالیٰ اس کے ہوجاتے ہںَ۔‘‘ نبیﷺ کا ارشاد مبارک ہے: (مَنْ جَعَلَ ھُمُوْمَهُ ھَمًّا وَاحِدًا ھَمَّ الْاٰخِرَةَ کَفَاہُ اللهُ ھُمُوْمَهُ) (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابحخ جلد3صفحہ201) ’’جو شخص(دناہ کے) تمام غموں کو چھوڑ کر صرف ایک آخرت کے غم مںر لگ جائے تو اﷲ جل جلالہ اس کے تمام غموں کی کفالت فرمائںق گے۔‘‘ اسی تناظر مںا آئندہ ذکرکردہ حکایات کو پڑھا جائے۔ حکایاتِ اولایء: (1) حضرت ابراہما خواصؒ فرماتے ہںْ کہ مںھ ایک مسجد مں تھا مں نے تن دن تک ایک فقرک کو دیکھا کہ اس نے نہ کچھ کھایا نہ پاا۔ مںح نے اس سے پوچھا کہ کھانے کے لے تر ے دل مںف کسی چزم کی خواہش ہے؟ اس نے کہا مراا دل چاہتا ہے کہ گرم روٹی اور کباب ہو۔ مںع نے سارا دن ان دو چزکوں کی تلاش مںَ لگا دیا بالآخر مایوس ہوکرمسجد مںس واپس آکر دروازہ بند کرلاک۔ رات کے وقت کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا مں نے دروازہ کھولا تو ایک شخص گرم روٹی اور کباب لےآ کھڑا ہے مںک نے اس سے یہ چزہیں لانے کی وجہ پوچھی تو کہنے لگا ہم نے آج کباب روٹی پکائی تھی مگرکھانے سے پہلے آپس مں جھگڑا ہوگاے جس کی وجہ سے ہم اہل خانہ نے قسم کھائی کہ اب یہ سارا کھانا مسجد ہی مںچ دیں گے۔ (2) ایک بزرگ فرماتے ہں کہ دریائے فرات کے کنارے بٹھےن ہوئے ایک مرتبہ مراے دل مںج مچھلی کھانے کی خواہش ہوئی تو فوراً دریا کی ایک موج نے ایک مچھلی مراے پاس پھنکہ دی اسی وقت ایک آدمی دوڑتا ہوا مراے پاس آیا اور پیشکش کییہ مں آپ کے لے پکا دوں؟ اس نے پکا کر دی اور مں نے کھائی۔ (3)ایک نیک شخص فرماتے ہںو کہ ہم چند آدمی لبنان کے پہاڑ پر گئے تاکہ وہاں ہمںا کوئی بزرگ مل جائے (لبنان مںآ ایک پہاڑ ہے جس کے متعلق یہ مشہور ہے کہ اس مںخ اولاںء اﷲ اور ابدال رہتے ہںگ) ہم کئی دن تک اس پہاڑ پر گھومتے رہے۔ مر ی ٹانگ مںت تکلفے تھی مںہ ایک جگہ بیٹھ گای۔ ساتھی گھومتے رہے جس بلندی پر مں بٹھا تھا اس کے نچےٹ ایک پانی کا چشمہ تھا مں نے وہاں جاکر وضو کام اور نماز مںو مصروف ہوگار۔ نماز مں مراے کانوں مںت تلاوت قرآن کی آواز سنائی دی نماز سے فارغ ہوکر اس آواز کی سمت کی طرف گا دیکھا تو ایک غار مںچ ایک نابناں شخص ہںق مںہ نے انہں سلام کاغ انہوں نے جواب دیتے ہوئے پوچھا انسان ہوکہ جن؟ مںو نے کہا انسان ہوں۔ فرمانے لگے میںنےیہاں تس (30) سالوں مںی ترصے علاوہ کوئی انسان نہں دیکھا پھر انہوں نے مجھے آرام کرنے کا مشورہ دیا مںف غار کے اندر چلاگاہ وہاں تنت قبریں تں ج ان کے قریب مںے سوگای۔ نماز ظہر کے وقت انہوں نے مجھے آواز دی مجھے ان کے اوقات نماز کی معرفت پر بھی حرات رہی۔ بہرحال ہم نے نماز ظہر ادا کی جس کے بعد وہ تو عصر تک نوافل مںو مشغول رہے۔ نماز عصر کے بعد انہوں نے ان جملوں کے ساتھ دعافرمائی: {اَللّٰھُمَّ اَصْلِحْ اُمَّةَ مُحَمَّدٍ اَللّٰھُمَّ ارْحَمْ اُمَّةَ مُحَمَّدٍ اَللّٰھُمَّ فَرِّجْ عَنْ اُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ} ’’اے! آپ امت محمدیہ کی اصلاح فرمادیں، اے اﷲ! آپ امت محمدیہ پر رحم فرمادیں، اے اﷲ! آپ امت محمدیہ سے مصائب و مشکلات دور فرمادیں۔‘‘ پھر ہم نے نماز مغرب ادا کی اس کے بعد مںی نے دریافت کا آپ نے یہ دعا کہاں سے سیھف ؟ فرمایا آپ اس کے متحمل نہںا ہوسکتے۔ پھر فرمایا جو شخص اس دعا کو روزانہ تنا مرتبہ مانگنے کا اہتمام رکھے اﷲ تعالیٰ اسے ابدالوں مںے لکھ دیں گے نماز عشاء کے بعد ان بزرگ نے مجھ سے کھانے کے متعلق پوچھا مںو نے اثبات مںب جواب دیا فرمایا غار کے اندر چلے جائں وہاں جو کچھ ملے کھالںک۔ مں نے علحدمہ علحد ہ کونوں مں اخروٹ، منقیٰ (ایک قسم کی بڑی کشمش)، سیب اور انجرن وغرعہ مختلف اقسام کے پھل پائے اور مںا نے ضرورت کے مطابق ان مںم سے کھایا اتنے لذیذ پھل مںا نے کبھی نہں کھائے تھے ان بزرگ سے ان پھلوں کے متعلق پوچھا تو فرمایا خود دیکھ لوگے تھوڑی دیر کے بعد ایک پرندہ آیا جس کے پَر سفدہ، سنہئ سرخ اور گردن سبز تھی۔ اس کی چونچ مں منقیٰ اور پنجوں مںم اخروٹ تھے جسے اس نے مقررہ جگہ پر رکھا۔ بزرگ نے فرمایا آپ نے دیکھ لام مں نے کہا جی ہاں! فرمایایہ پرندہ مختلف قسم کے مومہ جات اور پھل وغر ہ لے کر مسلسل تسا(30) سال سے دن مں سات(7) مرتبہ آتا ہے۔ مںہ نے اس دن شمار کرکے بزرگ کو بتلایا کہ آج پندرہ(15) مرتبہ آیا ہے فرمایایہ اضافی چکر تمہاری وجہ سے لگائے ہںں۔ مںد نے وہاں مزید حرنت انگزا اور انوکھی چز یں پائںج۔ ایک تو یہ کہ بزرگ نے چھلکوں (پتوں) سے بنی قمصف پہنی ہوئی تھی جس کے متعلق پوچھنے پر آپ نے فرمایا کہ یہ پرندہ ہر سال دس محرم الحرام (عاشورے) کے دن مجھے اس قسم کے دس(10) چھلکے لاکر دیتا ہے جس سے مں قمیصاور تہہ بند سی لتاد ہوں۔ ان کے پاس ایک بڑا سُوا تھا جس سے وہ ان چھلکوں کو سی لال کرتے تھے۔ دوسری، مں نے ان نابنان بزرگ کے پاس ایک پتھر دیکھا جسے وہ پانی سے گیلا کرتے پھر پتھر سے ملے پانی سے غررضروری بالوں کو گیلا کرتے تو وہ بال صاف ہوجاتے۔ تسرسی چز ان کے پاس سات(7) ایسے آدمی آئے جن کی آنکھںم سرخ تھںغ اور ان کے جسموں پر لباس کی جگہ بال تھے انہوں نے ان سے قرآن مجدس کی تعلمس لی۔ ان کی آمد پر بزرگ نے مجھ سے فرمایا ڈرنا نہیںیہ مسلمان جن ہںب۔ مںآ نے چوبس۔(24) دن ان بزرگ کے ساتھ گزارے بالآخر انہوں نے مجھ سے پوچھا مرتے پاس کسےس پہنچے؟ مں نے سارا قصہ سُنایا انہوں نے فرمایا تمہارے ساتھی تمہاری گمشدگی سے پریشان ہوں گے لہٰذا تمہارا مزیدیہاں ٹھہرنا مناسب نہںس۔ مں نے کہا مجھے راستے کا علم نہں اس کا کوئی جواب نہ ملا۔ پھر زوال کے وقت فرمایا جانے کی تاھری کریں۔ مںی نے عرض کاا مجھے کوئی وصتم فرمادیں۔ فرمایا ’’بھوک اختانر کریں شکم سرنی سے پرہزو کریں اور ادب ملحوظ رکھں مجھے اُمدج ہے کہ آپ بزرگوں کے مقام کو پالںد گے۔‘‘ وصتو کے بعد آپ نے مجھے ایک بزرگ کے خصوصی احوال بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ یہ تمہںں زمزم کے کنویں اور مقام ابراہمں کی درماتنی جگہ پر ملںر گے ان سے ملاقات کرکے مرےا سلام انہںز پہنچا دینا اور فرمایا ان سے اپنے لےب دعا بھی کروا لنا ۔ پھر مجھے ساتھ لتےک ہوئے غار سے نکلے غار کے دروازے پر ایک درندہ کھڑا ہوا تھا آپ نے اس سے کچھ فرمایا جو مرہی سمجھ مںب نہں آیا۔ پھر مجھ سے فرمایا آپ اس کے پچھےر چلتے رہںد جہاں یہ رک جائے وہاں دائںی بائںی آپ کو راستہ مل جائے گا۔ بزرگ سے رخصت ہوکر مںں اس درندے کے پچھے تقریباً ایک گھنٹہ چلتا رہا، پھر وہ کھڑا ہوگاا۔ مںپ وہاں سے دائںھ جانب چل کر جامع مسجد پہنچا جہاں اپنے ساتھوںں سے ملاقات ہوگئی۔ انہں اس نابنای بزرگ کا سارا قصہ سنایا۔ ہم دوبارہ بے شمار لوگوں کے ساتھ ان بزرگ کی زیارت کے لےں اس پہاڑ پر گئے ہم سب ملکر مسلسل تنً(3) دن تک اس غار کو تلاش کرتے رہے لکنس اس غار کا پتہ نہ چلا اور مایوس ہوکر لوٹ آئے۔ مںک اس واقعہ کے بعد ہر سال حج کے لےئ جاتا رہا اور ان بزرگ کو تلاش کرتا رہا جن کا پتہ نابناک بزرگ نے دیا تھا۔ اس واقعے کے پورے آٹھ(8) سال بعد ان سے نماز عصر کے بعد زمزم و مقام ابراہم کے درماتن ملاقات ہوئی مںے نے سلام کرکے دعا کی درخواست کی انہوں نے سلام کا جواب دینے کے بعد مراے لے دعا کی پھر مںی نے عرض کاس ابراہمع کرمانی (غار والے نابنال بزرگ) آپ کو سلام کہتے تھے۔ فرمانے لگے آپ نے انہںد کہاں دیکھا ہے؟ مںو نے کہا لبنان کے پہاڑ مں ، فرمایا رحمہ اﷲ تعالی۔ اﷲ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے۔ مںھ نے پوچھا کام ان کا انتقال ہوگام ہے، فرمایا ہاں! ابھی ابھی مںی ان کی نماز جنازہ پڑھ کر انہںو ان بھائو۔ں کے پاس دفنا کر آیا ہوں جن کی قبریں آپ نے غار مںی دییھت تھں پھر فرمایا جب ہم انہںم غسل دے رہے تھے اچانک وہ پرندہ جو ان کے طعام وغرآہ کے کاموں پر مامور تھا آکر گرا اور تڑپ تڑپ کر جان دے دی ہم نے اس پرندے کو ان بزرگ کے پاؤں کے قریب دفنا دیا۔ یہ قصہ سنانے کے بعد وہ اٹھ کھڑے ہوئے طواف مں مشغول ہوئے اور نظروں سے غائب ہوگئے پھر مںو نے انہںر نہںا دیکھا۔ (4)ایک بزرگ فرماتے ہںک کہ مںہ ایک مرتبہ رات کے وقت اکیلا جنگل کی طرف کسی کام سے نکلا مجھے بخار بھی سخت تھا اور پاعس بھی اتنی شدید تھی کہ زندگی سے ناامدہ ہوکر ایک درخت کے نچےا لٹا گاا اچانک مر ے پاس ایک آدمی آیا جس کے پاس چار روٹا4ں تھں دو کے درماین پرندے کا بھنا ہوا گوشت اور دو پر حلوہ تھا۔ مر ے سرہانے ایک لوٹا رکھا تھا وہ آدمی اسے دریا سے بھر کر لے آیا وہ پانی برف سے زیادہ ٹھنڈا اور شہد سے زیادہ مٹھا تھا۔ وہ پانی مںہ نے پاا تو اﷲ تعالیٰ نے مرٹا بخار بھی ختم فرمادیا۔ پھر کھانا کھانے لگا تو وہ آدمی کسی کام کا کہہ کر اچانک ہی غائب ہوگاے۔ (5)ابوعلی بدویؒ اور ایک دوسرے بزرگ ایک ولی اﷲ(ابونصرؒ) کی زیارت کی غرض سے سفر پر نکلے فرماتے ہںا دورانِ سفر جنگل مںا ہمںی سخت بھوک لگی۔ اچانک ہمں ایک لومڑی زمن کھودتی نظر آئی اور اس نے اس مں سے کھمبیاں (برسات مںن ازخود پدخا ہونے والی ایک قسم کی سبزی) نکال نکال کر ہماری طرف پھنکناو شروع کردیں۔ جس مںپ سے ہم نے حسب ضرورت کھالاں کھانے کے بعد آگے بڑھے تو راستے مں ایک درندہ سویا ہوا ملا جو بنارئی سے محروم بھی تھا ہم اس کی خوراک وغرسہ کے حوالے سے ابھی تشویش مںت تھے کہ ایک کوّا نمودار ہوا جس کی چونچ مں گوشت کا ایک بڑا سا ٹکڑا تھا اس نے اپنے پَر درندے کے کانوں پر مارے جس پر درندے نے اپنا منہ کھولا اور کوّے نے گوشت کا ٹکڑا اس کے منہ مں ڈال دیا۔ اﷲ تعالیٰ کی رَزَّاقِیَتْ کا یہ عجب وغریب مظاہرہ دیکھتے ہوئے ہم آگے بڑھے، ہماری نگاہ ایک جھونپڑی پر پڑی قریب جاکر دیکھا تو اس مںا ایک عمررسدرہ عورت عبادت مںآ مصروف ہے۔ جھونپڑی مںم زندگی کا کوئی سامان موجود نہں تھا۔ دروازے پر ایک پتھر تھا جس مںا گڑھا تھا۔ نماز مغرب کے بعد وہ بڑھان جھونپڑی سے باہر آئی تو اس کے ہاتھ مںو دو روٹاوں اور کچھ کھجوریں تھںا۔ اس نے ہم سے کہا اندر چلے جاؤ جو چز ملے کھالو۔ ہم اندر گئے تو وہاں چار روٹاسں اور دو ٹکڑے کھجور کے رکھے ہوئے تھے۔ تھوڑی دیر کے بعد اس جگہ بادل کا ایک ٹکڑا آیا اور برسا اور وہ بارش بھی پتھر کے اس گڑھے کے علاوہ آس پاس ایک قطرہ بھی نہں برسییہاں تک کہ وہ گڑھا پانی سے بھر گار۔ ہمارے پوچھنے پر اس بڑھاس نے بتلایا کہ ہر رات یہ بدلی سردیوں اور گرمو ںمیں اسی طرح برستی ہے اور ہر رات یہ کھجوریں اور دو روٹاگں بھی پہنچتی ہںھ۔ کھانے پنےا کے معاملات مںہ اﷲ تعالیٰ کے ساتھ مرما حال ستّر(70) سال سے ایسا ہی ہے جساھکہ تم دیکھ رہے ہو۔ پھر اس بڑھات نے پوچھا تمہارا سفر کس طرف ہے؟ ہم نے کہا ابونصر سمرقندی کی زیارت کرنے جارہے ہںت۔ بڑھاو نے کہا وہ تو نیک انسان ہے۔ پھر آواز دیتے ہوئے کہا ابونصر ان لوگوں کے پاس آجائےط۔ اچانک ابونصر ہمارے سامنے نمودار ہوئے اور سلام کا ہم نے ان کے سلام کا جواب دیا۔ پھر بُڑھاہ نے کہا جب بندہ اﷲتعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری کرلے تو اﷲ تعالیٰ بھی اس کے کاموں اور ضروریات کو پورا فرماتے ہںا۔ (6)حضرت ابراہمھ بن ادھمؒ فرماتے ہںب کہ ایک مرتبہ مں نے جنگل مں ایک چرواہے سے کہا کہ مجھے دودھ یا پانی چاہےا چرواہے نے کہا دونوں چزتیں موجود ہں ۔ آپ کاہ پسند فرمائںب گے؟ مں نے کہا پانی۔ اس نے اپنا عصا ایک پتھر پر مارا فوراً اس مں سے پانی کا چشمہ اُبل پڑا۔ مںز نے جب وہ پانی پاا تو وہ پانی شہد سے زیادہ مٹھا اور برف سے زیادہ ٹھنڈا تھا۔ مںپ حرمان رہ گان اس نے کہا حر ان نہ ہوں بندہ جب اﷲ تعالیٰ کی اطاعت کرے تو ہر شئے اس کی اطاعت کرتی ہے۔ (7)حضرت حسن بصریؒ فرماتے ہںی کہ ایک مرتبہ شہرمدائن مں سلمان فارسیؓ کے پاس ایک مہمان آیا آپ اس مہمان کو شہر سے باہر جنگل مںح لے گئے جہاں بہت سارے ہرن اور پرندے تھے آپ نے وہاں فرمایا مرکے پاس مہمان آیا ہوا ہے جس کی مںآ مہمان نوازی کرنا چاہتا ہوں لہٰذا مر ےپاس ایک موٹا ہرن اور ایک موٹا پرندہ آجائے فوراً ایک ہرن اور ایک پرندہ ان کے پاس آگئے۔ جس پر مہمان نے حررانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اے سلمان! آپ کے لےا تو پرندے وغرجہ بھی مسخر کردیے گئے ہںس آپ نے فرمایا اس مںم حرنانگی کی کا بات ہے؟ کار آپ نے ایسا بھی کوئی بندہ دیکھا ہے جو اﷲ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہو اور مخلوق اس کی اطاعت نہ کرتی ہو۔ (8) عبدالواحد بن زیدؒ ایک بہت بڑے بزرگ گزرے ہںا فرماتے ہںا مں ایک مرتبہ ایوب سختاونی ؒ کے ساتھ سفر مں تھا، راستے مںت ایک کالا آدمی سر پر لکڑیوں کا گٹھا اٹھائے آرہا تھا۔ قریب آنے پر مںؓ نے اس سے پوچھا تر ا رب کون ہے؟ اس نے کہا تم مجھ جسےی انسان سے یہ سوال پوچھ رہے ہو؟ پھر اس نے آسمان کی طرف سر اُٹھا کر کہا اے اﷲ! آپ لکڑیوں کو سونے کا بنا دیں فوراً وہ لکڑیاں سونا بن گئںا۔ اس نے کہا یہ آپ نے دیکھ لاف؟ ہم نے کہا جی ہاں! اس نے پھر کہا اے اﷲ! اس سونے کو دوبارہ لکڑیوں کا گٹھا بنادیں وہ پہلے کی طرح لکڑیوں کا گٹھا بن گاہ۔ عبدالواحدؒ فرماتے ہںک مں اس کے سامنے جتنا شرمندہ ہوا کبھی کسی کے سامنے اتنا شرمندہ نہںے ہوا پھر مںں نے ان سے پوچھا کاہ آپ کے پاس کھانے کے لےھ کچھ ہے؟ انہوں نے سامنے کی طرف ہاتھ سے اشارہ کاج فوراً ہمارے سامنے شہد سے بھرا پاملہ نمودار ہوا جو برف سے زیادہ سفد اور مشک سے زیادہ خوشبودار تھا۔ انہوں نے فرمایا کھاؤ، قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیںیہ شہد کی مکھی کے پٹچ سے نہں نکلا۔ پس ہم نے وہ شہد کھایا اور اس سے زیادہ میھے چز ہم نے کبھی نہںم کھائی۔ ہمںا اس پر تعجب ہورہا تھا جس پر انہوں نے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ کی ذات کی معرفت رکھنے والا اﷲ تعالیٰ کی نشانو ں اور اس کی قدرت کے کرشموں سے حریان نہںا ہوتا اور جو حروان ہو سمجھ لو کہ وہ اﷲ تعالیٰ سے دور ہے۔ اور جو آدمی اس قسم کے کرشموں سے متاثر ہوکر اﷲ تعالیٰ کی عبادت کرلے وہ اﷲ تعالیٰ کی عظمت سے ناواقف ہے۔ (9) ابوبکر بن الفضلؒ فرماتے ہںہ کہ مر ا ایک رومی نومسلم دوست تھا ایک مرتبہ مںہ نے اس کے اسلام قبول کرنے کا سبب پوچھا اس نے بتانے سے انکار کاب لکنر مںح نے اسے سبب بتانے پر مجبور کای۔ اس نے بتایا اسلام قبول کرنے سے قبل ایک مرتبہ مسلمانوں کی فوج نے ہمارا محاصرہ کار۔ ہم نے ان کے گھیرے مںر سے نکل کر ان سے لڑائی کی جس کے نتجے مں دونوں طرف کے کئی افراد قتل اور کئی افراد قدر ہوئے۔ ہم نے دس مسلمانوں کو گرفتار کاب۔ مںں نے ان مسلمان قدتیوں کو اپنے ماتحتوں کے سپرد کردیا تاکہ وہ قدلی ان کی نگرانی مںہ رہں ۔ ایک دن میںنے دیکھا کہ ایک ماتحت نے ایک مسلمان قدای سے کوئی چزہ لے کر اسے کچھ دیر کے لےو آزاد کردیا۔ مسلمان قددی نے نماز ادا کی۔ مںی نے اس ماتحت سے تفتشن کی اس نے بتلایایہ مجھے ہر نماز کے وقت ایک دینار دیتا ہے اور مںر اسے نماز پڑھنے کے لےد کھول دیتا ہوں۔ مںے نے پوچھا کہ اس مسلمان کے پاس کوئی مال ہے؟ اس نے کہا مال تو نہںو لکن نماز سے فارغ ہونے کے بعد یہ مسلمان اپنے ہاتھ زمن پر مارتا ہے اور ایک دینار زمنا سے اٹھاکر مجھے دے دیتا ہے۔ اس نومسلم رومی نے کہا کہ مںی نے بھی اس مسلمان کو آزمانا چاہا لہٰذا دوسرے دن اس ماتحت کا لباس پہنا اس سے کہا تمہاری جگہ آج مںے خود ڈیوٹی دوں گا۔ نماز ظہر کے وقت اس مسلمان نے مجھے اشارہ کا مںن نماز پڑھنا چاہتا ہوں اور ایک دینار اس کے بدلے تمہں دوں گا۔ مںم نے کہا مںو دو(2) دینار لوں گا اس نے کہا ٹھکں ہے۔ مںت نے اسے کھولا اس نے نماز پڑھی زمند پر ہاتھ ماکر مجھے دو دینار دیے۔ عصر کے وقت مںہ نے پانچ(5) دینار کا مطالبہ کاگ اس نے نماز سے فارغ ہوکر پانچ دینار دیے۔ مغرب کے وقت مر ا مطالبہ ڈبل ہوگاک۔ اس نے دس(10) دینار دیے۔ عشاء کے وقت بس (20) مانگے اس نے نماز سے فارغ ہوکر بسے دینار ادا کےا، پھر اس نے کہا جو دل مںن آئے مانگ مرہا مولیٰ غنی و سخی ہے مرغے سوال پر وہ مجھے دینے مںم بخل نہں کرتا۔ مںا نے رات اس حال مںر گزاری کہ اس مسلمان قدپی کی عظمت مراے دل مں گھر کرچکی تھی۔ صبح مںو نے ان کی بڑریاں کھولںر، کپڑے پہنائے اور انہںر اختاہر دیا کہ چاہںے تو باعزت طریقے سے ہمارے پاس رہںگ اور چاہں تو اپنے ملک واپس چلے جائں ۔ انہوں نے واپس اپنے ملک چلے جانے کو ترجحا دی مں نے انہںن سواری کے لےا خچر اور زادراہ فراہم کاس رخصت ہوتے وقت انہوں نے مرںے لےس دعا فرمائی اﷲ تعالیٰ تمہں اس دین پر موت دے جو اسے سب سے زیادہ پسندیدہ ہو۔ اﷲ کی قسم! اس بزرگ کی دعا ابھی پوری نہںہ ہوئی کہ مراے دل مںم اسلام کی محبت پددا ہوگئی۔ مںا نے اپنے دس معتبر اور قا بل بھروسہ غلام راستے مںت خدمت اور گھر تک پہنچانے کے لےر ساتھ کےف اور ان کے ساتھ ایک خفہ علامت طے کی کہ گھر پہنچ کر مجھے خط لکھںل جس میںیہ خفہچ علامت لگی ہوئی ہو۔ ہمارے اور ان کے علاقے کی درما نی مسافت پانچ دن کی ہے اور آنے جانے مں دس دن لگنے چاہییں لکنچ مراے غلام خفہی علامت لگا ہوا ان کا خط لے کر چھٹے دن ہی واپس پہنچ گئے مں نے غلاموں سے جلدی واپس آنے کی وجہ پوچھی۔ انہوں نے کہا آپ سے رخصت ہوتے وقت وہ بزرگ ہمارے ساتھ تھے ہم بغرک کسی تھکن اور تفل آ ایک ہی مسافت مںت منزل مقصود پر پہنچ گئے البتہ واپسی شدید تھکن اور تکلفل کے ساتھ پانچ دن مںک ہوئی ہے۔ یہ سن کر مںی نے اسی وقت پڑھا: اَشْھَدُاَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّااللهُ وَاَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللهِ وَاَنَّ دِیْنَ الْاِسْلَامِ حَقٌّ۔ ’’مںن گواہی دیتا ہوں کہ اﷲتعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہںَ اور مںم گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اﷲتعالیٰ کے رسول ہںے اور بلاشبہ دین اسلام (ہی) حق ہے۔‘‘(مندرجہ بالا تمام حکایں ع حضرت مولانا محمد موسیٰ خان روحانی بازی رحمۃ اﷲ علہس کی کتاب اولاوء اﷲ کے غیند معاش سے ماخوذ ہں)۔) (10)حضرت شقیق بلخی ؒفرماتے ہںَ مںا ایک سو انچاس 149؁ھ مںٰ حج کے لےی جارہا تھا۔ راستے مںل قادسہت (ایک شہر کا نام ہے) مںر ٹھہرا وہاں ایک قافلہ ساتھ ہوا۔ اس مںل ایک خوبصورت جوان پر مر9ی نظر پڑی جو سب سے علحداہ بٹھا تھا اس کی ظاہری حالت دیکھتے ہوئے مجھے گمان ہوا کہ یہ دوسروں پر بوجھ بنے گا اس کو سمجھانے کی غرض سے مں اس کی طرف بڑھا۔ جب اس نے مجھے اپنی طرف آتے دیکھا تو کہنے لگا اے شقیق!: { کَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ} (سورۂ حجرات آیت12) ’’بدگمانی سے بچو بعض گمان گناہ ہوتے ہں ۔‘‘ یہ کہہ کر مجھے چھوڑ کر چلا گا مںہ نے سوچا یہ تو کوئی حقی غ بزرگ ہے جس نے اجنبی ہونے کے باوجود مر ا نام بھی لا اور مجھے مربی سوچ کے متعلق قرآنی آیت سُناکر فہمائش (تنبہو) بھی کی اس سے اپنے گمان کی معافی چاہوں لکنک وہ مرری نظروں سے غائب ہوگاک۔ جب ہم وَاقْصَہْ (ایک مقام کا نام ہے) پہنچے تو اچانک مرقی اس پر نظر پڑی وہ نماز مںہ مشغول تھا اس کا بدن کانپ رہا تھا اور آنسو بہہ رہے تھے جب اس نے نماز مکمل کی مں معافی مانگنے کے لےب اس کے قریب گا اس نے مجھے اپنی طرف آتا ہوا دیکھ کر کہا اے شقیق پڑھو!: {وَ اِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اہْتَدٰی} (سورۂ طٰہٰ آیت82) ’’اور بلاشبہ مں2 بڑا بخشنے والا ہوں ایسے لوگوں کو جو توبہ کرلںا اور ایمان لے آئں اور نیک عمل کریں پھر سد ھے راستے پر قائم رہںش۔‘‘ یہ آیت پڑھ کر وہ پھر چلاگا مںن نے کہا کہ یہ شخص تو ابدال مں سے معلوم ہوتا ہے اس نے دو مرتبہ مرےے دل کی بات پر مجھے تنبہی کی۔ پھر زیالا کے مقام پر وہ شخص اپنے ہاتھ مںن ایک پابلہ لےا ہوئے ایک کنویں پر کھڑا ملا وہ کنویں سے پانی لنات چاہتا تھا کہ وہ پا لہ کنویں میںگِرگا اس نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو ہی مرای پرورش کرنے والا ہے پانی سے جب مںے پاہسا ہوں، اور توہی مروی روزی کا ذریعہ ہے جب مںی کھانے کا ارادہ کروں۔ اے مروے اﷲ! تجھے معلوم ہے کہ اس پایلے کے علاوہ مرکے پاس کچھ نہںش ہے پس اس پا لے سے مجھے محروم نہ فرمائے ۔ کنویں کا پانی اوپر آیا اس نے ہاتھ بڑھا کر اپنا پاولہ پانی سے بھرا ہوا نکال لائ اوّل وضو کار چار رکعات نماز پڑھی اس کے بعد ریت اکٹھی کرکے مٹھی بھر کر اس پاالے مںع ڈال کر ہلاکر پتاک رہا۔ مںا اس کے قریب گاا سلام کاہ اس نے سلام کا جواب دیا مںر نے اس سے فرمائش کی کہ اﷲ تعالیٰ نے جو نعمت تمہںہ عطا کی ہے اس مں سے کچھ اپنا بچا ہوا مجھے بھی کھلا دیے ک اس نے مجھے وہ پاںلہ دیا مں نے اس کو پاگ تو خدا کی قسم اس مںی ستو اور شکر گھلی ہوئی تھی اس سے زیادہ خوش ذائقہ اور اس سے زیادہ خوشبودار مںو نے کبھی نہیںکھائی تھی مںا نے خوب پٹا بھر کر پای جس کے بعد کئی دنوں تک نہ مجھے بھوک لگی نہ پاھس۔ (11)ایک بزرگ فرماتے ہںں کہ ایک قافلے کے ساتھ جارہا تھا۔ مںا نے قافلے کے آگے ایک عورت دییھ مر ے پاس چند درہم تھے وہ مںے نے اسے دینے چاہے اور کہا جب قافلہ کسی منزل پر ٹھہرے گا مں قافلے والوں سے بھی چندہ کرکے تجھے دلادوں گا، ترہے کرائے وغرےہ مںش کام آئے گا۔ اس نے اپنا ہاتھ اوپر کا اور مٹھی مںں کوئی چز لی وہ درھم تھے جو اس نے مجھے دیے اور کہا تونے جیب سے لےر ہم نے غب سے لےا۔ (12)ابوعبدالرحمن حنفؒے کہتے ہںے مں حج کے ارادے سے چلتا ہوا بغداد پہنچا چالسا دن تک نہ کچھ کھایا نہ پای۔ نہ ہی حضرت جند بغدادیؒ کی خدمت مںن حاضر ہوا۔ بغداد سے نکلنے کے بعد مںھ جنگل مں ایک ایسے کنویں پر پہنچا جو پانی سے لبالب بھرا ہوا تھا ایک ہرنی اس سے پانی پی رہی تھی۔ مجھے بھی شدت کی پاپس لگ رہی تھی۔ ہرنی تو مجھے دیکھ کر ایک طرف چلی گئی لکنس کنویں کا پانی بھی نچےی اتر گام۔ مں وہاں سے آگے بڑھ گای پھر اﷲ تعالیٰ سے شکوہ کرتے ہوئے عرض کای اے مر ے سردار مریی قدر ترھے ہاں اس ہرنی کے برابر بھی نہںب ہے؟ مںے نے اپنے پچھے سے ایک آواز سنی ہم نے تررا امتحان لاچ تو نے صبر نہ کاو جا واپس لوٹ جا پانی پی لے۔ ہرنی بغرب پاملے اور رسی کے آئی تھی ترےے پاس پاتلہ بھی تھا اور رسّی بھی تھی۔ مں جب کنویں پر لوٹا تو کنواں پانی سے لبریز تھا مں نے اپنا پاہلہ بھر لام اسی مںے سے پتام بھی رہا وضو بھی کرتا رہا یہاں تک کہ مدینہ طبہح پہنچ گان۔ حج سے فراغت کے بعد جب مںٹ بغداد پہنچا اور جامع مسجد مںب گام تو حضرت جندؒم کی نظر مجھ پر پڑی فرمانے لگے کہ اگر تو صبر کرتا تو پانی تراے قدموں کے نچےی سے ابلنے لگتا۔ (13)ایک بزرگ کہتے ہںا مںد نے کئی دن حجاز کے جنگل مںا بغرل کھائے پیے گزارے ایک دن مرنے دل مںے روٹی اور گرم گرم باقلا (لوبیے کی قسم کا مشہور عربی سالن) کھانے کی خواہش ہوئی مںا نے سوچا اس جنگل بامبان میںیہ خواہش کسےل پوری ہوگی؟ اتنے مںق ایک بدو روٹی گرم باقلا کی آواز لگاتے ہوئے دکھائی دیا مںا نے اس کی طرف بڑھتے ہوئے پوچھا گرم ہے؟ کہنے لگا ہاں! اور اپنی چادر بچھاتے ہوئے کہا لو کھالو مںب نے کھایا کہنے لگا اور کھاؤ مںت نے اور کھایا تسروی مرتبہ اس نے اور کھانے کا تقاضا کاہ مںا نے اور کھایا جب اس نے چوتھی مرتبہ تقاضہ کاھ تو مں نے اس سے پوچھا کہ اس ذات کی قسم جس نے تجھے مرہے لےق اس جنگل باابان مں بھجا تو مجھے یہ بتاکہ تو کون ہے؟ فرمایا کہ مں خضر ہوں اور غائب ہوگئے۔ (14)حضرت ابراہمم بن ادھمؒ فرماتے ہںے کہ تسا (30) برس سے مرےا دل سکباج (ایک قسم کا کھانا جس مںے سرکہ، گوشت اور موجہ جات ڈالے جاتے ہںم) کھانے کو چاہتا تھا اور مںس مجاہدے کے طور پر اس خواہش کو پورا نہںص کرتا تھا۔ (تسم سال کے بعد) ایک رات مجھ پر نندا کا غلبہ ہوا مںہ نے خواب مںے دیکھا ایک جوان کے ہاتھ مںا سبز رنگ کا پاالہ ہے جس مںی سے بھاپ اُٹھ رہی ہے اور سکباج کی خوشبو آرہی ہے اس نے مرنے پاس آکر کہا ابراہمے لو اور اس کو کھالو مںپ نے کہا جس چز کو اﷲ کے واسطے چھوڑ دیا اس کو اب نہں کھانا ہے۔ وہ کہنے لگا اگر اﷲ تعالیٰ خود کھلائںھ؟ مجھ سے سوائے رونے کے اس سوال کا کوئی جواب نہ دیا جاسکا۔ وہ کہنے لگا اﷲ تعالیٰ تجھ پر رحم فرمائے اس کو کھالے۔ مں نے کہا ہمیںیہ حکم ہے کہ جب تک اس کی تحققی نہ کرلو کاگ چزک ہے؟ جائز و ناجائز کے اعتبار سے کیھ ہے؟ کہاں سے آئی ہے؟ نہ کھاؤ۔ وہ کہنے لگا اﷲ تعالیٰ تمہاری حفاظت فرمائے مجھے رضوان (جنت کے ناظم) نے یہ کہتے ہوئے دی ہے اے خضر ! ابراہم نے خواہشات کو روک کر بہت صبر کرلاع جاؤ اسے یہ کھلا دو۔ پھر اس نوجوان نے مجھے کہا اﷲ جل شانہ تمہںے کھلا رہے ہںف اور تم انکار کرتے ہو مںش نے فرشتوں سے سُنا ہے کہ جو شخص بغرک مانگے ہوئے ملنے پر انکار کرتا ہے اس کو مانگنے پر بھی نہںے ملتا۔ مںی نے کہا مںک آپ کے سامنے حاضر ہوں مں نے اپنے عہد کو اب تک نہںر توڑا۔ اتنے مںک ایک اور جوان آیا اور اس نے حضرت خضر کو کچھ دے کر کہا اس کا لقمہ بناکر ابراہمت کے منہ میںدے دو۔ وہ مجھے اپنے ہاتھ سے کھلاتے رہے اورجب مرگی آنکھ کھلی تو اس کی مٹھاس مر ے منہ مں تھی اور زعفران کا رنگ مرےے ہونٹوں پر تھا مںآ زمزم کے کنویں پر گاج اور منہ کو دھویا مگر نہ منہ مںر سے مزہ جاتا ہے اور نہ ہونٹوں سے رنگ۔ (حکایت نمبر10سے 14تک کی حکایںہو فضائل حج مصنفہ شخا الحدیث حضرت مولانا محمد زکریاؒ سے ماخوذ ہںل۔) بزرگان دین، اولاسء اﷲ کی مندرجہ بالا تمام حکایات کا ایک ایک حرف اور ہرہر جملہ اپنے اندر مکمل صداقت رکھتا ہے اور حقانتک سے لبریز ہے نز، اپنے اندر کامل جاذبتا اور کشش بھی رکھتا ہے۔ یہ کوئی شعبدہ بازی، جادو، مسمریزمال نظربندی نہں نہ ہی من گھڑت قصے کہاناوں ہںر۔ نہ ان حکایات کی کوئی بات بعدےازعقل ہے۔ ان حقائق کو سمجھنے کے لے، درج ذیل امور کا استحضار ضروری ہے: ۱…ان حکایات کی حرات انگزک باتںی متعلقہ بزرگوں کا ذاتی کمال نہںس ہںر ان کا ذاتی کمال صرف اور صرف مکمل طور پر اطاعتِ الہٰی ہے۔ یہ تمام باتںں اطاعت الٰہی کا نتجہا اور عطۂں خداوندی ہںا اس لےر انہںا کرتب نہں کرامت کہا جاتا ہے۔ ۲…تمام کرامات (جو اولا ء اﷲ کے ہاتھوں پر ظاہر ہوتی ہںت) اور تمام معجزات (جو انبیاء علہما الصلوٰۃ والسلام کے ذریعے ظاہر ہوتے ہں۔) اسباب کے دائرے سے اوپر کی چزبیں ہںا اور ایسے کام کرسکنے والی، کرنے والی، کرتے رہنے والی ذات فقط اﷲ تعالیٰ ہی کی ہے۔ ۳…اﷲ تعالیٰ کے اٹل قانون کے مطابق دعویٰ ایمانی رکھنے والے کو آزمائش کے بغرو نہںھ چھوڑا جاتا، چاہے دعوے کے اعتبار سے نچلے سے نچلے درجے کا ہو یا بلند سے بلندتر درجے کا ہو۔ مندرجہ بالا حکایات مںھ استقبالی نقشہ دکھایا گار ہے یناً ان کی زندگاعں امتحانی پرچوں سے بھی خالی نہںح۔ آزمائش پر خندہ پیشانی سے صبر اور اس کی روح کے مطابق پورا اترنا کوئی ہنسی مذاق نہںز۔ ۴…جو لوگ اپنا مقصدحاکت ہر حال مںر اطاعتِ الہٰی کو قرار دے کر اسے خوشحالی اور تنگی مںک اپنا لتےط ہںع انہںی اپنے پلنے کے حوالے سے اﷲ تعالیٰ پر مکمل اعتماد اور بھروسا ہوتا ہے یہ توکل کا اعلیٰ درجہ ہے ایسے لوگ نعمتوں کے ملنے پر اترانے کے بجائے شکر ادا کرتے ہں اور نعمتوں کے روک لےپ جانے پر ہائے واویلا مچانے کے بجائے صبر کرتے ہںا۔ دناس کے تمام لوگ نہ اس درجے پر فائز ہوسکتے ہں نہ ہی اسلام کا ایسا کوئی مطالبہ ہے۔ البتہ تمام لوگوں کے لےں شریعت کی تعلیمیہ ہے کہ اطاعت الہٰی کو زندگی کا لائحہ عمل قرار دیتے ہوئے اپنے پلنے کے جائز اسباب اختاسر کریں لکنا بھروسا اور اعتماد اﷲ تعالیٰ پر رکھں کہ یہ بھی توکل ہی کا ایک درجہ ہے۔۔ وما توفیقی إلاباللّٰہ

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
488