(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/05/23
موضوعات
مسائل نماز
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مسائل نماز سوال: نماز کسے کہتے ہںس؟ جواب:شریعت نے کچھ افعال (کاموں) کو ایک خاص ترتبں کے ساتھ کچھ شرائط کو پورا کرتے ہوئے بطور عبادت ادا کرنے کا اپنے ماننے والوں کو ادا کرنے کا حکم دیا ہے، اس طریقۂ عبادت کو نماز کہتے ہںر۔ سوال: کا نماز کی قِسمیں بھی ہںک؟ جواب:جی ہاں! نماز کی مختلف قِسمیں بھی ہں جوکہ مندرجہ ذیل ہںے: (۱) فرضِ عن (۲)فرضِ کفایہ (۳)واجب (۴)سنّت مؤکدہ (۵)سنت غرےمؤکدہ (۶)نفل۔ سوال: فرضِ عن کسے کہتے ہں ؟ جواب:فرضِ عنِ ہر اس عبادت کو کہتے ہںم جس کا ادا کرنا ہر عاقل بالغ مسلمان مرد و عورت پر ہرحال مںج اس کے وقت کے اندر ضروری ہو۔ نماز مںح پنج وقتہ نمازوں کے فرائض فرضِ عنا ہں ۔ یہ نمازیں اپنے اپنے وقت سے پہلے ادا نہںا ہوتں ، وقت کے اندر پڑھنے سے ادا کہلاتی ہںا، ادائیوں کا وقت گزر جانے کے بعد قضا کہلاتی ہںر اور اس قضا نماز کا وقت گزر جانے کے بعد پڑھنا ضروری ہوتا ہے۔ جس کا وقت پر خود پڑھنا ہر عاقل بالغ مرد و عورت کے لےے ضروری ہے اس کی جگہ کوئی دوسرا پڑھ ہی نہںج سکتا، اسی طرح اگر قضا ہوجائے تو قضا بھی خود ہی پڑھنی ہوگییہاں تک کہ کسی کے مَر جانے کے بعد بھی اس کی قضا نمازیں کوئی دوسرا نہیںپڑھ سکتا (البتہ اس کے لے مالی فدیہ رکھا ہے جس کی تفصلا ان شاء اﷲ آگے آرہی ہے) گویا کہ یہ نمازیں ہر مسلمان عاقل مرد و عورت پر چاہے وہ مقمک ہو یا مسافر، مصروف ہو یا فارغ، بماکر ہو یا تندرست ہو، بالغ ہونے کے بعد سے لے کر ہوش و حواس کے تمام لمحات مںہ موت کی آخری گھڑی تک ادا کرتے رہنا ضروری ہے (بعض مسلمان مقمس اور فارغ ہونے کے باوجود نماز پڑھتے ہی نہںں، بعض موڈ ہوتا ہے تو پڑھ لتےا ہں ورنہ نہںی پڑھتے، بعض وقت نہ ملنے کا بہانہ بناکر نماز چھوڑے ہوئے ہںن، بعض نمازی سفر کی حالت مںق قضا کرلتےہ ہںو، بعض بمااری کو عذر شرعی سمجھ کر نمازیں چھوڑ بیٹھتے ہںض المیہیہ بھی ہے کہ پکا نمازی بھی مرض الموت مںی ہوش و حواس کے باوجود نماز کی زحمت (تکلفہ)نہںہ اٹھاتا یوں عمر بھر کا نمازی آخری عمر مںت بے نمازیہوکر مَر رہا ہے۔ واضح رہے کہ حالات کے بدلنے سے شریعت نے خود اپنے حکم مںو لچک پدضا کی ہے مگر نماز معاف نہں فرمائی ہے مثلاً مسافر کو قصر نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے بماور کے لےک نماز کی ادائیہے مں ترتبی وار رعایت دی ہے کہ کھڑے ہوکر نہں پڑھ سکتا تو بیٹھ کر پڑھے، بیٹھ کر نہں پڑھ سکتا تو لٹ کر پڑھے، لٹف کر نہںا پڑھ سکتا تو اشاروں سے پڑھے، کھڑے نہ ہوسکنے والے، زمن پہ نہ بیٹھ سکنے والے، سجدہ نہ کرسکنے والے معذور کو کرسی کی اجازت دی ہے وغرضہ۔ نماز تو بس اُسے معاف ہے جو اشاروں سے بھی نہںو پڑھ پاتا یا جس پر مسلسل بے ہوشی کی حالت مںل چھ نمازوں کے مکمل اوقات گزر جائںو تو ان گزرے اوقات مںے آنے والی نمازیں ہی معاف ہوں گییا جو عورت ہر مہنےر ایک خاص حالت (حضک) میںمبتلا ہوتی ہے یا زچگی (بچے کی پدمائش) کے بعد ایک خاص حالت (نفاس) مںا رہتی ہے اس کو ان ایام کی بھی نمازیں معاف ہں اس کے علاوہ کے تمام معذوروں کو ان کے اعذار کے ساتھ نمازیں ادا کرنے کا تاکدای حکم ہے۔) سوال: فرضِ کفایہ کا کاے مطلب ہے او رکون سی نماز فرضِ کفایہ ہے؟ جواب:فرضِ کفایہ ایسے فرض کو کہتے ہں جس پر عمل کرنا ایسا ضروری ہو کہ علاقے کے کچھ لوگ (چاہے ایک ہی ہو) اس پر عمل کرلںک علاقے کے تمام لوگوں کی طرف سے کافی ہوجائے (اگر کوئی ایک آدمی بھی عمل نہ کرے تو علاقے کے تمام لوگ گنہگار ہوں گے۔) نمازوں مں فرضِ کفایہ نماز جنازہ ہے جو بغری رکوع، سجدہ اور قعدے والی نماز ہے (نماز جنازہ کی تفصیلات آگے آرہی ہںا۔) سوال: واجب کسے کہتے ہںں؟ جواب:جس پر عمل کرنا فرض کی طرح ہی ضروری ہو، فرض اور واجب مں فرق صرف عقدجے کے اعتبار سے ہے (عملی اعتبار سے نہںب) جو فرض کو نہ مانے وہ کافر ہوجاتا ہے، جو واجب کو نہ مانے وہ کافر نہںغ ہوگا گمراہ کہلاتا ہے، جو فرض و واجب پر عمل نہ کرے فاسق و فاجر (گنہگار، نافرمان) بن جاتا ہے۔ ۱ پنج وقتہ نمازوں مںہ نماز وِتر ہے جو عشاء کی نماز کے ساتھ مگر عشاء کے فرض پڑھنے کے بعد ہی پڑھے جانے سے ادا ہوتی ہے۔ یہ تنہ رکعتوں والی نماز ہے جسے احناف ایک سلام سے پڑھتے ہںد اور اس مں دعائے قنوت بھی پڑھی جاتی ہے (نمازِ وِتر کی تفصیلات آگے آرہی ہںی) اس کے ادا کرنے کا وقت روزانہ عشاء کے فرضوں کے بعد شروع ہوتا ہے اور فجر کا وقت شروع ہونے سے پہلے پہلے تک باقی رہتا ہے اگرکسی رات پڑھنے سے رہ جائں تو ان کا پڑھا جانا وقت گزر جانے کے بعد بھی ضروری ہوتا ہے جسے قضا کہتے ہںے، اگر زندگی بھر مںت قضا بھی نہ پڑھی جاسکںر تو مرتے وقت مالی فدیہ دینے کی وصتک کرنے کا حکم ہے اور مرنے کے بعد اسے روزانہ کی مستقل ایک نماز شمار کرکے ورثا فدیہ جو کہ ایک صدقۃ الفطر کے برابر ہے ادا کرتے ہںہ۔ ۲ نماز وِتر کے علاوہ شہریوں (بڑی آبادیوں کے رہنے والوں) پر عددالفطر اور عد الاضحی کی دو دو رکعتںت پڑھنا واجب ہںک مگریہ اپنے وقت مںی باجماعت ہی پڑھی جاسکتی ہے بعد مں ان کی نہ زندگی مںی قضا ہے نہ ہی مرنے کے بعد فدیہ ہے البتہ بغرم عذر کے نہ پڑھنے والا گنہگار ہوگا او ریہ گناہ توبہ سے معاف ہوگا۔ (عدا کی نماز کی تفصیلات آگے آرہی ہںا۔) ۳ جب طواف کرنے والا بتہ اﷲ کے طواف کے سات چکّر پورے کرلے تو اس پر دو رکعتں واجب الطواف کی نتت سے پڑھنا واجب ہوجاتا ہے۔ اگر انہںو ادا نہ کاے جائے تو یہ موت تک واجب رہتی ہںل۔ البتہ موت کے بعد اس کا فدیہ نہں۔ ہے۔ ۴ اگرکوئی شخص بطور منت (نذر) اپنے اوپر کچھ رکعتںل پڑھنا لازم کرلے تو ان تمام رکعتوں کا پڑھنا اس پر واجب ہوجائے گا اور اس وقت تک واجب رہںا گی جب تک کہ پڑھ نہ لی جائںی، البتہ موت کے بعد اس کا فدیہ نہںر ہے۔ ۵ اگرکوئی شخص نفل نماز پڑھنے کی ابتدا (شروع) کردے تو اس نماز کا مکمل کرنا اس پر واجب ہوجائے گا اگر درماان مں نماز ٹوٹ جائے تو ان دو رکعتوں کو ازسرنو دوبارہ پڑھنا ہوگا نہ پڑھنے کی صورت مں گنہگار رہے گا البتہ موت کے بعد اس کا بھی کوئی فدیہ نہںر ہے۔ سوال: سوال سنت مؤکدہ کسے کہتے ہں۔؟ جواب:ایسے تمام کام جنہںہ نبیﷺ نے فرض و واجب نہ ہونے کے باوجود پابندیٔ وقت کے ساتھ کےا ہوں اور ان کے کرتے رہنے کی امت کو تاکدک کی ہو کو سنت مؤکدہ کہا جاتا ہے۔ پنج وقتہ نمازوں مںو بھی کچھ رکعتں سنت مؤکدہ ہںت جن کی تفصلی حسبِ ذیل ہے: ۱ روزانہ فجر کے دو فرض سے پہلے دو رکعات سنت (ان دو رکعتوں کے پڑھنے کی سخت تاکدا کی گئی ہے۔ اس تاکدےی حکم کی روشنی مںد علمائے کرام یہ فرماتے ہںک کہ نماز فجر کے دو فرضوں سے پہلے ان دو سنتوں کو پڑھنے کا ایسا اہتمام رکھا جائے کہ یہ دو سنتںو سفر مںز بھی نہ چھوٹںت نزم اگر فجر کی دو سنتںد نہ پڑھی جاسکی ہوں اور فجر کے فرضوں کی جماعت شروع ہوچکی ہو اور یہ اطمناےن ہو کہ دو سنتوں کے پڑھنے کے بعد امام صاحب کے سلام پھر نے سے پہلے جماعت مںف شامل ہوا جاسکے گا تو پہلے (ایین مناسب جگہ پر جہاں جماعت مں شامل ہونے والوں کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے) دو سنتںس پڑھی جائںی پھر جماعت کی نماز مںئ شامل ہوا جائے۔ اگر وقت مںم اتنی گنجائش نہ ہو تو دو سنتںد پڑھے بغر جماعت کی نماز مںی شامل ہوا جائے اگر کسی دن نماز فجر کے لےا ایسے وقت مں نماز کے لےں تانر ہوا جاسکے کہ وقت صرف دو رکعتیںپڑھنے جتنا ہی باقی رہ گاو ہو تو اییک صورت مں صرف دو رکعت فرض ہی پڑھے جائیںیعنی ان دو سنتوں کو اس وقت نہ پڑھا جائے اس دن کی باقی رہ جانے والی ان سنتوں کو بہتر یہ ہے کہ ان کے پڑھے جانے کے تاکدےی حکم کی وجہ سے اسی دن کے سورج نکلنے کے وقت سے تقریباً بسے (20) منٹ کے بعد سے لے کر اس دن کے زوال کے و قت سے پہلے پہلے قضا کی نت سے ادا کرلاک جائے۔ زوال کے وقت کے شروع ہوتے ہی قضا کا وقت بھی ختم ہوجاتا ہے لہٰذا اس کے بعد رہ جانے والییہ دو سنتں نہ پڑھی جائں۔ نزر اگر خدانخواستہ کسی دن کی فجر کی نماز قضا ہوجائے اور اسے اسی دن زوال کے وقت سے پہلے پہلے قضا پڑھا جارہا ہو تو پہلے دو سنت قضا پڑھے پھر دو فرض قضا پڑھے۔ اگر اسی دن کے زوال کے وقت کے بعد قضا پڑھی جارہی ہو تو صرف دو فرض قضا پڑھے جائں گے۔) ۲ روزانہ نماز ظہر کے چار رکعات فرض پڑھنے سے پہلے چار رکعات پڑھنا سنت مؤکدہ ہے۔ اگرکسی دن یہ سنتںی ادا کے جانے سے پہلے نماز ظہر کے فرائض کی جماعت کا وقت ہوجائے تو پہلے جماعت کی نماز مںو شامل ہوا جائے اور جماعت کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد پہلے فرض کی دو سنتںس پڑھی جائں بعد مں دو نفل پڑھے جائںر۔ ۳ روزانہ نماز ظہر کے چار رکعات فرض کے بعد کی دو سنتںی سنت مؤکدہ ہں ۔ ۴ جمعے کے دن جمعے کے دو فرض سے پہلے چار رکعتںع فرض کے بعد چار رکعتںم اس کے بعد دو رکعتں سنت مؤکدہ ہں۔ (اگر کسی جمعے مںے فرض سے پہلے کی چار رکعتںع پڑھنے سے رہ گئی ہوں تو فرض کے بعد پہلے بعد والی چار اور اس کے بعد دو رکعتںر پڑھنے کے بعد پہلی رہ جانے والی چار رکعتںا پڑھی جائںگ اس کے بعد نفل نماز پڑھی جائے) (واضح رہے کہ ایسا کرنا بتلائی گئی ترتبہ کی وجہ سے ہے ورنہ پہلی سنتں اگر فرض سے پہلے نہ پڑھی جاسکی ہوں تو انہںک فرضوں کے فوری بعد پڑھ لنےح مںے بھی کوئی حرج واقع نہں ہوتا۔) ۵ نماز مغرب کے تنہ فرضوں کے بعد کی دو رکعتںس سنت مؤکدہ ہںج۔ ۶ نماز عشاء کے چار فرضوں کے دو سنتںر سنت مؤکدہ ہںد۔ سوال: سنت غرر مؤکدہ کسے کہتے ہںن؟ جواب:ایسے تمام کام جو فرض و واجب نہ ہونے کے باوجود نبیﷺ نے کبھی کبھی کےب ہوں۔ پنج وقتہ نمازوں مں صرف دو نمازوں (نماز عصر، نماز عشاء) مںا فرضوں سے پہلے چارچار رکعتںے پڑھنا سنت غریمؤکدہ ہںب۔ سوال: نفل کسے کہتے ہںو؟ جواب:وہ تمام اچھے کام جن کے کرنے کی شریعت نے ترغب (فرض، واجب، سنت نہ ہونے کے باوجود) دی ہو نہ صرف اسے اچھا کہا ہو بلکہ اس پر اَجر کا وعدہ کا ہو۔ اور جن کے کرنے سے کرنے والے کو بلند درجہ حاصل ہوتا ہو اُسے نفل کہتے ہں ۔ نفل کی جمع نوافل ہے۔ بعض پنج وقتہ نمازوں مں بھی نوافل شریعت نے بتلائے ہںف جو درج ذیل ہںع: ۱ نماز ظہر مںع دو سنتوں کے بعد دو نفل۔ ۲ نماز مغرب مںض دو سنتوں کے بعد دو نفل۔ ۳ نماز عشاء مںض دو سنتوں کے بعد دو نفل اس کے بعد تنر وِتر واجب پھر اس کے دو نفل۔ نوٹ: مندرجہ بالا پنج وقتہ نمازوں مںد پڑھی جانے والی سنتں اور نوافل اپنے اپنے وقتوں مںی ہی پڑھے جاسکتے ہں ۔ ان کے وقت گزر جانے کے بعد ان کی نہ قضا ہے نہ مرنے کے بعد فدیہ ہے۔ (فجر کی سنتوں سے متعلق تفصلف پچھے گزر چکی ہے) نوافل کو تو ان کے وقتوں مں بھی چھوڑا جاسکتا ہے، البتہ سفر کے دوران نوافل کے ساتھ سنتوں کے چھوڑنے، پڑھ لنےل دونوں کی اجازت و اختاہر ہے۔ پنج وقتہ سنتوں کے علاوہ کی سنتںے سوال: پنج وقتہ فرض نمازوں کے ساتھ جن سنتوں کو بتلایا جاتا ہے کاے ان سنتوں کے علاوہ بھی نبیﷺ سے دوسری سنت نمازیں ثابت ہںں؟ جواب: جی ہاں! نبیﷺ نے پنج وقتہ فرض نمازوں کے علاوہ بھی رات دن کے مختلف اوقات مںﷺ نمازیں بتلائی ہںب لکنق ان کا پڑھنا فرض واجب نہںج ہے، وہ نمازیں درج ذیل ہںہ: (۱)تحیۃ الوضو (۲)تحیۃ المسجد (۳)نماز اشراق (۴)نماز چاشت (۵)نماز اوابن (۶)نماز تہجد (۷)صلوٰۃ التسبیح (۸)نماز استخارہ (۹)صلوٰۃ الحاجات (۱۰) نماز احرام (۱۱)صلوٰۃ الکسوف (۱۲)صلوٰۃ الخسوف (۱۳)نماز استسقا (۱۴)نماز تراویح وغرپہ۔ ’’تحیۃ الوضو‘‘ سوال: تحیۃ الوضو کے معنی کاو ہںت اور اس سے کونسی نماز مراد ہے؟ جواب: تحیۃ الوضو کے معنی ہںو شکرانۂ وضو۔ وضو کو مکمل کرتے ہی وضو کے حوالے سے جس نماز کے پڑھنے کی ترغبا دی گئی ہے اسے تحیۃ الوضو کا نام دیا گال ہے۔ یوں تو یہ دو ررکعات پڑھی جاتی ہںت البتہ چار رکعات بھی بتلائی جاتی ہں نزا اگر وضو کے بعد کوئی فرض اور سنت نماز پڑھ لی جائے تو اسی مں۔ تحیۃ الوضو پڑھنے کا ثواب بھی مل جاتا ہے۔ جن وقتوں اور مواقع مں نفل نماز پڑھنے سے منع کار جاتا ہے ان وقتوں مںض تحیۃ الوضو بھی نہ پڑھی جائے۔(تفصیلات آگے آرہی ہں ۔) سوال: تحیۃ الوضو پڑھتے وقت نتو کا کی جائے؟ جواب: نتا دل کے ارادے کا نام ہے اور وہی کافی ہے زبان سے اس کے الفاظ کہنا ضروری نہںی۔ اگر کوئی کہنا ہی چاہتا ہے تو یوں کہہ سکتا ہے مںا دو رکعات تحیۃ الوضو پڑھتا ہوں واسطے اﷲ تعالیٰ کے منہ مر ا کعبہ شریف کی طرف۔ سوال: کاا تحیۃ الوضو پڑھنے کے متعلق نبیﷺ سے کوئی فضیلت ثابت ہے؟ جواب: جی ہاں! نبیﷺ نے تحیۃ الوضو پڑھنے والے کے متعلق ارشاد فرمایا ہے کہ جو شخص اچھی طرح وضو کرنے کے بعد قبلے کی طرف منہ کرتے ہوئے دو رکعت نماز تحیۃ الوضو کی نتل سے ادا کرلے تو اس کے لےل جنت واجب ہوجاتی ہے۔(مسلم شریف جلد۱ صفحہ۱۲۲) ’’تحیۃ المسجد‘‘ سوال: تحیۃ المسجد کے کا معنی ہںب اور اس سے کون سی نماز مراد ہے؟ جواب: تحیۃ المسجد کے معنی ہںے مسجد کو السلام علکم کہنا۔ یینز مسجد کے ادب، احترام اور تعظمک کو بجالانا۔ یہ مسجد کا حق ہے کہ جب کوئی شخص مسجد مںم داخل ہو تو مسجد کا ادب بجالائے اور اس کا طریقہ شریعت نے یہ بتلایا ہے کہ مسجد مںب باوضو داخل ہوتے ہی بٹھنے یا کیم عبادت مںت مشغول ہونے سے پہلے دو رکعات تحیۃ المسجد کی نتی کرتے ہوئے پڑھ لے (بغر پڑھے بھول کر پہلے بیٹھ گان تو اس کے بعد بھی پڑھ سکتا ہے) اگر تحیۃ المسجد پڑھنے سے پہلے کسی اور فرض یا سنت نماز کو شروع کردیا تو اسی مں تحیۃ المسجد پڑھنے کا ثواب بھی مل جائے گا البتہ جن وقتوں اور مواقع مں نفل نماز منع ہے تحیۃ المسجد پڑھنا بھی منع ہی رہے گا۔ ایسے اوقات مںی بہتر یہ ہے کہ ’’سبحان اﷲ والحمدﷲ ولا الہ الا اﷲ واﷲ اکبر‘‘ اور درودشریف پڑھ لاو جائے۔ ’’نمازاشراق‘‘ سوال: نماز اشراق کس نماز کو کہتے ہںم اور اس کا وقت اور رکعت کتنی ہں ؟ جواب: لفظ اشراق کے معنی سورج کے طلوع ہونے کے آتے ہں ۔ شریعت نے اس موقعہ پر بھی جس نماز کے پڑھنے کی ترغب دی ہے اُسے نماز اشراق کہا جاتا ہے۔ فقہائے کرام کے بتلائے ہوئے مسئلے کے مطابق اس کا وقت سورج کے نکلنے کے تقریباً بس (20) منٹ بعد ہوتا ہے (واضح رہے کہ صرف قضا نماز کے لےک اس وقت سورج کے نکلنے کے دس(10) منٹ بعد کا وقت بتایا جاتا ہے۔ بس (20) منٹ کا وقت نوافل کے لےا ہے۔) اور یہ وقت دن کا ایک پہر گزرنے تک رہتا ہے۔ جو اندازاً تن (3) گھنٹے بنتا ہے۔ اس کی رکعت دو(2)،چار(4) اور چھ(6) تک بتلائی جاتی ہںی۔ عموماً رواج دو دو کرکے چار رکعت پڑھنے کا ہے۔ بعض علمائے کرام اگلی دو رکعت کے متعلق یہ بات بھی بتلاتے ہںھ کہ اﷲتعالیٰ نے تمام اعضاء کی سلامتی کے ساتھ سونے کے بعد جگا دیا ہے۔ لہٰذا اس کے شکرانے مںع دو رکعت پڑھنے کی عادت ڈالی جائے اس طرح چار کعت اشراق کی ہوں گی اور بقہم دو رکعت بطور شکرانے کے ہوں گی۔ بہتر و افضل یہ ہے کہ نماز فجر کی ادائیڈا کے بعد اسی جگہ اشراق کے وقت تک دیگر عبادات مں مشغول رہا جائے پھر اشراق کی نماز پڑھی جائے لیکنیہ لازمی عمل نہںے کہ اس کے اہتمام کے بغرک نماز اشراق قابلِ قبول ہی نہہو۔ اشراق کی نماز پڑھے جانے کے اوقات مں پڑھی جانے والی نماز اشراق ہی کہلائے گی البتہ ثواب مںو کمی کا ضرور کہا جاتا ہے۔ ’’نمازچاشت‘‘ سوال: نماز چاشت کسے کہتے ہںپ اور اس کا وقت اور رکعت کتنی ہںش؟ جواب: لفظ چاشت اردو زبان کا لفظ ہے اور عربی مںر اِسے ’’ضُحٰی‘‘ کہتے ہںا۔ سورج نکلنے کے تقریباً تنا(3) گھنٹے بعد کا وقت چاشت کہلاتا ہے۔ اس وقت شریعت نے جس نماز کے پڑھنے کی ترغب دی ہے اُسے چاشت کی نماز کہا جاتا ہے۔ اس کے پڑھنے کا وقت سورج نکلنے کے تنق گھنٹے بعد شروع ہوتا ہے اور زوال کے وقت تک باقی رہتا ہے۔ (اس کا درماتنی وقفہ تقریباً دو(2) گھنٹے پندرہ(15) منٹ شمار کاٹ جاسکتا ہے۔) نماز چاشت کی کم سے کم دو(2) رکعت اور زیادہ بارہ(12) رکعتںھ بتلائی جاتی ہںت اور افضل آٹھ(8) رکعت کو کہا گاب ہے اور یہ نمازیں دو دو کرکے پڑھی جاتی ہںہ۔ ’’نمازاوّابنت‘‘ سوال: نماز اوابنر کسے کہتے ہںہ اور اس کی کتنی رکعت ہںم اور اس کا وقت کا ہے؟ جواب: نماز مغرب کی ادائیہت کرلنےو کے بعد شریعت نے ایک اور نماز پڑھنے کی ترغب دی ہے اس کو نماز اوابنٹ کہا جاتا ہے جس کا مفہوم ہے کہ اﷲتعالیٰ کی طرف توبہ و استغفار کے ساتھ رجوع کرنے والے کی نماز۔ اس کا وقت نماز مغرب کی ادائیتق کے بعد شروع ہوتا ہے اور عشاء کا وقت شروع ہونے تک باقی رہتا ہے۔ (درما نی عرصہ تقریباً نماز مغرب کی ادائیار کے بعد ایک گھنٹہ پندرہ منٹ شمار کاع جاسکتا ہے۔) اس کی دو دو کرکے چھ(6) رکعات بتلائی جاتی ہںغ۔ نوٹ: فقہائے کرام نے یہ مسئلہ بھی بتلایا ہے کہ دن کے تمام نوافل دودو کرکے ہی پڑھے جاتے ہںی۔ ایک سلام کے ساتھ لکنع رات کے نوافل پڑھنے مںے اس بات کی گنجائش بھی دی جاتی ہے کہ ایک سلام کے ساتھ چار رکعت پڑھ لی جائںک۔) ’’نماز تہجُّد‘‘ سوال: نماز تہجد کسے کہتے ہںس، اس کا وقت اور رکعتںد کتنی بتلائی جاتی ہںا؟ جواب: لفظ تہجد عربی اور اردو زبان کا لفظ ہے اور اس کا مفہوم ہے رات کے وقت مںی ہی سو کر اُٹھنا یا جاگنا رات کو سونے کے بعد نماز فجر کے وقت سے پہلے اُٹھ کر (جاگ کر) ایک نماز پڑھنے کی شریعت نے ترغبُ دی ہے اور اسے نیک لوگوں کی علامت بھی کہا ہے جسے نماز تہجد کا نام دیا گاگ ہے، عربی اعتبار سے اس کو صلوٰۃ الللع بھی کہا جاتا ہے۔ نبیﷺ نے روزانہ کے اعتبار سے نہ صرف اس نماز کا اہتمام فرمایا بلکہ اپنی امت کو بھی اس کے پڑھنے کی تاکدای ترغب دی ہے، یوں تو یہ نماز رات ہی کے وقت میںسو کر اُٹھنے کے بعد نماز فجر کا وقت شروع ہونے سے پہلے پڑھی جاتی ہے لکنے لوگوں کی کمزوریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے علمائے کرام نے عشاء کی نماز کی تکمل پر بھی اس کے پڑھنے کی اجازت دی ہے بعض علمائے کرام نے رات مںو نہ پڑھ سکنے کی صورت مںع اگلے دن کے زوال کے وقت سے پہلے پہلے تک پڑھے جانے کی اس اعتبار سے تاکدے کی ہے تاکہ اس کی عادت پڑ جائے اور اس کے وقت مںو اس کے پڑھنے کی فکر کی جائے۔ اس تفصلس کے بعد نماز تہجد کا وقت عشاء کی نماز کی ادائیاو کے بعد سے لے کر نماز فجر کا وقت جسے صبح صادق بھی کہا جاتا ہے شروع ہونے سے پہلے پہلے تک بتلایا جاتا ہے۔ اس کی رکعت کم سے کم دو(2) اور زیادہ سے زیادہ آٹھ(8) بتلائی گئی ہںے ۔ (واضح رہے کہ نبیﷺ کا اپنا اہتمام روزانہ کے وِتر کے حوالے سے اکثر و بشترے نماز تہجد کے بعد کا رہا ہے اور اپنی امت کو اس بات کی ترغبہ بھی دی ہے کہ اپنی رات کی آخری نماز وِتر کو بناؤ اس لےم آپﷺ کی اقتدا مںی نماز تہجد کا اہتمام کرنے والے عشاء کے فرضوں کے بعد وِتر چھوڑ دیتے ہں اور اسے نماز تہجد کے بعد ادا کرتے ہں لکنا ہمارے زمانے کے لوگوں کی صحتی، جسمانی اور مصروفیتی کمزوریوں کو دیکھتے ہوئے بہتر یہ بتلایا جاتا ہے کہ وہ وِتر عشاء کے فرضوں کے بعد ہی ادا کرلای کریں اس لےا کہ وتر واجب ہںے اگرکسی دن آنکھ نہ کھلی تو تہجد رہ جانے کی تلافی کی ضرورت نہں ہے لکن وتر قضا پڑھنے پڑیں گے اور شریعت نے نمازوں کو قضا کرکے پڑھنے والوں کی نہ صرف حوصلہ شکنی کی ہے بلکہ اُن کے اس عمل کو معو ب قرار دیتے ہوئے اس پر وعدے بھی سنائی ہے کہ ایک نماز کے قضا کردینے کی صورت مں چاہے وہ بعد مںن پڑھ لی جائے اگر اﷲتعالیٰ نے فضل نہ فرمایا تو اس کے ایک نماز کی قضا کی سزا آخرت کے مسلسل اسّی (80) سال تک جہنم مںع پڑے رہنے کی صورت مں ملے گی۔)۔ وما توفیقی إلاباللّٰہ

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
451