(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/06/08
موضوعات
عاشقو! دیکھوعاشقی تویہ ہے!
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ عاشقو! دیکھوعاشقی تویہ ہے! لفظ انسان ’’اُنْس‘‘ سے بنا ہے اور اُنس ’’محبت، الفت اور پافر‘‘ کو کہتے ہںت، فطرت انسانی کے اندر انسان کے پدےا کرنے والے نے یہ مادّہ رکھا ہوا ہے، یین وجہ ہے کہ جب انسان کسی سے مانوس ہوجاتا ہے تو اُسے ٹوٹ کر چاہتا ہے۔ دناّ مںھ پھلےو ہوئے انسانوں کا اس تناظر مں اگر ایک سرسری جائزہ بھی لاھ جائے تو نمایاں طور پر یہ بات اُبھر کر سامنے آتی ہے کہ انسان اپنے اس جذبے کو کہںی نہ کہں ضرور خرچ کررہا ہے۔یہ جذبہ کںکا بے جان چز،وں پر بھی خرچ کار جارہا ہے اور کہں مختلف قسم کے جانداروں پر بھی بے دریغ لُٹایا جارہا ہے۔ اس جذبے کو اگر کسی کسوٹی پر رکھ کر دیکھا جائے تو انسانی دماغ مںں دو لفظ اُبھر کر سامنے آتے ہںس ایک ’’عشق‘‘ اور دوسرا ’’ہوس‘‘۔ علمائے ادب نے عشق وہوس کو چاہے کسی بھی انداز مں سمجھایا ہو، زیرِنظر موضوع کے تناظر مںک عشق اُسے کہتے ہںی جس کی وجہ سے انسان کسی پر اپنا سب کچھ لُٹا دے اور اُس سے کچھ حاصل کرنے کا جذبہ ہی نہ ہو، جبکہ ہوس اُسے کہتے ہںز جس کے ذریعے سے بظاہر محبت ظاہر کرتے ہوئے اپنے محبوب کا سب کچھ لوٹ لے اور اُسے کچھ دینے کے لےک تانر نہ ہو۔ آج کی انسانتظ اس حوالے سے ہوس مںم تو مبتلا نظر آتی ہے، عشق کی اُسے ہوا بھی نہںہ لگی ہے۔ جب سے دنات قائم ہوئی ہے اُس وقت سے لے کر آج تک اس حوالے سے بے شمار واقعات اس دنال مں۔ نمودار ہوتے رہے ہںا اور کتابوں مںت محفوظ کےق جاتے رہے ہںو، ان معروف واقعات کے علاوہ بھی زندگی کے ہر لمحات مں کسی نہ کسی موڑ پر، کسی نہ کسی کے ساتھ یہ واقعات پش آجاتے ہں کہ یا تو وہ کسی کو چاہنے لگتا ہے یا کوئی اُس پر فدا ہونے لگتا ہے۔ اگرگہری نظر سے اس کا جائزہ لار جائے تو تقریباً تمام واقعات میںیہ بات اُبھر کر سامنے آتی ہے کہ چاہنے والا اپنے محبوب سے کوئی نہ کوئی دنو۔ی، مالی، مادی غرض وابستہ رکھتے ہوئے اس جانثاری کا مظاہرہ کررہا ہے یا محبوب بھی اپنے محب سے کوئی مالی، مادی، دنوری فوائد چاہتا ہے اگریی سامنے کی حققتت ہے تو اِسے عشق کے بجائے ہوس کا نام دینا ہی مناسب ہے۔ اس اغراض کی دناع مں اگر اس حوالے سے کسی محبوب کا پتہ چاہےو تو صرف اور صرف جناب محمد رسول اﷲﷺ کی واحد، اکی چ حتقت ہے جن کے چاہنے والوں نے بغر کسی دنووی غرض کے ایسا ٹوٹ کر چاہا کہ کات مال، کار اولاد حتیٰ کہ اپنی جان تک آپﷺ پر اییت نچھاور کردی کہ جس کے بعد بھییہ کہتے پائے گئے کہ حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا۔ او رجہاں تک نبیﷺ کا تعلق ہے آپﷺ کی پوری کی پوری زاہدانہ زندگی مبارکہ اییض ہے کہ اپنی دنو ی حاجات بھی بقدر حاجت مانگی بھی تو اپنے اﷲ سے مانگی، اپنی ہی نہںا اپنے خاندان اور آل کے لےپ بھی مانگی بھی تو بقدر ضرورت ہی مانگی۔ اپنے لےل تو کہا (اَللّٰھُمَّ اَحْیِنِیْ مِسْکِیْنًا وَأَمِتْنِیْ مِسْکِیْنًا وَاحْشُرْنِیْ فِیْ زُمْرَۃِ الْمَسَاکِیْن)(ترمذیشریف جلد 2 صفحہ 167)’’اے اﷲ! تو مجھے مسکنے زندہ رکھ اور مسکیَّ کی حالت مںی موت دے اور مجھے حشر مں مسکنوَں کے ساتھ اُٹھا۔‘‘اور اپنی آل کے لےج مانگا تو یہ طے کراتے ہوئے مانگا (اَللّٰھُمَّ اِجْعَلْ رِزْقَ اٰلِ مُحَمَّدٍ قُوْتًا) ۔(مسلم شریف جلد 1 صفحہ 337)’’اے اﷲ! آل محمد کو بقدر کفایت رزق عطا فرما۔‘‘ لکن اپنے چاہنے والوں پر کبھی ایسا بوجھ اور ذمہ داری نہںک ڈالی کہ اُنہں پابند بنایا ہو کہ تمہںل مرُی زندگی کے حوالے سے یہ اور یہ کرنا ہوگا۔ طبقہ انبیاء علہم3 السلام کی تو صرف ایک ہی بات تھی {وَ مَآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ اِنْ اَجْرِیْ اِلَّا عَلٰی رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ}(سورۂ شعرآء آیت 127)’’اور مںہ اس کا تم سے کوئی اجر نہںا مانگتا مروا بدلہ تو رب العٰلمنس کے ذمے ہے۔‘‘ یہاں تک کہ نوح علہْ السلام نے تو یہ بھی ارشاد فرمایا کہ {وَ ٰیقَوْمِ لااَآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مَالاً} (سورۂ ھود آیت 29)’’اے مرلی قوم! مںٰ اس (نصحتا) کے بدلے تم سے مال و زَر کا خواہاں نہںا ہوں۔‘‘ کفار قریش نے یہاں تک کوشش کی کہ ہم اپنا سارا مال آپ کے قدموں مں لاکر ڈال دیتے ہںل ہم متفقہ طور پر آپ کو اپنا امرٍ بنالتے ہںا، ہم اپنی بو ں مںل سے خوبصورت ترین بیلہ کو آپ کے نکاح مںب دے دیتے ہں (محبوب اپنے چاہنے والوں سے اس سے بڑھ کر اور کاخ چاہ سکتا ہے؟) قربان جائےی! نبیﷺ کی شان بے نادزی پر کہ آپﷺ نے ان پشکشو ں کو مسترد کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر مراے ایک ہاتھ مںد سورج اور دوسرے ہاتھ میںچاند دے دیا جائے (یینا دنو ی دن رات کا مکمل نظام مربی دسترس مںا دے دیا جائے تو بھی مںت اپنی اس دعوت کو چھوڑنے کے لےن تاےر نہںئ ہوں گا (یین اے دنار پرست نادانو! مں تم سے کچھ لنےں کے لےر نہںے مںب تمہںا بہت کچھ دینے کے لےے بھجاہ گا ہوں) آپ کے چاہنے والوں نے اگر بغرا کسی مطالبے کے، بغر جبر و اکراہ کے، برضا و رغبت بطور ہدیہ دیا بھی تو آپ نے قبول تو فرمایا لکنن اپنی طرف سے بیی ان کو ہدایا دیتے رہے۔ اگر کسی نے بطور صدقہ کچھ دیا بھی تو اُسے اپنی ذات پر ذرہ برابر بھی نہ لگایا بلکہ مکمل طور پر اُنہںج اُن کے مستحقین تک پہنچایا، نزن ہدایا ملنے کی صورت مںق بھی اپنے ساتھ دوسروں کو بھی اُن ہدایا مںر شامل فرمایا۔ ییر عشق ہے جس مں اپنے ذاتی خابلات او راپنی ذاتی رایوں تک کو حرف غلط کی طرح مٹا دیا جاتا ہے۔ اسی کو اتباع کہتے ہںہ،ییر اطاعت کا دوسرا نام ہے جس مںں چاہنے والا صرف اور صرف اپنے محبوب کے اشاروں کو، کنایوں کو سمجھتا ہے اور بلاجھجک محبوب کی تعلما ت پر قربان ہوجاتا ہے۔ نہ ہی طعنہ دینے والوں کے طعنوں کی پرواہ کرتا ہے، نہ دشمنوں کی طرف سے کسی پہنچنے والے نقصان کو ذرہ برابر اہمتم دیتا ہے۔ یہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی محبوب کی رضا مل جائے تو اِسے سستا سودا سمجھتا ہے۔ نبیﷺ کو اﷲتعالیٰ نے آپ کی اپنی زندگی مںب کم و بش ایک لاکھ چوبسر ہزار ایسے انسان مرد و عورت عطا فرمائے جن کی اپنی پدیائشی فطرت اپنی ہی بات منوانے کی تھی، اس کے لےی وہ بے دریغ ظلم کا ارتکاب بھی کرتے تھے۔ اس حوالے سے بستاکں اُجڑ جاتی تھںذ ان کے خونوں سے زمنا رنگنب ہوجایا کرتی تھی لکنب جب اُنہوں نے اپنی گردن نبیﷺ کو اُن پر ایمان لاتے ہوئے تھمادی، اُن کی پہنائی ہوئی لگام اپنے مونہوں مںک لگالی، اُن کی دی ہوئی ہتھکڑی اپنے ہاتھوں مںب پہن لی، اُن کی عطا کی ہوئی بڑنی اپنے پرہوں مںن ڈال لی تو پھر سوچتے وہ تھے جو محبوب کی چاہت تھی، دیکھتے وہاں تھے جہاں محبوب کا حکم ہوتا تھا، سنتے وہ تھے جسے محبوب نے بتلایا تھا، بولتے وہ تھے جسے محبوب نے بولنے کو کہا تھا، پکڑتے وہ تھے جس کے پکڑنے کی محبوب نے اجازت دے رکھی تھی، چلتے اُس طرف تھے جس سمت محبوب نے چلایا تھا، اور ایسا محبوب کی موجودگی مںت بھی کرتے تھے او رعدم موجودگی مں اس سے ذرہ برابر انحراف نہں کاا کرتے تھے۔ دناا کی کوئی طاقت اس سے ہٹا نہں سکتی تھی، شطاجن کا کوئی حربہ اس کے خلاف نہںن کروا سکتا تھا، ییھ وہ لوگ ہںں جنہوں نے عشق کا بھرم رکھا اور جن کے نقوش قدم پر چلنے کا حکم خالق انسانتے نے عطا فرمایا اور جن پر چلنے کی اُن کے بعد آنے والوں نے راہ اپنائی۔ یید وہ کسوٹی ہے جس پر رب کائنات کی طرف سے دناا مںت انسانوں کو پرکھا جارہا ہے او ریی وہ کسوٹی ہے جسے محبوب نے بھییہ کہتے ہوئے اپنے چاہنے والوں کو باندھ کر رکھا ہوا ہے ’’مَنْ اَحْدَثَ فِیْ اَمْرِنَا لَیْسَ مِنْہُ فَھُوَ رَدٌّ‘‘ (بخاری شریف جلد 1 صفحہ 371) ’’جس نے کوئی اییا چز ایجاد کی جو (ہمارے دین مںا) نہںپ تھی پس وہ مردود ہے۔‘‘ یی وہ معاکر ہے جسے آج کے چاہنے والوں کو اگر وہ اپنے دعوؤں مںج سچے ہںس اور اُن کی اپنی کوئی دنوآی غرض نہںہ ہے تو خالق کائنات کی نگاہ مںن اپنے آپ کو عاشق ثابت کرنے کے لےا اپنانا ہوگا۔ عاشقو! دیکھو عاشقی تو یہ ہے! ٭اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِہِمْ۔(سورۂ احزاب آیت 6)’’پغمبر مؤمنوں پر اُن کی جانوں سے بھی زیادہ۔‘‘ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ، نبیﷺ کے اعلان نبوت سے پہلے کے دوست ہںز۔ ایک دن ابوبکر نبیﷺ کی ملاقات کے ارادے سے اپنے گھر سے نکلے، ملاقات ہوئی اور عرض کاق کہ لوگ آپ پر یہ الزام لگاتے ہںو کہ آپ ان کے آباء واجداد وغراہ کے عواب باکن کرتے ہںل، نبیﷺ نے فرمایا کہ مں اﷲ کا رسول ہوں اور تم کو اﷲ کی دعوت دیتا ہوں جوں ہی نبیﷺ نے اپنی بات پوری فرمائی ابوبکر رضی اﷲ عنہ نے بلاچوں و چرا، بلا پس و پش ، بلا جھجک، بلا کسی دللر کے مانگے، فوراً نبیﷺ کی رسالت کی تصدیق فرماتے ہوئے ایمان قبول کرلاْ اور مسلمان ہوگئے۔ عاشقو! دیکھو عاشقی تو یہ ہے! فائدہ: ہم بھی نبیﷺ کے عاشق ہںب، آج آپﷺ کی ذات اقدس تو ہمارے سامنے نہںن ہے لکنر آپﷺ کے قولی، فعلی ارشادات کتابوں مںم محفوظ ہںی اپنی طرف بلا رہے ہںگ، کات ہم زندگی کے ہرہر شعبے مں عشق کے دعوے کے باوجود اس دعوت کو قبول کررہے ہںں؟ ٭اعلان نبوت کے بعد جب مسلمانوں کی تعداد انتالسا(39) تک پہنچی تو ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے نبیﷺ سے عشقہو انداز مںع اصرار فرمایا کہ اب اسلام کی علی الاعلان تبلغں ہونی چاہے ۔ نبیﷺ اس اصرار کے نتجےﷺ مںع ان تمام مسلمانوں کو اپنے ساتھ لے کر مسجد حرام پہنچے جہاں سد نا ابوبکر صدیقﷺ نے کفار کے سامنے تبلی،ب خطبہ شروع کاچ (یہ سب سے پہلا خطبہ ہے جو اسلام مں پڑھا گا ہے اسی دن نبیﷺ کے چچا سدل الشہداء حضرت حمزہ رضی اﷲ عنہ نے اُسی دن قبول کا اور تنا دن کے بعد سد نا عمر رضی اﷲ عنہ کو بھی بذریعہ قبولتے اسلام نبیﷺ کی غلامی مںہ آنے کی سعادت نصبا ہوئی)۔ خطبے کے شروع ہوتے ہی کفار و مشرکن مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے او رخصوصاً سدںنا ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو اس قدر مارا کہ آپ بے ہوش ہوگئے آپ کی بے ہوشی کو دیکھتے ہوئے کسی کو بھی اس بات مںل شک نہںء تھا کہ آپ دوبارہ ہوش مںا بھی آسںدی گے۔ آپ کے قبلے کے لوگوں نے آپ کو اُٹھا کر آپ کے گھر تک پہنچایا وہاں دن بھر بے ہوشی طاری رہی، ہوش مںو لانے کی تمام تدابرن اختاگر کرلنے کے بعد شام کو ہوش آیا تو پہلا جملہ یہ تھا کہ نبیﷺ کا کاق حال ہے؟ گھر مںر موجود لوگوں کو نبیﷺ کے متعلق کچھ خبر نہ تھی آپ ﷺ نے ہی اپنی والدہ کو حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کی بہن اُم جملک کے پاس بھجا کہ اُن سے دریافت کرلو جب تک اُن کا حال معلوم نہ ہوگا نہ کھاؤں گا، نہ پوحں گا۔ بہرحال آپ کی والدہ بٹےُ کی اس مظلومانہ حالت کی بے تابانہ درخواست کو قبول کرنے کے لےا ام جمل کے پاس گئں ۔ ام جملل نے خود آکر آپ کی حالت دییھا اور برداشت نہ کرسکںو اور بے تحاشا رونا شروع کردیا۔ لکنہ اس عاشق صادق کو بس ایک ہی حال نے پریشان کررکھا تھا کہ نبیﷺ کا کات حال ہے؟ ام جملر نے آپﷺ کی خر یت بتلائی تو فوراً پوچھا کہ آپ اس وقت کہاں ہںر؟ انہوں نے عرض کاآ کہ حضرت ارقم رضی اﷲ عنہ کے گھر پر تشریف فرما ہںآ، فرمایا مجھ کو خدا کی قسم ہے! کہ اس وقت تک کوئی چزل نہ کھاؤں گا، نہ پولں گا جب تک حضورﷺ کی زیارت نہ کرلوں۔ عاشقو! دیکھو عاشقی تو یہ ہے! حُبِّبَ اِلَیَّ مِنْ دُنْیَاکُمْ اَلنِّسَائُ وَالطِّیْبُ وَجُعِلَتْ قُرَّۃُ عَیْنِیْ اَلصَّلٰوۃْ۔ (کشف الخفا جلد 1 صفحہ 340) ٭’’ ایک مرتبہ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تمہاری دناک مں سے مجھے تنم چزلیں محبوب ہںۃ: (۱) خوشبو (۲) نیک بوای (۳)مر ی آنکھوں کی ٹھنڈک نماز مںں ہے۔‘‘ سدبنا ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے آپﷺ کے اس ارشاد مبارک کے ہوتے ہی بڑے والہانہ انداز مںن عرض کام:حُبِّبَ اِلَیَّ مِنَ الدُّنْیَا اَلنَّظْرُ اِلٰی وَجْھِکَ وَجَمْعُ الْمَالِ لِلْاِنْفَاقِ عَلَیْکَ وَالتَّوَسُّلُ بِقَرَابَتِکَ اِلَیْکَ۔(کشف الخفاء جلد 1 صفحہ 340) مجھے بھی تن چزہیں پسند ہںد:آپﷺ کو چہرۂ انور کو دیکھنا، آپﷺ کے حکم پر مال خرچ کرنا، او ریہ کہ مرُی بی ک آپﷺ کے نکاح مں ہے۔ یید وہ تینوں چزنیں ہںَ جس سے عاشق صادق کی پہچان ہوتی ہے کہ وہ اپنا سب کچھ اپنے محبوب پر قربان کرتا ہے۔ عاشقو! دیکھو عاشقی تو یہ ہے! فائدہ: عاشقو! آج ہمارے پاس نبیﷺ کا عطاکردہ قول و فعلی احادیث کا ایک صاف ستھرا مجموعہ موجود ہے کار ہم نے عقائدی، اعمالی اعتبار سے اُسے گلے لگا رکھا ہے؟ یا ہم ثابت شدہ احادیث مںا بھی انکار حدیث کے پردے مںک موضوع و ضعفق ہونے کا جال دیے ہوئے کھڑے ہںس؟دناھ میںآئے تو تھے تہی دست اور ننگے بدن جو ملا وہ اﷲ کے دینے سے ملا، کار عشق کے دعوے کے ساتھ یہ جانتے ہوئے بھی کہ جب نبیﷺ کی سنتوں کو عملی طور پر چھوڑ دیا گاو ہو اُن سنتوں کا اختانر کرنا نبیﷺ کے زمانے کے سو شہداء کے ثواب کے برابر درجہ رکھتا ہے۔(کنزالعمال جلد 1 صفحہ 105) کبھی نبیﷺ کی اس ثابت شدہ قول کو عملی سنتوں کے احامء کے لےا اﷲ کے اس دیے ہوئے مال کو خرچ کرنے پر آمادہ ہوئے؟ کبھییہ جذبہ بھی پدوا ہوا کہ مںو اور مرتے اہل خانہ اپنی اس گزرتی ہوئی دناا کے گزارنے کے لائحہ عمل کے طور پر نبیﷺ کی اختا رکردہ زندگی کو اپنا لںب؟ ٭ اﷲتعالیٰ کے حکم سے نبیﷺ سدکنا ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو لے کر نامساعد حالات مںو ہجرت کے لےت تشریف لے جارہے ہںﷲ، سد۔نا ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو یہ خاال ستاتا ہے کہ راستے مںی نامعلوم کاک ضرورت پشف آجائے جبکہ محبوب ﷺ بھی ساتھ ہںک لہٰذا اپنے پچھےص اپنی اولاد کو اﷲ کے بھروسے پر اﷲ کے حوالے کرتے ہوئے مال کی صورت مںے جو کچھ گھر مںے موجود ہے اُسے ساتھ لے لات جائے (اس مال کی مقدار اس وقت کے اعتبار سے پانچ چھ ہزار درہم تھی) چنانچہ سب ساتھ لے گئے۔ عاشقو! دیکھو عاشقی تو یہ ہے! فائدہ: یہ عشق کی بات ہے جو عقل کے نہںہ دل کے دائرۂ کار مںز آتی ہے اسلام نے تو ہمں عقل کے مطابق احکام دیے ہںر لکنم کائ ہم اپنے عشق کے دعوؤں کے ساتھ نبیﷺ کے بتلائے ہوئے عقلی انفاق پر بھی خوش طبعی کے ساتھ تا ر ہوئے ہںق؟ ٭ غزوۂ تبوک کے موقع پر نبیﷺ کے چاہنے والوں نے اپنی اپنی بساط سے بڑھ کر مال و جان پشا کاایہاں تک کہ جس کے پاس کچھ نہں تھا اُس نے رات بھر اپنے آرام کو قربان کرتے ہوئے مزدوری کی اور مزدوری مںش جو کچھ بھی پایا وہ سارا کا سارا نبیﷺ کو پشھ کردیا۔ اس موقع پر بی ایک چھوٹی سی پوٹلی لے کر سد نا ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ حاضر ہوئے، نبیﷺ اپنی تربیع اور تزکییں عادت کے مطابق پوچھ بھی لاا کرتے تھے کہ گھر والوں کے لےو کاا چھوڑا؟ چنانچہ صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ سے بھی جب ان کے محبوب نے یہ سوال کا کہ گھر والوں کے لےل کاو چھوڑا؟ تو اس عاشق صادق نے ایک منکسرانہ ہئیت اختایر کرتے ہوئے عرض کاہ کہ اُن کے لےط اﷲ اور اس کے رسول (کے نام کی برکت اور ان کی رضا و خوشنودی) کو چھوڑ آیا ہوں۔ عاشقو! دیکھو عاشقی تو یہ ہے! ٭کُلُّ جِسْمٍ نُبِتَ مِنَ الْحَرَامِ فَالنَّارُ اَوْلٰی بِہٖ۔(کنزالعمال جلد 4 صفحہ 8) ’’ہر وہ جسم جو مال حرام سے پرورش پائے، (جہنم کی) آگ اس کے لےُ بہتر ہے۔‘‘ سد نا ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا ایک غلام تھا وہ ایک موقع پر کچھ کھانا لایا آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنی عادت کے برخلاف اس مں سے ایک لقمہ کھا لار غلام کو بڑی حرہت ہوئی اور اس سے رہا نہ گاع اور عرض کار کہ آپ کا تو معمول یہ ہے کہ جب بھی آپ کو کھانے پنےا کی کوئی چزا پش کی گئی تو آپ پہلے دریافت فرمایا کرتے ہںپ کہ اسے کس ذریعے (حال یا حرام) سے حاصل کا ؟ آج آ پ نے دریافت نہںا فرمایا اور ایک لقمہ اس مںی سے آپ نے کھا بھی لاا آپ رضی اﷲ عنہ نے انتہائی گھبراہٹ کے عالم مںل اس سے فرمایا کہ بھوک کی شدت کی وجہ سے پوچھنے کی نوبت نہںی آئی اب بتاؤ! یہ کھانا کسےو حاصل ہوا؟ اس نے عرض کا کہ مںھ زمانۂ جاہلت مں ایک جگہ سے گزرا اور اُن پر جادوئی منتر (اُن کے کسی مقصد کے لےن) پڑھا انہوں نے مجھ سے کچھ دینے کا وعدہ کررکھا تھا۔ آج دوبارہ مریا وہاں سے گزر ہوا تو ان کے ہاں شادی کی تقریب تھی، انہوں نے مجھے کھانا دیا تھا آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا تومجھے ہلاک ہی کردیتا اس کے بعد حلق کے اندر ہاتھ ڈال کر قے کرنے کی کوشش کی، شدت بھوک کی حالت مںے کھایا ہوا وہ لقمہ باہر نہ نکل سکا، کسی نے مشورہ دیا کہ خوب پانی پنےے سے قے ہوسکتی ہے، ایک بڑے پاالہ میںپانی منگوایا اور اس وقت تک پانی پی پی کر قے فرماتے رہے جب تک وہ لقمہ باہر نکل نہںس آیا۔ کسی نے عرض کاے اﷲ آپ پر رحم فرمائے یہ ساری مشقت ایک لقمے کی وجہ سے برداشت فرمائی؟ آپ نے فرمایا اگر یہ مرری جان کے ساتھ بھی نکلتا تو مںھ اس کو نکالتا، مں نے اپنے محبوب ﷺ سے سُنا ہے کہ جو بدن مال حرام سے پرورش پائے، آگ اس کے لےب بہتر ہے۔ مجھے یہ ڈر ہوا کہ مرھے بدن کا کوئی حصہ اس لقمے سے پرورش نہ پاجائے۔ عاشقو! دیکھو عاشقی تو یہ ہے! فائدہ: مندرجہ بالا واقعے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ ایک مشتبہ مال تھا فقہی اعتبار سے اس کے حلال و حرام ہونے کی تعنیب مںئ بحث ہوسکتی ہے لکنب کاو ہم اپنی اپنی کمائوشں مںے اس بات کا خا ل رکھتے ہںت؟ (اس آمدنی سے جو کچھ ہم اور ہماری زیرکفالت افراد کھا رہے ہیںیقیناً اُن کے جسم اس سے پرورش پارہے ہںع) کاھ وہ ذریعہ آمدنی حلال ہے یا حرام ہے؟ جبکہ سود اور رشوت کے متعلق تو ناجائز اور حرام ہونے مںق کسی شک و شبے کی گنجائش ہی نہں ہے۔ او رجو ہم غلط باینی، دھوکہ دہی، ملاوٹ، غصب، بھتہ خوری، ناجائز قبضہ وغرےہ وغرجہ سے اپنی آمدنواں کو ان نجاستوں مںم ڈبو کر حاصل کررہے ہںد کبھی دعویٰ عشق نے ہمںج اس طرف بھی متوجہ کائ؟ ٭ مَااَسْفَلَ مِنَ الْکَعْبَیْنِ مِنَ الْاِزَارِ فِی النَّارِ۔(بخاری شریف جلد 2 صفحہ 84 ’’ہر وہ ازار جو ٹخنوں سے نچے رہے گا وہ جہنم مںز جائے گا۔) سد۔نا عثمان رضی اﷲ عنہ صلح حدیہبے کے موقع پر نبیﷺ کی نمائندگی کرنے کے لےو کفار کے پاس بات چیت کے لےع بھجےگ گئے وہاں اُنہںا اُن کے چچا زاد بھائی نے پناہ دی اور اپنے پاس رکھا سدپنا عثمان رضی اﷲ عنہ کے بھائی نے اُن کی طرف دیکھتے ہوئے اُن سے کہا کہ تم نے اپنا یہ زیرجامہ آدھی پنڈلی تک ہی رکھا ہوا ہے جب کہ عرب اسے معودب سمجھتے ہںا اور وہ اپنا زیرجامہ گھسٹتا ہوا رکھتے ہںہ اور جو ایسا نہں رکھتا اُسے وہ کوئی اہمتر بھی نہں دیتے اور آپ اُن سے مذاکرات کے لےن جارہے ہں تو کم از کم اپنا حلہ ہی درست کرلں تاکہ بات چیتبرابری کی حتاُ سے ہوسکے آپ رضی اﷲ عنہ نے جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:لَا ھٰکَذَا اِزَارَۃُ صَاحِبِنَا۔’’نہںہ، ہمارے رسول کا ییب طریقہ و سنت ہے۔‘‘ عاشقو! دیکھو عاشقی تو یہ ہے! فائدہ: نبی اکرمﷺ کی حتہ ہمارے لےی اﷲتعالیٰ نے پوری زندگی مبارکہ کے اعتبار سے ہرہر کام اور بات نمونہ عمل قرار دی ہے او رآپﷺ کا لباس مںا زیرجامہ کے اعتبار سے نمونہ عمل بھی اس واقعے سے ثابت ہورہا ہے۔ نز نبی اکرمﷺ نے ٹخنوں سے نچےر زیرجامہ رکھنے والے کے لے مطلقاً جہنم مںے جانے کی وعدع بھی سنائی ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہر وقت یہ بات پش۔ نظر رہے کہ ایک عاشق صادق کا زیرجامہ کہاں تک رہنا چاہےہ؟یہ تو علمائے کرام نے اس کی علت باین کی ہے کہ یہ وعدو تکبر کی نتت سے ٹخنوں سے نچے رکھنے والے اشخاص کے لےے ہے۔ ورنہ حدیث کے الفاظ مطلق ہںا او رآپﷺ کا عمل عاشق صادق کے لے متعنخ ہے البتہ بے دھاننی میںیا پٹد کے کسی نقص کی وجہ سے پائنچے نچےا کی طرف لٹک جائںم تو ایسا شخص وعدا مں داخل تو نہںل ہوتا لکنی دھا ن آتے ہی اُسے اپنی ہئیت درست کرلیقص چاہےا۔ کاچ آج ہم عشق کا دعویٰرکھنے والے اپنے زیرجامہ کے حوالے سے اس بات کا دھاچن رکھتے ہںا؟یا فشنے کا نام دے کر (جو سنّت کی مخالفت ہی کے لے ایجاد ہوا ہے) مرد اپنے ٹخنوں کو ڈھانپ رہے ہں اور عورتںب اپنے ٹخنوں کو ننگا کررہی ہں۔۔ (جہاں تک پرےوں مںھ پہننے والے موزوں، ہاتھ مںا پہننے والے دستانوں، سر پر ٹوپی وغرلہہچ لباس کے لازمی اجزاء اور حصے نہں ہںخ، انہںج لباس مںہ اضافے کے طور پر قبول کاا جاتا ہے لہٰذا لباس سے متعلق احکامات ان پر لاگو نہں ہوتے۔) ٭کُلُّ بُنْیَانٍ وَبَالٌ عَلٰی صَاحِبِہٖ اِلَّا مَا کَانَ ھٰکَذَا۔(کنزالعمال جلد 15 صفحہ 172) ’’ہر تعمرش کا وبال آدمی پر ہوتا ہے مگرجو صححی جگہ استعمال ہو۔‘‘ نبی اکرمﷺ ایک مرتبہ اپنے گھر سے باہر تشریف لے جارہے تھے کچھ صحابہ بھی ساتھ تھے وہاں راستے مں2 ایک قُبّہ (گنبد دار مکان) دیکھا جو اونچا بنا ہوا تھا، ساتھوسں سے دریافت فرمایا کہ یہ کا2 ہے؟ ساتھورں نے بتایا کہ یہ فلاں انصاری نے قبّہ بنایا ہے نبیﷺ خاموش ہوگئے پھر کسی موقع پر وہ انصاری مجلس مںد حاضر ہوئے اور سلام کا ، نبیﷺ نے اُن سے منہ بھی پھرب لان اور سلام کا جواب بھی نہں دیا اُنہوں نے دوبارہ سلام کار۔ دوبارہ بھییہی صورتحال پشی آئی وہ صحابی پریشان ہوئے اپنے ساتھومں سے پوچھا جو وہاں موجود تھے مںہ آج حضورﷺ کی نظروں کو پِھرا ہوا پاتاہوں۔ ساتھواں نے جواب مںھ کہا کہ حضورﷺ ایک مرتبہ تمہارے گھر کی طرف تشریف لے گئے تھے اور تمہارا قبہ دیکھتے ہوئے صرف اتنا پوچھا تھا کہ یہ کس کا ہے؟ انصاری صحابی فوراً اپنے قبے کی طرف گئے او رجاکر اس قبے کو توڑ کر ایسا زمنو کے برابر کردیا کہ نام و نشان بھی باقی نہ رہا (نہ توڑنے سے پہلے حققتے حال دریافت کی، نہ توڑنے کے بعد نبیﷺ کو اس کی اطلاع دی) پھر کسی موقع پر نبیﷺ کا اپنے ساتھوہں کے ساتھ اس طرف گزر ہوا تو وہ قبّہ نظر نہںے آیا آپ نے ساتھوتں سے دریافت فرمایا تو ساتھو ں نے کہا کچھ روز پہلے آپ نے ان انصاری کی آمد پر اُن سے اعراض کاہ تھا اور انہوں نے ہم سے اس کی وجہ دریافت کی تھی تو ہم نے انہیںیہ بتلایا تھا کہ نبیﷺ نے آپ کا قبہ دیکھ کر صرف اتنا دریافت فرمایا تھا کہ یہ کس کا ہے؟ یہ بات معلوم ہوتے ہی انہوں نے وہ قبّہ زمنہ کے برابر کردیا تھا۔ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہر تعمرق آدمی پر وبال ہے مگر وہ تعمرو جو سخت ضرورت اور مجبوری کی ہو۔(کنزالعمال جلد 15 صفحہ 172) عاشقو! دیکھو عاشقی تو یہ ہے! فائدہ: اس واقعے اندر دو طرح سے بحث کی جاسکتی ہے جوکہ کی گئی ہے(۱) کمال عشق کہ محبوب کی نظروں کو پھرا ہوا دیکھ کر اپنی ذاتی اور جائز سہولادت سے اپنے آپ کو محروم کرلناے اور عشق کے باب مںے عاشق صادق کے لےقیہ ایک مجنونانہ کتنکھ تو نظر آتی ہے لکنت حققتل میںیہ ایک والہانہ کتق ہے جو کسی قواننح کی پابند اپنے آپ کو نہںا رکھ سکتی۔ (۲)انسان کی بناادی ضروریات مں اپنے آپ کو موسمی اثرات اور دشمنوں کی چرہہ دستویں (مضر اثرات) سے محفوظ رکھنے کے لےی بھی مکان ایک لازمی ضرورت ہے اور شریعت نے بھی اس ضرورت کو تسلم کرتے ہوئے رہائش اختا ر کرنے کی اجازت ہی نہںو، حکم بھی دیا ہے (اس ضرورت کو لوگ آج بھی ذاتییا کرائے کے مکانات کے ذریعے سے پورا کررہے ہںت) جہاں تک رہائش مں آسانی پدبا کرنے کے لےہ سہولاگت اختانر کرنے کا تعلق ہے شریعت نے اس کی بھی اجازت دی ہے کہ افرادخانہ کی تعداد کے اعتبار سے اپنی تنہائی مں آزادانہ گزربسر کے لحاظ سے جتنے کمروں کی ضرورت ہو اتنے کمروں کی تعمر کی جاسکتی ہے، اصطلاح مں اِسے رہائش کا نام دیا جاسکتا ہے۔ ہمںب رہائشی تعمر مںک اگر اﷲتعالیٰ نے وسعت دے رکھی ہو تو اس کی زیبائش او رآرائش کی بھی اجازت ہے کہ اسے دیدہ ذیب بنایا جاسکے۔ نز اپنے اپنے وقتوں کے اعتبار سے زندگی گزارنے مںع آسانی پدتا کرنے کے لےا اگر آسائشات ایجادات کی صورت مں موجود ہوں اور اﷲتعالیٰ نے وسعت دے رکھی ہو تو ان آسائشات کو بھی استعمال کرنے کا اختاار دیا ہے۔ البتہ ان تمام چزکوں کا مقصود اپنااور زیرکفالت و متعلقہ افراد کی زندگوشں کو آسان بنانے کے بجائے لوگوں مں اپنا رعب اور رتبہ وساکھ قائم کرنے کا جذبہ ہو تو اِسے نمائش (ریا، شہرت،نام و نمود) کا نام دیا جاتا، اس سے بہت سارے اوامر پامال ہوتے ہںل اور عنداﷲ پکڑ کا باعث بھی بن جانے کا خدشہ بھی ہے لہٰذا شریعت اس نمائش کی اجازت نہںس دییا۔ اس شرعی تفصیلات کے تناظر مںب ہم عشق کا دعویٰ رکھنے والے کان اپنے دور کے اس شاہانہ عشا و عشرت کا جائزہ لے سکتے ہںی جبکہ ہمارے اطراف مںے ہمارے نادار بھائو ں کے گھروں مںک عُسرت، تنگی، فاقہ، خودکشواں کا برہنہ رقص جاری ہے۔ نبیﷺ کے بال رکھنے کا معمول: وَکَانَ لَہ‘ شَعْرٌ فَوْقَ الْجُمَّۃِ وَدُوْنَ الْوَفْرَۃِ۔(ترمذی شریف جلد 2 صفحہ 623) ’’اور نبیﷺ کے بال جمہ سے اوپر اور وفرہ سے نچےر ہوا کرتے تھے۔‘‘ ٭نبی اکرمﷺ کے ایک صحابی خُریم اسدی رضی اﷲ عنہ تھے۔ ان کے متعلق ایک مرتبہ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا کہ خریم اسدی اچھا آدمی ہے اگر دو باتں نہ ہوں (۱) سر کے بال بہت بڑھے رہتے ہںم (۲)لُنگی ٹخنوں کے نچے باندھتا ہے۔ جس مجلس میںیہ بات کہی گئی تھی اُس مجلس کے حاضرین مںب سے کسی نے یہ بات خریم اسدی تک پہنچا دی (بعض روایات میںیہ بات بھی آتی ہے کہ براہ راست نبیﷺ نے خود اُن سے یہ دو باتںص ارشاد فرمائی تھںے) جب نبیﷺ کا یہ ارشاد انہں۔ پہنچا فوراً چاقو لے کر بال کانوں کے نچے سے کاٹ دیے اور لُنگی آدھی پنڈلی تک باندھنا شروع کری۔(ابوداؤد جلد 2 صفحہ 211) عاشقو! دیکھو عاشقی تو یہ ہے! فائدہ: اس واقعے کے تناظر مںع دو قسم کی علمی بحثںپ کی جاسکتی ہں (۱)نبی اکرمﷺ) کی سر کے بالوں کے حوالے سے اختایر کردہ ہئیت، اس کی تفصل درج ذیل ہے: (۱)جہاں تک سَر کے بالوں کا تعلق ہے، اسلام نے کسی خاص عمل کا پابند اپنے ماننے والوں کو نہںک فرمایا ہے البتہ نبیﷺ سے سَر کے بال منڈوا دینے کا عمل بھی ثابت ہے (جس مںا مشینیا اُسترا دونوں کی اجازت ہے) اور سَر پر بال رکھنے کا عمل بھی ثابت ہے۔ آپﷺ کے سَر پر رہنے والے بالوں کی تنص صورتں حدیث کی کتابوں مںے درج ہںی: (۱)پورے سَر کے تمام بال یکساں طور پر اتنے لمبے ہوتے تھے کہ ان کی لمبائی کانوں کے شروع حصے تک پہنچ جاتی تھی۔ (۲) آدھے کانوں تک۔(۳)کانوں کی لَو تک۔ بعض اوقات سفر کی وجہ سے یا بالوں کی درستگی مںب تاخرں کی وجہ سے بالوں کی لمبائی کندھوں تک بھی پہنچ جایا کرتی تھی۔ علمائے کرام نے ان تمام روایتوں کو جمع اس طرح بھی فرمایا ہے کہ سَرمبارک کے اگلے حصے کے بال آدھے کانوں تک اور درماینی سَر کے بال اُس سے نچےن تک اور آخری سَر کے بال مونڈھوں کے قریب تک تھے۔ نبیﷺ کی سنت پر عمل کرنے والے مذکورہ بالا طریقے پر عمل کرتے ہوئے سنت کا ثواب حاصل کرسکتے ہںک لکن اس کے ساتھ ساتھ انہںل بالوںکی صفائی، اس مںے تلق ڈالنے اور کنگھی وغرکہ کرنے کا انتظام بھی لازمی طور پر رکھنا ہوگا اور واجب غسل کے لےغ بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچانا ضروری ہوگا۔ لکنر اس سے مَردوں کے لےت بڑے بال رکھنا عورتوں کی شباہت کی وجہ سے ناجائز ہوگا جساو کہ ہمارے زمانے کے نوجوان بالوں کو اس قدر لمبا کرکے عورتوں کی طرح اُسے ربربنڈویا پَونی سے چُٹیا کی صورت مںب سنبھالتے ہںا۔ نزا اسلامی تعلما ت کے مطابق عورتوں کے لے سَر کے بال منڈوانا یا کٹوانا بلاعذر شرعی ناجائز ہے۔ یہاں تک کہ عمرے اور حج کے احرام سے نکلنے کے لےم بھی انہںک حلق کے بجائے قصر کا حکم دیا گام ہے۔ لہٰذا عورتوں کا مَردوں کی طرح بال کٹوا کر جسے عرف عام مںر بے بی کٹ بیھ کہتے ہںم، اسلامی تعلمالت کے خلاف ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔ نزط دوسرے لوگوں کے نکلے ہوئے بال یا مصنوعی بالوں کے ذریعے سے اپنے سَر کے بالوں مں اضافہ کرنا بھی ناجائز ہے۔ (۲) اس واقعے کے حوالے سے ایک روایت کے مطابق یوں معلوم ہوتا ہے کہ نبیﷺ نے خریم اسدی کی عدم موجودگی مں اُن کا نام لے کر اُن کی بالوں سے متعلق ناپسندیدہ ایک ہئیت کا ذکر فرمایا۔ مذہبی تعلمم کے مطابق کسی کی پیٹھ پچھے اُس کی کوئی اییا برائی بامن کرنا جس کا علم اُسے ہوجائے اور وہ اُسے ناگوار گزرے اُسے شرعی اصطلاح مںی غبتہ کہا جاتا ہے اور شریعت نے اس غبتو کی سخت الفاظ مںن ممانعت بتلائی ہے، خریم اسدی کی عدم موجودگی مںی اُن کے ایک ناپسندیدہ عادت کا ذکر نبیﷺ نے فرمایا آیایہ غبت مںن شمار ہوگا یا نہںز؟ (۱)عقدیتاً تو کسی مسلمان کے ذہن مںم بھییہ بات نہںہ آسکتی کہ نعوذباﷲ نبیﷺ نے غبتج کا ارتکاب فرمایا۔ نبیﷺ کی شان عصمت کے یہ خلاف ہے او رآپﷺ سے اس خلاف عصمت فعل کا صدور بھی کسی مسلمان کے حاشہف خاتل مںت نہںا آسکتا البتہ فقہی تصریحات کے مطابق یہ قصہ غبت کی تعریف مںف نہںا آتا۔ فقہائے کرام نے اس کی وضاحت فرماتے ہوئے یہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ کسی کے عبے کے تعارف کی غرض سے اُس عبی کا اس طرح تعارف کرانا کہ اُس کے بغرے تعارف ناممکن ہو تو یہ تعارف غبتت مںت شمار نہں ہوگا اور کسی کے ایسے عبت کا ذکر کرنے والا اس گناہ کا مرتکب نہ ہوگا۔ اس واقعے مںا بھی خریم اسدی رضی اﷲ عنہ کی ایک اییی عادت جسے نگاہ نبوت نے ناپسندیدہ قرار دیتے ہوئے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کو متعارف کرانے کے لےر اُن کے نام کے ساتھ اُن کی اس ہئیت کا ذکر کای جوکہ تعارف کے بغرت سمجھ مںع آنا بھی مشکل ہی نہںہ ناممکن بھی تھا۔ (۲)نبیﷺ نے اس طریقے کو اختا ر فرماتے ہوئے اپنی امت کو بھییہ تعلمی دی کہ ایسے کسی عبی کو بدلنے یا ختم کرنے کے لےس اگر ناگزیر صورتںح پش آجائںو تو اس طریقۂ کار کو بدنیھا کے بغری اصلاح احوال کی غرض سے رضائے الہٰی کے جذبے کے ساتھ شریعت کے حکم کو ممتاز کرنے او رپہنچانے کی نت سے اختارر کار جاسکتا ہے۔ قَالَیَا حَکِیْمُ! اِنَّ ھٰذَا الْمَالَ خَضِرَۃٌ حُلْوَۃٌ فَمَنْ اَخَذَہ‘ بِسَخَاوَۃِ نَفْسٍ بُوْرِکَ لَہ‘ فِیْہِ وَمَنْ اَخَذَہ‘ بِاِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ یُبَارَکْ لَہ‘ فِیْہِ وَکَانَ کَالَّذِیْیَاْکُلُ وَلَا یَشْبَعُ، اَلْیَدُالْعُلْیَا خَیْرٌ مِنْ الْیَدِِ السُّفْلٰی۔ ٭ نبیﷺ کا ایک ارشاد ہے کہ اے حکمب! یہ (دنولی) مال سبز باغ ہے، ظاہر مں بڑی میھْ چزی ہے مگر اس کا دستور یہ ہے کہ اگر یہ دل کے استغناء کے ساتھ ملے تو اس مں برکت ہوتی ہے۔ اور اگر طمع و لالچ سے ہو تو اس مںب برکت نہںی ہوتی۔ اس کی مثال اس شخص جییَ ہوتی ہے جو کھاتا ہے لکنَ اس کا پٹو نہںم بھرتا۔ اوپر کا ہاتھ نچےح کے ہاتھ سے (بہرحال) بہتر ہے۔(بخاری ِشریف جلد 1 صفحہ 199) ٭حکم بن حزام رضی اﷲ عنہ ایک صحابی ہںر، ایک مرتبہ نبیﷺ کی خدمت مںّ حاضر ہوکر کچھ مال مانگا نبیﷺ نے عطا فرمادیا، دوسری مرتبہ پھر کسی موقع پر ییک صورتحال پشا آئی پھر کسی موقع پر تسرری بار حاضر ہوئے اور سوال کات نبیﷺ نے عطا تو فرمایا لکنر ساتھ ہییہ بھی ارشاد فرمایا ( اے حکمل! یہ (دنوتی) مال سبز باغ ہے، ظاہر مںر بڑی میھت چزھ ہے مگر اس کا دستور یہ ہے کہ اگر یہ دل کے استغناء کے ساتھ ملے تو اس مںک برکت ہوتی ہے۔ اور اگر طمع و لالچ سے ہو تو اس مںہ برکت نہںی ہوتی۔ اس کی مثال اس شخص جیار ہوتی ہے جو کھاتا ہے لکنش اس کا پٹل نہںم بھرتا۔ اوپر کا ہاتھ نچے کے ہاتھ سے (بہرحال) بہتر ہے۔) حکم بن حزام رضی اﷲ عنہ نے آپﷺ کا یہ ارشاد مبار (جو بطور تنبہی ہی تھا) سنتے ہی عرض کا یا رسول اﷲﷺ! آپ کے بعد اب کسی کو نہں ستاؤں گا لہٰذا نبیﷺ کے پردہ فرما جانے تک ہی نہںہ بلکہ سدعنا ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اپنے زمانہ خلافت مںا بتی المال سے دیگر مسلمانوں کی طرح اُن کا اپنا حصہ انہوں نے دینا چاہا لکن حکمب بن حزام رضی اﷲ عنہ نے اُسے لنےا سے انکار کردیا سدینا ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے پورے زمانہ ٔ خلافت مں ایک مرتبہ بھی اییی کوئی صورتحال باان نہں کی جاسکتی کہ حکم بن حزام رضی اﷲ عنہ نے کوئی مال مانگے یا بغرن مانگے قبول کات ہو یہاں تک کہ سدینا عمر رضی اﷲ عنہ کا زمانۂ خلافت آگا جس مںو عمر رضی اﷲ عنہ جیہ شخصتم نے بارہا اصرار فرمایا لکنب ابن حزام رضی اﷲ عنہ اپنے اس انکار پر (جو نہ بغاوت کے نہ معصیت و نافرمانی کے زمرے مںا آتا ہے) قائم رہے یہاں تک کہ وصال ہوگاف۔ عاشقو! دیکھو عاشقی تو یہ ہے! فائدہ: مذکورہ بالا واقعے مںع باعتبار عشق کے یہ بات قابل دید اور لائق تقلدا ہے کہ حکمپ بن حزام رضی اﷲ عنہ نے بغرہ کسی حجت کے نبیﷺ کی بات کو تسلما کرتے ہوئے یہ وعدہ کرلا کہ آئندہ موت تک یہ صورتحال کبھی بھی پشر نہں آئے گی اور قربان جائےب! اس عشق پر کہ کسی بیع حوالے سے کسی بھی مخلوق سے نہ ازخود سوال کاہ اور کبھی کسی نے ان کا اپنا حق بھی دینا چاہا تو اس وعدے کو نبھاتے ہوئے اس سے مطلقاً انکار فرمادیایہاں تک کہ اپنے رب سے جاملے۔ محدثنک کرام نے اس حدیث مبارکہ کے مواقع کو کتابوں مںہ مختلف ابواب اور مختلف مقامات کے تحت ذکر کاا ہے، شارحنک نے اس واقعے کی تشریح کرتے ہوئے دیگر مباحث پر بات چیت کی ہے جس مںذ سب سے اہم بات اسباب کے ماتحت بھی کسی مخلوق سے سوال کرنے یا نہ کرنے کے اعتبار سے ہے جہاں تک کسی مخلوق سے اسباب کے ماتحت مانگنے کا تعلق ہے تو انتہائی قرییا دوست، بزرگوں اور اقرباء کو آپس مں ایک دوسرے سے ضرورت کے تحت شریعت نے مانگنے کی اجازت دی ہے اس کے ساتھ ساتھ شریعت نے یہ بھی تعلمے دی ہے کہ ایک دوسرے کو ہدایا دینے کا رواج بھی رکھا جائے۔ اس سے باہمی محبت مںہ اضافہ ہوتا ہے اور باہمی کدورت و عداوت دور کرنے کا ذریعہ بھی ہے اس کے ساتھ ساتھ ایک اور وجہ مانگنے اور دینے کی تعلماھت اسلامہ سے ثابت ہوتی ہے (کہ وہ جہاد مں حاصل ہونے والا مال غنمتو امرا جماعت کو اپنے جہادی ساتھوےں مںی اسے تقسمم کرنے کا حکم دیا ہے او رجہادی ساتھو ں کو اس مال کو حلال بتلاتے ہوئے اِسے حاصل کرنے کی ترغبی دی ہے اس صورتحال مںس مجاہد، اپنے جمع کردہ تمام اموال کو امر کے پاس جمع کرادیتا ہے یہاں تک کہ امرم کی اجازت کے بغرس ایک ذرہ بھی اپنے پاس نہںم رکھتا اور پھر امرم شریعت کے بتلائے ہوئے اصولوں کے مطابق اس مال کو تقسمل کردیتا ہے) اس مںی لنےے والے کے لے مانگنے کی گنجائش ہے کہ اگر وہ کم سمجھتا ہو تو اپنے حق کے پورا کےک جانے کا مطالبہ کرسکتا ہے۔ مندرجہ بالا تمام صورتوں مں) سے یناً کوئی نہ کوئی ایک صورت اس واقعے مںو پائی جاتیہے جس کے طابق نہ حکمب بن حزام کا مانگنا محل نظر ہے، نہ ہی نبیﷺ کی طرف سے عطا کاپ جانا انگلی اٹھائے جانے کے قابل ہے لکنپ نبیﷺ کا ایک فرضِ منصبی تزکۂن نفس بھی ہے اور اس باب مںی نبیﷺ نے تسرجی مرتبہ مانگے جانے کے بعد اس حوالے سے ایک ذہنی اصلاح فرماتے ہوئے نفس کی باعتبار تزکۂ تربتن فرمائی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر اﷲتعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسا انتظام مال کے دیے جانے کا ہو کہ اس مال کی طرف نہ دل کا میلان ہو، نہ زبان سے سوال ہو تو ایسا مال اﷲتعالیٰ کی طرف سے ایک روزی ہوتا ہے جو اس شخص کو دیا جاتا ہے اور اس میںیقیناً برکت ہوتی ہے۔ اگر ذہن مں کسی مال کے حصول کا رجحان ہو اور زبان سے بھی سوال کاا جارہا ہو اگرچہ وہ جائز ہو لکنم پھر بھی اصولی بات یہ ہے کہ بحتساک دنوحی مال کے یہ مال بظاہر بہت خوبصورت، انتہائی پرکشش اور نہایت لذیذ معلوم ہوتا ہے لکنن چونکہ ذہنی و قلبی رجحان اس طرف ہوتا ہے کہ یہ کسی نہ کسی طریقے سے حاصل ہوجائے تو یہ طمع و لالچ کی ایک صورت بنتی ہے اس صورت کے بننے کا اگر شائبہ بھی ہو تو اس مال مں برکت نہں رہتی باوجود حاصل ہونے کے اور باوجود مسر آتے رہنے کے وہ ضرورتوں کے پورا کردینے کی صلاحیت نہںل رکھتا اور اییا صورت مںص مانگنے والے کو باربار اس کے حاصل کرنے کی دقت اور ذلت اُٹھانا پڑتی ہے لہٰذا نبیﷺ نے اس بمابری کا شکار نہ ہونے کی حکمت سے حکمی بن حزام رضی اﷲ عنہ کو یہ نسخہ کات ں عطا فرماتے ہوئے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جب آدمی کسی سے کوئی مال مانگتا ہے تو اس کا ہاتھ نچےی کی طرف ہوتا ہے اور دینے والے کا ہاتھ اوپر کی طرف ہوتا ہے اس عنوان سے تمہارے لےن بہتر یہ ہے کہ تمہارا ہاتھ نچے کی طرف نہ ہو بلکہ اوپر کی طرف رہے یین مخلوق سے مانگنے کے بجائے خالق کے دیے ہوئے مال مںت سے اپنی ضرورت کو بقدر حاجت پورا کرتے ہوئے دیگر ضرورت مندوں پر خرچ کاک جائے۔ جہاں تک کسی مخلوق سے مانگنے کا تعلق ہے تو اس کے لےت لفظ سؤدل بتلایا گاس ہے۔ اس سوال کے حوالے سے نبی اکرمﷺ کی تعلیمیہہے کہ (وَاِذَا سَاَلْتَ فَسْئَلِ اﷲَ)(ترمذی شریف جلد 2 صفحہ 213)’’جب مانگو تو اﷲتعالیٰ سے مانگو۔‘‘ لکنت اس ترغبہ کے ساتھ ساتھ انتہائی ضرورت کی صورتوں مں جس مںؤ نادار ہونا تو ہوتا ہی ہے جسمانی اعتبار سے طاقت کا نہ ہونا کہ اپنی محنت سے اپنی ضروریات کو پورا کرسکے اور تنک دن کا فاقہ ہوجانے کو بھی علمائے کرام بتلاتے ہںا ایسے شخص کو بقدر ضرورت مانگنے کی اجازت دی گئی ہے اگر ایسا شخص ضرورت سے زائد مانگتا ہے تو یہ سائل نہںں اس راہ کا تاجر کہلائے گا او رپھر اس کییہ تجارت اس کے لےے ہلاکت کا سبب بنے گی چنانچہ نبیﷺ کا ارشاد ہے کہ اگر کسی حلال مںت زکوٰۃ کا مال مل جائے تو وہ اصل مال کو بھی برباد کردیتا ہے۔(کنزالعمال جلد 6 صفحہ 131) حلال مال مںم مل جانے کی علمائے کرام نے دو صورتںک باان کی ہں : (۱)زکوٰۃ دینا فرض ہوچکا تھا لکنپ وہ اپنے مال مںح سے زکوٰۃ کا مال نہںل نکالتا تو یہ زکوٰۃ کا مال اس کے اصل مال کو بھی برباد کردے گا۔ (۲)اگر کوئی لنے والا مستحق زکوٰۃ نہںی تھا اور اس نے غری مستحق ہوتے ہوئے بھی زکوٰۃ کا مال وصول کرلاۃ تو یہ مال اس کے اصل مال مںد شامل ہونے کے بعد اس اصل کو بھی ہلاک و تباہ کردے گا۔(مرقاۃ المفاتح جلد 6 صفحہ 64) اس عنوان سے ہمارے زمانے مں ہرہر شخص کو اپنے مالوں کی حفاظت و تباہی کے حوالے سے انتہائی سنجداگی کے ساتھ غور کرتے رہنا چاہے ۔ وما توفیقی إلاباللّٰہ

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
275