(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/05/23
موضوعات
مسائل طہارت
نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مسائل طہارت سوال: ناپاکی کسے کہتے ہںْ؟ جواب: اییْ تمام چزْیں جن کو شریعت نے گندا کہا ہو یا عقلمند لوگ اُسے گندا سمجھتے یا کہتے ہوں اییم تمام چز یں ناپاک کہلاتی ہںن۔ سوال: جسم یا کپڑوں یا جگہ پر گندگی لگ جائے تو ان چزنوں کا کاے حکم ہے؟ جواب: جسم یا کپڑوں یا جگہ کے جتنے حصے پر گندگی لگ جائے تو ان چزیوں کا اتنا حصہ ناپاک ہوجاتا ہے۔ سوال: گندگی کو نجاست کہتے ہںی کا مذہبی تعلمائت کی روشنی مںہ اس کی بھی قسمں باتن کی جاتی ہںھ؟ جواب: جی ہاں! مذہبی تعلماات کی روشنی مںح اس گندگی کی دو قسمںک باان کی جاتی ہںک: ۱…نجاست غلظہد جس کا مطلب یہ ہے کہ شریعت نے اُسے انتہائی / بہت سخت ناپاک کہا ہے۔ ۲… نجاست خففہْ جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ غلظہُ کے مقابلے مںب مذہب نے اِسے نسبتاً ہلکا کہا ہو۔ سوال: شریعت نے کن کن گندگوںں کو نجاست غلظہی قرار دیا ہے؟ جواب: مذہب نے درجہ ذیل چزنوں کو نجاست غلظہغ قرار دیا ہے: ۱…انسان کا پیشاب اور پاخانہ (اس مںے مرد، عورت، بچے تمام شامل ہںر)۔ ۲… جن جانوروں کو مذہب نے حرام قرار دیا ہے اُن کا پیشاب۔ ۳… تمام حلال اور حرام جانوروں کا پاخانہ۔ ۴…انسان اور جانوروں کا بہتا ہوا خون۔ ۵…شراب۔ ۶…مرغی اور بطخ کی بٹ (پاخانہ)۔ سوال: شریعت نے کن کن گندگوںں کو نجاست خففہع قرار دیا ہے۔ جواب: شریعت نے مندرجہ ذیل دو چزووں کو نجاست خففہر قرار دیا ہے: ۱…حلال جانوروں کا پیشاب۔ ۲… حرام جانوروں کی بٹ ۔ نوٹ: مشاہدہ یہ ہے کہ جو جانور پرندوں کی جنس مںں آتے ہںف اُن سے پیشاب صادر ہی نہںا ہوتا نز پرندوں کے علاوہ بھی ایسے جاندار ہں جن کو حشرات الارض (کڑ ے مکوڑے) کہا جاتا ہے۔ مشاہدے مںت اُن سے بھی پیشاب صادر نہںی ہوتا اور جو کچھ معمولی سا پاخانہ/بٹت نکلتی ہے وہ پاکی، ناپاکی کی بحث کے زمرے مںد ہی نہں۔ آتا۔ لہٰذا اُن مںی سے اگر کسی کی بٹس لگ جائے تو وہ جگہ / جسم پاک ہی کہا جائے گا۔ سوال: کام مذہب نے نجاست غلظہل کی کوئی اییش مقدار مقرر کی ہے کہ اس مقدار کے لگے رہنے کے باوجود انجانے مںت نماز پڑھ لی جائے تو نماز ادا ہوجائے گی؟ جواب: جی ہاں! اییل مقدار شریعت نے بتلائی ہے جس مںر تفصیلیہ ہے کہ ایک وہ نجاست ہے جو اپنا گاڑھا وجود رکھتی ہے جسےو پاخانہ اگر انجانے مںی جسم پر یا کپڑے پر ساڑھے چار ماشے (4.37گرام) کی مقدار تک لگا ہوا رہ جائے اور اُس حالت مںہ نماز پڑھ لی جائے تو نماز ادا ہوجائے گی لکنے اس کو بھی ناپسند کہا گاے ہے۔ اور جان بوجھ کر اتنی نجاست کو لگا ہوا رکھنا ناجائز ہے۔ اگر نجاست غلظہی وجود کے اعتبار سے پتلی اور بہنے والی ہو جسےب شراب اور پیشاب تو اس کا پھیلاؤ ہتھی ل کی گولائی کے برابر ہو اور انجانے مںی لگا رہ گاظ ہو تو اس صورت مںغ نماز ادا ہوجائے گی لکن ناپسند کہلائے گی البتہ اس قدر ناپاکی کا جان بوجھ کر لگا رکھنا ناجائز ہے۔ سوال: کا شریعت نے نجاست خففہہ کی کوئی اییگ مقدار مقرر کی ہے کہ اُس مقدار کے لگے رہنے کے باوجود انجانے مںا نماز پڑھ لی جائے تو نماز ادا ہوجائے گی؟ جواب: جی ہاں! اییل مقدار شریعت نے بتلائی ہے جس مںی تفصیلیہ ہے کہ نجاست خففہگ اگر کپڑے کے جس حصے یا جسم کے جس عضو پر لگ جائے اور وہ نجاست اُس عضو کی کل مقدار کے مقابلے مں چوتھائی حصہ بنتی ہو تو اس قدر نماز پڑھنے کے حوالے سے معاف ہے یینو انجانے مںت ایسا ہوجائے تو نماز ادا ہوجائے گی۔ بقہق تفصیلات پچھلے سوال کے جواب کے مطابق ہی ہے۔ سوال: ناپاکی دُور کرنے کا طریقۂ شریعت نے کال بتلایا ہے؟ جواب: پانی سے اُتنی جگہ کو اچھی طرح دھو لات جائے۔ ایسا کم از کم تنا مرتبہ کاہ جائے، نزا جن چزکوں کو نچوڑا جاسکتا ہے ان کو تینوں مرتبہ سختی کے ساتھ اچھی طرح نچوڑ لا جائے تاکہ پانی کا کوئی قطرہ اس مںے باقی نہ رہے۔ جو چزبیں نچوڑی نہیںجاسکتںا انہںن ایک مرتبہ اچھی طرح دھوکر اتنی دیر کے لےا چھوڑ دیا جائے کہ اس مںا سے پانی کے تمام قطرات ٹَپک کر ختم ہوجائں ، ایسا دوسری اور تسرلی مرتبہ بھی کاو جائے۔ اس طرح کرلنےو سے اییا تمام چزےیں پاک ہوجاتی ہں ، چاہے دُھلنے کے بعد اس پر داغ دھبے برقرار رہںں۔ ٭…ششہے، لوہے کی بنی ہوئی اشا ء، سونا و چاندی وغرےہ کی اییہ غرر منقش اشاکء جن مںر تصویری اُبھار نہ ہو اگر نجس ہوجائںھ تو رَگڑ لنےریا مٹی سے مانج لنےت سے اییا تمام اشاسء پاک ہوجائںہ گی، البتہ اگر یہ اشاکء منقش ہوں تو پھر انہںی پانی سے دھونا پڑے گا۔ ٭… زمنا اگر ناپاک ہوجائے اور اس کے بعد سورج کی دھوپ سے ایی، خشک ہوجائے کہ گندگی کا اثر اور نشان باقی نہ رہے او رنہ گندی کی بدبو محسوس ہوتی ہو تو اییا زمن شرعی اعتبار سے نماز پڑھنے کے لے پاک سمجھی جائے گی، البتہ اس زمن سے تیمّم کرنا درست نہںی۔ ٭…اسی طرح زمنو پر جمی ہوئی گھاس ناپاک ہوجائے اور سُوکھ جانے پر بدبو کا اثر ختم ہوجائے تو وہ جمی ہوئی گھاس پاک ہوجائے گی، البتہ زمنس پر جمی ہوئی نہ ہو بلکہ کٹی ہوئی زمنو پر رکھی ہوئی ہو او رناپاک ہوجائے تو بغر دھوئے پاک نہںل ہوگی، لہٰذا اییئ گھاس پر نماز پڑھنا بھی ناجائز ہوگا۔ سوال: شرعی ضرورت کے اعتبار سے انسان کو جسےل کھانے پنےک کی ضرورت پڑتی ہے ایسے ہی پیشاب پاخانے کی ضرورت پشی آتی ہے، اس کو اصطلاح مںی کاک کہتے ہں ؟ جواب: اس کے لےی اصطلاح مںے قضائے حاجت کا لفظ استعمال کایجاتا ہے۔ سوال: کا قضائے حاجت کے بعد شریعت نے کوئی حکم دیا ہے؟ اور اسے اصطلاح مںو کاے کہتے ہں ؟ جواب: قضائے حاجت کے بعد وہ دونوں مقام ظاہری اعتبار سے ناپاک قرار دیے جاتے ہں اور انہں پاک کرنے کا شریعت نے حکم دیا ہے۔ اصطلاح مں اِسے استنجا کہتے ہںل۔ سوال: کن کن چزاوں سے استنجاء کرنے کی اجازت ہے؟ جواب: استنجاء کرنے کے لےں شریعت نے مٹی کے ڈھلے ، اس مقصد کے لےص بنائے گئے کاغذ (جسے ٹِشو پپر کہا جاتا ہے) یا گتّے کے ٹکڑوں سے اور پانی سے استنجاء کرنے کی اجازت دی ہے۔ سوال: کات ان تمام چزےوں کا ایک ساتھ استعمال کرنا ضروری ہے یا کسی ایک چزش سے بھییہ ضرورت پوری ہوسکتی ہے؟ جواب: اس مںا تفصیلات ہں : ٭…پانی کے علاوہ جتنی چزتیں ہں عام حالات مںو اُن مں سے کسی ایک چزش کا استعمال بھی جائز ہے، جس کے بعد پانی کے استعمال کی ضرورت نہںا رہتی، لکنا اگر پانی بھی استعمال کرلا جائے تو صفائی او رپاکزکگی کے حوالے سے انتہائی مناسب ہے، اور ان تمام چز وں کے بغرن صرف پانی کا استعمال بھی جائز ہے، البتہ اگر پاخانہ خشک نہ ہو، پتلا اور گیلا ہو اور فراغت کے بعد پھیل جاتا ہو تو اییے صورت مں پانی کا استعمال لازمی اور ضروری ہے۔ سوال: کان ان چزتوں کے استعمال سے پہلے فارغ ہونے کے بعد شریعت کسی احتاہط کو بتلاتی ہے؟ جواب: جی ہاں! شریعتیہ احتاہط بتلاتی ہے کہ فارغ ہونے والے کو قضائے حاجت سے فارغ ہونے کے بعد استنجاء سے پہلے اتنا اطمنارن ضروری کرلنار چاہےہ کہ اب مزید پیشاب کا کوئی قطرہ یا پاخانے کا کچھ حصہ نہں نکلے گا۔ سوال: کان استنجاء سے پہلے احتانط کی کچھ صورتںر شریعت نے متعن کی ہںخ؟ جواب: نہںی ، شریعت نے صرف اتنی بات کہی ہے کہ استنجاء کرنے سے پہلے اس بات کا اطمناون کرلاہ جائے کہ اب مزید کوئی قطرہ وغربہ نہںر آئے گا، البتہ طبی اعتبار سے یہ کہا جاتا ہے کہ پیشاب کی نالی کے نچےخ ایک رَگ ہوتی ہے، اس پر آہستہ سے انگلی پھرب لی جائے تو اگر کچھ قطرات رکے ہوئے ہوں گے تو وہ نکل آئں گے۔ بعض تجربہ کار لوگ یہ بھی بتلاتے ہںف کہ پیشاب سے فراغت کے بعد اگر مثانے پر ہلکی ہی چھینٹیں مار دی جائںک تو بھی پیشاب آنا رُک جاتا ہے۔ بڑی عمر کے لوگ اپنی احتابط کے لےایہ بھی بتلاتے ہںی کہ بیٹھ کر پیشاب کرتے ہوئے رَگںآ مُڑی ہوئی ہوتی ہںل، لہٰذا کپڑوں کو بچاتے ہوئے اگر سدسھا کھڑا ہوا جائے تو رَگںہ سدکھی ہوجائں گی اور قطرات نکل آئںا گے۔ بعض لوگ اس مقصد کے لےن کچھ دیر چہل قدمی بھی کرتے ہںہ، بعض لوگ کھانسنے کی سی صورت بھی پدحا کرتے ہںئ، بعض لوگ اپنی ٹانگ کے اوپر ٹانگ رکھ کر زور لگاتے ہںا۔ یہ تمام چزلیں انسانی اعتبار سے وضع کردہ/ بنائی ہوئی ہںگ، شریعت نے ان سے منع نہںع کات جائے، کو نکہیہ اپنے طور پر اطمناون حاصل کرنے کی صورتںر ہںو جو اکثر مثانے کے کمزور یا بڑی عمر کے لوگ استعمال کرتے ہںھ، نوجوانوں مں اس کی ضرورت عام طور پر نہں ہوتی۔ لہٰذا لازمی طور پر انہںن اپنی اس نوجوانی کی عمر مںھ ان صورتوں کو اختاطر نہںے کرنا چاہےن۔ سوال: قضائے حاجت کے لے کال شریعت نے کچھ آداب اور طریقے بتلائے ہںی؟ جواب: جی ہاں! شریعت نے قضائے حاجت کے لے اپنے ماننے والوں کو مندرجہ ذیل طریقوں اور آداب کی تعلمی دی ہے: ۱ گھروں وغریہ مںت بتت الخلاء، استنجا خانے اس طرح بنائے جائںپ کہ قضائے حاجت کے لےا استعمال کرتے وقت استعمال کرنے والے کا منہ یا پیٹھ قبلے کے رُخ پر نہ ہو۔(اگر کسی جگہ قبلہ رُخ بن گئے ہوں تو ان کے رُخ تبدیل کرالےا جائں ۔) ۲ بتک الخلاء مں داخل ہونے سے پہلے بتہ الخلا مںی داخل ہونے کی دعا پڑھ لی جائے دعا یہ ہے: ’’اللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخَبَائِثِ‘‘ ’’اے اﷲ مںک خبثُ (ناپاک) مردوں، خبثئ عورتوں سے آپ کی پناہ چاہتا ہوں۔‘‘ ۳ اس دعا کے ساتھ بِسْمِ اﷲ بھی پڑھ لے اس طرح شاکطنل کی نگاہوں سے بھی محفوظ رہے گا۔ ۴ اگر بت الخلاء مںں داخل ہوتے وقت دعا پڑھنا بھول جائں تو داخل ہونے کے بعد زبان سے نہ پڑھںے۔ زبان ہلائے بغر‘ دل مںگ پڑھ لںخ۔ ۵ بت الخلاء مںں سَر ڈھک کر جانا ہی مناسب ہے۔ ۶ بتر الخلاء مںء داخل ہوتے وقت پہلے الٹا پاؤں داخل کریں۔ ۷ بت الخلاء کے اندر قرآن،ذکر، تسبح ، درودشریف وغردہ نہ پڑھںپ۔ ۸ انگوٹھی پر اﷲ تعالیٰیا نبیﷺ کا نام ہو تو اسے باہر اتار کر جائں ۔ ۹ بتگ الخلاء کے استعمال کے وقت کسی سے باتںد کرنا بھی نامناسب ہے۔ ۱۰ بتی الخلاء کا استعمال بیٹھ کر کریں بغرن عذر کے کھڑے کھڑے پیشاب پاخانہ کرنا مناسب نہںو ہے۔ ۱۱ فارغ ہونے مں جلدبازی نہ کریں اطمنافن سے فارغ ہوں۔ تاکہ پیشاب کے تمام قطرات نکل جائںن او رپاخانہ نکلنے کا مزید امکان نہ رہے۔ ۱۲ اطمناہن کا کوئی خاص طریقہ متعنی نہںف ہے جس طرح انسان کی طبعتت مطمئن ہوسکے وہی طریقہ اپنایا جاسکتا ہے۔ ۱۳ مکمل فارغ ہونے کے بعد استنجا شروع کریں۔ اور استنجے کے لےک اُلٹا ہاتھ استعمال کریں بغرر عذر کے سد ھا ہاتھ استعمال کرنا جائز نہںک۔ ۱۴ استنجا کے لے۔ فقط پاک ڈھیلوں (پتھر، ٹوائلٹ پپراز وغر۔ہ) یا فقط پانی کا استعمال بھی جائز ہے اور مقصد حاصل ہوجاتا ہے، بہتر یہ ہے کہ پہلے ڈھیلوں کا استعمال ہو اس کے بعد پانی کا استعمال ہو۔ ۱۵ پکّے بنے ہوئے بتہ الخلاؤں اور استنجا خانوں کی نالواں مں ڈھلےر، پتھر، گتّے، کاغذ وغریہ نہ ڈالںن اس سے رکاوٹ پدتا ہوکر نکاسی رُک جاتی ہے، گٹر بھر اور اُبل جاتے ہں ، گندگی پھیل جاتی ہے جس کی وجہ سے بتھ الخلاء اور استنجاخانے قابل استعمال نہںٹ رہتے، ناپاککےب کپڑوں، جسموں پر لگ جانے کے سو(100)فصدو امکانات بڑھ جاتے ہںک۔ ۱۶ مساجد یا پبلک مقامات کے بغرے دروازوں کے استنجاخانوں مںں شلوار وغرہہ اس طرح اتار کر نہ بںھجہ کہ ستر(شرم گاہ) کے بعض حصّے دوسروں کی آنکھوں کے سامنے ننگے ہوں۔ ۱۷ پیشاب سے فارغ ہونے کے بعد استنجے کے لے عموماً ایک(1) ہی ڈھیلا کافی ہوتا ہے البتہ پاخانے سے فارغ ہونے کے بعد کم از کم تنر(3) ڈھلےب استعمال کے جاتے ہںا جس مںا ضرورت کے اعتبار سے اضافہ بھی کاب جاسکتا ہے۔ ۱۸ گرمویں کے زمانے مںے ڈھیلوں کے استعمال کا طریقہ اس طرح بتلایا جاتا ہے کہ پہلا ڈھیلا آگے سے پچھےہ کی طرف، دوسرا ڈھیلا پچھے سے آگے کی طرف اور تسراا ڈھیلا آگے سے پچھےب کی طرف استعمال کریں، سردیوں کے موسم مںے اس کا الٹ کریں۔ (یہ طریقہ تجرباتی ہے شریعت کا منعوغ کردہ نہں ہے۔) ۱۹ ڈھیلایا پتھر وغرقہ ایسا کھردرا یا سخت نہ ہو کہ بدن چِھل جانے کا اندیشہ ہو۔ ۲۰ استنجے سے فارغ ہونے کے بعد بتر الخلاء سے باہر نکلتے وقت پہلے سد ھا پاؤں نکالںت اور بتج الخلاء سے باہر نکلنے کی دعا پڑھ لںس، دعا یہ ہے: ’’اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ اَذْھَبَ عَنِّی الْاَذٰی وَعَافَانِیْ‘‘ ’’سب تعریںال اﷲ (تعالیٰ) ہی کے لےف ہں جس نے مجھ سے ایذا دینے والی چزے دور کی اور مجھے چنل دیا۔‘‘ ۲۱ ہاتھوں کو صابن وغراہ سے اچھی طرح دھولںو۔ ۲۲ جن لوگوں کا پاخانہ سخت اور سوکھا ہوا ہوتا ہے وہ اگر فقط ڈھیلوں کا استعمال کریں تو جائز ہے لکنر اگر پانی بھی دستاوب ہو تو پانی بھی استعمال کرنا بہتر ہے۔ لکنگ جن لوگوں کا پاخانہ نرم، ڈھیلا اور گیلا ہوتا ہے ان کے لے پانی کا استعمال ضروری ہے۔ ۲۳ اگر مدوانوں، جنگلوں اور کھلی جگہوں مں قضائے حاجت کی ضرورت ہو تو اییر جگہ تلاش کریں جہاں لوگوں کی آمدورفت نہ ہو۔ جہاں لوگوں کی نظریں نہ پڑیں۔ ۲۴ ہوا کے رُخ پر نہ بںھنظر۔ ۲۵ موسم کا لحاظ رکھے، گرمواں مںل سائے دار جگہ استعمال نہ کریں، سردیوں مںس دھوپ والی جگہ استعمال نہ کریں۔ ۲۶ پھل دار درخت کے نچےگ نہ بںھ پ ۔ ۲۷ کسی سوراخ مںچ پیشاب نہ کریں۔ ۲۸ سخت زمن پر پیشاب نہ کریں تاکہ چھینٹے نہ اڑیں۔ وغروہ وغر ہ سوال: برسات کے موسم مں راستوں پر چلتے ہوئے گیہو مٹی کے چھینٹے کپڑوں پر لگ جاتے ہںے، شریعت اس کے متعلق کات حکم دیی ہے؟ جواب: راستوں پر پڑی ہوئی مٹی اگر صرف بارش کے پانی سے گیہ ہوئی ہو اور چلتے ہوے اُس کے چھینٹے کپڑوں پر لگ جائںک تو یہ پاک ہوتے ہں ، ان ہی کپڑوں مںم نماز مں بھی ادا کی جاسکتی ہں لکن اگر کسی راستے پر گٹر اُبل رہے ہوں اور (برسات کے پانی کے ساتھ) سوسریج کا پانی بھی اُس مٹی مں مل رہا ہو اور چلتے ہوئے اُس کے چھینٹے کپڑوں پر لگ جائںک تو کپڑوں کا وہ حصّہ ناپاک کہلائے گا اور اتنے حصے کا دھونا ضروری ہوگا یینو رخصت کی مقدار سے بڑھ جائے تو اتنے حصے کو دھونا ضروری ہوجائے گا ورنہ نماز بھی ادا نہ ہوگی۔ مسائلِ وضو سوال: کاو شریعت نے کسی گندی چزد کے نہ لگنے کے باوجود انسانی جسم کو ناپاک قرار دیا ہے؟ جواب: جی ہاں، گندی چزن کے نہ لگنے کے باوجود انسانی جسم شریعت نے ناپاک بتلایا ہے اور فقہاء نے اسے حکمی ناپاکی کہا ہے۔ یینا ایسے آدمی کو ناپاک کہا جائے گا۔ اصطلاح مںن اسے بے وضو ہونا بھی کہتے ہںد۔ سوال: حکمی ناپاکی کے دور کرنے کا کام طریقہ ہے؟ جواب: حکمی ناپاکی کو وضو کے ذریعے دور کاے جاسکتا ہے۔ سوال: وضو کسے کہتے ہں،؟ جواب: شریعت کی بتلائی ہوئی بعض عبادات کے قبول ہونے کے لےے ان عبادات سے پہلے جسم کے شریعت کے بتلائے ہوئے خاص خاص اعضاء کو دھونے کا نام وضو ہے۔ سوال: وضو مں کتنی چزلیں ضروری ہں ؟ جواب: وضو مں چار چزایں ضروری ہںر جنہںں فقہی اصطلاح مںپ فرائض کہا جاتا ہے۔ وہ چار فرائض درج ذیل ہںو: ۱…پورے چہرے کا دھونا۔ (چہرہ لمبائی مں پیشانی کے بالوں سے شروع ہوتا ہے اور ٹھوڑی کے نچےک تک جاتا ہے اور چوڑائی مںا ایک کان کی لَو سے دوسرے کان کی لَو تک، ان کے درماون کے پورے حصے کو چہرہ کاو جاتا ہے۔) ۲…دونوں ہاتھوں کا کہنیوں سمت دھونا۔ ۳…کم از کم سَر کے چوتھے حصے کا مسح کرنا۔ ۴… ٹخنوں سمتک دونوں پاؤں کا دھونا۔ سوال: وضو مںے ضرورییا فرض ہونے کا کاو مطلب ہے؟ جواب: ضروری اور فرض ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان جگہوں کو اس طرح دھونا کہ ان جگہوں مںر سے کسی جگہ بال برابر بھی خشکی باقی نہ رہے۔ سوال: اگر ان حصوں مںح سے کسی حصے مںن بال برابر جگہ خشک رہ جائے تو اس کا حکم کاا ہے اور اس کی تلافی کا طریقہ کاا ہے؟ جواب: اگر بال برابر جگہ خشک رہ جائے تو ایسے شخص کا وضو نامکمل کہلائے گا اور تکمل نہ کرنے کی صورت مں اس وضو سے کی جانے والی عبادات قبول نہںش ہوگی، اور اس کی تلافی کا طریقہیہ ہے کہ وضو کے فوراً بعد یاد آنے پر صرف اتنے حصے کو دھولاع جائے، دوبارہ پورا وضو کرنے کی ضرورت نہںو ہے۔ سوال: دھونے سے کاق مراد ہے؟ جواب: جسم کے اتنے حصوں پر اس طرح پانی ڈالنا کہ اس سے قطرات بھی ٹپکںک اصطلاح مںی اسے دھونا کہا جاتا ہے۔ اعضاء کو صرف گیلا کرنے سے دھونے کا مقصد پورا نہںگ ہوتا، اور اچھے طریقے سے ہاتھ پھرحنا اس لےے بھی ضروری ہے کہ بال برابر جگہ بھی خشک نہ رہ جائے۔ سوال: مسح کسے کہتے ہں ؟ جواب: ہاتھ گیلا کرکے جسم کے کسی حصے پر اس گلےط ہاتھ کے پھرح لنےل کو مسح کہتے ہں اور وضو مں مسح کا عمل صرف سَر پر کان جاتا ہے۔ یین گیلا ہاتھ سَر کے اتنے حصے پر پھراا جائے کہ سر کا چوتھائی حصہ اس مںے آجائے، اس عمل کو بھی مسح کہتے ہںر۔ سوال: فرائض کے اندر دو عضو کہنی اور ٹخنے کا ذکر آیا ہے، یہ جسم کے کن حصوں کو کہا جاتا ہے؟ جواب: انسان کے جسم مںو جو ہاتھ ہے اس کے پنجے کو ہتھیھر کہا جاتا ہے، اس کے بعد ہاتھ کے موڑ کے حصے کو کلائی کہا جاتا ہے، کلائی کے خاتمے پر جو جوڑ ہے جس کے بعد بازو شروع ہوتا ہے، اس جوڑ کو کہنی کہتے ہں ۔ پاؤں کے پنجے کے بعد پَیر کے دونوں طرف جو اُبھری ہوئی ہڈی ہوتی ہے اُسے ٹخنہ کہتے ہںک۔ سوال: وضو کرنے کا طریقہ کار ہے؟ جواب: نماز و بعض دیگر عبادات کی ادائیے کے لےہ شریعت نے جن جن اعضاء کو دھونے یا جس عضو پر مسح کرنے کا حکم دیا ہے اس پورے عمل کو وضو کہتے ہں وضو کرنے کا طریقہ درج ذیل ہے۔ پاک صاف اونچی جگہ بیٹھ کر (بسم اﷲ الرحمن الرحمل پڑھ کر) پاک صاف پانی سے سب سے پہلے دونوں ہاتھوں کی ہتھاصافں گِٹوں (کلائورں کے جوڑ) تک دھو لی جائں) (ایسا تنہ مرتبہ کریں) پھر سدحھے ہاتھ کی ہتھیوں مںھ چُلُّو بناتے ہوئے پانی لںھ اور اس پانی سے کلی کریںیعنی منہ مںس پانی گھما کر پانی باہر پھنکر دیں (ایسا تن مرتبہ کریں نز اس دوران اگر مسواک پاس ہو تو دانتوں پر مسواک پھر لںہ اگرمسواک نہ ہو تو دائں ہاتھ کی شہادت کی انگلی دانتوں پر مل لںل) پھر بائں ہاتھ کی ہتھی ک مںت پانی لتےد ہوئے ناک مںج ڈالںا اور بائںں ہاتھ کی چھوٹی انگلی ناک کے دو نتھنوں (سوراخوں) مں پھرالںے (ایسا تنک مرتبہ کریں) پھر تنے مرتبہ پورے چہرے پر آہستہ سے پانی بہائںو (چہرے پر اس زور سے پانی نہ ماریں کہ چھینٹیں اُڑیں) یہ پانی پیشانی کے بالوں سے لمبائی مںپ ٹھوڑی کے نچےا تک چوڑائی مں دو کانوں کے کناروں کے درما ن چہرے کو دھوتے ہوئے ڈالںک کہ بال برابر جگہ خشک نہ رہے دونوں پلکوں کے نچےر تک پانی پہنچائں ۔ اگرمونچھںس ہوں تو ان کی جڑوں تک بھی پانی پہنچائںو۔ داڑھی اگر گھنی نہ تو کھال تک پانی پہنچائں اگرگھنی ہو تو داڑھی کے بالوں مںا گی ا انگلیاں ڈال کر پھرائںچ اس کو خلال کرنا کہتے ہیںیعنی پوری احتامط کے ساتھ خوب اچھی طرح پورے چہرے کو پانی سے دھولںہ) (گھنی داڑھی بالوں سے خوب بھری ہوئی اس داڑھی کو کہتے ہںں جس کے نچےو کی کھال دکھائی نہ دے) پھر تنر مرتبہ سدیھا ہاتھ کہنیوں سمتت خوب اچھی طرح دھوئں تاکہ بال برابر جگہ خشک نہ رہے اس کے بعد اسی طرح الٹا ہاتھ کہنیوں سمتت اچھی طرح دھوئںو پھر ایک مرتبہ دونوں ہاتھوں کی ہتھوکو ں کو گیلا کرلں اور انگوٹھوں اور شہادت کی انگلولں کو بقہ انگلوھں کے ساتھ نہ ملائںی پھر دونوں ہاتھوں کی گی ک تینوں انگلوسں کو آپس مںر ملاتے ہوئے سر کے شروع حصے کے درما ن رکھںک اور ان انگلویں کو سر پر رکھے رکھے پچھےے گردن تک لے جائں پھر دائںت ہاتھ کی ہتھی ا کے اندرونی حصے کو سر کے دائںل طرف اور بائںں ہاتھ کی ہتھیکو کے اندرونی حصے کو سر کے بائںا طرف رکھتے ہوئے سر کے اگلے حصے کی طرف لائں پھر سدکھے ہاتھ کی شہادت کی انگلی دائں کان مںہ اور اُلٹے ہاتھ کی شہادت کی انگلی الٹے کان مںں گھمائںا پھر سدہھے ہاتھ کے انگوٹھے کے اندرونی حصے کو سدںھے کان کے پچھلے حصے پر اور الٹے ہاتھ کے انگوٹھے کے اندرونی حصے کو الٹے کان کے پچھلے حصے پر پھرائںھ پھر پہلے سد ھے ہاتھ کی ہتھیاو کی پشت کو گردن (گدی) پر پھرائں اس کے بعد الٹے ہاتھ کی ہتھی ں کی پشت کو گردن (گدی) پر پھرائںو (چند باتوں کا مسح کے حوالے سے خاےل کریں: ۱…سر کے چوتھائی حصے کا مسح فرض ہے لہٰذا سر کے چوتھائی حصے کے برابر سر پر گیلا ہاتھ پھر گاا تو مسح ہوگاا گدی کا مسح مستحب ہے۔ ۲…پورے سر کا مسح سنت ہے اوپر جو طریقہ بتلایا گاا ہے وہ سنت کے اعتبار سے ہے۔ ۳… مسح صرف ایک مرتبہ ہی کرنا ہے۔ ۴…دونوں ہتھوف ں کو صرف ایک مرتبہ یینل مسح شروع کرنے سے پہلے گیلا کرنا ہے۔ ۵… مسح شروع کرنے سے پہلے گیمر انگلوہں کو چومنا شریعت کے بتلائے ہوئے طریقے مںے نہںت ہے۔ شریعت نے گلے کا مسح بھی نہںن بتلایا ہے۔ مکمل مسح کرنے کے بعد پہلے سدیھا پر ٹخنوں سمت دھو لں جس مںے پرت کی انگلووں کا خلال الٹے ہاتھ کی سب سے چھوٹی انگلی سے کرنا بھی داخل ہے خلال کی ابتدا سدیھے پرت کی چھوٹی انگلی سے کرنی ہے، سد ھا پر ٹخنوں سمت دھونے کے بعد الٹا پرن ٹخنوں سمتک دھولںپ الٹے پرل کی انگلووں مںح بھی الٹے ہاتھ کی سب سے چھوٹی انگلی سے خلال کرنا ہے لکنس خلال کی ابتدا الٹے پرص کے انگوٹھے سے کرنی ہے تاکہ خلال سدلھے پرن کی سب سے چھوٹی انگلی سے شروع ہو اور الٹے پرن کی سب سے چھوٹی انگلی پر مکمل ہو۔ اس ترتبس سے وضو سنت طریقے سے مکمل ہوجائے گا۔ سوال: کا وضو مں کچھ احتاسطںا بھی بتلائی جاتی ہںع؟ جواب: جی ہاں! ۱…اگر ممکن ہو تو قبلے کی طرف منہ کرکے بیٹھ کر وضو کریں۔ ۲… پانی کا استعمال ضرورت کے مطابق ہو (بلاضرورت وضو (غسل و استنجا و دیگر استعمالات) مں پانی جی عظمت نعمت کی ناقدری کرتے ہوئے اسراف (فضول خرچی) سے بچںہ، چاہے سمندر کے کنارے بیٹھ کر وضو کوسں نہ کررہے ہوں۔ سر کے مسح کے دوران یا چہرہ، ہاتھ، پر ملتے ہوئے پانی کا نَل بند کردیں تاکہ پانی ضائع نہ ہو۔) ۳…پہلا دھویا ہوا عضو خشک ہونے سے پہلے دوسرا عضو دھو لںا۔ ۴… وضو کرتے ہوئے باتںہ نہ کریں۔ ۵…وضو کرتے ہوئے درمابن مں کسی بھی دوسرے کاموں مںر مشغول نہ ہوں۔ وضو مکمل کرنے کے بعد دوسرے کام کےد جائںچ۔ ۶… انگوٹھی اور تنگ چوڑیوں کو اچھی طرح ہلائںو۔ سوال: کای واش بسن (Wash Basin) کے نَل سے اس کے پاس کھڑے ہوکر وضو کرنے سے وضو ہوجائے گا؟ جواب: جی ہاں! وضو تو ہوجائے گا لکن خلاف سنت کہلائے گا لہٰذا بلاعذر اس کی مستقل عادت نہ ڈالی جائے نزد بسنں خود بھی پاک صاف ہو اور اِردگرد کی جگہ بھی پاک ہو تاکہ اس پر پانی پڑتے ہوئے جو چھینٹیں اُڑیں وہ جسم اور لباس کو ناپاک نہ کردیں۔ سوال: وضو مںگ وضو کرنے کی جو ترتبت بتلائی گئی ہے کوئی اس کے خلاف کرے تو اس کا وضو ہوجائے گا؟ جواب: جی ہاں! وضو ہو تو جائے گا لکنت خلاف سنت ہونے کی وجہ سے وضو کا اجر ملنے سے محرومی ہوسکتی ہے لہٰذا جان بوجھ کر خلاف ترتب وضو کرنے سے بچنا چاہےض۔ سوال: کچھ لوگ وضو کرلنےس کے بعد آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے سداھے ہاتھ کی شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھاتے ہوئے کچھ پڑھتے ہںی وہ اور اس کی حققتع، حکم اور فضیلت کاد ہے؟ جواب: وضو کی تکملس کے بعد صرف آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے (شہادت کی انگلی اُٹھا کر نہںی)دوسرا کلمہ (کلمۂ شہادت) اشھدان الا الہ الا اﷲ وحدہ لا شریک لہ واشھدان محمدا عبدہ ورسولہ پڑھا جاتا ہے اس کا حکم یہ ہے کہ پڑھنا وضو کی تکملا کے حوالے سے ضروری نہں ہے۔ اس کی فضیلتیہ ہے کہ وضو کے بعد اس کے پڑھنے والے کے لےک جنت کے آٹھوں دروازے کھل جاتے ہں ۔(مسلم شریف جلد 1 صفحہ 122) سوال: وضو کے بعد اعضائے وضو کو گیلا رہنے دینا چاہےہیا رومال وغرلہ سے خشک کرلنا چاہےی؟ جواب: دونوں صورتںا جائز ہںت البتہ گیلا رکھنے کی صورت مںا دونوں ہتھو خ ں سے چہرے اور داڑھی اور دونوں ہاتھوں کو اچھی طرح سونت لںا (اس کو سونتا اور نتھارنا بھی کہتے ہںد) تاکہ پانی کے اعضائے وضو پر رکے ہوئے قطرات وضو کی جگہ پر ہی دور ہوجائںن اور فرش وغرئہ پر نہ گِریں۔ سوال: وضو کرتے ہوئے کپڑے گلےس ہوجائںح تو ان گلےا کپڑوں سے متعلق کاے حکم ہے؟ جواب: وضو کرتے ہوئے اگر براہ راست پانی گرنے سے کپڑے گلےت ہوجاتے ہوں تو اس کا کوئی حرج نہں ہے البتہ اگر وضو کرنے کی جگہ کے آس پاس کی جگہ ناپاک ہو اور اس پر پانی گِر کر چھینٹیں کپڑوں پر لگ رہی ہوں تو ایی صورت مںی کپڑوں کا وہ حصہ جن پر چھینٹیں پڑ رہے ہںگ ناپاک ہوجائے گی۔ سوال: مائے مستعمل کسے کہتے ہںہ؟ جواب: وہ پانی جو وضو یا نہانے یا کسی دوسری چزڑوں کے دھونے مں استعمال ہوتا ہے اس استعمال شدہ پانی کو مائے مستعمل کہتے ہںا۔ سوال: مائے مستعمل کا حکم کاو ہے؟ جواب: مائے مستعمل اگر کسی چزہ کو پاک کرنے کے لےے استعمال نہںت ہوا ہے صرف وضو، غسل یا کسی اور چز کے دھونے مں استعمال ہوا ہے تو ایسے پانی کو دوبارہ ان مقاصد کے لےے استعمال نہںت کاا جاسکتا۔ نز یہ پانی اگرچہ خود پاک ہوتا ہے لکنو ایک مرتبہ استعمال ہوجانے کے بعد اس پانی سے کسی ناپاک چزے کو پاک بھی نہںو کا، جاسکتا۔ وضوتوڑدینے والی باتںی سوال: وہ کون کون سی چزییں ہںا جن کے واقع ہونے پر شریعت نے حکمی ناپاکییا بے وضو ہونے کا حکم لگایا ہے؟ جواب: وہ چزنیں جن کے واقع ہوجانے پر شریعت حکمی ناپاکییا بے وضو ہونے کا حکم لگاتی ہے وہ درج ذیل ہںخ: ۱… پاخانے کی جگہ سے ہوا، پاخانہ، کڑ ا، کنکری وغریہ کے نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ ۲… پاخانے کی آنت جسے کانچ کہتے ہںک، اس کے نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ ۳… بواسرےی مسّہ اندر سے باہر نکل آئے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ بواسرو کے علاج کے لےل جو دوائی پاخانے کے مقام کے اندر لگائی جاتی ہے اس کے باہر نکلنے سے بھی وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ ۴… پیشاب کی جگہ سے پیشاب کے نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، البتہ پیشاب کی جگہ سے ہوا نکلنے سے وضو نہںک ٹوٹتا۔ ۵… پیشاب کی جگہ سے پتھری، کڑ ا وغراہ کے نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ ۶… شہوت کا خابل آنے سے ، شہوت کی باتںک کرنے سے، شہوت کے ساتھ چھونے سے اور منی کے نکلنے سے پہلے پیشاب کی جگہ سے جو پانی نکلتا ہے اسے مذی کہتے ہںی، اس کے نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ ۷… سخت قبض کی حالت میںز ور لگانے سے پیشاب کی جگہ سے جو سفدے پانی نکلتا ہے اسے ودی کہتے ہںل، اس کے نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ ۸… حضت و نفاس کے خون آنے سے وضو بھی ٹوٹ جاتا ہے اور اس کے مکمل ہونے پر غسل بھی فرض ہوجاتا ہے۔ ۹… استحاضے کا خون اور لکو ریا کے پانی کے نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ ۱۰… عورت نے اپنے پیشاب کی جگہ میںد وائی ڈالی اور دوائی باہر نکل آئی تو وضو ٹوٹ جائے گا۔ ۱۱…کسی بھی وجہ سے بدن کے کسی حصے سے خون، پپن نکل کر بہہ جائے تووضو ٹوٹ جاتا ہے اور اگر نہ بہے تو وضو نہںے ٹوٹتا۔ ۱۲… بدن کے کسی حصے مںب بماسری ہو یا درد ہو اور اس جگہ سے پانی نکلے تو وہ پانی ناپاک بھی ہوگا اور اس سے وضو بھی ٹوٹ جائے گا۔ ۱۳… انجکشن کے ذریعے کسی بھی مقصد کے لےئ خون نکالنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ ۱۴… کھانسی کے ساتھ پتلا اور بہتا ہوا خون آئے تو اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ ۱۵… منہ بھر کر (جس کا منہ مں روکنا مشکل ہو) اُلٹی ہوجانے سے یا ایک ہی متلی سے باربار ہونے والی تھوڑی تھوڑی اُلٹی کو جمع کاٹ جائے تو اس سے منہ بھر جائے تو ان دونوں صورتوں مںر وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ ۱۶…لٹی کر سو جانے سے یا بٹھے بٹھے ٹکد لگاکر سو جانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، البتہ ٹک لگائے بغر یا کھڑے کھڑے سو جانے سے وضو نہںا ٹوٹتا۔ ۱۷… بے ہوش ہوجانے، نشہ کرلنے اور مجنون ہوجانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ ۱۸… بالغ مرد و عورت کے رکوع سجدوں والی نمازوں مںج اس طرح ہنسنے سے کہ آس پاس والے سُن لں (جسے قہقہہ کہتے ہںک) وضو اور نماز دونوں ٹوٹ جاتے ہںت۔ ۱۹… ما ں بوعی کا آپس مںں بغر کسی آڑ کے شرم گاہںس ملانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ نوٹ: مچھر، کھٹمل کے کاٹ لنےع سے، آنکھ، ناک سے بغر کسی تکلف کے پانی نکلنے سے (چاہے نزلے زکام کی وجہ سے ہو یا مرچوں کی وجہ سے ہو یا پادز کاٹنے کی وجہ سے ہو)، منہ سے تھوک، بلغم نکلنے سے، منہ بھر کر صرف بلغم کی اُلٹی سے، وضو کی حالت مںی ناخن کاٹنے سے ، اپنا ستر کھل جانے یا دیکھ لنے سے اور کسی اور کا ستر نظر آنے سے وضو نہںک ٹوٹتا۔ ٭…وضو اور غسل مںک دھوئے جانے والا کوئی عضو اگر خشک رہ جائے یا غسل مں کلی بھول جائے اور وضو اور غسل کرلنےل کے فوراً بعد یاد آئے تو اتنے ہی حصے کو دھو لناٹ او رکلی کرلناس کافی ہے، دوبارہ وضو یا غسل کرنے کی ضرورت نہں ۔ ٭…غسل کرلنےس سے (چاہے ننگے ہوکر کاک جائے) وضو بھی ہوجاتا ہے۔ نار وضو کرنے کی اس وقت تک ضرورت نہںز جب تک کہ وضو ٹوٹ نہ چکا ہو۔ ’’مسواک‘‘ سوال: مسواک کسے کہتے ہںن؟ جواب: کسی بھی درخت کی وہ لکڑی جسے چبا کر برش بناتے ہوئے دانتوں کی صفائی کے لے استعمال کات جاتا ہے اس لکڑی کو مسواک کہتے ہںٹ۔ سوال: مسواک کی موٹائی اور لمبائی کتنی ہونی چاہے ؟ جواب: بہتر یہ ہے کہ ایک انگلی کی موٹائی کے برابر موٹائی اور ایک بالشت کے برابر لمبائی ہونی چاہےا۔ اس سے کم و بشہ موٹائی اور لمبائی بھی جائز ہے۔ سوال: مسواک کا استعمال کن کن موقعوں کے لےت بتایا جاتا ہے؟ جواب: ہر وضو کے کرتے ہوئے، صبح سو کر اٹھنے کے بعد ہر کھانا کھانے کے بعد اور رات کو سونے سے پہلے اس کا استعمال مفدہ بتلایا گا ہے۔ اس سے متعلق احادیث مں ہر نماز کے وقت بھی بتلایا گاا ہے۔ لکنے ہمارے علماء نے نماز سے مراد وضو لاک ہے۔ سوال: کا شریعت نے اس کے فوائد بھی بتلائے ہںا؟ جواب: جی ہاں! ایک حدیث میںفرمایا گاا ہے کہ : ۱…جو نماز مسواک کرکے پڑھی جائے وہ اس نماز سے جو مسواک کے بغرم پڑھی جائے 70درجے افضل ہے۔ ۲…منہ کو صاف کرتی ہے۔ ۳…اﷲ کی رضا کا سبب ہے۔ ۴…شطا ن کو غصہ دلاتی ہے۔ ۵…مسواک کرنے والے کو اﷲتعالیٰ اور اس کے فرشتے محبوب رکھتے ہںل۔ ۶…مسوڑھوں کو قوت دیی ہے۔ ۷…بلغم کو کاٹتی ہے۔ ۸… منہ مںٹ خوشبو پد ا کرتی ہے۔ ۹…صفراء کو دور کرتی ہے۔ ۱۰…نگاہ کو تزر کرتی ہے۔ علماء نے یہ بھی لکھا ہے کہ مسواک کرنے کے اہتمام مںب 70فائدے ہں جن مںا سے ایکیہ ہے کہ مرتے وقت کلمہ شہادت پڑھنا نصبہ ہوتا ہے۔ موزہ (خُفَّیْن) پر مسح سوال: موزہ کسے کہتے ہںن؟ جواب: پرزوں مںے جوتوں سے پہلے ٹخنوں سے تھوڑی اوپر تک پہنی جانے والی پوشاک یا لباس کو اردو مںر موزہ یا جراب ، عربی مںہ جُرّاب یا خُفْ اور انگریزی مںسSocksکہتے ہں ۔ سوال: موزے کی کتنی قسمںم ہں ؟ جواب: موزوں کی دو(2) قسمںں ہںں: (۱) چمڑے یا ریگزیا م دوسری چزلوں کا بنا ہوا ایسا موزہ جسے پرضوں پر روکنے کے لے کسی چزا سے باندھنے کی ضرورت نہ پڑتی ہو اور ان کو پہن کر تنو ملز (4.8کلومیٹر) چار ملک (6.4کلومیٹر) پد۔ل چلا جاسکتا ہو۔ یا بغر تسموں کا ایسا مردانہ جوتا جو ٹخنوں سے اوپر تک ہو، دونوں پریوں او رٹخنوں کو ڈھانک لتاو ہو۔ (۲) نائلونن، سوت، اُون، پولسٹر وغرڈہ کا خالص یا دوسری چز4وں کو شامل کرکے بنا ہوا ایسا موزہ جسے پردوں پر روکنے کے لےم اس مںپ الاسٹک (ربڑ) کا استعمال کاہ جاتا ہے۔ سوال: جن موزوں پر شریعت نے مسح کو پرا دھونے کا قائم مقام قرار دیتے ہوئے مسح کی اجازت دی ہے وہ موزوں کی کون سی قسم ہے؟ جواب: شریعت نے مذکورہ بالا دو قسموں مںس سے صرف پہلی قسم کے موزوں پر ہی مسح کی اجازت دی ہے۔ دوسری قسم کے موزوں یا جوتوں پر مسح کرنا خلاف شرع ہے اور ایسا کرنے سے وضو نامکمل رہتا ہے۔ سوال: موزوں پر مسح کرنے کا کان مطلب ہے؟ جواب: سردیوں کے موسم مں لوگوں کا چمڑے کے موزے پہننے کا رواج رہا ہے گھر سے باہر جانے کے موقعے پر ان کو اتارے بغرز ہی جوتے پہن لےر جاتے ہں ۔ اگرکوئی آدمی مکمل وضو جس مں پر وں کو دھونا بھی شامل ہے کے بعد چمڑے کے موزے پہن لے اور پہنے رکھے تو دوبارہ تازہ وضو کرنے کی ضرورت پڑنے پر وضو کرتے ہوئے اسے موزے اُتارنے کی ضرورت نہںو ہے۔ جب وضو کرنے کی ترتبت کے مطابق پرہ دھونے کا نمبر آئے تو موزے اتار کر پرا دھونے کے بجائے موزوں پر مسح کرلے۔ سوال: موزوں پر مسح کے جواز کے لے شریعت کی طرف سے ان موزوں سے متعلق کوئی ہدایات بھی ہںے؟ جواب: جی ہاں! اس حوالے سے کچھ ہدایت ہںآ جن کا پورا کاے جانا لازمی ہے: ۱…وہ موزا اتنا چھوٹا نہ ہو کہ ٹخنے کھلے رہںا۔ ۲… دونوں موزوں مں سے کوئی بھی ایک موزہ کسی ایک جگہ سے یا جگہ جگہ سے اتنی مقدار مں پھٹا ہوا نہ ہو کہ سب ملا کر تنر انگلو ں کے برابر کھل جائںے، چاہے پھٹے ہونے کی وجہ سے کھلے ہوئے نظر آتے ہوں یا چلتے ہوئے کھل جاتے ہوں۔ (اگر ایک موزہ دو انگلوںں کے برابر دوسرا موزہ ایک انگلی کے برابر کھلا یا پھٹا ہوا ہو تو مسح کرسکتے ہںج۔) ۳… موزے مکمل وضو جس مںر دونوں پرم دھونا بھی شامل ہے کے بعد پہنے گئے ہوں (واضح رہے کہ وضو کی حالت مںل موزے پہنتے وقت مسح کی ضرورت نہںا ہے۔) ۴…موزے پہنے ہوئے ہوں اور غسل واجب ہوگاں تو موزوں پر مسح صححھ نہں ہوگا غسل کے لےض موزے اتارنے ہوں گے اور دونوں پرموں کو دھونا ہوگا۔ ۵…اگر باوضو ہونے کی حالت مںا مسح کی مدت پوری ہونے سے پہلے موزے اتار لےغ تو مسح ٹوٹ جائے گا البتہ وضو کی حالت مںہ ہونے کی وجہ سے صرف پرو دھو کر دوبارہ موزے پہن لے اور مسح کی مدت بھی نئے سرے سے دوبارہ شروع ہوگی۔ ۶… اگر دونوں موزوں مں سے کوئی ایک موزہ اتار لا تو بھی مسح ٹوٹ جائے گا اگر وضو کی حالت مںد ایسا ہوا ہے تو دوسرا موزہ بھی اتار کر صرف دونوں پرں دھولے۔ اگر پچھلا وضو اس سے پہلے ہی ٹوٹ چکا تھا تو دوبارہ پورا وضو کرے جس مں دونوں پرو دھونا بھی شامل ہے۔ ۷… اگر موزہ ڈھیلا تھا اور اس مںا پانی چلا گا اور پورا یا آدھے سے زیادہ پرو گیلا ہوگا تو بھی مسح ٹوٹ جائے گا۔ اگر پہلا وضو باقی تھا تو دوسرا موزہ بھی اتار کر دونوں پرت اچھی طرح دھو لے۔ سوال: شریعت نے موزوں پر مسح کی مدت کتنی مقرر کی ہے؟ جواب: جو شخص سفر مںت ہو یین اپنے شہر سے 78کلومیٹریا اس سے زائد فاصلے پر گاہ ہو اسے پورے تنت دن اور تنت رات تک موزوں پر مسح کی اجازت ہے اور جو شخص سفر مںن نہں ہے وہ صرف ایک دن ایک رات تک وضو کرنے کے مواقع پر موزوں پر مسح کرسکتا ہے نز موزوں پر مسح کرنے کے بعد مدت ختم سے پہلے سفر پر جائے تو یہ مدت خودبخود مسافرت والی مدت کی طرف چلی جائے گی۔ اگر مسافرت والی مدت ختم ہونے سے پہلے واپس آگاے ہے تو مدت قایم والی مدت تک ہی برقرار رہے گی۔ یہ مدت موزہ پہننے کے بعد جب وضو ٹوٹتا ہے اس کے بعد شروع ہوتی ہے۔ سوال: کاو جن جن چزروں سے وضو ٹوٹ جاتا ہے مسح بھی ٹوٹ جاتا ہے؟ جواب: جی ہاں! جن جن چزیوں سے وضو ٹوٹ جاتا ہے مسح بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ سوال: کاو مردوں کی طرح عورتںو بھی موزوں پر مسح کرنے کی سہولت سے فائدہ اٹھا سکتی ہں ؟ جواب: جی ہاں! مردوں اور عورتوں دونوں کو یہ سہولت دی گئی ہے۔ سوال: مسح کرنے کا طریقہ کاع ہے؟ جواب: ہاتھ کی انگلوہں کو پانی مں بھگو لے پھر پاؤں کے پنجوں پر یینے اوپر کی طرف ان انگلو ں کو بچھا لے (یینو گیٹو انگلوضں کو کھڑا رکھتے ہوئے صرف ان کے سر نہ لگائے بلکہ پوری انگلوتں کو بچھالے) پھر ان کو اسی حالت مںل رکھتے ہوئے پنڈلویں کی طرف لے جائے۔ (تنک انولہ ں کی مقدار کے برابر ہر موزے پر مسح کرنا فرض ہے۔) موزوں کے نچےر (تلووں) یا دائںا بائںن (اغل بغل) پر مسح کرنے کی ضرورت نہںں ہے۔(واضح رہے کہ اگر موزوں کی اوپر کی طرف مسح نہںے کا گال تو مسح کا فرض ادا نہ ہونے کی وجہ سے مسح ہوا ہی نہںے۔) جبر ہ (PLASTER/BANDIEGE) سوال: جبرمہ کسے کہتے ہںو؟ جواب: ٹوٹی ہوئی ہڈییا زخم وغرحہ پر جو پلاسٹر، بنڈکج، پٹییا پھایہ باندھا جاتا ہے اسے جبرفہ کہتے ہںٹ۔ سوال: اگر وضو کرنے والے کو اعضائے وضو پر یا غسل کرنے والے کے کسی ظاہری عضو پر ایین صورتحال کا سامنا ہو تو اس کے لےا کاا حکم ہے؟ جواب: اگر وضو کرنے والے کے اعضائے وضو مں سے کسی عضو پر جس کو وضو کرتے ہوئے دھونا فرض ہے) پلاسٹر چڑھا ہوا ہو بنڈبج ہوئی ہوزخم پر پھایہ لگاکر پٹی باندھ دی گئی ہو اور وضو کے لےٹ اس کا کھولنا باندھنا مشکل ہو یا مشکل تو نہ ہو لکنے زخم کے لےح پانی کا لگنا نقصان دہ ہو تو پورے پلاسٹر، بنڈلج اور پٹی پر گیلا ہاتھ پھرو لنا یینا مسح کرلناو وضو کی تکمل کے لےں کافی ہے، چاہے اس بندھی ہوئیپٹی کے نچے، زخم ہو یا نہ ہو او ریہ مسح اس وقت تک جائز ہے جب تک کہ مکمل صحت کے بعد پٹی کا باندھے جاتے رہنے کا عمل مکمل نہ ہو جائے ییص مسئلہ غسل کا بھی ہے۔ سوال: اعضائے وضو سے کای مراد ہے اور وہ کون کون سے ہں ؟ جواب: جسم کے جن جن اعضاء کو وضو مں دھونا اور جس عضو پر مسح کرنا فرض ہے انہں اعضائے وضو کہا جاتا ہے اور وہ چار ہںا:(۱) پورے چہرے کو دھونا۔ (۲)کہنیوں سمت دونوں ہاتھوں کو دھونا۔ (۳)سر کے چوتھائی حصے پر ایک مرتبہ بلےم ہاتھوں سے مسح کرنا۔ (۴)ٹخنوں سمتچ دونوں پاؤں دھونا۔ وضوسے متعلق مزیدمسائل سوال: اگرکسی شخص کو وضو مںد کلّی کرتے ہوئے مسوڑھوں کی بمااری کی وجہ سے پانی نقصان پہنچاتا ہو یا مسواک کرتے ہوئے مسوڑھوں سے خون جاری ہوجاتا ہو وہ شخص کا کرے؟ جواب: وہ اپنے مسوڑھوں کا علاج کرائے اور جب تک علاج مکمل نہ ہوجائے تو وہ وضو کرتے ہوئے کلی اور مسواک نہ کرے اس لے کہ وضو مں کلی کرنا، مسواک کرنا یا دانتوں پر انگلی پھرونا وغرےہ فرض اور واجب نہںں ہے۔ لہٰذا اس عذر کی وجہ سے بھی بغرس کلی اور مسواک کے بھی اس کا وضو ہوجائے گا۔ سوال: کا اچھی طرح وضو کرنے کے فضائل احادیث مںہ بتلائے گئے ہں ؟ جواب: جی ہاں! اچھی طرح وضو کرنے کے فضائل احادیث مںی بڑی کثرت سے آئے ہںض جن مںق سے دو یہ ہں : ۱…وضو کے اعضاء قا مت کے دن روشن اور چمکدار ہوں گے۔ ۲…حضور ﷺ اپنے امتی کو فوراً پہچان جائںا گے۔ سوال: کاا وضو کے بعد شریعت سے کوئی نماز ثابت ہے اور اس کا نام اور رکعتںب کتنی ہںر؟ اور اس کے متعلق حکم کاذ ہے؟ جواب: جی ہاں! وضو کرنے کے بعد شریعت نے دو رکعت نماز پڑھنے کی ترغبی دلائی ہے اس کا نام تحیۃ الوضو ہے اور شریعت نے تحیۃ الوضو کا درجہ مستحب اور مسنون کا رکھا ہے۔ یعنییہ نوافل مںے سے ہںغ جن کا پڑھنا لازمی اور ضروری نہںض ہے البتہ اس سے فضیلت کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔ سوال: کاا وضو کرتے ہوئے سر کا مسح ٹوپی، پگڑی اور دوپٹہ کے اوپر سے بھی ہوجائے گا؟ جواب: نہںء! سر کا مسح کرنے کے لے۔ ٹوپی، پگڑی اور دوپٹہ کو ہٹاکر سر پر ہی مسح کرنا پڑے گا۔ سوال: جن لوگوں کے ہاتھ، پرک موسم کے یا کسی بما ری کی وجہ سے پھٹ جاتے ہںپ ان کے لےا وضو اور غسل سے متعلق کار حکم ہے؟ جواب: اگر ان پھٹی ہوئی جگہوں پر پانی پہنچانا یین ان کو دھونا ان جگہوں کے لے نقصان دہ ہو تو دھونے کے بجائے ان جگہوں پر مسح کاکجاسکتا ہے، اگر مسح کرنا بھی نقصان دہ ہو یین مرض کے بڑھ جانے یا دیر سے صححپ ہونے کا اندیشہ ہو تو مسح بھی چھوڑا جاسکتا ہے۔ مسائل غسل سوال: کاس اییا صورتںق بھی ہںر جن کے واقع ہوجانے پر شریعت نے انسان کے مکمل طور پر ناپاک ہوجانے کا حکم لگایا ہو؟ جواب: جی ہاں! زندگی مںد ایین صورتںھ بھی انسانوں کو پشح آتی ہںہ جن کے واقع ہونے پر شریعت نے مکمل طور پر ناپاک ہوجانے کا حکم لگایا ہے۔ وہ صورتںز درج ذیل ہںن: ٭… بعض اوقات مرد یا عورت مںر سے کسی کو بھی ایک ہجاننی کت پ سونے یا جاگنے کی حالت مںش پدےا ہوجاتی ہے، جس کو عرف عام مں شہوت کا ہونا کہتے ہں ۔ اس کی تکملی پر پیشاب کی راہ سے گاڑھا مادہ نکلتا ہے جسے عرفِ عام مںر منی کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد جذبات بھی سرد پڑ جاتے ہںں اور وہ ہجامنی کترت بھی ختم ہوجاتی ہے۔ اییم پوری صورت کی تکملع پر شریعت نے ایسے شخص پر جسمانی حتقا سے مکمل طور پر ناپاک ہونے کا حکم لگایا ہے۔ اصطلاح مںا اس کو شہوت کے ساتھ منی کا خارج ہونا بھی کہا جاتا ہے۔ سونے کی حالت مں اییر حالت کے واقع ہونے کو احتلام ہونا بھی کہا جاتا ہے۔ ٭… ماضں بوہی کا اس طرح ملنا جس کو عرف عام مںو ہم بستری کرنا (Intercorse) کہا جاتا ہے۔ اس حالت مں ملتے ہی چاہے منی کا اخراج ہو یا نہ ہو شریعت نے ماعں بوتی دونوں پر جسمانی حتقا سے مکمل ناپاک ہوجانے کا حکم لگایا ہے۔ ٭… ایی عورتںت جنہںی ہر ماہ پیشاب کے راستے سے خون آتا ہے جسے عرف عام مںc حض کہتے ہیںیا وہ عورت جسے زچگی کے بعد پیشاب کی راہ سے خون آتا ہے جسے عرف عام مںں نفاس کہا جاتا ہے، ان صورتوں کے واقع ہونے پر وہ عورت ان کی تکملح ہوجانے تک شرعی حتاج سے مکمل طور پر ناپاک رہتی ہے، چاہے وہ اس مدت کے دوران غسل کرے یا نہ کرے۔ سوال: حض کسے کہتے ہںآ؟ جواب: ہر عورت کو ۹ سال کی عمر پوری ہونے پر ہر مہنےت پیشاب کی راہ سے معمولی خون آتا ہے جو اگر لگاتار تن دن، تنگ رات تک جاری رہے تو اسے حضڑ کہتے ہں اور یہ اس کی کم سے کم مدت ہے، یینل اس سے کم ہوا تو حضا نہںگ کہلائے گا اور اس کی زیادہ سے زیادہ مدت دس دن، دس رات ہے۔ سوال: نفاس کسے کہتے ہںس؟ جواب: حاملہ عورت کو بچہ پدیا ہونے/زچگی کے بعد پیشاب کی راہ سے جو خون آتا ہے اس کو نفاس کہتے ہںج۔ کم ہونے کے حوالے سے اس کی کوئی حد نہںل ہے، یہ ایک لمحہ بھی ہوسکتا ہے اور زیادہ سے زیادہ اس کی مدت چالسے دن ہںو۔ سوال: مکمل طور پر ناپاک ہوجانے والے انسان کو پاک ہونے کا طریقہ شریعت نے کاا بتلایا ہے؟ اور ایسے انسان کو اصطلاح مںا کا کہتے ہںی؟ جواب: مکمل طور پر جسمانی اعتبار سے ناپاک ہوجانے والے انسان کو اصطلاح مں ’’جنبی‘‘ کہا جاتا ہے اور اس سے پاک ہونے کا طریقہ شریعت نے غسل بتلایا ہے۔ سوال: غسل کسے کہتے ہںا؟ جواب: پورے جسم کو پانی سے دھونے کو غسل یا نہانا کہتے ہںں۔ سوال: کار شریعت نے اس غسل مںا کچھ چز یں لازم قرار دی ہںا؟ جواب: جی ہاں! تن چزغیں ضروری قرار دی گئی ہںا جنہںے اصطلاح مںہ فرائض کہا جاتا ہے۔ ان کی تفصیلات آگے آرہی ہں ۔ سوال: بے وضو مرد و عورت کو شریعت نے کن کن عبادات سے منع کار ہے؟ جواب: بے وضو مرد و عورت نماز نہںت پڑھ سکتے، طواف نہںت کرسکتے، قرآن مقدس کو چھو بھی نہںج سکتے، البتہ قرآن کی تلاوت قرآن کو چھوئے بغرے کرسکتے ہںں۔ سوال: حقیوی ناپاک لوگوں کو (یینو جن کے لےت غسل کرنا ضروری ہے) شریعت نے پاک ہونے سے پہلے کن کن کاموں سے منع فرمایا ہے؟ جواب: حقیو ناپاک مرد و عورت نہ مسجد مںو جاسکتے ہںے، نہ نماز پڑھ سکتے ہںج، نہ طواف وغرنہ کرسکتے ہںن، نہ قرآن کو چھو سکتے ہں؟ اور نہ اس کی تلاوت دیکھ کر یا زبانی کرسکتے ہںر، البتہ ناپاک مرد پاک ہونے سے پہلے روزہ رکھ لے گا تو اس کا روزہ صححن ہوگا، لکنے حضر و نفاس سے ناپاک رہنے والی عورت روزہ بھی نہںم رکھ سکتی۔ نوٹ: حقیفا ناپاک یا حکمی ناپاک مرد و عورت بغرس وضو اور غسل کے ذکر و اذکار، وظائف، استغفار، درودشریف، اﷲ تعالیٰ کا نام وغر ہ لے سکتے ہںن۔ دین کی دعوت بھی دے سکتے ہںک، البتہ تلاوت کی نیّت سے قرآن نہںح پڑھ سکتے، لکنٰ قرآن مںن ذکر کردہ دعائںہ ان حالات مں بھد عا کی نتم سے پڑھ سکتے ہں ، نزت ان حالات مں کھانے پنےہ اور دیگر دنونی ضرورتوں اور کام کاج کی اجازت ہے، لکنا شریعت کی تعلمک و ترغیبیہی ہے کہ زیادہ دیر تک بلاوجہ ان حالات مںھ رہنا اچھی بات نہں ہے، اس لےس کہ موت کا وقت اگر اس حالت مںب آگا تو وہ مت کے حق مںم معوپب (عبہ دار، قابل شرم) سمجھا جائے گا۔ نزن شریعت نے ہر وقت باوضو رہنے کی ترغبی دی ہے، تاکہ اگرموت کا وقت بھی آجائے تو اس دنات سے رخصتی باوضو ہو۔ ہمارے بعض سلف صالحنف کا یہ معمول بھی رہا ہے کہ جب بھی وہ بے وضو ہوجاتے تھے، نہ صرف فوراً وضو فرما لاا کرتے تھے بلکہ تحیۃ الوضو کی نتک سے دوگانہ نماز بھی ادا کرلا کرتے تھے۔ اسی معمول کی وجہ سے سدتنا بلال رضی اﷲ عنہ نبیﷺ کو جنت کی سرص کے موقعے پر غلام و خادم کی حت ب سے اپنے سے آگے چلتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔(ترمذی شریف جلد2 صفحہ 544) سوال: جو لوگ حقیات طور پر ناپاک ہوجایا کرتے ہیںیا حکمی طور پر (یینب بے وضو ہوجایا کرتے ہںی) اور اُن کے جسم کے کسی حصے یااعضائے وضو کے کسی حصے پر پلاسٹر یا پٹی بندھی ہوئی ہو اور وہ اسی طرح وضو یا غسل کریں تو اُن کا وضو اور غسل ہوجائے گا؟ جبکہ ان جگہوں پر پلاسٹریا پٹی کی وجہ سے پانی بھی نہںی پہنچ سکے گا؟ جواب: جی ہاں! ان کا وضو اور غسل ہوجائے گا، کوہنکہ شریعت نے ان کی صحت یابی تک اس حوالے سے انہںا معذور قرار دیتے ہوئے یہ تعلم دی ہے کہ پٹی اور پلاسٹر کی جگہ پر فقط گیلا ہاتھ پھری لنےر سے وضو اور غسل کی ضرورت پوری ہوجائے گی اور ان کے وضو اور غسل مں کسی قسم کی کوئی کمی باقی نہںچ رہے گی جساتکہ صحت مند لوگوں کے وضو اور غسل مںض کوئی کمی واقع نہںر ہوتی۔ سوال: حقیسں ناپاک لوگوں کو پاک ہونے کے لےو غسل کا حکم دیا گاں ہے، اس غسل مںر شرعی اعتبار سے کون کون سی چزپیں لازم اور ضروری ہںا؟ جواب: حقیس ناپاک لوگوں پر شریعت نے غسل ضروری قرار دیا ہے اور اس غسل مںں تنع باتںا لازمی قرار دی ہںز جو درج ذیل ہںا: ۱… منہ بھر کر کلی کرنا۔ یین منہ مںر اتنا پانی بھر لناچ کہ مزید کی گنجائش باقی نہ رہے او رپورے منہ مںا اچھی طرح پانی پھر جائے، جس کا ایک جزء غرارہ (پانی منہ مںت بھر کر منہ اوپر کی طرف کرکے حلق سے سانس باہر نکالنے کو غرارہ کہتے ہںی) بھی ہے۔ البتہ روزے کی حالت مںع غسل کرتے ہوئے غرارہ نہ کرے او رمنہ مںہ پانی پھراتے ہوئے اس بات کی بھی احتائط رکھے کہ پانی کا کوئی قطرہ حلق سے نچےو نہ اُتر جائے۔ ۲… ناک کے نرم حصے تک پانی چڑھانا۔ یینئ ہاتھ مںم پانی لتےا ہوئے ناک کے قریب لے جاکر دائںر بائںز نتھنوں سے سانس اندر کی طرف معمولی کھنچنان تاکہ ناک کے نرم حصے تک پانی پہنچے۔ (ناک کا نرم حصہ اس جگہ تک کہلاتا ہے جہاں سے ناک کی ہڈی شروع ہوتی ہے) البتہ روزے کی حالت مںے ناک مںا اس طرح پانی چڑھانے کی بھی ممانعت ہے، اس لے کہ سانس

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
1008