(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/05/23
موضوعات
پاکستان کی تباہی مین عوام کس حد تک ذمہ دار ؟
پاکستان کی تباہی میں عوام کس حد تک ذمہ دار اکرم خان طوفانی ملک عزیز کی بربادی میں ہر ایک بندہ نے کوئی کمی ، کوئی قصر نہیں چوڑا ہے جس سے جتنا ہوا ہے اس نے اتنا ہی حد کیا ہے گورنمنٹ کی تو بات نہیں نہ اس سے کوئی گلہ شکوہ ہے ہرمحکمہ اپنے باپ کا گھر سمجھتے ہیں جو چاہے وہ کرتے ہیں ، وہ کھاتے ہیں جو اگلنا ہیں وہ عصب کرتا ہیں اگر کسی کو لوٹنا چاہتے ہیں تو بچانے والا کون ؟ اگر کسی کو نوازنا چاہتے ہیں تو منع کرنے والا کون ہوسکتا ہے جس کی لاٹھی ان کی بھنس والی بات ہے لیکن دل میں اپنوں سے گلہ شکوہ ہے کیونکہ وزراء ، سارے بڑے سیاسی لیڈر ان کا تو جانا انگلینڈ ، لندن کا ہے اور ہم ملک عزیز میں رہینگے مرینگے یہاں کے دفنائنگے بڑے اگر یہ وطن اپنا نہیں مانتے صرف بزنس کا مارکیٹ سمجھتے ہیں تو ہم اپنے گھر کے دشمن کیوں بنتے ہیں یہ مٹی تو ہمارا ہے ہم ان کے لیے جیئنگے ہم ان کے لیے مرینگے لیکن عوام بھی بڑوں کو دیکھکر ان کا چال چلن ان کے نخرے مسخرے کرتے ہیں میں دلیل کے طور ہر کچھ اپنے مشاہدات کا ذکر کرتا ہوں اور اپ بھی کھبی دیکھے اگر ایک روڈ پر فی منٹ میں ساٹھ گاڑی گزرتی ہیں تو بیس گاڑی اس روڈ پر الٹا طرف سے ائیگی یہ بڑے نہیں عوام ہونگے حکومت نے جگہ جگہ گندگی کوڑا کرکٹ کے لیے انتظام کیا ہے ڈسبین رکھے ہوئے ہیں ان کے حالی کرنے کے لیے افراد گاڑی مقرر ہیں لیکن اپ کو ۶۵ فیصد لوگ خلاف ورزی نظر آئینگے اور ۳۵ فیصد لوگ وہ نعمت سمجھکر وہ صحیح طریقے سے استعمال کرینگے اور اپنا سوسائٹی بہتر بنائنگے کمپنیوں میں تو ۹۵ فیصد عوام کم چور بیٹھے ہیں یہ ایک بہادری سمجھتے ہیں کہ ہم نے کمپنی کے ساتھ دوکہ کیا اصل میں یہ اپنے ساتھ دوکہ ہے قرآن کی اس آیت کا مصداق وما یخدعون الا انفسھم ومایشعرون وہ اس طرح کہ ہمارے سوسائٹی کو ان سب چیزوں کی ضرورت ہے جو ان کمپنیوں میں بناتے ہیں جتنا ہم کم چوری کرتے ہیں ایک ایک پروڈکس پر اس حساب سے خرچ اتا ہے پھر یہ ساری چیزیں ان عوام کو مہنگی داموں ملتی ہے اور پھر چیخیں بھی ان عوام کی نکلتی ہیں اسی طرح بہت سے مشاہدات ہیں کہ اس میں اس عوام کی ہی لاپرواہی ہے اور اس کا سزا بھی یہ عوام چکتی ہیں تو اس لیے ساری بھائیوں سے گزارش ہے التماس ہے کہ یہ ملک ہمارا ہے اور ہم اس وطن کے ہیں اس کی ہر ایک خوشی اور ہر ایک غم بھی ہمارا ہے اگر ہم کوشش کرے اور عہد کرے تو ہمارا یہ وطن عزیز سریا تک پہچجاتا ہے اور اس ملک کی کوئی خوشی ہم سے کوئی بھی نہیں چین سکتا ہے تو آو اپنے وطن عزیز کے ساتھ مخلص ہوجاو پاکستان زندہ باد پاکسنانی پائندہ باد

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
434