(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/05/23
موضوعات
محرم الحرام کے بارے میں سمجھی جانیوالی چارخصوصیات
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ محرم الحرام کے بارے مںْ سمجھی جانو الی چارخصوصا)ت (۱) سن ہجری اور اس کا پہلا مہنہو تاریخوں کی تاریخ: اس کائنات کی طرح نظام کائنات بھی اﷲ رب العزت۱؎ ہی کا وضع کردہ (بنایا ہوا) ہے اسی نے جس طرح آسمان و زمن بنائے ہںا اسی طرح رات دن کا نظام بھی اسی کا بنایا ہوا ہے، ایک مکمل رات اور ایک مکمل دن مل کر یوم کہلاتے ہں جسے دن اور روز بھی کہا جاتا ہے۔ رات اور دن کی ایک مخصوص تعداد کو جو سات(7) دنوں پر مشتمل ہوتی ہے، کو ہفتہ کہتے ہںپ۔ جب دنوں کی تعداد انتس (29) یا تسص(30) ہوجاتی ہے تو اس مجموع کو ماہ یا مہنہی کہتے ہںا۔ تعلماہت اسلامہ کے مطابق مہنےا کا آغاز نماز مغرب کے وقت مغرب کی سمت آسمان پر دکھائی دینے والے چاند (جسے ہلال کہتے ہںو) سے ہوتا ہے اور ایسا کبھی انتسی(29) دنوں کے بعد ہوتا ہے کبھی تسپ(30) دنوں کے بعد ہوتا ہے (گویا انتسی(29) دنوں سے کم تعداد کو بھی مہنہی نہںا کہتے اور تسد(30) دنوں سے زیادہ تعداد بھی مہنہد نہںت کہلاتی) مغرب کی سمت ہلال انتس (29) دن کے بعد نظر آجائے تو مہنہر بدل جاتا ہے اگر نظر نہ آسکے تو جاری مہنے کے تسو(30) دن پورے کے، جاتے ہں ۔ ایسا ہر انتسع(29) یا تس (30) دنوں کے بعد ہوتا ہے۔ جب بارہ(12) مرتبہ یہ عمل مکمل ہوجاتا ہے تو بارہ(12) مہنے مکمل ہوتے ہںی اور اس مجموعے کو سال یا برس کہا جاتا ہے۔ اس طرح ایک سال مںی مہنویں کی تعداد بارہ(12) بنتی ہے۔ چونکہ دنوں کییہ گنتی چاند کی گردش (چکر) کے ساتھ وابستہ ہے اس لے اسے قمری سال کہا جاتا ہے (چاند کے کئی نام ہںں مثلاً چاند، ماہ، قمر، ہلال، بدر وغرنہ) دنوں کے شمار کو تاریخ کا نام دیا جاتا ہے۔ (سال کو برس اورسن بھی کہتے ہں ) سالوں کی گنتی جب سو(100) تک پہنچ جاتی ہے تو اسے صدی کہتے ہں۔۔ کلنڈ روں کا تعارف ان تاریخوں کو جس کتاب یا کاغذوں مںم تحریری طور پر جمع کا جاتا ہے اسے تقویم، جنترییا کلنڈ ر کہتے ہں۔۔ اس وقت دناک مںغ دو قسم کے کلنڈہر زیراستعمال ہںس: ۱…عسوری کلنڈ ر: اس کلنڈسر مںت سالوں کا حساب حضرت عیٰ ج علہ السلام کی پدےائش کے وقت سے کاک جاتا ہے اس لحاظ سے اسے عسوکی سال اور سن عسوای کا نام بھی دیا گال ہے اور عسو ی سن کے مطابق آج کل 2014؁ء چل رہا ہے، لکھتے وقت سن کے بعد چھوٹا سا ’’ع‘‘ لکھا جاتا ہے جو اس کی نشان دہی کرتا ہے کہ یہ عسوای سن سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کلنڈ ر مںر تاریخ کی تبدییے کے لےو سورج کی گردش سے وابستگی رکھی گئی ہے اس لےہ اسے شمسی کلنڈ ر بھی کہا جاتا ہے۔ (چاند کی طرح سورج کے بھی کئی نام ہںا مثلاً شمس، خورشدس، آفتاب وغراہ) شمسی سال مںے تاریخ رات بارہ(12) بجے بدلتی ہے۔ شمسی سال مںک بھی سال بارہ مہنوئں کا ہوتا ہے۔ اس مںش مہنو ں کی ترتبش اور نام اس طرح ہں :(۱)جنوری (۲)فروری (۳)مارچ (۴)اپریل (۵)مئی (۶)جون (۷)جولائی (۸)اگست (۹)ستمبر (۱۰)اکتوبر (۱۱)نومبر (۱۲)دسمبر (جنوری سے شروع ہونے والا سال دسمبر مںی مکمل ہوجاتا ہے۔) تمام مہنواں کے دن متعنت کرلے) گئے ہںن جس کی رو سے بعض مہنےب تست(30) اور بعض اکتسہ(31) دن کے ہوتے ہںھ البتہ فروری کا مہنہا عمومی طور پر اٹھائسم(28) دن کا ہی ہوتا ہے نزو جب کبھی عسوڈی سن کے اعداد چار(4) سے تقسمر ہوجائںں تو اس سال فروری کا مہنہ انتسی(29) دنوں کا طے کا گا ہے۔ اصطلاح مں2 ایسے سال کو لپک کا سال (Leapyear) کہتے ہںج۔ کون کون سے مہنے اکتسن(31) دن کے ہوں گے؟ اس کا ایک آسان فارمولا ذہن نشین کرایا جاتا ہے جو کچھ اس طرح ہے کہ دونوں ہاتھوں کی انگلونں کو بند کرکے مٹھی بنائں ، ہتوہآساں کی پشت پر انگلوجں کے سِروں پر ہڈیوں کا اُبھار نظر آئے گا ہر دو ابھاروں کے درماون خلا کی صورت مںب ایک گڑھا سا بنے گا۔ دائںآ ہاتھ کی کلمۂ شہادت والی انگلی کے ابھار سے جنوری، فروری شمار کرنا شروع کریں جو مہنہ ہڈی کے ابھاروں پر آئے گا وہ اکتسب(31) دنوں کا ہوگا اور جو گڑھوں پر آئے گا وہ تسی(30) دنوں کا ہوگا۔ عسو ی سن کے طے شدہ طریقے کے مطابق ایک سال مں تنت سوپنسٹھر(365) دن بنتے ہں ۔ ۲…ہجری کلنڈ ر: اس کلنڈ ر مںآ سالوں کا حساب نبیﷺ کے ہجرت مدینہ (جن کی تفصلک آگے آرہی ہے) کے سفر کے وقت سے کا جاتا ہے۔ اس لےڈ اسے ہجری سال بھی کہا جاتا ہے۔ سدبنا حضرت عمرؓ نے اپنے زمانۂ خلافت مںن صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم اجمعن کے مشورے سے اسلامی تاریخوں کی نسبت ہجرت کے واقعے کے وقت سے طے فرمائی تھی۔ اس سن کے لکھتے وقت آخر مںب چھوٹی سی ’’ھ‘‘ بھی لکھی جاتی ہے جو اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ اس دن کا تعلق ہجرت نبوی کے واقعے سے ہے اس حساب سے اس وقت چودہ سو پستاتا 1435؁ھ سال مکمل ہوچکے ہں ۔ ہجری سال مںی بھی بارہ(12) مہنے ہی ہوتے ہںس۔ اسلامی کلنڈ ر کا اعزاز ہجری سال کے ان بارہ مہنو ں کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ان کا وجود آسمان و زمنق کی تخلقہ کے دن سے قائم ہے اور لوح محفوظ ۶؎ مںہ تحریر ہے جس کی شہادت خود کلامِ الہٰی۷؎ سے حاصل ہورہی ہے جساوکہ ارشاد ہے: {اِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُوْرِ… السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ} (سورۂ توبہ آیت 36) ’’بلاشبہ اﷲ(تعالیٰ) کے نزدیک مہنو}ں کی تعداد اﷲ(تعالیٰ) کی کتاب (لوح محفوظ) مںں اس دن سے جس دن انہوں نے آسمان اور زمنق کو پدہا فرمایا بارہ (12) مہنےس ہی ہے۔‘‘ ہجری سال سے وابستہ ان بارہ مہنوُں کے نام اور ترتبا کچھ اس طرح ہے: (۱)محرم الحرام (۲)صفرالمظفر (۳)ربعح الاوّل (۴)ربعد الثانی (۵)جمادی الاوّل (۶)جمادی الثانی (۷)رجب المرجب (۸)شعبان المعظم (۹)رمضان المبارک (۱۰)شوال المکرم (۱۱)ذی القعدہ (۱۲)ذی الحجہ (محرم الحرام سے شروع ہونے والا یہ سال ذی الحجہ کے مہنے پر مکمل ہوتا ہے) ان تمام مہنوشں کا آغاز مغرب کی سمت نماز مغرب کے وقت آسمان پر نظر آنے والے چاند (ہلال) سے ہوتا ہے اور ایسا کبھی انتسا(29) اور کبھی تسح(30) دنوں کے بعد ہوتا ہے جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ہجری سال اور اسلامی کلنڈ ر مںت دنوں کا تعنڈ انسانوں کا خودساختہ نہںت بلکہ چاند کی گردش (چکر) سے متعلق اور وابستہ ہے اور چاند کے یہ چکر اﷲتعالیٰ کے طے کردہ ہں ۔ نزت اس طے شدہ نظام سے چاند نہ روگردانی (منہ پھرم) کرسکا ہے، نہ کررہا ہے اور نہ کرسکے گا۔ اس طے شدہ نظام مںی نہ کوئی مخلوق بشمول انس و جن کے انفرادییا اجتماعی طور پر کسی قسم کی لمحے بھر کے لے ذرہ برابر مداخلت کبھی کرسکی ہے، آج کرپارہی ہے، نہ آئندہ اس مںن کاماگب ہوسکے گی چاہے عقل کے جفادریوں (بہت پرانے انسانوں)، فہم و شعور کے نابغوں (ذہنواں)، ادراک کے نابالغوں (کم سنوں)، قدرت کے ناسپاسوں (ناشکروں)، حققتن کے نادانوں (ناسمجھوں)، حق کے ناشناسوں، (نہ پہچاننے والوں) مد ان ریسرچ کے نااہلوں (نالائقوں)، مذہب کے ناخواندوں (ان پڑھ جاہلوں)، عاقبت کے نااندیشوں (نہ سوچنے والوں) کو کسا اور کتنا ناگوار ہی کو ں نہ گزرے۔ نظام الہٰی کے تابع رہنے والے اسلامی کلنڈ ر کو تائدقالہٰی، مشتن ایزدی اور چاہت خداوندی بھی حاصل ہے۔ چاند کے ساتھ وابستگی کا ایک خوشگوار، فرحت بخش، مسرت آمزہ، روح پرور، دلفریب فائدہ یہ بھی ہے کہ اس کا ہرہر مہنہن کبھی موسم سرما مں ، کبھی موسم گرما مںی، کبھی موسم بہار مںت، کبھی موسم خزاں مںف جلوہ افروز ہوکر (بناؤ سنگھار کے ساتھ سامنے آکر) مختلف انداز سے انجوائے کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے او ریکسانتب کی اکتاہٹ سے محفوظ رکھتا ہے۔ فبذٰلک فلیفرحوا! اسلامی کلنڈ ر کی تاریخوں کا چاند کے طلوع کے ساتھ نسبت اپنے اندر مذہبی فوائد بھی رکھتا ہے اس سے مذہبی معاملات کی مدت اور اوقات کا تعن ہر کس و ناکس کے لےس آسان ہوجاتا ہے۔ مثلاً مدت عدت و طلاق، اوقات (زمانہ) زکوٰۃ، روزہ، حج و قربانی وغرنہ۔ اسلامی کلنڈ راوردورِحاضرکاالمہے دورحاضر مںا دفاتر، گھروں، ہر طرح کے اداروں، معاشی مدمانوں وغرتہ مںح عسوڈی (شمسی) کلنڈ ر کے استعمال کا غلبہ ہے۔ مسلمانوں کے درما ن عملی طور پر ہجری (قمری) کلنڈ ر غرحمحفوظ ہوتا جارہا ہے یہ ایک قابل غور وفکر المہ ہے جبکہ اس کی حفاظت فقہائے کرام کے نزدیک فرض کفایہ کا درجہ رکھتی ہے۔ جبکہ بدقسمتی سے مسلمانوں کی اکثریت اسلامی مہنواں کے نام اور ان کی ترتبئ کا علم بھی نہںی رکھتی۔ حالانکہ پرنٹ میڈیا کا احسان ہے کہ وہ روزانہ کی بنااد پر اِن کی تاریںکی شائع کررہا ہے۔ مرکزی رؤیت ہلال کمییا کی مہربانی ہے کہ اس نے ماہانہ بنالد پر ہر ماہ کی پہلی تاریخ کے تعنب کے ساتھ اس کی اطلاع کا بڑیا اٹھایا ہوا ہے۔ (ستم ظریفییہ بھی کہ اس بے ضرر معاملے کو بھی متنازعہ بناکر جگ ہنسائی کے مواقع وقتاً فوقتاً پداا کے جاتے ہںر جبکہ یہ لاینحل (حل نہ ہونے والا) مسئلہ نہںا ہے۔) چارہ گر خود ہی لاتعلق ہںی… درد حالانکہ لادوا بھی نہںع ایک نہایت اہم وضاحت مصری۱۴؎ کلنڈ۔ر کے نام سے بھی ایک کلنڈ ر متعارف ہے لکنے اس پر عمل ایک مخصوص طبقہ ہی کرتا ہے مسلم سواداعظم (اکثریت) (Muslim Majority) سے اس کا کوئی تعلق نہںی اس مخصوص ذہنتے کے لوگوں نے من گھڑت انداز مںد اسلامی مہنواں کے نام وہی رکھتے ہوئے مہنواں کے دنوں کی تعداد کو خود ہی طے کرلاں ہے۔ اس طرح چاند دیکھے جانے کے بعد مہنےم کے آغاز کرنے کی اسلامی تعلماکت کو یکسر نظرانداز (بالکل ناقابل قبول)کردیا گات ہے۔ یوں انہوں نے اپنے آپ ہی مسلم معاشرے سے جدائی اختا ر کرکے تنہائی اپنالی ہے۔ یورپ و امریکہ مںد بعض مسلمان نادانی، کم علمی، عدم توجہی مںل رمضان کے آغاز و تکملا اور دونوں عدیوں کے تہواروں مںر ان کی پرسوی کر بیٹھتے ہں اس طرح ان کے روزوں کی ابتدا رمضان کے شروع ہونے سے پہلے ہی ہوجاتی ہے اور روزوں کی تکملں رمضان کے مکمل ہونے سے پہلے ہوجاتی ہے اس طرح وہ دوران رمضان ہی عدومنا لنےد کا جرم کر بیٹھتے ہں جبکہ رمضان کے دوران روزے رکھنے کا حکم صاف اور واضح طور پر قرآن مقدس مںا موجود ہے جسا کہ ارشاد ہے: {فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ} (سورۂ بقرہ آیت 185) ’’پس تم مںْ سے جو شخص اس مہنےُ کو پائے اس کو روزہ رکھنا چاہےں۔‘‘ ایسے مسلمانوں کو اس حوالے سے سر جوڑ کر بیٹھ کر نہایت غور و خوض کے بعد اپنے آپ کو گمراہی اور اپنے اعمال کو اکارت (برباد) ہونے سے بچانے کے لےے کوئی اطمنارن بخش فصلہ کرلناک چاہےا۔ (۲)نبیﷺ کی ہجرت مدینہ منورہ اعلان نبوت کے فوراً بعد سخت مزاج و سنگ دل کفار مکہ نے نبیﷺ اور صحابہ کرامؓ کی زندگااں نہایت اجرکن (دوبھر، مشکل) (Vexatious) کررکھی تھںگ اور اس حال مںن مسلسل کم و بشی ترپہ(13) برس کا عرصہ ہورہا تھا جبکہ اسی دوران اﷲتعالیٰ نے مکہ مکرمہ کے مقابلے مںر مدینہ منورہ مں موافق حالات پدخا فرمائے تھے ان اطمناہن بخش موافق حالات کے تناظر مںھ نبیﷺ نے اپنے جانثار صحابہ کرامؓ کو مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرجانے کا حکم یہ کہتے ہوئے دیا کہ ’’اﷲتعالیٰ نے تمہارے لےی کچھ بھائی اور گھر بار مہا فرمادیے ہںو جہاں تم امن کے ساتھ رہ سکتے ہو۔‘‘ اس حکم کے ملنے کے بعد صحابہ کرام مدینہ کی طرف ہجرت کرنے لگے اور آپ ﷺ اپنی ذات کے بارے مںو مکہ مکرمہ مںک ہی ٹھہر کر حکم الہٰی کے منتظر رہے۔ (ایمانی استطاعت کے مطابق طویل اور صبرآزما آزمائشی تنگیوں کے نتجے مں حراان کن فراوانو ں اور آسودگودں کا دور ییتط طور پر اس دنای مںی بھی شروع ہوتا رہا ہے۔) صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ کی وجہ سے کفارمکہ کو ایکیقینی خطرے نے آگھیرا، ان کو یہ خاتل ستانے لگا کہ اگر محمد(ﷺ) کے حاموہں اور مددگاروں کی مدینہ مں معقول، معتبر، خاطرخواہ تعداد جمع ہوتی رہی تو ہمارا ان پر کوئی بس (زور، قابو) ( Control) نہںو چل سکے گا (ہوسکتا ہے الٹا ان کا بس ہم پر چلنا شروع ہوجائے) اس خدشے نے ان سب کو دارالندوہ (قصی بن کلاب کے گھر) مںی لاکھڑا کاو۔ جہاں طویل غوروخوض کے نتجےج میںیہ طے پایا کہ ہر قبلےر کا ایک ایک فرد مل کر ایک جماعت بنالے اور یہ جماعت بک) وقت مل کر محمد(ﷺ) پر نعوذباﷲ) حملہ آور ہوکر انہں قتل کردیں۔ اس ’’اجتماعی جرم‘‘ کے ناپاک منصوبے کی اطلاع اﷲتعالیٰ نے نبیﷺ کو بھجوائی اور آپ ﷺ کو بھی حضرت ابوبکرؓ کو ساتھ لے کر مدینہ منورہ ہجرت فرما جانے کی اجازت مرحمت فرمادی۔ رات ہوتے ہی اِدھر نبیﷺ کے دولت کدے (گھر) کا محاصرہ (گھیرلا ) (Siege) کرلار گات اُدھر اسی دولت کدے کے اندر مکمل اطمنادن کے ساتھ نبیﷺ تسلی دیتے ہوئے سدرنا حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کو فرمارہے تھے کہ تمہںا ہرگز کوئی گزند (نقصان) (Injury) نہںک پہنچے گا تم مرمے بستر پر سوجاؤ۔ نز مرمے پاس لوگوں کی امانتں جمع ہںم انہں( ان کے مالکوں تک صبح پہنچا دینا۔ (یہ بھی ایک عجب تضاد تھا نبیﷺ کی رسالت کا انکار کرنے والے آپ ﷺ کو نعوذباﷲ جھوٹا، مکار، جادوگر کہنے والے اپنی چزنوں کو اپنے پاس غریمحفوظ سمجھنے والے اپنی ان اشاھء کو نبیﷺ کے پاس بطور امانت رکھوا کر اب بھی محفوظ کرالام کرتے تھے۔ یہ بھی ایک نرالی حرمت انگزی عدل و انصاف سے بھرپور دیانت تھی کہ کشداگی (کھنچاؤ) (Tension) بھرے ماحول مںھ بھی اپنے دشمنوں کی امانتںس لوٹانے کا فول پروف (غلطویں سے پاک صاف ستھرا) انتظام مکمل دھاپن اور پوری فکرمندی سے فرمایا جارہا ہے۔) آپﷺ بلاخوف و خطر بغری ہچکچاٹ کے گھر سے باہر تشریف لائے تھوڑی سی مٹی اپنے ہاتھ مںک لی جسے محاصرین کے سروں پر پھنکتےہ ہوئے اور سورۂ یٰسین کی آیات{فَاَغْشَیْنہُمْاٰا فَہُمْ لَایُبْصِرُوْنَ} تک تلاوت فرماتے ہوئے ان کے سامنے سے پورے اطمناےن کے ساتھ گزر گئے اور کسی کو پتہ بھی نہ چلا (یہ انتظام موت کے نقشوں مں زندگی دینے والے نے کسی سبب کے بغرط محض اپنی قدرت سے پہلے ہی فرما رکھا تھا۔) نبیﷺ نے سدہنا ابوبکر صدیقؓ کو ساتھ لاے اور غارِثور کی طرف سفر شروع فرمایا۔ راستے مںد محب صادقؓ کبھی محبوب و مصدوق ﷺ کے آگے چلنے لگتے کبھی پچھے چلنے لگتے یہاں تک کہ معراج کے مسافر ﷺ نے اس کو محسوس کرتے ہوئے دریافت فرمایا۔ سفر معراج کی بن دیکھے تصدیق کے صلے مںن صدیق کا لقب پانے والے وفادار (Loyal) نے جاں نثاری سے لبریز اور جھلکتے جذبات کے ساتھ انکسار بھرا نایزمندانہ دلرھی کا عکاس جواب عرض کاکیارسول اﷲﷺ مجھے تعاقب (پچھا کرنا) (Pursue) کا خابل آتا ہے تو مںی پچھے چلنے لگتا ہوں پھر گھات (وہ جگہ جہاں شکار یا دشمن کے انتظار مںچ چھپ کر بٹھا جائے) (Ambush) کا خطرہ محسوس ہوتا ہے تو آگے آجاتا ہوں۔ (البدایہ والنہایہ ابن کثرک ج3 صفحہ 180) (اپنی ذات کی نفی کرتے ہوئے اپنی جان کو جوکھوں (جوکھم) (خطرے) (Hazardous Task) مںت ڈالنے والے امنؓف کو مالک الملک احکم الحاکمن اسرع الحاسبین کی اعظم ترین امانت ﷺ سونپی گئی تھی انہںں ایک طرف یہ خطرہ لاحق تھا کہ کہںط کسی کوتاہی کا نتجہک دشمن کے حملے کی صورت نہ پہنچ جائے دوسری طرف خوف تھا کہ کسی کوتاہی کا انجام مواخذۂ خداوندی کی صورت مںا نہ ظاہر ہوجائے خطرے اور خوف کے درمانن آجانے والا کساا (Red Alrert) (انتہائی چست اور چاق و چوبند) رہا ہوگا، دناھ اییر آزمائشی صورتحال کی شاید ہی کوئی مثال پشک کرسکے۔ ایی( صورتحال سے شاید ہی کوئی سُورما (بہادر) کماحقہ عہدہ برا ہوسکے قربان جاؤں صدیق ترلی شجاعت کی صداقت پر، عشق کی اس انتہا پر مںف سو سو جانوں سے فِدا۔ بے خطر کود پڑا آتش نمرود مںی عشق عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی وفا ہے مروا مسلک، دوستی مراا عقدوہ ہے جہاں خنجر نہ پاؤ تم، وہ مر ی آستن ہوگی شریعت کا سبق ان عاشقوں کو مت پڑھا زاہد جُنوں والے خِرَدْ کے خاک بہکانے مں آئے ہںا قدرت کے حفاظتی غیان اقدامات جب دونوں حضرات غار کے اندر حفاظت کے مادی اسباب استعمال کرکے داخل ہوچکے تو قدرت کا غی ہ نظام حرکت مں۔ آیا ایک مکڑی حشرات الارض (کڑاوں مکوڑوں) سے تعلق رکھنے والا ایک کڑسا جو اپنے لعاب (منہ کے اندر کا لس دار تھوک) سے جالا (باریک تار) تنتا ہے) (Spider) نے آکر غار کے منہ پر ایک جالا بُن دیا (مکڑی کو عنکبوت اور مکڑی کے جالے کو مکڑی کا گھر اور تار عنکبوت بھی کہتے ہںا قرآن مجدم مںک اس نام سے مکمل ایک سورت ہے جس مںو مکڑی کے گھر کو سب سے کمزور گھر کہا گاک ہے۔ حضرت انس بن مالک سے منسوب روایت کے مطابق غار کے منہ پر ایک درخت بھی اُگ آیا اس پر کبوتروں (ایک حلال اور پالا جاسکنے والا پرندہ) نے گھونسلہ بناکر انڈے دے دیے (یہ خالصتاً قدرتی انتظام جسے مخلوق نہ سوچ سکتی تھی نہ ہی عمل مںک لاسکتی ہے۔ قدرت نے بھییہ انتظام پہلی اور آخری بار فرمایا تھا۔) انسانتے پرآنے والی ایک نازک گھڑی یہاں مکہ کے منصوبہ سازوں نے جب کھلی آنکھوں اپنے منصوبے کو ناکام ہوتے دیکھ لات تو بے بسی کے باوجود ان کے انتقام کا جذبہ غضبناک ہوگا اور انہوں نے جنون، پاگل پن اور دیوانی جذبات سے لس ہوکر آپ ﷺ اور صدیق اکبرؓ کی بپھرے ہوئے درندوں کے انداز مں تلاش شروع کردییہاں تک کہ وہ غار کے منہ پر پہنچ گئے یہ وہ نازک، ناموافق، ناسازگار، اندوہناک، غمناک، پریشان کن، اعصاب شکن، صبرآزما، دل آزار، دردانگزد، روح فرسا، خوفناک و خطرناک گھڑی تھی کہ انسانتا سانس لنا، ہی بھول گئی تھی اس کی آنکھںا پھٹی کی پھٹی رہ گئںگ وہ دم بخود چپ چاپ ساکت و صامت کھڑی کھڑی گویا عالم نزع (Agonies of Death) مں چلی گئی تھی جو مایوسی کا نقطۂ انجماد تھا کہ اب کاچ ہوگا؟ غار کے منہ پر کھڑے دشمنوں کو غار کے اندر بٹھےی ہوئے لوگ دیکھ رہے تھے اور اگر غار کے منہ پر کھڑے لوگ تھوڑا سا جھکنے کی زحمت کرلتےا تو اپنے مطلوبہ لوگوں کو پالتےا۔ مادی دنا کی اختا رکردہ ساری پشے بندیاں (دوراندیا دں) (Foresighted) کامامبی دلائے بغر اپنے آخری انجام کو پہنچتی دکھائی دے رہی تھں لکنے روحانی دنا کی امداد کردہ پشو بندیوں نے محاذ کا نقشہ ہی اُلٹ کر رکھ دیا۔ دشمنوں کی کمروں (Waist Loin) کو تختہ بنادینے کی قدرت رکھنے والے مدبر کائنات نے دشمنوں کی اس صلاحیت کو چھڑ(ے بغر ان کے ذہنوں کو سامنے کے دو محریالعقول معجزوں مںa الجھا دیا۔ وہ اس بحث مںد اُلجھ گئے اور پٹڑی سے اُتر گئے کہ کسی کے اندر جانے سے جالا باقی نہ رہتا۔ کبوتری اییخ آباد جگہ پر انڈے نہںہ دیا کرتی موقع بموقع انسانی صورت مںو ظاہر ہوکر پٹی پڑھانے (بہکانے) والا شطاہن بھی ان دلائل کو توڑنے کے لےھ حاضر نہ ہوسکا کوتنکہ اس کے پاس بھی اس پکے جوڑ کا کوئی کچا توڑ بھی نہںا تھا۔ یوں وہ نامراد بے نلع و مرام (مقصد حاصل کےی بغر ) (Unsuccessful) واپس لوٹ گئے اور دوبارہ اس مقام پر لوٹ کے بھی نہ آسکے۔ ایک ناقابل تردیدحققتا ایک کھلبلی (بے قراری) (Confusion) غار کے اندر کے دو مںن کے ایک صاحبؓ مںا مچی ہوئی تھی جو فطرت انسانی کے عنن مطابق تھی کہ مںد تو اپنی جان تو داؤ پر لگاکر ہی نکلا ہوں لکنی مرںے ہوتے ہوئے کہںھ نبیﷺ کو کوئی تکلفا نہ پہنچ جائے۔ (یاد کےاب وہ موقعہ جب شہادت کے موقعے پر ایک جم غفر (زبردست ہجوم) (Millingcrowd) کے سامنے حضرت زید بن دِثنہؓ سے پوچھا گاج کہ اے زید تجھ کو خدا کی قسم سچ کہنا کا تجھ کو یہ پسند ہے کہ محمد (ﷺ) کی گردن تر ے بدلے مںف ماردی جائے اور تجھ کو چھوڑ دیا جائے کہ اپنے اہل و عانل مں خوش و خرم رہے حضرت زیدؓ نے فرمایا کہ خدا کی قسم مجھے یہ بھی گوارا نہں کہ حضوراقدس ﷺ جہاں ہںl وہںے ان کے ایک کانٹا بھی چبھے اور ہم اپنے گھر آرام سے رہں ۔ ہاں! ہاں! یاد کرانے دیےیے مجھے سعد بن ربعؓ کا وہ پغاڑم مسلمانوں کے نام جو انہوں نے احد کے مدران مںب اپنی شہادت کے واقع ہونے سے ایک لمحہ پہلے دیا کہ ’’اگر کافر حضور ﷺ تک پہنچ گئے اور تم مںن سے کوئی ایک آنکھ بھی چمکتی رہییعنی وہ زندہ رہا تو اﷲتعالیٰ کے ہاں کوئی عذر بھی تمہارا نہںے چلے گا۔‘‘ یہ پغا م دیتے ہی جان جانِ آفریں (جان ڈالنے والے) کے حوالے کردی۔چلتے چلتے وہ خط بیا ذہن مںڑ تازہ کرتے چلیے جو سعد بن ابی وقاصؓ نے قادسہں کی لڑائی کے موقعے پر اپنے مدمقابل شاہ کسریٰیزد جرد کے نمائندے رستم پہلوان کو لکھا تھا جس کا ایک جملہ اس جماعت کے ذہنوں کی عکاسی کرتا ہے: ’’فَاِنَّ مَعِیَ قَوْمًا یُحِبُّوْنَ المَوْتَ کَمَا یُحِبُّوْنَ الَاَعَاحِمُ الْخَمْرَ‘‘ ’’بلاشبہ مرقے ساتھ ایی جماعت ہے جو موت کو ایسا ہی محبوب رکھتی ہے جسالکہ تم لوگ شراب پنےن کو محبوب رکھتے ہو۔‘‘ سد ناابوبکرؓ تو اس جان فشاں، جانثار، سربلند وسرفروش، جاں باز طائفے، جماعت اور حزب اﷲ کے سرخیل، سردار اور امرا تھے۔ ان سے یہ کسےا توقع کی جاسکتی ہے کہ انہںا اس موقعے پر نبیﷺ کے بجائے اپنی جان بچانے کی فکر تھی وہ کونسا موقع تھا جس مںب سد نا صدیق اکبرؓ نے اپنی جان بچائی ہو؟ ان کا تو جاذبتا بھرا جذبہ ہی ہمہ وقت آشکار (ظاہر اور نمایاں) (Visible) رہتا تھا کہ: ’’اَیُنْقُصُ الدِّیْنُ وَاَنَا حَیٌّ‘‘ ’’دین مںق نقصان واقع ہورہا ہو اور مںن (ابوبکر) زندہ رہوں۔‘‘ سد نا صدیق اکبر اپنی اس بے قراری کو جو نبیﷺ کی ذات اقدس کے بارے مںْ تھی، چھپا نہ سکے او راپنے محبوب ﷺ سے عرض کاع ان دشمنوں مںق سے کسی نے ایک قدم بھی آگے بڑھایا تو ہمںر دیکھ لے گا: {وَ اﷲُیَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ} (سورۂ مائدہ آیت 67) ’’اور آپ کو اﷲ لوگوں سے بچالے گا‘‘ کی سرمدی، ازلی، ابدی، دائمی، حتمی،ییھا ، غرںفانی خدائی سند رکھنے والی ذات نے مجسم اطمناین بن کر اپنے ساتھی کو اپنے ساتھ ملاتے ہوئے طمانت بھرا جواب عنایت فرمایا: ’’مَاظَنُّکَ بِاِثْنینِ اَ ﷲُ ثَالِثُھُمَا‘‘ (صحیح بخاری) (ان دو کے بارے مںک تمہارا کاب گمان ہے جن کا تسرما اﷲ ہے۔) لہٰذا غم نہ کر اﷲ ہمارے ساتھ ہے۔( قربان جائے ! صدیق اکبرؓ کو نبیﷺ کی ذات اقدس کی حفاظت کی فکر بے قرار و بے چنن کررہی ہے اور نبیﷺ کو اپنے ساتھ ساتھ صدیق اکبرؓ کے بارے مںص بھی معتس خداوندی کا مکمل اطمنافن ہے۔ ذرا تصور مںے تو لائےی کتنا وجدآفریں، مسرت آمز ، روح افزا، پرکشش، جاذبتا بھرا، مسحور کن ہے یہ منظر کہ اس نازک موقع پر معتظ نبوی کے اس اختادری فصلے نے چشم زدن (فوراً) (In An Instant) مںم معتْ خداوندیہ کے مرتبے پہ لاکھڑا کردیا پھر یہ معتپ خداوندیہ بھی ابدی بن گئی اس لےک کہ معت نبوی عالم دنام مںظ بھی قائم رہی، عالم برزخ مںب بھی قائم ہے، عالم قا مت مںد بھی ساتھ رہے گی اور مستقل طور پر عالم آخرت مںن بھی برقرار رہے گی اے کاش! آنکھ کے اندھوں، عقل کے کوڑھیوں، دل کے ناہنجاروں (نالائقوں گھٹیا) (Mean) (اپنے) مقصد کے نافرجاموں (بدانجاموں) (That has an evil end) کو موت سے پہلے یہ حققتا آشکار ہوجائے (نظر آجائے)۔ خوش قسمتی کی انتہا اﷲ! اﷲ! کاا قسمت پائی ہے صدیق اکبرؓ نے کہ اس واقعے کے تناظر مں صحابی رسول اور معتس خداوندیہ کا قرآنی پروانہ حاصل ہوا جسے جبرئل امنو علہا السلام نے لسانِ الہٰی سے سنا، محفوظ کات، مخبرصادق ﷺ کو من و عن سنایا، نبیﷺ نے اپنے سینے مںا اُتارا اس کو ذہنوں مںم راسخ فرمایا، تلاوت قرآن کے عنوان سے امت دہرا رہی ہے،چار دانگ عالم مںر گونج رہا ہے، لوح محفوظ کے قریب فرشتے پڑھ رہے ہںن، مکاتب قرآنہل مںن استاد سکھا رہے ہںے، شاگرد سکھڑ رہے ہیںیہ سلسلہ یوں ہی ابدالآباد چلتا رہے گا جس کی معراج یہ ہوگی کہ لسان الہٰی سے جنتی۲۵؎ باربار سنتے رہںے گے آئےگ ہم بھی پڑھ لں پڑھتے رہں ، پڑھتے پڑھاتے چلے جائںآ: {ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖ لااَا تَحْزَنْ اِنَّ اﷲَ مَعَنَا}(سورۂ توبہ آیت 40) ’’(اس وقت) دو ہی شخص تھے جن مںا (ایک ابوبکرؓ تھے) دوسرے خود رسول اﷲﷺ) جب وہ دونوں غار (ثور) مںت تھے اس وقت پغمبر اپنے صحابی (ابوبکرؓ) کو تسلی دیتے تھے کہ غم نہ کر بلاشبہ اﷲ(تعالیٰ) ہمارے ساتھ ہے۔‘‘ ہجرت روڈ کے دوپاکبازوبابرکت مہاجر توکل علی اﷲ مکہ مکرمہ سے نکلتے ہوئے بظاہر کسمپرسی بباطن مکمل اطمنا ن کے ساتھ غارثور تک پہنچنے والے ان دو مہاجروں (جو لغوی معنٰی) مںا تو مہاجر تھے ہی حقیہر معنیٰ مںے بھی مہاجر تھے اس لےن کہ عندالشریعۃ الاسلامہس مہاجر وہ ہے جو اﷲتعالیٰ کی منع کردہ چزنوں(عقائد و اعمال) سے ازخود منہ موڑ کر تاحا ت بالکلہے احتراز و اجتناب رکھے اور پائے استقامت مںے جنبش (لڑکھڑاہٹ) نہ آنے دے، آجائے تو فوراً متنبہ ہوجائے، تنبہ ہوتے ہی توبہ کرلے اور پھر راہ استقامت پر چلنا شروع کردے یہاں تک کہ موت کا فرشتہ آپکڑے) نے غار ثور مںا تنت(3) روزہ قاھم کے بعد (گویا کہ روپوش (چھپ جانا) (Absconding) ہونے کی سنت نبوی تنو(3) دن تک محدود ہے۔ بانیٔ دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے انگریزوں کے خلاف جہاد مںٹ تن (3) دن کے بعد اسی سنت پر عمل کے پشم نظر اپنی روپوشی ختم فرمادی تھی۔) ہجرت کی دشوار گزار، کٹھن، اجنبی سڑک پر مدینہ منورہ کی طرف اپنے سفر کا آغاز فرمایا۔ (یہ ہجرت کا سفر نہ ملک کے لےف تھا، نہ مال کے لے ، نہ اقتدار کے لےآ، نہ غصب کے لے یہ تو محض خوشنودیٔ الہٰی کے حصول کی خاطر حکم الہٰی پورا کرنے کے لےد تھا۔ اس حکم کے مدمقابل مکمل اطاعت تھییہ اطاعت بھی بغرآ چوں چرا، بحث و تکرار، حل و حجت، اگر مگر کے تھی اس اطاعت مں مکمل تفویض (سپردگی، حوالگی) (Delegation of Rights) تھی۔ آج بھی ہجرت کا یہ سفر ہر اس مسلمان فرد و جماعت پر فرض ہے جن کے لےو اپنے آبائی وطن، پدلائش کے دیس، سکونت کیجگہ پر اسلام پر عمل کی آزادی مسرس و ممکن نہ رہے۔) ادھر دشمنانِ اﷲ و رسول کو ان کی دو مرتبہ کی اوپر تلے ناکامومں (پہلی مرتبہ بستر پر نہ پانے اور دوسری مرتبہ غارثور مں نہ دیکھنے) نے جھنجھلاہٹ، پچی و تاب اور غصے ( Irritation) مںل مبتلا کردیا تھا انہوں نے اپیر جھنپع (شرمندگی) مٹانے کے لےےیہ اعلان کردیا کہ جو شخص رسول اﷲ ا کو گرفتار کرکے لائے گا اس کو سو اونٹنانں۲۷؎ انعام مںا دی جائںی گی۔ سراقہ ابن مالک بن جعشم کو انعام کے لالچ سے برانگیتگرم ملی (جوش پد ا ہوا) (Excite) کہ وہ یہ کارنامہ انجام دے لہٰذا اس نے گھوڑے پر سوار ہوکر تعاقب (پچھا ) کای قریب بھی پہنچ گاا لیکنیہاں بھی قدرت کا حفاظتی نظام اس کے آڑے آیا کہ اس کا گھوڑا باربار ٹھوکر کھاتا رہا بالآخر اس کے اگلے دونوں پاؤں زمنت مںر دھنس گئے جس کی وجہ سے سراقہ زمنا پر آرہا اور اس کی ہمت و حوصلہ (Spirit) کو ماند (بجھا دینے والا) کردینے والی بات اس کے ذہن مں بٹھا دی گئی کہ محمد (ﷺ) اﷲتعالیٰ کی حمایت (سائے) مںر ہں ہر صورت وہی غالب رہں گے۔ لہٰذا اس نے عافتہ اسی مں سمجھی کہ انعام کے لالچ کو پس پشت ڈالتے ہوئے (بھلاتے ہوئے) اپنی شکست تسلمہ کرلی جائے اس نے زور سے پکارتے ہوئے کہا کہ مںا سراقہ بن جعشم ہوں مجھ سے بے فکر ہوجائںھ۔ مختصر مکالمے کے بعد سراقہ وہںن سے واپس ہوگاک۔ اس موقعے پر سراقہ نے آپ ﷺ کو زادراہ (راستے کا خرچ) (Provisions of Journy) اور دیگر ضروری سامان کی پیشکش کی جسے نبیﷺ نے قبول نہںا فرمایا صرف اتنا فرمایا ہماری اطلاع کسی کو نہ دینا۔(بخاری شریف) عقل کے برخلاف ایک حر ت انگز پنچیا گوئی یہاں پہنچ کر تاریخ کے طالب علم کے قدم جم جاتے ہںپ سربہ گریباں، حرااں و پریشاں، انگشت بدنداں (Aghast, Agape) ہوکر دیکھتا ہے کہ حالت یہ ہے مکہ مکرمہ سے نکالے جارہے ہں ، ہجرت پر مجبور ہںی، دشمن قتل پر تلے بٹھے ہںم، دشمنوں کی طرف سے دشمنی پر اکسایا جارہا ہے، انعام کا لالچ دے کر تعاقب پر ابھارا جارہا ہے، تعاقب جاری ہے، چوطرفہ کمزوریوں، بے بسیوں مںم گھرے نظر آرہے ہں اور شان یہ ہے کہ پورے اطنا ن کے ساتھ، پراعتماد لہجے مں اسلام کے غلبے کی پُرین ب خوشخبری دیتے ہوئے ارشاد فرمایا جارہا ہے ’’سراقہ!اس وقت تمہارا کای حال ہوگا جب کسریٰ (سلطنت ایران کا بادشاہ جس کی طاقت اور دبدبہ اس وقت مانا ہوا تھا اور عرب مرعوب و مغلوب تھے کسریٰ بادشاہوں کا لقب ہے جو ہر ایرانی بادشاہ کے لے( بولا جاتا تھا۔) کے کنگن (کلائی کا ایک زیور) (Thick Bracelet) تم اپنے ہاتھ مں پہنوگے؟‘‘ (حرلانی نہںا جاتی فتح سے مفقود (غائب، ناپد ) اس گھٹاٹوپ سخت اندھیرے مںi چمکتی روشنی نہ صرف دییھو بلکہ دکھائی جارہی ہے اپنوں کو نہںب فی الوقت دشمنوں، مخالفوں کو بصورت پنٹاٹ گوئی بتلائی جارہی ہے کہ آپ ﷺ کے غلام اپنے پر وں سے کسریٰ کا تاج اور قصرھ (روم کے بادشاہ کا لقب ہے جس کی سلطنت بھی ایرانی سلطنت کی طرح اس وقت بالاتفاق سپرپاور تسلمر کی جاتی تھی)کا تخت روندیں گے، اس زمن کے نہںد اس زمنص کے تمام خزانوں کے مالک ہوں گے اس پراعتماد، ییکت ، حقی ت، حتمی پن ت گوئی کی بنا د قصر وکسریٰ کو قوت بخشنے والی طاقت کا یہ وعدہ تھا: {ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ……وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ} (سورۂ توبہ آیت33) ’’وہی تو ہے جس نے اپنے پغمبرح کو ہدایت اور دین حق دے کر بھجاھ تاکہ اس (دین) کو (دنا کے) تمام دینوں پر غالب کرے اگرچہ کافر ناخوش ہی ہوں۔‘‘ بلاشبہیہ وعدہ مکمل اور غلبہ و عروج کے معنیٰ مںُ کار تھا۔ کفارمکہ، کوتاہ بںھ، عاقبت نااندیش، کم نظر، کورچشم، ناخلف، نالائق،نافرمان، نامعقول، کم عقل، بے عقل، بدانجام لوگوں کو لسان نبوت سے نکلی ہوئییہ بات انہونی اور یہ امرمحال (ناممکن) (Impossible) دکھائی دیا لکنل نگاہ نبوت اییم حالت مں بھی اس دور کی بات کو بھی اپنی آنکھوں کے سامنے نہایت نزدیک و قریب دیکھ رہی تھی اس لےک کہ صادق الوعد کا وعدہ تھا اور: {اِنَّ اﷲَ لااَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ}(سورۂ آل عمران آیت9) ’’یناً اﷲ(تعالیٰ) وعدہ خلافی نہں کرتا۔‘‘ اصحاب ایمان کو تو یہیقین تھا کہ یہ پنرہ گوئی حرف بہ حرف پوری ہوکر رہے گی چاہے دنا ختم کےس جانے سے پہلے ہی کوےں نہ ہو اس لےِ کہ وقت کا تعنو اس پنٰلو گوئی مں نہںا کاا گا تھا لکنر اﷲتعالیٰ پنم گوئی کے نمودار ہونے کو اتنا طول نہں دیں گے اس لےِ کہ معاملہ سراقہ سے متعلق بھی ہے لہٰذا تکملَ سراقہ کی زندگی ہی مں ہوگی، متزلزل ایمان والوں کے لےایہ پنی گوئی امتحان تھی چنانچہ وہ منتظر رہے وقت کے بدنصبوقں کے لےتیہ اتمام حجت تھی۔ یہ تینوں طبقات آج بھی پائے جاتے ہںم جن کی باقاات تاقاہمت ملتی رہںم گی۔ یہ پنگو ئی حرف بحرف ثابت ہوئی حب سدونا عمر بن الخطابؓ کے سامنے ان کے دورخلافت مں کسریٰ کے کنگن، پٹکا (صافہ یا کمربند (کمر سے باندھنے کا دوپٹہ) (Turban Orgirdle) اور تاج حاضر کا گاہ تو انہوں نے سراقہ کو بلایا اور پہنایا (الاستعابب ج ۲ ص ۵۹۷) اور بآوازبلند دو ٹوک واضح الفاظ مںا تاریخ نے مہرتصدیق ثبت کردی (لکھ دیا) {صدق رسول اﷲ صلی اﷲ علہس وسلم} ام معبد کی گواہی سراقہ سے نبٹنے، نمٹنے، نپٹنے (Settle) کے بعد سفر جاری رہا راستے مں) ام معبدالخزاعہ نامی ایک تنگ دست، مفلوک الحال، محتاج، نادار، غربت بھری عورت کے پاس سے گزر ہوا جس کے پاس اپنی بکری کی خوراک کے لےم بھی چارے کی کمی تھی جس کی وجہ سے بکری کے تھن (پستان) (Teat) تک خشک ہوچکے تھے ۔ ام معبد کے آشامنے پر (جہاں تنگ دستی کے اثرات ہمشہہ نمایاں رہتے تھے) نبیﷺ اپنے ساتھوتں سمت، تشریف لے گئے۔ آپ ﷺ کا وہاں تشریف لے جانا ہی کافی تھا۔ خستہ حالی کے بادل چھٹنے لگے، خوش حال، مسرت آمز ، فرحت بخش، روح پرور، دلآویز، دلربا، دل شاد، دل کش، دل نشیں آثار نمایاں ہونے لگے۔ جو آپ ﷺ کے تشریف لے جانے کے بعد ابومعبد نے بھی محسوس کےر جو اس وقت اپنے گھر پر موجود نہں تھے۔ آپ ﷺ نے ام معبد کی اجازت سے اﷲ کا نام لے کر دعا مانگ کر بکری کے خشک ہوجانے والے تھنوں پر ہاتھ پھرےے ناممکن کو ممکن بنا دینے کی ہرہر جگہ ہرہر وقت قدرت رکھنے والی ذات نے بڑی تزای کے ساتھ راحت بخشنے والا، مفد و طاقتور دودھ جاری فرما دیا۔ محسن و مخدوم کائنات نے خود نوش جان فرمانے (پنےن) کے بجائے پنے کے لےت پہلے ام معبد کو پھر اپنے ساتھووں کو عنایت فرمایا جب سب خوب سر اب ہوکر تروتازہ ہوگئے تو آپ ﷺنے سب سے اخرن مںح نوش فرمایا (اس مںھ جان نثاروں کی ایک لطفا تربتب ہے کہ قوم کا سردار قوم کا خادم ہوا کرتا ہے ہمںن فخر ہے کہ ہمارا سردار دناب کے تمام سرداروں سے منفرد، یکتا، اچھوتا، یگانہ،اکیلا، واحد، بے مثل، بے مثال، بے نظرج، لاثانی، بے بدل ہے وہ تو اپنے پٹن پر پتھر باندھتے ہوئے خادموں کے سروں پر تسلی کا ہاتھ رکھتا ہے وہ دوسرے کی بے آرامی پر اپنا آرام نہںآ تراشتا، نہ ہی تلاشتا ہے) دوبارہ تھنوں پر ہاتھ پھر ا بکری نے اپنے اندر کی نفع بخش مایہ (دودھ) دوبارہ انڈیل دی جس سے برتن لبالب بھر گاں۔ ابومعبد جب گھر لوٹے ان بدلے ہوئے حالات کی وجہ جاننا چاہی ام معبد نے گواہی دیتے ہوئے کہا کہ خدا کی قسم! ہوا یہ کہ ایک مبارک شخص ہمارے پاس یہاں سے گزرتے ہوئے ٹھہرے تھے یہ سب حرمان کن کارنامے ان ہی کے ہاتھوں ظہور پذیر ہوئے۔ ابومعبد نے اس مبارک شخص کی بہترین الفاظ مںت تعریف سنتے ہی اپنی اہلہو ام معبد سے کہا خدا کی قسم! مجھے یہ قریش کے وہی شخص معلوم ہوتے ہںب جن کی قریش کو تلاش ہے۔(زادالمعاد ج ۲ ص۳۰۹) آپ کا یہ سفر ہجرت جاری رہا یہاں تک کہ مدینہ منورہ کی مضافاتی بستی قبا تک پہنچ گئے یہ واقعہ 12ربعخ الاوّل دو شنبہ(شنبہ فارسی زبان کا لفظ ہے، ہفتے کے سات دنوں مں سنچرر (Saturday) کے دن کو کہتے ہں)۔ یکشنبہ اتوار (Sunday) کو، دوشنبہ پر2 (Monday) کو، سہ شنبہ منگل (Tuesday) کو، چہارشنبہ بدھ (Wednesday) کو، پنج شنبہ جمعرات (Thursday) کو اور جمعرات کے بعد آنے والے دن کو فارسی، عربی اور اردو مںر جمعہ (Friday) کہا جاتا ہے۔) (پر کا دن) (Monday) اور اسی سے اسلامی تقویم اور اسلامی تاریخ کا آغاز ہوتا ہے یہ دن مدینہ منورہ کی فتح کا دن ہے اور اس عظمد فتح کو بغرا کسی جنگی حکمت عملی، بغرا کسی دھونس، بغرل کسی دھاندلی، بغر کسی فورس، بغرہ کسی جنگی اسلحے اور بغرر کسی مطالبے کے حاصل کاے گام۔ اور یہ فتح ایسے لوگوں کے ہاتھوں ہوئی جو ابھی مغلوب و بے بس اور کمزور تھے نہ مکہ مکرمہ مںی تلوار چلانے کی اجازت رکھتے تھے نہ ہی مدینہ منورہ مں انہںں اییا کسی منصوبہ سازی کی اجازت دی گئی تھی نہ ہی ان فاتحنم نے اپنے مفتوحنا کے ساتھ ایسا کوئی نامناسب رویہ اختایر کام۔ ہجرت کے واقعے سے حاصل شدہ نکات ہر سال محرم الحرام کے آغاز پر نئے ہجری سال کی تبدیی روبہ عمل آتے ہوئے ہماری توجہ درج ذیل نکات کی طرف مبذول کراتی ہے: ۱…موت کے نقشوں مںح زندگی بخشنے والی ذات صرف اور صرف اﷲتعالیٰ ہی کی ہے۔ ۲… ہر صاحب ایمان کی اس کی ایمانی استطاعت کے مطابق آزمائش ہوتی ہے۔ ۳… اﷲتعالیٰ آزمائش کرتے ضرور ہںو لکنی ثابت قدم رہنے والے کو ضائع نہںج ہونے دیتے۔ ۴… صاحب ایمان آزمائش مںت بھی اﷲتعالیٰ ہی کی طرف رجوع رکھتا ہے اس مںہ کمی نہںو آنے دیتا بلکہ اس مںی اضافے کی ہر ممکنہ صورت اختاور کرتا ہے (صلوٰۃ التوبۃ، صلوٰۃ الحاجت، توبہ و استغفار، درودشریف کی کثرت، تلاوت قرآن کا اہتمام، الحاح وزاری (گڑگڑانا، رونا، منتیںکرنا) (Beseeching and Crying) دعا کا التزام وغرلہ وغر ہ)۔ ۵… ثابت قدم رہنے والے کے لےن ہر تنگی مںن سے غیلح طور پر امداد کے ذریعے راستہ نکال کردیا جاتا ہے۔ ۶… تنگی، پریشانی صاحب ایمان کے لےے طویل ہوسکتی ہے، دائمی نہںک ہوتی۔ ۷… تنگی اور پریشانی مںح بظاہر دکھی نظر آنے والا صاحب ایمان دلی طور پر باعتبارِانجام مطمئن ہوتا ہے۔ ۸… تکالفق (آزمائش) تبلغم کے مد ان کے لازمی اجزاء، صبر مبلغ کا لازمی شو ہ (طور،طریق) ہوتا ہے۔ ۹… صاحب ایمان و مبلغ تکلفe پہنچانے والی مخلوق کے لےل بھی ہمدردی کے جذبات کا اظہار کرتا ہے۔ ۱۰… آزمائشوں کا دور ختم ہوجانے کے بعد بھی بارگاہِ الہٰی مںن ہی سدا رجوع رکھتا ہے وغرمہ وغرتہ۔ (۳) محرم الحرام ہجری سال کا پہلا مہنہ محرم الحرام کے نام سے مشہور و معروف ہے جو ہجرت سے پہلے نہںا بلکہ اعلان نبوت سے بھی پہلے اسی نام سے باربار آتا رہا تھا۔ محرم الحرام کا مہنہ ایام جہالت مںہ بھی قابل احترام رہا ہے یہ ان منوسیں مںب سے ہے جس مںا اسلام کی آمد سے قبل کفار بھی قتل و قتال سے ہاتھ روک لتےر تھے۔ عاشورۂ محرم محرم الحرام کی دس تاریخ کو عاشورہ کہا جاتا ہے۔ اسلام سے پہلے کے مذاہب مںب بھی اس دن کو تقدیس حاصل رہی ہے اور اسلام نے بھی اس کی تقدیس برقرار رکھی ہے، نبیﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ اﷲتعالیٰ نے (پہلے بھی) بہت سی قوموں پر اس دن مںر رحمت کی توجہ فرمائی اور آئندہ بھی اس دن مں بہت سے لوگوں پر رحمت فرمائںت گے۔ طوفان نوح کے دوران حضرت نوح علہ السلام اپنے متبعنس کے ساتھ کشتی مں سوار تھے چنانچہ دس محرم کے دن نوح علہگ السلام کی کشتی جودی نامی پہاڑ پر جاکر ٹھہری اور کشتی کے سواروں کو طوفان سے نجات ملی۔ فرعون لعنف اور اس کی فوجی طاقت نے قوم بنی اسرائلن پر بے پناہ مظالم (ظلم و ستم) ڈھا رکھے تھے۔ ان ظالموں کو جس دن بحر ۂ قلزم مںو غرق کردیا گان وہ عاشورہ محرم کا دن تھا۔ اہلِ کتاب کی مخالفت مطلوب ہے اہلِ کتاب خصوصاً یہودی عاشورے کے دن کے احترام مں حضرت موسیٰ علہ السلام کی تقلد کرتے ہوئے عاشورے کے دن کا روزہ رکھا کرتے تھے اس پر مدینہ منورہ مںر بسنے والے یہودی بھی عمل کا کرتے تھے، نبیﷺ نے شریعت محمدیہ کو ان سے ممتاز کرنے کے لےک فرمایا کہ اﷲتعالیٰ نے آئندہ سال زندگی عنایت فرمائی تو مںق نویں تاریخ کا بھی روزہ ضروربالضرور رکھوں گا۔(مسلم) لہٰذا مفتا نِ کرام کا امت کو شرییتن پغاکمہہ ہے کہ محرم کے مہنےل مںت نو(9) اور دس(10) یا دس اور گابرہ(11) یینC دو روزے رکھے جس مںت ایک دس تاریخ کا بھی ہو۔ واضح رہے کہ رمضان المبارک کے روزوں کے فرض ہونے سے پہلے عاشورے کے دن کا روزہ فرض تھا۔ رمضان المبارک کے روزوں کے فرض ہونے کے بعد عاشورے کے دن کا روزہ فرض نہں رہا مسنون و مستحب بنادیا گاو ہے۔ بعض روایات کے مطابق اگر کوئی شخص عاشورے کے دن اپنے اہل و عاال کے رزق مں فراخی اور وسعت لائے (یینے روزمرہ کے پکوانوں کے مقابلے مںی عاشورے کے دن کے پکوان مںں اپنی استطاعت کے مطابق بہتری ہو) تو اس کی برکت سے ان شاء اﷲ اپنے رزق مںم آئندہ پورے سال برکت پائے گا۔ (اﷲتعالیٰ کی اپنے بندوں پر رحمت و شفقت، عطا و بخشش اور نوازنے کے قابل فخر، لائق شکر مظاہر مںع سے ایک مظہر ہے۔فالحمدﷲ رب العالمنت) مستند احادیث کے مطابق قابمت کا وقوع بھی عاشورے کے دن ہوگا لکنب اس روز جمعۃ المبارک کا دن ہوگا نزر اس کے حتمی تعنک کا علم صرف اور صرف اﷲتعالیٰ ہی کے پاس ہے۔ یوم عاشورہ کے فضائل نبیﷺ کا فرمان عالشاٰن ہے کہ عاشورے کے دن کا روزہ (جوکہ نفلی روزہ ہے اگر کوئی رکھے) تو مجھے (اﷲتعالیٰ کی ذات سے) اُمدو ہے کہ (اس روزے کے رکھنے والے کے) پچھلے پورے سال کے گناہوں کو بخش دیں گے۔(مسلم و مشکوٰۃ) (گناہوں سے چھوٹے چھوٹے گناہ مراد ہںک بڑے گناہ تو توبہ سے معاف ہوتے ہںا۔) (۴) شہدوکربلا سد نا حسنہ ابن علیؓ کربلا (عراق مںٹ ایک جگہ کا نام) کے مدبان مںل حضرت حسنؓس کو عاشورے کے دن شہدو کردیا گاز۔ آپؓ نبیﷺ کے لاڈلے نواسے، سد تنا حضرت فاطمۃ الزھراؓ و سدکنا حضرت علیؓ ابن طالب کے چہتےح بٹےٰ، کم سنی کے باوجود مورخنک کی واضح تصریحات کے مطابق صحابیٔ رسول کا بلندوبالا رتبہ پانے والے، کم سنی ہی مںن احادیث رسول کو من و عن محفوظ رکھتے ہوئے راویان حدیث کی فہرست مںا نظر آنے والے، سخاوت، فارضی کے مد انوں مںو صف اوّل کے راہی، شجاعت، بہادری، دلربی کے محاذوں کے اولوالعزم سپاہی، حق پر جمے رہتے ہوئے حق کی خاطر جان کا نذرانہ پشل کرتے ہوئے شہادت کے رتبے پر فائز ہوجانے والے شہدے، دناو مںں ہی لسان نبوت سے جنت مںے دناپ سے جوانی کی عمر مں جنت مں پہنچائے جانے والے جوانوں کے سردار کا رتبہ حاصل کرلنے والے اور اسلام کے مایہ ناز سپوت ہںہ۔ آپؓ کا ایک لقب شبرں بھی ہے آپؓ نے پچسں(25) مرتبہ حج کا سفر پدال فرمایا۔ شہادت حسنؓے اور زمینی حقائق زمینی حقیقتیہ ہے کہ اسلام مںط خلافت کی بناجد وراثت پر نہںس ہے اگر وراثت پر ہوتی تو نبیﷺ دناا سے پردہ فرماجانے کے وقت واضح طور پر اپنے خاندان کے کسی فرد کو سونپ جاتے (مگر ایسا نہںی ہوا) سدئنا ابوبکر صدیقؓ کو قوم نے خلفہر بنایا، سد نا ابوبکر صدیقؓ دناک سے جاتے ہوئے اپنے بٹواں مںو سے کسی کو خلفہر مقرر فرما کر نہں گئے، سدجنا عمرؓ بن الخطاب کو مقرر ضرور فرمایا لکن ان کا آپس مںق خاندانی کوئی تعلق نہں تھا اور موجود انسانوں مں سب سے بلند اور ارفع حتوب کے مالک تھے، سدلنا عمر بن الخطاب نے دناآ سے روانگی کے وقت عبداﷲؓ ابن عمرؓ جسے متبع سنت، عالم، قابل، متقی فرزند کی موجودگی کے باوجود ان کی خلافت کا فصلہ نہں فرمایا بلکہ ایک کمیعب جس مںم عشرہ مبشرہ کے چھ(6) افراد شامل تھے اس مقصد کے حصول کے لےد بنا دی اس مںت سدصنا حضرت علیؓ بھی شامل تھے، سدینا عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ عنہما کو صرف اجلاس مں شرکت کی اجازت تھی رائے دینے کا کوئی حق نہںو تھا (سبحان اﷲ اگر زبردستی خود اپنے لےک خلافت پر قبضہ جمالاش تھا تو اپنے بٹےا کو نامزد کردینے مںئ کا رکاوٹ تھی) سدرنا عثمانؓ ابن عفان کے حق مںؓ حالات بنتے گئے اور ان سے خلافت پر بعتب کرلی گئی (بلوائوشں نے حضرت عثمانؓ سے خلافت سے دستبردار ہونے کا پرزور مطالبہ کام لکنن قربان جائےب مذاکرات مںب مصالحتی طور پر اپنے بٹےتیا خاندان کے کسی فرد کے خلفہپ بنائے جانے کی شرط نہںر رکھی۔) (سدرنا ابوبکرؓ سے سد نا عثمانؓ تک کے تینوں خلفائے راشدین سے بعت کے موقعے پر احقاق حق کی خاطر جان دینے والے سدھنا حسنؓس اپنی تمام تر توانائوؓں سمتک بقدر حاکت تھے۔ اس وقت ان کی طرف سے کسی قسم کی شورش، فتنہ، فساد، بلوہ، ہنگامہ، جھگڑا، شرارت، مخالفت، ایذارسانی، بغاوت، بغض، حسد، کنہع، دشمنی، شوروغل، تنازعہ، بکھڑحا، کٹ حجتی، تعصب، رنجش، عداوت، مخاصمت، پچ، ہٹ کا ظاہر نہ ہونا اس بات کی دللب ہے کہ یہ تینوں خلافتں، حق اور صححت تھںک ورنہ شہادت حسنؓ، کا واقعہ اس سے پہلے ہی وقوع پذیر ہوچکا ہوتا۔) سد نا حضرت علیؓ کی خلافت بھی قوم کی طرف سے تھی، کسی خاندانی وراثت کا نتجہق نہںد تھی ورنہ اس موقعے پر بھی سدونا عباسؓ بقدب حا ت تھے۔ حضرت علیؓ نے بھی شہادت کے موقعے پر وراثت کی طرح خلافت کو تقسمس کرنے کی وصتث نہںع فرمائی۔ حضرت علیؓ کے بعد سدتنا حضرت حسنؓ کا انتخاب عوامی تھا۔ حضرت علیؓ نے نامزدگی نہںس فرمائی تھی۔ سدتنا حضرت حسنؓ کی سد نا امربمعاویہؓ کے حق مںد دستبرداری معاہداتی تھی وراثتی نہںن تھی۔ یزید ابن معاویہ اس بنااد پر ازخود خلافت کی مسند پر آبٹھا کہ مررے والد خلفہ تھے تو ان کے بعد خلافت مر ا حق ہے۔ یہ موروثیت کا یک شکل ہے جو شریعت کے مزاج کے منافی ہے (بعض روایات تاریخ کی کتابوں مںق ایی درج ہںح کہ خود امر معاویہؓ نے اپنے بٹےمیزید کو نامزد فرمایا تھا یہ بات قرآن کی بناود کردہ شانِ صحابہ کے حوالے سے محل نظر ہے۔ صحابہ کرام کے بارے مںب کوئی تاریی روایت ہو، اسے قرآن کی کسوٹی پر جانچںی پوری نہ اُترے تو پائے حقارت سے ٹھکرا دیں اس لےس کہ اس کے ٹھکرانے سے کچھ نہںا بگڑے گا البتہ نعوذباﷲ قرآن کو ٹھکرانے سے ایمانی عمارت مکمل طور پر دھڑام سے گِر پڑے گی۔ یزید نے تخت خلافت پر بیٹھ کر بعت چاہی سد نا حسنؓڑ نے اس کی بعت قبول نہ فرمائی پشح آنے والے حالات نے آپ کو مدؓان کربلا میںپہنچا دیا۔ یزیدی حکومت کے عمال سے مذاکرات کسی سرے نہ لگ سکے، نتجتاً سد نا حسنل ابن علیؓ نہایت مظلومت کے ماحول مںی حق کے بقا کی خاطر شہادت کی سعادت سے سرفراز ہوئے زندہ و جاوید اور امر ہوگئے۔ یناً ہر سال دس(10) محرم الحرام کے دن اس واقعے کییاد تازہ ہوجایا کرتی ہے لکنن اس واقعے کی آڑ مںت بنام احتجاج ہی سہی اپنے آپ کو اور دوسروں کو اذیت پہنچانے کے جوجو سامان کےح جاتے ہںم آیا اس کا جواز شریعت سے ڈھونڈا جاسکتا ہے؟ جب ہم اپنے آپ کو اس حوالے سے مطمئن نہںچ کرسکتے تو احکم الحاکمنت کی عدالت عالہس مںن کام نتجہ برآمد ہوگا غور کرتے رہےد مگر ٹھنڈے دل سے، موت تک مہلت ہے، موت سے پہلے تسلی و اطمناان بخش جواب پالےر ج تاکہ عادل کی عدالت مں سبکی نہ ہو۔ ماجاء نا من نذیر کہنے کا تو کوئی موقعہ سمجھانے والوں نے دلائل کے انبار لگاتے ہوئے نہںا چھوڑا۔ عمر بھی اتنی دی گئی ہے کہ متنبہ ہونے والا متنبہ ہوسکے۔ وماعلینا الاالبلاغ {متن مںل پائے جانوےالے حوالہ جات کی تفصیلات} (۱)اﷲ رب العزت: وہ مقدس و بزرگوار ہستی جس کا وجود جمال و کمال کی تمام صفات کے ساتھ خودبخود لازمی اور ضروری ہو۔ خودبخود ہمشہا سے ہو خودبخود بغرا کسی سہارے کے ہمشہا ہمیشہیکساں طور پر موجود رہے جو نہ خود کسی کے جسم سے نکلا ہو اور اور نہ ہی اس کے جسم سے کسی کی تخلقی ہوئی ہو {لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْ} وہ آسمان و زمنم سمتس تمام اشاوء کا اکیلا خالق ہو اور ان کا نگہبان و پاسباں ہو {اَﷲُ خَالِقُ کُلِّ شَیْئٍ وَّ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ وَّکِیْلٌ} دناد کی ہرہر شے اس کی دسترس اور دست قدرت مںس ہو {وَاﷲُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ} وہ اپنی تمام مخلوقات سے ہر وقت بے ناٰز و بے پروا ہو {اَﷲُ الصَّمَدُ} اس کی ذات و صفات مںر کوئی دوسرا اس کے ساتھ شریک نہ ہو ( نہ اس کی اپنی مرضی سے نہ زور و زبردستی سے نہ محبت و پاّر و نایزمندی سے) {ہُوَاﷲُ اَحَدٌ} اس جساا کوئی دوسرا ہو ہی نہ سکے {لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْئٌ} وہ تو آنکھوں کو پکڑلے لکن کوئی آنکھ (اس دنا مں اس کا ادراک نہ کرسکے {لااَا تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُ وَہُوَ یُدْرِکُ الْاَبْصَارَ} اس کے ارادے کا نام ہی وجود ہو اور اس کے امر کن سے آناً فاناً (ایکا اییے، جھٹ پٹ، فوراً سے پشترس) (Immediately) نستی سے ہست (عدم سے وجود) اور ہست سے نستا (وجود سے عدم) کی طرف اشاہء لوٹ جائںر{اِذَآ اَرَادَ شَیْئًا اَنْ یَّقُوْلَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ} وہ بلاشرکت غرجے اکیلا تن تنہا ن

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
511