(+92) 321 2533925
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/01/27
موضوعات
حج وعمرہ اور زیارات مکہ و مدینہ
نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ حج وعمرہ اور زیارات مکہ و مدینہ حج کی تعریف اسلام کے بناردی ارکان مںی سے ایک اہم ترین رکن حج کے نام سے جانا جاتا ہے۔ لغت عرب مںے حج کسی عظمن الشان چزں کی طرف قصد (نت عزم اور پشہ قدمی) کرنے کو کہتے ہں ۔ (اس سے واضح ہوتا ہے کہ ہر قصد حج نہںم کہلا سکتا۔) شریعت کی اصطلاح مں حج مخصوص زمانے (آٹھ ذی الحجہ سے 13ذی الحجہ) مں مخصوص افعال (احرام، وقوف عرفہ، طواف بتخ اﷲ) کے ساتھ مخصوص مکان (بتم اﷲ، مزدلفہ، مِنٰی، عرفات کا مدسان) مںج ٹھہرنے کو کہتے ہں ۔ فرضتﷲ حج حج پر باعتبار فرضتو کے ایمان رکھنے کے حوالے سے ہر مسلمان کے لےل ایمان رکھنا ضروری اور فرض عنک ہے۔ اگر کوئی شخص حج کی فرضتﷲ کا انکار کرتا ہے تو اُسے دائرۂ اسلام سے خارج سمجھا جائے گا۔ فقہی مسائل مسئلہ: حج کی فرضت قطعی دللوجں سے ثابت ہے لہٰذا اس کا منکر کافر ہے۔(فتاویٰ عالمگرری جلد۲، صفحہ ۳۹، دارالاشاعت کراچی) مسئلہ: فرض ہونے کے بعد وقت ملنے پر بھی بلاعذر شرعی پہلے ہی سال حج کے لےن نہ گات تو سخت گناہ گار ہوگا، پھر اگر زندگی مںط ادا کرے گا تو تاخر کرنے کا گناہ معاف ہوجائے گا، گناہ گار نہ رہے گا۔(فتاویٰ رحیمیہ جلد8صفحہ 50) مسئلہ: مندرجہ ذیل اعذار کے درپشگ ہونے سے حج مؤخر کاا جاسکتا ہے: (۱) مفلس ہوجانا یین مال کا ملکتا مںر نہ رہنا۔ (۲) ظالم حاکم کا خوف۔ اس مںہ حکومتی اجازت اور سعودی ویزا بھی شامل ہے۔ (۳)قد خانہ مں جانا۔ (۴)راستہ کا غرومامون وغرےمحفوظ ہونا۔ (۵)ایسا مرض جس کی وجہ سے سفر نہ کرسکے۔ (۶)عورت کے ساتھ شوہر یا محرم نہ ہو۔ (۷)عورت عدت مںے ہو۔ ان اعذار سے حج ملتوی تو کرسکتے ہںج لکن اعذار کے دور ہوجانے پر حج کے لے جانا ضروری ہے ورنہ حج بدل کی وصتک لازم ہے۔(فتاویٰ رحیمیہ جلد8صفحہ50) مسئلہ: کسی عذر (بماترییا کمزوری وغرےہ) کی وجہ سے اپنی زندگی مں حج بدل کرایا جاسکتا ہے لکنھ عذر کے ختم ہونے تک اگر اس نے کسی سے حج بدل نہںو کرایا تو پھر اس کو خود حج کرنا ہوگا۔ مسئلہ: حج مں عورت کے لےا ضروری ہے کہ اس کے ساتھ محرم ہو۔ غررمحرم کے ساتھ عورت حج کو نہںں جاسکتی۔ نزی ایسا محرم جس پر اخلاقی و کرداری اعتبار سے اعتماد نہ ہو اس کے ساتھ بھی نہںر جاسکتی۔(فتاویٰ رحیمیہ جلد8صفحہ53) مسئلہ: حج کے شرائط وجوب ادا مںت سے ایک شرط یہ ہے کہ عورت چاہے ضعفہت ہو یا جوان، اس کے ساتھ پورے سفر مںز محرم کا ساتھ ہونا ضروری ہے۔(ایضًاً) مسئلہ: اگر محرم نہ ملے تو بلامحرم حج کے لےً جانا گناہ ہے۔(ایضًاً) مسئلہ: محرم نہ ہونے کی وجہ سے عورت کو حج بدل کی وصتس کرنا لازم ہے اور رقم نکال کر الگ کردے۔(فتاویٰ رحیمیہ جلد۸، صفحہ ۵۳، دارالاشاعت کراچی) حج کس پر فرض ہوتا ہے؟ ہر وہ مسلمان (مرد و عورت، عاقل، بالغ) جو صاحب مال ہو اور اس کے پاس اتنا مال اس کی ضروریات سے زائد جمع ہو جس کے ذریعے سے وہ حجازمقدس کے سفر اور وہاں ٹھہرنے کے ایام کے اخراجات برداشت کرسکتا ہو اور اپنی غر موجودگی مںک اپنے وطن مںئ رہنے والے زیرِکفالت افراد کے اخراجات دے سکتا ہو، اُس پرزندگی مںک ایک مرتبہ حج کرنا فرض اور لازم ہے۔ (واضح رہے کہ جس پر ایک مرتبہ حج فرض ہوجائے وہ اس کے ذمہ اس وقت تک باقی رہتا ہے جب تک کہ وہ اسے ادا نہ کرلے جس کا مطلب یہ ہے کہ حج فرض ہونے کے بعد کسی بھی عذر سے ساقط نہں ہوتا۔) حج کا حکم حج ادا کرنے سے ثواب ملتا ہے اور نہ کرنے پر عذاب ہوگا۔ (دنوای عذاب بھی ہوسکتا ہے او رآخرت کی پکڑ بھی ہوسکتی ہے یا دنا مںو مہلت دی جائے اور آخرت مں مواخذہ ہو۔) فضائل حج رسول اﷲﷺ نے اس کی دنو ی فضیلت بتلاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے صرف اﷲتعالیٰ کی رضا کی خاطر حج کار اور دوران حج بووی سے ہم بستری اور اس کے تذکرے، فضول بات اور ہر قسم کے گناہوں سے محفوظ رہا، وہ حج سے ایسا پاک ہوکر واپس ہوتا ہے جساوکہ ماں کے پٹ سے پدواہونے کے دن تھا۔(رواہ الخمسۃ الاباداؤد) (واضح رہے کہ اس سے صرف حقوق اﷲ سے متعلق فرائض و واجبات کی عدم ادائی۔س کے گناہ مراد ہںس۔ لہٰذا جو فرض و واجب جن کی قضا کی جاسکتی ہے اُن کی قضا ذمہ پر واجب رہے گی جسےئ قضا نماز وغرمہ۔ نز۔ حقوق العباد کے حوالے سے ان حقوق کی عدم ادائینا کے گناہ تو معاف ہوجائںر گے لکن حقوق ذمہ پر باقی رہں گے جب تک انہںہ ادا نہ کردیا جائے یا صاحب حق سے معاف نہ کرالاگ جائے۔) اس کی اخروی فضیلتیہ ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حج مبرور کا بدلہ صرف اور صرف جنت ہی ہے۔ (حج مبرور یہ ہے: (۱) جس مںئ دکھلاوا اور ریاکاری نہ ہو۔ (۲) جس مںش سخاوت اور حسن اخلاق ہو۔ (۳) جس مںا کسی قسم کے گناہ کا ارتکاب نہ ہوا ہو۔ (۴)جس مںخ آداب و شرائط کی رعایت ہو اور ان کی ادائی ت مںق کوئی لغزش نہ ہو۔ (۵) جس مںے فحش کلامی نہ ہو۔ (۶)حج کی ادائیتو کے بعد دنا سے بے رغبتی پد ا ہوجائے۔ (بے رغبتی سے مراد نفس اور حقوق العباد پورے کرتے ہوئے دناہ سے محبت نہ ہو۔) (۷)آخرت کی طرف رغبت پدغا ہوجائے۔) حج مقبول کی حسی علامت حج مقبول کی محسوس کی جانے والی علامت یہ ہے کہ حج کرنے کے بعد حاجی حج کرنے سے پہلے والی زندگی کے مقابلے مںح نو( ں کے کرنے اور برائوبں سے بچنے مںا بہتر حالت کی طرف لوٹ آئے۔ حج کے مقامات اور اوقات شریعت اسلامہت نے حج کے مقامات بھی طے کےر ہں اُن کے مقررہ دن بھی بتلائے ہںا لہٰذا حج حجازمقدس اور مخصوص مقامات کے علاوہ دناع بھر مںت کہںح نہںی ہوسکتا۔ نزج ان کے اوقات بھی شریعت اسلامہد نے مقرر کرتے ہوئے دو باتںا ارشاد فرمائی ہںب: (۱) حج کے ایام شوال کے مہنے سے شروع ہوجاتے ہںی لکنک حج کے افعال ذی الحجہ کی آٹھ(8) تاریخ سے لے کر تر ہ (13)تاریخ کی شام تک ہی ادا ہوسکتے ہںک لہٰذا ان مقامات اور اوقات کے علاوہ حج کے افعال کہں بھی ادا کےک جائںں وہ حج مں شمار نہں ہوں گے۔ (بعض مسلمانوں کی طرف سے یہ عمل نو(9) ذی الحجہیعنی عرفہ کے دن اپنے اپنے مقامات پر حاجوگں کی مشابہت اختا ر کرتے ہوئے ان اوقات مں دعا مانگنے کا رواج ہے جو سراسر بدعت اور خلاف شریعت ہے اس سے احتراز لازم ہے، البتہ اس مشابہت کی ایک صورت ضرور شریعت نے بتلائی ہے وہ بھی فرض وواجب نہںے بلکہ سنت و مستحب کہی جاسکتی ہے وہ یہ کہ جو شخص اپنے مقام پر عدئ کی قربانی کررہا ہو اسے ذی الحجہ کی پہلی تاریخ سے لے کر قربانی کےت جانے تک بال، ناخن وغر ہ کاٹنے سے احتراز کرنا مناسب ہے لکنے اس مں بھی غررضروری بالوں کی صفائی کی آخری مدت یینح چالس دن پورے ہوگئے ہوں تو اس کے لےر غریضروری بالوں کی صفائی مقدم، لازم اور ضروری ہے۔ نزس عرفہ کے دن کا روزہ بھی شریعت نے بتلایا ہے جو اپنے اپنے مقامات پر غر حاجی بھی رکھ سکتا ہے۔ اس کی فضیلت بتلاتے ہوئے رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس کے پچھلے، اگلے ایک ایک سال کے گناہ امد ہے کہ اﷲ تعالیٰ معاف فرمادیں گے۔ نزے شریعت اسلامہن نے ایک اور فضیلت ذی الحجہ کے پہلے عشرے (دس دن) کے متعلق بتلائی ہے کہ اس کے دن کا روزہ رکھنا اور (عبادت کے ذریعے) اس کی راتوں کا احایء باعث اجروثواب ہے۔ لکنن واضح رہے کہ یہ فضائل ان عبادات کو فرض وواجب کا درجہ نہںض دلاتے، اس کے باوجود تواتر سے صالحنو کا یہ شعار رہا ہے کہ وہ ان ایام ولاجلی مںت روزوں اور عبادات کا اہتمام کرتے چلے آئے ہں( اور ان شاء اﷲ! یہ عمل صاحبان ہمت لوگوں کی طرف سے تاقاامت جاری وساری رہے گا۔) حج کی قبولت کی شرائط شریعت اسلامہہ نے حج کی ادائی ب وقبولتح کے لےے کچھ شرائط رکھی ہںا جن کے بغرہ حج نامکمل رہتا ہے: (۱) احرام (۲)حج کا زمانہ ووقت ہونا (۳)حج کی جگہ کا ہونا (۴)افعال حج کا خود ادا کرنا بشرطکہل کوئی عذر نہ ہو (۵)احرام باندھنے سے لے کر وقوف عرفہ کے پہلے تک بوتی سے ہم بستری نہ کرنا۔ فرائض حج حج کے تنک فرض ہںا: (۱)احرام باندھنا (۲)وقوف عرفہ (یینھ عرفات کے مدنان مںب ٹھہرنا اگرچہ ایک گھڑی ایک لمحہ ہی کوقں نہ ہو، اس کا وقت نوذی الحجہ کو زوال آفتاب سے (سورج کے ڈھلنے سے) شروع ہوتا ہے اور دس ذی الحجہ کی صبح صادق طلوع ہونے سے ذرا پہلے تک باقی رہتا ہے۔) (۳)طواف زیارتیعنی بتس اﷲ کا طواف کرنا اس کا وقت دسویں ذی الحجہ کی صبح صادق سے شروع ہوتا ہے اور بارہ(12) ذی الحجہ کے سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے تک باقی رہتا ہے۔ مواقتہ مذکورہ بالا تینوں فرائض پر تفصیلح گفتگو سے پہلے ایک اور بات کی وضاحت ضروری اور مناسب معلوم ہوتی ہے اس لےا کہ اس کا دخل پہلے فرض مںر بڑی حد تک ہے۔ اسے اصطلاح مںر مقاپت کہا جاتا ہے جس کی جمع مواقتر آتی ہے۔ شریعت مطہرہ نے ہر اس شخص کو جو مکہ مکرمہ کی حدود سے باہر رہتا ہو جسے اصطلاح مںو آفاقی کہا جاتا ہے وہ جب بھی مکہ مکرمہ مں حج یا عمرے کی نتر سے داخل ہونے کے لےا آرہا ہو تو اس کا ان مواقتں سے پہلے احرام مںک ہونا ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص حج یا عمرہ کرنے والا ان مواقتی سے جو اس کی راہ مںے لازمی طور پر پڑتے ہںو، بغر احرام کے اندر آجائے تو اُس پر شریعت کے حکم کے مطابق دم لازم آئے گا۔ یینی اُسے اس خلاف ورزی پر حدودحرم مںر بکری ذبح کرکے فقراء مںح تقسمم کرنا ہوگی۔) البتہ اگر وہ دوبارہ مقالت پر واپس چلاجائے اور احرام باندھ کر داخل ہو تو اس سے یہ دم ہٹ جائے گا یینر اُسے دم نہںے دینا پڑے گا۔ مقالت چار(۴)ہںر: (۱) ذُواللْحُلَیْفہ: یہ مقا ت مدینہ منورہ کی جانب سے مکہ مکرمہ مںی داخل ہونے والوں کے لےڑ آتا ہے اور لوگوں مں اس کا نام براعلی پڑگا۱ ہے۔اور آج کل ییر نام زیادہ مشہور ہے۔ یہ مقاات مکہ مکرمہ سے سب سے زیادہ طویل فاصلے پر ہے اور یہ مدینہ منورہ سے چھ یا سات یا چار مل کے فاصلے پر بتلایا جاتا ہے۔ بہرحال ناپنے والوں کے پماانے مختلف ہوسکتے ہں اس وجہ سے یہ اختلاف بھی سامنے آرہا ہے مختصر یہ کہ یہ مکہ معظمہ کے مقابلے مںت مدینہ منورہ کے زیادہ قریب ہے۔ اور یہاں سے مکہ معظمہ کا فاصلہ 198ملو (410کلومیٹر)ہے۔ یہاں غسل خانوں کا وافر انتظام ہے اور بغرے کسی دقت کے حج یا عمرہ کرنے والا احرام باندھ کر تاعر ہوسکتا ہے۔ (۲)جُحْفَہ: یہ مقاےت مصر، شام اور مغربی ممالک سے آنور الوں کے راستے مں پڑتا ہے یا جو تبوک کے راستے سے آئںا ان کے لےت بھی مقاات جُحفہ ہی ہے۔ چونکہ جُحفہ تک پہنچنے کے متعدد راستے ہںے تو کسی راستے کی مسافت کم ہے او رکسی کی زیادہ اس لے اس کی تعنی۲ کے اندر سخت اختلاف ہے۔ یہ ایک گاؤں تھا جو مکہ معظمہ سے شمال مغرب کی جانب (187کلومیٹر کے فاصلے پر) تبوک کے راستے پر واقعہ تھا۔ پہلے اس کو مہیعہ بھی کہا جاتا تھا۔ سیلاب کی وجہ سے یہ جگہ تباہ ہوگئی اسی لےک اس کا نام جُحفہ یین سیلاب کا تباہ کات ہوا، پڑگاو۔ آج کل یہ جگہ ویران ہے اس لےی علمائے کرام احتاسطاَ مقام رابغ سے پہلے احرام باندھنے کا کہتے ہںک او ریہ مقام جُحفہ سے پہلے آتا ہے۔ (۳) قَرْن: اس کو قرن المنازل، قرن الثعالب اور وادی محرم بھی کہتے ہیںیہ نجد کی طرف سے آنے والوں کے لے مقافت ہے اور اس کا فاصلہ مکہ معظمہ تک پچاس(۵۰) ملع (80کلومیٹر) ہے۔ یمامہ سے لے کر عراق تک کے تمام مقامات تک والوں کے لےریہ مقاکت ہے۔ (۴) یَلَمْلَمْ: یہ تِہامہ کے پہاڑوں مںا سے ایک پہاڑ ہے اور مکہ مکرمہ سے اس کا فاصلہ باختلاف روایت 30ما ر 60مل (100کلومیٹر) بتلایا جاتا ہے۔ یہ مکہ معظمہ کے جنوب مںک واقع ہے۔ پاکستان، ہندوستان، چنا، جاوا او ریمن کے باشندوں کے لےرییو مقاْت راستے مں پڑتا ہے۔ نزر جو لوگ بھی اس طرف سے حج و عمرہ کے لےا آئںا گے انہںں اس مقام سے احرام باندھنا لازم ہوگا۔ یہ چاروں مواقتب صححس بخاری و صححے مسلم کی حدیثوں سے ثابت ہںہ۔ اس کے علاوہ ایک اور بھی مقا ت بامن کاو جاتا ہے جسے ذات عِرق کہا جاتا ہے، یہ مکہ معظمہ سے 42ملے (90کلومیٹر)کے فاصلے پر ہے، بصرہ و کوفہ والوں کے لےف مقا ت ہے یہ جگہ آج کل ویران ہے اور اس کا مقامت کا ذکر صححے مسلم، سنن ابی داؤد، نسائی وابن ماجہ وغرفہ مںا ہے۔ واﷲ اعلم بالصواب واضح رہے کہ یہ تمام مواقت دنا۔ مںس رہنے والے ان حاجوےں اور عمرہ کرنے والوں کے لےں ہں۔ جن کی رہائش مکہ مکرمہ سے باہر ہے، جو لوگ مکہ مکرمہ کی حدود میںر ہتے ہیںیا ایک مرتبہ احرام کی حالت مںج حج و عمرہ سے فارغ ہوکر مقا۔ت کے اندر ہی ٹھہرے ہوتے ہں ، اُن سب کے لےا حج کے لےہ احرام ان کی اپنی جگہوں سے باندھنا ہے اور عمرہ کے لےو حدود حرم سے باہر نکل کر کسی بھی مقام مثلاً تنعیم و جعرانہ سے باندھنا پڑے گا۔ ادائی ت ٔ حج کا پہلا فرض احرام: احرام کے معنیٰ لغت مں۔ بے حرمتی نہ کرنے کے ہیںیا اس کے معنی کسی چزم کو اپنے اوپر حرام کرنے کے آتے ہںآ۔ شریعت کی اصطلاح مں احرام اس عمل کو کہتے ہںے جس کے ذریعے سے احرام باندھنے والا اپنے اوپر چند جائز چز وں کو بھی احرام کی مدت مںا اپنے اوپر حرام کردیتا ہے۔ (عرف عام) مںت بغر سلی ہوئی اُن دو چادروں کو بھی احرام کہہ دیا جاتا ہے جن کو حج یا عمرہ کرنے والے حضرات استعمال کرتے ہں ۔) عرف عام مں مردوں کے لے دو بغر سلی ہوئی چادروں کو باندھتے ہوئے عمرہ یا حج کی نتر کے ساتھ تلبہج پڑھنے کو کہتے ہںا۔ {لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ لَاشَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکُ لَاشَرِیْکَ لَکَ} ترجمہ: ’’حاضر ہوں اے اﷲ! مںف حاضر ہوں ترکا کوئی شریک نہںب، مںس حاضر ہوں، بے شک حمد تربے ہی لائق ہے، ساری نعمتیںتیری ہی دی ہوئی ہںر بادشاہی تردی ہی ہے اور تر ا کوئی شریک نہںے۔‘‘ احرام کے ممنوعات (۱)احرام کی حالت مںُ مردوں کو سَر اور چہرہ ڈھکنا اور پرروں کا اوپر کا ظاہری حصہ ڈھکنا منع ہے۔ (۲)احرام کی حالت مںُ کپڑے وغر ہ سے منہ پونچھنا منع ہے۔ (۳) احرام کی حالت مں خشکی کے جانور کا شکار کرنا منع ہے۔ (۴)احرام کی حالت مںت اپنے یا کسی دوسرے کے سر یا بدن کے کپڑوں سے جُوں مارنا یا اس کو پکڑ کر پھنکہ دینا منع ہے۔ (۵)احرام کی حالت مںت کسی بھی قسم کی خوشبو استعمال کرنا، سَر یا ڈاڑھی پر مہندی لگانا، ناخن کاٹنا، بدن کے کسی حصے سے بال دور کرنا منع ہے۔ (۶) احرام کی حالت مں اپنی بوییوں کے ساتھ ہم بستری کا ذکر کرنا، بوسہ لنا یا شہوت سے چھونا منع ہے۔ (۷)احرام کی حالت مںت دوسرے لوگوں کے ساتھ لڑائی جھگڑا کرنا منع ہے۔ (۸) احرام کی حالت مں خوشبودار صابن استعمال کرنا، بدن سے مل کچلب دور کرنا، خوشبودار منجن، ٹوتھ پسٹن اور ٹوتھ پاؤڈر استعمال کرنا منع ہے۔ (۹)احرام کی حالت مںت فضائی مزابانوں کے ذریعے جو خوشبودار ٹشو پپرا دیا جاتا ہے اس کا استعمال منع ہے۔ وغرلہ وغربہ۔ (یہ تمام ممنوعات صرف احرام کی چادریں باندھنے سے لازم نہں آتں اس کی ابتدا نت کرنے کے بعد ہوتی ہے لہٰذا چادریں باندھنے کے بعد نتم کرنے سے پہلے پہلے ان ممنوعات کے استعمال کرنے مں کوئی حرج نہںر ہے۔) مذکورہ بالا احرام کا اطلاق صرف مردوں پر ہوتا ہے۔ عورتں اس احرام سے مستثنیٰ ہںج۔ اُنہںک سِلے ہوئے کپڑے پہننا جائز ہے۔ وہ اپنے سَروں کو بھی ڈھک سکتی ہںو البتہ چہروں پر کپڑا نہںم لگنا چاہےں۔ اس کے لےو پردہ دار خواتن ایک خاص کپ (جو کرکٹ کے کھلاڑی استعمال کرتے ہںو) اُسے سَر پر پہن کر اس پر چادر لٹکا کر لا کرتی ہںخ اس طرح احرام بھی باقی رہتا ہے اور بے پردگی سے بھی محفوظ رہا جاسکتا ہے۔ بہت سی محتاط عورتںت احرام کی حالت مںہ بھی چہرے پر نقاب ڈالے ہوئے ہوتی ہںں اس سے بے پردگی سے مکمل حفاظت تو ہوجاتی ہے لکنت احرام کی خلاف ورزی پر اُن پر دم بھی واجب ہوجاتا ہے۔ بعض اپنے آبائی علاقوں کی پردہ نشین خواتنف احرام کی خلاف ورزی سے بچنے کی غرض سے احرام کی حالت مں بھی عام مَردوں کے سامنے چہرہ کھول لی ہ ہںٹ اور پردے کے حکم کی خلاف ورزی کی بنااد پر گناہ گار ہوتی ہںا۔ مَردوں کے مقابلے مں احرام کی حالت مںے احرام کی ممنوعات مں سے صرف پرں کا ڈھکنا اُن کے لےر منع نہںو ہے بقہگ تمام ممنوعات اُن پر بھی اُسی طرح لاگو ہوتی ہںا جس طرح مردوں پر لازم ہںف۔ مباحات احرام احرام کی حالت مںز شریعت نے جن کاموں کے کرنے کی اجازت دی ہے یا جو کام کرنے جائز ہںا اُنہںن مباحات کہا جاتا ہے اور اس کی تفصلی درج ذیل ہے: (۱) غسل کرنا چاہے واجب غسل ہو یا ٹھنڈک حاصل کرنے کے لےو۔۱؎ (اس مںں گرم پانی سے غسل کرنا، بغری خوشبو والا صابن استعمال کرنا بھی داخل ہے البتہ ملی کچلا دور کرنا منع ہے۔) (اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ احرام کی مدت مںر احرام کی چادریں اُتار دینےیا اُترجانے سے یابدلنے سے کوئی فرق نہں۔ پڑتا۔) (۲) گندے یا ملےر کپڑوں کو پاک یا صاف کرنا (دھونا) بھی جائز ہے۔ البتہ کپڑوں مں پھیدی ہوئی جوؤں کو دور کرنے یا زینت کے ارادے سے دھونا منع ہے۔ (۳) انگوٹھی پہننا جائز ہے لکنے اس کا نہ پہننا بہتر ہے۔ (۴) احرام کی حالت مںا بلٹو باندھنا جس مںے پسےو، پاسپورٹ وغر۔ہ رکھے جاتے ہںپ، جائز ہے۔ (۵) گھر یا کسی چز کے سائے مںن داخل ہونا بھی جائز ہے۔ (۶) بغر خوشبو کا سرمہ لگانا جبکہ وہ نظر کو قوت دینے کے لے ہو، زینت کے ارادے سے نہ ہو، جائز ہے۔ (۷) اپنی شکل و صورت دیکھنے کے لےو آئنہ دیکھنا جائز ہے۔ (۸) مسواک کرنا۔ (۹) ضرورت کے تحت دانت کا نکلوانا جائز ہے چاہے دانت ٹوٹا ہوا ہو یا ٹوٹا ہوا نہ ہو۔ (۱۰) ٹوٹے ہوئے ناخن کو نکالنا۔ (صححا سالم ناخن کا کاٹنا ناجائز ہے) جائز ہے۔ (۱۱) سَر یا ڈاڑھییا بدن کو انگلوسں کے اندرونی حصے سے کھجلانا کہ بال بھی نہ ٹوٹے اور اگر جُوں ہو تو وہ بھی نہ گِرے، جائز ہے۔ (۱۲) مختلف امراض کے ٹسٹووں کے لےت بدن کے کسی حصے سے خون نکالنا یا نکلوانا جائز ہے۔ (۱۳) احرام کی چادروں کا رنگنا، موسم کے اعتبار سے ٹھنڈا یا گرم ہونا یینا ایی چادروں کا استعمال جائز ہے۔ (۱۴) اییک غذا کھانا جس مںہ خوشبو ملی ہوئی ہو، جائز ہے۔ خوشبو ملانے کے بعد اگرچہ اس کو آگ پر پکایا گام ہو باجودیکہ اس مںر سے خوشبو آتی ہو۔ (۱۵) ضرورت کے موقع پر غروخوشبودار ویسلین، مرہم وغر ہ کا زخم یا ہاتھ پاؤں پھٹنے کی صورت مںا لگانا جائز ہے۔ (۱۶) ایسا شعر یا بات کہنا کہ جس مں کوئی گناہ کی بات نہ ہو، جائز ہے۔ (۱۷) حلال جانوروں کا ذبح کرنا اور اس کا گوشت کھانا جائز ہے کوںنکہیہ شکار کے حکم مںے نہںہ ہے، اسی وجہ سے جنگلی بطخ کو ذبح کرنا جائز نہںی ہے کورنکہ وہ شکار کے حکم مں ہے۔ (۱۸) موذی جانوروں مثلاً چھپکلی، گرگٹ، سانپ، بچھو، مکھی، کھٹمل، پِسو، چلش، مردہ خوار کوّا، بِھڑ وغر ہ کو مارنا جائز ہے۔ (۱۹) عطرفروش یا جس کے پاس خوشبو ہو اس کے نزدیک بٹھنا جبکہ خوشبو سونگھنے کا ارادہ نہ ہو جائز ہے۔ (۲۰) مختلف امراض کے لےا انجکشن، ٹکہا اور ڈِرپ لگوانا ضرورت کے موقع پر جائز ہے۔ (۲۱) دییا امور اور مسائل مںن گفتگو اور مباحثہ کرنا جائز ہے وغرمہ وغرکہ۔ (۲۲) حائضہ عورت طواف زیارت کے سوا تمام افعال ادا کرسکتی ہے اور حضم سے پاک ہونے کے بعد طواف زیارت بھی کرسکتی ہے۔ البتہ اگر وقت کم ہو، طواف زیارت کا وقت نہ مل سکتا ہو، اور باوجود کوشش کے حکومت سے مہلت ملنے کا امکان نہ ہو تو ارکان حج ادا کرنے کی نتف سے حضا روکنے والی دوا کے استعمال کی گنجائش ہے بشرطکہ مضرصحت نہ ہو۔ اگر حضر کی حالت مںر طواف زیارت کرلای تو توبہ و استغفار لازم ہے اور اونٹ یا گائے کی قربانی کرنا اس کے ذمہ واجب ہے۔ حضر سے متعلق عورت کے جو احکام ہں وہی نفاس والی عورت کے بھی احکام ہںر۔ مدرانِ عرفات وجہ تسمہ : جنت سے بچھڑنے کے بعد یںو حضرت آدم و حوّا مںہ ملاقات ہوئی تھی اور اسی تعارف کییادگار مںر مقام کا نام ہی عرفات پڑگاز۔ حدوداربعہ: مکہ معظمہ سے جنوب مشرق کی جانب جو سڑک طائف کو جاتی ہے اس پر مکہ سے کوئی 12ملک کے فاصلے پر کئی ملگ کے رقبے کا ایک لمبا چوڑا مدران پڑتا ہے جس کے دامن مںں جبل رحمت واقع ہے مِنٰی سے مزدلفہ کے راستے وادی عُرنہ نامی ایک وادی ہے اس کے اوپر قریباً ایک کلومیٹر کے اندر چودہ(14) کشادہ پل بنے ہوئے ہںا۔ وادی عرنہ کے بعد 19سڑکںی ترو کی طرح سدبھی اور متوازی آگے بڑھتی ہںن جنہںی دائںں سے بائںے 7سڑکںہ زایہ قائمہ پر کاٹتی ہںے، سڑکوں پر نمبر لگے ہوئے ہںی جابجا پل بنے ہںو، آنے جانے والوں کی سہولت اور آسانی کے لےد نشانات اور بورڈز نصبے ہںی۔ عرفات سال کے 364دن بے آباد ہوتا ہے اور صرف ایک دن 9ذی الحجہ کے لےا شہر کی صورت آباد ہوتا ہے اور وہ بھی صرف آٹھ گھنٹوں کے لےک۔ یہ صبح آباد ہوتا ہے اور غروب آفتاب کے ساتھ ہی اس کی تمام آبادی رخصت ہوجاتی ہے اور حجاج ایک رات کے لےں مزدلفہ مںن مقم ہوجاتے ہںا۔ وقوف عرفات حج کا اہم اور بنا دی رُکن ہے۔ مسجد نمرہ: مدجان عرفات مںف قائم مسجد نمرہ سے خطبا 9ذی الحجہ کو خطبۂ حج دیتا ہے۔ اس کے بعد ظہر اور عصر نمازوں کے دو(2) دو(2) فرض قصر پڑھے جاتے ہںع۔ جبل رحمت: اس مدمان مں عرفات نام کی ایک پہاڑی بھی واقع ہے جس کا دوسرا اور مشہور نام جبل رحمت ہے۔ جبل رحمت کا قطر قریباً 100میٹر ہے اور یہ 60میٹر بلند ہے۔ یہ پہاڑی ہلکے سبزی مائل چھوٹے بڑے پتھروں اور بُھربُھری مٹی سے بنی ہے۔ اوپر جانے کے لےص بھورے پتھروں کو جوڑ کر سنگی سڑخھااں بنائی گئی ہںب۔ جبل رحمت پر لوحِ سفدر عنت اس جگہ نصب کی گئی ہے جہاں نبیﷺ کی اُونٹنی قصواء حجۃ الوداع کے دن کھڑی تھی۔ اسی پہاڑی پر نبی کریمﷺ نے حجۃ الوداع کا خطبہ ارشاد فرمایا تھا، اسی لےل اب اس پہاڑی کو جبل رحمت کہتے ہںب۔ ادائیٔر حج کا دوسرافرض (۲) وقوف عرفات، یینو عرفات کے مدنان مںے ٹھہرنا۔ احرام کی حالت مںک نو(۹) ذی الحجہ کے دن زوال کے بعد سے لے کر اگلی رات کی صبح صادق تک کے اوقات مںہ (حج کی نتپ سے) عرفات کے مدےان مںن ٹھہرنا چاہے ایک لمحے کے لےح ہی کوکں نہ ہو۔ حج کا اہم ترین فرض اور بناقدی رکن ہے۔ اگر کسی بھی وجہ سے اس دن ان اوقات مںد عرفات کے مددان مںے پہنچنے سے کوئی حاجی رہ جائے تو اس کا حج نامکمل، ناقص اور غر مقبول ہوگا۔ لکنا کسی ایک لمحے مں بے ہوشی کی حالت مںر بھی کسی حاجی کو پہنچا دیا گا۔ تو اس کا حج ہوجائے گا اور جس کا حج فاسد ہوگات اُسے نئے سرے سے حج کا احرام باندھ کر اگلے سالوں مں اس کی قضا لازمی طور پر کرنا ہوگی۔ یہ عرفات کے مد ان مںا ٹھہرنا نو(۹)ذی الحجہ ہی مںح لازم ہے اگر کسی نے اس سے پہلے یا اس کے بعد وقوف عرفہ کاا تو اس کے لےہ ایسا کرنا جائز نہںن ہے۔ عرفات کے مد ان کی جگہ متعنں ہے چاروں طرف سے اس متعنا جگہ مںا ٹھہرنے سے ہی وقوف عرفہ کہلائے گا اگر کسی گروہ یا فرد نے اس طے شدہ مدےان کے باہر وقوف کا تو اس کا حج قبول نہںم ہوگا۔ نو(9)ذی الحجہ کے دن زوال کے بعد سے لے کر غروب آفتاب تک مدںان عرفات ہی مںو ٹھہرنا واجب ہے۔ نزک غروب آفتاب کے بعد مغرب کی نماز پڑھے بغر وہاں سے مزدلفہ کی طرف نکلنا ہوتا ہے اور مزدلفہ پہنچ کر عشاء کے وقت مںہ مغرب اور عشاء کی نمازیں ترتبن سے ادا کی جاتی ہں ۔ اس کے بعد ساری رات مزدلفہ مںج ٹھہرا جاتا ہے۔ وقوف عرفہ کے دوران عرفات کے مدمان مںا دو(۲) نمازیں ملتی ہں ، ظہر اور عصر ان دونوں نمازوں کو وہاں مسجد نمرہ مںں مقامی امام کی اقتدا میںیعنی ظہر کے وقت مںگ ادا کاے جاتا ہے لکن ایک وقت مںے ان دونوں نمازوں کی ادائیہر کے لےو فقہائے احناف نے کئی شرائط باان کی ہںڑ لہٰذا مفتارن کرام کی طرف سے احناف کو ییت تعلم دی جاتی ہے کہ وہ اپنے اپنے خمورں مں ظہر اور عصر کی نماز اپنے اپنے اوقات مں باجماعت ادا کرنے کا اہتمام کریں۔ اس کی وجہ سے ان کے حج پر کوئی نقصان دہ اثر نہںن ہوگا۔ مسئلہ: غروب آفتاب سے پہلے اگر مدمان عرفات سے نکل گاا تو اس پر دم لازم ہے۔ وقوف عرفات کے مدتان مںہ زوال سے لے کر غروب آفتاب تک درجہ ذیل اعمال مں اپنے آپ کو مشغول رکھنا انتہائی مناسب ہے بجائے اس کے کہ فضولاتت مںہ اپنے اوقات کو گنوایا جائے: (۱) تلبہو پڑھتے رہنا۔ (۲)تکبرایینب اﷲ اکبر پڑھتے رہنا۔ (۳)تہلیلیعنی لااِلٰہ الاّاﷲ پڑھتے رہنا۔ (۴) دعاؤں مں۔ مشغول رہنا۔ (۵)دیگر اذکار مںے مشغول رہنا۔ (۶)استغفار کرتے رہنا۔ (۷)تلاوت قرآن کرنا۔ (۸)نبی کریمﷺ پر درودشریف کثرت سے پڑھنا۔ (۹) تضرع عاجزی اختا ر کرنا۔ (۱۰) خشوع خضوع قائم کرنا۔ (۱۱) قبلہ رو ہوکر وقوف کرنا۔ (۱۲)دیگر اعمال خر مثلاً کھانا کھلانا، پانی پلانا، فقراء پر صدقہ کرنا، ہمسایوں پر احسان کرنا، مسکنو)ں پر رحم کرنا وغرکہ وغر ہ۔ ادائیٔ، حج کا تسرپا فرض حج کا تسررا اہم ترین فرض ورکن جس کے بغر حج پورا نہں ہوتا، وہ طواف زیارت ہے۔ یینر بتہ اﷲ کے گرد چکر لگانا اور اس کے ساتھ صفا و مروہ کی سعی کرنا۔ طواف زیارت کا وقت شریعت مطہرہ نے دس(۱۰) ذی الحجہ کے طلوع فجر سے شروع ہونا مقرر کات ہے اور واجب اس کے آخری وقت کے اعتبار سے بارہ(۱۲) ذی الحجہ کی غروب آفتاب سے پہلے تک کا وقت ہے یینے دس(۱۰) ذی الحجہ سے بارہ(۱۲) ذی الحجہ کے دن کی تکملے تک کے درما ن رات اور دن کے کسی بھی اوقات مںع طواف زیارت کرنا واجب ہے۔ شریعت کے بتلائے ہوئے طریقے کے مطابق بعض حضرات طواف زیارت کی سعی آٹھ(۸) ذی الحجہ کے مِنٰی مںا پہنچنے سے پہلے ادا کرلتےع ہںا اُن کے لےسیہ وضاحت ضروری ہے کہ اگر وہ ایسا کرنا چاہںس تو اس کا طریقہیہ ہے کہ وہ احرام باندھ کر پہلے طواف کریں اور اس کے بعد سعی کریں۔ (بغرر احرام کے یہ سعی قابل قبول نہ ہوگی۔) اگر وہ ایسا کرتے ہںک تو دس(۱۰) ذی الحجہ کے طواف زیارت کے بعد اُن کے لے سعی ضروری نہںا رہتی۔ نز طواف زیارت مں ناسبتیعنی کسی کو اپنے قائم مقام کرکے یہ عمل کروانا ناجائز ہے لہٰذا ہر مرد و عورت کو یہ طواف بذات خود کرنا ہوگا چاہے پدےل کرے یا معذوری کی صورت مںا وہلر چئرب پر بیٹھ کر کرے۔ حق ناہبت صرف بے ہوش، مجنون، بے سمجھ بچے کے لےی ثابت ہے۔ (نوٹ): چونکہ طواف باوضو کاہ جاتا ہے لہٰذا اس حوالے سے ایک وضاحت یہ ہے کہ چار چکر پورے کرنے کے بعد قضائے حاجت یا کسی بھی وجہ سے وضو ختم ہوگاب تو دوبارہ وضو کرکے صرف تن چکر پورے کرنے ہوں گے اور اگر چار چکروں کی تکملی سے پہلے وضو ٹوٹ جائے تو دوبارہ وضو کرنے کے بعد ازسرنو طواف کرنا ہوگا۔ واجباتِ طواف زیارت (۱) حدث اصغر (بے وضو ہونا) اور حدث اکبر (یینض غسل جنابت) سے طہارت حاصل کی جائے۔ (۲) ستر عورت (۳) چلنے پر قدرت ہوتے ہوئے پددل چل کر طواف کرنا (۴) طواف کو داہنی طرف سے شروع کرنا (۵) طواف حطم کے باہر سے کرنا۔ (بتو اﷲ کی شمالی جانب بتر اﷲ سے متصل قدآدم دیوارسے کچھ حصہ زمنچ کا گھرا ہوا ہے اس کو حطمی اور خطر ہ بھی کہتے ہںم۔ جناب رسول اﷲﷺ کو نبوت ملنے سے ذرا پہلے جب خانہ کعبہ کو قریش نے تعمرا کرنا چاہا تو سب نے اتفاق کا کہ حلال کمائی کا مال اس مںر صرف کا جائے لکنپ سرمایہ کم تھا اس وجہ سے شمال کی جانب اصل قدیم بتی اﷲ مں سے تریباً چھ گز شرعی جگہ چھوڑدی اس چھوٹی ہوئی جگہ کو حطمئ کہتے ہںب۔ اصل حطمے چھ گز شرعی کے قریب ہے اب کچھ احاطہ زائد بنا ہوا ہے۔) (۶)سات چکر پورے کرنا۔ (۷)طواف کے بعد دو رکعت نماز پڑھنا۔ دورانِ طواف دعائںا مانگنا افضل اور اولیٰ ہے ہر چکر کے متعلق بھی علحدیہ علحد ہ دعائںا مذکور ہں) جسے طواف کرنے والوں کو کتاب ہاتھ مںو لے کر پڑھتے دیکھا جاتا ہے۔ اگر ہر چکر کی دعائںق زبانییاد ہوں تو ان ہی دعاؤں کو مانگا جائے، اگر زبانییاد نہ ہوں تو اس کے علاوہ کی دعائںو بھی مانگی جاسکتی ہں اور آخری درجہ یہ ہے کہ {ربَّنَا اٰتنا فی الدناو حسنۃ وفی الاٰخرۃ حسنۃ وقِنَا عَذَابَ النَّار} والی دعا مانگی جاتی رہے خصوصاً رُکن یمانی سے حجراسود تک کے درماقنی فاصلے مںا اس دُعا کو مانگا جائے۔ (دعا کے حوالے سے ایک وضاحت ضروری ہے کہ دعا پڑھنا اور چزو ہے اور دعا مانگنا اور چزج ہے، عموماً حجاج کرام کتابوںمیں دیکھ کر دعائںں پڑھتے ہیںجبکہ اس سے مانگنے کا تقاضا پورا ہی نہیںہوتا۔ واﷲ اعلم۔ اﷲتعالیٰ کے فضل سے اُمدم ہے کہ ایی دعائںم بھی قبول کرلی جائںت ورنہ حقیقتیہ ہے کہ پورے خشوع خضوع سے اﷲتعالیٰ سے دعا مانگی جاتی ہے اور اس کے تقاضے انفرادی دعاؤں ہی مں پورے ہوسکتے ہںی، اجتماعی دعاؤں مںر بھییہ خطرہ محسوس ہوتا ہے کہ نامعلوم دعا منگوانے والا اﷲتعالیٰ سے دعا مانگ رہا ہے یا مجمع کو دعا سُنا رہا ہے۔ نابالغ کا احرام یہ بات واضح رہے کہ حج بالغ افراد پر فرض ہوتاہے، نابالغ پر حج فرض ہی نہںٰ ہے لکنق اُسے حج کرنے سے منع بھی نہںا کام گات اور اس کا حج، نفلی حج ہوگا اگر سمجھ دار بچہ ہے تو نفلی حج کا احرام وہ خود باندھ سکتا ہے اور اگر ناسمجھ ہے تو اس کے سرپرست نفلی حج کے لے اس کو احرام باندھ کردیں گے اس طرح وہ بھی احرام مںس شامل ہوجائے گا۔ مزیدیہ کہ جس طرح سمجھ دار بچہ اپنا احرام خود باندھے گا ایسے ہی تمام افعال حج بھی اُسے خود ہی ادا کرنے ہوں گے، اس کے لےہ ناربت (اپنی جگہ کسی اور کو قائم مقام بنانا) صححف نہںد ہے۔ لکنہ ایسا ناسمجھ بچہ جو افعال حج کرنے پر قدرت نہ رکھتا ہو اس کی ناربت کی جاسکتی ہے، چونکہ اس پر حج فرض نہںا ہے اور وہ اس کا مکلف بھی نہںا ہے لہٰذا ایسے تمام نابالغ بچوں کا چاہے وہ سمجھ دار ہوں یا ناسمجھ فرض حج اور اس کااحرام منعقد ہی نہںک ہوگا۔ اور یہ احکامات نابالغ بچے اور بچی دونوں کے لےم ہںہ۔ بتر اﷲ کے گرد سات چکر پورا کرنے کے بعد مقام ابراہمج پر دو رکعت نماز ادا کی جاتی ہے اگر ممکن ہو تو لکنا اگر ازدہام کی وجہ سے مقام ابراہمل پر ادا کرنا آسان نہ ہو تو یہ رکعتں کہںک بھی ادا کی جاسکتی ہںا۔ اور ان رکعات کو فقہائے کرام نے واجب قرار دیا ہے۔ اگر کسی وجہ سے یا لاعلمی کی وجہ سے یہ رکعات سفرحج مںج ادا کرنے سے رہ گئی ہوں تو ذمے پر باقی رہتی ہںر اپنے مقام مںا واپس آکر ادا کرنی ہوں گی، ادا نہ کرنے تک اس کا گناہ ذمہ پر باقی رہے گا اس کے ساتھ ہی آب زم زم خوب سر ہوکر پنےم کے متعلق تعلما دی جاتی ہے۔ ان دونوں کاموں سے فارغ ہونے کے بعد صفا و مروہ نامی دو پہاڑوں کے درما ن چلا جاتا ہے جس کو عرف عام مںر سعی کہا جاتا ہے اور یہ طواف کا لازمی جز ہے اور یہ سعی ہر شخص کے اپنے اوپر لازم ہے کہ خود کرے اس مںی بھی ناتبت جائز نہںط ہے، اس سعی کی ابتدا صفا نامی پہاڑی سے کی جاتی ہے، اس کا ایک چکر مروہ نامی پہاڑی پر ختم ہوجاتا ہے دوسرا چکر مروہ سے شروع ہوکر صفا پر تکملج پاتا ہے اس طرح سات چکر اس سعی کے ہوتے ہں جو عمل کے اعتبار سے ساڑھے تنا بنتے ہں ۔ دوران سعی راستے مںو تھوڑا سا فاصلہ ایسا بھی ہوتا ہے جہاں سعی کرنے والے مردوں کو دوڑ کر (عام رفتار سے ذرا تزے) چلنا ہوتا ہے۔ دور حاضر مں اُس مقام پر انتظامہہ نے سبز لائٹوں کا انتظام کات ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ یہاں قدرے تز یینو دوڑ کر چلنا ہوگا یہ صرف مردوں کے لےت ہے عورتںن اپنی عمومی چال سے ہی اس فاصلے کو طے کریں گی۔ دوران سعیمختلف قسم کی دُعائںہ جو یاد ہوں مانگی جاسکتی ہںص، ان دعاؤں کا مانگنا مستحب ہے۔ دوران سعی اگر بات کرنے کی ضرورت پشی آجائے تو ضرورت کے مطابق بات کرنا جائز ہے۔ لکن مطلقاً سعی کو عبادت مںر شمار کا گال ہے لہٰذا بلاضرورت بات چیت کا چھوڑ دینا افضل اور اولیٰ ہے۔ (نوٹ): دوران طواف و سعی اگر فرض نماز کی جماعت قائم (شروع) ہوجائے تو طواف و سعی کو ترک کرکے فرض نماز ادا کی جائے، فرض نماز کی ادائیپن کے بعد طواف و سعی کو ادا کار جائے۔ وضاحت: طواف زیارت اور سعی کی تکملی پر حاجی احرام کی تمام عائد شدہ پابندیوں سے آزاد ہوجاتا ہے۔ مکروہاتِ سعی (۱) سعی کے پھراوں کو پے درپے یینع مسلسل نہ کرنا یہ مکروہ ہے۔ اگر کسی عذر کی وجہ سے پھر وں کے درما ن وقفہ آجائے تو کوئی حرج نہںِ۔ (۲) بلاعذر وہلط چئری پر سعی کرنا مکروہ ہے۔ (۳)سعی کرتے وقت خریدوفروختا بات چیت مںل ایسا مشغول ہوجانا کہ جس کی وجہ سے سعی کی عبادت سے توجہ ہٹ جائے اور ذکر اذکار پڑھنے سے رُک جائے یا مسلسل پھروے لگانے مںچ خلل واقع ہو، مکروہ ہے۔ (۴) صفا و مروہ کے اوپر چڑھنے کو جبکہ اس کی گنجائش بھی ہو ترک کرنا مکروہ ہے۔ (۵) سعی کے دوران درمابنی جگہ جہاں دوڑنا بتلایا گاک ہے وہاں دوڑ کر نہ چلنا مکروہ ہے۔ (۶) سعی کے دوران ستر کا کھلا رکھنایا کُھل جانا اور اُسے کُھلا چھوڑ دینا بُرا فعل ہونے کے ساتھ ساتھ سعی کی مکروہات مں سے بھی ہے۔ ادائی پ حج کے دیگر افعال (۱) آٹھ ذی الحجہ کو فجر کی نماز کے بعد گھر سے احرام باندھ کر مِنٰی کے مداان مںو پہنچنا اور وہاں پانچ نمازیں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور اگلی صبح کی فجر ادا کرنا ہے۔ (۲) نوذی الحجہ کی فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد وقوف عرفہ کے لے عرفات کے مدلان کی طرف نکلنا (وہاں پہنچنے کا اصل وقت زوال تک ہے لکن ازدہام سے بچنے کے لے اُس وقت سے پہلے بھی پہنچا جاسکتا ہے۔) (۳) دس ذی الحجہ کی رات جوکہ شرعی اعتبار سے دن سے پہلے آتی ہے، مزدلفہ مںر گزار کر اور وہاں سے شطاون کو مارنے کے لےہ کنکریاں (جو ویسے تو تعداد کے اعتبار سے اُنچاس(۴۹) بنتی ہں لکنن اگر کسی وجہ سے ۱۳ذی الحجہ کو مِنٰی مںح رُکنا پڑجائے تو مزید۲۱ کا اضافہ ہوجائے گا اس طرح کل تعداد (۷۰) بنتی ہے) چُننے کے بعد مِنٰی کے مدمان مںا واپس آنا اور دس ذی الحجہ کے دن صبح صادق کے بعد سے لے کر اگلے دن کی صبح صادق کے درما)ن اوقات مں۴ سے کسی بھی وقت جمرہ عقبٰی پر سات کنکریاں مارنا (جمرہ عقبٰی اس ستون کو کہتے ہںک جو مِنٰی کے مد ان مںم واقع تنک ستونوں مںم سے ایک ہے اور مکہ مکرمہ سے منٰی آتے ہوئے پہلے پڑتا ہے) اس عمل کو رمی جمار کہتے ہںِ رمی کے معنیٰ پھنکنےِ کے ہںق اور رمی جمار سے مراد چھوٹی کنکریوں کا پھنکنا ۔ اصطلاح مںم عرفات کے مدکان مںر قائم شطاےن کی علامتوں سے متعلق تنی ستونوں پر کنکریاں پھنکی کر مارنے کو کہا جاتا ہے اور یہ رمی جمار حاجی کے لے متعن کاع گاٰ ہے۔ اور اس کی تاریںقع دس، گاورہ، بارہ اور تر ہ ذی الحجہ کی مقرر کی گئی ہںا۔ دس ذی الحجہ کو اس کا وقت صبح صادق سے شروع ہوتا ہے لکنی بقہا دنوں مں اس کا مسنون وقت زوال کے بعد سے لے کر غروب آفتاب تک کا ہے اور معذورین کے لےس اگلی صبح کے صبح صادق کے طلوع ہونے تک کا ہے۔ البتہ دسویں ذی الحجہ کو صبح صادق سے پہلے اور بقہا دنوں مںک زوال سے پہلے رمی جمار جائز نہںب ہے۔ احناف کے نزدیک اس مںں ناابت بھی نہںق ہے۔ لکنک دیگر ائمہ کے نزدیک نانبت کا حق دیا گاا ہے۔واﷲ اعلم بالصواب رمی جمار کے بعد دسویں ذی الحجہ کو دوسرا کام حلق یا قصر کرانا ہے۔ (حلق سَر کے تمام بال منڈوانے کا نام ہے جس کو عرف عام مںی گنجا ہونا کہتے ہں اور یہ اُسترے، بلڈح اور مشن تینوں مںل سے کسی ایک سے کان جاتا ہے۔ احناف کے نزدیک قصر چوتھائی سَر کے تمام بال ایک پورے کے برابر کاٹنے کو کہتے ہںے۔ شریعت نے حلق یا قصر میںسے کسی ایک پر عمل کرنے کا اختاحر حاجی کو دیا ہے۔ (یہ حلق یا قصر خود اپنے سر کے بالوں کا بھی کار جاسکتا ہے اور احرام ہی کی حالت مںص دوسرے کے سر کے بال مونڈنا یا کُترنا دونوں جائز ہے۔) نزلیہ حکم صرف مردوں کے حوالے سے ہے، عورتوں کے لےی اپنے چوتھائی بالوں کے سِروں سے ایک پور کی مقدار کاٹنا ہے۔ اور اسے قصر ہی کہا جاتا ہے۔ عورتوں کے لے،ییل ضروری ہے اور بلاضرورت عورت کا سَر منڈوانا حرام ہے۔ اس حلق یا قصر کے عمل کے بعد مرد و عورت احرام کی پابندیوں سے نکل جاتے ہںا۔ سوائے بومییا ماںں کے ساتھ ہم بستری اور بوس وکنار کے۔ اس کے بعد تسروا کام قربانی کا کرنا ہے۔ واضح رہے کہ یہ قربانی حج کی قربانی ہے، عدتالاضحی کی قربانی نہںا ہے، وہ اپنے اپنے مقامات پر کیجاتی ہے ویسے بھی حاجی پر سفر کی وجہ سے عدتالاضحی کی قربانی واجب بھی نہں ہے۔ یہ جو قربانی مِنٰی کے مداان مں کی جاتی ہے، یہ حج کی قربانی اور دم شکر کہلاتی ہے۔ احناف کے نزدیک ان تمام کاموں مںد ترتبک واجب ہے۔ یینب مِنٰی پہنچنے کے بعد پہلے جمرہ عقبیٰ پر کنکر مارے جائںس گے اس کے بعد سر منڈوایا جائے گا، اس کے بعد قربانی کی جائے گی اور اس ترتب کے پورا کرنے کے بعد چوتھا کام طواف زیارت کا ہے جسے بارہ ذی الحجہ کے سورج کے غروب ہونے سے پہلے پہلے تک ادا کرلنای چاہے ۔ دس ذی الحجہ کے یہ کام مکمل کرلنےت کے بعد گاےرہ اور بارہ ذی الحجہ کو زوال کے بعد تینوں ستونوں پر کنکریاں مارنا (واضح رہے کہ دس، گاکرہ سے بارہ ذی الحجہ کو جو کنکریاں ان ستونوں پر ماری جاتی ہںک، اُن کا ایک تو سائز کے اعتبار سے اتنا ہونا ضروری ہے کہ کنکری کہا جاسکے، بڑے پتھر، چپل اور بندوق کی گولی مارنا، ناجائز ہے۔) نزھ ان کنکریوں کا ستونوں کو لگنا ضروری نہںو ہے، ستونوں کے ساتھ جو احاطہ بنا ہوا ہے اس مںک گرنا ضروری ہے۔ نہ ہی کنکریوں کو اس زور سے پھنکان جائے کہ دوسری طرف کھڑے ہوئے حاجورں کو لگ جائے۔ احادیث کے اندر ان کنکریوں کے پھنکنے کے وقت ایک دعا بھی بتلائی گئی ہے: {بِسْمِ اﷲِ، اَﷲُ اَکْبَرْ رَغْمًا لِلشَّیْطٰنِ وَرِضًی لِلرَّحْمٰنِ} ’’مں اﷲتعالیٰ کے نام سے شروع کرتا ہوں، ا ﷲ سب سے بڑا ہے (یہ کنکری) شطاپن کو ذللس کرنے اور اﷲ پاک کو راضی کرنے کے لےِ مارتا ہوں۔‘‘ بارہ ذی الحجہ کو کنکریاں مار لنےر کے بعد حج کے افعال سے حاجی فارغ ہوجاتا ہے لہٰذا اُسے اُسی وقت مِنٰی کا مداان چھوڑ دینا چاہےل اگر کسی وجہ سے اس مں اتنی تاخرن ہوجائے کہ بارہ ذی الحجہ کا سورج غروب ہوجائے تو ایسے حاجی کو ایک دن اور رکنا ہوگا۔ اور ترنہ ذی الحجہ کو زوال کے بعد تینوں شااطنہ کو کنکریاں مار کر فارغ ہونے کے بعد مِنٰی سے نکلنا جائز ہوگا۔ (نوٹ): تینوں شا طنی کو کنکریاں مارنے کے حوالے سے لازمی طور پر اس احتادط کو بھی عمل مں لانا ہوگا کہ اس کی ابتدا مِنٰی کے مدران کی طرف سے جو پہلا شطانن ہے اس سے کی جائے، مکہ کی طرف جو ستون ہے اُسے جمرہ عقبیٰ کہا جاتا ہے اور وہ کنکریاں مارنے کے اعتبار سے آخری ستون ہے لہٰذا کنکریاں مارنے کی ابتدا دوسری طرف کے پہلے ستون سے کی جائے، پھر درمازنی ستون کو اور اس کے بعد جمرہ عقبیٰیعنی مکہ مکرمہ کی طرف کے آخری ستون پر کنکریاں ماری جائںج۔ حج بدل کسی بھی عاقل بالغ مسلمان پر اس کی استطاعت کی بناند پر حج فرض ہوتا ہے اور زندگی مںز ایک مرتبہ اس کی ادائیٰی ضروری ہوتی ہے، حج فرض ہونے کے بعد اس کی ادائی م مںے تاخرک کرنا، شریعت نے اس کو ناپسند قرار دیا ہے۔ البتہ کسی عذر کی وجہ سے تاخرئ بھی ممکن ہے۔ اب ایسا شخص جس پر حج فرض ہوچکا ہو اور اس کی ادائیی سے پہلے وہ صحت کے اعتبار سے معذور ہوجائے یا اپنے ملک یا سعودیہ عربہا کے قواننش کے مطابق اُسے حج کی اجازت نہ مل رہی ہو یا اُس کے ملک سے سعودی عربہر پہنچنے تک کا راستہ پُرامن نہ ہو، اُسے کسی دشمن یادرندے کا خوف ہویا اییت عورت جس کے پاس حج کے سفر پر جانے کے لےس کوئی محرم نہ ہو یا محرم ہو لکنپ اس کے اخراجات اس عورت کے پاس نہ ہوں یا اخلاقی، کرداری اعتبار سے وہ محرم ناقابل اعتبار ہو، ان مندرجہ بالا اعذار کے دور ہونے تک حج مںا تاخرہ کی جاسکتی ہے۔ لکنط ان اعذر کے دور ہونے کی کوئی ممکنہ صورت پدلا نہ ہورہی ہو یہاں تک کہ ایسا شخص اپنی عمر کے آخری ایام تک پہنچ چکا ہو تو شریعت نے اُسے اس کی زندگی کے اندر بھی کسی دوسرے کے ذریعے سے اس فرض کی ادائیہا کرا دینے کی اجازت دی ہے اور اگر وہ اپنی زندگی مں اس کی ادائینے کسی دوسرے سے نہ کراسکا ہو تو اُسے اپنے مرض الموت مں، اس کی وصت کرنے کا حکم دیا ہے۔ عرف عام مں ایسے حج کو ’’حج بدل‘‘ کہتے ہں ۔ حج بدل کے لےس جس شخص کو بھجا جائے بہتر تو یہ ہے کہ اس نے اپنا فرض حج ادا کرلار ہو اگر اس پر حج فرض نہںگ ہے تو بھی ایسے شخص کو حج بدل کے لےج بجار جاسکتا ہے۔ اور اس حج کے بدل کے کرنے سے اس کے اپنے اوپر حج فرض نہںا ہوتا کو نکہ حج فرض ہونے کی اصل شرط مالی استطاعت ہے لہٰذا ایسا آدمی جس پر حج فرص نہں ہے وہ بھی حج بدل کے لے جاسکتا ہے۔ نزض اس حج بدل کے لےی شریعت نے ایی کوئی شرط نہں رکھی کہ مرد، مرد کی طرف سے اور عورت، عورت کی طرف سے حج بدل کرے، ایک مرد یا عورت اپنی مخالف جنس کی طرف سے بھی حج بدل کے لےس بھی س جاسکتی ہے بشرطکہ مسلمان، عاقل یینہ مجنون پاگل نہ ہو، نزے ایسا نابالغ بچہ جو ان تمام چزبوں کی سمجھ رکھتا ہو اور کماحقہ احکام حج پورے کرسکتا ہو، حج بدل کے لےہ بھجای جاسکتا ہے۔ نزو حج بدل کے لے، جانے والا کوئی اضافی اجرت اور معاوضہ نہںص لے سکتا۔ اگر ایسا کاس جائے تو دونوں گناہ گار ہوں گے۔ اور آمر (بھجنےو والا) کا حج ادا ہوجائے گا اور اس اجرت و معاوضے کو حج بدل پر جانے والا بھجنےر والے کو لازمی طور پر واپس کرے گا۔ صرف حج کے اخراجات کے بقدر ہی حج بدل پر جانے والا بھجنے والے سے حاصل کرسکتا ہے۔ مندرجہ بالا تمام باتںو اس حج بدل کرانے والے کے لے۔ مخصوص ہں جس کے اپنے اوپر حج فرض ہوچکا ہے اور وہ کسی عذر کی وجہ سے ادائی س حج کے لےں جانے سے معذور ہے لکنی اگر کوئی شخص جس پر حج فرض ہی نہںک تھا اس نے کسی کو اپنی طرف سے حج بدل کرایا تو یہ بھجنےس والے کی طرف سے نفلی حج کہلائے گا۔ اور اگر اس کے بعد بھجنےا والے کو ادائیو حج کی مالی استطاعت حاصل ہوگئی تو اب اس پر حج فرض ہوگات اُسے خود حج پر جانا پڑے گا اگر جانے سے معذور ہو تو حج بدل دوبارہ کرانا پڑے گا۔ ادائی پ ٔ حج کا طریقہ شریعت مطہرہ نے حج کی اقسام کے حوالے سے حج کو تنف قسموں پر تقسما فرمایا ہے: (۱)اِفراد (۲) قِران (۳)تَمَتُّع (۱) حج اِفْراد: اِفراد کے لغوی معنیٰ ’’اکلےت کرنے‘‘ کے ہںا۔ مقالت پر گزرنے سے پہلے اس مںے صرف حج کی نتں کرتے ہوئے صرف حج ہی کا احرام باندھا جاتا ہے۔ یینے مکہ معظمہ پہنچنے کے باوجود اس احرام سے عمرہ نہںر کا جاتا ایسے حج کرنے والے کو مُفْرِد کہتے ہںک۔ جو لوگ اہل حِلّ کہلاتے ہیںیعنی مقاےت اور حدودحرم کے درماسن ہی رہتے ہںگ ایسے لوگوں کے لےکییج حج یینر حج افراد ہی مقرر ہے یہ لوگ حج قِران اور تمتع نہںد کرسکتے۔(مفرد پر قربانی بھی نہںس ہے۔) (۲) حج قِران: قِران کے لفظی معنیٰ ’’دو چزروں کو ملانے‘‘ کے ہںن۔ اس حج مںت مقاگت سے گزرنے والے عمرے اور حج کی نتو سے احرام باندھ لتےا ہںا اور اس حج کے کرنے والے کو قَارِن کہتے ہں ۔ یہ لوگ مکہ مکرمہ پہنچنے کے بعد عمرہ ادا کرتے ہںق اور طواف اور سعی سے فارغ ہوکر حالت احرام ہی مںر رہتے ہںک۔ انہںا وقوف عرفہ سے پہلے ایک اور طواف کرنا ہوتا ہے جسے طواف قدوم کہتے ہں جس مںر طواف کے ساتھ سعی بھی شامل ہے۔ جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ عمرے کا طواف الگ ہے اور طواف قدوم اس کے علاوہ ہے۔ (۳) حج تَمَتُّع: تمتع کے لفظی معنیٰ ’’نفع اٹھانے‘‘ کے ہںل۔ ایسا آدمی مقاقت سے گزرتے وقت صرف عمرے کی نت سے احرام باندھتا ہے اور مکہ مکرمہ پہنچنے کے بعد عمرہ، یینی طواف، سعی اور حلق یا قصر کے بعد احرام سے فارغ ہوجاتا ہے۔ اور مکہ مکرمہ مںق ہی آٹھ ذی الحجہ سے پہلے کے دن گزارتا ہے اور پھر آٹھ ذی الحجہ کو مکہ مکرمہ مںل ہی حج کا احرام باندھ کر حج ادا کرتا ہے۔ اس کو حج تمتمع کہتے ہںگ اور ایسا کرنو الے کو مُتَمَتِّع کہا جاتا ہے۔ عموماً مقا ت سے باہر رہنے والے دنا بھر کے مسلمان اسی حج تمتع سے فائدہ اُٹھاتے ہں ۔ جس وجہ سے حج کا طریقہ حج تمتع کے اعتبار سے ہی ذیل مںّ درج کاا جارہا ہے: اگر اﷲتعالیٰ نے آپ کی قسمت مںہ اس سال کے حج کی سعادت لکھ دی ہے اور آپ نے دونوں ملکوں کے قواننق کے لحاظ سے اجازت نامہ یین ویزا حاصل کرلام ہے یا قرعہ اندازی مںت آپ کا نام نکل آیا ہے تو سب سے پہلے اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کےںہ کہ اس نے اس عظمن سعادت کے ادا کرنے کی توفقح نصبے فرمائی چونکہ اگر حج کو اس کے تمام ارکان کے آداب کی رعایت کرتے ہوئے ادا کا جائے تو ایسا شخص حقوق اﷲ کی عدم ادائیصب کے گناہ سے ایسے پاک ہوجاتا ہے جسےک اُس دن پدقا ہوا ہو۔ اتنی عظمر سعادت کے حصول پر مناسب ییا معلوم ہوتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ سے بھیحقوق اﷲ کی عدم ادائیدا پر معافی چاہے اور یہ نتن کرلے کہ جن حقوق کے ادائیمن کی قضا اس پر لازم ہے اس کو ضروربالضرور ادا کروں گا نز جب حقوق اﷲ کے حوالے سے توبہ، استغفار اور قضا کی ادائیسے کی نتا کررہا ہے تو حقوق العباد کے حوالے سے بھی اس پر عمل کرے اور بندوں کے حقوق مںق سے جن جن حقوق کی عدم ادائیر کا ارتکاب کان ہو اُن تمام حقوق کو صاحبِ حقوق کو واپس کردے اور اُن سے اس غفلت پر معافی بھی چاہے۔ اگر ان حقوق کی ادائیگییعنی صاحب حق کو واپسی ممکن نہ ہو مثلاً اُن کا انتقال ہوگا ہو یا وہ رہائش کے اعتبار سے کسی اییے جگہ یا علاقے مںا ہجرت کرگئے ہوں جہاں کا پتہ معلوم نہ ہو تو ایی صورت مںن ان کے حقوق کو نادار اور غریب لوگوں پر صدقہ کردے اور اﷲ سے اس کا اجر اس صاحب حق تک پہنچنے کی دعا کرے اور اﷲ سے اپنی غفلت کی معافی چاہے۔ اگر صاحب حق کے حق کی ادائیر اس اعتبار سے ناممکن ہوکہ اس کے پاس اس حق کے ادا کرنے کے اسباب ہی نہ ہوں تو وہ صاحب حق سے معاف کرالے اس لےہ کہ یہ ایک نہایت اہمتک کا حامل مسئلہ ہے کہ جب تک صاحب حق معاف نہںل کرے گا۔ اﷲتعالیٰ کی طرف سے بھی معافی نہںا ہوگی اور آخرت مں صاحب حق کو اُس کا بدلہ اس اعتبار سے دلوایا جائے گا کہ اس کی نا۔ ں صاحب حق کو جس کا تناسب (مطابقت) اﷲ تعالیٰ کے ہی علم مںب ہے، دلوائی جائںا گی اگراس کے پاس نا ں نہ ہوئںس تو صاحب حق کے گناہ اس پر لاد دئے جائںع گے۔ امت مسلمہ کو اس ناجائز حرکت سے محفوظ رکھنے کے لےہ بعض بدلے دنای مں۔ بھی بتلادئےج گئے ہںا مثلاً اگر کسی نے روپے کا چھٹا حصّہ کسی کا ناجائز طور پر دبا رکھا ہوگا تو اس کے بدلے مںا اپنی سات سو مقبول نمازیںیعنی ان کے اجر دینے ہوں گے۔ لہٰذا اس کی اہمت کو مدنظر رکھتے ہوئے دناھ ہی مںض ان معاملات کو حل کرالاو جائ

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
262