(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/05/23
موضوعات
اہلِ پاکستان کے نام کُھلا خط
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ اہلِ پاکستان کے نام کُھلا خط امت مسلمہ کے تمام طبقات کے چھوٹے بڑے افرادکے نام کھلا خط قدرت کے عادلانہ انتقامی عوامل: (۱) پچھلے طویل عرصے سے مسلمانان عالم ایک گھمبرد (بھاری) انتہائی روح فرسا، نہایت مایوس کُن اور حوصلہ شکن زندگی گزار رہے ہںے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ من حثا الامت مسلمانوں نے ہمت ہاردی ہو اور اپنے آپ کو وقت کے دھارے کے ساتھ ہرحال مںی بہتے رہنے کا اجتماعی فصلہ کرلات ہو۔ انہںب اس بات کا بھی احساس نہںھ کہ غرامسلم طاقںفص ان کے بھائو ں کا کاف حشر کررہی ہںا؟ ان کو یی اطمناان سُلائے ہوئے ہے کہ ہمارے ساتھ تو نہںب ہورہانا؟ اگر خدانخواستہ ان کے ساتھ پشص آجائے تو کہتے ہںر کہ یہ تو زندگی کا حصہ ہے۔ ان کے ان نظریات نے غر مسلم سازشوں کو ہوا دی۔ غر مسلم طاقتوں کی ہمتںے بندھائںک اور وہ افریقہ، برما، ہندوستان، مقبوضہ کشمرہ، افغانستان، عراق، شام، مصر، فلسطنر مںں مسلمانوں کو بے جان قرار دیتے ہوئے، بے سہارا گمان کرتے ہوئے انہںل گاجر، مولی کی طرح کاٹ رہے ہں ۔ مسلمان تماشا دیکھتے ہوئے اپنی باری کا انتظار کررہے ہں ؟ مسلمان شراخوار و نوزائدنہ بچوں اور بچو ں کی چتھڑ ے اڑتی لاشوں کی ویڈیو دیکھ رہے ہںت، عورتوں کے اُجڑتے سہاگ، خود عورتوں کی لاشوں مںا بدلتی زندگااں، بے بس نوجوانوں کا کرب و الم، ضعفوشں کی پتھرائی ہوئی آنکھوں کی التجائںا دیکھ رہے ہں ، پڑھ رہے ہںک، سُن رہے ہںر لکنو ایی، خاموشی ہے جسےمیہ سب کچھ انسانوں کے ساتھ نہںش جانوروں کے ساتھ ہورہا ہے ؎ وہ خاموشی ہے کہ سب ہوگئے ہںی پتھر کے ینے نہ ہو تو کسی کو پکار کر دیکھو (۲) قدرت کا انتقامی ہاتھ بھی امت مسلمہ کا گریبان پکڑے ہوئے مسلسل منڈلا رہا ہے مگر انسانی ادھ موا ضمر جھنجلانے کے لے بھی تارر نہںگ ہے کہںھ آسمانی آفات کا نزول ہے، کہںل زمینی بلا ت نے پچھاج پکڑا ہوا ہے، کہںی سمندر ڈبو رہا ہے، کہںں فضا پرخچے اُڑا رہی ہے، کہںق خشکی پہ اموات بکھر رہی ہںن، کہںں کانں اور جگہںم جہاں سے دھاتیںیا جواہرات وغرڑہ نکالے جاتے ہںں، کان کنوں کو ہمشہی کے لےہ اپنے آغوش (گود) مںن سُلا رہی ہںہ، کہںی قحط سالی کا دوردورہ ہے، کہںڑ سیلابوں نے اپنی حکمرانی مںو گردنںک مروڑ دی ہں ، کہںا بارشںب روک کر آفتںی بھیںں جارہی ہںل، کہںو خوب برسا کر ہلاکتوں کے دروازے کھولے جارہے ہں ، کہںن موسم کی حدَّتْ (گرمی کی تزای) سے جھلسایا جارہا ہے،کہںج موسم کی برودت (ٹھنڈک) سے ٹھٹھرایا (پالے سے مروا دینا) جارہا ہے۔ کسی کسی کو (اب تو سب کو) مہلک بماسریاں (جنہں، ہمارے بوڑھوں نے سُنا بھی نہ تھا) قسطوں مں( نگل رہی ہںو مگر قابل داد ہے مسلمانوں کا ضمرے کہ ہاتھ پرم توڑ کر ایسا سورہا ہے جسےی ’’کومے‘‘ مںا ہو یہ ہم کس طرف جارہے ہںب ؎ اس طرف اُٹھتے نہںا ہاتھ، جہاں سب کچھ ہے پاؤں چلتے ہںھ اِدھر کو، جہاں کچھ بھی نہںھ (۳) دورِحاضر کا خصوصاً مسلمانان پاکستان کا المیہیہ ہے کہ خود مسلمان اپنے مسلمان بھائورں کو بذریعہ اسلحہ دین نکالا دیتے دیتے دناو نکالا دینے لگے انہوں نے مذہبی، ذہنی، مسلکی، خاپلی، نظریاتی، سارسی، ثقافتی اختلافات کو مخالفت، عداوت کا رُخ دیتے ہوئے اسے تشدد کے راستے دناگبدری سے تبدیل کردیا۔ دلائل کی جگہ ہتھا،روں نے لے لی جس نے جنےس کا حق بھی چنا لاا۔ اب تو اس کھلل نے ایسا رسوخ حاصل کرلاد ہے کہ اپنے منفی مقاصد کے حصول کے لے بھی انسانی جانوں سے کھیلا جارہا ے بلکہ بات اس سے بھی آگے بڑھ گئی ہے کہ نہ مارنے والے کو پتہ ہے کہ مںل کوکں مار رہا ہوں نہ مرنے والے کو پتہ ہے کہ مجھے کواں مارا جارہا ہے ؎ مقد کردیا سانپوں کو یہ کہہ کر سپردوں نے یہ انساں کو انساں سے ہے ڈسوانے کا موسم انسان کا ضمرک اب بھی محواستراحت (آرام ونندر مںے ڈوبا ہوا) ہے، نتجتاًم زندہ لاشںا مردہ لاشوں کو ڈھونے کا فریضہ انجام دے رہی ہںس۔ (۴) یہ دناے دار الاسباب ہے اور اسباب کی ہر شعبۂ زندگی مںب ناقابل تردید اہمتز رہی ہے قدرت نے اپنی شان فایضی کے ساتھ اسباب دنا ، دناےبھر مںا پھیلا رکھے ہںد لکنا دورحاضر مں مسلمانان عالم کے ہاتھوں سے بذریعہ مہنگائی اسباب راحت نکلتے جارہے ہںب۔ اس مہنگائی نے مسلمانوں پر بھک اور قرض کی ذلت مسلط کردی ہے۔ دوسری طرف ہوس زر نے اس سے قناعت (جو مل جائے اس پر راضی رہنا) کی دولت بھی چھنب لی ہے ؎ قناعت ہی وہ دولت ہے جو ہرگز کم نہںو ہوتی مگر چشم ہوس اس راز کی محرم نہںں ہوتی محدود آمدنی مںت روٹی، کپڑا، مکان کے اخراجات نہ جانے کتنی اور کیبا سرتوڑ کوششوں، دل برداشتہ کاوشوں کتنی اور کی ب مایوس کن جدوجہد کے بعد ناقص اور غرزمعاںری نتائج کے ساتھ پورے ہوتے ہںن کا اس غرن معقول آمدنی مںں اس کے بعد اتنی سکت بچتی ہے کہ علاج معالجے، بچوں کی عصری تعلم (مذہبی تعلم تو مفت بھی حاصل ہوجاتی ہے)، سماجی، معاشرتی ذمہ داریوں کا بجٹ اس سے حاصل کا جاسکے؟ آمدنی کی فراوانی کے حامل افراد آج اس خوش فہمی مںے مبتلا ہںد کہ مہنگائی کا قد چاہے آسمان کو کوتں نہ چھو لے ہماری دسترس مںج ہے لہٰذا عِشرت (عشی و نشاط) کے ساتھ زندگی گزارو اور عُسرت (تنگی) والوں کو یونہی تڑپنے، ترسنے، سسکنے دو، اپنی مالی ذمہ داریاں نہ پوری کرو (ڈریں اس وقت سے جب ہاتھ مںر مال ہوگا بازار مںی اشااء نہ ہوں گی۔ یہ مال (سونا، چاندی وغر ہ) نہ ہی بھوک مٹانے کے نہ ہی استنجاء سکھانے کے کام آسکے گا اسے اوڑھو گے یا بچھاؤ گے؟ اس سے نہاؤگے یا نچوڑو گے؟) یہ ایک مردہ ذہنتم ہے جو پورے کرّوفر (ٹھاٹ باٹ) سے پنپ رہی ہے پروان چڑھ رہی ہے جس نے امراء اور غرباء کے درمانن ایک اییل خلج قائم کردی ہے جس کا پاٹنا محال سے محال تر ہوتا جارہا ہے ؎ غریبوں کا تقاضا ہے نظام زندگی بدلو امر وں کی سخات سے تو ناداری نہںف جاتی شریعت کے متعنا کردہ اسباب وسدباب پر تحفظات اور اُن کے جوابات: امت مسلمہ آج جس بھنور اور گرداب مںے پھنس کررہ گئی ہے اس بھنور کے مندرجہ بالا چاروں عوام پورے عروج پر ہںچ اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان کی گہرائی، اونچائی اور موٹائی بڑھتی ہی چلی جارہی ہے اس کے اسباب کا ہںگ اور سدباب کاے ہے؟ اس کے متعلق مذہبی نقطۂ نظر نہایت دوٹوک اور واضح ہے۔(جسے جامعہ سے شائع ہونے والے ایک کتابچے موجودہ کربناک حالات اسباب اور سدباب مںے نہایت تفصلا سے باسن کا گاو ہے (کتابچہ دفتری اوقات مںں جامعہ سے حاصل کا جاسکتا ہے) زیرنظر سطور مںا اس نقطۂ نظر کی تفصیلات پر بحث کرنے کے بجائے اس نقطۂ نظر پر پشل کےو جانے والے تحفظات، اشکالات اور اعتراضات کا ایک تنقیحی (وضاحتی) جائزہ لتے ہں ۔ جب مسلمانوں سے یہ کہا جاتا ہے کہ ہمارے اعمال خراب جس کے یہ نتائج ہںش تو وہ برملا (کھلم کھلا) یہ کہتے ہں کہ کاو صرف مسلمانوں کے ہی اعمال خراب ہںا؟ بظاہر تو یہ ایک چبھتا ہوا سوال ہے لکنت حققتک مںا مذہبی تعلماہت سے ناواقفتو کا شاخسانہ (جھگڑا) ہے۔ تفصلل اس اجمال کییہ ہے کہ مسلمان نے کلمہ لاالٰہ الاّ اﷲ پڑھ کر اپنے پروردگار جس کی اس کائنات کی ہر چھوٹی بڑی چزل تابع فرمان ہے، سے ایک معاہدہ کال ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ وہ اپنی بالغ ہونے سے لے کر موت تک کی ہوش و حواس کی زندگی مںو سر کے بال سے لے کر پرم کے ناخنوں تک کے ہرہر عضو کو اپنے پروردگار کے احکامات کے تابع رکھنے کا پابند ہوگا جس کے عوض اس کے پروردگار کی طرف سے اسے حارت طبہن دی جائے گی۔ اس معاہدے کے تحت ہمہ وقت مسلمان کے ہرہر فرد نبی، صحابی، غوث، قطب، ابدال، ولی، صالح، عامی کو پابند رہنا ہوگا۔ اس معاہدے مںر تمام عقائد اور تمام اعمال دونوں شامل ہںن اس مںر رخصت (عمل مںگ نرمی) عزیمت (عمل پہ جمے رہنا) جیکے لچک خود پروردگار نے رکھی ہے تاکہ حالات کے حوالے سے بھی کسی قسم کا کوئی تعطل نہ ہو۔ نزل کبھی مسلمان کی طرف سے کوئی بدعہدی ہوجائے (جوکہ نبی سے تو ممکن ہی نہںس ہے) تو پروردگار کی طرف سے معاہدہ نہ صرف برقرار رہتا ہے بلکہ اسے معافی تلافی کرا لنے کی مہلت بھی دی جاتی ہے (چاہے ایسا باربار کوےں نہ ہو) اور اس کی معافی کو شرف قبولتف حاصل ہوتا رہتا ہے۔ یہ معاہدہ جس کی دعوت کفار کو بھی دی جاتی رہتی ہے لکنر جب تک وہ قبول نہ کرلںک ان کے لے دوسرے اصول ہںل جن کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر وہ کوئی مفدو کام انجام دیتے ہںا تو ان کو اسی دناو مں اس کا اچھا بدلہ دے دیا جاتا ہے جس کے اثرات ان کی اولاد کو بھی پہنچتے ہںہ ان کے مضر کاموں کا مجموعہ اگر اس دناد مںد قابل مواخذہ حد تک پہنچ جاتا ہے تو دناف مںت بھی گرفت ہو جایا کرتی ہے لیکناس کے پماانے عادل و قادر ہی کے علم و دسترس مںے ہں ۔ (گستاخی معاف! کفار کے مفدے کاموں کی مقدار و تعداد کا شمار و احصاء انتہائی مشکل امر ہے سامان حرب کے شعبے کو چھوڑ کر زراعت، صنعت، تجارت، مواصلات، صحت، سایست، حکومت وغرنہ وغردہ مںا ان کی تحققا ت و ایجادات سے بلاامتیاز پوری دنام فائدہ اٹھا رہی ہے کای اس کا صلہ انہںل نہںف ملنا چاہےق؟) البتہ مسلمان کی طرف سے معاہدے کی خلاف ورزی ہوتی رہے تو اصول کے مطابق پروردگار پر بھی معاہدے کی پاسبانی کی ذمہ داری نہںت رہتی لکند قربان جائےر کہ پروردگار پہلے تو (۱) توبہ کی مہلت دیتے ہںی (۲)ہرہر خلاف ورزی پر پکڑ نہںح فرماتے بلکہ بہت ساری خلاف ورزیوں سے صرف نظر فرماتے ہںل اور انہںن معاف فرمادیتے ہںب (۳)اس دنوای پکڑ کا مقصد بھی صرف اور صرف یہ ہوتا ہے کہ بندہ دوبارہ رجوع کرلے۔ (واضح رہے کہ مندرجہ بالا تفصیلات عمومتہ اور اجتماعتن کے اعتبار سے ہںی انفرادی اور خصوصی آزمائشوں کے اور اصول ہںر جن کی تفصیلات موجب طوالت ہوں گی۔) مندرجہ بالا وضاحت سے بآسانییہ اشکال و اعتراض دور ہوجاتا ہے اور جو بات ابھر کر سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ کفار و مسلمان کے اصول ترقی و تنزل مشترک نہںم ہںو۔ مسلمانوں کی ترقی کا معاآر صرف اور صرف اخلاص کے ساتھ عہد و معاہدے کی ہرہر شق پر عمل کرنا ہے او ریہ عمل بھی اپنی مرضی، منشا اور طریقوں کے مطابق نہںص معاہدے کے فریقیعنی پروردگارعالم کی مرضی، منشا اور اس کے بتلائے ہوئے طریقوںیعنی سنت نبوی علیٰ صاحبہاالصلوٰۃ والسلام کے مطابق جسےص غزوۂ بدر مںل ہوا اگر عمل مںا نادانستہ طور پر بھی ذاتی عمل کا دخل ہوا تو معاہدے کے نتائج کے مطابق نتائج نہںہ نکل پائںل گے جسےل غزوۂ احد مںم ہوا اگر ذاتی سوچ نے مداخلت کی تو بھی نتائج برخلاف نکلںا گے جسےم غزوۂ حنین مںو ہوا (یاد رہے دونوں غزوات مںم نبیﷺ بھی بنفس نفس موجود ہں ) لہٰذا جب یہ کہا جاتا ہے کہ ہمارے اعمال خراب ہںد تو اس سے ییط مراد ہوتا ہے کہ بحت ںا اجتماعی مسلمانوں کی طرف سے معاہدے کی خلاف ورزی ہورہی ہے جس کا خمارزہ (بدلہ) بھگتنا پڑرہا ہے دوسرا اشکال یہ پشس کاا جاتا ہے کہ ایسا مقدر مںر پہلے ہی لکھا جاچکا ہے لہٰذا ہم وہی کررہے ہں جو لکھا ہوا ہے اور ہمارے ساتھ وہی ہورہا ہے جو لکھا ہوا ہے اس باطل نظریے کی بنا د لاعلمی، کم علمییا ناسمجھی ہے۔ تفصل اس اجمال کییہ ہے کہ ہمارے ہاں ریلوے کا محکمہ گاڑیوں کے اوقات کا ٹائم ٹبلی شائع کا کرتا ہے مثلاً (فرضی مثال) شالمافر ایکسپریس صبح 6بجے کنٹہ اسٹشنگ کراچی سے روانہ ہوکر صبح آٹھ بجے حدشرآباد پہنچے گی۔ یہ ٹائم ٹیبلیا اوقات کا تعن پٹڑی کی صلاحیت اور انجن کی رفتار سے بطور اندازہ شائع کاب جاتا ہے لکنش اس ٹائم ٹبلا کو دیکھنے کے بعد کوئی غبی سے غبی انسان یہ کہنے، سننے اور ماننے کے لےب تاپر نہ ہوگا کہ اس ٹائم ٹبلے کی وجہ سے شالماار ایکسپریس 6بجے کراچی سے روانہ ہونے کے لےی اور 8بجے حدررآباد پہنچنے پر مجبور محض ہے بلکہ روزمرہ پشہ آنے والے حالات کے مطابق رفتار کی کمی بی ر کے ساتھ چلا کرتی ہے اس کے چلنے پر ٹائم ٹبلب کا کوئی دخل نہںم ہوتا۔ بالکل اسی طریقے سے اﷲتعالیٰ کی ایک صفت عالم، علم اور علاّم بھی ہے اس نے اپنی اس صفت علمی کی وجہ سے ازل سے لے کر اب تک پشر آنے والے حالات وواقعات کو لکھ دیا ہے کہ مثلاً فلاں فلاں انسان نے اس دنای مں جاکر فلاں فلاں اوقات مں فلاں فلاں جگہوں پر فلاں فلاں اعمال کرنے ہںا، اس لکھے جانے کے حوالے سے انسان ایسا کرنے پر مجبور نہںر ہے البتہ چونکہ ریلوے والوں کا اندازہ ظنی ہے جبکہ اﷲتعالیٰ کا علم ییاا ہے لہٰذا ریلوے والوں کے ظن کے خلاف بھی ہوسکتا ہے (تجربہ اور مشاہدہ یی ہے کہ خلاف ہی ہوتا ہے) لکن اﷲتعالیٰ کا علم یینے ہونے کی وجہ سے خلاف نہںے بلکہ اس کے مطابق ہی ہوتا ہے لکنب اس مطابقت مں بناادی حقیقتیہ ہے کہ اﷲتعالیٰ نے وہی لکھا ہے جو انسان نے کرنا ہے۔ لکنل انسان اپنی مرضی اور منشا اور تدبر( سے اعمال کرتا ہے وہ اﷲتعالیٰ کے لکھے ہوئے پر مجبور نہیںہے۔ البتہ اس تقدیر مں بھی بعض چز وں کا اختا ر انسان کو نہں ہے۔ جسےر پد ائش، موت، عمر اور رزق وغریہ۔ اس کو اصطلاح مں تقدیر مُبْرَم کہا جاتا ہے۔ اور بعض تقدیرات مشروط ہوتی ہںا جو کسی کام کے کرنے پر موقوف ہوتی ہںو اگر وہ کام کا جائے تو وہ تقدیر ظاہر ہوجاتی ہے اورنہ کاد جائے تو اس کا ظہور نہیںہوتا اصطلاح مںی اسے تقدیر معلّق کہا جاتا ہے۔ مندرجہ بالا تفصیلات سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ انسان کسی بھی عمل کے کرنے پر مجبور محض نہںی ہے۔ اور وہ اپنے اختاجر، تدبری اور منشا کے مطابق اعمال انجام دیا کرتا ہے البتہ اس نے دنا مںی جو کچھ کرنا ہے وہ اﷲتعالیٰ نے پہلے ہی لکھ دیا ہے۔ چنانچہ تقدیر پر بات کو ٹال دینایہ انسان کی لاعلمی، کم فہمی، ناسمجھی او رہٹ دھرمی ہے۔ اور ایسا مذہبی معاملات مںک ہی سامنے آتا ہے، دنونی معاملات مں کوئی بھی انسان تقدیر پر بھروسا کرکے ہاتھ پری توڑ کر بیٹھ نہںا رہتا بلکہ طرح طرح کی تدبرمیں کرتا رہتا ہے حالانکہ دنولی معاملات بھی اس کی تقدیر مں لکھے جاچکے ہںہ۔ مندرجہ بالا دو ہی اشکالات عمومی طور پر پشس کےد جاتے ہںب اگر اس کے علاوہ کوئی بات یا اشکال پش کاط جائے تو وہ ان دونوں مںم کسی ایک کا خاصہ ہوتا ہے۔ لہٰذا حق کے متلاشی کے لےس ان دونوں اشکالات کا کافی و شافی جواب دیا گا ہے۔ اس تفصلک کے بعد آئےک اس معاہدے کے تناظر مں تھوڑا سا زمینی حقائق کا بھی جائزہ لے لں ۔ معاہدے کی شقوں کے مطابق اس کے مجموعے کو شریعت اسلام کا نام دیا گان ہے، اور آج مسلمان معاہدے کے باوجود اپنے کام اور اعمال شریعت کے یکسر اُلٹ کررہا ہے۔ شریعت اسے مشرق کی طرف جانے کا کہتی ہے اور یہ بضد ہوکر مغرب کی طرف بغرز کسی ہچکچاہٹ کے بڑھ رہا ہے، شریعت اسے جھوٹ بولنے سے منع کرتی ہے یہ کبھی سچ کی طرف آنے کے لےک اپنے آپ کو تا ر نہں پاتا، شریعت اس کو ملاوٹ سے منع کرتی ہے اور یہ ملاوٹ سے باز نہںک آتا۔ شریعت اِسے کم تولنے اور ناپنے سے منع کرتی ہے اور یہ اس کے اُلٹ کرکے دکھاتا ہے۔ شریعت اس کو رشوت سے روکتی ہے اور یہ رشوت لنےع دینے سے نہںی رُکتا۔ شریعت انتہائی سخت الفاظ مںع اسے سُود سے ڈراتی ہے تاکہ یہ باز رہے لیکنیہ بڑی دلر۔ی اور شجاعت کے ساتھ سود کی طرف لپکتا ہے۔ شریعت اسے ایک معاشی نظام دییٹ ہے اور یہ اس نظام کو بڑی حقارت سے ٹھکرا دیتا ہے۔ شریعت اسے نظام سا ست و حکومت دییف ہے اور وہ انتہائی ذلت آمزع سلوک کرتے ہوئے اُسے بالائے طاق رکھ دیتا ہے۔ شریعت اِسے نظام عدالت دییے ہے اور یہ اُسے فرسودہ گردانتا ہے شریعت اسے نظام تعلمش دییر ہے، یہ اُس نظام تعلمت کو ایک ٹھوکر سے اُڑا دیتا ہے۔ شریعت اسے نظام معاشرت دییا ہے، یہ اُسے ترقی کی راہ مںے رکاوٹ سمجھتا ہے، شریعت اِسے جنسی بے راہ روی سے روکتی ہے اور یہ اس مںت ماں، بہن، بیدر کی تمز بھی نہںو چھوڑتا۔ شریعت اِسے شراب پنے سے منع کرتی ہے یہ اُسے روح افزا ٹانک قرار دے کر بے محابا استعمال کرتا ہے شریعت اِسے عہد پورا کرنے کا حکم دیید ہے اور یہ اﷲ اور اس کے بندوں سے کےا ہوئے عہدوں کو بغری کسی خوف کے توڑ دیتا ہے۔ شریعت اِسے جسمانی اعتبار سے ایک خاص وضع قطع عطا فرماتی ہے اور یہ اِسے ناقابل عمل گردانتے ہوئے ٹھکرا دیتا ہے۔ شریعت اسے غبتی سے منع کرتی ہے او ریہ اُسے وقت گزاری کا بہترین مشغلہ قرار دیتا ہے۔ شریعت اِسے معزز لوگوں کی لغزشوں سے درگزر کرنے کا حکم دیی ہے اور مسلمان ان معززین کو کوئی بھی رعایت دینے کے لےو تاتر نہںز ہوتا۔ شریعت اِسے تہمت، بدگمانی اور جھوٹے الزامات کسی پر لگانے سے منع کرتی ہے اور یہ فرضی الزامات گھڑ کر دوسروں کی عزتوں سے کھلتا ہے۔ شریعت اِسے ناحق قتل سے روکتی ہے اور یہ دنوےی مفادات کے لےک بے دھڑک ہدفی قتل پر آمادہ رہتا ہے۔ شریعت اِسے کسی کا مال ناجائز کھانے سے روکتی ہے او ریہ ناجائز طور پر لوٹ مار اور جبری بھتے کو اپنا مشغلہ بناتا ہے۔ شریعت اسے ناجائز قبضے سے روکتی ہے اور یہ کمزوروں کی زمنع و جائداد پر ناجائز قبضے کے تمام حربے استعمال کرنے سے باز نہںب رہتا۔ غرضکہز وہ کون سا دنو ی شعبۂ زندگی ہے جس مںم شریعت کی تعلم کچھ اور ہے اور مسلمان کا عمل انتہائی بے باکی کے ساتھ اُس سے اُلٹ ہے۔ جہاں تک مذہبی عبادات کا تعلق ہے تو اس مںب بھی دکھلائے جانے والا بحت سے مجموعی کوئی قابل تحسنر عمل نظر نہںو آتا۔ عبادات کے اندر سب سے پہلا عمل نماز کا ہے، اسلام قبول کرنے کے بعد ییھ حکم مسلمان کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ آج دناابھر کے اندر مسلمانوں کی تعداد مجموعی طور پر کتنی ہے؟ اور اس مںئ سے کتنے فصدں نمازی ہں ؟ نمازیوں کے اس قللے طبقے مںا کتنے فصد پنج وقتہ نماز کے پابند ہںب؟ اس طبقے مںر بھی کتنے فصدی خشوع خضوع کے حامل ہں ؟ییج رویہ اور سلوک بحتکے مجموعی مسلمانوں کا روزے، زکوٰۃ اور حج جسےد بنا دی اعمال کے ساتھ مسلسل جاری و ساری ہے۔ کاا اس رویے اور سلوک پر پروردگار پر اپنی طرف سے معاہدے کی پابندی کے نتجےی مں جس سلوک کا مسلمان کو مستحق قرار دیا گاک تھا، کی پاسبانی لازم ہے؟ کار عقل اس کی اجازت دییب ہے؟ کا دل اس کو صحح تسلمب کرتا ہے؟ کاس مسلمان کا ضمرے مطمئن ہے؟ کہ اس کی طرف سے تو معاہدے کی کسی شق پر عمل نہ ہو اور اﷲتعالیٰ معاہدے کی ہرہر شق پر عمل کرنے کا پابند رہے! جبکہ حال یہ ہے کہ مسلمان شریعت کے کسی حکم کو پورا کرنے پر آمادہ بھی نظر آتا ہے تو اپنی شرائط پر، اپنی مرضی و منشا کے مطابق جبکہ معاہدے کی لازمی شق یہ ہے کہ اﷲتعالیٰ کی مرضی، منشا اور طریقےیین سنت نبوی علیٰ صاحبہاالصلوٰۃ والسلام کے مطابق عمل کرے وہی قابل قبول ہوگا۔ اس حوالے سے شریعت نے معاہدے کے متعلقات کو بھی بڑی وضاحت کے ساتھ بتلا دیا ہے۔ اجمالی طور پر بھی اور تفصییٰ طور پر بھی اس کی کچھ تفصل درجہ ذیل ہے: اجمالی طور پر تو اﷲتعالیٰ نے قرآن مقدس میںیہ بات ارشاد فرمائی کہ {وما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم ویعفوا من کثرس} (سورۂ شوریٰ آیت30) ’’تمہں جو کچھ مصںتط پہنچتی ہںا وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوت کا بدلہ ہے اور وہ تو بہت ہی باتوں سے درگزر فرما دیتا ہے۔‘‘ ایک جگہ ارشاد فرمایا {ظہرالفساد فی البر والبحر بماکسبت} (سورۂ روم آیت 41) ’’خشکی اور تری مںے بداعمالو ں کے باعث فساد پھیل گان۔‘‘ ایک جگہ ارشاد فرمایا {وکذلک نولی بعض الظٰلمین بعضا بما کانوا یکسبون} (سورۂ انعام آیت 129) ’’اور اسی طرح ہم بعض ظالموں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا دیتے ہںض اُن اعمال کی وجہ سے جنہںچ وہ کمایا کرتے تھے۔‘‘ اور تفصییگ طور پر تقریباً تمام بداعمالومں سے منفی اور سلبی انداز سے مسلمان کو معاہدے کی خلاف ورزی سے روکنے کی ہرممکن تدبرو کی گئی ہے جسےش کہ شراب کے متعلق فرمایا کہ شراب کے پنےن والے پر، بنوانے والے پر، بنانے والے پر، جس کے پاس لے جائی جائے اس پر، اس کے پلانے والے پر، اس کو بچے کر اس کی قمتپ کھانے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ سود کے متعلق فرمایا کہ اسے چھوڑ دو اگر تم ایسا نہ کرو تو اﷲ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ سُن لو۔ نزم سود لنےا اور دینے کا سب سے کم درجہ ایسا ہے جسے کہ کوئی اپنی ماں سے زنا کرے۔ یہاںتک فرمایا کہ اس سے بچو! یہ اُن گناہوں مںے سے ہے جن کی مغفرت نہںک ہے۔ قاامت کے دن سود لنےا اور دینے والوں کا حشر پاگلوں کی طرح ہوگا۔ نزس سود لنےپ دینے اور اُس پر گواہی دینے اور سود کا معاملہ لکھنے والوں پر اﷲ کی لعنت ہے۔ نزےیہ بھی ارشاد فرمایا جس قوم مں خاانت کا غلبہ ہوگا اﷲتعالیٰ اس قوم کے دلوں مںن دشمنوں کا خوف ڈال دیں گے۔ جس قوم مںن زنا کی کثرت ہوگی اُس قوم مںم اموات کی کثرت ہوگی، جو ناپ تول مںے کمی کرے گا اس کی روزی مںڈ کمی ہوگی، جو جماعت حق کے خلاف فصلہن کرے گی اس مںُ قتل کی کثرت ہوگی، جو لوگ بدعہدی مں۔ مبتلا ہوں گے اُن پر اﷲ جل شانہ کسی دشمن کو مسلط فرمادیں گے۔(مشکوٰۃ المصابح ) نز جو لوگ زکوٰۃ روکںٰ گے اُن پر بارش بھی روک لی جائے گی، اگر بے زبان جانور نہ ہوں تو ذرا بھی بارش نہ برسائی جائے، جو لوگ ناحق کے احکام جاری کریں گے وہ خانہ جنگی مں مبتلا ہوں گے۔ اس حوالے سے ایک اور بات بھی ارشاد فرمائی کہ اس امت مں ایک جماعت رات کو کھانے پنےن اور لہو و لعب مں مشغول ہوگی اور صبح کو بندر و سور کی صورتوں مںھ تبدیل ہوجائے گی، بعض لوگوں کو زمن مںھ دھنسا دیے جانے کا عذاب ہوگا، بعض لوگوں پر آسمان سے پتھر برسائے جائںی گے، بعض لوگ آندھی سے تباہ ہوں گے اور ان سب کی وجوہات باون کرتے ہوئے وضاحت کی گئی ہے کہ ایسا شراب پنےں ، رییما لباس پہننے، گانے والابں رکھنے، سود کھانے اور قطع رحمی کی وجہ سے ہوگا۔(حاکم) جو اعمال اﷲتعالیٰ کے عذاب کو بہت جلد اور بہت زیادہ کھنچنےض والے ہںک وہ ظلم اور جھوٹی قسم ہے، یہ گناہ مال کو بھی ضائع کرتے ہںر، اور عورتوں کو بانجھ کردیتے ہیںیعنی اولاد پداا نہںہ ہوتی اور آبادیوں کو خالی کردیتے ہیںیعنی اموات کی کثرت ہوتی ہے۔(درمنثور) اِن ہی مںن والدین کی نافرمانی بھی شامل ہے جس کا وبال بہت جلد آتا ہے اور زندگی مںر ہی مرنے سے پہلے پہلے بھگتنا پڑتا ہے۔(درمنثور) مذکورہ بالا تمام وبال دنوری اعتبار سے ذکر کے گئے ہںن، اُخروی وبال اور سزا علحد ہ ہے جو اس سے کہں زیادہ سخت اور ناقابل برداشت ہے۔ مندرجہ بالا زمینی حقائق کی روشنی مںپ ہی مذہبی طبقہ اپنے آپ کو یہ کہنے پر مجبور پاتا ہے کہ سابقہ امتوں مںے جتنے جرائم انفرادی طور پر پائے جاتے تھے، دورحاضر کے مسلمان میںیہ تمام جرائم اجتماعی اور مجموعی طور پر دنا بھر مںو پھلےک ہوئے ہںب، اسی بنااد پر غرئمسلم اقوام بھییہ کہنے پر مجبور ہںں کہ اسلام دناج کا بہترین مذہب ہے جبکہ مسلمان دناپ کی بدترین قوم ہے۔ بحتےیس مجموعی اس قول کی صداقت سے بھی انکار ناممکن نظر آتا ہے۔ یہ تو اﷲتعالیٰ کا حِلم اور بردباری اور نبی کریمﷺ کی دعا کا نتجہو ہے کہ من حثا القوم اس امت کو ہلاک نہںت کاب جارہا۔ انفرادی طور پر یا علاقائی طور پر جزئی وبال اس غرض سے بھجےد جارہے ہںم کہ مسلمان اپنے معاہدے کا احساس کرتے ہوئے جتنی جلد ممکن ہو، اپنی بدعہدیوں سے رجوع کرلے۔ اس کا طریقہ بھی شریعت نے خود بتلایا ہے جو بہت سہل اور آسان ہے۔ ہر زمانے مں ، ہر حتدعہ کا انسان اپنی اپنی جگہ پر رہتے ہوئے اس نسخے کو کماحقہ استعمال کرکے معاہدے کے فضع مں اپنے آپ کو شامل کروا سکتا ہے۔ اس نسخے کے با ن سے پہلے مرلی ذاتی رائے یہ ہے کہ آج اصلاح کی ضرورت ہر مسلمان کے لےو اپنی ذات سے ابتدا کرنے کی ہے۔ آج مسلمان کسی نہ کسی درجے مںر دوسروں کی اصلاح کے لےک انتظامی حوالے سے کوشاں ہے لکنس اپنی ذات کو مستثنیٰ کےک ہوئے ہے جسےم کہ قرآن پاک مںل ارشاد ہے: {اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَکُمْ} (سورۂ بقرہ آیت44) ’’کام لوگوں کو بھلائووں کا حکم کرتے ہو؟ اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو۔‘‘ لہٰذا دورحاضر مںّ جب تک انسان اپنی ذات سے اصلاح شروع نہںپ کرے گا، مطلوبہ نتائج کا حصول ناممکن ہے، کسی دانشور کییہ بات کتنی قرین قااس ہے کہ تم اپنی ذات سے بے ایمانی چھوڑ کر مطمئن ہوجاؤ کہ دنال سے ایک بے ایمان کم ہوگاا۔ آئے ! شریعت کے عطاکردہ اس پاہربھرے نسخے کا جائزہ لے لںی تاکہ ہمارے دل کے ہر گوشے سے برملا، بے ساختہ یہ بات نکلے کہ تعلقات جوڑنے کا اس سے بہتر، اس سے برتر، اس سے اکمل، اس سے اسہل نہ کوئی نسخہ تھا، نہ ہے اور نہ ہی آسکے گا۔ اگر مسلمان سے معاہدے کی خلاف ورزی ہورہی ہے تو اس نسخے کے مطابق اسے سب سے پہلے دل کی سچائی کے ساتھ یہ اعتراف کرنا ہوگا کہ مجھ سے دانستہ یا نادانستہ نفس و شطا،ن کے بہکاوے مںے آنے کی وجہ سے یناً معاہدے کی خلاف ورزی ہورہی ہے۔ اس اعتراف کے ساتھ جب بھی کوئی چاہے بغرط کسی دِقّت کے پروردگار کی شانِ کریی کی موسلادھار بارش برسوا سکتا ہے ؎ پھر اُس کی شان کرییہ کے حوصلے دیکھے گناہ گار یہ کہہ دے، گناہ گار ہوں مںی ایک دانشور کے بقول اقرارِجرم مجرم کے لےں بہت اچھی سفارش ہے۔ اس اعتراف کے بعد پروردگار سے اس کی صدق دل سے معافی چاہے، یہ معافی وہ ایک اییا ذات سے مانگ رہا ہے کہ وہ اس معافی پر اپنے سخت سے سخت مجرم کو بغرر سزا کے معاف کردیا کرتی ہے۔ بلکہ بعض اوقات اس کی خوشی کا حقیاہ فض اس معنیٰ مں بھی حاصل ہوتا ہے کہ اس کے جرائم کو خوبوسں اور نوی ں سے بدل کر اس پر بھی اچھا معاوضا دییر ہے۔ جسا کہ ارشاد ہے: {اِلَّا مَنْ تَابَ وَ ٰامَنَ وَ عَمِلَ عَمَلااًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِکَ یُبَدِّلُ اﷲُ سَیِّاٰتِہِمْ حَسَنٰتٍ} (سورۂ فرقان آیت 70) ’’سوائے ان لوگوں کے جو توبہ کریں اور ایمان لائںب اور نیک کام کریں ایسے لوگوں کے گناہوں کو اﷲتعالیٰ نوی ں سے بدل دیتے ہںص۔‘‘ اصطلاح مںا اس عمل کو توبہ کہا جاتا ہے لکنر اس مںا اور استغفار مںی ایک واضح فرق ہے کہ توبہ کے اندر معافی کے ساتھ ان جرموں کو آئندہ نہ کرنے کا پختہ عزم ہوتا ہے، توبہ کرتے ہوئے اس عزم کا پایا جانا بھی ضروری ہے، چاہے آگے چل کر یہ عزم ٹوٹ ہی کو ں نہ جائے جبکہ استغفار مںم صرف گناہ کی معافی چاہی جاتی ہے۔ دورحاضر کے مسلمان کا یہ بھی وطیرہ رہا ہے کہ وہ استغفار کے لےر تو تاار ہوجاتا ہے، توبہ کے لےد تا ر نہں ہوتا۔ بلکہ بعض اوقات تو جُرم اور استغفار ساتھ ساتھ چلتے ہوئے بھی پائے جاتے ہںں ؎ جام مرسا توبہ شکن، توبہ مرھی جام شکن سامنے ڈھیر ہںب ٹوٹے ہوئے پماجنوں کے ؎ شاید! ابھی نہ پہنچی ہو بابِ قبول تک ساقی! ذرا سی اور کہ توبہ سفر مںپ ہے اییم توبہ تو استغفار کو بھی شرما دییِ ہے یی وجہ ہے کہ ہمارے ذکرواذکار کماحقہ، رحمت و بخشش سے محروم کےب ہوئے ہں ۔(ان ذکر و اذکار کرنے کا اجر تو مل جائے گا لکن اس سے مقاصد حل نہںو ہوں گے۔) توبہ تو وہ ہے کہ جس مںگ معافی چاہنے کے بعد اس عمل کو دوبارہ کسی بھی درجے مںا نہ کرنے کا عزم ہو۔ جگر مرادآبادی ایک معروف و مقبول شاعر ہںک جو ایام جاہلت کے اندر شراب کے دلدادہ تھے۔ اور اﷲ نے ہدایت عطا فرمائی تو اییئ توبہ کی کہ پھر شراب کو ہاتھ تک نہ لگایا،اطباء نے طبّی و طبعی اعتبار سے اُنہںب ڈرایا بھی کہ اگر بالکل چھوڑدو گے تو موت واقع ہوسکتی ہے۔ انہوں نے طببواں سے پوچھا کہ اگر مں نے آہستہ آہستہ چھوڑی تو کتنے سال جی لوں گا؟ طببوبں نے اپنے اندازے کے مطابق بتایا کہ دوچار سال اور جی لوگے۔ فرمایا کہ اﷲ کی ناراضگی کے ساتھ مزید چارسال جی لنےا سے بہتر یہ ہے کہ اﷲ کی رضامندی کے ساتھ آج ہی موت آجائے، چنانچہ جب انسان اس معاہدے کے تحت اﷲ کی رضامندی کو مطمع نظر بنالتاھ ہے تو پھر اﷲپاک بھی اُسے ضائع نہںس فرماتے۔ آج ضرورت ہے کہ مسلمان اییت توبہ کرے ؎ آواز ناخدا کو نہںس اب خدا کو دو ہے آخری نشان یہ دریا چڑھا ہوا اگر مسلمان اییم توبہ کرکے دوبارہ معاہدے پر بغرھ کسی دباؤ کے اپنی ضرورت سمجھتے ہوئے آجاتا ہے تو مراے آقاﷺ کا ارشاد ہے: حدیث قدسی ہے کہ پروردگار فرماتا ہے کہ جو مرری طرف ایک بالشت آتا ہے مںت اس کی طرف دوبالشت بڑھتا ہوں، جو مرﷺی طرف ایک ہاتھ آتا ہے، مں اس کی طرف دو ہاتھ بڑھتا ہوں، جو مریی طرف چل کر آتا ہے مںے اس کی طرف دوڑ کر چلتا ہوں۔ اے امت مسلمہ کے تمام چھوٹے بڑے افراد! اگر ہم انفرادی اور اجتماعی طور پر توبہ کرتے ہوئے اپنے معاہدے کو دوبارہ جاری کروانا چاہتے ہوں تو آئےے! شریعت کی بتلائی ہوئی ان بداعمالوےں کی فہرست بھی دیکھ لںا جن سے توبہ کرنا لازم ہے۔ کبراہ گناہوں کی اجمالی فہرست: علمائے کرام نے قرآن مجدی اور احادیث طبہہ کے ذخرئے سے ان اعمال کو جمع فرمایا ہے جنہںھ گناہ کبرآہ کہا گا ہے ان مںک سے بعض درج ذیل ہںے: 1: شرک اور شرک کے علاوہ وہ عقائد اور وہ اعمال جن سے کفر لازم آتا ہے۔ 2: کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرنا۔ 3: جادو سکھناک، سکھانا اور کرنا، کرانا۔ 4: فرض نماز کو چھوڑنا یا وقت سے پہلے پڑھنایا قضا کر کے پڑھنا۔ 5: زکوٰۃ بالکل نہ دینایا پوری نہ دینا۔ 6: بغر کسی شرعی عذر کے رمضان المبارک کا روزہ چھوڑ دینایا روزہ رکھ کر توڑ دینا۔ 7: حج فرض ہو جانے کے باوجود نہ کرنا یہاں تک کہ انتقال ہو جائے۔ 8: والدین کو تکلفد دینا اور ان کی نافرمانی کرنا۔ 9: رشتے داروں سے قطع تعلق کرنا۔ 10: زنا کرنا اور کرانا۔ 11: غرن فطری طریقے پر عورت سے صحبت کرنا یا کسی مرد یا لڑکے سے بدفعلی کرنا یا کرانا۔ 12: سود لناریا دینایا سودی معاملہ کی دستاویز لکھنا یا گواہ بننا۔ 13: ظلماً یم۔ع کا مال کھانا۔ 14: اﷲتعالیٰیا اس کے رسول ﷺ کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنا۔ 15: مدمانِ جہاد سے بھاگنا۔ 16: حاکم کا اپنی رعایا (Subjects) کو دھوکہ دینا اور ان کے ساتھ خاونت کرنا۔ 17: تکبر کرنا۔ 18: جھوٹی گواہی دینا۔ 19: شراب یا کوئی نشہ والی چز بنانا، بنوانا، بچنا ، خریدنا، لاد کر لے جانا، کھانا پناا،کھلانا پلاناوغر ہ۔ 20: جوا (Gambling) کھلناش۔ 21: کسی پاک دامن عورت پر تہمت لگانا۔ 22: مالِ غنمت۔ مںپ خاانت کرنا۔ 23: چوری کرنا۔ 24: ڈاکہ ڈالنا۔ 25: جھوٹی قسم کھانا۔ 26: کسی پر ظلم کرنا خواہ کسی بھی طرح کا ظلم ہو مثلاً مارنا، گالی دینایا کسی کا مال لے لناہ۔ 27: حرام مال کھانا، پناک، پہننا یاخرچ کرنا بچنا ، خریدنا، کسی کو ہدیہ دینا، ثواب کی نتا سے صدقہ کرنا۔ 28: خودکشی کرنا یا بلا وجہ اپنا کوئی عضو کاٹ دینا۔ 29: لوگوں کے خفہک حالات (Secret affairs) کی ٹوہ لگانا تجسس کرنا۔ 30: کاہن یا نجومی (Astrologer) وغر ہ کی باتوں کو صحح ماننا اور ان کی تصدیق کرنا۔ 31: شوہر کی نافرمانی کرنا۔ 32: تصویر بنانا یا گھر مںo لٹکانا۔ 33: اﷲ کے کسی ولی کو تکلفg دینا۔ 34: تہہ بند یا شلوار وغراہ کو ٹخنوں سے نچےا لٹکانا۔ 35: اﷲ تعالیٰ کی رحمت سے نا امدے ہو جانا۔ 36: گانے بجانے کا پشہٰ اختا ر کرنا۔ 37: علمائے کرام اور حاملنٰ قرآن کے حق مںر بدگوئی (Abuse) کرنا۔ 38: کسی مسلمان کو کافر کہنا۔ 39: ایک سے زائد بو یاں ہوں تو ان کے درمادن انصاف نہ کرنا۔ 40: مشت زنی (Masterbation) کرنا۔ 41: حالتِ حضک مںs بوآی سے صحبت کرنا۔ 42: عالم کا اپنے علم پر عمل نہ کرنا۔ 43: کھانے کو عبے لگانا۔ 44: بے ریش حسنک لڑکے کو (شہوت کی نظر سے) دیکھنا۔ 45: کسی کے گھر مںگ بغرے اجازت نظر ڈالنا یا بغرن اجازت داخل ہونا۔ 46: بویی کو طلاق بائن ومغلظہ دیدینے کے باوجود اس کے ساتھ ماہں بوای کی حت، سے زندگی گزارنا۔ 47: عورتوں کا نامحرموں سے پردہ نہ کرنا۔ 48: مردوں کا عورتوں کی، عورتوں کا مردوں کی شباہت (Resemblance) اختارر کرنا۔ 49: ملازم کا طے شدہ فرائض کوانجام نہ دینا۔وغرشہ وغرaہ۔ وما توفیقی إلاباللّٰہ

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
430